دین کا مطالعہ

محمد کامل فلاحی

’’ دین کا مطالعہ ‘‘نامی کتابچہ میں مولانا صدرالدین اصلاحیؒ نے قرآن، حدیث، سیرت رسول ﷺ، سیرتِ صحابہؓ اور صالح دینی لٹریچر کے مطالعہ کی ضرورت، اہمیت اور فوائد پر سیر حاصل گفتگو فرمائی ہے۔ مولانا نے بنایا ہے کہ مطالعہ کرتے وقت کیا طریقۂ کار اختیار کرنا چاہیے؟ کن باتوں کو مدّ نظر رکھنا چاہیے؟ کن امور سے بچنا چاہیے؟ مولانا نے ابتدا میں دین کے مطالعہ کی ضرورت اور اہمیت پر اجمالی گفتگو فرمائی ہے ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ: ’’قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ بنیادی طور پر اور عام دینی کتابوں کا ذیلی طور پر ایک مسلمان کے اسلام کے لیے بھی ضروری ہے اور اس کے ایمان کے لیے بھی ۔ اس مطالعہ کے بغیر اسے نہ صحیح معنوں میں اسلام میسّر آسکتا ہے اور نہ صحیح نوعیت کازندہ و توانا قسم کا ایمان حاصل ہو سکتا ہے۔‘‘

آگے مولانا مزید وضـاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے وہ آپ سے آپ واضح ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ اسلام عمل کا یعنی احکام دین و شریعت کی مخلصانہ پیروی کا نام ہے۔ عمل کے لیے، خواہ دین کا ہو خواہ دنیا کا، علم ضروری ہوتا ہے۔‘‘ اس نکتہ کی دلیل پیش کرتے ہوئے مولاناکہتے ہیں۔ جو کوئی یہ جانتا ہی نہ ہو کہ کسی کام کا کرنا اس کے لیے ضروری ہے، وہ تو اس کے کرنے کا خیال تک ذہن میں نہیں لائے گا۔ اسی طرح اسلامی احکام کی پیروی کے لیے ان کا جاننا ضروری ہے ۔ ہم جانتے ہیںکہ ان احکام کے ریکارڈ کانا م ہی قرآن، حدیث، سیرت اور دینی لٹریچر ہے۔ جو شخص اس تحریری ریکارڈ کا جتنا زیادہ علم رکھے گا وہ اتنا ہی بہتر طریقے سے اپنے اسلام کا اور اپنے مسلم ہونے ثبوت پیش کر سکے گا۔ اگر کوئی علم حاصل نہیں کرتا تو اس کا حال ان لوگوں جیسا ہوگا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: لَا يَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّآ اَمَانِىَّ (البقرۃ:۷۸) ’’ وہ کچھ من مانی باتوں کے سوا کتاب الٰہی یعنی توراۃ کا کوئی علم نہیں رکھتے ۔‘‘ مگر جو لوگ اللہ کی نگاہ میں صالح اور اجر آخرت کے مستحق ہوتے ہیں ان کی صفت قرآن میں بتائی گئی کہ: وَالَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ۝۰ۭ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرُ الْمُصْلِحِيْنَ(الاعراف:۱۷۰) ’’اور جو کتاب الٰہی کو مضبوطی سے پکڑتے اور نماز قائم کرتے ہیں ہم ایسے مصلحین کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ ‘‘نبی اکرمﷺ نے بھی گمراہی سے بچنے کی جو تدبیر بتائی وہ یہ کہ: تَرَکتُ فِیکُم اَمرَینِ لَن تَضِلُّوا مَا تَمَسَّکتُم بِھِمَا کِتَابُ اللہ وَ سُنَّۃُرَسُولِہِ(موطا امام مالک:۲۶۱۸)’’ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم انہیں مضبوطی سے پکڑے رہوگے گمراہ نہ ہوگے، اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنّت۔‘‘ معلوم یہ ہوا کہ قرآن مجید اور سنّت رسول کا مطالعہ ایک مسلمان کے اپنے اسلام کے لیے بہت ضروری ہے‘‘۔

ایمان کی تازگی

دوسرا نکتہ یعنی دین اسلام کا مطالعہ ایمان کے لیے کیوں ضروری ہے؟ مولانانے اس کی بھی وضاحت فرمائی ہے۔ انہوں نے ایمان کے تعلق سے اس کے دو پہلو بتائے ہیں ۔

(۱) اگر کوئی شخص لَا اِلٰہ اِلّا اللہ مُحمَّدٌرَّسُولُ اللہ کا کلمہ پڑھتا ہے، تو وہ اسلام میں تو داخل مانا جائے گا، مگر اس کا محض یہ اعلان کر دینا ہی ایمانی اور اسلامی زندگی کے لیے کافی نہیں ہوگا ۔ اگر کوئی شخص عقیدہ توحید پر ایمان لاتے ہوئے لَا اِلٰہ الّا اللہ کہتا ہے اور الٰہ واحد کو سچے دل سے ماننے کا اظہار کرتا ہے۔ تو ضروری نہیں ہے کہ وہ الہٰ واحد کے پورے مفہوم کو یعنی توحیدکے تمام تقاضوں کو سمجھ رہا ہو، انہیں دل سے مان رہا ہو، اللہ کے حدود واختیارات کو اچھی طرح سمجھ گیا ہو اور توقع ہو کہ اب وہ اللہ کی ذات کے ساتھ جانے انجانے میں بھی کسی کو شریک نہیں کرے گا۔ تمام ایمانیات کے کچھ تقاضے ہیںاور ان کی تفصیلات ہیں۔ ان کوماننے اور سمجھنے کے لیے دین کے مآخذ کا مطالعہ کرنا بے حد ضروری ہے۔ توحید، رسالت اور آخرت پرایمان کو ہم محض اپنی عقل سے سمجھ بھی نہیں سکتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ علم و معرفت کے لیے اسلام کے سرچشموں کامطالعہ کرنابے حد ضروری ہے۔

(۲) دوسرا پہلو ایمان کی برقراری اور اس کی تجدید کا ہے۔ مولانا لکھتے ہیں: ’’ اس پہلو سے کتاب و سنّت کے مطالعے کی اہمیت و ضرورت ٹھیک اسی طرح کی ہوتی ہے جیسی کہ کھیتی کے لیے کھاد اور پانی کی ہوا کرتی ہے ۔ جس کھیتی کو کھاد نہ ملے اس کے پودے کم زور اور پیلے پڑجاتے ہیں اور اگر اسے پانی نہ ملے تو وہ سوکھتی چلی جاتی ہے۔ بعینہ یہی حال ایمان کا بھی ہوتا ہے۔ اگر ایمان کو اللہ کی کتاب، رسول خداکے ارشادات ، انبیا کے اسوے، صلحاء کی سیرت اور دین و شریعت کی شارح و ترجمان کتابوں کے مطالعے سے برابر زندگی کی حرارت نہ پہنچائی جاتی رہے تو وہ اپنی توانائی کھوتا چلا جاتا ہے اور پھر اس سے درست حرکت و عمل کی توقع باقی نہیں رہ جاتی۔ رسولﷺ کاارشادہے : جَدِّدُو اِیمانَکُم بِقَولِ لَاالٰہَ الّااللہ(مسند احمد:۸۷۱۰) ’’لا الٰہ الا اللہ کے ورد سے اپنے ایمان کو تازہ کرتے رہو‘‘۔ اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ اوّل کہ ایمان کی ترو تازگی ہمیشہ برقرار نہیں رہتی ، بلکہ اس پر غبار پڑتا رہتا ہے اور ایمان کی لو تیز و مدّھم ہوتی رہتی ہے۔ دوم یہ کہ اس غبار کو صاف کرنے کے لیے لاالٰہ الا اللہ کے کلمہ کو زبان اور دل سے دہراتے رہنا چاہیے۔ مولانا لکھتے ہیں: ’’چار لفظوںکا یہ مختصر سا جملہ دراصل پورے دین و شریعت کا مغز اور خلاصہ ہے، جس کے اندر ایمان، اسلام ، تقویٰ اور احسان کے سارے حقائق اور تقاضے سمٹے ہوئے ہیں۔ اسی مرکز نور کی کرنوں کا دور تک پھیلا ہواعکس درجہ بہ درجہ سیرت انبیاء، سیرت صحابہؓ، سیرت صلحا اور دینی کتابوں کی شکل میں نظر آتا ہے جو دین و شریعت کی شرح و تفسیر اور ایمان و اسلام کی تلقین و تفہیم کی خاطر لکھی گئی ہیں اور لکھی جاتی رہیں گی۔‘‘

ایک موقع پر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اِنَّہُ لَیُغانُ عَلیٰ قَلبِی وَ انِّی لَاستَغفِرُاللہ فِی الیَومِ مائۃ مرَّۃً( مسلم :۲۷۰۲)’’ حقیقت یہ ہے کہ میرے قلب پر بھی غبار سا آجایا کرتا ہے اور میں دن بھر میں سوبار استغفار کیا کرتا ہوں‘‘۔ دنیا کے سب سے بڑے صاحب ایمان و یقین خود اپنا حال یہ بیان کرتے ہیں۔تو عام مسلمانوں کا کیا حال ہو سکتا ہے۔خصوصاً ایسے حالات میں جب کہ ہمارے چاروں طرف فتنے ہی فتنے موجود ہیں ، جہاں ایمان کو بچانا ہی مشکل ہو رہا ہے۔ ایسی حالت میں ایمان کی شادابی برقرار رکھنے کے لیے قرآن و حدیث کا مطالعہ مسلسل کرتے رہنا ضروری ہے۔مولانا لکھتے ہیں: ’’ اس شخص کی بدقسمتی کی کوئی حد نہیں جو اس نسخہ شفا کی ضرورت سے اور اس کے استعمال سے بے پروا رہے۔ کیوںکہ یہ بے پروائی ایک طرح کی ایمانی خودکشی سے کم نہیں۔‘‘

تلاوت کا حق

اس کے بعد مولانا نے دین کے مآخذکا بالتریتب الگ الگ تذکرہ کیا ہے اوران کی اہمیت، افادیت اور استفادہ کے طریقۂ کار پر روشنی ڈالی ہے۔ پہلا درجہ مطالعۂ قرآن کا ہے، کیوں کہ حق اور ہدایت کا اصل سرچشمہ وہی ہے، دوسری تمام چیزیں اسی علم و معرفت کے سورج کی روشنی میں چمکتے ہوئے چاند ستارے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہر مسلمان اللہ کی کتاب کے مطالعہ کو سب سے زیادہ اہمیت دے اور اسے اپنی زندگی کی اوّلین ضرورت سمجھے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مِن اَہلِ الکِتَابِ اُمَّۃٌ قَائمَۃٌیَتلُونَ اٰیاتِ اللہ(آل عمران ۱۱۳) ’’اہل کتاب میں سے ایک گروہ ہے جو حق پر قائم ہے یہ گروہ آیات الٰہی کی تلاوت کرتا ہے۔‘‘ دوسری جگہ اس تلاوت کی خصوصیت بتائی گئی کہ: ’’الّذِینَ اٰتَینٰھُمُ الکِتابَ یَتلُونَہُ حَقَّ تِلاوَتِہِ (البقرۃ:۱۲۱) ’’جنھیں ہم نے اپنی کتاب دی ہے وہ اس کی اس طرح تلاوت کرتے رہتے ہیں جس طرح اس کی تلاوت کرنے کا حق ہے۔‘‘ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ قرآن کی تلاوت کی کئی شکلیں ہو سکتی ہیں، مگر جوشکل اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے وہ وہی ہے جو کسی کتاب الٰہی کے نازل کیے جانے کے مدّعا کی تکمیل کرتی ہے اور جسے حقِّ تلاوت کہا جاسکتا ہے۔

آدابِ تلاوت

مولانانے قرآن کی تلاوت کا حق ادا کرنے کے لیے چار باتوں کا اہتمام کرنا ضروری بتایا ہے۔

(۱) پہلی بات یہ کہ قرآن کا مطالعہ شروع کرنے سے پہلے قرآن کا مرتبہ و مقام ہمارے ذہن میں رہنا چاہیے۔ اس بات کا ہمیں پورا احساس ہونا چاہیے کہ یہ کتاب، زندگی کے محض چند شعبوں کی رہنمائی نہیں کرتی، بلکہ پوری انسانی زندگی کے لیے مکمل ہدایت نامہ ہے۔ مولانا لکھتے ہیں: ’’اس میں انسان کی زندگی کے ایک ایک گوشے کے لیے ہدایت کا سامان موجود ہے۔ اس لیے دنیا یا آخرت کا جو بھی مسئلہ ہو اس سلسلے میں سب سے پہلے اسی کتاب کی طرف رجوع کیا جانا چاہیے اور وہ جو اصولی یا تفصیلی رہنمائی دے اسی کی روشنی میں عمل کی راہ متعین کی جانی چاہیے۔‘‘

(۲) دوسری بات یہ کہ قرآن کو ہدایت کی سچّی طلب کے ساتھ پڑھا جائے۔ نیت خالص ہو اور ارادہ بھی سچا ہو کہ یہ کتاب ھدیً للناس اور ھدیً للمتقین ہے۔ مکمل سچائی کی دریافت کہیں اور سے ممکن نہیں ہے یہ بات ہمارے ذہن نشین ہونا چاہیے۔ مولانا لکھتے ہیں: ’’امت مسلمہ کا ایک امت سے درجنوں گروہوں اور فرقوں میں بنٹ جانابنیادی طورپر اسی شرط کا حق ادا نہ کیے جاسکنے کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر پیدا ہونے والے اختلافات کے حل کی برحق اور کامیاب تدبیر یہ بتائی تھی کہ انھیں اللہ اور رسول (یعنی کتاب و سنت) کے سامنے پیش کیا جائے۔

(۳) تیسری بات یہ کہ آیات قرآنی کے معانی کے اندر اترنے کی پوری پوری کوشش کی جائے۔ یہود تورات پر ایمان رکھنے کے باوجواس کے معانی اور اس کی ہدایت سے بے خبر رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گدھے کی طرح بتایا ہے جس پر کتابیں لدی ہوں، اس کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا ہے کہ ان کتابوں میں دراصل ہے کیا؟ مولانا لکھتے ہیں: ’’ اندازہ کیجیے۔ کتنا سخت ہے یہودیوں پر اللہ کا یہ تبصرہ! مگر اس تبصرے سے واقف ہونے کے باوجود قرآن مجید کے ساتھ اہل قرآن کی خاصی بڑی تعداد کا معاملہ کچھ زیادہ مختلف نہیں رہ گیا ہے۔ اس کے الفاظ کو صرف برکت اور ثواب کی خاطر پڑھ لیا جانا تلاوت کا حق ادا کر دینے کے لیے کافی سمجھ لیا گیا ہے۔‘‘

(۴) چوتھی بات یہ اہتمام کرنا کہ قرآن مجید کودل کی حضوری کے ساتھ پڑھا جائے۔ کیوں کہ قرآن اپنے اندر پہاڑوں کو ہلا دینے اور ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کی تاثیر رکھتا ہے تو یہ انسانی دل کو متاثر کیوں نہیں کرسکتا ؟ جب کہ یہ نبی اکرمﷺ کے دل پر ہی اتارا گیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قرآن پڑھنے کے لیے وہ دل ہونا چاہیے جس کے اندراس کے نور سے منور ہونے کی صلاحیت موجود ہو۔

مولانا لکھتے ہیں: ’’ قرآن حکیم نے سچے مومنوں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا ’’جب ان کو آیات الٰہی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔‘‘ ’’ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان رکھتے ہیں جن کا حال یہ ہے کہ جب انہیں ان آیتوں کے ذریعہ یاد دہانی کرائی جاتی ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں۔‘‘ ’’سچے مومن تووہی ہوتے ہیںجن کا حال یہ ہے کہ جب اللہ کا ذکر ہوتاہے تو ان کے دل دہل اٹھتے ہیں۔‘‘ ’’ جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو پیغمبر پر نازل ہوا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق کی معرفت سے ان کی آنکھیں اشک ریز ہوجاتی ہیں۔‘‘ اہل ایمان کا یہ سارا حال یقینا صرف اس بات کا نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کا کلام اس توجہ اور انابت کے ساتھ سنتے یا پڑھتے ہیںجس توجہ سے سننے یا پڑھنے کا حق ہے۔‘‘

احادیث کا مطالعہ

قرآن کے مطالعہ کے بعد احادیث کے مطالعہ کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جاسکتا ہے کہ : فَاِنَّ خَیْرَالحَدِیْثِ کِتابُ اللہِ وَ خَیْرَ الھَدْیِ ھَدْیُ مُحَمَّدِ (مسلم:۸۶۷) ’’بیشک بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ عمل محمدﷺ کا طریقہ عمل ہے۔ ‘‘ دوسری حدیث یہ ہے کہ:فَعَلَیْکُم بِسُنَّتِی وَ سُنَّۃِالخُلفَائِ الرَّاشِدِینَ الْمَھْدِیِّنَ تَمَسَّکُوابِھَا وَعَضُّواعَلَیْھَابِا لنَّواجِذِ( ترمذی: ۲۶۷۶)’’ پس میری سنت کو اور میرے ہدایت یاب خلفائے راشدین کی سنت کو اپنے اوپر لازم ٹہرائو، اسے مضبوطی سے تھامے رہنا اور دانتوں سے پکڑے رہنا۔ ‘‘ احادیث کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے مولانا نے دو حقیقتیں بیان کی ہیں:اوّل یہ کہ قرآن مجید کے اکثر و بیش تر علوم کی شرح و تفصیل ہمیں احادیث میں ہی ملتی ہے۔ بعض علوم قرآن کے بلیغ اسلوب کے اندر چھپے ہوئے ہیں، جو احادیث کے ذریعہ روشنی میں آگئے ہیں۔ دوم یہ کہ قرآن مجید کے اندر شریعت کے تفصیلی احکام کم ہیں۔ ان کی تفصیلات ہمیں احادیث سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔

احادیث کے مطالعے کے سلسلے میں مولانا نے دو غلطیوں سے بچنے کی بھی تلقین فرمائی ہے: ایک غلطی یہ ہے کہ غلط اور غیر مستند روایتوں کو کسی مصلحت سے قبول کر لیا جائے ۔ یہ غلطی ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔ مطالعہ کے لیے صحیح حدیثوں کا انتخاب کرنا چاہیے، کیوں کہ غیر مستند روایتوں کے پڑھنے پڑھانے سے فائدہ بہت کم اور نقصانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اس سے دین کا مزاج ہی غیر متوازن ہو جاتا ہے۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ احادیث کا انتخاب اپنی پسند سے کیا جائے۔ مولانا لکھتے ہیں: ’’جس طرح یہ بات صحیح نہیں ہے کہ درس و مطالعہ کے لیے قرآن مجید کا اپنی پسند کے مطابق انتخاب کر لیا جائے، اسی طرح احادیث کا بھی من مانا انتخاب صحیح نہیں ہو سکتا ۔ جس طرح پورا قرآن، کلام الٰہی ہے، اسی طرح ساری احادیث بھی کلام رسول اور عمل رسول ہیں۔‘‘ اگر ہم احادیث کا انتخاب اپنی پسند اور ذوق کے مطابق کرتے ہیں تو اس سے ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہمارا فکر و عمل بعض احادیث سے حاصل کردہ علم تک ہی محدود ہو کر رہ جاتا ہے اور دوسرا نقصا ن یہ ہے کہ احادیث کے بعض حصے پڑھنے پڑھانے سے رہ جاتے ہیں جو ترکِ سنت کے جرم میں داخل ہو سکتا ہے‘‘۔

مطالعہ سیرت

قرآن اور احادیث کے مطالعہ کے بعد سیرت و اسوۂ رسولﷺکامطالعہ بھی ضروری ہے۔ اس کی اہمیت اس اعتبار سے بڑھ جاتی ہے کہ جو اسلام ہمیں قرآن اور احادیث کے اندر الفاظ کی صورت میں نظر آتا ہے۔ وہ رسولﷺ کی سیرت اور ان کے اسوہ کے اندر عملی شکل میں مجسم ہوکر ہماری آنکھوں کو دکھائی دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے کہ : قُل اِن کُنتُم تُحِبُّونَ اللہ فَا تَّبِعُونِی یُحبِبکُمُ اللہ (آل عمران: ۳۱)’’ اے پیغمبر! ان سے کہہ دو کہ اگر تم اللہ کو فی الواقع محبوب رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا۔‘‘ مولانا لکھتے ہیں : ’’اللہ کی محبوبیت یعنی بندگی کا بلند ترین مقام بندے کو رسول خداﷺ کی اتباع ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ اتباع، اطاعت کے عام معنوں سے ایک بلند شے ہے، کیوں کہ اطاعت دینی احکام و ہدایت کی تعمیل تک محدود رہتی ہے، جب کہ اتباع رسول ﷺ اس سے آگے بڑھ کر رسول خدا کے ایک ایک نقش قدم کی پیروی تک وسیع ہوجاتا ہے۔‘‘

سیرت صحابہ

اس کے بعد صحابہ کرامؓ کی سیرت اور ان کے اسوہ کا مطالعہ بھی اہمیت کا حامل ہے ، کیوں کہ نبی اکرمﷺ نے اپنی سنت کے ساتھ خلفاء راشدین کی سنت کو بھی دانتوں سے پکڑے رہنے کی تلقین و تاکید فرمائی ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ : ’’میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں ، تم (دین کے معاملے میں ) ان میں سے جس کسی کی بھی پیروی کروگے ہدایت ہی پر رہوگے۔‘‘ مولانا لکھتے ہیں : ’’ سیرت و اسوہ رسول ﷺ اور سیرت صحابہؓ کا مطالعہ دو مختلف پہلووں سے ضروری ہے۔ سیرت رسولﷺ کا مطالعہ اس پہلو سے ضروری ہے کہ اس سے اسلام کی وہ بلند ترین چوٹی معلوم ہوجاتی ہےجس تک اگر چہ کوئی بھی دوسرا شخص پہنچ نہیں سکتا، مگر پھر بھی اپنی ممکنہ بلندی تک پہنچنے کے لیے اس پر اس کی نگاہوں کا جما رہنا ضروری ہے۔ اور سیرتِ صحابہؓ کا مطالعہ اس پہلو سے ضروری ہے کہ اس سے متعین طور پر اس بلندی کی نشان دہی ہو جاتی ہے جہاں تک پہنچنا امکان کے دائرے کے اندر ہے اور جس کے لیے لازماً کوشش کی جانی چاہیے، فرد کی سطح پر بھی اور معاشرے کی سطح پر بھی۔ ‘‘

آخر میں مولانا نے عام صالح لٹریچر اور تحریکی لٹریچر کے مطالعہ کو بھی ضرور ی قرار دیا ہے، کیوں کہ یہ کتابیں دراصل اپنے اپنے طور پر اصل دینی سرچشموں یعنی قرآن اور سنّت ہی کے معانی و مطالب کے اجزاء کی ترجمانی یا شرح ہیں۔ اس مطالعے کے سلسلے میں مولانا نے دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری قرار دیا ہے،ایک تو یہ کہ کسی بڑے سے بڑے عالم کی تصنیف کے مطالعہ کو قرآن و سنت کے مطالعہ کاقائم مقام ہر گز نہ سمجھا جائے۔ دوسری بات یہ کہ ان کتابوں کے مطالعہ کے ساتھ اپنی استطاعت کی حد تک قرآن اور حدیث کا مطالعہ ضرور کر تے رہنا چاہیے۔

جنوری 2019

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau