حدیث کی تشریعی حیثیت

ڈاکٹر جیفری لینگ | ترجمہ: عرفان وحید

اسلام قبول کرنے والے بیشتر سفید فام امریکی افراد خواتین ہیں اور ان میں سے بھی زیادہ تر تعداد ان خواتین کی ہے جو 40 سال یا اس سے کم عمر کی اور شادی شدہ ہیں۔ سنتھیا اس زمرے میں نہیں آتی۔ اس کی عمر 50 سال سے زیادہ ہے، مطلقہ ہے اور ان دنوں معذور ہے۔ وہ ایک یونیورسٹی میں جز وقتی طور پر لیکچرر ہے۔ اس کے دو بچے 20 سال سے زیادہ عمر کے ہیں اور ایک بچی کی عمر 6 سال ہے جو اس کے ساتھ گھر پر رہتی ہے۔ اس کے ہم سائے، جو میرے کرایے دار بھی ہیں، اس کی ہم دردی اور دیانت داری کے تذکرے کرتے رہتے ہیں۔ میں چند دن کے لیے قاہرہ جانے والا تھا اور سنتھیا کو اپنے رینٹل مینیجر کا نمبر دے رہا تھا تاکہ میری غیر موجودگی میں اگر کوئی کام پڑجائے تو وہ اس سے رابطہ کر سکے۔

’’اوہ، مجھے تو ہوائی جہاز کے سفر سے بہت ڈر لگتا ہے۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’آپ کیسے اتنے طویل سفر کر لیتے ہیں!‘‘

’’مجھے بھی پہلے ڈر لگتا تھا‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’میں پہلے پہل ہوائی جہاز میں خاصا نروس ہوجاتا تھا، لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔‘‘

’’آپ کا راز کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا اور چھڑی کے سہارے ایک قدم آگے آگئی۔

’’یقین جانو جب سے میں مسلمان ہوا ہوں اور قرآن پڑھنے لگا ہوں، میں بتدریج موت کے بارے میں قدرے لاپروا سا ہوگیا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر میرا وقت آگیا ہے تو موت کے لیے کوئی بھی حیلہ کافی ہے۔ جب کہ میری شخصیت کبھی ایسی نہیں رہی۔ میں ہمیشہ ہر امکانی آفت پر غور کیا کرتا تھا اور اس کے لیے منصوبہ بندی کرتا تھا۔‘‘

’’آپ سے ایک بات کہوں، مجھے نہیں پتہ کہ میں واقعی مسلمان ہوں بھی یا نہیں‘‘ اس نے ہلکے سے اپنا سر ہلاتے ہوئے کہا۔ ’’میں احادیث کے حوالے سے شک میں مبتلا ہوں۔‘‘

مجھے اس کے اچانک موضوع بدلنے پر تھوڑی سی حیرت ہوئی۔ ’’تم پہلی امریکی نومسلم نہیں ہو جو مجھ سے ایسی بات کہہ رہی ہو۔‘‘ میں نے اسے تسلی دی۔

تب سنتھیا جذباتی ہوگئی گویا وہ اس لمحے کے لیے برسوں سے منتظر ہو۔ ’’میں اس لیے مسلمان ہوئی تھی کیوں کہ مجھے مسلمانوں سے محبت ہے اور میں ان کے اندر بہت سکون اور محبت پاتی ہوں۔ جب میں قرآن پڑھتی ہوں تو میں اس سے روحانی طور پر رابطہ محسوس کرتی ہوں۔ میں ان سب چیزوں سے جڑنا چاہتی تھی۔ مجھے مشرق وسطی کا کلچر بھی بہت پسند تھا اور میں ان لوگوں اور ان کے کاموں کی قدر کرتی تھی۔ اب بھی کرتی ہوں۔ لیکن میرے سابق شوہر نے اسلام کے اس سارے حسن کو جو میں دیکھتی ہوں احادیث سے غارت کرکے رکھ دیا ۔ہاں اسی نے غارت کر دیا۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کے لیے کوئی نہ کوئی حکم یا ضابطےکی حدیث اس کے پاس ہوتی ہے۔ مزاجاً مجھے اس طرح کا ڈسپلن پسند نہیں ہے کہ ہر معمولی شے میں ضابطے اور اصول تلاش کیے جائیں۔ اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ مجھے احادیث پر اعتبار نہیں رہا۔‘‘

 •    •    •

’’آپ کا حدیث کے بارے میں کیا خیال ہے!‘‘یہ وہ عام سوال ہے جو امریکی نومسلم اور نوجوان امریکی مسلم مجھ سے پوچھا کرتے ہیں۔ مجھے ان دنوں نبی کریم ﷺ کی احادیث کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کرنے والے سوالات کسی بھی دوسرے سوالات سے زیادہ مصروف رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ سوالات اب تک عوامی سطح پر نہیں پوچھے گئے، لیکن رازدارانہ طور پر، بیشتر ای میل کے ذریعے، لوگ پوچھتے ہیں۔ یہ سوالات عام طور پر ان نوجوان مسلمانوں کی الجھن کی عکاسی کرتے ہیں جنھیں نبی کریم ﷺکے بارے میں بعض ماورائے قرآنی معلومات کو سچائی یا انسانی طرز عمل کے پیٹرن کے بارے میں اپنے تصورات کے ساتھ مصالحت کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے- یہ تصورات ان تصورات سے بہت مختلف ہیں جن میں احادیث نبوی کی اشاعت و تدوین ہوئی تھی۔ حدیث کے لٹریچر پر اعتماد کا یہ فقدان بہت کم تدوین حدیث اور علم حدیث اور اس کی تاریخ کے مخلصانہ مطالعے کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ زیادہ تر یہ ان احادیث کے حوالے سے سامنے آتا ہے جو پریشان کن پائی گئی ہیں۔ اس پریشانی کا منبع عموماً کسی مسجد کے امام کا متنازعہ بیان، یا کوئی قریبی رشتہ دار یا مسلمان دوست ہوتا ہے جو ان احادیث کے حوالے سے کرب میں مبتلا ہوتا ہے۔ لیکن بسا اوقات اس کا منبع کوئی غیر مسلم بھی ہوسکتا ہے، شاید انٹرنیٹ پر کوئی عیسائی مبلغ، مشرق وسطیٰ کے مطالعات کا کوئی پروفیسر یا کوئی سابق مسلمان جو اب مرتد ہوچکا ہے۔ سوالات عام طور پر معذرت خواہانہ انداز میں متعارف کرائے جاتے ہیں: “میں کافر نہیں ہوں، لیکن…” پوچھنے والے نوعمر یا نئے مسلمان نہیں ہوتے جو مذہب سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہوں بلکہ سچے پکے مسلمان ہوتے ہیں جو تشکیک کے ساتھ جوجھ رہے ہوتے ہیں۔

مندرجہ بالا سوال کا میرا جواب عموماً ایک سا ہوتا ہے۔ میں سوال پوچھنے والوں کو اپنی کتاب Struggling to Surrender پڑھنے کا مشورہ دیتا ہوں۔ ایسا نہیں ہے کہ اس موضوع پر میرا نقطہ نظر مذکورہ کتاب کے لکھنے بعد سے اٹل رہا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ میں ابھی بھی طالب علمانہ تحقیق کے عمل میں مصروف ہوں۔ اگرچہ میں نے گذشتہ بیس سال سے زائد عرصے تک اس موضوع پر تحقیق کی ہے اور شاید کسی بھی دوسرے موضوع سے زیادہ وقت صرف کیا ہے، لیکن میں دعوی نہیں کرسکتا کہ علوم حدیث کے ارتقا کی ایک مربوط تصویر ابھی تک ذہن میں تیار پاتا ہوں۔ شاید اس بات کی جزوی وضاحت کہ بہت سے قارئین نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ Struggling to Surrender میں حدیث کے بارے میں میرا موقف واضح نہیں ہے، یہی ہو۔ بہت سے نوجوان مسلم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ صحیح (لفظی طور پر صحیح یا مستند) کی درجہ بندی کسی حدیث کے استناد کی ضمانت دیتی ہے یا نہیں، اور اگر نہیں تو پھر وہ ان اور دیگر احادیث سے کیسے رجوع کریں۔ یہ اہم مسائل ہیں—اتنے ہی اہم جتنے کہ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں تھے جب بہت سے مسلم مفکرین نے انھیں حل کرنے میں اپنی عمریں کھپادیں۔ حدیث کا لٹریچر مسلمانوں کی فکر اور طرز عمل کی رہ نمائی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ نوجوان امریکی مسلمانوں کی اکثریت جو احادیث نبوی کے بارے میں تحفظات رکھتی ہے یا تو کالجوں میں زیر تعلیم ہے یا کالجوں سے تعلیم یافتہ ہے اور اپنے علاقے میں مستشرقین کی تحقیق تک بآسانی رسائی رکھتی ہے۔ البتہ ان مستشرقین کا کلاسیکی اسلامی علوم کی سالمیت کے بارے میں تاثر عام طور پر منفی ہے۔ مستشرقین کی تنقید پر مسلمانوں کا رسپانس ان اداروں میں بہت کم دستیاب ہے اور اس تک رسائی بھی مشکل ہے۔

مستشرقین کو امریکی مسلم نوجوانوں کے خیالات پر غلبہ حاصل کرنے میں چند اور بھی آسانیاں حاصل ہیں۔ چوں کہ دونوں ایک ہی ثقافت اور تعلیمی نظام کے پروردہ ہیں، اس لیے نوجوان امریکی مسلمان آسانی سے مستشرقین کے نقطہ نظر، گفتگو اور طریقہ کار سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ چوں کہ حدیث پر زیادہ تر معاصر مسلمان مصنفین کو نہ تو تاریخی تحقیق کے جدید طریقوں سے واقفیت ہے اور نہ وہ کلاسیکی اسلامی علوم میں تربیت یافتہ ہیں، چناں چہ انھیں مستشرقین کے کام بہتر تحقیق شدہ اور زیادہ سائنٹفک لگتے ہیں اور عام طور پر وہ ہوتے بھی ہیں۔ نوجوان امریکی مسلمانوں کے لیے اپنے مذہب کا اس معاشرے کے اخلاق (ethos) سے مصالحت کرنے کا دباؤ بھی، جس میں وہ پروان چڑھتے ہیں، مستشرقین کے نتائج کو پرکشش بنا دیتا ہے، کیوں کہ اگر احادیث کے لٹریچر کو ناقابل اعتنا قرار دے دیا جائے تو بہت سے لوگوں کے لیے قرآن ہی اسلام میں مذہبی رہ نمائی کا واحد متن رہ جاتا ہے جس سے تشریح کی بہت زیادہ گنجائش ہے، خاص طور پر اس لیے کہ قرآن میں نسبتاً کم احکام موجود ہیں اور وہ بھی زیادہ تر سرسری اور اجمالی نوعیت کے ہیں۔

مجھے توقع تھی کہ مجھے اس موضوع پر دوبارہ لکھنا نہیں پڑے گا کیوں کہ نہ تو عربی متون پڑھنے میں مجھے وہ مہارت حاصل ہے جو اصل زبان میں زیادہ تر کلیدی مآخذ کا مطالعہ کرنے کے لیے درکار ہے اور نہ میں اس کے لیے وقت نکال سکا۔ تاہم حال ہی میں مجھے احادیث کے استناد پر جو سوالات موصول ہوئے ہیں ان سے مجھے یقین ہوتا ہے کہ اس معاملے پر مسلم معاشرے میں افہام و تفہیم کی حقیقی ضرورت ہے۔ اس ڈسکورس کی حوصلہ افزائی اور تعاون کی امید کے ساتھ، میں نے اپنے تاثرات میں سے بعض کو قارئین کے سامنے رکھنے کے لیے منتخب کیا ہے۔ اگرچہ یہ میرا مقصد نہیں ہے، لیکن مجھے احساس ہے کہ اس معاملے پر بات چیت شدید تنازعہ پیدا کر سکتی ہے، اور یہ وہ چیز ہے جس سے بچنے کے لیے عام طور پر میری مذہبی کمیونٹی کوشش کرتی ہے۔ میرے خیال میں یہ وہ چھوٹی سی قیمت ہے جو ایک ایسی نسل کی مدد کے لیے ادا کرنی ہوگی جو غیر موافق ماحول میں اپنے مذہب کو برقرار رکھنے کے لیے جدو جہد کر رہی ہے۔ یقیناً اس موضوع پر کھلی بحث نوجوان امریکی مسلمانوں کے لیے اس وقت ہونے والی خفیہ اور رازدارانہ بات چیت سے زیادہ مفید ثابت ہوگی۔ بنیادی اسلامی علوم پر اعتماد میں فقدان امریکہ کے مسلم نوجوانوں میں پہلے ہی سے موجود ہے اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ دوسری جانب اس کی تاریخ اور طریقہ کار کے علم میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔ لہٰذا اس باب کو علوم احادیث کے گہرے جائزے کے طور پر نہیں بلکہ مدد کی کوشش کے طور پر لیا جانا چاہیے۔ اس کا بنیادی مقصد نہ تو واقعی دفاع حدیث ہے اور نہ ہی پورے ذخیرہ احادیث کو غیر معتبر سمجھنے (discredit) کی کوشش ہے بلکہ ان مسائل اور سوالات کو اجاگر کرنا ہے جو میرے خیال میں اہم ہو سکتے ہیں، نیز اس میدان کے مسلمان ماہرین کو امریکی مسلم آبادی کے ساتھ اپنا علم بانٹنے کی ترغیب دینا ہے۔

پہلا تاثر

میں نے اپنی تبدیلی مذہب سے پہلے اسلام میں احادیث کی اہمیت کے بارے میں پڑھا تھا، لیکن مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ مسلمان احادیث کا حوالہ کتنی بار دیتے ہیں۔ چوں کہ اصولی طور پر ان کے نزدیک قرآن ہدایت کا بنیادی سرچشمہ ہے اور احادیث ثانوی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں، اس لیے مجھے توقع تھی کہ مسلمان احادیث نبوی کی بہ نسبت قرآن سے کہیں زیادہ کثرت سے حوالے دیں گے، لیکن میں نے صورت حال اس کے برعکس پائی۔ مجھے جلد ہی احساس ہوا کہ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ مسلمان احادیث نبوی کا احترام قرآن کریم سے زیادہ کرتے ہیں بلکہ ایسا اس لیے ہے کہ احادیث نبوی ان کو وہ معلومات فراہم کرتی ہیں جو ان کے نزدیک قرآن مجید کے پیغام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

دین دار مسلمان شریعت (اسلامی قانون) پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ انھیں رضائے الہی اور آخرت کی کام یابی حاصل ہو۔ شریعت کا بنیادی مصدر حدیث ہے۔ قرآن کی وہ آیات جو تشریعی نوعیت کی ہیں، کلام الہی کے صرف تین فیصد حصے پر مشتمل ہیں۔ لہذا قرآن مجید کے تمام احکامات اور امتناعات کو اس کتاب کے محض دس صفحات میں درج کیا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجود احادیث کے مختلف مجموعوں میں ہزاروں احادیث جمع کردی گئی ہیں جن میں سے اکثر احادیث تشریعی مضمرات کی حامل ہیں۔ چوں کہ تشریعی احادیث کی تعداد قرآن کی تشریعی آیات سے بہت زیادہ ہے، اس لیے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ مسلمان، جو خدا کی اطاعت کے پابند ہیں، زیادہ تر احادیث کا سہارا لیتے ہیں۔ مسلمان ترغیب (inspiration) کے لیے رسول اللہ ﷺ کے اسوے کی طرف دیکھتے ہیں۔ اگرچہ قرآن میں سیرت رسول ﷺ کے واقعات میں بعض اجمالی اشارے موجود ہیں تاہم یہ بہت کم ہیں اور اتنے مبہم ہیں کہ انھیں سیرت کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ جب کہ دوسری جانب احادیث و آثار سیرت رسول ﷺ اور رسول اللہ ﷺکے مشن پر وافر تفصیل فراہم کرتے ہیں۔

بہرحال، میں عرض کر رہا تھا کہ ابتدا میں مجھے حدیث کے حوالے سے تحفظات تھے۔ میں حدیث کے لٹریچر کو قرآن پر تکمیلی اضافی صحیفے سمجھتا تھا۔ قرآن کا تجربہ میرے لیے اتنا طاقت ور اور پر اثر تھا کہ میں پورے جذبے سے اس کی حفاظت کرنے لگا اور کسی بھی دیگر متن کی حرمت یا اتھارٹی کو قبول کرنے سے منکر رہا الا یہ کہ وہ اسی کی جیسی خدائی ذہانت کا مظاہرہ نہ کرے۔ البتہ بعد میں میرے خیالات بتدریج اعتدال پر آگئے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے جس مسلمان سے بھی ملاقات کی اور جس مسلم مصنف کو بھی پڑھا اس نے اسلام میں حدیث کی اہمیت پر بہت زور دیا۔ جیسا کہ کہاوت ہے کہ “کسی چیز کے کروڑوں پیروکار ایک ساتھ غلط نہیں ہو سکتے۔” ان سب نے ایک ہی ٹھوس دلیل پیش کی—‘‘چوں کہ قرآن ہم سے بعض چیزیں (جیسے فرائض) کی ادایگی کا تقاضا کرتا ہے اس لیے ان کی تشریح و وضاحت کے لیے ضمیمے کی ضرورت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے نمونے سے بہتر ایسی رہ نمائی اور کہاں سے تلاش کی جائے؟‘‘[1]

مجھے اس سے اتفاق تھا، لیکن بعض تحفظات اب بھی تھے۔ میری سب سے بڑی تشویش استناد کے حوالے سے تھی۔ ہم کیسے یقین کریں کہ کوئی زیر بحث حدیث مستند ہے یا نہیں؟ سب سے قابل احترام مجموعہ ہائے احادیث کی تدوین تیسری اور چوتھی صدی ہجری میں ہوئی۔ یہ کتنے مستند ہو سکتے ہیں جب کہ انھیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے اتنے عرصے بعد مرتب کیا گیا؟ مجھے اس بات سے بھی پریشانی تھی کہ بعض حدیثیں قرآن کی مبہم آیات کی تشریح سے کہیں آگے بڑھ جاتی ہیں اور ان میں سے بعض تو ایسے احکامات[2] اور تصورات[3] متعارف کرواتی ہیں جن کا کلام الہی میں اشارہ تک موجود نہیں ہوتا۔ ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ وہ ہم پر غیر ضروری احکامات اور قوانین کا بار نہیں ڈالتیں؟

یہاں ایک بار پھر میں نے پایا کہ ان سوالات کے جوابات، جو بہت پہلے دیے جاچکے ہیں، وسیع پیمانے پر معروف و مقبول ہیں۔ عملی طور پر ہر مسلمان، جس کے ساتھ میں نے ان مسائل پر بات کی، اسلامی علوم کی ضرورت اور آئینی حیثیت پر متفق نظر آیا۔ حدیث کی حجیت کے دفاع میں مسلم علما نے اطاعت رسول ﷺ پر بہت سے قرآنی احکامات کا حوالہ پیش کیا۔ حدیث کی سند ابتدائی اسلامی ادوار میں احادیث کی جانچ پڑٹال کے سخت معیارات اور محدثین کی جاں فشانی اور خدمات کی دلیل پیش کی۔ ہم ذیل میں انھی نکات پر غور کریں گے جس کا آغاز قرآن کی عمومی طور پر پیش کردہ شہادتوں سے ہوگا جو رسول اللہ ﷺ کی احادیث کی حجیت پر دلالت کرتی ہیں۔

جو رسول کی اطاعت کرتا ہے، وہ خدا کی اطاعت کرتا ہے[4]

کیا قرآن، حدیث کو مذہبی رہ نمائی کے اضافی ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کا حکم دیتا ہے؟ میں ’حکم‘کا لفظ استعمال کروں گا بجائے اس کہ کم طاقت ور لفظ ’اجازت‘کا استعمال کروں کیوں کہ مؤخر الذکر یعنی اجازت کا مطلب ہے رخصت نہ کہ لزوم۔ اگر صرف حدیث استعمال کرنے کی اجازت ہوتی تو اسے نظر انداز کرنے کی بھی اجازت ہوتی۔ یہاں ہم محض جواز نہیں بلکہ مینڈیٹ چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہم احادیث نبوی سے خدائی مینڈیٹ کے وجود یا عدم وجود پر دلائل نہیں لاسکتے کیوں کہ پہلی صورت میں ہماری دلیل دوری (circular) ہوجائے گی اور دوسری صورت میں متناقض (self-contradictory)۔ ہم جو بھی دلیل پیش کریں وہ صرف قرآن پر منحصر ہونی چاہیے۔

قرآن میں واضح طور پر سنت[5] یا احادیث نبوی (اقوال و احوال) کا ذکر نہیں ہے۔ قرآن اللہ کی سنت کا ذکر ضرور کرتا ہے[6] نیز ماقبل کے لوگوں کی سنت[7] اور اس میں لفظ حدیث کو کئی بار استعمال کیا گیا ہے، البتہ اس لفظ کو کہیں بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وابستہ نہیں کیا گیا۔ مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا گروہ، جو یہ سمجھتا ہے کہ صرف قرآن کو مذہبی عقائد و اعمال کی واحد بنیاد ہونا چاہیے، ان میں سے کچھ حوالوں کو استعمال کرتے ہوئے حدیث کے انکار پر دلائل لاتا ہے۔ مثال کے طور پر رشاد خلیفہ مندرجہ ذیل آیات کے ساتھ اس نظریے کی تائید کرتا ہے۔[8]

کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پر کبھی غور نہیں کیا اور کسی چیز کو بھی جو خدا نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا؟ اور کیا یہ بھی انھوں نے نہیں سوچا کہ شاید اِن کی مہلت زندگی پوری ہونے کا وقت قریب آ لگا ہو؟ پھر آخر پیغمبرؐ کی اِس تنبیہ کے بعد اور کون سی بات [حدیث] ایسی ہو سکتی ہے جس پر یہ ایمان لائیں؟ (7: 185)

اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلام دل فریب [لھو الحدیث] خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکا دے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اڑا دے ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے (31: 6)

یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جنھیں ہم تمھارے سامنے ٹھیک ٹھیک بیان کر رہے ہیں اَب آخر اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات [حدیث]ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے۔ (45: 6)

تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ اب اِس (قرآن) کے بعد اور کون سا کلام [حدیث] ایسا ہو سکتا ہے جس پر ایمان لائیں گے ؟ (77: 50)

اس بات میں شبہ ہے کہ ان آیات میں حدیث سے مراد رسول اللہ ﷺ کے اعمال و اقوال سے متعلق مرویات ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ علمائے اسلام کے نزدیک اس لفظ کے معنی کا تعین نبی ﷺ کی زندگی کے بعد ہوا۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ بقید حیات تھے تب ان کے دشمن ان کی احادیث کو قرآن پر فوقیت دیتے ہوں یا ان کے مشن کو کم زور کرنے کی کوشش میں ان کی تشہیر کر رہے ہوں۔ اس کے بجائے حدیث سے یہاں عام مفہوم مثلاً تقریر، بات چیت، گفتگو، گپ شپ، کہانیاں، حکایات، واقعہ وغیرہ لیا جانا چاہیے۔ آیت 31: 6 میں اسلام کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کرکے اس کی تضحیک کرنے کی کوشش کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔ آیت 31: 7 میں ایسے لوگوں کی یہ خصوصیت بیان کی گئی ہے کہ یہ وہ افراد ہیں جو قرآن کے پیغام کے ساتھ متکبرانہ انداز میں اپنے ذہن کی کھڑکیاں بند کرلیتے ہیں۔ اگلی تین آیتیں کہتی ہیں کہ ایسے لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے انکار کرنے سے تباہ ہو جائیں گے کیوں کہ اگر وہ الله کی آیتوں پر دل سخت کر لیں گے تو پھر آخر کس کی بات پر ایمان لائیں گے۔ اگرچہ ان آیات میں حدیث کا مفہوم عمومی لگتا ہے لیکن کوئی بھی شخص مشکوک ڈیٹا کی بنیاد پر مذہبی عقائد اور طرز عمل کی اساس رکھنے سے محتاط رہ سکتا ہے، خاص طور پر جب کہ یہ بات قرآن سے متعارض ہو۔

اگرچہ قرآن میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث یا سنتوں کو محفوظ رکھنے اور ان پر عمل کرنے کے کوئی واضح احکامات نہیں ہیں لیکن یہ ممکن ہے کہ بین السطور یہ حکم موجود ہو۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، ہمیں یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ قرآن میں بعد میں ارتقا کرنے والے اسلامی علوم کی مصطلحات استعمال کی گئی ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺ کے معاصرین نے ان کے اقوال و افعال پر بات کی ہوگی تو انھوں نے غیر رسمی طور پر ایسا کیا ہوگا نہ کہ کسی طے شدہ اصطلاحات کی بنیاد پر۔ لہٰذا ہمیں قرآن میں ایسی آیات کی جستجو کرنی چاہیے جن میں اصحاب رسول کو رسول اللہ ﷺ کے اسوے کا مشاہدہ کرنے اور اس کی تقلید کرنے کی ہدایت دی گئی ہو اور اس سے مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کو بھی اشارہ ملے کہ انھیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔

قرآن میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت پر ابھارنے والی متعدد آیات موجود ہیں۔[9] جنھیں بلاشبہ ان کی حیات میں مومنوں پر ان کی قیادت کے طور پر لیا گیا تھا۔ مسلم امت کی بقا اور ترقی کا دار و مدار رسول اللہ ﷺ کے احکامات پر سختی سے عمل پیرا ہونے پر تھا۔ بے شک مسلمانوں کے گروہ کا یہی نظم و ضبط اور یکجہتی ان کی تعداد سے کہیں بڑھ کر حملہ آور فوجوں پر غالب آنے میں ایک فیصلہ کن عنصر تھا۔ لیکن آنے والے ادوار کے مسلمانوں کے لیے “اطاعت رسول ﷺ” کے حکم سے کیا مراد ہے؟ اب وہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کس طرح کریں جب کہ رسول اللہ ﷺ انھیں حکم دینے کے لیے موجود نہیں ہیں؟

قرآن مجید کے اطاعت رسول ﷺ کے بہ تکرار حکم پر عمل کی صرف دو ہی صورتیں ہیں—یا تو یہ احکام صرف ان کے معاصرین کے لیے مخصوص تھے یا پھر مخصوص نہیں تھے بلکہ تمام مسلمانوں کا ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔ پہلی صورت میں تو یہ مسئلہ بڑی صفائی سے حل ہوجاتا ہے کہ بعد کے مسلمان ان احکامات پر کیا رسپانس اختیار کریں کیوں کہ اس کے بموجب انھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ ان احکامات کا وجوب صرف رسول اللہ ﷺ کی حیات تک تھا۔ اس نقطہ نظر سے رسول اللہ ﷺ کی وفات سے یہ احکامات بھی منسوخ قرار پائے۔ تاہم اس تشریح سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اب کلام الہی کے وہ کون سے دیگر احکامات ہیں جو نافذ نہیں ہوں گے۔

کلام الہی کے تئیں مسمانوں کے احترام کو دیکھتے ہوئے کوئی یہ سوچے گا کہ مسلمانوں کو اس تصور سے نفرت ہوگی کہ قرآن مجید کے بعض حصے اب متعلقہ نہیں رہے، کیوں کہ وہ اسے پوری انسانیت کے لیے ایک خدائی پیغام مانتے ہیں۔[10] اگرچہ وہ بدلے ہوئے حالات میں قرآن کے بعض تشریعی احکام کی نئی تشریح پر غور کرسکتے ہیں لیکن خدائی احکام کو مکمل طور پر منسوخ کرنے کی وکالت نہیں کرسکتے۔ اس کے باوجود نسخ کا تصور جس کی رو سے قرآن کے بعض احکام دیگر احکام کے ناسخ ہیں، بلکہ بعض احادیث بھی مخصوص قرآنی احکامات کی ناسخ ہیں، اسلامی فقہ میں مرکزی کردار کا حامل رہا ہے۔[11] اس تصور کو وسیع پیمانے پر قبول کیا گیا، اگرچہ اس کے حامی اس بات پر متفق نہیں ہو سکے کہ کون سی آیات منسوخ ہیں، کیوں کہ تقریباً ان تمام معاملات میں جہاں کسی مصنف نے کسی آیت کے منسوخ ہونے کی بات کہی[12] وہیں دیگر علما نے اس مبینہ منسوخی کی تردید کی۔ بعض علما نے اصرار کیا کہ قرآن کے منسوخ احکامات سیکڑوں کی تعداد میں ہیں، بعض کے نزدیک ان کی تعداد محض چار ہے۔ اس بات پر اجماع نہ ہونے کے باوجود کہ کون سی آیات اب عملی نہیں رہیں، اس تصور کے حاملین میں سے کسی نے بھی منسوخ آیات کی فہرست میں اطاعت رسول ﷺ والی آیات شامل نہیں کیں۔ اس تصور کے مطابق صرف وحی الہی[13] یا وحی الہی کی دیگر شکلیں[14] ہی وحی کو منسوخ کرسکتی ہیں۔

لہٰذا یہ دعویٰ کہ قرآن کا مسلمانوں سے اطاعت رسولﷺ کا تقاضا رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد غیر متعلق ہوگیا ہے، اسلامی نظریے کے نقطہ نظر سے، اس نئے خیال کی تجویز پیش کرتا ہے کہ وقت کے ساتھ حکم الہی منسوخ بھی ہوسکتا ہے۔ اس تصور کو قبول کرنے میں مجھے باک ہے، اس لیے نہیں کہ میں روایتی مسلم نظریے کا حامی ہوں۔ اگرچہ قرآن مجید کے پہلے پہل مطالعہ کے دوران مجھے ایسی آیات ملیں جنھیں میں سمجھ نہیں سکا، لیکن بعد کے مطالعات سے مجھ پر ان کے وہ معنی روشن ہوئے جو میں پہلے نہیں جان سکا تھا۔ ہر بار قرآن کا مطالعہ چشم کشا اور نئی بصیرت دیتا ہے۔ جزوی طور پر شاید ایسا اس لیے ہے کہ قرآن فرد کے بارے میں کہتا ہے کہ اس کا ارتقا جاری و ساری ہے، وہ کسی آیت سے اپنے وجود سے متعلق کوئی مناسبت پہچان لیتا ہے جو پہلے اسے نظر نہیں آتی۔ البتہ اپنے پہلے مطالعے سے ہی مجھ پر یہ بات منکشف ہوچکی تھی کہ قرآن کا طریقہ خاص لوگوں کے الہامی ابلاغ کے تجربے کے ذریعے ایک آفاقی پیغام دینا ہے، یہ اپنے موجود سننے والوں کی فوری ضروریات اور خدشات سے براہ راست مخاطب ہوتا ہے، اور انھی الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو دوہرا پیغام بھیجتا ہے جو موجود نہیں ہیں۔ یہ میرے تجربے کے خلاف بات ہوگی کہ اس کی بعض آیات کو زمانی گمنامی (temporal oblivion)میں دھکیل دیا جائے۔ میں نے محسوس کیا اور اب بھی کرتا ہوں کہ قرآن کی ہر عبارت کے اندر لازوال حکمت مضمر ہے، اس کا اندازہ لگانے کے لیے ہمیں کبھی کبھی بین السطور پڑھنا پڑتا ہے۔

آج کے کم و بیش تمام مسلمان مانتے ہیں کہ ’اطاعت رسولؐ‘کا صحیح رسپانس سنت رسول، یعنی اس مثالی نمونے کی پیروی ہے جو کتب احادیث میں درج ہے۔ وہ اپنی دلیل کی تائید کے لیے کئی دیگر آیات کا حوالہ دیتے ہیں مثلاً ’جو کچھ رسول ﷺ تمھیں دیں اسے لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دیں اس سے رُک جاؤ‘‘(59: 7)، ’’درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول ﷺ میں ایک بہترین نمونہ ہے‘‘ (33: 21) اور قرآن کی متعدد آیات جو کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا گیا ہے، کتاب سے مراد قرآن ہے اور حکمت سے مراد نبی کی سنت ہے۔[15]

اس دلیل کے بارے میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ اسے تشکیل دینے میں اتنا وقت لگا۔ ان میں سے کسی بھی آیت کا سب سے پرانا دستیاب تحریری ریکارڈ جو سنت رسول کی پیروی کی قرآنی بنیاد قائم کرتا ہے وہ امام شافعیؒ (وفات 204ھ/ 819ء) کے الرسالہ میں پایا جاتا ہے، جس میں انھوں نے سنت کو نبی پر نازل کردہ حکمت قرار دیا۔ امام شافعیؒ اس تفسیر کے حوالے میں سلف کا حوالہ نہیں دیتے، جو ان کا معروف طریقہ ہے جب انھیں کوئی شے وثوق سے معلوم ہو، یہ ایک حالیہ پیش رفت معلوم ہوتی ہے[16] ابتدائی کتب تفاسیر اس سے متفق نظر آتی ہیں۔

’’اس طرح امام شافعیؒ نے زور دیا کہ سورة البقرہ کی آیت 29 میں، ’حکمت‘ سے مراد سنت رسول ﷺ ہے۔ طبریؒ (310 ھ / 922 ء)نے صرف قتادہؒ (وفات 118 ھ / 736 ء) کا ذکر کیا ہے جنھوں نے حکمت کو ’سنت‘ قرار دیا ہے (لیکن ہم آگے دیکھیں گے کہ اس سے ان کی مراد کیا تھی)۔ طبریؒ کے دیگر شارحین نے اس سے ’دین کا علم ‘اور ’تفقہ‘یا اسی طرح کی دوسری بات مراد لی ہے۔ خود طبریؒ نے بھی، جن کا زمانہ امام شافعیؒ سے ایک صدی بعد کا ہے، یہاں حکمت کی تشریح سنت نبیؐ کے طور پر نہیں کی، اگرچہ وہ دوسرے سیاق میں متقدمین کے حوالے کے بغیر اس کا ذکر کرتے ہیں۔ حکمت کی دیگر تشریحات ’سنت‘ (قتادہؒ) اور ’نبوت‘ (اسماعیل بن عبد الرحمن السدیؒ–وفات 128 ھ/ 745ء) کے یہاں ملتی ہیں لیکن قتادہؒ کے مطابق یہ حکمت عیسی ابن مریم علیہما السلام کی سنت تھی۔ اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ قتادہؒ نے حکمت کو ’سنت رسول اللہ ﷺ‘ کے ساتھ نہیں بلکہ مبہم تر لفظ ’سنت‘ کے ساتھ منسلک کیا تھا جس سے مراد کسی بھی فرد کا مثالی طریقہ ہے۔ متقدمین کی دیگر تفاسیر جو دستیاب ہیں ان میں حکمت کو سنت رسول ﷺ کے ساتھ شناخت نہیں کیا گیا ہے۔‘‘[17]

ان سب سے امام شافعیؒ کی رائے رد نہیں ہوتی کیوں کہ وہ عبقری بصیرت کے حامل عالم تھے اور ممکن ہے ان سے پہلے کے علما کی نظر سے جو بات اوجھل ہوگئی تھی وہ اس کا ادراک رکھتے ہوں۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ انھوں نے جو تفسیر بیان کی وہ قطعی نہیں ہے۔ بہر کیف امام شافعیؒ کے استدلال کا اثر بے پناہ ہوا اور اس کے ماننے والے بڑی تعداد میں ہیں۔ امام شافعیؒ کے استدلال کو جانچنے سے پہلے ہم آیات 59:7 اور 33:21 پر غور کریں گے جن کا ذکر ’الرسالة‘ میں موجود نہیں ہے۔ [18] (جاری)

حواشی و حوالہ جات

[1] یہ سچ ہے کہ کوئی بھی مسلمان فرد عملی طورپر حدیث کے لٹریچر کا مطالعہ کرکے اسلامی عبادات پر عمل پیرا ہونے کا طریقہ نہیں سیکھتا بلکہ یہ طریقے مسلمانوں کو براہ راست زیادہ تجربہ کار مسلمانوں نے سکھائے ہیں۔ اس طرح نبی ﷺکے زمانے سے کچھ معمولی تغیر ات کے ساتھ اسلام کے مذہبی شعار نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں۔ اس معلومات کا زیادہ تر حصہ حدیث کے مجموعوں میں بکھرا ہوا ہے لیکن چوں کہ یہ بڑے پیمانے پر آنے والی نسلوں میں منتقل ہوتا ہے، اس لیے ائمہ احادیث نے انھیں احادیث متواترہ (مستند حدیثیں) کے طور پر درجہ بندکیا ہے۔

[2] مثال کے طور پر، مردوں کے لیے سونے کے زیورات اور ریشم کے کپڑوں کی ممانعت، کتے پالنے اور ان کے رابطے میں آنے سے متعلق احکام، ریح خارج ہونے کے بعد وضو کی ضرورت کے حوالے سے احکام، وغیرہ۔

[3] جیسے دجال (مسیح کاذب) کا تصور یا یہ تصور کہ عیسی علیہ السلام اور ان کی ماں مریم شیطان کے مس کے بغیر پیدا ہوئے تھے، جو بنیادی گناہ سے متعلق رومن کیتھولک عقائد سے مشابہ ہے۔

[4] پوری آیت کا ترجمہ اس طرح ہے : ’’جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی اور جو منہ موڑ گیا، تو بہرحال ہم نے تمہیں ان لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے۔‘‘ [4:80]

[5] سنت: رسول اللہ ﷺ کی عادات، خصائل، افعال، اقوال کا مکمل مجموعہ، عربی جمع سنن ہے۔

[6] دیکھیے آیات: 4:26؛ 17:77; 33:38; 33:62; 35:43; 40:85; 48:23

[7] دیکھیے آیات:3:137؛ 8:38; 15:13; 18:55; 35:43

[8] رشاد خلیفہ، Quran: The Final Testament، اسلامی پروڈکشنز، ٹیکسن، 1989ء، ص 664-665

[9] دیکھیے آیات: 3:132؛ 4:13; 4:59; 4:69; 4:80; 5:95; 8:1; 8:20; 8:46; 9:71; 24:52; 24:54; 33:31; 33:33; 33:71; 47:33; 48:17; 49:14; 58:13; 64:12.

[10] دیکھیے آیات:39:41؛ 81:26-29

[11] تصور  نسخ کے ایک بھرپور مطالعے کے لیے دیکھیں:رچرڈ برٹن، The Sources of Islamic Law, Islamic Theory of Abrogation، ایڈنبرا، 1990۔

[12] اس تصور سے اختلاف رکھنے والے مسلم مصنفین کے لیے دیکھیں، محمد علی، The Religion of Islam، لاہور (1990ء) ص 28-34؛ یوسف علی، The Meaning of the Holy Quranامانہ پبلی کیشنز، بیلٹسویل (1996)، حاشیہ6086، ص، 1637،؛محمد اسد، The Message of Quran، ص 22-23، حاشیہ87 اور ص 736، حاشیہ  35؛ جیفری لینگ، Even Angels Ask، امانہ پبلی کیشنز، بیلٹسویل (1996)، ص124-126۔

[13] محمد علی The Religion of Islam، لاہور (1990ء) میں لکھتے ہیں، ص 30، “زیادہ تر معاملات میں جہاں ایک صحابی رسول ﷺکی روایت ملتی ہے کہ کوئی مخصوص آیت منسوخ کردی گئی تھی، وہیں کسی دوسرے صحابی کی روایت اس کی تردید کرتی ہے کہ آیت منسوخ نہیں کی گئی تھی۔

[14] بعض لوگوں کا خیال ہےکہ رسول اللہ ﷺکی سنت، ان کے طرز عمل کا نمونہ جیسا کہ احادیث کے مجموعوں میں درج ہے، یہ بھی وحی ہے، قرآن اور سنت میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اول الذکر وحی متلو ہے اور ثانی الذکر غیرمتلو۔

[15] یہ خیال عام تھا کہ قرآن کے بعض حصے اللہ کے حکم سے منسوخ ہوگئے جہاں اللہ نے اس کے کچھ حصوں کو اصل متن سے حذف کردیا۔ یہ دعویٰ کیا گیا کہ اللہ نے نبی اور ان کے اصحاب کو قرآن کا کچھ حصہ بھلادیا نیز قرآن کے دیگر اجزا معجزاتی طور پر تلف ہوگئے ۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ جب نبی ﷺ بستر مرگ پر تھے  اور ان کے اہل خانہ ان کے پاس حاضر تھے تب کسی جانور نے قرآن کے کچھ صفحات کھا لیے ۔ نسخ کے مختلف طریقوں پر بحث کے لیے رچرڈ برٹن، The Sources of Islamic Law, Islamic Theory of Abrogation، ایڈنبرا، 1990، دیکھیں۔

[16] دیکھیے آیات: 2:151؛ 2:231; 3:164; 4:113; 62:2.

[17] امام شافعی، الرسالة، مترجمہ ماجد خدوری، جان ہاپکنز پریس (1961)، ص 111۔ ملحوظ رہے کہ بعض احادیث کے مجموعوں میں الرسالة کے بعد منظرعام پر آئے، آیات 33:21 اور 59:7 کو بعض سنتوں کی دلیل کے طورپر پیش کیا گیا۔

[18] امام شافعی نے ان آیات کی دیگر تفاسیر سے اختلاف کیا ہے اور فرمایا ہے کہ دیگر معاصر علما ان سے متفق ہیں۔

اکتوبر 2022

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau