ضمنی معاشی عمل، خاندان اور اسلام

ڈاکٹر وقار انور

دنیوی زندگی میں انسانوں کی مادی ضروریات کی تکمیل کے لیے کی جانے والی سعی سے متعلق علم کو معاشیات کہا جاتاہے۔ مادی ضرورتیں اشیاو خدمات پر مشتمل ہوتی ہیں جن کی پیداوار اور تقسیم کو معاشی عمل کہتے ہیں۔ دین اسلام کے حوالے سے اس کا ایک مفہوم اس دین پر ایمان رکھنے والوں کے لیے یہ ہے کہ معاشیات اور معاشی عمل مطلوب ہیں، بہ شرط یہ کہ وہ آخرت کے لیے مضر نہ ہوں۔ ایسے تمام کاموں سے احتراز لازم ہے جو افراد کی آخرت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

جو لوگ دین اسلام سے وابستہ نہیں ہیں ان کے حوالے سے اسلامی معاشیات اور معاشی عمل معروفات کے اثبات اور منکرات کی نفی کو محیط ہے۔ خصوصاًاسلامی تعلیمات پر ایمان رکھنےوالوں پر لازم ہے کہ ربا اور میسر جیسے محرمات کے منکر ہونے کو ثابت کریں اور عملی طور پر معیشت کی عمارت ان کے بغیر تعمیر کریں۔

معاشیات میں گفتگو کا ایک موضوع یہ بھی ہے کہ کن افراد اور اداروں کے فیصلوں اور رویوں سے معاشی عمل متاثر ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں انھیں معیشت کا فاعل کہہ سکتے ہیں جن کے افعال سے معیشت کی تشکیل ہوتی ہے۔ انھیں معاشیات کا ایجنٹ (economic agent)کہا جاتا ہے۔ جدید طرز بیان میں ہم انھیں معاشیات کے متعلقات(stakeholders) سے بھی موسوم کر سکتے ہیں۔

معاشیات کے متعلقات

مروجہ معاشیات کی کتابوں میں ان ایجنٹوں/متعلقات کی چار قسموں کا تذکرہ ہوتا ہے:

افراد/خاندان

فرمیں(firms)

مرکزی بینک

حکومت

افراد/خاندان کی بنیادی حیثیت صارف (consumes)کی ہے جب کہ فرمیں پیداوار کا عمل انجام دینے والے ادارے ہیں۔ ان دونوں کے مجموعی عمل سے بازار وجود میں آتا ہے۔ اس بازار پر حکومت اور بینک کے فیصلے اثر اندازہوتے ہیں۔ ان سب کے مجموعی اعمال سے معیشت کے خد و خال تشکیل پاتے ہیں۔

پروفیسر نجات اللہ صدیقی نے اسلامی معاشیات کے مستقبل کے امکانات پراظہار خیال کرتے ہوئے فرد/خاندان اور بازار کے موضوع پر اہم باتیں لکھی ہیں اور یہ بتایا ہے کہ معاشیات کے اسلامی مفکرین سے ماضی میں اس معاملہ میں ایک چوک ہوئی تھی۔ اسلامی معاشیات کے بہتر مستقبل کے لیے افراد/خاندان اور بازار کے درمیان جو رشتہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہونا چاہیے اسے استوار کیا جانا چاہیے اور مروجہ معاشیات نے اس معاملہ میں جو غلط رویہ اختیار کر رکھا ہے اسے صحیح رخ پرلایاجانا چاہیے۔ اس حوالے سے موصوف کی رائےکو ان کی متعلقہ تحریروں کےدرج ذیل اقتباسات سے سمجھا جا سکتا ہے:

’’فرد ایک خاندان میں پیدا ہوتا ہے۔اشیا اور انسانوں کے ساتھ اس کے تعلقات خاندانی ماحول میں پختگی کی طرف بڑھتے اور پھلتے پھولتے ہیں۔ان رشتوں میں تبادلے سے قبل تحفے اور باہمی تعاون کا اسے تجربہ ہوتا ہے۔ یہ معاشیات کے تصورِ بازار کی صفت ہے۔ [تبادلے کے تحت اشیاکی فراہمی بازار میں ہوتی ہے جب کہ خاندان میں افراد تبادلہ سے قطع نظر صرف باہمی تعلقات کے سبب ایک دوسرے کو سہولیات فراہم کرتے ہیں۔] پچھلی تین صدیوں کے دوران مغربی ماحول میں جس طرح ترقی ہوئی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ صرف زر مبادلہ اور مارکیٹ پر توجہ مرکوز ہو گئی۔  اس طرح معاشیات نے انسانیت گنوا دی۔یہی سبب ہے کہ ایک خاندان میں پرورش پانے والے اقدار بازار سے غائب نظر آتے ہیں۔ ‘‘[1] ‏

’’انسان ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوتا ہے جہاں مارکیٹ میں آنے سے پہلے ماں اور خاندان کے دیگر افراد کی محبت بھری دیکھ بھال سے مستفید ہوتا ہے۔ اور اس باہمی استفادہ میں کسی کو تبادلے کے طور پر لین دین کا خیال نہیں آتا ہے۔خاندان میں محبت کے ساتھ تحفتاً اشیااور خدمات کی ترسیل کا تجربہ انسانوں کو ہوتا ہے۔ اس کے برعکس روایتی معاشیات نے بازار کو طلب و رسد کی بنیادوں پر زر اور تبادلہ کی آماجگاہ بنا دیا ہے۔ [خاندان تعاون کی جگہ ہے جب کہ بازار مسابقت کی جگہ بن گیا ہے۔] روایتی معاشیات نے غلط طریقے سے مسابقت کو معاشیات کے مرکز کے طور پر پیش کیا، جس نے تعاون کو نامطلوب، نا قابل عمل اور غیر متعلق بنا دیا۔ ‘‘ [2]

’’فرد بازار میں اپنی اشیا کو فروخت کرتا ہے اور ضرورت کی چیزیں خریدتا ہے۔ اس کے لیے اپنے مفاد پر توجہ دینا درست ہے بشرطیکہ ایسا وہ دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر کرے۔ بازار طلب اور رسد کو متوازن کرنے کا کام کرتے ہیں۔ زندگی سب کے فائدے کے لیے چلتی رہتی ہے… جو شخص بازار میں خریدو فروخت کرتا ہے اس کی پرورش و پرداخت خاندان میں ہوتی ہے۔ معاشی امور کے فیصلے کرنے کے قابل ہونے سے بہت پہلے، اسے ایک ماں کی مشفقانہ دیکھ بھال اور دیگر افرادِ خانہ سے محبت ملتی ہے اور تحائف کے لین دین کا تجربہ ہوتا ہے۔ باہمی تعاون، تبادلے اور معاہدوں سے پہلے ، یہ مخلصانہ لین دین معاشی تعلقات کی ٹھوس بنیاد کا کام دیتے ہیں۔ ‘‘ [3]

پروفیسر نجات اللہ صدیقی نے اس افسوس کا بھی اظہار کیا ہے کہ اس پہلو کی طرف خود ان کی توجہ نہیں گئی اور مروجہ معاشیات کی رو میں بہہ کر اسلامی معاشیات کے دیگر ماہرین بھی اس جا نب متوجہ نہیں ہوئے، حالاں کہ علوم اسلامی میں تدبیر منزل کے عنوان سے قابل قدر مواد موجود ہے۔

’’میں چالیس سال پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو یہ خیال آتا ہے کہ کاش میں نے فرد اور خاندان (کے موضوع) پر زیادہ توجہ دی ہوتی۔۔۔۔ میرے خیال میں ہم اسلامی ماہرین معاشیات وقت کے مروجہ افکار کے دھوکے میں آگئے۔ ہم نے تدبیر منزل کے عنوان سے موجود بیش قیمت اسلامی لٹریجر سے غفلت برتی جس میں متبادل معاشیات کی تشکیل کے لیے وافر موجود ہے۔ اس میں قلت کا احساس، خودغرضی، مسابقت و افراط پسندی جیسے تصورات کو جو موجودہ انسانی بحران کے لیے ذمہ دار ہیں، درکنار کرتے ہوئے متبادل نظام کی داغ بیل ڈالنے کی صلاحیت موجود ہے۔‘‘[4]

اس پہلو پر غور کرنے کا ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ فرد اور خاندان کو ہاؤس ہولڈ(household) کے نام سے یکجا بیان کرنے اور ان دونوں کو ایک ہی معاشی ایجنٹ کے طور پر بیان کرنے کے باوجود مروجہ معیشت کا عمومی رجحان اور عملی رویہ خاندان کو درمیان سے نکال دینے اور ہر فرد کو معیشت کی علیحدہ اکائی سمجھنے کا ہے۔ہمیں فرد اور خاندان کے درمیان کے معاشی رشتہ کو بھی زیر غور لانا چاہیے۔

معاشی عمل وسائل حیات کی فراہمی، ان کے تصرفات اور ان سے متعلق لوازمات کو محیط ہے۔ جہاں تک وسائل حیات کے صَرف (consumption) کامعاملہ ہے اس میں کوئی استثنا نہیں ہے کیوں کہ یہ ہر ذی حیات کی حاجت ہے اس لیے وہ اس میں اپنی ضرورت اور مواقع کے لحاظ سے حصہ لیتا ہے، البتہ ان وسائل کی فراہمی نہ ہر فرد کے لیے ممکن ہے اور نہ اس کے لیے لازم ہے۔ مروجہ معاشیات میں ان محروم افراد اور ان پر مشتمل خاندانوں کے لیے ویلفیر اسٹیٹ(فلاحی ریاست) کے تصور کے تحت خصوصی نظم پر توجہ دی گئی ہے تاکہ کوئی بھی انسان بنیادی انسانی ضرورتوں سے محروم نہ رہ جائے۔

ہم اس موقع پر عوامی بہبود کے مروجہ طریقے کی، جو اصولی طور ایک فلاحی ریاست اختیار کرتی ہے کام یابی اور ناکامی پر گفتگو نہیں کر رہے ہیں۔ اس موقع پر ہماری گفتگو کا تناظر یہ ہے کہ اشیا و خدمات کی پیداوار اور فراہمی پر مشتمل معاشی عمل کسی معیشت کی تمام ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ معیشت کی ضروریات کی تکمیل کے لیے ضمنی معاشی عمل کی بھی حاجت ہے۔

ضمنی معاشی عمل (Ancillary Economic Activity)

فلاح و رفاہ (welfare and charity) کے ذریعے سماجی بہبود (social benefit) کے کام گرچہ راست معاشی عمل نہیں ہیں لیکن ان کے اثرات اس پر اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ انھیں غیر معاشی عمل کے بجائے ضمنی معاشی عمل کے زمرے میں رکھنا مناسب ہے۔ فلاح و رفاہ کے ذریعے جو آمدنی ضرورت مند افراد کے ہاتھوں تک پہنچتی ہے وہ اسے خرچ کرتے ہیں جس سے طلب بڑھتی اور اس کے سبب رسد یعنی پیداواری عمل تیز ہو جاتا ہے جس سے آمدنی کی دائرہ نما گردش (circular flow of income)اور تکوین ثروت (capital formation)کو تقویت ملتی ہے۔

راست معاشی عمل اور ضمنی معاشی عمل میں فرق کرنا ضروری ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ راست معاشی عمل کے ذریعے ہی ایک معیشت اس لائق بنتی ہے کہ ضمنی معاشی عمل کے لیے مطلوب وسائل فراہم کر سکے۔ اس سے اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ضمنی معاشی عمل کو ہی اصل معاشیات سمجھ لیا جاتا اور پوری توجہ ضمنی اعمال کے گرد گردش کرنے لگتی ہے۔ زکوۃ، صدقات اوراوقاف کو اصل اسلامی معاشیات سمجھنے کی غلطی اسی فرق کو نہیں سمجھنے کے سبب ہوتی ہے۔

خاندان اور ضمنی معاشی عمل کے سلسلے میں اسلامی رویہ

متذکره ضمنی معاشی عمل کے ذریعے سماج/معیشت کے محروم افراد کی حاجتیں پوری کی جاتی ہیں۔ ایسے افراد عموما کسی ایسے خاندان کا جز ہوتے ہیں جہاں مہیا وسائل حیات ناکافی ہوتے ہیں۔ اس کے سبب ایسے محروم خاندانوں کی مجموعی حاجات کو پورا کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔اس معاملہ میں اسلامی رویہ یہ ہے کہ ہر خاندان اپنے تمام افراد کی حاجات کا خیال رکھے۔ خاندان کی مجموعی آمدنی ناکافی ہو تبھی باہر کی دنیا سے مدد لینے کی ضرورت ہونی چاہیے۔ ویسےاستثنائی طور پر ایسے ضرورت مند افراد بھی ہوتے ہیں جن کو کسی خاندان کا سہارامیسر نہیں ہوتا۔ ایسے افراد کی ضرورتیں اسی ضمنی معاشی عمل سے پوری کی جانی ضروری ہیں۔ نفل صدقات کے علاوہ مذکورہ بالا ضمنی معاشی عمل سے حاصل وسائل اس خاص ضرورت کی تکمیل کے لیے ہیں۔

خاندان اور معاشیات سے متعلق اسلامی رویہ

’خاندان اور معیشت‘ کے موضوع پر ہم اپنی گفتگو کا بنیادی مواد اس عنوان پر مولانا سید جلال الدین عمری کی کتا ب ’’اسلام کا عائلی قانون‘‘ کے باب پنجم سے اخذ کریں گے۔[5]

’’خاندان کا ادارہ مرد و عورت کے اشتراک و تعاون سے چلتا ہے۔ اس کی صورت اسلام نے یہ بتائی ہے کہ خاندان کے داخلی نظم ونسق کے لیے عورت کو فارغ کیا جائے اور اس کی معاشی ذمہ داری مرد اٹھائے۔‘‘ [6]

خاندان کی معاشی طور پر کفالت کی ذمہ داری مرد کو دیے جانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاش کے حصول کے دروازے صرف مرد کےلئے کھلے ہیں۔

’’اس میں شک نہیں ہے کہ عورت کا اصل دائرہ کار اس کا گھر اور خاندان ہی ہے اور معاشی مصروفیت سے اسی لیے اسےآزاد رکھا گیا ہے کہ وہ خاندان کی بقا اور ترقی پر اپنا وقت صرف کر سکے، لیکن بعض اوقات اسے ایسا بیان کیا جاتا ہے کہ وہ کوئی دوسرا کام کرنے کا حق ہی نہیں رکھتی ہے یا یہ کہ اس پر معاشی جد و جہد کے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ یہ ایک غلط خیال ہے۔۔۔عورت کی آمدنی کے بعض متعین ذرائع ہیں۔ اسے شوہر کی طرف سے مہرملتا ہے۔ وہ زیورات کی مالک ہوتی ہے۔ اسی طرح اسلام نے وراثت میں اس کا حق رکھا ہے۔ اس حق کے تحت امکا ن ہے کہ اسے نقد، زمین، دکان، مکان یا اور کوئی چیز مل جائے۔ وہ ان سب کو کسی نفع بخش کاروبار میں لگاسکتی ہے اور اپنی معیشت کو بہتر بنا سکتی ہے۔‘‘ [7]

اس طرح عورت حدود شریعت کی پابندی کرتے ہوئے، جس میں شوہر کی اجازت، اختلاط مرد و زن سے احتراز اور عفت و عصمت کی حفاظت شامل ہے،خاندان میں اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے ملازمت و دیگر معاشی سرگرمی اختیارکر سکتی ہے۔اس طرح کسی خاتون کی مالی حالت ا پنے شوہر سے بہتر ہوسکتی ہے۔ اس کے باوجود اس عورت کا نان نفقہ اس کے شوہر کی ذمہ داری ہے جس کا اداکرنا شوہر پر واجب ہے۔ بیوی کے صاحب حیثیت ہونے کے سبب شوہر کی یہ ذمہ داری ساقط نہیں ہوگی۔ البتہ اگر بیوی اپنی مرضی سے خاندان کی ضرورتوں پر خرچ کرتی ہے تو یہ اس کی طرف سے احسان ہے جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوہرے اجر کا مژدہ سنایا ہے۔

لهما أجْرانِ: أجْرُ القَرابَةِ، وأَجْرُ الصَّدَقَةِ

اس کے لیے دو اجر ہیں،ایک قرابت کا اور دوسرا صدقے کا۔[8]

عورتوں کی طرح خاندان میں نابالغ لڑکے اور لڑکیاں بھی اپنی ذاتی حیثیت میں قانون وراثت کے سبب صاحب مال ہو سکتی ہیں۔ اس بارے میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ان یتیم بچوں اور بچیوں کو ان کے بالغ ہو جانے اورمال کو سنبھالنے کی صلاحیت پیدا ہونے کے بعد ان کے حوالے کر دیا جائے۔ اس دوران امین کی حیثیث سے ان کے مال کی حفاظت کی جائے۔ قرآن کریم میں اس معاملہ کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے احکامات سورہ المائدہ کی آیات 2، 5 اور 6 میں بیان ہوئے ہیں۔

خاندان اور اس کے معاش کے سلسلے میں درج بالا اسلامی احکامات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ خاندان کے قوام(guardian)کی حیثیت سے مردوں کو اس کی معاشی حاجات کو پورا کرنے کا پابند بنایا گیاہے۔ عورتوں کے مال پر ان کی مرضی کے بغیر تصرف کرنے کا اختیار مردوں کو حاصل نہیں ہے۔ مال جس کی ملکیت ہے اسی کی مرضی کا اعتبار ہے۔

یہ صورت حال دل چسپ ہے کہ خاندان کے اخراجات کے لیے وسائل اکٹھا کرنے کی ذمہ داری صرف بالغ مرد کی ہے جب کہ خاندان کے دیگر افراد وسائل رکھنے کے باوجود ان اخراجات پر خرچ کرنے کے لیے پابند نہیں ہیں۔دراصل یہ بچت کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ مروجہ معیشت کا ایک بہت سنگین مسئلہ یہ ہے کہ اس میں بچت نہیں ہوتی ہے جس کے سبب تکوین ثروت (capital formation)کے لیے قرض کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اسلامی معاشیات میں بچت کی جڑیں گہری (ingrained)ہیں۔ معاشیات میں بچت کے کردار کو سمجھنے کے لیے معیشت میں تکوین ثروت پر ایک نگاہ ڈال دینا مفید ہے۔ دراصل تکوین ثروت کے عمل کی ابتدا بچت سے ہوتی ہے۔ مگر مروجہ معیشت کی حقیقی صورت حال یہ ہے کہ اس میں بچت کم ہو گئی اور اس کی جگہ قرض نےلے لی ہے۔ بچت کے کردار کی وضاحت کے لیے مروجہ معاشیات کی ایک ٹیکسٹ بک کا درج ذیل اقتباس مفید ہے۔

’’جدیدمعیشت میں آمدنی‘ رقم کی شکل میں حاصل کی جاتی ہے اور بچت بھی رقم کی شکل میں کی جاتی ہے۔ سرمایہ اس وقت وجود میں آتا ہے جب رقم کی صورت میں کی گئی بچت کو نئے سرمائے‘ مثلاً مشینری اور عمارتوں میں‘ تبدیل کیا جاتا ہے۔

’’کسی ملک میں سرمائے کی تشکیل کے عمل میں تین معروف مراحل ہوتے ہیں، یعنی۔

(الف) اخراجات سے زیادہ آمدنی کے ذریعے بچت کی تخلیق؛

(ب) بچتوں کو آمادہ کر کے پیداواری ذرائع میں لانا ؛ اور

(ج) آمادہ پذیر بچت کو نئے اثاثوں میں تبدیل کرنا۔‘‘ [9]

اسلام نے بچت کے ایک مخصوص حصہ پر زکوۃ کا حکم لگایا ہے۔ اس کے علاوہ نفل صدقات کی ترغیب دلائی ہے۔ بچت کے ہی نتیجہ میں اوقاف وجود میں آتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ضمنی معاشیات کا دارومدار اس بچت پر ہے جو حقیقی معاشی عمل کے نتیجہ میں وجود میں آتی ہے۔

حوالہ جات

  1. Siddiqi, Nejatullah, Essays on Islamic Economics and Finance, The Board of Islamic Publications, New Delhi, p2
  2. ibid, P17
  3. ibid, P70
  4. ibid, P17,
  5. عمری،سید جلال الدین،اسلام کا عائلی نظام، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، ص 116-136
  6. ایضا، ص117
  7. ایضا، ص118-119
  8. ایضا، ص 120
  9. Mitra, Jitendra Kumar (2010), Economics- Micro and Macro, The World Press Private Limited, Kolkata, P 48

جنوری 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau