ریاست اور شہری

ڈاکٹر محمد رفعت

ہمارے ملک میں مرکزی سطح کے الیکشن کا اعلان ہوچکا ہے۔ جب یہ شمارہ آپ کے پاس پہنچے گا، رائے دہی (ووٹنگ) کے چند مراحل طے ہوچکے ہوں گے۔ پولنگ کی تکمیل کے بعد مئی کے مہینے میں انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوگا۔ فطری طور پر ہر شہری کو ملک میں ہونے والے اِن انتخابات سے دلچسپی ہے۔ وہ توقع رکھتا ہے کہ بہتر عناصر کے ہاتھ میں حکومت آئے گی۔ توقع کے ساتھ بہت سوں کو اندیشے بھی لاحق ہیں کہ کہیں لوگوں کی حق تلفی کرنے والوں کے ہاتھوں میں اقتدار نہ آجائے۔ یہ ایسا موقع ہے جب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جمہوری ریاست کے بارے میں شہریوں کے احساسات اور حکمرانوں سے ان کی توقعات کا تجزیہ کیا جائے۔ اس تجزیے سے یہ اندازہ بھی ہوسکے گا کہ الیکشن میں ووٹ دے دینے کے علاوہ، کیا شہریوں کے پاس کچھ اور ذرائع بھی موجود ہیں، جن سے وہ ریاست کے رویے کو متاثر کرسکیں اور اپنے مسائل حل کرسکیں۔

اس موضوع پر غور کرتے وقت چند بنیادی سوالات سامنے آتے ہیں:

(۱لف) ریاست اور شہری، ایک دوسرے پر کیا حقوق رکھتے ہیں؟

(ب) ان حقوق کی حیثیت کیا ہے، یعنی وہ دستورِ مملکت میں درج ہونے کی بنا پر قابلِ احترام ہیں یا اُن کے حق میں کوئی قوی تر دلیل دی جاسکتی ہے؟

(ج) غیر جمہوری اور جمہوری ریاست میں امتیاز کرنے والی خصوصیات کیا ہیں؟

(۲) اگر ریاست، شہریوں کے حقوق ادا نہ کرے تو شہریوں کے پاس کیا چارہ کار ہے جس سے وہ  وه اپنی عزتِ نفس کا تحفظ کرسکیں؟

ان سوالات کا جواب دینے کے لیے اسلامی اصولوں اور آفاقی اخلاقی اقدار کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔ اگر مسلمان اہلِ دانش، علمِ سیاسیات کے ارتقاء کے لیے، اس طرز کے سوالات کو موضوعِ بحث بنائیں، تو یہ انسانیت کی بڑی خدمت ہوگی۔ اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق، مسلمان اہلِ علم جو کچھ تحقیقات پیش کریں گے، ان کی بنیاد پر توقع ہے کہ سماجی علوم کی (صحت مند خطوط پر) ترقی کی راہ ہموار ہوسکے گی۔ آج عالمِ مغرب پر غیر معتدل تصورات کے تسلط کے نتیجے میں مغرب کے سماجی علوم ایک دلدل میں پھنس چکے ہیں، جہاں ایک طرف جدیدیت کی ناکامی بدیہی شکل میں سامنے آگئی ہے اور دوسری جانب مابعد جدیدیت کے نعرے کے روپ میں اُس جھنجھلاہٹ کا اظہار کیا جارہا ہے،جو ہر راہ کے بند ہوجانے سے طاری ہوتی ہے۔ اس صورتحال میں سماجی علوم کے لیے درست بنیادیں، اسلامی فکر ہی فراہم کرسکتی ہے۔ اس فکر کا درست بیان اور انطباق، مسلمان اہلِ تحقیق کا کام ہے۔

مغرب میں بہت روشنی علم و ہنر ہے

حق یہ ہے کہ بے چشمہ حیواں ہے یہ ظلمات

حکومت کی ضرورت2

بطورِ تمہید، اس امر کی یاددہانی ہونی چاہیے کہ حکومت کا وجود، انسان کی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت بالکل ناگزیر نوعیت کی ہے۔ چنانچہ انسان، حکومتوں کی جانب سے عائد کردہ ناروا پابندیوں کو بھی اس لیے گوارا کرلیتا ہے کہ حکومت کی موجودگی، انتشار و بدنظمی (Anarchy)کے مقابلے میں بہر حال غنیمت ہوتی ہے۔ انسان کے معاشرتی اداروں میں حکومت کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے اس لیے کہ وہ افراد پر اپنے قوانین کا نفاذ بزورِ قوت کرسکتی ہے، اور افراد کو ایک دوسرے کی زیادتیوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

مولانا امین احسن اصلاحی، حکومت کے ناگزیر ہونے پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’انسان کو جو برکتیں، معاشرے سے حاصل ہوتی ہیں، ان میں سے ایک بہت بڑی برکت یہ ہے کہ معاشرہ، اپنی اجتماعی تنظیم کی قوت اور اس کے زور و اثر سے اس (فرد) کو باہمی تعدیوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے اور باہر سے کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اس سے بھی اس کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ چیز انسان کی اعلیٰ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ یہ تحفظ اس کو حاصل نہ ہو تو وہ ہر وقت اندرونی اور بیرونی خطروں میں گھرا رہے گا، جس سے اس کی معاش و معیشت(متاثرہوگی) اور تعمیرِ تمدن کی رہنما اعلیٰ صلاحیتیں، دَب کر ختم ہوجائیں گی جو اس کے اندر ودیعت ہیں۔

انسان نے اپنی اس فطری ضرورت کے تقاضوں سے، شروع ہی سے، جب سے اس کی تاریخ کا کچھ سراغ ملتا ہے، جس طرح ایک اجتماعیت پسند مخلوق (Social Being)کی زندگی پسند کی ہے، اسی طرح ایک سیاسی مخلوق (Political Being) کی زندگی کا بھی پورا التزام رکھا ہے۔ اس کی تاریخ کا کوئی دور بھی ایسا نظر نہیں آتا ہے، جب وہ حکومت سے بالکل بے نیاز رہا ہو، عام اس سے کہ یہ حکومت پدر سرانہ (خاندانی) قسم کی رہی ہے یا قبائلی نوعیت کی، آمرانہ طرز کی رہی ہے یا رضا کارانہ مزاج کی۔ بہرحال کسی نہ کسی قسم کا سیاسی نظام، انسان نے ضرور اختیا رکیا ہے، اس کو اپنے قیام و بقا اور تعمیر و ترقی کے لیے ضروری لازمی جانا ہے اور اس کے فوائد سے بہرہ مند ہوتے رہنے کے لیے جن قربانیوں کا، حالات نے مطالبہ کیا ہے، وہ بھی اس نے بڑی فیاضی سے پیش کی ہیں۔‘‘                                                                                   (اسلامی تزکیہ نفس، آخری باب)

فاضل محققکی مندرجہ بالا تحریر سے چند امور واضح ہوتے ہیں :

(الف)انسان کو حکومت کی ضرورت اس لیے ہے کہ ایک شہری، دوسرے شہریوں کی زیادتیوں اور دست درازیوں سے محفوظ رہ سکےیعنی ایسا نظامِ اجتماعی موجود ہو جو قوانین و ضوابط کے ذریعے، افراد کی آزادی کو ضروری حدود کا پابند بنائے۔

(ب)ریاست کے باہر سے کوئی حملہ ہو تو اس حملے کے مقابلے کے لیے مستعد حکومت کی موجودگی ضروری ہے۔ ورنہعام شہری، حملہ آوروں کے ظلم و ستم سے خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔

ریاست کے حقوق

آج دنیا میں ریاست کی نوعیت، اجتماعی ادارے کی ہے جس سے تعلق (حدودِ مملکت کے اندر رہنے والے) ہر شہری کو لازماً رکھنا ہوتا ہے۔ شہری کا یہ تعلق، صدرِ ریاست سے شخصی تعلق یا معاہدے کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ ایک ایسا معاملہ ہے جو فرد (شہری) اور ادارے (ریاست) کے مابین ہے۔ اس لیے اگر ریاست کے بنیادی مناصب پر فائز افراد بدل جائیں اور پرانے حکمرانوں کی جگہ، نئے افراد حکومت سنبھال لیں (لیکن ریاست کا دستوری نظم، حسبِ سابق باقی رہے) تو ریاست اور شہری کا باہمی تعلق (جو حقوقِ باہمی کی اصل بنیاد بنتا ہے) بدستور باقی رہتا ہے۔ اس میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ ریاست کے حقوق یہ ہیں:

(الف)ریاست کے قیام کی اساسی وجہ بیان کی جاچکی ہے، یعنی شہریوں کا باہمی زیادتیوں اور بیرونی جارحیت سے تحفظ۔ یہ تحفظ فراہم کرنے کے لیے، ریاست — قوانین و ضوابط ترتیب دیتی ہے اور ان کا نفاذ کرتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ان قوانین میں بے اعتدالی اور جانبداری ہو اور وہ منصفانہ ہونے کے بجائے، غیر منصفانہ ہوں۔ اس صورت میں شہریوں کو یہ حق حاصل ہونا چاہئے کہ وہ نافذ کیے گئے قوانین پر تنقید کریں اور مطالبہ کریں کہ ان کو بدل کر منصفانہ ضوابط تجویز کیے جائیں اور نافذ کیے جائیں، لیکن شہریوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ریاست کے رویے کی اصلاح کے لیے ہتھیار اٹھائیں، اس لیے کہ اس صورت میں وہی انتشار و بد نظمی (Anarchy)کی کیفیت، معاشرے میں برپا ہوجائے گی، جس سے بچنے کے لیے ریاست قائم کی جاتی ہے۔

چنانچہ ریاست کا بنیادی حق یہ ہے کہ شہری، ریاست کے مقابلے میں ہتھیار نہ اٹھائیں۔

(ب)اگر مملکت پر باہر سے حملہ ہو تو شہریوں کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ حملہ آوروں کا ساتھ دیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاست پر ہونے والی بیرونی جارحیت کے مقابلے کی اصل ذمہ داری، خود ریاست کی (اور اسےچلانے والے حکمرانوں کی) ہے مگر یہ ذمہ داری شہریوں نے اس پر عائد کی ہے، یعنی شہریوں کی تفویض کردہ (delegated)ہے۔ وہ شہریت، اختیار ہی اس لیے کرتے ہیں کہ باہر سے ہونے والی جارحیت سے محفوظ رہیں۔ چنانچہ وہ خود کسی ایسی سرگرمی کے مجاز نہیں ہیں جس سے یہ مقصد فوت ہوتا ہو۔ اس بنا پر ریاست کا دوسرا حق یہ ہے کہ ریاست پر حملہ کرنے والی کسی طاقت کا ساتھ نہ دیا جائے۔

(ج)بیرونی جارحیت کے علاوہ شہریوں کو، ایک دوسرے کی زیادتیوں سے بھی واسطہ پیش آسکتا ہے۔ اس صورت میں شہریوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ زیادتیوں کے مقابلے کے لیے اور ضرر کی تلافی کے لیے قانون سے مدد حاصل کریں لیکن ان کو یہ اختیار نہیں ہے کہ بچاؤ یا تلافی کے لیے، قانون کی حدود کو پامال کردیں۔

قرآن مجید کا ارشاد ہے:

وَلاَ تَقْتُلُوْا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ إِلاَّ بِالحَقِّ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْماً فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہِ سُلْطَاناً فَلاَ یُسْرِف فِّیْ الْقَتْلِ إِنَّہُ کَانَ مَنْصُوْراًo           (بنی اسرائیل۱۷، آیت ۳۳)

’’قتلِ نفس کا ارتکاب نہ کرو، جسے اللہ نے حرام کیا ہے، مگر حق کے ساتھ۔ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو، اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے، پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے۔ اس کی مدد کی جائے گی۔‘‘

جناب سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’اصل الفاظ ہیں ’’اس (مقتول) کے ولی کو ہم نے سلطان عطا کیا ہے۔‘‘ سلطان سے مراد یہاں ’حجت‘(ground)ہے جس کی بنیاد پر وہ قصاص کا مطالبہ کرسکتا ہے۔

جب اسلامی حکومت قائم ہوگئی تو یہ طے کردیا گیا کہ اس (یعنی مقتول کے ولی) کی مدد کرنا، اس کے قبیلے یا اس کے حلیفو ںکا کام نہیں، بلکہ اسلامی حکومت اور اس کے نظامِ عدالت کاکام ہے۔ کوئی شخص یا گروہ، بطورِ خود قتل کا انتقام لینے کا مجاز نہیں ہے بلکہ یہ منصب، اسلامی حکومت کا ہے کہ حصولِ انصاف کے لیے اس سے مدد مانگی جائے۔‘‘                                         (تفہیم القرآن، سورہ بنی اسرائیل، حاشیہ ۳۵ و ۳۷)

اس وضاحت کی بنا پر شہریوں کو چاہیے کہ حصولِ انصاف کے لیے حکومت کے نظام سے رجوع کریں۔ اس معاملے میں اسلامی نظامِ حکومت کا جو حق ہے، وہی حق دوسری حکومتوں کابھی ہے۔ چنانچہ شہریوں پر ریاست کا تیسرا حق یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی زیادتیوں سے بچنے کے لیے یا ضرر کی تلافی کے لیے، طاقت کا استعمال، قانون کی حدود کے اندر ہی کریں۔ ان حدود سے تجاوز نہ کریں۔

شہریوں کے حقوق

ریاست کا مقصد، شہریوں کو تحفظ کی فراہمی ہے۔ اس مقصد کا حصول تقاضا کرتا ہے کہ ریاست، چند بنیادی فرائض (Basic Duties)کو انجام دے۔ ریاست کے ان فرائض کو ’شہریوں کے حقوق‘ کا نام بھی دیا جاسکتا ہے:

(الف)شہریوں کاایک حق یہ ہے کہ کسی گروہ سے متعلق ہونے کی بنا پر، ریاست اُن پر ظلم نہ کرے۔

قرآن مجید ہے :

إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِیْ الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَہْلَہَا شِیَعاً یَسْتَضْعِفُ طَائِفَۃً مِّنْہُمْ یُذَبِّحُ أَبْنَاء ہُمْ وَیَسْتَحْیِیْ نِسَاء ہُمْ إِنَّہُ کَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَo(القصص، آیت۴)

’’واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا، اس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا۔ فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا۔‘‘

(ب)شہریوں کا ایک اہم حق یہ ہے کہ حکومت ان کے درمیان انصاف کرے:۔اللہ کے نبی دائود علیہ السلام کو یہ ہدایت دی گئی :

یَا دَاوُوْدُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیْفَۃً فِیْ الْأَرْضِ فَاحْکُم بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْہَوَی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ إِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ لَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِo                  (ص:آیت ۲۶)

’’اے داؤد! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کراور خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں، یقینا ان کے لیے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بھول گئے۔‘‘

عام اہل ایمان کو ہدایت ہے کہ

إِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُؤدُّوْا الأَمَانَاتِ إِلَی أَہْلِہَا وَإِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللّٰہَ نِعِمَّا یَعِظُکُم بِہِ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ سَمِیْعاً بَصِیْراًo          (النساء، آیت ۵۸)

’’اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں، اہلِ امانت کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔ اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقینا اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔‘‘

(ج)ریاست پر شہریوں کایہ حق ہے کہ وہ ان کے نیک لوگوں سے اچھا سلوک کرے اور صرف ظالموں پر گرفت کرے:اس سلسلے میں قرآن نے ایک عادل حکمراں کی مثال دی ہے۔

حَتّٰی إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَہَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَۃٍ وَوَجَدَ عِنْدَہَا قَوْماً قُلْنَا یَا ذَا الْقَرْنَیْنِ إِمَّا أَنْ تُعَذِّبَ وَإِمَّا أَنْ تَتَّخِذَ فِیْہِمْ حُسْناًo قَالَ أَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُہٗ ثُمَّ یُرَدُّ إِلٰی رَبِّہٖ فَیُعَذِّبُہٗ عَذَاباً نُّکْراًo  وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحاً فَلَہٗ جَزَآئَ  الْحُسْنٰی وَسَنَقُوْلُ لَہُ مِنْ أَمْرِنَا یُسْراًo (کہف: آیات ۸۶-۸۸)

’’(ذوالقرنین اپنی مہمات طے کرتے وقت) جب غروبِ آفتاب کی حد (یعنی مغرب کی انتہائی برّی سرحد تک ) پہنچ گیا تو اس نے سورج کو ایک کالے پانی میںڈوبتے دیکھا اور وہاں اُسے ایک قوم ملی۔ ہم نے کہا: ’’اے ذوالقرنین! تجھے یہ مقدرت بھی حاصل ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ ان کے ساتھ نیک رویہ اختیار کرے۔‘‘ اس نے کہا: ’’جو ان میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو سزا دیں گے، پھر وہ اپنے رب کی طرف پلٹایا جائے گا اور وہ اسے اور زیادہ سخت عذاب دے گا۔ اور جو اُن میں سے ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، اس کے لیے اچھی جزا ہے اور ہم اسے نرم احکام دیں گے۔‘‘

(د)ریاست پر شہریوں کایہ حق ہے کہ مفسدین کے شر سے اُن کو بچانے کا انتظام کرے:۔ذوالقرنین کے تذکرے میں مزید کہا گیا ہے کہ

ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَباًo حَتّٰی إِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِہِمَا قَوْماً لَّا یَکَادُوْنَ یَفْقَہُوْنَ قَوْلاًo  قَالُوْا یَا ذَا الْقَرْنَیْنِ إِنَّ یَأْجُوْجَ وَمَأْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِیْ الْأَرْضِ فَہَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجاً عَلٰی أَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ سَدّاًo  قَالَ مَا مَکَّنِّیْ فِیْہِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَأَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ أَجْعَلْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ رَدْماًo  آتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ حَتّٰـی إِذَا سَاوٰی بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا حَتّٰی إِذَا جَعَلَہُ نَاراً قَالَ آتُوْنِیْ أُفْرِغْ عَلَیْہِ قِطْراo  فَمَا اسْطَاعُوْٓا أَنْ یَّظْہَرُوْہُ وَمَا اسْتَطَاعُوْا لَہٗ نَقْباًo  قَالَ ہٰذَا رَحْمَۃٌ مِّن رَّبِّیْ فَإِذَا جَآء  وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَہٗ دَکَّآئَ  وَکَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقّاًo                   (کہف: آیات ۹۲-۹۸)

’’پھر ذو القرنین نے (ایک اور مہم کا) سامان کیا، یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو اسے ان کے پاس ایک قوم ملی جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی۔ ان لوگوں نے کہا کہ ’’اے ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج اس سرزمین میں فساد پھیلاتے ہیں، تو کیا ہ۔۔۔۔

مئی 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau