اخلاق کی تعلیم

حکومت کی پالیسیوں کا جائزہ (2)

سید تنویر احمد

کسی بھی ملک میں اخلاق کی تعلیم کے تین اہم دائرے ہوتے ہیں۔ اول، پالیسی ساز ادارےجو نظامِ تعلیم کی تدوین کرتے ہیں۔ دوسرا دائرہ تعلیمی اداروں کا ہے،جہاں نظامِ تعلیم پر عمل درآمد ہوتا ہے۔تعلیمی ادارے منصوبے میں بیان کردہ اخلاقی تعلیم کا نفاذ کرتے ہیں۔ اس دائرے میں سب سے زیادہ اہمیت اساتذہ اور طریقہ تعلیم کی ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ نصاب کیا ہوگا۔ اس نصاب میں اخلاقیات کی آمیزش کتنی ہوگی۔ نصاب کے تحت ترتیب دی گئی کتابیں اور ورک بُکس بھی اہم کردار انجام دیتی ہیں۔ تیسرا اور اہم دائرہ خاندان اور معاشرے کا ہے۔ اس زمرے میں بنیادی اہمیت والدین کو حاصل ہے۔

ان تینوں زمروں پر ہم مرحلہ وار گفتگو کریں گے۔ گذشتہ مضمون میں ہم نے اجمالی طور پر ہندوستان میں تعلیمی نظام سے متعلق پالیسیوں کا جائزہ، بالخصوص اخلاقی تعلیم کے حوالے سے، شروع کیا تھا۔

تعلیم کے شعبہ میں سرگرم افراد اس بات سے واقف ہیں کہ حکومت کی پالیسیاں نظام تعلیم پر کتنا اثر ڈالتی ہیں اور اس کے نتیجے میں کس طرح کا معاشرہ اور افراد تیار ہوتے ہیں۔ تعلیم میں اخلاقیات یا اخلاقی تعلیم کے میدان میں کام کر رہے افراد کا پالیسیوں سے صرف نظر کرکے خود کو محض اسکولوں تک محدود کرلینا مناسب نہیں ہے، اس لیے کہ کتابوں اور طرز تعلیم کا پالیسی سے گہرا تعلق ہے۔ گذشتہ برسوں میں کیرلا کے ایک تعلیمی ادارے کو مذہبی و اخلاقی تعلیم کے ‘‘غیرقانونی ماڈل’’ کو اختیار کرنے کے سبب کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ملک کی مذہبی و لسانی اقلیتیں دستور کی دفعہ 30 کا سہارا لیتے ہوئے کہتی ہیں کہ انھیں اپنی مرضی کے مطابق تعلیمی اداروں کو قائم کرنے اور انھیں چلانے کی اجازت حاصل ہے۔ دفعہ میں چلانے کے لیے انگریزی لفظ ’’ایڈمنسٹر‘‘ (administer) تحریر ہے۔ اس دفعہ کی تشریح میں ماہرین دستور لکھتے ہیں کہ ایڈمنسٹر کا یہاں مطلب اپنی مرضی سے نصاب تعلیم ترتیب دینا نہیں ہے۔ ماہرین کا دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اس دفعہ کے تحت مذہبی اقلیتیں مذہب کی تعلیم کا انتظام بھی اپنے اداروں میں کرسکتی ہیں۔ اخلاق کی تعلیم مذہب سے جڑی ہے۔ اس لیے دفعہ 30 کی واضح تشریح سامنے آنی چاہیے۔ اب اس دفعہ کی محدود تعبیر کرکے اقلیتی اداروں پر ریاستی حکومتیں اپنی پکڑ زیادہ مضبوط کرنا چاہتی ہیں۔ اس کی تازہ مثال حکومتِ گجرات کے محکمہ تعلیم کا وہ فیصلہ ہے جس کی رو سے ریاستی حکومت منظور شدہ اسکولوں میں اساتذہ کی تقرری حکومت کی کمیٹی کی نگرانی میں کی جانی چاہیے۔ چناں چہ اخلاقی تعلیم کے لیے حکومت کی پالیسیوں پر اثرانداز ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی غرض کے تحت ہم یہاں پالیسیوں کی تاریخ کا اجمالی تعارف پیش کر رہے ہیں۔

کن کے لیے اخلاق کی تعلیم: پالیسیوں کا مطالعہ اور اس پر اثر انداز ہونے کی حکمت عملی پر بحث کرنے سے پہلے ایک اور بنیادی اپروچ کا تذکرہ ضروری ہے۔ جب بھی ہم تعلیم پر گفتگو کرتے ہیں ہمارا فوکس ملتِ اسلامیہ ہند ہوتا ہے۔ یہ فوکس فطری بھی ہے اور ملک کے تناظر میں ضروری بھی۔ لیکن ایک دعوتی گروہ، اور وہ گروہ جو کہتا ہے کہ ‘‘ہم ملک کی خیرخواہی’’ کےلیے سوچتے اور منصوبے بناتے ہیں، تو کیا اسے ملک کے تعلیمی نظام اور تمام باشندگانِ ملک کی تعلیم کے میدان میں خیرخواہی کے لیے نہیں سوچنا چاہیے؟ اس پر گفتگو کسی اور مضمون میں ہوگی۔ یہاں ہم اپنے اس مشاہدے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں کہ جب بھی اخلاقی تعلیم کا ذکر ہوتا ہے، ہمارے ذہن میں مسلم طلبا اور ان کی تربیت ہی ہوتی ہے۔ کیا ملک کی خیرخواہی میں یہاں کے عام طلبا کی اخلاقی تربیت شامل نہیں ہوگی؟ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ملک میں ایسا ماحول پروان چڑھے جس میں لوگ خود مختاری اور آزادی کےساتھ سوچ سکیں، تجزیہ کرسکیں، حق و باطل کے فرق کا ادراک حاصل کرسکیں۔ ملک میں امن و امان کی کیفیت برقرار رہے۔ ایک دوسرے کے مذہب پر کیچڑ نہ اچھالیں۔ شہریوں کے درمیان قر بت بڑھے۔ مذاہب پر عمل اور مذاہب کی تعلیم کو عام کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ یہ ایسے اخلاق ہیں جو ملک میں دعوتی ماحول کو برقرار رکھنے کےلیے ضروری ہیں۔ ایسے ہی اخلاق والے معاشرے میں دعوتی گروہ ‘‘سعید روحوں’’ تک با آسانی پہنچ سکتا ہے، اور اس کی تگ و دو ثمرآور ہوسکتی ہے۔ موجودہ حالات میں ہمارے معاشرے سے مذکورہ اجتماعی اوصاف کا فقدان نظر آتا ہے۔ اس کے اسباب میں جہاں سیاسی عوامل کا دخل ہے، وہیں تعلیمی نظام کی کم زوریاں بھی شامل ہیں۔ چند سال قبل تک تعلیم یافتہ افراد کو اخلاقی اعتبار سے بہتر سمجھا جاتا تھا، لیکن اب صورت حال اس کے برعکس ہوچکی ہے۔ تعلیم گاہوں میں شدید فرقہ پرستی اور تعلیم یافتہ افراد میں اسلاموفوبیا اس بات کا غماز ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام طلبا کے اندر ان اجتماعی اوصاف کو پروان چڑھانے سے قاصر ہے جس کے ذریعے بہترین، منکسر المزاج شہری تیار ہوتے ہیں۔

اس لیے ہمیں عام طلبا میں اور مسلمانوں میں اخلاق کی تعلیم پر یکساں توجہ دینےکی ضرورت ہے۔ لیکن ان دونوں میدانوں میں ہماری توجہ بے حد عدم توازن کا شکار ہے۔

موجودہ حالات ہمیں ایک ایسے مستقبل کا پتہ دیتے ہیں جس میں حق بات کہنا دشوار ترین ہوسکتا ہے۔ ایسے مستقبل کی آہٹیں سنائی دے رہی ہیں۔ اس چیلنج کا مقابلہ ملک کی نوخیز نسل کو اعلیٰ انفرادی و سماجی اوصاف سے متعارف اور متّصف کر کے ہی کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ایک قابلِ عمل اخلاقی تعلیم کے منصوبے کی ضرورت ہے جس کا آغاز بہترین تعلیمی پالیسی کے ذریعے ممکن ہے۔ اس کا ایک ماڈل ہم اس سلسلہ مضامین کے اس حصہ میں پیش کریں گے جو عملی کاموں سے متعلق ہوگا۔ (ان شاء اللہ)

واضح رہے کہ ملک کی آزادی کے بعد بھی فوری طور پر تعلیمی نظریات اور نظام و انصرام میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی تھی بلکہ میکاولے کی رپورٹ، جسے ’میکاولے منٹس‘ کہا جاتا ہے، کی روشنی میں انگریزوں نے جس برطانوی قانونِ تعلیم (British Education Act 1835) کو منظور کیا تھا اور اس کے تحت جو نظام کام کر رہا تھا وہی نظام آزادی کے بعد بھی جاری رہا۔ البتہ کئی دانش وروں، ماہرین تعلیم اور لیڈروں کی جانب سے اس پر تشویش کا اظہار ہوتا رہا کہ ہمارے تعلیمی نظام میں مذہب، روحانیت اور اخلاقیات کی تعلیم کا معقول انتظام ہونا چاہیے۔ اس وقت جاری نظامِ تعلیم کے خالق میکاولے مذہب، روحانیت اور اخلاقیات کی تعلیم اور اس سے متعلق مضامین کی تعلیمی نظام میں شمولیت کےمخالف تھے۔ ان کا موقف بڑا واضح تھا، وہ یہ کہ ہمارا تعلیمی نظام (یعنی اس وقت کی برطانوی سرکار کا تعلیمی نظام) برطانوی حکومت کو استحکام بخشنے اور تعلیم یافتہ افراد کو روزگار کے قابل بنانے کا ہونا چاہیے۔ میکاولے کی رپورٹ نے اخلاق کی تعلیم کے متعلق یہ رائے پیش کی تھی کہ مذہب اور اخلاق کی تعلیم کا ذمہ حکومت پر نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے بقول مذہب انسان کا انفرادی معاملہ ہے، چناں چہ اسے گھر اور کمیونٹی سینٹروں کے ذمہ کر دینا چاہیے۔ مذہبی تعلیم پر برطانوی حکومت کے اخراجات پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اس نے لکھا تھا کہ ‘‘ہم کیوں چرچ میں بیٹھ کر وظیفہ پڑھنے والوں پر خرچ کریں۔’’ کہا جاتا ہے کہ میکاولے مذہب بیزارکے طور پر معروف تھا۔

آزادی کے بعد اس بحث کا آغاز ہوگیا تھا کہ اب ملک کا نظام تعلیم ہماری ملکی اور سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہونا چاہیے۔ چناں چہ آزاد ہندوستان کی وزارتِ تعلیم نے اس سلسلے میں پالیسی وضع کرنے کے لیے بتدریج مختلف کمیٹیاں بنائیں۔ ان میں سے چند قابلِ ذکر کمیٹیوں کا تذکرہ اور ان کمیٹیوں کی سفارشات ہم اس مضمون میں پیش کر رہے ہیں۔ پہلی قسط میں ایک کمیٹی (The Committee on Religious and Moral Instruction) کی جھلکیاں ہم نے پیش کی تھیں۔ اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ 1959 میں پیش کی تھی۔ دوسری اہم کمیٹی کا مختصر جائزہ ذیل کی سطور میں پیش کیا جارہا ہے۔

دی سیکنڈری ایجوکیشن کمیشن

آزادی سے پہلے حکومتِ برطانیہ کے دور میں 1920 میں سنٹرل ایڈوائزری بورڈ آف ایجوکیشن قائم کیا گیا تھا جو آج بھی قائم ہے۔ اس بورڈ کا ایک اہم مقصد ملک اور ریاستوں کو تعلیم کے شعبے میں رہ نمائی کرنا ہے۔ اس بورڈ کے سربراہ اکثر وزرائے تعلیم ہوا کرتے ہیں۔ اس کا اجلاس سال میں ایک بار ہوتا ہے، لیکن ماضی میں کئی سال اس کا اجلاس متواتر نہیں بھی ہوا ہے۔ اس بورڈ کا ذکر نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں بھی ملتا ہے۔ پیرا گراف 25 میں بورڈکو استحکام بخشنے اور اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے منصوبہ سازی کی بات کہی گئی ہے۔

آزادی کے چند ماہ بعد جنوری 1948 میں اس بورڈ کا 14 واں اجلاس منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس نے وزارتِ تعلیم کو یہ مشورہ دیا تھا کہ سیکنڈری ایجوکیشن کے نظام کا جائزہ لینے اور اصلاحات تجویز کرنے کےلیے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے۔ واضح رہے کہ اس وقت بورڈ کی صدارت مولانا ابوالکلام آزاد فرما رہے تھے۔ مولانا اس اہم ترین بورڈ کی صدارت 1948 سے 1958 تک کرتے رہے۔ درمیان میں 1951، 1954 اور 1957کے تین برسوں کے دوران مولانا کے بجائے دیگر افراد اس کے چیئرمین رہے۔ اس بورڈ کی صدارت اور وزیر تعلیم کی حیثیت سے مولانا ابوالکلام آزاد پر جتنا کچھ تحقیقی کام ہونا چاہیے تھا، وہ نہیں ہوسکا ہے۔ ہمارے ریسرچ اسکالراور پروفیسر صاحبان اس پر توجہ فرمائیں۔

بورڈ اپنے مسلسل تین اجلاسوں میں، جو ہر سال منعقد ہوتے رہے، حکومتِ ہند کو یہ تجویز پیش کرتا رہا تھا کہ سیکنڈری ایجوکیشن (ثانوی تعلیم) کا جائزہ لینے کےلیے ایک کمیشن مقرر ہونا چاہیے۔ حکومت نے اس سفارش کو 1952 میں قبول کرتے ہوئے مندرجہ ذیل افراد پر مشتمل کمیشن تشکیل دیا۔ ڈاکٹر اے لکشمن سوامی مدلیار، وائس چانسلر مدراس یونیورسٹی؛ پرنسپل جان کرسٹ جیسس کالج، آکسفرڈ؛ ڈاکٹر کینتھ راسٹ ولیمس، ایسوسی ایٹ ڈائرکٹر، سدرن ریجنل ایجوکیشن بورڈ، اٹلانٹا (امریکہ)؛ محترمہ ہنسا مہتا، وائس چانسلر بڑودہ یونیورسٹی؛ ڈاکٹر کے ایل شریمالی پرنسپل، ودیہ بھون ٹیچرس ٹریننگ کالج، ادے پور۔ ان کے علاوہ مزید چار ارکان اس کمیشن کے ممبران تھے۔ کمیشن نے اپنے کاموں کا آغاز 6 اکتوبر 1952 سے کیا جس کا افتتاح مولانا ابوالکلام آزاد نے کیا تھا۔ 9 افراد پر مشتمل کمیٹی میں ایک بھی مسلمان نہیں تھا۔ البتہ بعد میں ریاستوں کی نمائندگی کےلیے مزید 17 افراد کو اس کمیشن میں شامل کیا گیا۔ ان 17 افراد میں سے ایک جناب اے اے کاظمی، ڈائرکٹر آف ایجوکیشن، ریاست جموں و کشمیر بھی شامل تھے۔ جملہ 26 ارکان میں سے صرف ایک رکن مسلمان تھا۔ آزاد ہندوستان کے شعبہ تعلیم سے متعلق پالیسی ساز اداروں میں مسلمانوں کی نمائندگی بہت کم زور رہی ہے۔ ویسے اس جہت سے ملت کو جس طرح کی سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئے تھیں وہ نہیں ہوئیں، ملت علی گڑھ، جامعہ ملیہ، دیوبند اور الامین ہی میں مست قلندر بنی رہی، یا پھر سیاست کو موردالزام ٹھہراتی رہی۔

مذکورہ کمیشن کو جن امور کا جائزہ لینا تھا، ان میں ایک اہم نکتہ ثانوی اسکولوں میں مذہب اور اخلاق کی تعلیم کا انتظام بھی تھا۔ کمیشن نے اپنی تیزگامی کا اظہار کرتے ہوئے تفویض شدہ کام کو ایک سال میں مکمل کرلیا تھا۔

موجودہ قومی تعلیمی پالیسی کو وضع کرنے کے لیے نچلی سطحوں سے مشورے طلب کیے گئے تھے۔ پرنسپل اور اساتذہ سے تجاویز حاصل کی گئی تھیں۔ یہ کام این ڈی اے سرکار کی پہلی میقات میں ہوا تھا۔ اس وقت تعلیم کے میدان میں مصروف کار افراد کی اتنی بڑی تعداد میں شمولیت کو سراہا جارہا تھا۔ یہ بھی کہا گیاتھا کہ ایسا پہلی بار ہو رہا ہے، لیکن اس کمیشن کے طریقہ کار کا مطالعہ بتاتا ہے کہ 1952 میں کمیشن (سیکنڈری ایجوکیشن کمیشن) نے اس دور میں ایسا ہی طریقہ اختیار کیا تھا۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کو مدون کرنے والوں نے، سیکنڈری ایجوکیشن کمیشن کے طریقہ کار کو اختیار کیا تھا۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی تدوین میں تقریباً پانچ سال صرف کیے گئے، جب کہ مذکورہ کمیشن نے 1953 میں ڈیڑھ سال کی قلیل مدت میں اپنی رپورٹ حکومتِ ہند کو سونپ دی تھی۔ جو افراد موجودہ تعلیمی پالیسی کی تعریف میں پل باندھ رہے ہیں انھیں سیکنڈری ایجوکیشن کمیشن کی رپورٹ کو ضرور پڑھنا چاہیے۔ یہ رپورٹ ملک کی تعمیر کا قابلِ عمل اور ہندوستانی معاشرے کے تناظر میں موجودہ پالیسی کے مقابل بہتر منصوبہ پیش کرتی ہے۔ یہ رپورٹ مرکزی تعلیمی بورڈ کی ویب سائٹ (https:// taleemiboard.org) پر دستیاب ہے۔ تعلیمی میدان میں سرگرم افراد اسے پڑھ سکتے ہیں۔

321 صفحات پر مشتمل اس مفصل رپورٹ کا آٹھواں باب اس مضمون کے موضوع کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ باب کا عنوان ہے اخلاق کی تعلیم (The Education of Character)۔ صفحات 119 تا 131، یعنی 12 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے اس حصے میں اخلاق کی تعلیم کی اہمیت اور طریقہ کار پر گفتگو کی گئی ہے۔ اخلاقی تعلیم کے حوالے سے اتنی تفصیل نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں بھی نہیں ہے۔ اس باب کے اہم نکات کو ہم ذیل میں پیش کر رہے ہیں:

تعلیم کا اعلیٰ ترین مقصد بااخلاق شہریوں کی تشکیل ہونا چاہیے۔ اخلاق کے بغیر تعلیم انسان کو محض ایک معاشی حیوان بنا دے گی۔

اخلاق کی تعلیم کی ذمہ داری جہاں خاندان اور معاشرے پر ہے وہیں تعلیم گاہوں کی بھی ہے، اخلاقی تعلیم کے لیے اسکول، خاندان اور معاشرے میں اشتراک ضروری ہے۔

اسکولوں میں اخلاقی تربیت کا اہتمام کرنا اساتذہ کے ذمہ ہے۔ اس کے لیے اساتذہ اور طلبا میں صرف پیشہ ورانہ رشتہ نہ ہو بلکہ یہ رشتہ استاد سے اونچا اٹھ کر مربی کا ہونا چاہیے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ اساتذہ اپنی ذمہ داری محض امتحانات میں طلبا کو کام یاب کرانے کی حد تک محدود نہ رکھیں، بلکہ طلبا کی شخصیت سازی کی طرف بھی توجہ کریں۔

اسکولوں میں اخلاقی تعلیم کا عمل اس وقت تک موثر ثابت نہیں ہوتا ،جب تک معاشرے کے بڑے افراد اس کردار کو پیش نہ کریں جو اسکول میں پڑھائے جارہے ہیں۔ اس نکتے کے تحت کمیشن نے خاص طور پر سیاسی لیڈروں کے رویے، اخلاق اور ان کی تقاریر کا ذکر کیا ہے۔ یہ نکتہ 1953 میں پیش کیا گیا تھا، لیکن آج بھی یہ فقرہ اس دور سے زیادہ اب توجہ طلب ہے۔ نئی قومی تعلیمی پالیسی میں نفرت کو کم کرنے، بدگمانیوں کا قلع قمع کرنے، ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کرنےاور ان اوصاف کو طلبا میں پیدا کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ طلبا ہوسکتا ہے کلاس روم میں ان اوصاف کے بارے میں اساتذہ سے پڑھ رہے ہوں، لیکن اسکول سے باہر کی دنیا میں آج طلبا کیا دیکھ اور سن رہے ہیں؟ ٹی وی اسکرین پر غصہ، نفرت، بے بنیاد باتیں، غلط تاریخ، انتہا پسندی، فرقہ پرستی کی تائید، یہی کچھ سوشل میڈیا کے ذریعے اوراسٹیجوں کے ذریعے سنا اور دیکھا جارہا ہے۔ بقول مشہور صحافی رویش کمار،طلبا کو زندہ بم بنایا جارہا ہے۔ ذرا سی چنگاری کے نتیجے میں یہ پھٹ کر تباہی مچا سکتے ہیں۔کمیشن نے اس وقت متنبہ کیا تھا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ کتابی باتیں امتحان کے لیے نہیں، ملک کی تعمیر کے لیے ہونی چاہئیں۔

کمیشن نے اخلاقی تربیت کے لیے ہم نصابی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔

کمیشن نے اخلاقی تربیت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے بعد، انھیں طلبا میں پیدا کرنے کےلیے چند تجاویز بھی پیش کی تھیں جن میں سے چند اہم تجاویز اس طرح ہیں:

تمام اسکولی سرگرمیوں میں اخلاق کا پاس و لحاظ رکھا جائے اور ان سرگرمیوں کے ذریعے بچوں میں اخلاق پیدا کیے جائیں۔

طلبا کے گروپ بنائے جائیں۔ آج سی بی ایس ای اسکولوں میں ہاؤس (house) کا جو رواج جاری ہے، وہ کمیشن کی سفارش میں شامل تھا۔ ہاؤس بنانے کا مقصد یہ تھا کہ مختلف زبانوں، کلچر اور طبقات کے طلبا ایک ساتھ مل کر سرگرمیاں انجام دیں۔ اس سے ‘‘تنوع میں وحدت’’ کا درس ملتا ہے، جو بقول کمیشن ہندوستانی معاشرے کےلیے ضروری ہے۔

ہم نصابی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے جس میں کھیل، اسکاوٹ و گائیڈ،این سی سی اور این ایس ایس قابلِ ذکر ہیں۔

اسی باب کے ذیل میں ایک شق ‘‘مذہب کی تعلیم’’ کی بھی ہے، جس کے تحت مذہب کی تعلیم اور اس کے اثرات پر گفتگو کی گئی ہے۔ مذہب کی تعلیم کو تسلیم کرتے ہوئے کمیشن نے واضح کیا ہے کہ چوں کہ ہندوستان کی حکومت سیکولر بنیادوں پر کام کرتی ہے، اس لیے حکومت کے وضع کردہ تعلیمی نظام کو کسی مذہب کی نہ تو تائید کرنی چاہیے اور نہ ہی تبلیغ۔ اس وضاحت اور حکومت کے اس موقف کی وضاحت کرنے کے بعد کمیشن کہتا ہے کہ اسکول نصابی تعلیم کے اوقات کے بعد مذہب کی تعلیم کا انتظام کرسکتا ہے، لیکن اسکولی اوقات کے بعد کیے جانے والے اس انتظام میں تمام طلبا کی شرکت کو لازمی نہ ٹھہرایا جائے۔ ایک اور ماڈل کا تذکرہ کرتے ہوئے کمیشن نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ مذہبی تعلیم کی گھنٹی میں، جو اسکولی اوقات کے بعد ہوگی، کسی خاص مذہب کی تعلیم کا انتظام کیا جاسکتا ہے اور وہ طلبا جو اس گھنٹی میں شریک ہونا نہیں چاہتے، ان کے لیے اخلاقی تعلیم کی کلاس کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔ کمیشن کی یہ ایک اہم تجویز تھی لیکن اب بعض ریاستی حکومتیں ایسا کرنے پر روک لگا چکی ہیں۔ جب ہم پالیسی پر اثرانداز ہونے کا منصوبہ بنائیں گے، اس وقت اس نکتے سے ہمیں بڑی مدد ملے گی۔

سرکاری نصاب تعلیم اور اسکولی کتب سے مذہبی کتابوں کو برطانوی دور سے ہی دور رکھا گیا ہے۔ اس کے جواز میں یہ دلیل پیش کی جاتی رہی ہے کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔ سرکار نہ تو کسی مذہب کی نمائندہ ہے اور نہ ہی کسی مذہب کو فروغ دیتی ہے۔ حکومت کی سیکولر پالیسی اور تعلیم، یہ ایک علیحدہ موضوع ہے، تاہم سر دست ہم اس حقیقت کو پیش کرنا چاہیں گے کہ اب تک تعلیمی نظام میں مذہب کی تعلیم کو شامل نہیں کیا گیا تھا ، لیکن گذشتہ دنوں اس پالیسی سے انحراف کیا گیا۔ وزارتِ تعلیم کے تحت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ (این آئی او ایس) تعلیم کو عام کرنے کا ایک اہم ادارہ ہے۔ گذشتہ دنوں اس ادارے کے تحت دسویں جماعت کے لیے چند مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں ‘‘وید ادھیاین’’ بھی شامل ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وید مذہبی کتاب نہیں ہے؟ اگر ہے تو یہ گنجائش کیسے پیدا کی گئی ہے؟ جب وید ایک مضمون کی حیثیت سے شامل ہے تو پھر گروگرنتھ صاحب، بائبل، بسویشور ‘‘وچن’’، بدھ کے ‘‘سوتر’’ یا ‘‘تپتکا’’ (Tipitaka)، مشہور تمل فلسفی تِروولور (Thiruvalluvar) کی مشہور تصنیف تیرکولر (Tirukkural) اور مطالعاتِ قرآنی (Quranic Studies) جیسے مضامین بھی شامل کیے جاسکتے تھے (واضح رہے کہ وید ادھیاین ان 25 مضامین کی فہرست میں شامل ہے جن میں سے دسویں جماعت کے طلبا کو پانچ مضامین کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ ادھر چند ماہ قبل اردو اخبارات نے یہ بیانات شائع کیے تھے کہ اب این آئی او ایس کی دسویں جماعت کے طلبا کو وید بھی پڑھنا ہوگا۔ یہ بات بھی درست نہیں ہے۔ وید ادھیاین دراصل ایک اختیاری مضمون ہے۔ طالب علم چاہے تو اس کا انتخاب کرے، یا پھر دوسرا مضمون منتخب کرلے۔)

البتہ صرف وید ہی کیوں؟ تکثیری سماج میں مذکورہ مضامین بھی پڑھنے کی اجازت طلبا کو ملنی چاہیے۔ یہ بحث اس مضمون میں اس لیے ہم نے شامل کی ہے کہ مذکورہ کمیشن نے مذہب کی تعلیم کو اخلاقی تعلیم سے جوڑا ہے۔ جب وید کو ایک مضمون کی حیثیت دی جاسکتی ہے، تو مذکورہ مذہبی و ثقافتی کتابوں کو بھی مضامین کی حیثیت ملنی چاہیے۔

کمیشن نے یہ بھی کہا کہ نصابی کتب میں مذہبی قائدین اور شخصیات پر خاکے اور ان کی سوانح سے دل چسپ اور سبق آموز واقعات کو شامل کیا جائے۔ یہ کام درسی کتب کی تدوین کرنے والی ریاستی کمیٹیاں اور این سی آر ٹی انجام دے رہی ہیں۔ لیکن جن اسباق کو شامل کیا جاتا ہے وہ ملک میں آباد مختلف مذہبی اکائیوں سے مناسبت بھی کم رکھتے ہیں اور متناسب بھی نہیں ہوتے۔ تاریخ اور سماجیات کی کتابوں میں اس طرح کے مواد کی درستی اور اسے متناسب بنانے کےلیے اپریل 2021 میں پارلیمنٹ نے ایک مجلس قائمہ (standing committee) تشکیل کی تھی۔ اس کمیٹی نے اساتذہ، طلبا اور طلبا کے سرپرستوں سے اس حوالے سے ان کے اعتراضات اور تجاویز کو طلب کیا تھا۔ اس کے لیے کمیٹی نے ایک ماہ کی مہلت دی تھی۔ ہم نے اس اعلامیے کی طرف مختلف ریاستوں میں تعلیمی میدان میں مصروف ذمہ دار افراد کی توجہ مبذول کروائی تھی۔ یہ بھی گزارش کی تھی کہ وہ اپنے اعتراضات اور تجاویز ہمیں بھی ارسال کریں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمیں صرف ریاست جھارکھنڈ سے جواب موصول ہوا ہے۔ شاید اس کی وجہ کووڈ کی وبا رہی ہو۔ ویسے ملت کے حلقوں میں تعلیم اور حکومت کی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کی سرگرمیوں کو کووڈ سے بہت برسوں قبل کوئی وائرس متاثر کرچکا ہے، اس وائرس کی دریافت اور اس کا علاج ہم سب کو مل کر کرنا ہے۔

جولائی 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau