بچوں کو سماجی مہارتیں سکھائیں

ہمارا سماج ہماری زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ اس معاشرے میں رہنے کے کچھ اصول اور آداب ہیں جنھیں ہم سب کو اپنانا ہوتا ہے۔ ہمارے بچے بھی اسی سماج کا حصہ ہیں اور آنے والے وقت میں اسی سماج کی اقدار، تہذیب اور روایات کے امین ہوں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان کی تعلیمی اور اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی سماجی تربیت پر بھی توجہ دیں۔

اس مضمون میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ بچوں کو سماجی مہارتیں کیوں سکھائیں، سماجی مہارتوں کی اہمیت کیا ہے، اور ہم اپنے بچوں میں یہ مہارتیں کس طرح پروان چڑھا سکتے ہیں۔

(الف) بچوں کو سماجی مہارتیں کیوں سکھائیں؟

ہمیں بچوں کو سماجی مہارتیں اس لیے سکھانی ہیں کہ وہ سماج کے خوف میں نہیں بلکہ سماج کے شعور کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ وہ دوسروں کے جذبات اور حقوق کو سمجھیں، اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھیں، اپنی بات احترام کے ساتھ کہہ سکیں، دوسروں کی بات سن سکیں اور ضرورت پڑنے پر اپنی حدود قائم کر سکیں۔

بچہ محض ’’اچھا بچہ‘‘ بن کر لوگوں کو خوش نہ کرے، بلکہ ایک ایسا انسان بنے جو جانتا ہو کہ کب دوسروں کا خیال رکھنا ہے اور کب اپنی بات کے لیے کھڑا ہونا ہے؛ کب معذرت کرنی ہے اور کب اپنی غلطی تسلیم کرنی ہے؛ کب تعاون کرنا ہے اور کب ’’نہیں‘‘ کہنا ہے۔

سماجی مہارتوں کا اصل مقصد بچے کو قابلِ قبول بنانا نہیں، قابلِ تعلق بنانا ہے۔ ایسا انسان جو اپنی ذات سے جڑا ہوا ہو، مگر دوسروں سے کٹا ہوا نہ ہو؛ جو اپنی آزادی کو سمجھتا ہو، مگر دوسروں کے حقوق کا بھی احترام کرتا ہو۔

ہم اپنے بچوں کو سماج میں گھلنا ملنا سکھائیں، مگر اس طرح نہیں کہ وہ اپنی ذات ہی کھو بیٹھیں۔ انھیں یہ سکھائیں کہ معاشرے کا حصہ بننے کا مطلب اپنی آواز خاموش کرنا نہیں، بلکہ اپنی آواز کو اس انداز میں استعمال کرنا ہے کہ اس میں خود کی عزت بھی باقی رہے اور دوسروں کی عزت بھی۔ ہمیں تربیت ایسی نہیں کرنی ہے جو یہ سکھائے کہ صرف اچھا برتاؤ کریں کہ ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ ہمیں ایسے انسان تیار کرنے ہیں جو اس لیے اچھا برتاؤ کریں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک بہتر معاشرہ بہتر انسانوں سے بنتا ہے۔

(ب) سماجی مہارتوں کی اہمیت کیا ہے؟

ہر معاشرے اور مذہب کی اپنی تہذیب، اقدار اور ایک سماجی نظام ہوتا ہے، جسے جاننا، سمجھنا اور اس کے اچھے اصولوں پر عمل کرنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو بھی ان اصولوں سے متعارف کروانا ہے، تاکہ وہ نہ صرف اپنے معاشرے کو سمجھ سکیں بلکہ اس میں ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے اپنا کردار بھی ادا کر سکیں۔

ہمارے دینِ اسلام ہی کو دیکھ لیجیے۔ پوری مخلوق کو اللہ کا کنبہ قرار دیتا ہے۔ چھوٹوں کے ساتھ شفقت اور بڑوں کے احترام کا درس دیتا ہے، ماحول کی حفاظت کی ترغیب دیتا ہے، جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کے حقوق کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے، حتیٰ کہ پڑوسیوں کے حقوق کو بھی ہماری زندگی میں ایک خاص مقام عطا کرتا ہے۔ یہ تمام تعلیمات دراصل ہمیں دوسروں کے ساتھ رہنے، ان کے حقوق سمجھنے اور اپنی ذمہ داری ادا کرنے کا سلیقہ سکھاتی ہیں۔

ہمیں اپنے بچوں کو ان اصولوں سے محض احکامات کی صورت میں واقف نہیں کروانا، بلکہ ان کی عمر اور سمجھ کے مطابق آہستہ آہستہ ان کا مفہوم سمجھانا اور عملی زندگی میں ان پر عمل کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ کیوں کہ یہی اصول سماجی مہارتوں کی بنیاد بنتے ہیں۔

شریعتِ اسلامی ہمیں برے کاموں سے روکتی ہے۔ کہیں کسی برائی سے سختی سے روکا گیا ہے اور اس کی سزا مقرر کی گئی ہے،کہیں تنبیہ اور نصیحت کی گئی ہے۔ برائیوں اور گناہوں کے حوالے سے بھی ایک پورا نظام موجود ہے؛ گناہوں کو گناہِ کبیرہ اور گناہِ صغیرہ میں تقسیم کیا گیا ہے،کہیں فدیہ ہے، کہیں کفارہ اورکہیں سزا۔ لیکن اس پورے نظام کے درمیان ایک بات نہایت اہم ہے: توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔

شریعتِ اسلامی کو اگر ہم غور سے دیکھیں تو یہ محض صحیح اور غلط کی ایک فہرست نہیں ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ اسلام انسان کی فطرت کو بھی سمجھتا ہے کہ انسان سے غلطیاں ہوں گی، اس لیے غلطی کے بعد اصلاح اور واپسی کے راستے بھی رکھے گئے ہیں۔ بعض گناہ یقیناً بہت سنگین ہیں اور شریعت نے ان کے بارے میں سخت تنبیہ اور احکام دیے ہیں، لیکن ہر غلطی انسان کی پوری شناخت نہیں بن جاتی۔ اس کے بعد توبہ، احساس، اصلاح اور دوبارہ بہتر راستہ اختیار کرنے کی گنجائش موجود رہتی ہے۔

اگر ہم صرف شریعتِ اسلامی کے اس متوازن نظام پر غور کریں تو ہمیں انسان کی فطرت کے بارے میں ایک اہم بات سمجھ میں آتی ہے: انسان اچھے کام بھی کرے گا اور غلطیاں بھی کرے گا۔ غلطی ہوجانا انسانی فطرت کا حصہ ہے، لیکن غلطی سے سیکھنا انسان کو مضبوط بناتا ہے، اپنی غلطی کو تسلیم کرنا اسے اپنے نفس کا سامنا کرنا سکھاتا ہے، اور پھر اس غلطی کو دہرانے سے بچنے کی کوشش اسے اصلاح کی طرف لے جاتی ہے۔

بچوں کی تربیت میں بھی ہمیں صرف یہ نہیں سکھانا کہ یہ صحیح ہے اور یہ غلط، بلکہ یہ بھی سکھانا ہے کہ اگر غلطی ہوجائے تو اسے پہچانا کیسے جائے، اس کا احساس کیسے ہو، اپنی اصلاح کیسے کی جائے اور دوبارہ بہتر انتخاب کیسے کیا جائے۔بچے سے غلطی ہوجائے تو ہمارا مقصد صرف اسے سزا دینا یا شرمندہ کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے یہ سمجھنے میں مدد دینا چاہیے کہ غلط کیا ہوا، اس کے نتائج کیا ہیں اور آئندہ اسے بہتر طریقے سے کیسے کیا جاسکتا ہے۔

جب بچہ ایک ایسا انسان بنتا ہے جو دوسروں کا احترام بھی کرتا ہے اور اپنی عزت بھی جانتا ہے، اچھے سلوک کو نیکی سمجھتا ہے اور ہر ممکن برائی سے بچتا ہے، غلطی پر اتنا ہی شرمندہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے کو بہتر سانچے میں ڈھالے تو اس کی شخصیت میں توازن اور مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔ وہ صرف ایک      ’’مہذب بچہ‘‘ نہیں بنتا بلکہ ایک ایسا فرد بننے کی طرف بڑھتا ہے جو اپنی ذات، دوسروں اور اپنے معاشرے—تینوں کے ساتھ متوازن تعلق قائم کرسکے ۔

 (ج) ہم اپنے بچوں کو سماجی مہارتیں کیسے سکھائیں:

خود مثال بن  جائیں

بچے نصیحت سے زیادہ ہمارے رویوں سے سیکھتے ہیں۔ اگر ہم اپنے معاشرے، اپنے آس پاس کے لوگوں اور ان کے حقوق کا احترام کریں گے تو بچے بھی ہم سے یہی سیکھیں گے۔ لیکن اگر ہم دوسروں پر غیر ضروری تنقید کریں، ان کا مذاق اڑائیں، ان پر کیچڑ اچھالیں، دوسروں کی کام یابیوں اور خوشیوں کو دیکھ کر حسد کریں یا اپنی محرومی کے احساس میں چال بازیاں کرنے لگیں تو یہ ساری ’’گندگی‘‘ بھی بچے کی شخصیت کا حصہ بنتی جائے گی۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اچھے سماجی کردار کے حامل انسان بنیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے سماجی کردار پر نظر ڈالنی ہوگی۔ اپنی اصلاح کریں، اپنا احتساب کریں، کیوں کہ بچے وہی نہیں بنتے جو ہم انھیں بننے کو کہتے ہیں؛ اکثر وہ وہی بن جاتے ہیں جو وہ ہمیں بنتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

 احترام سکھائیں، خوف نہیں

بچوں کو اپنے بڑوں کے مقام اور مرتبے کا احساس دلائیں۔ انھیں سمجھائیں کہ بڑے عمر، تجربے، علم اور حکمت میں ان سے آگے ہیں، اس لیے ان کا لحاظ اور احترام کرنا چاہیے۔ لیکن احترام کا مطلب خوف نہیں ہونا چاہیے۔ بچوں کو یہ تجربہ بھی ملنا چاہیے کہ گھر کے بڑے ان کے لیے محبت کا سایہ ہیں، ان کی صحبت سکون بخش ہے اور ان کے پاس بیٹھنا کسی بوجھ یا مجبوری کا نام نہیں ہے۔

بچوں کو بڑوں کی خوشنودی کے لیے ان کی خدمت نہیں کرنی، بلکہ محبت اور تعلق کی وجہ سے ان کا خیال رکھنا سیکھنا ہے۔گھر کے بزرگوں کے چھوٹے موٹے کام بچوں سے کروائے جاسکتے ہیں، ان کی ضرورت کی کوئی چیز لا دینا، پانی دے دینا، ان کے پاس کچھ دیر بیٹھنا یا ان کے ساتھ وقت گزارنا—یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں بچے کے دل میں بزرگوں سے تعلق پیدا کرتی ہیں اور اسے خدمت، خیال رکھنے اور احترام کا عملی تجربہ دیتی ہیں۔ جب بچے اپنے بزرگوں کے لیے کوئی چھوٹا سا کام کریں، ان کی مدد کریں یا ان کی خدمت کا موقع ملے تو ان کے اس عمل کو سراہیں۔

عملی طور پر بچوں کے سامنے یہ بات ضرور نمایاں کریں کہ بچہ بڑوں کا احترام اس لیے کرے کہ وہ ان کی قدر کرتا ہے، نہ اس لیے کہ وہ ان سے ڈرتا ہے۔

 ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ کا ڈر نہ بٹھائیں

جب بچے بڑوں کی بات نہیں مان رہے ہوتے تو والدین اکثر فوراً یہ کہنا شروع کردیتے ہیں: ’’لوگ کیا کہیں گے؟ پڑوسی کیا کہیں گے؟ رشتہ دار کیا کہیں گے؟ تمھارے دوست کیا کہیں گے؟ ٹیچر کیا سوچیں گے؟‘‘ بعض اوقات اسکول، استاد یا کسی اور بڑے کا ڈر بھی بچے کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں یہ اندازِ تربیت اس قدر عام ہے کہ والدین کے لیے یہ محسوس کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے کہ وہ کب اور کتنی بار بچے کو سماجی ردِعمل کا خوف دلا رہے ہیں۔ اس عادت کو بدلنے کے لیے سب سے پہلے والدین کو اپنا جائزہ لینا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ کہیں وہ بچے کے ہر عمل کو ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ کے ترازو میں تو نہیں تول رہے۔

اس کے بجائے بچوں کو ان کے عمل کی اصل وجہ سمجھائی جاسکتی ہے۔ مثلاً یہ احساس دیا جاسکتا ہے کہ ہم اچھے کام صرف اس لیے نہیں کرتے کہ لوگ ہمیں اچھا کہیں، بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ ہمارا خالق ہم سے راضی ہو۔ نیکی کا اصل مقصد لوگوں کی تعریف حاصل کرنا نہیں، اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔

لیکن اس کے لیے صرف بچے کو بدلنا کافی نہیں؛ والدین کو بھی اپنے اندر سے ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ کے خوف کو کم کرنا ہوگا۔ ہمیں خود یہ سیکھنا ہوگا کہ اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی کا معیار محض لوگوں کی پسند یا سماجی نمائش نہ بنائیں، بلکہ اپنی اصلاح، دنیا و آخرت کی کام یابی اور اللہ کی رضا کو اپنا مقصد بنائیں۔

  غلطی پر شرمندہ کرنے کے بجائے اصلاح کا موقع دیں

غلطی پر شرمندگی ہونی چاہیے، مگر اتنی کہ انسان اپنی غلطی کو پہچانے، اسے سمجھے اور اسے بدلنے کی خواہش پیدا کرے۔ بچوں کو اتنا شرمندہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنی شرمندگی کے بوجھ میں دب جائیں، یہاں تک کہ یہ سمجھنے لگیں کہ وہ اچھے انسان نہیں ہیں یا وہ اچھے کام کر ہی نہیں سکتے۔ اور نہ ہی انھیں اپنی کسی ایک غلطی کو اس قدر ذہن پر سوار کرنے دینا چاہیے کہ وہ آگے بڑھ کر خود کو بہتر بنانے کی کوشش ہی نہ کر پائیں۔

اگر آپ اپنے بچے کے ذریعے سماج کو ایک اچھا انسان دینا چاہتے ہیں تو اسے اصلاح کا موقع ضرور دیں۔ اس سے اس کی غلطی کے بارے میں بات کریں، اسے واضح طور پر سمجھائیں کہ اس سے کیا غلط ہوا اور اس کے نتیجے میں دوسروں پر کیا اثر پڑا۔ لیکن بات صرف غلطی بتانے تک محدود نہ رکھیں؛ بچے سے یہ بھی پوچھیں کہ وہ اپنی اس غلطی کی اصلاح کے لیے کیا اچھا کام کرنا چاہتا ہے؟اس کی رائے سنیں اور اسے اپنی غلطی کی اصلاح کا حصہ بنائیں۔ پھر اپنی طرف سے بھی چند راستے بتائیں کہ وہ اس غلطی کو کیسے بہتر کرسکتا ہے، کس طرح نقصان کی تلافی کرسکتا ہے اور آئندہ ایسی صورتِ حال میں کیا مختلف کرسکتا ہے۔

اس طرح بچہ یہ سیکھتا ہے کہ غلطی اس کی پوری شناخت نہیں؛ غلطی ایک ایسا عمل ہے جسے پہچانا، درست کیا اور اس سے سیکھا جاسکتا ہے۔ یہی احساس اسے نہ صرف بہتر انسان بناتا ہے بلکہ اسے اپنی زندگی میں غلطیوں کے بعد سنبھلنے اور دوسروں کی غلطیوں کو بھی سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

 معافی مانگنا اور معاف کرنا سکھائیں

یہ جملہ تو بہت عام ہے کہ معافی مانگنے سے انسان چھوٹا نہیں ہوجاتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپنی غلطی پر معافی مانگنے والے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم معافی مانگنے کو اپنی انا کے خلاف سمجھ لیتے ہیں، حالاں کہ معافی مانگنے سے انسان کی قدر کم نہیں ہوتی بلکہ اس کے اندر اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔

معافی مانگنا دراصل اپنی غلطی کو پوری قوت اور شعور کے ساتھ قبول کرنا ہے۔ جب انسان یہ کہتا ہے کہ ’’مجھ سے غلطی ہوئی، مجھے افسوس ہے‘‘ تو وہ صرف الفاظ ادا نہیں کررہا ہوتا بلکہ اپنی غلطی کی ذمہ داری بھی قبول کررہا ہوتا ہے۔ یہی احساس اسے اپنی اصلاح اور آئندہ بہتر رویہ اختیار کرنے کی طرف لے جاتا ہے۔ معافی مانگنے کا ایک خوب صورت پہلو یہ بھی ہے کہ یہ ٹوٹتے ہوئے رشتوں کو دوبارہ جوڑنے کا راستہ فراہم کرتی ہے۔

بچے کو یہ بھی سکھائیں کہ معاف کرنا اور دوبارہ پہلے جیسا اعتماد کرنا ایک ہی چیز نہیں۔ کسی کو معاف کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر کسی کے رویے سے بار بار نقصان پہنچ رہا ہو تو اپنی حدود قائم رکھنا بھی ضروری ہے۔

اسی طرح معافی صرف زبان سے ’’معاف کردو‘‘ کہہ دینے کا نام نہیں۔ اگر ہماری غلطی سے کسی کو نقصان پہنچا ہے تو جہاں ممکن ہو نقصان کی تلافی کرنا، اپنے رویے کو درست کرنا اور دوبارہ وہی غلطی نہ دہرانا بھی معافی کا حصہ ہے۔

بچوں کو چھوٹی چھوٹی روزمرہ کی صورتِ حال میں معافی مانگنے اور معاف کرنے کا موقع دیں۔ اگر بچے نے بہن بھائی سے کوئی چیز چھین لی ہے،کسی کو دھکا دیا ہے،کسی کا دل دکھایا ہے یا کسی کی چیز خراب کردی ہے تو صرف ’’سوری بولو‘‘ کہہ کر بات ختم نہ کریں۔ اسے یہ سمجھائیں کہ غلط کیا ہوا، سامنے والے کو کیسا محسوس ہوا، اور اب وہ اپنی غلطی کی تلافی کیسے کرسکتا ہے۔

اور سب سے بڑھ کر، والدین خود معافی مانگنے کی مثال بنیں۔ اگر والدین سے بچے کے ساتھ زیادتی ہوگئی ہے، غصے میں کوئی سخت بات کہہ دی یا کسی معاملے میں اپنی غلطی محسوس ہوئی تو بچے سے معافی مانگنے میں ہچکچائیں نہیں۔ جب بچہ اپنے والدین کو اپنی غلطی تسلیم کرتے اور معافی مانگتے دیکھے گا تو اسے سمجھ آئے گا کہ معافی کم زوری نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی ہے۔

بچوں کو ایسا انسان بنائیں جو اپنی غلطی پر جھکنا جانتا ہو، دوسروں کی غلطی پر دل بڑا رکھتا ہو، مگر اپنی عزت اور حدود کی حفاظت کرنا بھی جانتا ہو۔

دوسروں کی باتوں کو توجہ سے  سننا  سکھائیں

یہ ایک نہایت اہم سماجی مہارت ہے، مگر ہم اکثر اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ بہت سے اختلافات اور غلط فہمیاں اس لیے پیدا ہوتی ہیں کہ ہم سامنے والے کی بات پوری توجہ سے سنتے ہی نہیں۔ وہ اپنی بات مکمل بھی نہیں کرپاتا اور ہم اپنے ذہن میں اس کی بات کا مطلب اخذ کرکے جواب دینا شروع کردیتے ہیں۔

بچوں کو یہ عادت ڈالیں کہ جب کوئی ان سے بات کررہا ہو تو پہلے اس کی پوری بات سنیں، اسے سمجھنے کی کوشش کریں اور پھر جواب دیں۔ اگر انھیں درمیان میں کوئی بات یاد آگئی ہو، کوئی سوال کرنا ہو یا اپنی رائے پیش کرنی ہو تو گفتگو کے آداب کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کرنا سیکھیں۔ اگر کسی وجہ سے درمیان میں بات کرنا ضروری ہو تو ’’معاف کیجیے، میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں‘‘ جیسے شائستہ انداز اختیار کیے جاسکتے ہیں۔

بچوں کو یہ بھی سکھائیں کہ سننا صرف خاموش رہنے کا نام نہیں، بلکہ سامنے والے کو سمجھنے کی کوشش کرنا بھی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہم کسی کی بات سے اتفاق کریں، لیکن اختلاف کرنے سے پہلے اس کی بات کو صحیح طور پر سمجھ لینا ضروری ہے۔

اسی طرح بچے کو یہ بھی سکھائیں کہ گفتگو میں صرف اپنی بات کہنا ہی مقصد نہیں؛ کبھی سوال کرنا، کبھی جواب دینا، کبھی دوسرے کو موقع دینا اورکبھی خاموش ہوکر سن لینا بھی اچھی گفتگو کا حصہ ہے۔

گھر میں اس کی مشق بہت آسانی سے کروائی جاسکتی ہے۔ جب بچہ آپ سے کوئی بات کررہا ہو تو اسے توجہ سے سنیں، اس کی بات درمیان میں نہ کاٹیں اور اگرکبھی آپ سے غلط فہمی ہوئی ہو تو اس سے دوبارہ وضاحت مانگیں۔ اس طرح بچہ خود بھی سیکھے گا کہ کسی کو سمجھنے کے لیے پہلے اسے مکمل سننا ضروری ہے۔

ایک اچھا گفتگو کرنے والا صرف وہ نہیں جو خوب بول سکتا ہو؛ سماج کا اچھا فرد وہ بھی ہے جو دوسروں کو یہ احساس دلا سکے کہ ان کی بات سنی اور سمجھی جارہی ہے۔

 اختلافِ رائے کے آداب سکھائیں

بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ گفتگو کے دوران یہ لازم نہیں کہ وہ سامنے والے کی ہر بات سے اتفاق کریں۔ زندگی میں ایسے بہت سے مواقع آئیں گے جہاں اختلافِ رائے ہوگا، اور اختلاف انسانی زندگی کا ایک فطری حصہ ہے۔ اگر ہم اپنے اردگرد کی دنیا پر غور کریں تو کائنات کی خوب صورتی بھی اسی تنوع اور اختلاف میں نظر آتی ہے۔ پھولوں کے رنگ مختلف ہیں، زمین اور پانی میں رہنے والے جاندار ایک دوسرے سے مختلف ہیں، پرندوں کی اپنی خصوصیات ہیں اور ہر شے اپنی الگ ساخت اورکردار رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو یکسانیت کے بجائے تنوع اور اختلاف کے ساتھ خوب صورت بنایا ہے۔

اسی طرح انسانوں کی سوچ، مزاج، تجربات اور نقطۂ نظر بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔ بعض اوقات مختلف خیالات ایک دوسرے سے مل کر کوئی نئی اور بہتر سوچ پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے اختلافِ رائے کو ہمیشہ جھگڑا، ضد یا دشمنی سمجھنا ضروری نہیں۔

بچوں کو یہ سکھائیں کہ وہ اختلاف کرتے ہوئے دوسرے کی تحقیر، تذلیل یا دل آزاری کے بغیر اپنی بات رکھ سکتے ہیں۔ انھیں یہ بھی سکھائیں کہ اختلاف کا مقصد دوسرے کو نیچا دکھانا نہیں بلکہ اپنی رائے اور دلیل پیش کرنا ہے۔ مثلاً ’’آپ غلط ہیں‘‘ کہنے کے بجائے وہ کہہ سکتے ہیں: ’’میری رائے اس بارے میں کچھ مختلف ہے‘‘ یا ’’میں اس بات کو ایک دوسرے انداز سے دیکھتا ہوں۔” لیکن صرف اپنی بات رکھنے کا سلیقہ کافی نہیں۔ بچے کو یہ بھی سمجھانا ضروری ہے کہ سامنے والا اس کی رائے سے اتفاق نہ بھی کرے تو اسے ہر حال میں اپنی بات منوانے کی ضرورت نہیں۔ بعض اختلافات کا حل یہ ہوتا ہے کہ دونوں اپنی اپنی رائے پر قائم رہیں اور ایک دوسرے کے اختلاف کا احترام کریں۔ اور اگر کوئی شخص اختلاف کو اپنی توہین سمجھ لے تو بچے کو غصے یا تحقیر کے بجائے تحمل سے صورتِ حال سنبھالنا سکھائیں۔

اس مہارت کی تربیت گھر سے ہی شروع ہونی چاہیے۔ اکثر ہم بچوں کو کہتے ہیں کہ ’’بیچ میں مت بولو‘‘، ’’بڑوں کی بات میں مداخلت نہ کرو‘‘ یا ’’تمھیں کیا پتا؟‘‘ یقیناً گفتگو میں اپنی باری کا انتظار کرنا ضروری ہے، لیکن بچے کو صرف خاموش رہنا سکھانا کافی نہیں۔ اسے یہ بھی سکھانا ضروری ہے کہ اپنی بات کب اور کس طرح کہنی ہے۔اگر بچہ کسی گفتگو کے دوران اپنی بات کہنا چاہتا ہے تو ہر بار اسے خاموش کرانے کے بجائے اسے مناسب جملہ سکھایا جاسکتا ہے، مثلاً: ’’امی، جب آپ کی بات مکمل ہوجائے تو کیا میں اپنی بات کہہ سکتا ہوں؟‘‘ یا ’’ابو، میری اس بارے میں ایک مختلف رائے ہے، کیا میں بتاؤں؟‘‘ گھر میں والدین بچوں کو چھوٹے چھوٹے فیصلوں میں اپنی رائے دینے کا موقع بھی دیں۔ مثلاً پوچھیں کہ وہ کسی معاملے کو کس طرح بہتر سمجھتے ہیں، اور اگر ان کی رائے والدین سے مختلف ہو تو فوراً اسے غلط قرار دینے کے بجائے پوچھیں: ’’اچھا، تم ایسا کیوں سوچتے ہو؟‘‘

اس سے بچہ صرف اپنی بات کہنا نہیں سیکھے گا بلکہ اپنی رائے کی وجہ بیان کرنا، دوسرے کی بات سننا، اختلاف برداشت کرنا اور اختلاف کے باوجود تعلق قائم رکھنا بھی سیکھے گا۔

آخرکار بچے کو یہ سمجھانا ہے کہ اختلافِ رائے کا مطلب رشتے کا اختلاف نہیں ہوتا۔ ہم کسی کی بات سے اختلاف کرسکتے ہیں، مگر اس انسان کی عزت برقرار رکھ سکتے ہیں۔

حدوں کا خیال کرنا سکھائیں

چوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ حدود (boundaries)کیا ہوتے ہیں۔ ہر انسان اپنی ایک الگ شخصیت، شناخت، پسند، ناپسند، احساسات اور ذاتی جگہ رکھتا ہے۔ اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند اور ناپسند کا اظہار کرے، اپنی ذات سے متعلق مناسب فیصلوں میں اپنی رائے دے اور اپنی کچھ بنیادی حدود متعین کرے۔ ہر معاملے میں ان کی پسند مان لینا ضروری نہیں، لیکن ان کی پسند سننا اور اسے اہمیت دینا ضروری ہے۔ اس سے بچے کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی ذات بھی اہم ہے اور وہ اپنی بات احترام کے ساتھ رکھ سکتا ہے۔

لیکن حدود کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ’’یہ میری چیز ہے، اس لیے کسی کو ہاتھ نہیں لگانے دوں گا۔‘‘ بچے کو یہ بھی سمجھانا ضروری ہے کہ جس طرح اس کی اپنی حدود ہیں، اسی طرح دوسرے لوگوں کی بھی حدود ہیں اور ان کا احترام کرنا لازم ہے۔ مثلاً پڑوسی کے گھر کے سامنے کچرا پھینکنا، وہاں شور و ہنگامہ کرنا یا ان کی جگہ کو نقصان پہنچانا ان کی حدود کی خلاف ورزی ہے۔ بھائی یا بہن کی اسکول کی کتابیں، یونیفارم یا دوسری ضروری چیزیں خراب کرنا ان کے حق اور ان کی حدود کا خیال نہ رکھنا ہے۔ اسی طرح والدین کی کام کی چیزیں،گھر کا کمپیوٹر، ضروری کاغذات یا دوسری اہم اشیا بغیر اجازت استعمال کرنا یا خراب کرنا بھی درست نہیں۔یوں بچے کو آہستہ آہستہ یہ بنیادی اصول سمجھایا جاسکتا ہے کہ میری آزادی وہاں تک ہے جہاں سے دوسرے کے حق اور سکون کی حد شروع ہوتی ہے۔

حدود قائم کرنا دراصل بچے کو دو چیزیں ایک ساتھ سکھانا ہے: اپنی ذات کی حفاظت کرنا اور دوسروں کی ذات کا احترام کرنا۔ جب بچہ اپنی حدود پہچانتا ہے تو وہ دوسروں کی حدود کی قدر بھی بہتر طور پر سمجھتا ہے، اور یہی سمجھ ایک صحت مند سماجی زندگی کی بنیاد بنتی ہے۔

’’نہیں‘‘ بھی کہنا سکھائیں

بچوں کو ’’نہیں‘‘ کہنا بھی سکھانا چاہیے۔ انھیں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ کسی کام سے انکار کرنا ہمیشہ بدتمیزی یا خود غرضی نہیں ہوتا۔ کبھی ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا،کبھی ہماری اپنی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں،کبھی ہم کسی کام کے لیے تیار نہیں ہوتے اور کبھی ہمیں صرف یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم یہ کام نہیں کرنا چاہتے۔ ان صورتوں میں شائستگی کے ساتھ انکار کرنا ایک ضروری سماجی مہارت ہے۔

بچوں کو ایسے جملے سکھائے جاسکتے ہیں جن کے ذریعے وہ کسی کا دل دکھائے بغیر اپنی بات رکھ سکیں، مثلاً: ’’معذرت، میں اس وقت یہ کام نہیں کرسکتا‘‘، ’’اس وقت میری اپنی کچھ ذمہ داریاں ہیں‘‘، ’’میں اس بار آپ کی مدد نہیں کرپاؤں گا‘‘ یا ’’میں یہ کام کرنا نہیں چاہتا، امید ہے آپ برا نہیں مانیں گے۔‘‘

کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ بچہ کسی کام کو کرنے پر آمادہ ہوجائے، لیکن بعد میں محسوس کرے کہ وہ اسے نہیں کرنا چاہتا۔ اسے یہ سکھایا جاسکتا ہے کہ اپنی بات بدلنے یا مناسب انداز میں اپنی رضامندی واپس لینے کا طریقہ بھی موجود ہے۔ ہر وعدے یا رضامندی کو زندگی بھرکا بوجھ بنا لینا ضروری نہیں۔

یہ تربیت اس لیے بھی ضروری ہے کہ بچے جب بڑے ہوکر اسکول، کالج، دفتر، کاروبار یا معاشرے میں مختلف لوگوں کے ساتھ کام کریں گے تو ان سے کئی طرح کی توقعات وابستہ ہوں گی۔ اگر انھیں ہر بار دوسروں کو خوش کرنے کی عادت ہوگی تو لوگ انجانے میں بھی ان پر ضرورت سے زیادہ کام اور ذمہ داریاں ڈالتے چلے جائیں گے، اور وہ اپنی تھکن، مجبوری یا ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کرپائیں گے، اور پھر ہو بھی سکتا ہے لوگ ایسے کاموں میں شامل کرلیں جنھیں اسلام نے ناپسندیدہ قرار دیا ہو، اس لیے برے کاموں میں شراکت سے بچنے کے لیے بھی نہ کہنا آنا چاہیے۔

 اپنے جذبات کو پہچاننا اور سنبھالنا سکھائیں

بچوں کے اندر مختلف مواقع پر طرح طرح کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ کبھی خوشی،کبھی اداسی، کبھی خوف،کبھی بے چینی اورکبھی غصہ۔ ایسے مواقع پر والدین کو صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ       ’’غصہ مت کرو‘‘ یا ’’اتنا اداس کیوں ہورہے ہو؟‘‘ بلکہ بچے سے یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ’’تمھیں اس وقت کیا محسوس ہورہا ہے؟‘‘ بچے کو اپنے جذبات کو پہچاننے اور انھیں نام دینے کی عادت ڈالیں۔ اگر وہ غصے میں ہے تو اس سے پوچھیں کہ اسے غصہ کس بات پر آیا اور اس کے پیچھے اصل احساس کیا ہے؟ اگر وہ خوش ہے تو یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اسے کس بات نے خوش کیا اور وہ اپنی خوشی کا اظہار کس طرح کرنا چاہتا ہے۔ اگر وہ اداس ہے تو اس کے دکھ کو فوراً ختم کرنے یا نظر انداز کرنے کے بجائے اسے اپنی کیفیت بیان کرنے کا موقع دیں، پھر اس کے ساتھ مل کر سوچیں کہ اس صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے۔

اس طرح بچہ آہستہ آہستہ یہ سیکھتا ہے کہ جذبات برے نہیں ہوتے، لیکن ہر جذبے کے اظہار کا ایک مناسب طریقہ ضرور ہوتا ہے۔ غصہ آنا فطری ہے، مگر غصے میں کسی کو نقصان پہنچانا ضروری نہیں۔ اداسی فطری ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہمیشہ اسی کیفیت میں رہے۔ خوشی کا اظہار بھی ضروری ہے، لیکن اس طرح کہ دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے۔

یہ مہارت اس لیے بھی ضروری ہے کہ بچہ جب بڑا ہوکر ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے معاشرے میں شامل ہوگا تو اسے ہر طرح کے حالات، لوگوں اور جذبات کا سامنا ہوگا۔ ہم یہ تو نہیں چاہتے کہ اسے کبھی غصہ، دکھ یا خوف محسوس ہی نہ ہو؛ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنے جذبات کو پہچان سکے، ان کا اظہار مناسب طریقے سے کرسکے اور اپنے ردِعمل سے خود کو یا کسی دوسرے انسان کو غیر ضروری نقصان نہ پہنچائے۔

دوسروں کے جذبات اور نقطۂ نظر کو سمجھنے کی مشق کروائیں

جس طرح بچے کو اپنے جذبات پہچاننا اور بیان کرنا سکھانا ضروری ہے، اسی طرح یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ سامنے والے انسان کے جذبات اور نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کیسے کی جاتی ہے۔ ہر شخص ایک ہی واقعے کو اپنے تجربے، مزاج اور احساسات کے مطابق مختلف انداز سے دیکھ سکتا ہے۔ اس لیے بچے کو یہ عادت ڈالنی چاہیے کہ کسی کے رویے پر فوراً فیصلہ سنانے کے بجائے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کرے کہ ’’وہ ایسا کیوں کہہ رہا ہوگا؟ وہ اس وقت کیا محسوس کررہا ہوگا؟‘‘

اس کی مشق بچوں کی روزمرہ زندگی کے واقعات سے بہت آسانی سے کروائی جاسکتی ہے۔ مثلاً اگر بچوں کے دوستوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا ہو تو فوراً کسی ایک کو صحیح اور دوسرے کو غلط قرار دینے کے بجائے بچے سے بات کی جاسکتی ہے کہ جھگڑا کیوں ہوا؟ تمھارے دوست کا نقطۂ نظر کیا ہوسکتا ہے؟ اگر تم اس کی جگہ ہوتے تو تمھیں کیسا محسوس ہوتا؟ اس طرح بچہ آہستہ آہستہ یہ سیکھتا ہے کہ ایک ہی واقعے کو دو مختلف لوگ مختلف انداز سے محسوس کرسکتے ہیں۔

اگر گھر میں والدین خود بھی یہ جملے استعمال کریں کہ ’’میں ابھی ناراض ہوں، اس لیے مجھے تھوڑا وقت چاہیے‘‘، ’’مجھے تمھاری اس بات سے دکھ ہوا‘‘ یا ’’میں اس وقت پریشان ہوں، لیکن ہم اس پر سکون سے بات کریں گے‘‘ تو بچہ سیکھتا ہے کہ جذبات کو چھپانا یا دوسروں پر پھینکنا ہی واحد راستہ نہیں؛ انھیں پہچان کر، الفاظ میں بیان کرکے اور مناسب طریقے سے سنبھالا بھی جاسکتا ہے۔

اس طرح کی چھوٹی چھوٹی مشقیں بچے میں ہمدردی (empathy)، برداشت، بہتر گفتگو اور اختلاف کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہیں۔ وہ صرف یہ نہیں سیکھتا کہ ’’دوسرے نے میرے ساتھ کیا کیا‘‘، بلکہ یہ بھی سوچنے لگتا ہے کہ ’’دوسرا ایسا کیوں محسوس کررہا ہوگا؟‘‘ اور یہی سوچ ایک مضبوط سماجی انسان کی بنیاد بنتی ہے۔

 سماج کے لیے مفید اور دوسروں کے ساتھ تعاون کرنا سکھائیں

سماج کا ذمہ دار فرد وہ ہے جو اپنے معاشرے کے لیے مفید بننے اور دوسروں کے ساتھ تعاون کرنے کا شعور رکھتا ہو۔ معاشرہ ہم سب سے مل کر بنتا ہے، اس لیے اس کی بہتری کی ذمہ داری بھی صرف حکومت یا چند اداروں کی نہیں بلکہ ہر فرد کی ہے۔

بچوں کو ان کی عمر کے مطابق چھوٹی چھوٹی ذمہ داریوں میں شامل کرکے اس شعور کی ابتدا گھر ہی سے کی جاسکتی ہے۔ انھیں اپنا کام خود کرنے، اپنی چیزیں ترتیب سے رکھنے، گھر کو صاف ستھرا رکھنے اور اپنی گندگی خود صاف کرنے کی عادت ڈالیں۔ گھر سے باہر انھیں یہ سمجھائیں کہ سڑک، پارک یا پڑوسی کے گھر کے سامنے کچرا نہیں پھینکنا، راستے میں رکاوٹ نہیں بننا، شور کرکے دوسروں کے سکون میں خلل نہیں ڈالنا اور مشترکہ جگہوں کو صاف رکھنا بھی سماجی ذمہ داری ہے۔

بچوں کو یہ بھی سکھایا جاسکتا ہے کہ اگر راستے میں کوئی رکاوٹ یا گندگی پڑی ہو اور اسے محفوظ طریقے سے ہٹانا ممکن ہو تو اسے ہٹا دیں، پودے لگانے اور ان کی دیکھ بھال میں حصہ لیں، پانی اور بجلی ضائع نہ کریں اور جانوروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کریں۔ یہ چھوٹے چھوٹے کام بچے کے اندر یہ احساس پیدا کرتے ہیں کہ ’’یہ معاشرہ صرف میرا حق نہیں، میری ذمہ داری بھی ہے۔‘‘

اسی طرح انھیں دوسروں کے کام آنے کی عادت بھی ڈالیں۔ پڑوسیوں کی ضرورت کی کوئی چیز لانے میں مدد کرنا، آس پاس رہنے والے کسی بزرگ کا سودا سلف اٹھا دینا،کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، صدقہ و خیرات میں حصہ لینا یا اپنی چیزوں میں سے ضرورت کی چیز کسی دوسرے کو دے دینا، یہ سب تعاون اور ایثار کی عملی تربیت ہیں۔

بچوں کو زندگی کے مختلف سماجی مواقع میں بھی مناسب طور پر شریک کیا جاسکتا ہے۔ بیمار کی عیادت کے لیے جانا،کسی غم زدہ خاندان سے تعزیت کرنا، جنازے اور تدفین کے موقع پر آداب کے ساتھ موجود ہونا، خوشی کے موقع پر دوسروں کے ساتھ خوش ہونا،کسی ضرورت مند خاندان کے لیے کھانا یا ضروری سامان پہنچانا، خون کے عطیے یا دیگر فلاحی سرگرمیوں کے بارے میں عمر کے مطابق شعور دینا، یہ سب بچے کو یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ انسان صرف اپنے لیے نہیں جیتا۔

بچوں کے ساتھ مل کر کبھی محلے یا گھر کے آس پاس صفائی کی چھوٹی سی سرگرمی کرنا، کوئی پودا لگانا، پرندوں کے لیے پانی رکھنا، پرانی مگر قابلِ استعمال کتابیں یا کپڑے ضرورت مندوں تک پہنچانا، یا کسی فلاحی کام میں اپنی استطاعت کے مطابق حصہ لینا بھی سماجی تعاون کی خوب صورت مشق ہوسکتی ہے۔

 مختلف لوگوں سے ملنے اور مختلف ماحول کا تجربہ کرنے دیں

سماجی اعتماد صرف کتابوں اور نصیحتوں سے پیدا نہیں ہوتا، بچے کو لوگوں کے درمیان رہنے اور مختلف سماجی ماحول کا تجربہ کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اسکول، محلہ، خاندان، سفر، تقریبات اور روزمرہ زندگی میں جب بچے مختلف لوگوں سے ملتے ہیں تو انہیں لوگوں سے گفتگو کرنے، تعلق قائم کرنے، مختلف مزاجوں کو سمجھنے اور مختلف حالات میں اپنے رویے کو متوازن رکھنے کا عملی تجربہ حاصل ہوتا ہے۔

والدین کو بچوں کے معاملے میں غیر ضروری طور پر اس قدر تحفظ پسندانہ (overprotective)نہیں ہوجانا چاہیے کہ بچہ ہر نئے انسان اور ہر نئے ماحول سے گھبرانے لگے۔  پڑوس میں کوئی آیا ہے تو بچے کو سلام کرنے، ملنے اور مناسب گفتگو کرنے کا موقع دیں۔ سفر میں کسی سے بات کرنا چاہتا ہے تو اسے عمر اور صورتِ حال کے مطابق محفوظ حدود میں رہتے ہوئے بات کرنے دیں۔ بچوں کو لوگوں کے درمیان رہنے، مشاہدہ کرنے اور سماجی تجربات حاصل کرنے دیں۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بچے کو بغیر کسی نگرانی کے ہر شخص سے گھلنے ملنے دیا جائے یا خطرناک لوگوں اور غیر محفوظ حالات سے بے احتیاطی کی جائے۔ حفاظت اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن حفاظت اور قید میں فرق ہے۔

والدین کے سامنے مقصد یہ ہو کہ بچہ دنیا کے اچھے اور برے دونوں طرح کے تجربات سے سیکھے، مگر اپنے اصول اور اچھا رویہ صرف اس لیے نہ بدلے کہ سامنے والا کیسا ہے۔

بچے کو سماج کے برے عناصر  سے محفوظ رکھنا  بھی ضروری ہے، لیکن سماج سے اس قدرالگ تھلگ کر دینا کہ وہ سماج کو سمجھ ہی نہ سکے، اس کی سماجی تربیت نہیں ہے۔

 ہر جگہ بچوں کی تصحیح نہ کریں، انھیں خود سمجھنے اور سنبھلنے کا موقع دیں

بچوں کی تربیت کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی ہر بات، ہر حرکت اور ہر غلطی پر فوراً والدین کی اصلاح شروع ہوجائے۔ بعض اوقات بچے کو خود کسی صورتِ حال کو سمجھنے، اس کے نتائج دیکھنے اور اپنے طور پر اس سے نمٹنے کا موقع دینا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اگر ہم ہر چھوٹی مشکل سے پہلے ہی بچے کے لیے راستہ صاف کردیں گے تو وہ اپنے مسائل کو خود حل کرنا کیسے سیکھے گا؟

مثلاً بچے کا اپنے دوست سے جھگڑا ہوگیا اور وہ غصے میں گھرآگیا۔ ہر بار ضروری نہیں کہ والدین فوراً فیصلہ سنائیں کہ ’’تم صحیح تھے یا تمھارا دوست غلط تھا۔‘‘ کبھی اس سے پوچھ لیں کہ کیا ہوا، وہ کیا محسوس کررہا ہے اور وہ اس معاملے کو کس طرح حل کرنا چاہتا ہے؛ اورکبھی صرف اسے کچھ وقت دیں تاکہ وہ اپنے جذبات کو سنبھال سکے اور خود سوچ سکے کہ اب اسے کیا کرنا ہے۔

البتہ بچے کو خود سنبھلنے کا موقع دینا اور اسے بے یار و مددگار چھوڑ دینا دو الگ چیزیں ہیں۔ اگر معاملہ تشدد،مسلسل  بُلنگ (bullying)، خوف، زیادتی یا کسی حقیقی نقصان تک پہنچ رہا ہو تو والدین کا بروقت مداخلت کرنا ضروری ہے۔ لیکن ہر معمولی اختلاف اور ہر چھوٹی غلطی میں فوراً کود پڑنا بھی بچے کی خود اعتمادی اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو کم کرسکتا ہے۔

والدین کبھی کبھی صرف یہ سوال کرکے پیچھے ہٹ سکتے ہیں: ’’تمھارے خیال میں اب کیا کرنا چاہیے؟‘‘، ’’اگر تم خود اسے حل کرنا چاہو تو کیسے کرو گے؟‘‘ یا ’’تمھیں کیا لگتا ہے، اگلی بار تم کیا مختلف کرسکتے ہو؟‘‘

اس طرح بچے کو ہر مسئلے کا تیار حل دینے کے بجائے سوچنے، فیصلہ کرنے، اپنے جذبات سنبھالنے اور اپنے تعلقات کو خود بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے۔ یہی تجربات آگے چل کر اسے ایک خودمختار اور ذمہ دار سماجی فرد بننے میں مدد دیتے ہیں۔

 بچے کی شخصیت کو سماجی آداب کے نام پر نہ دبائیں

سماجی آداب سکھانے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر بچے کو ایک ہی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔ ہر بچہ اپنی فطرت، مزاج اور صلاحیتوں کے ساتھ منفرد ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم سماجی تربیت کے نام پر اس کی شخصیت کے بنیادی رنگ کو ہی مٹا نہ دیں۔

اگر بچہ بہت شرمیلا یا کم گو ہے تو اسے ہر محفل میں سب سے ملنے، ہر ایک سے بات کرنے اور فوراً گھل مل جانے پر مجبور کرنے کے بجائے یہ دیکھیں کہ وہ کن ماحول اور سرگرمیوں میں خود کو زیادہ محفوظ اور پُرسکون محسوس کرتا ہے۔ اس کی شرم و حیا کا احترام کریں، لیکن ساتھ ہی آہستہ آہستہ اسے اتنا سماجی اعتماد ضرور دیں کہ اس کی جھجک اس کی تعلیم، تعلقات یا زندگی کے مواقع کی راہ میں رکاوٹ نہ بن جائے۔

اسی طرح اگر بچہ بہت پھرتیلا، چست اور توانائی سے بھرپور ہے تو اسے دوسروں کے سامنے شرمندہ کرنے یا ہر وقت یہ کہنے کے بجائے کہ ’’چپ بیٹھو، تمھیں ذرا سکون نہیں‘‘ اس کی توانائی کو مناسب راستہ دیں۔ کھیل، جسمانی سرگرمیاں، تخلیقی کام، عملی منصوبے اور ایسی ذمہ داریاں جن میں حرکت اور سرگرمی شامل ہو، اس کے لیے زیادہ موزوں ہوسکتی ہیں۔ مقصد اس کی چستی ختم کرنا نہیں بلکہ اسے ایسی سمت دینا ہے جہاں یہی توانائی اس کی طاقت بن جائے۔

اسی طرح کچھ بچے فطرتاً بہت سنجیدہ، خاموش، غوروفکر کرنے والے یا کتابوں اور علم کی دنیا میں زیادہ دل چسپی رکھنے والے ہوتے ہیں۔ ہر بچہ کھیل کود، شور اور محفلوں میں یکساں دل چسپی نہیں رکھتا۔ اسلامی تاریخ اور علمی روایت میں ہمیں ایسے اہلِ علم بھی ملتے ہیں جن کی طبیعت بچپن ہی سے غوروفکر، مطالعے اور علم کی طرف زیادہ مائل تھی اور ایسی شخصیات بھی جو بچپن سے جری اور خطرناک مہمات کو پسند کرنے والی تھیں۔

واقعہ یہ ہے کہ ہر بچہ الگ ہوتا ہے۔ ہر انسان اپنی الگ فطرت، صلاحیتوں اور رجحانات کے ساتھ دنیا میں آتا ہے اور ممکن ہے کہ اس کی یہی فطرت اسے اس کام کی طرف لے جائے جس کے ذریعے وہ اپنے معاشرے کے لیے کچھ بہتر کرسکے۔ کوئی بچہ فطرتاً پودوں، جانوروں اور ماحول کی حفاظت کی طرف مائل ہوسکتا ہے،کوئی انصاف اور قانون کے میدان میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے، کوئی تعلیم دینے اور سکھانے کے لیے موزوں ہوسکتا ہے، کوئی تحقیق اور دریافت کی طرف جائے گا،کوئی لکھنے پڑھنے میں اپنی صلاحیتیں استعمال کرے گا، کوئی صحت اور علاج کے شعبے میں لوگوں کے کام آئے گا اور کوئی انتظام و قیادت کی صلاحیتوں کے ذریعے معاشرے کو آگے لے جانے میں اپنا حصہ ڈالے گا۔

اگر ہم غور کریں تو ہمارے معاشرے کو ہر طرح کے لوگوں کی ضرورت ہے۔ ہر شخص کا کام، مزاج، صلاحیت اور کردار ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ اسی اختلاف اور تنوع سے ایک معاشرہ مکمل ہوتا ہے۔ اس لیے بچوں کو ایک ہی سماجی سانچے میں زبردستی فٹ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

 اچھے برتاؤ کی وجہ بھی سمجھائیں

بچوں کو صرف نیک اور اچھے کام کرنے کی ترغیب دینا کافی نہیں، انھیں یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ وہ اچھا کام کیوں کریں۔ بچوں کے ذہن میں فطری طور پر بہت سے سوالات آتے ہیں: ہم دوسروں کی مدد کیوں کریں؟ اپنی چیز دوسروں کے ساتھ کیوں بانٹیں؟ کسی سے اچھے طریقے سے بات کرنا کیوں ضروری ہے؟ ہمیں ان سوالات کو خاموش کرانے کے بجائے ان کے جواب دینے چاہییں۔

بچوں کو عمر اور فہم کے مطابق چھوٹی چھوٹی مثالوں سے سمجھایا جاسکتا ہے کہ اچھا برتاؤ صرف دوسروں کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا بلکہ اس سے خود ہمارے دل کو بھی خوشی اور سکون ملتا ہے۔ جب ہم کسی کی مدد کرتے ہیں،کسی ضرورت مند کے کام آتے ہیں یا کسی اداس شخص کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر بھی ایک خوش گوار احساس ملتا ہے۔

اسی طرح اگر بچہ اپنے دوست کے ساتھ کھیلتے ہوئے اپنا کھلونا بانٹتا ہے تو اسے بتایا جاسکتا ہے کہ جس طرح تمھیں خوشی ہوتی ہے جب کوئی دوست تمھیں اپنی چیز کھیلنے کے لیے دیتا ہے، اسی طرح تمھاری یہ چھوٹی سی خوشی کسی دوسرے بچے کے لیے بھی اہم ہوسکتی ہے۔ بھائی بہن کے ساتھ اچھا سلوک کرنے یا پڑوسی کا خیال رکھنے کے موقع پر بھی اسے سمجھایا جاسکتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ اچھا برتاؤ اس لیے کرتے ہیں کیوں کہ ہم سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

بچوں کو یہ بھی سمجھائیں کہ زندگی میں ہمیں ہمیشہ دوسروں کی مدد اور تعاون کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہمارے اردگرد بہت سے لوگ اپنے اپنے کام کے ذریعے ہماری زندگی کو آسان بناتے ہیں۔ صفائی کرنے والے ہمارے آس پاس کے ماحول کو صاف رکھتے ہیں،کچرا اٹھانے والے ہمارے گھروں اور گلیوں سے کچرا لے جاتے ہیں، ڈرائیور بچوں کو اسکول لانے لے جانے میں مدد کرتے ہیں، اساتذہ انھیں تعلیم دیتے ہیں، اسکول کا مختلف عملہ بچوں کی نگہداشت اور دیگر ضروریات کا خیال رکھتا ہے، ڈاکٹر ان کی صحت اور بیماری کے وقت علاج میں مدد کرتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے معاشرے میں بے شمار لوگ اپنے اپنے کام کے ذریعے کسی نہ کسی طرح ہماری زندگی میں آسانی پیدا کر رہے ہیں۔ بچے روزانہ جن لوگوں کو اپنے اردگرد کام کرتے دیکھتے ہیں، انھیں ان کے کام کی اہمیت اور معاشرے کے لیے ان کی خدمات کے بارے میں بتایا جاسکتا ہے۔ اس طرح بچے سمجھ سکیں گے کہ معاشرہ دراصل ایک دوسرے کے تعاون سے چلتا ہے اور تعاون کرنا صرف ایک اچھا اخلاق نہیں بلکہ ایک بہتر معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔

گھر میں رول پلے کروائیں

بچوں کو سماجی مہارتیں سکھانے کا ایک دل چسپ اور مؤثر طریقہ رول پلے بھی ہے۔ بچے کھیل کے ذریعے بہت سی ایسی باتیں آسانی سے سیکھ لیتے ہیں جو محض نصیحت سے شاید ان کے لیے اتنی واضح نہ ہوں۔ اس لیے گھر میں مختلف سماجی صورتِ حال کو کھیل کی شکل میں دہرایا جاسکتا ہے۔

مثلاً بچے کا اسکول میں پہلا دن ہو تو گھر میں اس کے ساتھ یہ کھیل کھیلا جاسکتا ہے کہ آپ ٹیچر بن جائیں اور بچے سے پوچھیں: ’’آپ اپنا تعارف کیسے کروائیں گے؟ ٹیچر سے کیا کہیں گے؟ اگر کسی بچے سے دوستی کرنی ہو تو کیسے بات شروع کریں گے؟‘‘ اسی طرح اگر گھر میں کوئی نیا مہمان آیا ہو یا پڑوس میں کوئی نیا بچہ آیا ہو تو بچے سے پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ اس سے کس طرح تعارف کرے گا اور دوستی کی ابتدا کیسے کرے گا۔

بچے خود بھی مختلف کردار بنا کر کھیلتے ہیں؛کبھی گھر گھر کھیلتے ہیں،کبھی ڈاکٹر اور مریض بنتے ہیں، کبھی دکاندار اور گاہک اورکبھی استاد اور طالب علم۔ والدین ان کھیلوں میں کبھی کبھار شامل ہوکر بچوں کو مختلف سماجی کردار ادا کرنے کا موقع دے سکتے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر بننے والے بچے سے پوچھا جاسکتا ہے کہ مریض سے کیسے بات کرے گا، یا دکاندار بننے والے بچے کو یہ سکھایا جاسکتا ہے کہ گاہک سے کس طرح شائستگی سے گفتگو کرے۔ یوں کھیل ہی کھیل میں بچے سماج کے مختلف کرداروں، تعلقات اور ذمہ داریوں کو سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔

سماج ہماری زندگی کا ناگزیر حصہ ہے، اس لیے ہمیں اپنے بچوں کو سماجی زندگی کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ اس شعور کے ساتھ کہ اپنے وجود، اپنی صلاحیتوں اور اپنی ذمہ داریوں کی آگہی ہی انسان کو معاشرے کا ایک باکردار اور کارآمد فرد بناتی ہے۔ ہمیں بچوں کو ایسا مضبوط اور قوی بنانا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں سے سماج کو فائدہ پہنچا سکیں، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں اور اگر معاشرے میں برائی یا برے لوگ موجود ہوں تو ان کا سامنا بھی شعور، حکمت اور مضبوط کردار کے ساتھ کر سکیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی نسلوں کی بہتر تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے بچوں کو اچھا انسان، مضبوط کردار کا حامل اور اپنے معاشرے و امت کے لیے نفع بخش بنائے، اور ہماری آنے والی نسلوں کو انسانیت کے لیے خیر کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

بچوں کو سماجی مہارتیں سکھائیں

حالیہ شمارے

جولائی 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223