افرادِ تحریک سے کچھ گزارشات

سید جلال الدین عمری

(۲۷ تا۲۹ مئی ۲۰۲۲ء مرکز جماعت اسلامی ہند میں ذمہ داران حلقہ جات کا اجتماع ہوا۔ اس کے اختتامی اجلاس میں مولانا سید جلال الدین عمری صاحب سے نصیحتوں کی گزارش کی گئی۔ مولانا محترم نے بڑی دل سوزی کے ساتھ حسب ذیل پیغام دیا۔ یہ پیغام اسلامی تحریک کے تمام افراد کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ ادارہ)

حمد و ثنا کے بعد۔

امرائے حلقہ جات کے سہ روزہ پروگرام میں ریاستی اور ملکی حالات یقیناً زیربحث آئے ہوں گے۔جماعت کی داخلی صورت حال پر بھی غور ہواہوگا۔اس سے آئندہ کے لیے نقشہ کار بنانے میں مدد ملے گی۔ ان سب امور سے امید ہے آپ حضرات نے بھرپور فائدہ اٹھایاہوگا۔

اس وقت بعض باتیں عرض کرنی ہیں۔ ہوسکتاہے یہ باتیں کسی نہ کسی عنوان سے سامنے آئی ہوں، لیکن ان کی یاددہانی مفید ہی ہوگی۔اس کے لیے زادِ راہ کا عنوان دیا گیا ہے۔ جو مناسب نہیں ہے۔ اس پروگرام کے آخر میں امیر جماعت کا خطاب ہوگا۔ وہ ہم سب کے لیے زادِ راہ ہوگا۔

ادھر پوری میقات میں حالات بڑے نازک رہے ہیں۔ کورونا کی وبامیں بہت سے اعزا واقارب اور رفقا ہم سے جدا ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے۔

موجودہ سخت حالات میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ مہلت حیات دی ہے۔ اس پر ہم اس کا شکر اداکرتے ہیں۔اس کا ایک پہلویہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے دین کی مزید خدمت لیناچاہتاہے۔اس کے لیے اس نے یہ موقع فراہم کیا ہے۔ اس سے ہماری ذمہ داری اور جواب دہی میں اضافہ ہوتاہے۔ترمذی کی حدیث ہے:

لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ یوْمَ القِیامَةِ حَتَّى یسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِیمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ عِلْمِهِ فِیمَ فَعَلَ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَینَ اكْتَسَبَهُ وَفِیمَ أَنْفَقَهُ، وَعَنْ جِسْمِهِ فِیمَ أَبْلَاهُ

(قیامت کے دن بندے کے قدم اپنی جگہ سے اس وقت تک ہلیں گے نہیں، جب تک اس سے سوال نہ کیا جائے، اس کی عمر کے بارے میں کہاں ختم کی، اس کے علم کے بارے میں اس پر کتنا عمل کیا، اس کے مال کے بارے میں کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور اس کے جسم کے بارے میں کہاں گھلایا۔)

آدمی کو ایک ایک دن کا بلکہ ایک ایک لمحۂ حیات کا حساب دینا ہوگا۔ غور کیجیے کتنا سخت حساب ہوگا۔دعاہے اللہ تعالیٰ ہم سے آسان حساب لے۔ اللھم حاسبنا حسابایسیراً۔

رجوع الی اللہ

مشکل اور نازک حالات میں ممکنہ تدابیر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوناچاہیے۔اس کے لیے صبر اور نماز کا حکم دیاگیاہے۔

وَاسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِیرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِینَ الَّذِینَ یظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلَاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَیهِ رَاجِعُونَ۔(البقرة: ۴۵۔۴۶)

(صبر اور نماز سے مدد لو، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے۔ مگر ان فرماں بردار بندوں کے لیے مشکل نہیں ہے جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انھیں اپنے رب سے ملنا اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔)

صبر استقامت اور پامردی کا نام ہے۔اللہ تعالیٰ کے دین کی راہ میں جو مشکلات اور آزمائشیں آتی ہیں ان پر ثابت قدم رہنا صبر ہے۔جب کوئی قوم صبرکا ثبوت دیتی ہے تواللہ تعالیٰ کی نصرت اسے حاصل ہوتی ہے۔یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَعِیْنُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَۃِ إِنَّ اللّہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ ۔ (البقرة: ۱۵۳)

(اے لوگو جو ایمان لائے ہو، صبر اور نماز سے مدد لو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔)

جس قوم کو اللہ کی نصرت حاصل ہو اسے شکست نہیں دی جاسکتی۔إِن یَنصُرْکُمُ اللّہُ فَلاَ غَالِبَ لَکُمْ وَإِن یَخْذُلْکُمْ فَمَن ذَا الَّذِیْ یَنصُرُکُم مِّن بَعْدِہِ وَعَلَی اللّہِ فَلْیَتَوَکِّلِ الْمُؤْمِنُونَ۔(آل عمران: ۱۶۰)

(اللہ تمھاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں، اور وہ تمھیں چھوڑ دے، تو اس کے بعد کون ہے جو تمھاری مدد کرسکتا ہو؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسا رکھنا چاہیے)

زندگی کے نازک مراحل میں صبر کا ثبوت دینا آسان نہیں ہے۔لیکن یہاں نماز کے متعلق فرمایاگیا: وَإِنَّهَا لَكَبِیرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِینَ الَّذِینَ یظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلَاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَیهِ رَاجِعُونَ۔(البقرة: ۴۵۔۴۶)

(بے شک وہ سخت ہے،مگر ان فرماں بردار بندوں کے لیے مشکل نہیں ہے جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انھیں اپنے رب سے ملنا اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔)

یہاں رسمی نماز کا نہیں،بلکہ حقیقی نماز کا ذکر ہے۔زندگی میں اسے شامل کرنا دشوار ہے۔البتہ یہ ان کے لیے آسان ہے جن کے اندر خشوع وخضوع پایاجاتاہے۔ جن کا ظاہر وباطن اللہ کے سامنے جھک جاتاہے۔ جن کا ایمان ہے کہ یہ ناپائے دار زندگی،حیات ابدی کی طرف لے جارہی ہے۔جس میں ہمیں اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہونا اور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔

اس میں شک نہیں،کارزار حیات میں صبرکا ثبوت دینا آسان نہیں ہے۔لیکن یہاں نماز کو مشکل عمل کہاگیاہے اور کہاگیاکہ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے ہی اس پر عمل کرسکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ نماز ان خوبیوں کا سرچشمہ ہے جن سے قومیں ذلت و خواری سے نکل کر بام عروج پر پہنچتی ہیں۔ امت کی دینی ودنیوی فلاح بھی نماز ہی سے وابستہ ہے۔صبر کا سرچشمہ بھی نماز ہی ہے۔اللہ کے نیک بندوں کا یہ وصف خاص بیان ہواہے کہ وہ نماز کا اہتمام کرتے اورہمیشہ اس کی پابندی کرتے ہیں۔ الَّذِینَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ (المعارج: ۲۳) (جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں)  آگے فرمایا:

وَالَّذِینَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ یحَافِظُونَ۔(المعارج: ۳۴) (اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں)

نماز کوحدیث میں مومن کی معراج کہاگیاہے۔جو اسے آسمان کی رفعت عطاکرتی ہے۔نماز ذکر ہے۔ اس سے انسان اللہ تعالیٰ سے قریب ہوتاہے۔ ہم نے نماز کو وہ مقام نہیں دیا جس کی وہ مستحق ہے۔ورنہ ہماری زندگی کا رخ بدل جاتا۔وہ ربّانی زندگی ہوتی اوراس سے ترقی کی راہیں بھی کھل جاتیں۔

جائزہ واحتساب

قرآن وحدیث میں بعض اوقات عمومی انداز میں جائزہ اور احتساب کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔اس سے آدمی یہ سمجھنے لگتاہے کہ وہ اس کا مخاطب نہیں ہے۔اس سے اصلاح کی راہیں بندہوجاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یاأَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ۔(الحشر: ۱۸)

(اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو)

اس میں ان تمام لوگوں سے خطاب ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔ معصیت سے دامن کش رہیں اور اطاعت کی زندگی گزاریں۔اس طرح کے عمومی خطاب کو آدمی یہ سمجھتاہے کہ یہ دوسروں کے لیے ہے۔ اس سے وہ مطلوبہ فائدہ نہیں اٹھاپاتا۔حالاں کہ یہ ایک آئینہ ہے جس میں ہر فرد مومن اپنی تصویر دیکھ سکتااور خامیوں کی اصلاح کرسکتاہے۔ آیت میں ان دونوں پہلوؤں کو جمع کردیاگیا ہے۔چناں چہ اس کے فوراً بعد کہاگیا: وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِیرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ۔ الحشر: ۱۸ (اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اُس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقیناً تمھارے اُن سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو)

اس میں اسی تقویٰ کی تاکید ہے جو عمومی خطاب میں تھی۔

اس میں اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ آدمی خود ہی اپنا احتساب کرے اور اپنی اصلاح کرے۔ یہ اصلاح کا ابتدائی اور اہم قدم ہے۔ اس کے بعد ہی اصلاح وتربیت کے دوسرے ذرائع آتے ہیں۔

دعوت وتبلیغ

اللہ تعالیٰ کے رسول اپنی قوموں کی ہدایت کے لیے بے چین اور مضطرب رہتے ہیں۔ان کو اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ لوگ اللہ کی ہدایت قبول کریں اور اس کے عذاب سے محفوظ رہیں۔رسول اکرم ﷺ اس فکر میں جس طرح گھلے جاتے تھے اس کے بارے میں قرآن نے کہا: فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى آثَارِهِمْ إِنْ لَمْ یؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِیثِ أَسَفًا۔(الکہف: ۶)

(شاید آپ ان پر افسوس میں اپنی جان دے دیں گے اگروہ اس کتابِ ہدایت کو نہ مانیں۔)

ایک دوسرے موقع پر فرمایا: لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا یكُونُوا مُؤْمِنِینَ (الشعراء: ۲)

(شاید آپ اپنی جان دے دیں گے اگر وہ ایمان نہ لائیں۔)

بخاری ومسلم کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری مثال اس شخص کی سی ہے کہ وہ دیکھ رہاہے کہ آگ جلائی گئی ہے اور لوگ پروانوں کی طرح اس میں گرے چلے جارہے ہیں ا ور میں ایک ایک کی کمرپکڑ کر اسے بچانے کی کوشش کررہاہوں۔لیکن میری کوشش کے باوجودوہ نذرآتش ہورہے ہیں۔

دعوت کے میدان میں کسی قدر علمی اور فکری پہلو سے ہماری کوشش توہوتی ہے لیکن اس میں وہ سوز، دردمندی اور تڑپ نہیں ہوتی جو رسول اللہ ﷺ کے اندر پائی جاتی تھی۔یہ بھی آپ کا اسوہ ہے۔ اسے ہمیں اختیار کرنا چاہیے۔اس سے ہماری سعی وجہد میں انبیائی رنگ آئے گا اور کام یابی کی راہیں کھلیں گی۔

اخلاص پورے دین کی جان ہے۔سورہ زمر میں اس کی طرف خصوصیت سے توجہ دلائی گئی ہے۔اس کا آغاز ہی اس طرح ہوتاہے:

تَنْزِیلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِیزِ الْحَكِیمِ. إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَیكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّینَ. أَلَا لِلَّهِ الدِّینُ الْخَالِصُ۔(ا۔۳)

ان آیات میں کہاگیاہے کہ یہ کتاب خدائے عزیز وحکیم کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ وہ عزیز اور صاحب اقتدار ہے۔اس لیے یہ کتاب غالب ہوکر رہے گی اور اس کا مقصد نزول پوراہوکر رہے گا۔وہ حکیم ہے۔ یہ کتاب دلائل سے آراستہ ہے۔ اے محمدﷺ یہ کتاب جوسراسرحق وصداقت ہے آپ پر نازل کی گئی ہے۔اس کا تقاضاہے کہ اللہ کی عبادت اخلاص کے ساتھ کی جائے۔

عبادت اللہ کے سامنے سرجھکانے اور اس کے احکام کی بے چون وچرا اطاعت کرنے کانام ہے۔دین کے لفظ میں پرستش اور اطاعت دونوں مفہوم پائے جاتے ہیں۔ دونوں ہی میں اخلاص لازم ہے۔

اس میں اس حقیقت کا بھی بیان ہے کہ عبادت واطاعت کا عمل اللہ کی کتاب کی راہ نمائی میں ہوناچاہیے۔ورنہ اس کا رخ غلط ہوگا۔

ریااور نام ونموداخلاص کے منافی ہے۔ جہاں ریا اور نام ونمود یا دنیا کو خوش کرنے کا جذبہ ہووہاں اخلاص ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد بڑے سے بڑے کارنامے کا بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی وزن باقی نہیں رہتا۔ مشہور حدیث ہے کہ قیامت میں سب سے پہلے تین آدمی حساب کتاب کے لیے پیش ہوں گے۔ ان میں ایک قاری(قرآن وحدیث کا عالم) دوسرا شہید اور تیسرا سخی ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے ان پر جو انعامات کیے ان کو وہ یاد دلائے گا اور دریافت کرے گا تم نے کیا کیا؟ وہ اپنی خدمات بیان کریں گے۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا یہ سب ریاکاری اور لوگوں سے داد طلبی تھی۔ ان کے اعمال رد کردیے جائیں گے اور وہ جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔اللہ اس کیفیت سے محفوظ رکھے۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِیهِ مَعِی غَیرِی، تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ۔ (صحیح مسلم)

(میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں، جس نے کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی کو شریک کیا تومیں اسے بھی اور اس کے شرک کو بھی چھوڑ دیتاہوں۔)

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

فَمَنْ كَانَ یرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْیعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا یشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا (الکہف: ۱۱۰)

مطلب یہ کہ جس شخص کو اس بات کا یقین ہو کہ اسے اللہ سے ملاقات کرنی ہے اس کا عمل صالح ہو اور شرک اور ریاکاری سے پاک ہو۔

حضرت عمر ؓ دعافرماتے تھے:

اللَّهُمَّ اجْعَلْ عَمَلِی صَالِحًا، وَاجْعَلْهُ لَكَ خَالِصًا، وَلَا تَجْعَلْ لِأَحَدٍ فِیهِ شَیئًا (الزهد لأحمد بن حنبل)

اے اللہ میرے ہر عمل کو عمل صالح بنادے اور اسے اپنی رضاکے لیے خالص کردے اور اس میں کسی دوسرے کا کوئی حصہ نہ ہو۔ اس دعاکو بار بار پڑھنے اور اپنے اعمال میں اخلاص پیداکرنے کی ضرورت ہے۔

ستمبر 2022

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau