اخلاق کی تعلیم

ایک نئے نظام کی ضرورت (1)

سید تنویر احمد

بھارت کی آزادی کے ساتھ مسلمانوں کی تعلیم کا مسئلہ ملت کے اہم مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بن کر ابھرا اور وہ ہنوز برقرار ہے۔ مسلمانوں کو درپیش تعلیم کا مسئلہ ہمہ پہلو ہے۔ اس کا ایک اہم زاویہ اخلاقی تعلیم کا ہے۔ آزاد بھارت میں ملت اخلاق کی تعلیم سے مراد دین کی تعلیم لیتی رہی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر انقلابِ فرانس کے بعد جب سیکولرازم کو فروغ حاصل ہوا تو تعلیم کے شعبہ سے مذہب کو خارج کردیا گیا۔ مذہب کی تعلیم، مذہبی اداروں کے ذمہ آئی اور سرکاری اسکول سیکولر تعلیم کا مرکز بن گئے۔ جب کہ سیکولر تعلیم معاش کا اہم وسیلہ بن گئی۔ صنعتی انقلاب سے پہلے ہنر معاش کا ذریعہ تھا۔ نشاۃ ثانیہ نے تعلیم یافتہ ہنرمندوں کو کارخانوں میں اہمیت دینی شروع کی۔ ہنر کے ساتھ تعلیم ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے لیے محرک ثابت ہوئی۔

معاشی شعبہ میں مشین، کارخانوں، فیکٹری ملازمین، سائرن اور شفٹوں کا غلبہ طویل عرصہ رہا۔ اب معاش کی نکیل ہنرمندوں سے زیادہ علمی اور تخلیقی و تجزیاتی صلاحیت رکھنے والے اذہان کے ہاتھوں میں ہے۔

تعلیم معاش کی غلام بن گئی اور اس غلامی میں تعلیم نے اخلاق کا دامن چھوڑ دیا۔ تعلیم سے اخلاق کو خارج کردیا گیا تو انسان محض مصنوعات کی تیاری کا ایک اہم وسیلہ بن کر رہ گیا۔ معاشی شعبہ میں تو وہ فِٹ ہوگیا لیکن معاشرت میں مایوسی سے دوچار ہونے لگا۔ سماجی رابطہ، معاشرت، ازدواجی تعلقات، انسانی ہمدردی، دکھ درد کا احساس، صلہ رحمی، احساس جواب دہی وغیرہ انسانی خصوصیات رفتہ رفتہ کم زور پڑتی گئیں۔ ان انسانی خصوصیات کو دین میں اخلاقِ حسنہ کہا جاتا ہے تو سیکولر طرز زندگی میں سماجی مہارتیں (social skills) کہا جاتا ہے۔

اخلاق حسنہ اور سوشل اسکلس میں ایک جوہری فرق ہے۔ اخلاق حسنہ کا منبع توحیدی نظریہ ہے اور سوشل اسکلس مادہ پرستی و دنیا پرستی سے جنم لیتے ہیں۔ اول الذکر رضاے الٰہی کے لیے ہوتے ہیں جب کہ موخرالذکر کا زیادہ تعلق نفس پرستی سے ہے۔ معاشرے کو مطلوب افراد اخلاق حسنہ تیار کرتے ہیں جب کہ کارپوریٹ ورلڈ کے لیے اہل افراد سوشل اسکلس کی تربیت کے ذریعے تیار ہوتے ہیں۔ کسی فرد میں اخلاق اگر نفس پرستی، مفاد پرستی اور دنیا پرستی کے فریم میں ہیں تو وہ موجودہ دور کی اصطلاح میں سوشل اسکلس ہیں اور جب یہ اخلاق اس فریم سے نکل کر ‘‘تلک حدود اللہ’’ (یہ اللہ کے حدود ہیں) سے وابستہ ہوجاتے ہیں تو اخلاق حسنہ کہلاتے ہیں۔ اخلاقِ حسنہ کا منبع وحی الٰہی اور نمونہ سیرت پاک ﷺ ہے۔ اخلاق حسنہ پیدا کرنا انسانی مشن ہے۔ اس عمل کو تزکیہ کہا گیا۔ تزکیہ محض تسبیح کے دانوں کو پھیرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اخلاق کو اپنی زندگی میں جذب کرکے ایسی شخصیت کو تعمیر کرنے کا نام ہے جو معاشرے میں مثالی ہو۔ حدود اللہ سے آگاہ ہو۔ اس کی زندگی سراسر شہد کی مکھی کے مماثل ہو۔ پاک کھائے اور معاشرے کے لیے مفید عمل کو اختیار کرے۔

اس مختصر وضاحت کے بعد یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اسلامی تعلیمی نظام میں سوشل اسکلس نہیں بلکہ اخلاقِ حسنہ پیدا کرنے پر زور ہے۔ یہی انبیا کا اور حضرت محمد ﷺ کا مشن رہا۔

ملتِ اسلامیہ ہند اخلاقی تعلیم پر زور دیتی رہی ہے۔ سیکولر تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کے انتظام کی کوشش کرتی رہی ہے۔ ملت کے اس جذبہ کو تعلیمی اداروں میں جاری کرنے کے لیے جہاں مخلصانہ کوشش ہوتی رہی ہیں وہیں اس جذبے اور طلب کا کئی کمرشیل تعلیمی ادارے استحصال کر رہے ہیں۔

ان دنوں کئی تعلیمی ادارے اپنے اشتہارات میں ‘‘دین و دنیا کی تعلیم کا حسین امتزاج’’ جیسے فقروں کا بھرپور استعمال کر رہے ہیں۔ ایسے اشتہارات میں بچے کی ایک دل چسپ تصویر بھی ہوتی ہے۔ تصویر میں بچہ ایک ہاتھ میں قرآن دوسرے ہاتھ میں قلم اور گلے میں اسٹیتھو اسکوپ (stethoscope) لٹکائے ہوئے ہوتا ہے۔

دینی تعلیم اور سیکولر تعلیم دونوں کے امتزاج کا تعلیمی نظام ہویا صرف دینی تعلیم کا نظام، ان دونوں نظاموں میں دینی اور اخلاقی تعلیم کا ایک ہی اپروچ ہے۔

بھارت کا تعلیمی نظام اور اخلاق کی تعلیم

بھارت میں تعلیم کی تاریخ ویدوں کے دور سے شروع ہوتی ہے۔ جسے 4000 ق م قدیم قرار دیا جاتا ہے۔ قدیم دور میں بودھ کے ماننے والوں نے تعلیم کے میدان میں خوب کام کیا تھا۔ بودھ مذہب کے علما کی رہائش گاہوں کو ‘وِہار’ کہا جاتا تھا۔ ہر ‘وِہار’ تعلیمی مرکز بھی ہوا کرتا تھا۔ تعلیم کے حوالے سے برہمنوں اور بدھسٹوں میں زبردست رسہ کشی رہی۔ برہمن واد علم کو برہمن کی میراث قرار دیتا ہے۔ برہمن علم کی عمومیت کو طبقاتی نظام پر ضرب تصور کرتے تھے جب کہ بودھ علم کو عوام تک پہنچانے میں مسرت محسوس کرتے تھے۔ قدیم ہندوستان کی یونیورسٹی نالندہ، بودھ مذہب کے پیروکاروں نے قائم کی تھی جو طبقاتی نظام اور برہمن واد کے خلاف تعلیم دیتی تھی۔ چاہے بدھسٹوں کی تعلیم گاہیں ہوں یا برہمنوں کے آشرم دونوں مراکز میں مذہب اور روحانیت کی تعلیم کو مرکزیت حاصل تھی۔

مغلیہ دور میں بھی بنیادی اہمیت مذہبی تعلیم ہی کو حاصل تھی تاہم دیگر مضامین جن میں طب اور دیگر ہنر شامل ہیں وہ بھی پڑھائے اور سکھائے جانے لگے تھے۔

مغلیہ دور میں مذہب کے علاوہ افراد کو دربار کے کام، نظم و نسق سنبھالنے، ٹیکس (لگان) کی وصولی، طب اور عدلیہ کا نظام چلانے کے لیے افراد کی ضرورت ہوتی تھی۔ چناں چہ اسی مانگ کے تحت تعلیم کا انتظام تھا۔ مکاتب کا جال مغلوں کے دور میں بڑا وسیع تھا۔ مکاتب، مدارس اور ہندو دھرم کے آشرموں کے لیے حکومت کی جانب سے گرانٹ (مدد) دی جاتی تھی۔ غیر مغلیہ علاقوں میں بھی اسی طرح کا نظام تھا۔

انگریزوں نے اصلاحات کے نام پر جن شعبوں میں تبدیلیاں کیں ان میں تعلیم کا شعبہ بھی تھا۔ انگریزی کا فروغ تعلیم کے شعبہ میں ان کی اولین ترجیح تھی۔ شعبہ تعلیم کا جائزہ لینے اور ان میں اصلاحات تجویز کرنے کے لیے میکاولے کمیٹی تشکیل دی گئی۔ ٹی۔ بی۔ میکاولے نے اپنی رپورٹ 2 فروری 1835 میں پیش کی۔ اس رپورٹ میں جن تجاویز کو پیش کیا گیا تھا انھیں اسی سال قانونی حیثیت دی گئی اور ‘‘انگلش ایجوکیشن ایکٹ 1835 ’’ (English Education Act) منظور کیا گیا۔ اس قانون کی رو سے عربی، فارسی اور سنسکرت کے مقابل انگریزی کو فوقیت دی جانے لگی۔ مدارس کو سرکاری امداد کم کردی گئی۔ مذہب کی تعلیم سے انگریزی حکومت نے ہاتھ اٹھا لیا۔

ملک آزاد ہوا۔ لیکن آج بھی میکاولے ماڈل ہی کے اثرات باقی ہیں۔

ویسے آزادی کے بعد ہی سے ملک کی تعلیمی پالیسی کو میکاولے کے اثرات سے آزاد کرنے کے لیے سنجیدہ اور غیرسنجیدہ کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ چوں کہ میکاولے کا تعلیمی نظام دنیا کے بڑے حصہ میں قبولیت رکھتا تھا اور خود ملک کے نظام کو چلانے کے لیے درکار افراد اسی نظام سے تیار کیے جاسکتے تھے اس لیے میکاولے نظام میں جوہری تبدیلیوں کے بجائے اس نظام میں اخلاقیات کو شامل کرنے کی گفتگو کا آغاز ہوا۔

آزادی کے بعد بھارت دستوری اعتبار سے جمہوری ملک قرار پایا۔ تمام مذاہب کا احترام۔ مذہب پر عمل اور اس کی تبلیغ کی اجازت کو دستوری حقوق میں شامل کیا گیا۔ دستور میں لفظ سیکولرزم، دستور کی 42 ویں ترمیم کے ذریعے 1976 میں شامل کیا گیا۔ لہٰذا 1976 کے بعد ملک کے نظامِ تعلیم میں مذہب کی تعلیم کی گنجائش باقی نہیں رہی البتہ مذاہب کا تعارف، مذاہب کی تاریخ و مذہبی رہ نماؤں کے بارے میں معلومات کو نصاب تعلیم میں شامل کیا جاتارہا۔ یہ اور بات ہے کہ ان کی شمولیت غیرمناسب انداز میں ہوا کرتی ہے اور بعض سرکاری کتابوں میں دروغ بیانی کی جاتی ہے تو بعض اسباق میں مذاہب بالخصوص اسلام اور مسلم کلچر کی مسخ شدہ تصویر پیش کی جاتی رہی ہے۔

آئین میں لفظ سیکولرزم کی شمولیت کے بعد اور اس سے پہلے بھی بھارت کا تعلیمی نظام دیگر سیکولر ممالک کے تقابل میں بہت کم سیکولر رہا ہے۔ بھارت میں دائیں بازو کے سیاسی محاذ نے یوں تو آزادی کے 70 سال بعد مرکزی حکومت کی باگ ڈور سنبھالی ہے لیکن آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیم ودیا بھارتی جو مخفف ہے ودیا بھارتی اکھل بھارتی شکھشا سنستھان کا، تعلیم کے میدان میں بڑے عرصے سے سرگرمِ عمل رہی ہے۔ اس ادارے کا باضابطہ قیام 1977 عیسوی میں ہوا تھا۔ لیکن آر ایس ایس کے متعلق معلومات رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس تنظیم کا قیام اور پھیلاؤ تعلیمی اداروں ہی سے ہوا تھا۔ یوں تو ڈاکٹر ہیڈگیوار کو آر ایس ایس کابانی قرار دیا جاتا ہے لیکن ہیڈگیوار کے مربی ڈاکٹر مُنجے (Moonje)رہے ہیں۔ مُنجے کا تعلق مہاراشٹر سے تھا۔ مُنجے گول میز کانفرنس میں شرکت کی غرض سے لندن گئے تھے۔ بعد ازاں ڈاکٹر مُنجے نے کانفرنس میں مزید شرکت سے استعفا دے دیا تھا اور وہیں سے انھوں نے 1931 میں مسولینی سے ملاقات کی غرض سے اٹلی کا سفر کیا تھا۔ مسولینی سے ان کی بھرپور ملاقات رہی۔ انھوں نے فسطائیت کے مسولینی ماڈل کا بڑی گہرائی کے ساتھ مطالعہ اور مشاہدہ کیا۔ مسولینی کے زیر اقتدار تعلیمی اداروں اور تعلیمی نظام کا جائزہ لیا۔ اس مشاہداتی اور مطالعاتی دورے سے لوٹنے کے بعد ڈاکٹر مُنجے نے مہاراشٹر کے شہر ناسک میں سنٹرل ہندو ملٹری ایجوکیشن سوسائٹی قائم کی۔ اس سوسائٹی کے تحت 1937 میں ‘‘بھونسالہ ملٹری اسکول’’ قائم کیا گیا۔ یہ اسکول مسولینی کے انقلاب کے ماڈل کا ایک حصہ ہے۔ اس اسکول میں طلبا کو فوج کے مختلف شعبوں میں بھرتی کے لیے ترغیب دی جاتی ہے اور انھیں دِفاع کے محکمہ میں منعقد ہونے والے مختلف مسابقتی امتحانات کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ اسکول 2008 میں اس وقت میڈیا کی سرخیوں میں میں جگہ پاگیا جب ایک فوجی افسر پروہت، جو مہاراشٹر میں ہوئے مختلف بم دھماکوں میں ملزم قرارپایا تھا، کا تعلق اسی اسکول سے پایا گیا۔ یہاں اس تفصیل کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ودیا بھارتی کے تعلیمی نظریہ کو سمجھا جائے اور اس مضمون کے اگلے حصہ میں ہونے والی بحث کے لیے پس منظر فراہم کیا جائے۔

ملک کی آزادی کے بعد شعبۂ صحافت، شعبۂ تعلیم اور پالیسی ساز اداروں میں کمیونسٹ نظریات کے حاملین کے اثرات رہے یا پھر ہندوتو وادیوں کے اثرات۔ اس وقت کی برسراقتدار کانگریس پارٹی کا کوئی واضح اور مضبوط نظریہ نہیں تھا اس لیے دونوں نظریات کے افراد اپنی لیاقت اور سیاسی وزن اور تعلقات کی بنیاد پر نفوذ اختیار کرلیتے تھے۔ ویسے آزادی کے بعد بھارت کا کچھ زیادہ جھکاؤ کمیونسٹ بلاک کی طرف ہوگیا تھا اس لیے بڑی تعداد میں بھارتی اذہان ماسکو کا سفر کرتے تھے۔ ایک جانب آر ایس ایس کا نفوذ تعلیمی اداروں میں جاری رہا تو دوسری جانب بائیں بازو کی طلبا تنظیمیں، پروفیسر اور ریسرچ اسکالر تعلیمی اداروں میں محسوس اثرات ڈالنے لگے۔ چناں چہ آج بھی دہلی کی جواہر لال یونیورسٹی سمیت کئی مرکزی یونیورسٹیوں میں سرخ کلچر زعفرانی کلچر سے نبردآزما ہے۔ شعبہ تعلیم میں ایک عرصہ تک سیکولر اور کمیونسٹ نظریات کے حاملین کی اچھی خاصی تعداد رہی اور حکومت کا تعاون بھی انھیں حاصل رہا اس لیے ملک کی تعلیمی پالیسی، نصاب اور نصابی کتابوں کا رنگ زعفرانی ہونے سے بچ گیا، تاہم ادھر سات برسوں کے درمیان زعفرانی رنگ کا غلبہ ہندوستانی تعلیمی نظام، کتابوں اور نصابوں پر واضح نظر آرہا ہے۔ گذشتہ سال منظور کی گئی قومی تعلیمی پالیسی اس کا ایک ثبوت ہے۔ حالاں کہ اس میں زعفرانی رنگ کی ملاوٹ ایک دو پیراگراف میں بہت واضح ہے اور کئی مقامات پر بہت ہی پروفیشنل انداز میں کی گئی ہے اور اسے بین سطور میں پڑھا جاسکتا ہے۔

ان دو کےعلاوہ مذہبی، اخلاقی و روحانی اقدار پر سوسائٹی کو استوار کرنے والے نفوذ بھی تعلیمی میدان میں کسی حد تک اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ یہ تیسرا گروپ نظریاتی اعتبار سے ناتو بائیں بازو سے تعلق رکھتا ہے اور نا ہی دائیں بازو سے۔ اس طبقے سے تعلق رکھنے والوں نے تعلیمی نظام میں اخلاقی تعلیم کو لازم قرار دینے کے لیے عدالت عالیہ کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ ایسے ہی مقدمات میں سے ایک2016 کا وہ مقدمہ ہے جس میں سنتوش سنگھ نے یونین آف انڈیا (حکومت ہند) کو مدعا علیہ (فریق) بنایا تھا۔ مدعی نے عدالت عالیہ میں یہ درخواست کی تھی کہ وہ حکومتِ ہند کو یہ حکم دے کہ وہ جماعت اول تا جماعت بارہویں سی بی ایس ای (CBSE)کے تمام اسکولوں میں اخلاقیات کی تعلیم کو لازمی کردے۔ اخلاق کی تعلیم کا مضمون اور اس میں طلبا کے ذریعے حاصل کیے جانے والے نمبرات کو مارکس شیٹ (رپورٹ کارڈ) کا حصہ تسلیم کیا جائے۔ شنوائی کے بعد عدالت عالیہ نے یہ کہا کہ اخلاقیات کی تعلیم لازمی ہو یا نا ہو یہ متعلقہ شعبہ اور بورڈ کو طے کرنا چاہیے۔

ویسے ملک کی مختلف ریاستوں میں بھی وہاں کے ہائی کورٹ میں اخلاق کی تعلیم کے بابت مقدمات داخل ہوتے رہے ہیں۔ ان مقدمات میں جہاں اخلاقیات کے مضمون کو ‘‘رپورٹ کارڈ’’ کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا گیا وہیں میوزک، آرٹ، گیم اور اسپورٹ کو بھی مضامین کے اس گروپ میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے جس کے ذریعے طالب علم کی قابلیت کو تولا جاتا ہے۔ چند برسوں پہلے اس مطالبہ کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ (NIOS)کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے۔ اب این آئی او ایس کے نصاب میں پینٹنگ اور میوزک کے کل تین مضامین ہیں۔ طلبا جنھیں میٹرک کی سند کے لیے پانچ مضامین میں کام یابی حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے وہ اب میوزک اورپینٹنگ جیسے مضامین بھی منتخب کرسکتے ہیں۔

عوام یا تعلیمی میدان میں کام کرنے والے غیرسرکاری اداروں کی طرف سے اخلاقی تعلیم کو نصاب میں شمولیت کی مانگ کا سلسلہ جاری ہے۔ آزادی کے بعد اخلاقی تعلیم اور مذہب کی تعلیم کے امکانات اور طریقہ کار کو وضع کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ 1959 میں قائم کی گئی کمیٹی برائے مذہبی اور اخلاقی تعلیم (The Committee on Religious and Moral Instruction)نے اپنی رپورٹ 1960 میں وزارتِ تعلیم کو سونپ دی تھی۔ اس کمیٹی میں جی۔ سی۔ چٹرجی، وائس چانسلر راجستھان یونیورسٹی، مسٹر اے۔ اے۔ اے۔ فیضی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف جموں اینڈ کشمیر، مسٹر بی۔ این۔ کرپال، جوائنٹ سکریٹری، وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند ارکان تھے۔ اس کمیٹی کی صدارت اس وقت صوبہ بمبئی کے گورنر شری پرکاشا فرما رہے تھے۔ اس کمیٹی کی تفصیلات اور تجاویز انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ کمیٹی کی تجاویز بڑی حد تک غیرجانبدار تھیں۔ تجاویز میں یہ تھا کہ بھارت میں موجود مذاہب کی تعلیمات اور ان کی مذہبی شخصیات کے بارے میں بنیادی اور ضروری معلومات کو بچوں تک پہنچائی جائیں۔ اس کمیٹی نے اپنی تجاویز میں مذہبی اور اخلاقی تعلیم کی چند عملی شکلیں بھی پیش کی تھیں۔ تاریخ میں اس کا ریکارڈ نہیں ملتا کہ آیا کمیٹی کی تجاویز کو اس وقت کی حکومت نے قبول کیا تھا یا نہیں۔ البتہ اس کمیٹی کے حوالے کے بغیرملک کی تعلیمی پالیسی کا جائزہ لینے کے لیے بنائے گئے کوٹھاری کمیشن 1964 میں ضرور ذکر ملتا ہے۔

حکومتِ ہند نے نصاب اور نصابی کتب کی تدوین کے لیے ابھی تک پانچ نیشنل کریکولم فریم ورک (NCF) بنائے ہیں۔ یہ فریم ورک محکمہ تعلیم کا ایک اہم ادارہ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (NCERT) ترتیب دیتا ہے۔ اس فریم ورک کے حدود میں رہتے ہوئے درسی کتابیں ترتیب دی جاتی ہیں۔ چاہے کتابیں مرکزی حکومت کی ہوں یا ریاستی حکومتوں کی۔ یہ فریم 2005 میں ترتیب دیا گیا تھا۔ اس فریم ورک کے تحت ایک اہم حصہ اخلاقی تعلیم کا بھی ہے۔ این سی ای آر ٹی کی ویب سائٹ پر یہ موجود ہے۔ تعلیمی نظام میں اخلاقی تعلیم کی وکالت کرنے والوں اور اس کا مطالبہ کرنے والوں کو اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ اخلاقی تعلیم کے اس فریم ورک کے رہ نما خطوط ترتیب دینے والوں کی ٹیم میں حالاں کہ کوئی مسلم نمائندہ شامل نہیں تھا تاہم اس میں بیان کیے گئے نکات بڑی حد تک اصولی، غیرجانبدار اور آفاقی اخلاقی اصولوں کی حمایت کرتے ہیں۔ بارہویں جماعت تک طلبا کو اخلاق کی تعلیم کیسے دی جائے 93 صفحات پر مشتمل یہ دستاویز اسے بڑے واضح انداز میں پیش کرتی ہے۔

ایک دل چسپ بات یہ ہے کہ گذشتہ سال منظور کی گئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں این سی ایف ۲۰۰۵ کا صرف سرسری ذکر ملتا ہے۔ ایسا اس لیے بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خطوط (فریم ورک) اخلاق اور اخلاقیات کی بات تو کرتے ہیں لیکن وہ اخلاق اور اخلاقیات نہیں جو ہندوتو کے نظریہ سے جنم لیتے ہیں۔ 2005 کا فریم ورک کہتا ہے کہ بھارت کے تعلیمی نظام میں اخلاقی تعلیم کو آفاقی اصولوں سے آراستہ کرنا چاہیے اور طلبا کو ان اخلاق کی تعلیم دی جانی چاہیے جو ملک کے دستور سے نکلتے ہوں۔ ان میں شہریوں کے حقوق و فرائض اہم ہیں۔ جب کہ نئی تعلیمی پالیسی میں شہریوں کے فرائض کی تعلیم دینے کی بات تحریر کی گئی ہے اور حقوق سے طلبا کو آشنا کرانے کا ذکر نہیں ہے۔ یہ بات بڑی اہم اور تشویش ناک ہے۔ کسی بھی ملک کی آبادی کو اگر ان کے فرائض پڑھائے جاتے ہیں اور انھیں بس انھی کی پابندی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے تو وہ ملک مطلق العنانی کی طرف بڑھتا ہے۔ وہاں کے عوام شہری نہیں بلکہ غلام بن جاتے ہیں۔ اگر طلبا کو ان کے فرائض اور حقوق دونوں سے آشنا کرایا جاتا ہے تو پھر جمہوریت پروان چڑھتی ہے۔ حکومت کی مانی بھی جاتا ہے اور اس سے سوال بھی کیے جاتے ہیں۔ حکومت سے سوال کرنا اخلاقی جرأت ہے۔ اور یہ ہمت مناسب اخلاقی تعلیم ہی سے ممکن ہے۔

جون 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau