تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

سید سعادت اللہ حسینی

اس میں شک نہیں کہ2014کے انتخابات کے نتائج نے ہندستانی مسلمانوں کے جذبات اور ان کی اجتماعی نفسیات پر گہرے اور پائیدار اثرات مرتب کئے ہیں۔ برسوں سے وہ ایک سیاسی قوت کی مزاحمت کرتے رہے۔ ان کی قیادت نے اور ان کے اہل دانش نے اس سیاسی قوت کو ملک کے لئے اور خود مسلمانوں کے لئے ایک بڑا خطرہ باور کرایا۔ سانحہ بابری مسجد سے لے کر، گجرات کے فسادات تک، مسلمانان ِ ہند کے سب سے زیادہ تکلیف دہ واقعات کا اس سیاسی قوت سے راست تعلق رہا۔اور ریزرویشن سے لے کر، پرسنل لا تک،مسلمانوں کے حساس ترین مسائل پر اس قوت کا موقف ان کے لئے پریشان کن رہا۔ اب یہی قوت، اس ملک کی حکمران ہے اور یہ حکمرانی اُسے جمہوری تائید کے ساتھ ملی ہے۔

چنانچہ یہ واقعہ مسلمانوں کے لئے کوئی معمولی واقعہ نہیںہے۔ ان کی اجتماعی نفسیات اور ان کے رویوں پر اس صورت حال کا گہرا اثر پڑنا بالکل فطری ہے۔سوال یہ ہے کہ اس اثر کی نوعیت کیا ہو؟ ان کے اجتماعی رویوں میں آنے والی تبدیلی کی شکل کیا ہو؟ اس تحریرکا بنیادی مقصد اسی سوال کا جواب تلاش کرنا ہے۔

اندازہ ہے کہ یہ حکومت دو رجحانات کے درمیان مستقل رسہ کشی کی شکار رہے گی۔ ایک نسبتاً اعتدال پسند رجحان، جو چاہے گا کہ بی جے پی ایک درمیانی دائیں بازو کی پارٹی Centre-Rightکی شکل میں ابھرے اور ہندستان کی سیاست میں اپنے لئے مستقل مقام پیدا کرے۔اس رجحان کے حاملین کا استدلال ہے کہ حکمراں جماعت کو اصل تائید ملک کی ترقی اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے ملی ہے۔ یہ رجحان تجارت ،ملک کی ترقی اور معیشت کے استحکام پر توجہ مرکوز کرانے کی کوشش کرے گا۔ سرمایہ دارانہ طرز فکر کے مطابق معاشی اصلاحات کے عمل کو تیز ترکرنے کی کوشش کرے گا اور چاہے گا کہ حکومت، اقلیت دشمن امیج (شبیہ) نہ بنائے اور متنازعہ امور کو نہ چھیڑے۔ بلکہ اقلیتوں کی پسماندگی بھی دور کرے۔

دوسرے رجحان کی قیادت آر ایس ایس کرے گی جس کا کہنا ہے کہ حکومت کو ملنے والا یہ ووٹ تین امور کے لئے ہے ۔ ایک ملک کی ترقی ، دوسرے ملک کو طاقتور بنانا اور تیسرے تہذیبی قوم پرستی کے ا یجنڈے کو نافذ کرنا۔چنانچہ یہ فکر، نظام تعلیم، میڈیا، تحقیق جیسے محاذوں پر اپنے ایجنڈے کے نفاذ کے لئے مواقع چاہے گی۔ مراکز قوت میں اپنے عناصر کے نفوذ کی خواہاں ہوگی۔ دفاعی اور خارجہ پالیسیوں پر اثر انداز ہونا چاہے گی۔ یکساں سول کوڈکے نفاذ، رام جنم بھومی کی تعمیر ،اور دفعہ۳۷۰کےخاتمےکے اپنے دیرینہ ایجنڈہ پر اصرار کرے گی۔اس کے علاوہ اس کی یہ بھی کوشش ہوگی کہ حکومت بتدریج ان تمام کاموں کو چھوڑدے جنہیں وہ مسلمانوںکی نازبرداری Muslim Appeasement کہتی ہے۔

ان میں سے کونسا رجحان حکومت کو زیادہ متاثر کرے گا، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ وزیر اعظم کے سلسلہ میں کہا جاتا ہے کہ اب وہ زیادہ پہلے رجحان کی طرف مائل ہیں اور ترقی ڈیولپمنٹ کے علم بردار کی حیثیت سے اپنی شبیہ امیج بنانا چاہتے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہو تب بھی اس کے لئے انہیں اپنی کابینہ کے کئی سرکردہ افراد اور اپنی سرپرست تنظیم کے رویّے کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ اس میں وہ کتنے کامیاب ہوتے ہیں، اس کا اندازہ کرنا ممکن نہیں ہے۔لیکن بہر صورت مسلمانوں کو نئے چیلنجیز درپیش ہوں گے۔ انہیں پہلے سے زیادہ باخبراور بیدار مغز رہنا ہوگا اور زیادہ دانش مندانہ طریقوں سے اور زیادہ مستعدی کے ساتھ حالات و واقعات کا نوٹس لینا ہوگا۔

اندازہ یہ ہے کہ کم از کم تین عوامل ایسے ہوسکتے ہیں جو برسر اقتدار طبقہ میں موجود انتہا پسندانہ عناصر کو تقویت دے سکتے ہیں اور حکومت کو بھی انتہا پسندانہ اقدامات کی طرف مائل کرسکتے ہیں۔ ان میں پہلا عامل عالمی حالات میں ایسی ناگہانی تبدیلی ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عالمی لہر پیدا کرے یا اسے مزید تقویت دے۔دوسرا ممکنہ عامل، حکومت کی معیشت کے محاذ پر شدید ناکامی اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی عوامی مایوسی ہے اور تیسرا ممکنہ عامل، خود مسلمانوں کی جانب سے ایسے جذباتی اقدامات یا رد عمل کا صدورہے ، جو اسلام مخالف عناصرکو نئی توانائی دے سکتا ہے۔ان صورتوں میں اس بات کا بھی امکان ہے کہ مسلمانوں اور بعض سیکولر عناصر کے اندیشے درست ثابت ہوں اور حکومت ظالمانہ اور غیر منصفانہ اقدامات کرے یا سماجی سطح پر کشیدگی، کشمکش یا فساد اورزیادتی کی صورت پیدا ہو۔ اندیشہ ہے کہ ان حالات میں مسلمان خود کو اور زیادہ ناکام اور بے بس محسوس کریںگے۔ ان میں پہلے دو عوامل ہمارے کنٹرول میں نہیںہیں۔ البتّہ آخری عامل مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہے۔ آنے والے وقت میں ہمارا طرز عمل ایسا ہونا چاہیے کہ اس کے نتیجہ میں شرپسندقوتوں کو تقویت نہ ملے اور اعتدال پسند عناصر کا اثر ورسوخ بڑھے۔

تاریخی حقائق اور اجتماعی نفسیات کامطالعہ ہے کہ ناکامیاں اور قومی سطح کے صدمے، تین طرح کے رد عمل قوموں میں پیدا کرتے ہیں۔

ایک رد عمل خوف، شکست خوردگی، پژمردگی، خود سپردگی اور مکمل پسپائی جیسی کیفیات سے عبارت ہوتا ہے۔یہ ردعمل ’’مصلحت‘‘ کے خوش نما نام کے ساتھ نمودار ہوتا ہے۔ آن واحد میں ، اچھے اور برے کے معیارات بدل جاتے ہیں۔ ناخوب ، اچانک خوب ہوجاتا ہے۔جن اصو لوں کے لئے لوگوں نے لمبی لڑائیاں لڑی تھیں، اب خود اپنے ہاتھوں انہیں دفن کرنے کے لئے وہ تیار ہوجاتے ہیں۔طاقت کے طئے کردہ پیمانوں میں وہ خود کو ڈھال لیتے ہیں۔اور مکمل خود سپردگی کے ذریعہ وہ اپنے لئے جائے پناہ تلاش کرلیتے ہیں۔اسی ردعمل نے اسلامی تاریخ میں مرجیٔہ کے فرقہ کو جنم دیا اور جدید مغربی سامراج کے دور میں نیچریوں کا طبقہ اور فکر بھی اسی قسم کے ردعمل کی پیداوار ہے۔ نئی حکومت کی تشکیل کے بعد اس رد عمل کے واضح اشارے جگہ جگہ مسلم ملت میں نظر آنے لگے ہیں۔

دوسرا ردعمل ، انتہا پسندانہ فکراور رویئے، اندھی جذباتیت، ناعاقبت اندیشانہ مزاحمت اور کبھی کبھی تشدد و جارحیت جیسے رویوں سے عبارت ہوتا ہے اور عزیمت اورجراء ت و ہمت کے دلفریب ناموں کا لباس اختیار کرتا ہے۔جذبات کی شدت، حقائق اور واقعات پرپردے ڈال دیتی ہے۔ عصبیت آنکھوں کو اندھا کردیتی ہے۔اختلاف کرنے والوں کی کوئی بات اچھی نہیں لگتی۔ ان کی اچھی باتوں میں بھی سازش کی بو آتی ہے۔مزاحمت اور اختلاف کاجنون ،عملی حقائق سے مکمل غافل کردیتا ہے۔اسلامی تاریخ میں خوارج کا فرقہ، اس قسم کے رد عمل کی پیداوار تھا۔اسی رد عمل کے خلاف مولانا مودودی نے سقوطِ حیدرآباد سے قبل قاسم رضوی کو متنبہ کیا تھا۔ اسی ردعمل نے آج دنیا بھر میں انسانوں کی ایک بڑی آبادی کے اندر اسلام کے تئیں توحش پیدا کیا ہے۔

یہ بظاہر دو مختلف اور متضاد رویئے ہیں لیکن دونوں شدید مایوسی، اور منفی سوچ کی پیداوار ہیں اور دونوں ناکامی کے راستے ہیں۔

تیسرا رد عمل وہ ہے جسے جدید علم نفسیات میں Resilience (ارتجاعیت) کہا جاتا ہے۔ ارتجاعیت یہ ہے کہ آپ کو دبایا جائے تو آپ اسپرنگ کی طرح اور زیادہ قوت کے ساتھ اپنے کھوئے ہوئے مقام کو دوبارہ حاصل کرلیں۔

ارتجاعی رویہ Resilienceمیں صدمہ یا ناپسندیدہ واقعہ، قوموں کی پوشیدہ تعمیری توانائیوں کو زندہ کرتا ہے۔ اپنے اصولوں سے گہری وابستگی اور ایمان و استقامت کے ساتھ، جب مثبت طرز فکر، رجائیت، حوصلہ مندی، جذبات پر قابو، جیسی خصوصیات کا ملن ہوتا ہے تو ارتجاعی رویہ جنم لیتا ہے۔اس کے نتیجہ میں ہم اپنی ناکامیوں سے سبق لیتے ہیں،ناکامی ہماری قوتوں کو جلادیتی ہے۔ رفتار بڑھاتی ہے۔کمزوریاں دور کرتی ہے۔ نئے راستے کھولتی ہے اور کامیابی کی ان دیکھی اور نامعلوم راہیں، ناکامی کے دروازے کے ذریعہ وا ہوتی ہیں۔

جذباتی دھچکے زندہ قوموں کو چونکا کر بیدار کرتے ہیں۔ان کے لئے فیڈ بصیرت کا سامان بیک فراہم کرتے ہیں، جس کی روشنی میں وہ اپنا احتساب کرتی ہیں۔وضع موجود Statusquo سے نکال کر انہیں چیلنجیز کی ایک نئی دنیامیں لے کر آتے ہیں۔ نئے چیلنجیز ان کی فکری و عملی توانائیوں کو نئی زندگی عطا کرتے ہیں۔ ان کے اندر نئی تازہ دم اورحرکیاتی قیادتیں پروان چڑھاتے ہیں۔ اور عمل کی نئی راہیں سجھاتے ہیں۔ اس طرح ناکامی ایک موقع Opportunity بن جاتی ہے۔

چنانچہ یورش تاتار نے صنم خانوں سے کعبہ کو پاسباں فراہم کیٔے۔ طوفان مغرب نے مسلماں کو مسلماں کردیا۔ہولوکاسٹ کے بعد یہودی دنیا پر چھاگئے۔ ہیروشیما کے کھنڈروں میں صنعتی سپر پاور نے جنم لیا۔ اسلامی تاریخ کی بدترین غلامی کے سائے میںنشاۃ ثانیہ کی وسیع ترین تحریک نے سر ابھارا۔

ہندستانی مسلمانوں اور ان کی قیادت کے لئے اصل چیلنج اب یہی ہے کہ وہ اس بدلی ہوئی صورت حال میں ارتجاعیتResilience کا مظاہرہ کریں اور اسے امت کی تعمیری صلاحیتوں کو نئی زندگی بخشنے کے لئے استعمال کریں۔

اس وقت ہندستانی مسلمانوں کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ان کی سماجی قوت Social Powerبڑھے۔یہ سماجی قوت ہی ہوتی ہے جس کے ذریعہ اقلیتیں اثرا نداز ہوتی ہیں۔ ان کی دفاعی صلاحیت بڑھتی ہے۔ اور ناخوشگوار حالات میں بھی وہ اپنے تشخص کے ساتھ زندہ رہ پاتی ہیں۔ تعلیم، معاشی قوت وغیرہ کے ساتھ خود اعتمادی، اپنی تہذیبی بنیادوں سے گہری وابستگی ، اتفاق و اتحاد، اخلاقی برتری اور سب سے بڑھ کر نافعیت یعنی پورے معاشرہ کو نفع پہنچانے کی صلاحیت، سماجی قوت کے اہم عناصر ہیں۔مطلوب ارتجاعی رویہ کا ایک اہم ہدف یہ ہونا چاہیے کہ مسلمانوں کی سماجی قوت بڑھے۔ یہ کام کیسے ہو؟ اس پر غور وفکر ہونا چاہیے۔ زیر نظر مضمون میں اسی حوالہ سے ایک دس نکاتی پروگرام تجویز کیا جارہا ہے۔

۱۔ مثبت طرز فکر

ارتجاعی رویہ کی پہلی ضرورت مثبت طرز فکراور اِس امر کا ادراک ہے کہ مسائل و مشکلات اور چیلنجیز زندگی کا حصہ ہیں۔ مسلمان تو اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ خدا کی مرضی کے بغیر دنیا کی کوئی طاقت ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتی۔

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا ھُوَ مَوْلَانَا وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ

’’کہہ دو کہ ہمیں ہرگز کوئی بھلائی یا برائی نہیں پہنچتی مگر وہ جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دی ہے۔ وہی ہمارا مولی ہے اور اسی پر مومنوں کو توکل کرنا چاہیے۔‘‘

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔

واعلم ان الامۃلواجتمعت علی ان ینفعوک بشیء لم ینفعوک الا بشیء قد کتبہ اللہ لک ولواجتمعواعلی ان یضروک بشیء لم یضروک الا بشیء قد کتبہ اللہ علیک

’’جان لو کہ اگر پوری قوم اس بات پر جمع ہوجائے کہ تمہیں کوئی فائدہ پہنچائے تو وہ نہیں پہنچاسکتے سوائے اس کے جو اللہ نے لکھ دیا ہے اور اگر ساری قوم مل کر تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو وہ نہیں پہنچاسکتے سوائے اس کے جو اللہ نے لکھ دیا ہے۔‘‘

مسلمانوں کے لیے آزمائش کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ ان کی ساری تاریخ آزمائشوں سے بھری پڑی ہے۔ اسلامی تاریخ نے وہ منظر بھی دیکھا ہے جب دجلہ وفرات خون سے سرخ ہوچکے تھے۔ 1857 کی جنگ آزادی میںملک کے گلی کوچوں میں جگہ جگہ درختوں پر مسلمانوں کی نعشیں ٹنگی ہوئی تھیں۔آزمائشوں سے ہمیں اللہ کی پناہ مانگنی ہے لیکن ان کے امکان کو نظر انداز نہیں کرنا ہے۔ یہ آزمائشیں پھر آسکتی ہیں۔ اللہ کے نبیؐ نے قیامت کے قریب ایسے دور کی پیشنگوئی فرمائی ہے کہ جب مسلمانوں پر ایسے مصائب ٹوٹ پڑیں گے کہ ایک ایک دن ہزار برس کے برابر محسوس ہوگا۔ پہلے تو ہمیں یہ امید رکھنی چاہیے کہ ان شاء اللہ حکومت ناعاقبت اندیشانہ اقدامات کے ذریعہ اپنے پیروں پر کلہاڑی نہیںمارے گی۔ لیکن اگر خدانخواستہ حکومت کی جانب سے راست، یا نئی سیاسی صورت حال میں سماجی سطح پر ہم کو کسی آزمائش کا سامنا کرنا پڑے تو ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔

بی جے پی صرف ایک سیاسی پارٹی نہیں ہے بلکہ ایک نظریاتی تحریک ہے۔ یہ تحریک ایک عرصہ سے اس ملک میں سرگرم ہے اور ۲۰۱۴ کے نتائج سے بہت پہلے اس نے طاقت کے بہت سے مراکز پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔ آزادی سے قبل اور آزادی کے فوری بعد خود کانگریس کا ایک بڑا طبقہ اس نظریہ کی سیاسی نمائندگی کرتا تھا۔ یہی طبقہ اس ملک کی تقسیم کا اصلاً ذمہ دار ہے۔ اسی نے فسادات کو ہندستان کی تاریخ کا مستقل حصہ بنایا۔ اسی نے منظم طریقہ سے اردو زبان کی جڑیں کاٹیں۔جگہ جگہ مسجد مندر کے مصنوعی تنازعے پیدا کئے۔پولس اور انتظامیہ میں تعصب کا زہر پھیلایا۔وقتی اور جذباتی مسائل میں مسلمانوں کو الجھایا۔ ان کی قیادتوں کو کمزور کیا۔ملک کی ڈیپ اسٹیٹ (زیریں ریاست) اصلاً بہت پہلے سے اسی طبقہ کے کنٹرول میں ہے۔ اس لئے محض بی جے پی کے جیت جانے سے کسی بہت بڑے انقلاب کا امکان نہیں ہے۔ انقلاب کا عمل آزادی کے بعد ہی سے جاری ہے اور مسلمان اس کا سامنا کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

۲۔ جذباتیت سے گریز

مسلمانوں کو بالعموم اور ہندستانی مسلمانوں کو بالخصوص اپنی حالیہ تاریخ خاصا نقصان بے محل جذباتیت نے پہنچایا ہے۔جذباتیت صرف تشدد کا نام نہیں ہے۔ جذبات کے طوفان میں بغیر سوچے سمجھے کئے جانے والے غیردانش مندانہ پر امن اقدامات بھی سخت مہلک ہوسکتے ہیں۔جذباتیت کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ حکمت و بصیرت کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ یہ شدت جذبات ہی ہے جو بعض پر انتہا پسندی کا بخار طاری کردیتی ہے اور بعض پر مایوسی و قنوطیت کا مالیخولیا۔اسی شدت کی وجہ سے ہم اپنے پسندیدہ لوگوںکی خرابیوں کو نہیں دیکھ پاتے اور ناپسندیدہ لوگوں کی خوبیوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اسی شدت کی وجہ سے ہم دنیا اور اس کی ہر چیز کو سیاہ اور سفید کے انتہائی خانوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ اسی شدت کے نتیجہ میں ہم یہاں کے اکثریتی طبقہ کے ذہن اور جذبات کو نہیں سمجھ پاتے اور نہ اس سے بامعنی گفتگو کمیونکیٹ کرپاتے ہیں۔ یہ جذباتیت ہی ہے کہ ناگوار حالات و واقعات پر ہمارا ردعمل فوری اور غیض و غضب کی قوت کے ساتھ ہوتا ہے لیکن اصلاح احوال کی سنجیدہ، دھیمی اور طویل المیعاد کوششوں کے لئے ہم خود کو تیار نہیں کرپاتے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ قیادت کا عمل بھی زیادہ تر انہی عوامی جذبات کی ترجمانی تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔االًا ماشاء اللہ۔ قیادت نام ہے تبدیلی کے حقیقت پسندانہ خواب وژن کا۔ صحیح قیادت وہ ہے جو موجود کو بدلنے کا خواب بھی دکھائے اور حوصلہ بھی پیدا کرے۔ بدقسمتی سے ملت اسلامیہ ہند کی سرگرمیوں میں عوامی جذبات آگے نظرآتے ہیں اور قیادت پیچھے۔ بلکہ صحافت و دانشوری کا کام بھی زیادہ تر صرف عوامی جذبات کی ترجمانی تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔

اب پہلے سے زیادہ یہ ضروری ہوگیا ہے کہ مسلمان حقیقت پسند بنیں۔ ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ سوچنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ بے محل جذباتیت سے بچیں۔ اْن عینکوں کو اتار پھینکیں جن سے وہ احوال و واقعات کو دیکھنے کے عادی رہے ہیں۔ بلکہ حقیقت پسندی سے کام لیں۔

قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ امت کے اندر سنجیدہ مزاج پیدا کرے۔ عوام کو جذبات کے ریلے میں بہنے نہ دے۔ خود کو عوام کے بے لگام جذبات کے تابع نہ کرے بلکہ عوام کی تربیت کرے اور ان کے اندر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ سوچنے اور کام کرنے کی صلاحیت بیدار کرے۔ اس کے لئے ضرورت ہوتو سخت فیصلے بھی کرے۔

غیرمعتدل بیانات، اشتعال انگیز تقریروں ، لاحاصل احتجاجی مہمات اور نمائشی مزاحمتوں کے ذریعہ ملت میں ، معمولی سطح کے لوگ آسانی سے ہیرو بن جاتے ہیں۔ ہیرو اور قائد بن جانے کے اس سطحی عمل (شارٹ کٹ) کی امت کی جانب سے حوصلہ شکنی ہونی چاہیے اور قیادت کی جانب سے بھی۔ اندیشہ ہے کہ نئے حالات میں، اس طرح کے ناپختہ قائدین ملت کو نقصان پہنچائیں گے۔ کوشش کرنی چاہیے کہ امت کے اندر شعور بیدا ر ہو اور وہ ا س طرح کے نادان دوستوں کی بے حکمتی کاشکار نہ ہونے پائے۔

۳۔ اپنا چارج خود لیں(خود کفیل بنیں)

سماجی نفسیات کی بحثوں میں کنٹرول کے اندرونی منبع Internal Locus of Control کوارتجاعیت کا اہم وصف سمجھاگیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنا چارج خود لیں۔ ہم یہ مان لیں کہ ہماری ساری کمزوری صرف ہماری اپنی وجہ سے ہے۔ہم تعلیم میں پیچھے ہیں، ہماری معیشت کمزور ہے، جیلوں میں زیادہ ہمارے لوگ ہیں، سیاست میں ہمارا وزن نہیں ہے، میڈیا میں ہمارے موقف کی نمائندگی نہیں ہوتی تو ان سب کے اسباب حکومت کی پالیسیوں،دوسروں کی عصبیتوں، فلاں فلاں کی سازشوں وغیرہ دیکھنے کی بجائے ہم اپنے اندر تلاش کریں۔ ہم یہ مان لیں کہ ان سب کے لئے سب سے زیادہ ہم خود، ہماری قیادت، ہمارے خواصElites، ہماری تنظیمیں اور ہمارا معاشرہ ذمہ دار ہے۔

اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِم

’اللہ تعالی کسی قوم کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلے۔‘

نئے سیاسی حالات کا ایک مثبت پہلو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ان سے ان شاء اللہ مسلمان ان نقلی بیساکھیوں کو اتار پھینکیں گے جنہوں نے انہیں مصنوعی طور پر معذور بنا رکھا تھا۔ سیکولر سیاسی جماعتوں پر انحصار، اپنے مسائل کے حل کے لئے حکومتوں سے توقعات،گداگری، مطالبات و احتجاجات کی سیاست نے ہماری سماجی قوت کو بتدریج کمزور کیا ہے۔ بے شک اس ملک کے شہری کی حیثیت سے یہاں کے وسائل میں ہمارا حق ہے اور ہمیں اپنا حق حاصل کرنا چاہیے۔ لیکن حق حاصل کرنے کی اس کوشش کےدوران ہمیں اپنی اجتماعی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہوجانا چاہیے اور نہ اِس عمل کو ہماری کمزوری کا سبب بننا چاہیے۔

جس دن ہم اپنے مسائل کے لئے خود کو ذمہ دار سمجھیں گے اور ان کے حل کا پورا چارج خود لیں گے، وہ ترقی اور کامیابی کی شاہراہ پر ہمارا پہلا قدم ہوگا۔اپنی کسی ناکامی کے لئے دوسروں کو ذمہ دار قرار دینے کا رویہ دراصل راہ فرار ہے۔ جو فرد یا قوم اس راہ فرار کی عادی ہوجاتی ہے وہ کبھی کامیابی کا سرا نہیں پاسکتی۔ ایک کامیاب فرد، اپنی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتا ہے۔ اس کے اسباب، بیرون سے زیادہ اپنے اندرون میں تلاش کرتا ہے۔ بیرونی احوال اس کے کنٹرول میں نہیں ہوتے۔ اس لئے انہیں وہ خدا کے سپرد کردیتا ہے البتہ اندرونی احوال پر اس کا کنٹرول ہوتا ہے۔ وہ ان کی اصلاح کرتا ہے۔ زیادہ قوت اور زیادہ دانشمندی کے ساتھ پھر کوشش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ کامیاب ہوجاتا ہے۔

جبکہ ایک ناکام فرد ، اپنی ناکامی کا سارا بوجھ دوسروں پر ڈال کر مطمئن ہوجاتا ہے۔ ناکامی کے بعد، لاحاصل ماتم اور احتجاج کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ یہی معاملہ قوموں کا بھی ہوتا ہے۔ ہندستانی مسلمانوں کی حالیہ تاریخ میں اس ماتمی اور احتجاجی رویہ کی بہت سی مثالیں مل جائیں گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملت اسلامیہ ہند کے اس مزاج کی اصلاح کی مہم چلے۔ ہماری توانائیوں اور قوتوں کا بڑا حصہ رد عمل پر مبنی امورReactive Issues کی بجائے اقدامی امور Proactive Issuesپر صَرف ہو۔

۴۔ اختلاف کے باوجود اتحاد

اختلاف کے باوجود مل جل کر کام کرنے اور ترجیحات کی ترتیبHierarchyکے مطابق اشتراک و اتفاق کی ترتیب کا مزاج اور صلاحیت پیدا کریں۔ ہمارے ملک میں ہر سیاسی جماعت میں مفادات اور خیالات کے مختلف دھارے موجود ہیں۔ اس کے باوجود ایک وسیع تر مقصد یا مفاد کے لئے وہ ایک ہوجاتے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں کچھ اور زیادہ وسیع تر مقاصد کے لئے وفاق بناتی ہیں۔ بسااوقات یہ علاقائی وفاق کسی قومی وفاق کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس طرح اختلافات کے باوجود وہ مقاصد کی ترجیحی ترتیب سے مرتکز Convergeہوتے جاتے ہیں۔ یہی کیفیت بین الاقوامی سطح پر ہے جہاں علاقائی وفاق ہیں۔ علاقائی وفاق ، کسی اور وسیع تر وفاق کا حصہ ہیں۔ مفادات کی بنیاد پر وفاق موجودہیں۔

ملت اسلامیہ ہند میں یہ عمل ابھی ناقص ہے۔ ہمارے بعض وفاق موجود ہیں لیکن بڑی حد تک بے اثر ہیں۔ہمارے یہاں اتفاق کے لئے مکمل اتفاق ضروری سمجھاجاتاہے۔ اور یہ احساس ہی مفقود ہے کہ فروغ میں اختلاف کے ساتھ بھی مل جل کر کام کیا جاسکتا ہے۔ مسالک، فرقوں، جماعتوں و تنظیموں وغیرہ کے درمیان باہمی گفت و شنید، اہم تر معاملات میں مشاورت وغیرہ کا عمل ابھی کمزور ہے۔

ہمارے جو وفاق موجود ہیں، ان کا ایجنڈہ بھی زیادہ تر دفاعی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مثبت اور اقدامی ایجنڈوں کی بنیاد پر وفاق بنیں۔ یہ وفاق ، وفاق کے معروف اصولوں کی بنیاد پر کام کریں اور فعال و کارگر ہوں۔ہماری سیاسی پارٹیاں وفاق بنائیں۔ سیاسی رہنمائی کرنے والی غیر سیاسی جماعتیں اس طرح کا اہتمام کریں کہ وہ جب کچھ کہیں تو اُن کی ایک آواز ہوکربولیں اور ملت کو متضاد اشاروں اور رہنمائی سے واسطہ نہ پڑے۔اسی طرح تعلیم ، معاشی ترقی وغیرہ محاذوں پر جو کوششیں ہورہی ہیں ان میں تال میل اور ربط پیدا ہو۔

۵۔ ملک کی اکثریت سے کمیونکیشن(گفتگو)

ہم بحیثیت ملت، اس ملک کی اکثریت سے کمیو نکیشن کی ضرورت کو سمجھیں اور اس کی صلاحیت پیدا کریں۔ ہمیں ان کے ذہن کو بھی سمجھنا ہے اور اپنا ذہن ان کو سمجھانا ہے۔یہ کام ہر سطح پر ہونا ہے۔ ہمارے قائدین کو صحت مند اور بامقصد مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنا ہے اور آگے بڑھانا ہے۔ ہمارے دانشوروں کو ٹی وی کے مباحث ، اخبارات کے کالموں اور علمی محفلوں میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لینا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر صحت مند مباحث کاآغاز کرناہے اور ان میں شریک ہونا ہے۔ یہ سارا کام غیر جذباتی طریقہ سے، معقولیت اور معروضیت کے ساتھ ،مخاطب کے ذہن و نفسیات کو سمجھ کر سلیقہ کے ساتھ انجام دینا ہے۔

جمہوری حکومتوں میں ڈائیلاگ (گفتگو) کاعمل صرف حکمرانوں کے ساتھ میز پر بیٹھ کر ہی نہیں ہوتا بلکہ پورے معاشرہ تک وسیع ہوتا ہے۔معاشرہ کی سطح پر مکالمہ بھی اب ہماری اہم ترجیح ہونی چاہیئے۔بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد، سیکولرزم، بنیادی حقوق، قوم پرستی، قومی تہذیب،پڑوسی ممالک سے تعلقات، سلامتی پالیسی، دستور کی بعض دفعات، اقلیت کی تعریف، اقلیت کا رول اور حقوق جیسے دسیوں مسائل پر خوب بحثیں ہوں گی۔ ان بحثوں میں سرگرم کرداراب محض دعوتی اور نظریاتی ضرورت نہیں بلکہ ہماری بقا اور ہمارے ملی وجود کے تحفظ کا ، ان بحثوں سے گہرا رشتہ استوار ہوچکا ہے۔اخبارات کے کالموں اور ٹی وی کے مباحث میں بھرپور، مدلل اور مؤثر نمائندگی اب شدید ملی ضرورت ہے۔ ہماری صفوں میں اس حوالہ سے جو سناٹا طاری ہے اسکے اب مزیدہم متحمل نہیں ہوسکتے ۔یہ بات کلیتاً صحیح نہیں ہے کہ میڈیا جان بوجھ کر ہمیں نظر انداز کرتا ہے۔ اگر ہماری صفوں میں اچھے بحث کرنے والےdebators اور قلم کار موجود ہوں تو میڈیا کے لئے ایسے مسلمان دانشور قیمتی سرمایہ ہیں۔

اس ملک کی اکثریت سے کمیونکیشن میں ایک بڑا مسئلہ وہ کیفیت ہے جسے ذہنی بُعد Attitude Polarisationکہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دو گروہ ، متضاد خیالات میں شدت کے اعتبار سے اس کیفیت پر پہنچ جاتے ہیں کہ ہر ایک ہر واقعہ کو اپنی سوچ کے اعتبار سے معنی پہنانا Theorise) کرنا) شروع کرتا ہے۔ٹھوس شواہد کی بھی اپنے اپنے نقطہ نظر سے تاویل کی جانے لگتی ہے۔ دونوں گروہوں کے درمیان بامعنی مکالمہ ڈائیلاگ ناممکن ہونے لگتا ہے۔ ہر موقف (سائڈ) کی انتہا پسندی دوسری سائڈ کی انتہا پسندی کو تقویت دیتی ہے۔ اس جھگڑے میں بسااوقات سچائی یکسر غائب ہوجاتی ہے اور کسی کو نظر نہیں آتی۔ دہشت گردی اور اس جیسے کئی حساس مسائل میں اس وقت یہی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ نہ مسلمانوں کا موقف یہاں کی اکثریت کو سمجھ میں آتا ہے اور نہ اکثریت کا موقف ہم سمجھ پاتے ہیں۔

اسی صورت حال کے نتیجہ میںہمارے اکثر اہل فکر مسائل کو ’’ہمارے مسائل‘‘ اور ’’ان کے مسائل‘‘ میں تقسیم کرکے دیکھنے کے عادی رہے ہیں۔خاص طور پر مسلم تنظیموں اور رہنمائوں نے زیادہ تر مسلم مسائل تک محدود رہنے کی خاموش پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ ملک کے عام مسائل سے ہماری دلچسپی زیادہ تر سرسری رہی ہے۔الا ماشاء اللہ۔غیر مسلموں سے روز کے تعامل کے باوجود متنازعہ فیہ مسائل پر ایک غیر مسلم ذہن کو جانبداری (Bias) سے اوپر اٹھ کر،سمجھنے کی کوشش بہت کم ہوئی ہے۔ اس کا اثر مسلم عوام کی نفسیات Psyche پر بھی ہے۔مولانا مودودی نے اس ذہنیت Mentality Ghettoکی اِصلاح کی بہت طاقتور کو شش کی تھی۔ خطبہ مدراس بھی اس کوشش کا مظہر ہے۔ ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش‘‘ میں بھی مولانا نے اس بحث کو جگہ جگہ مختلف پیرایوں میں اٹھایا ہے۔لیکن آزادی کے بعد مختلف وجوہ سے مسلمانوں کی اس ذہنیت کو تقویت ہی ملتی رہی۔

اس صورت حال کا بدلنا اب بہت ضروری ہے۔ اسلام کے بنیادی اصولوں سے ہماری وابستگی، بے شک اٹل رہے گی۔ لیکن سیاسی و سماجی مسائل میں جن کا تعلق اسلام کے بنیادی اصولوں سے نہیں ہے، ہمیں ڈائیلاگ کی فضا بنانی چاہیے۔ اپنا موقف سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے اور یہاں کی غیرمسلم اکثریت کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اس کمیو نکیشن کا ایک اہم ہدف دعوت ہونا چاہیے، جو ہمارا بنیادی فریضہ، اس امت کا اصل مشن اور مقصد وجود ہے۔ اس کام کی اہمیت اب پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ نئے حالات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے تنبیہ وارننگ ہے کہ اگر امت اپنے اس بنیادی فریضہ کی ادائیگی کے لئے آگے نہیں بڑھے گی تو اسے حاصل مواقع چھِن سکتے ہیں۔ کاش کہ اس وارننگ کو ہم سمجھیں۔ دعوت کے اس بنیادی فریضہ کی طرف توجہ بڑھ رہی ہے لیکن ہمارا جذباتی مزاج یہاں بھی ہم سے طرح طرح کی غلطیاں سرزد کرارہا ہے۔ دعوت نہ بحث میں جیتنے کا نام ہے اور نہ اپنی قومی برتری کے اظہار کا۔ دعوت دلسوزی کے ساتھ، بندوں کو خدا سے ملانے کا نام ہے ۔ داعیانہ دلسوزی اگر امت کے اندر پیدا ہوجائے تو ہمارے بہت سے مسائل اور یہاں کی اکثریت کے ساتھ ہمارے بہت سے تنازعات خود بخود حل ہوجائیں گے۔

۶۔ برسر اقتدار طبقہ سے بامقصد اور بامعنی رابطہ

اسی سے متعلق ایک بات یہ بھی ہے کہ ہمیں بی جے پی حکومت اور اس کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش میں تکلف اور پس و پیش سے کام نہیں لیناچاہیے۔ بی جے پی حکومت کے سلسلہ میں مسلمانوںمیں دو انتہا پسندانہ نقاظ نظر ظاہر ہورہے ہیں۔ ایک طرف ایک چھوٹی سی اقلیت وہ ہے جو چاہتی ہے کہ مودی مودی کے شورمیں ہم بھی جھوم کر سْر ملانا شروع کردیں۔ دوسری طرف ایک بھاری اکثریت ہے جس کا ایقان ہے کہ اس حکومت سے کسی بھی قسم کا تعلق، پست ہمتی، بزدلی، ملت فروشی اور اسلام دشمنی کے مترادف ہے۔ یہ دونوں خیالات انتہا پسندانہ ہیں۔

حکومت کو غلط اقدامات سے باز رکھنے کا طریقہ اس کے سواکچھ اور نہیں ہے کہ ہم اس کے ساتھ رابطہ قائم کریں(Engageہوں)۔اب بی جے پی کی حیثیت صرف ایک نظریاتی جماعت کی نہیں ہے بلکہ حکمراں جماعت کی ہے۔جمہوری طور پر منتخب حکومت کو کیسے نظر انداز کیاجاسکتاہے؟ وقار کے ساتھ، اپنے اصولوں پر مصالحت کئے بغیر، حکومت سے بات کرنی چاہیے۔ اعتدال پسند گروہ سے نسبتاً قریبی ربط قائم کرناچاہیے۔ اسے متاثر کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔

اس رابطہ Engagementکے لئے ہمیں اپنی اچھے دانشوروں اور مذاکرات کاروں کو آگے بڑھانا چاہیئے۔آنے والے وقتوں میں مسلم قیادت کے لئے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ نئے حکمرانوں سے اور حکمراں جماعت سے اپنے تعلقات میں وہ کیسے ملی غیرت و حمیت ، عزت و وقار اور دانشمندی و تحمل و بصیرت کے تقاضوں کو توازن کے ساتھ نبھاتی ہے۔ ایک جمہوری معاشرہ میں حکومت بننے تک، ایک شہری کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بہتر سے بہتر افراد کے انتخاب کی کوشش کرے۔ بن جانے کے بعد حکومت صرف ان لوگوں کی نہیں ہوتی جنہوں نے اسے ووٹ دیا ہے۔حکومت تو سارے شہریوں کی ہوتی ہے اور ہر شہری کا اس میں برابر حق ہوتا ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس منتخب حکومت کو صحیح راستہ پر قائم رکھنے کی جدوجہد کریں اور اگر وہ نقصان دہ پالیسیوں پر گامزن ہو تو ہماری کوشش ہو کہ اس کا نقصان کم سے کم ہو اور ممکنہ حد تک فساد ٹلے اور صلاح و خیر پروان چڑھے۔اس کے لئے حکومت سے ہمارے کمیونکیشن کے ذرائع چینل کا کھلا رہنا ضروری ہے۔

گاندھی جی کے پوتے اور مغربی بنگال کے سابق گورنر ، راج موہن گاندھی کا خط جو انہوں نے انتخابی نتائج کے بعد نریندر مودی کے نام لکھا ہے(دی ہندو، ۱۹ مئی ۲۰۱۴) وہ اس طرح کے کمیونکیشن کی اچھی مثال ہے۔ اس میں مودی کی سیاسی پوزیشن اور نظریاتی موقف کا لحاظ رکھتے ہوئے بعض اہم گذارشات کی گئی ہیں۔ان کے نظریات سے اختلاف کرتے ہوئے، ان کی ذمہ داریاں یاد دلائی گئی ہیں۔کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان اس طرح کی واضح بات چیت حکومت سے نہ کریں یا نہ کرسکیں۔بدقسمتی سے ہماری ماقبل انتخابات سیاسی حکمت عملی جتنی ناقص ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ ناقص مابعد انتخابات حکمت عملی ہوتی ہے۔اکثر شعور ہی نہیںہوتا کہ انتخابات کے بعد بھی کرنے کے کوئی کام ہیں۔ایک جمہوری معاشرہ میں انتخابات کے بعد بھی ووٹر چوکس اور باخبر ہوتا ہے۔ اور اپنے پریشر گروپس کے ذریعہ، لابیز کے ذریعہ، میڈیا کے ذریعہ اور منتخب نمائندوں کے ذریعہ نئی حکومت سے اپنے ایجنڈہ کی تکمیل کراتا ہے۔

اس کام کو آگے بڑھانے سے پہلے ہماری ترجیحات کا تعین ہونا چاہیئے اور یہ بات طئے ہونی چاہئے کہ ہم کس محاذ پر کتنی توانائی صرف کریں گے۔

۷۔ سول سوسائٹی کا استحکام

دیگر انصاف پسند عوام کے ساتھ مل کر ہمیں اس ملک میں سول سوسائٹی کو مضبوط کرنا چاہیے۔ حکومت سے بامقصد مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے۔ قانون سازی کے عمل اور اس کے لئے مباحث میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لینا چاہیے۔حکومت سے قریب اعتدال پسنددانشوروں اور ارباب اختیار پر اثر انداز ہونے اور ان کے ذریعہ حکومت کی پالیسیوں کو ممکنہ حد تک اعتدال پر رکھنے کی جدوجہد ہونی چاہیے۔اسی طرح جمہوریت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کی جتنی ضرورت 1992میں تھی، اس سے زیادہ اب ہے۔ اس لئے ان کوششوں کا بھی احیا ہونا چاہیے۔ لیکن فرقہ وارانہ ہم آہنگی یا فسطائی رجحانات کے سد باب کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم پوری طرح بائیں بازو کے عناصر کے ساتھ وابستہ ہوجائیں۔ اس طرح ہماری اصولی حیثیت مجروح ہوتی ہے اور ہم بھی ایک فریق بن جاتے ہیں۔ہم دائیں بازو سے بھی اختلاف رکھتے ہیں اور بائیں بازو سے بھی۔ جمہوریت کی بقا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے مشترکہ مقصد کے لئے ہم بائیں بازو سے بھی اشتراک کرسکتے ہیں اور دائیں بازو کے معتدل عناصر کے ساتھ بھی کرسکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نظریاتی وابستگیوں کے فرق کے باوجود ہم ملک کے ان تمام طبقات کے ساتھ جڑنے کی کوشش کریں جو دستور کے بنیادی ڈھانچہ اور بنیادی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کے حامی ہیں اور چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ بھی انصاف ہو اور وہ ترقی کریں۔

۸۔ خدمت اور ملک کے لئے خود کو اثاثہ بنانا

سب سے بڑھ کر یہ ضروری ہے کہ ہم ، ہمارے ادارے اور تنظیمیں ، اپنے خول سے نکلیں۔اس امت کی پہچان بہت تیزی سے ایک ایسے گروہ کی بنتی جارہی ہے جس کی ساری دلچسپیاں صرف اپنے آپ تک محدود ہیں۔ جو ملک کے لئے ایک بوجھ Liability ہے۔ جو کچھ تعمیری کام کرتی بھی ہے تو صرف اپنے آپ کے لئے اور اپنے ہم مذہبوں کے لئے کرتی ہے۔ جس کا باقی ملک اور سماج سے صرف احتجاج یامانگنے کا تعلق ہے۔خصوصاً دین دار مسلمانوںکی ملک کے مین اسٹریم کے لئے خدمت Contributionنمایاں نہیں ہوپائی ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ بعض مسلمانوں نے علم و ادب، آرٹ اور فنون لطیفہ اور سیاست و تجارت میں ملک کی غیر معمولی خدمات بھی انجام دی ہیں۔ لیکن یہ سارے مسلمان (یا کم از کم بیش تر) وہ تھے جو بالاعلان الٹرا سیکولر یا اسلام کے ناقد رہے۔اس کے نتیجہ میں ایک عام غیر مسلم کے اس احساس کو مزید تقویت ملتی ہے کہ اسلامی مذہبی فکر آدمی کو کارِحیات سے بے گانہ (INTROVERT) بنادیتی ہے ۔ اور اس کا وجود غیر مسلموں کے لئے کسی نفع کا موجب نہیں رہتا۔گویااسلام بھی نازی ازم قسم کی کوئی چیز ہے جوایک خاص نسل (مسلمان ) کی فلاح و بہبود سے بحث کرتا ہے۔یہ حق کےخلاف عملی شہادت ہے۔اس کا ازالہ صرف اسلام کی حقیقی تعلیمات پر تقریریں کرنے سے نہیں ہوگا۔ اس کے لئے عملی رویے میں بنیادی تبدیلیاں درکار ہوں گی۔

مسلمانوںکی یہ پہچان ہمارے مخالفین کے اندر نفرت اور بے اعتنائی کی کیفیت کو بڑھاتی ہے اور ہمارے دوستوں میں ہمارے تئیں رحم اور ترس (PATRONAGE)کے منفی جذبات جو پروان چڑھاتی ہے۔ دونوں جذبات ہمارے ملی وجود کے لئے مہلک ہیں۔ہم سب کو سر جوڑ کر اس پر سوچنا چاہیے کہ کیسے ہم اس ملک کو اور یہاں کے سماج کو’’دینے والے‘‘ بن سکتے ہیں؟

۹۔ قیادت ،دانشوری اور عہد جدید کے تقاضے

ہماری تنظیمیں اور ادارے زیادہ تر قیادت کے اس ماڈل پر عمل پیرا ہیں جسے کرشماتی ماڈل کہا جاتا ہے۔ اس میں قائدین کی ذاتی فراست، ان کا علم و فہم ، ان کے اندازے و قیاسات اور ان کے وجدانی فیصلے پوری تنظیم کو چلاتے ہیں۔ نہ قیادت کی پشت پر سائنٹفک تجزیوں اور پیش بینی کا کوئی نظام ہوتا ہے اور نہ تنظیم میں فیصلہ سازی کا کوئی سائنٹفک طریقہ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سنجیدہ ، غیر جذباتی، سائنٹفک اور معقول تجزیوں کی عادت ڈالیں۔ اس طرح کی تحقیقات اور تجزیوں کے سسٹم ڈیولپ کریں اور ایسے ہی تجزیوں پر اپنی منصوبہ بندی کی بنیاد رکھیں۔ اور اندھی جذباتیت اور بے بنیاد اٹکلوں پر مبنی اور زمینی حقائق سے بے نیاز عافیت کوش آرم چیر صحافت و دانشوری سے امت کو نجات دلائیں۔ا

ہماری ملی قیادت کی صفات کوالٹی اور قیادت کا عمل process of leadership دونوں سنجیدہ توجہ چاہتے ہیں۔ بدلی ہوئی دنیا میں ، ہماری قیادت کو اپنے اندر مثبت تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ایسے افراد سے فائدہ اٹھانا چاہیے جو جدید دنیا، مواصلات کے جدید وسائل، جدید زبان اور لب و لہجہ اور کام کے جدید پروفیشنل طریقوں سے واقف ہوں۔ ملی فورموں میں سابق بیورو کریٹس، اعلی درجہ کے انگریزی و علاقائی زبانوں کے صحافی، دانشور اور اعلی تعلیم یافہ پروفیشنلز کو آگے بڑھانا چاہیئے۔ ایسے افراد کو آگے لانا چاہئے جو غیر مسلم سوسائٹی سے ربط قائم کرسکتے ہیں۔اور نفسیاتی رکاوٹوں کو دور کرسکتے ہیں۔

سارے تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ مودی کی کامیابی میں بڑا رول نوجوانوں کا ہے۔کمیونکیشن (رابطہ) کے اس دور میں نوجوان ساری دنیا میں اہم رول ادا کررہے ہیں۔ ہمیں اپنے نوعمروںاور نوجوانوں کو لیڈرشپ کے عمل کا حصہ بنانا چاہئے۔

اب عام انسانوں کی رائے زیادہ زمینی حقائق سے قریب سمجھی جاتی ہے۔ عام لوگوں کو غور و فکر اور فیصلہ سازی کے عمل میں شریک کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہ ہو تو لیڈرشپ کا عمل ناقص رہ جاتا ہے۔ اور لیڈرشپ کا عمل اس وقت بھی ناقص رہ جاتا ہے جب اس کی پشت پر حالات کاسنجیدہ مطالعہ موجود نہ ہو۔ مسلم قیادت دونوں پہلووں سے کمی کی شکار نظرآتی ہے۔

۱۰۔ اعلی درجہ کی صلاحیتوں کا فروغ

ان سب کاموں کو انجام دینے کے لئے ایک بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہماری صفوں میں اعلی درجہ کی صلاحیتیں پروان چڑھیں۔ تعلیمی بیداری کا وہ ابتدائی مرحلہ جس میں ہم نے پرائمری تعلیم اور معاشی استحکام کے لئے، پیشہ وارانہ تعلیم پر توجہ مرکوز کی تھی اب مکمل ہورہا ہے۔ اب اعلی تعلیم پر بھی بھرپور توجہ کی ضرورت ہے۔ اعلی تعلیم کے سلسلہ میں ترجیحات کے تعین کی ضرورت ہے۔

آج بھی ہمارے ذہین ترین طلبا ، انجنیرنگ اور طب میڈیسین ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارے وظائف اسکالرشپ دینے والے ادارے انہی کورسیز کے لئے اسکالرشپ دیتے ہیں۔سول سروس، قانون، سماجیات، معاشیات، جرنلزم، ان سب میدانوں میں بلند پایہ صلاحیتیں ہماری بڑی ضرورت ہیں۔

طلبا پر توجہ دینے اور صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے طویل المیعاد کاموں کے ساتھ ساتھ، ہماری آج کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ قیادت اور ملی رہنمائی کے کاموں میں جو لوگ مصروف ہیں ان کی تربیت ٹریننگ کا بھی اہتمام ہو۔ اس غیر حقیقی اور غیر اسلامی تاثر کی اصلاح ہو کہ کوئی بھی چیز سیکھنا، بڑے لوگوں کی شان سے فروتر ہے۔آج کے اس دور میں جبکہ ساری دنیا، زندگی بھر سیکھتے رہنے Lifelong Learning کے عمل کو ناگزیر سمجھ رہی ہے، ہمارا یہ طرز فکر ازکار رفتہ ہے۔ ہمارے قائدین اور اکابرین مختلف زبانیں بولنا سیکھیں، میڈیا کے سامنے اپنے موقف کو مختصر ترین وقت میں موثر ترین طریقہ سے بیان کرنے کا سلیقہ سیکھیں، قانون ، سیاست ومعاشیات کے اساسیات کا فہم پیدا کریں، قیادت کے جدید طریقے سیکھین، تجزیہ و تحلیل کے فن سے آشنائی پیدا کریںتو ان سب سے ہماری قیادت کی فعالیت کوالٹی بڑھے گی۔اگر ہماری ملی تنظیمیں اور ادارے اس اہم کام کی طرف متوجہ ہوں اور اس پر اپنے وسائل کا ایک حصہ خرچ کریں تو اس سے اصلاح احوال میں بڑی مدد ملے گی۔

اگست 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau