قدر اور قدریت میں جوہری فرق

ڈاکٹر جیفری لینگ | ترجمہ: عرفان وحید

سوال 7 (ایک امریکی مسلمان ہائی اسکول کے طالب علم کی طرف سے؛ جبر وقدر کے بارے میں ایسے سوالات اکثر پوچھے جاتے ہیں)

گذشتہ جمعے کے خطبے میں ہمارے امام صاحب نے فرمایا کہ خدا ہمارے تمام اعمال کے بارے میں پہلے سے جانتا ہے اور اس کے علم میں ہماری نیتیں اور ارادے بھی پہلے سے شامل ہیں۔ یعنی خدا  ہی ہمارے ارادے کا تعین کرتا ہے۔ جو شخص اس پر ایمان نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں ۔ میرا سوال یہ ہے اگر الله ہمارے تمام اعمال  اور ارادے کو پہلے ہی سے متعین کردیتا ہے تو پھر ان کی جزا و سزا کے حق دار ہم کس طرح ہوئے؟ یہ بات مجھے درست نہیں لگتی۔ مجھے ڈر ہے کہ میرا ایمان کم زور ہورہا ہے اور میں الحاد کی طرف جارہا ہوں!

امام موصوف نے اپنے خطبہ جمعہ میں جس موقف کو پیش کیا ہے اسے اسلامی فکر میں قدریت کہا جاتا ہے اور اکثر انگریزی میں اس کا ترجمہ divine decree یا predestinationکیا جاتا ہے۔ یہ اسلام کے ابتدائی زمانے میں بڑی بحث کا موضوع تھا اور اس کی مختلف تعبیریں کی جاتی تھیں۔ مذکورہ امام کا بیان جس موقف کی وکالت کرتا ہے وہ قدریت کا سخت ترین موقف ہے۔ قدیم زمانے میں تمام مکاتب فکر نے قدریت کے تصور کو قبول نہیں کیا، ان میں سے سب سے قابل ذکر وہ  ہیں جنھیں ’اہل الکلام ’ یا ’متکلمین‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ لوگ ابتدائے اسلام میں خاصے نمایاں تھے۔ ان کے اہم حریفوں میں سے ایک ’اصحاب الحدیث ’کہلاتے تھے جنھوں نے اسے عمومی طور پر کسی نہ کسی درجے میں قبول کیا۔ اگرچہ مذکورہ امام نے جو نقطہ نظر پیش کیا ہے وہ بہت شدت پسندانہ ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ قدریت کو پہلے سے متعینہ تقدیر کے طور پر تسلیم کیا جانا اسلامی فکر میں بتدریج ہوا ہے۔ اسلام سے قبل عربوں کو اس کا علم نہیں تھا۔ ماہر لغت علامہ راغب الاصفہانی نے قدر اور اس کے مترادف لفظ تقدیر کا مفہوم ’’کسی چیز کو پیمانے سے ظاہر کرنا‘‘یا محض ’’پیمانہ‘‘ بیان کیا ہے۔ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’اللہ تقدیر کو دو طریقوں سے ظاہر کرتا ہے:  انھیں قدرت (طاقت و استطاعت) دے کر، یا اپنی حکمت کے مطابق انھیں ایک خاص پیمانے  پر اور خاص انداز میں تشکیل دے کر۔[یہ قول عبدالحمید صدیقی کے ترجمہ صحیح مسلم میں وارد ہوا ہے، ناشر اشرف پریس، لاہور، 1992، ص 1، حاشیہ 3] ان کی تشریح قرآن سے ہم آہنگ ہے، جہاں قدر اور تقدیر کو فطرت کے ڈیزائن اور کنٹرول سے نسبت دی گئی ہے۔

اور سورج ، وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے یہ زبردست علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب (تقدیر)ہے ۔ اور چاند، اُس کے لیے ہم نے منزلیں مقرر(قَدَّرْنٰهُ) کر دی ہیں یہاں تک کہ اِن سے گزرتا ہوا وہ پھر کھجور کی سوکھی شاخ کے مانند رہ جاتا ہے ۔ (یٰس: 38-39)

ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ (بِقَدَرٍ) پیدا کی ہے۔ (القمر: 49)

کس چیز سے اللہ نے اُسے پیدا کیا ہے ؟ نطفے کی ایک بوند سے ۔ اللہ نے اُسے پیدا کیا ، پھر اس کی تقدیر مقرر کی (فَقَدَّرَهٗ)، (پھر اس کے لیے ایک اندازہ ٹھہرایا) (عبس: 18-19)

(اے نبی ﷺ) اپنے ربِ ّ برتر کے نام کی تسبیح کیجیے۔ جس نے پیدا کیا (خَلَقَ) اور پھر نوک پلک سنوارے۔ جس نے تقدیر بنائی (قَدَّرَ) پھر راہ دکھائی۔ (الاعلیٰ: 1-3)

ابتدائی مذہبی شواہد اور روایاتِ اوائل (وہ روایات جن میں کسی چیز کے پہلی بار واقع ہونے کا تذکرہ ہوتا ہے، بحوالہ جی اچ اے جوئنبول، اسٹڈیز آن دی ارجنز اینڈ یوزیز آف اسلامک حدیث، ویریورم، 1996، جلد 3، ص 311) سے پتہ چلتا ہے کہ آزادی ارادہ اور جبر کے بارے میں بحث کا آغاز پہلی صدی ہجری کی آخری تہائی سے پہلے نہیں ہوا تھا۔ مثلاً حسن بصری کا رسالہ فی القدر (65-86 ہجری/684-705 عیسوی)جسے خلیفہ عبدالملک کی فرمائش پر لکھا گیا تھا، میں مذکور ہے کہ قدریت پر بحث ایک نئی پیش رفت ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ عبدالملک کی اس خصوصی تاکید کے باوجود کہ صحابہ کرام سے اس کے سلسلے میں روایت پیش کی جائے، مذکورہ رسالے میں کسی مخصوص حدیث کا حوالہ موجود نہیں ہے۔

اگرچہ تقدیر کے پہلے سے متعین ہونے کا موقف بظاہر نبی اکرم ﷺ کی رحلت کے بعد ظاہر ہوا، لیکن جبر و قدر کی یہ بحث متوقع تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن میں ایک طرف واضح کیا گیا ہے کہ خدا نے مردوں اور عورتوں کو اخلاقی یا کسی بھی دوسرے معاملے میں آزادی ارادہ بخشی ہے، اور وہ اپنے افعال و اعمال کو متوقع مقاصد تک پہنچانے کے لیے خود مختار ہیں۔ البتہ جب خدا کی مشیت اس کے برعکس ہو تو وہ اس عمل میں دخل بھی دے سکتی ہے یا اس پر اثر انداز ہوسکتی ہے، لیکن اکثر و بیشتر چیزوں کو علت و معلول کے فطری راستے پر چلنے دیا جاتا ہے۔

دوسری طرف، قرآن خدا کو عالِم مطلق بھی ٹھہراتا ہے، کہ اس کا علم زمان و مکان سے قطعِ نظر ہر شے اور ہر واقعے پر محیط ہے۔

وہ لوگوں کا اگلا پچھلا سب حال جانتا ہے اور دوسروں کو اس کا پورا علم نہیں ہے۔ (طٰہٰ: 110)

جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اُسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اوجھل ہے اُس سے بھی وہ واقف ہے اور سارے معاملات اللہ کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔( (الحج: 76)

اُس گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے ، وہی بارش برساتا ہے ، وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے ، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کس سرزمین میں اس کو موت آنی ہے ، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔ (لقمٰن: 34)

چناں چہ اگر خدا سب کچھ جانتا ہے تو ہمارے اعمال سمیت مستقبل کا تعین پہلے ہی سے کیا جاچکا ہے۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ ہم ایسا عمل کرنے کی قدرت رکھیں جو خدا کے علم سے باہر ہو۔ اسی طرح،  اگر خدا پہلے سے جانتا ہے کہ آخرت میں ہمارا انجام کیا ہونے والا ہے تو ہمارے حق میں جنت یا جہنم کا فیصلہ بھی پہلے ہی سے کیا جاچکا ہے۔

اس طرح کے بیانات الجھن میں ڈالتے ہیں کیوں کہ ان کے لیے دو یکسر مختلف نقطہ ہائے نظر یعنی خدائی اور انسانی بیک وقت ماننے پڑیں گے۔ ایک اور متعلقہ مسئلہ یہ ہے کہ یہ بیانات پوری طرح مکمل نہیں ہیں، کیوں کہ ان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مستقبل کا پہلے سے تعین کس نے کیا ہے اور کون سی طے شدہ چیز پایہ تکمیل کو پہنچ چکی ہے۔ چوں کہ ہم ان دعووں کا اسلامی نقطہ نظر سے تجزیہ کر رہے ہیں، تو ظاہر ہے کہ خدا ہی ہے جس نے ہر چیز کو پہلے سے متعین کیا ہوگا، لیکن یہ مسئلہ کم واضح ہے کہ پہلے سے طے شدہ امر کب واقع ہوا۔ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ یہ تخلیق انسانی سے کچھ پہلے ہوا ہوگا۔

مندرجہ بالا نقطہ نظر کہ خدا کے عالمِ کل ہونے کا مطلب ہے کہ تمام واقعات پہلے سے طے شدہ ہیں انھیں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے:  خدا کا علم ہر شے کو محیط ہے Ëیہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ خدا مستقبل کے بارے میں جانتا ہےËیہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ مستقبل طے شدہ ہےË یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ خدا ہی نے مستقبل کا پہلے سے تعین کر رکھا ہے۔ ذیل کے خاکے میں اس استدلال کے مضمرات کی ترتیب واضح ہوگی:

(1) خدا کا علم ہر شے کو محیط ہےÏ

(2) خدا مستقبل کو جانتا ہےÏ

(3) مستقبل طے شدہ ہےÏ

(4) خدا نے مستقبل کا پہلے سے تعین کیا ہے۔

اس دلیل کا مقامی سطح پر تجزیہ کرنا زیادہ آسان ہے، یعنی ایک وقت میں ایک وقوعہ۔ فرض کیجیے ’الف ’ ایک ایسے وقوعے کی نمائندگی کرتا ہے جو کل واقع ہونے والا ہے۔ مثال کے طور، الف وقوعے کی نمائندگی کرتا ہے کہ: ’’جیفری  رات کے کھانے میں فرنچ فرائیز کھائے گا۔‘‘  تو مندرجہ بالا استدلال کو کچھ یوں لکھا جاسکتا ہے:

(1) خدا کا علم ہر شے کو محیط ہےÏ

(2) خدا جانتا ہے کہ وقوعہ ’الف ’ کل واقع ہوگا Ï

(3) وقوعہ ’الف ’ کل یقیناً واقع ہوگاÏ

(4) خدا نے وقوعہ ’الف ’ کا تعین پہلے سے کردیا ہے۔

اس استدلال میں سب سے کم زور کڑی ظاہر ہے کہ آخری نتیجہ ہے:  (3) کے نتیجے میں (4) کا واقع ہونا۔ منطق کی رو سے یہ بات غلط ٹھہرتی ہے کہ جیفری نے فیصلہ کیا کہ کل وہ رات کےکھانے میں فرنچ فرائیز کھائے گا اور خدا نے اسے یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ یہ حقیقت کہ کوئی مخصوص واقعہ یقیناً مستقبل میں واقع ہوگا، اس بات کو مستلزم نہیں کہ خدا نے اسے واقع ہونے پر مجبور کیا ہے۔

اصل میں ہم مندرجہ بالا استدلال میں سے ایک قدم ہٹا سکتے ہیں، خدا کا علیم و خبیر ہونا اس پر دال ہے کہ بیانات (2) اور (3) مساوی ہیں۔ لہذا مندرجہ بالا استدلال کو حسب ذیل طریقے سے لکھا جاسکتا ہے:

(1) خدا کا علم ہر شے کو محیط ہےÏ

(2) خدا جانتا ہے کہ وقوعہ ’الف ’ کل واقع ہوگا Ï

(3) خدا نے وقوعہ ’الف ’ کا تعین پہلے سے کردیا ہے۔

یہاں ایک بار پھر بیان (2) ظاہر کرتا ہے کہ بیان(3) قابل قبول نہیں ہے، الا یہ کہ ہم تسلیم کرلیں کہ کسی واقعہ کا علم ہونا اس کے واقع ہونے کا سبب بنتا ہے، لیکن اسے قبول کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ تجربے کے خلاف ہے۔ ہم اس کے برعکس نتیجے کو قبول کر سکتے ہیں—کہ کسی واقعہ کے وقوع سے اس کا علم پیدا ہوتا ہے بشرطے کہ اس کا مشاہدہ کرنے والا کوئی ہو- لیکن اس بات کو ماننے کا کوئی جواز نہیں ہے کہ کسی واقعے کا علم اس کے واقع ہونے کی علت بنتا ہے۔ مجھے یہ پیش آگاہی تو ہوسکتی ہے جو سچ ہو کہ میرا پڑوسی کل کام پر بس کے ذریعے جائے گا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میرے جاننے کی وجہ سے ایسا ہو۔ خدائی علم کے معاملے میں بھی خدا کی کسی واقعے کے بارے میں آگاہی اور اس کے ہونے کے درمیان علت کا ربط پیدا کرنے کی کوئی منطقی وجہ نہیں ہے۔ آسان الفاظ میں، خدا کے علیم و خبیر ہونے کا ہمارے اعمال اور آخرت میں ہمارے انجام کے پہلے سے متعین ہونے سے قطعی کوئی ربط نہیں ہے۔ یہ استدلال کہ ’’اگر خدا ہر شے سے باخبر ہے تو اس نے ہر شے کا تعین پہلے سے کرلیا ہے‘‘، اس استدلال کے مترادف ہے کہ ’’ جیفری کی آنکھیں نیلی ہیں لہذا لازماً مریخ پر زندگی کا وجود ہے۔‘‘ اس استدلال کے بنیادی مقدمے کا اس کے نتیجے پر کوئی اثر ہی نہیں ہے۔

اگرچہ خدا کی ہمہ دانی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا نے ہمارے مستقبل کو پہلے سے متعین کردیا ہے لیکن یہ اس سے متعارض بھی نہیں ہے۔ قرآن میں کچھ اور دعوے بھی ہیں جو قدریت سے متعارض ہیں۔سب سے واضح قرآن کا یہ دعویٰ ہے کہ خدا سب سے زیادہ انصاف کرنے والا ہے کیوں کہ کسی کو ان اعمال اور افعال کے لیے جہنم کا پروانہ جاری کرنا قرین انصاف نہیں خدا نے جن کے کرنے پر  اسے مجبور کیا تھا۔ نظریہ قدریت کے خلاف اہل الکلام کی بنیادی دلیل خدائی انصاف اور انسانی حساسیت کی زبردست اپیل تھی۔

چناں چہ قدریت کے مویدین نے خیر و شر کا ایسا نظریہ وضع کیا جو انسانی عقل اور ادراک سے ماورا تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ خیر وہ ہے جس کا خدا نے حکم دیا ہے اور شر وہ ہے جس سے اس نے روکا ہے۔ خدائی ارادہ اور اس کا حکم طے کرتے ہیں کہ خیر و شر، عدل وظلم کیا ہیں۔ چناں چہ اگر الله نیک لوگوں کو دوزخ اور برے لوگوں کو جنت میں بھیج دے تو یہ انسانی نقطہ نظر سے اخلاقی و عقلی طور پر قابل اعتراض ہونے کے باوجود خیر کی تعریف میں شمار ہوگا۔ اگرچہ یہ تصور قدریت کے نظریے کا دفاع کرتا ہے لیکن کسی حد تک قرآن کے ان بہت سے احکامات کو، جن میں انسانوں کو اچھائی اور انصاف پر ابھارا گیا ہے، بے معنی بنا دیتا ہے۔

قدریت اور آزادی ارادہ میں تطبیق کی ایک لطیف کوشش  ابوالحسن الاشعری (874-935ء) نے کی تھی۔ ان کا ‘نظریہ کسب ‘اس مخمصے کو حل تو نہیں کرسکا لیکن اس پر ابہام کے پردے ڈال دیے۔ اس موقف کے مطابق خدا ہی تمام انسانی اعمال و افعال کا خالق ہے، لیکن لوگ اپنے اعمال کو ’’کسب‘‘ کرتے ہیں چناں چہ ان کے انجام کے لیے وہ خود ذمہ دار ہیں۔ مبہم تعبیرات تناقضات کو حل کرنے میں زیادہ مفید نہیں ہوتیں، کیوں ان میں متنوع تشریحات کے لیے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی ارادہ اور عمل میں فرق کرتا ہے، تو اس تعبیر کے مطابق خدا ہمیں اعمال کی آزادی دیتا ہے، لیکن اگر ارادے کو عمل سمجھا جائے تو یہ موقف قدریت کی سخت ترین شکل بن کر ابھرتا ہے، جس سے یہ دیکھنا دشوار ہو جاتا ہے کہ ہم کس معنی میں اپنے اعمال کسب کرتے ہیں اور ہم ان کے ذمہ دار کیوں کر ہیں۔

ایک اور خدائی صفت جو قدریت کے تصور سے مغائر ہے وہ خدا کی ماورائیت ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ زمان و مکان کی تخلیق جس میں ہم اس وقت موجود ہیں ایک ابدی، معروضی حقیقت نہیں ہے۔ یہ ہماری ترقی کے ایک مرحلے کے لیے عارضی ماحول فراہم کرتے ہیں۔ زمان و مکان دونوں واہمے ہیں اور خدا زمان و مکان سے بندھا ہوا نہیں ہے۔ اس کی ہستی زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہے۔ اس لیے یہ فرض کرنا مناسب نہیں ہوگا کہ خدا کسی محدود جگہ یا وقت کے کسی محدود وقفے کے اندر موجود ہے۔ جس طرح یہ نہیں سمجھا جاسکتا کہ خدا میرے دفتر کی چار دیواری کے اندر محصور ہے، اسی طرح یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ فی الحال ’’آج‘‘ میں محصور ہے اور ’’کل ’’کا منتظر ہے۔ کیوں کہ مؤخر الذکر دعوے سے یہ فرض کرنا پڑے گا کہ خدا وقت کے ساتھ اسی طرح واقع ہے جس طرح انسان ہیں۔ اسی طرح خدا کے ماضی یا مستقبل کی بات کرنا بھی نامناسب ہوگا۔ ’’قدریت‘‘ کا مطلب پہلے سے فیصلہ کرنا یا تعین کرنا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے کسی مقررہ وقت پر مستقبل کے واقعات کا تعین کیا ہے۔ ایسا ہونے کے لیے یہ فرض کرنا ہوگا کہ خدا کسی لمحہ وقت کے اندر موجود تھا اور تبھی اس نے پیش آمدہ وقوعات کا پہلے سے تعین کیا تھا۔ وقت کے ساتھ خدا کا یہ ’’واقع ہونا‘‘ ایک بنیادی تناقضہ ہے جو قدریت کے تمام تصورات میں در آتا ہے۔ خدائی ماورائیت ایک منفرد مقام کی متقاضی ہے۔ خدا کے علم اور خبر کے کوئی زمانی یا مکانی حدود نہیں ہیں۔ خدا کے لیے تمام علم ایک اکائی ہے، جو زمان و مکان سے قطع نظر تمام اشیا کو محیط ہے۔ قرآن فرماتا ہے:

نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ نگاہوں کو پالیتا ہے ، وہ نہایت باریک بیں اور باخبر ہے۔ (الانعام: 104)

ہمارے ربّ کا علم ہر چیز پر حاوی ہے ۔ (الاعراف: 89)

وہی اوّل بھی ہے اور آخر بھی اور ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی ، اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔(الحدید: 3)

چوں کہ ہم تخلیق کے حدود میں محصور ہیں، اس لیے ہمارے لیے خدائی ماورائیت کا پوری طرح ادراک کرنا ناممکن ہے۔پھر بھی مکان سے تجاوز کرنے کا ادراک شاید زمان سے متجاوز ہونے کے ادراک سے آسان ہے۔ ہم تصور کر سکتے ہیں کہ مکان سے تجاوز کرنا زمین سے بلند ہونے کے مترادف ہے، جہاں دور کی اشیا کا بیک وقت مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔

بدقسمتی سے، وقت سے تجاوز کرنے کو تصور کرنا بہت زیادہ مشکل کام ہے، کیوں کہ ہم خود کو وقت سے بندھا ہوا پاتے ہیں، لیکن اس کے لیے مکانی ماڈل اب بھی مفید ہوسکتا ہے۔ وقت کے موہوم کردار کے مسئلے کو ایک طرف رکھتے ہوئے، ہم وقت کو چوتھی مکانی جہت (fourth spatial dimension) کے طور پر تصور کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد ہم تصور کر سکتے ہیں کہ ماورائیت تخلیق سے بہت باہر ہونے کے مترادف ہوگی، جہاں زمان اور مکان دونوں میں بہت دور کے واقعات کا مشاہدہ کرنا ممکن ہوگا۔

یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ قرآن مجید میں خود ایسے تاثرات موجود ہیں جو مکان اور زمان میں خدا کو واقع کرتے ہیں۔ قرآن خدا کے عرش، ہاتھ اور چہرے کا ذکر کرتا ہے۔ یہ خدا کی طرف سے لوگوں کو چیزیں اتارنے اور اس کی طرف چڑھنے والی چیزوں کا ذکر کرتا ہے۔ قرآن حکیم خدا کے افعال کا ذکر کرتے ہوئے مختلف زمانی صیغوں (حال، ماضی اور مستقبل) کا بھی استعمال کرتا ہے۔ لیکن انسانوں کی محدود زبان اور تجربے کی بنا پر  ان سے بات چیت کرتے وقت ایسی لفظیات کا استعمال ناگزیر ہے۔ مثال کے طور پر عربی زبان میں کسی زمانی صیغے کو بروئے کار لائے بغیر خدا کے کسی فعل کا حوالہ دینا ناممکن ہوگا۔ اگرچہ تقریباً تمام علما اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ خدائی ماورائیت کا تقاضا ہے قرآن میں خدا کے حوالے سے مکانی اظہاریوں کو لفظی مفہوم میں نہیں لیا جانا چاہیے، لیکن یہی بات انھوں نے زمانی اظہاریوں کے بارے میں نہیں کہی۔ شاید اس لیے کہ وقت ہمیں مکان سے زیادہ مطلق لگتا ہے۔ بہرحال، اس بات پر اصرار نہیں کیا جانا چاہیے کہ قرآن میں خدا کے افعال کے تمام زمانی حوالوں کو لفظی طور پر لیا جائے اور نہ ہی یہ سمجھا جائے کہ خدا زمانی حدود کے تابع ہے۔

قدر کا مفہوم اسلامی فکر میں ایک لطیف لیکن تنقیدی ارتقا سے گزرا ہے۔ قرآن میں اس سے مراد خدا کا تخلیق پر نظم اور ڈیزائن کو نافذ کرنا ہے، اس میں بنی نوع انسان بھی شامل ہیں۔ انسانی علم، طاقت اور مرضی سب خدائی پیمانے کے مطابق انسانیت پر عائد حدود کے تابع ہیں، لیکن ان حدود کے اندر انسان خدا کی طرف سے انتخاب اور اعمال کے لیے آزاد ہیں۔  دور رسالت کے کچھ عرصے کے بعد قدر کو قدریت کے ساتھ خلط ملط کردیا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ کہ یہ ایک بڑی غلطی تھی۔ یہ استدلال کہ خدا کی علیمی و خبیری اس پر اثر ڈالتی ہے، بہت بودا اور کم زور ہے۔ مزید برآں، اس نظریے پر شک کرنے کی زبردست وجوہات ہیں کیوں کہ قدریت کا تصور خدا کے عدل، رحم، کرم اور ماورائیت سے متعلق قرآنی دعووں سے متعارض ہے۔ اگر ہم خدا اور زمان کے درمیان صحیح صحیح ربط تلاش کرنے کی کوشش کریں گے تو منطقی تعارض لازماً پیدا ہوں گے، یہ ایک لایعنی کوشش بھی ہے۔

مئی 2022

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau