مرکزی مجلس شوریٰ کا خصوصی اجلاس

پانچ اہم امور پر قرار دادوں کی منظوری

محمد سلیم انجنیئر

جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کا پانچ روزہ اجلاس ماپوسہ، گوامیں مؤرخہ ۲۳؍تا ۲۷؍جولائی ۲۰۱۶ء محترم امیرجماعت مولاناسید جلال الدین عمری صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک و ملت  کے حالات اور بین الاقوامی اہم امور و مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی گئی اور ملک اور عالم اسلام کو در پیش مسائل پر درج ذیل قراردادیں منظور ہوئیں:

(1)کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال

جماعت اسلامی ہند کا یہ اجلاس کشمیر کی سنگین صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ سیکورٹی فورسز کے ذریعہ نہتے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ ،پیلٹ گنوں سے نوجوانوں کو مجروح اور اندھا کیا جانا، پولس کے ذریعہ ایمبولینسوں اور اسپتالوں پر حملے نہ صرف قابل مذمت اور باعث تشویش ہیں بلکہ کشمیریوں میں غم و غصہ ، بے چینی اور شدید اضطراب پیدا کرنے کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ مرکزی مجلس شوریٰ کا احساس ہے کہ طاقت کا بیجا استعمال ماحول کو خراب ہی کرتا ہے۔ کشمیر اور شمال مشرق کی ریاستوں میں بدنام زمانہ قانون افسپا (AFSPA)  کے اطلاق نے ملک کی سیکوریٹی فورسز کو عملاً قانون سے بالا تر اور غیر جوابدہ بنا دیا ہے۔ سیکوریٹی فورسز پر خواتین کی عصمت دری، فرضی مڈبھیڑ میں نوجوانوں کےقتل اور عام شہریوں پر زیادتیوں کے سنگین الزامات بھی ہیں۔

شہری علاقوں میں مسلح فورسز کی مسلسل موجودگی ، عوامی نقل وحمل میں بے جارکاوٹیں ڈالتی ہے۔ کرفیو کا بار بار نفاذ اور مواصلاتی نظام کی معطلی کشمیر یوں کی معمول کی زندگی کو مفلوج کر دیتی ہے۔ان حالات میں مرکزی اور ریاستی حکومت کی نا عاقبت اندیشانہ روش نے کشمیری عوام کو بے گانہ کر دیا ہے۔ مرکزی مجلس شوریٰ کا احساس ہے کہ افسپا (AFSPA) اور فرضی مڈبھیڑ پر سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ احتساب کا موقع فراہم کرتا ہے۔ حکومت، سیکوریٹی فورسز اور انتظامیہ کو اپنا رویہ بدلنا چاہیے۔ سیکوریٹی فورسز کو واضح ہدایت کی جانی چاہیے کہ وہ حقوق انسانی کے احترام کو یقینی بنائیں۔

جماعت اسلامی ہند کے نزدیک اس مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ مجلس شوریٰ حکومت اور عوام کو متوجہ کرتی ہے کہ رابطے اور بات چیت کے معطل عمل کو بحال کیا جائے۔ طاقت کے ناروا اور غیرحکیمانہ استعمال سے بچا جائے ۔ افسپا کو ختم کیا جائے اور فوج اور سیکوریٹی فورسزکی موجودگی کو بتدریج کم کیا جائے۔ کشمیر یوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا خیال رکھا جائے، ان کی بنیادی ضرورتوں اور مسائل پر توجہ دی جائے،حکومت اور عوام کے درمیان مذاکرات کو مفید اور مؤثر بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے اور تمام مؤثر عناصر اس کوشش میں تعاون کریں۔

(2)تعلیم اور ثقافت میں ناروا اقدامات

جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ، مرکزی اور بعض ریاستی حکومتوں کے ذریعہ تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں کئے جا رہے ناروا اقدامات کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ تعلیمی اداروں کی خود مختاری (Autonomy) کو ختم کرنے کی کوششیں، آزادانہ اظہار خیال پر بندشیں، طلبا و اساتذہ پر زیادتیاں ،اقلیتی تعلیمی اداروں کے کردار کوختم کرنے کے منصوبے، درسی کتابوں میں نامناسب تبدیلیاں، غلط تاریخ کی تدوین وتدریس ، تعلیم کی نجی کاری اور اس کو تجارت کا ذریعہ بنانے کے اقدامات ، تعلیمی اداروں میں فرقہ واریت کا فروغ ، بے حیائی اور   بد کرداری کا چلن ایسے چند مظاہر ہیں جو حکومت کی تائید یا اس کی چشم پوشی اور ہندتو عناصر کی ریشہ دوانیوں کی بناء پر سامنے آرہے ہیں ۔

جماعت اسلامی ہند اہل ملک کی توجہ اس حقیقت کی طرف دلانا ضروری سمجھتی ہے کہ نظام تعلیم ملک کی اجتماعی زندگی میں کلیدی رول کی حیثیت رکھتا ہے اور حالات کو ٹھیک کرنے یا بگاڑنے میں اس کا دخل غیر معمولی ہے۔ دوسری جانب مختلف ثقافتی اقدامات کے ذریعہ حکومت ایک مخصوص تہذیب کے شعائر کو تمام باشندگان ملک پر بہ جبر مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو دیگر مذاہب کے پیروئوں کے لئے قابل قبول نہیں ہیں۔ ان اقدامات کی نمایاں مثال یوگا کو جبراً نافذ کرنا، اسکولی بچوں کو سوریہ نمسکار کرنے اور سرسوتی وندناپڑھنے کا پابند بنانا ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی میں حکومت کو یہ بات واضح کرنی چاہیے کہ تعلیم کو بامقصد بنایا جائے گا اور اسے نقائص سے پاک کیا جائے گا۔

مجلس شوریٰ ملک کے باشعور افراد کو متوجہ کرتی ہے کہ وہ ملک کے نظام تعلیم کا تحفظ کریں تاکہ درسی و تاریخی کتب کو بگاڑ اور انحراف سے بچایا جا سکے، تعلیمی اداروں ، اساتذہ و طلباء کی آزادی برقرار رہے اور اقلیتوں کے تعلیمی حقوق سلب نہ کئے جائیں۔ مجلس شوریٰ مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ منفی و تخریبی اقدامات کے بجائے تعلیم اور نظام تعلیم کو انسانیت ، اعلیٰ اخلاقی اقدار اور حق پسندی و   حق پرستی کے فروغ کا ذریعہ بنائیں اور ایک مخصوص ثقافت کو بہ جبر ملک پر مسلط کرنے کی کوشش نہ کریں۔

(3)دلتوں پر بڑھتے مظالم

مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس ملک میں دلت طبقہ پر بڑھتے ہوئے مظالم پر اپنی گہری تشویش کااظہار کرتا ہے اور ان کی پر زور مذمت کرتا ہے۔ گزشتہ دنوں ریاست گجرات کی اُنا تحصیل کے ایک گائوں میں مردہ گائے کی کھال اتارنے کی پاداش میں دلت طبقہ کے سات افراد کو بے دردی کے ساتھ برہنہ کر کے پیٹا گیا ۔ یہ سانحہ ظلم و بربریت کی واحد مثال نہیں ہے بلکہ ملک کے طول و عرض میں مختلف حیلوں اور بہانوں سے دلتوں کو بدترین مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ چاہے مہاراشٹر کے احمد نگر میںایک دلت لڑکی کی آبروریزی کا معاملہ ہو یا بہوجن سماج پارٹی کی رہنما مِس مایا وتی کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال ہو۔ ان سب واقعات میں نسلی برتری کی ذہنیت کا رفرما نظر آتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان معاملات میں پولس اور انتظامیہ یا تو خاطیوں کی پشت پناہی کرتی ہے یا پھر لاپر واہی اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ مجلس شوریٰ کا احساس ہے کہ یوں تو دلت طبقہ ہمیشہ ہی سے نام نہاد اعلیٰ ذاتوں کے جبروستم کا نشانہ بنتا رہا ہے تاہم مرکز میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد سے اس رجحان میں شدت آئی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ وزیر اعظم ان واقعات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ نیشنل کرائم بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال صرف دلت خواتین کی آبروریزی کے 2500  واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں، دیگر جرائم اور دلتوں سے امتیازی سلوک اس پر مستزاد ہے۔

مرکزی مجلس شوریٰ اس بات پر افسوس کا اظہار کرتی ہے کہ آزادی کے 68 سال کے بعد بھی تمام تر دستوری تحفظات اور قانونی و سیاسی اقدامات کے باوجود ہندوستانی نظام دلت طبقہ کو انسانی شرف و احترام فراہم کرنا تو درکنار انسان بھی سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نسلی فخر و غرور کی اس ذہنیت کا قلع قمع کیا جائے، انسانوں کو احترام کی نظر سے دیکھا جائے اور وحدت بنی آدم کے شعور کو عام کیا جائے۔ مرکزی مجلس شوریٰ مطالبہ کرتی ہے کہ دلتوں پر مظالم کے سلسلہ پر مؤثر روک لگائی جائے۔ خاطی اور مجرم افراد کے خلاف بلاروورعایت قانونی کاروائی کی جائے ، پولس اور انتظامیہ کو جوابدہ بنایا جائے۔ گائے کی حفاظت کے نام پر بننے والی گئو رکشا سمیتیوں کی قانون شکنی کو روکا جائے اورکسی کو بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے۔

(4)معاشی صورتحال

جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس ملک کی تیزی سے بگڑتی ہوئی معاشی صورت حال پر اور عام شہریوں کی دشواریوں پر سخت تشویش کااظہار کرتا ہے ۔ کساد بازاری کی کیفیت نے کاروباری طبقہ کی کمر توڑ رکھی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے اشیائے ضروریہ تک کو عام آدمی کی پہنچ سے باہر کر دیا ہے اور بے روزگاری نے نوجوانوں کو اضطراب میں مبتلا کیا ہے۔

ملک کی برآمدات تشویشناک شرح سے کم ہو رہی ہیں اور موجودہ حکومت کے صرف دو سال کے قلیل عرصے میں نصف ہو گئی ہیں۔ زراعت ، تجارت(Trade) اور صنعتکار ی(Manufacturing) جیسے شعبے جو اصلاً عوام کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں، زوال کے شکار ہیں اور ان شعبوں میں پیدا وار بڑھانے کے لئے کوئی مؤثر منصوبہ موجود نہیں ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے۔ نئی صنعتوں اور تجارتوں کے لئے سرمایہ کاری کے مواقع کم سے کم تر ہوتے جا رہے ہیں۔ عوامی زمرہ کی کمپنیوں اور قومی اثاثوں کی فروخت کا سلسلہ اور رفتہ رفتہ اہم شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کی ابتدا بھی وہ پالیسیاں ہیں، جو ملک کے عوام کی معاشی پریشانیاں بڑھانے کا سبب بن رہی ہیں۔ ان پالیسیوں کے نتیجہ میں بے روزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے۔ ہر سال ملک میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ نوجوان تلاش روزگار کے لئے میدانِ معیشت میں داخل ہو رہے ہیں جب کہ ان کے لئے موجود ملازمتوں کی تعداد تیزی سے گھٹتے ہوئے محض سوا لاکھ رہ گئی ہے۔ آئی ٹی سے متعلق شعبے جن پر ملک کو کبھی بڑا فخر تھا، اب تیزی سے گراوٹ کے شکار ہیں۔ ان سب عوامل کے نتیجہ میں قیمتیں اور خصوصاً غذائی اشیا کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور بنیادی اجناس عام آدمی کی دسترس سے باہر ہونے لگی ہیں۔

جماعت کا یہ اجلاس محسوس کرتا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کااہم سبب زرعی شعبہ پر توجہ کی کمی ہے۔ اس کے علاوہ موہوم تجارت(Future Trade) جیسے عوامل بھی اس اضافے کے ذمہ دار ہیں ۔حکومت ان منفی عوامل کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ مہنگائی اور کساد بازاری کا ایک سبب ٹیکس کا وہ غیر معقول نظام بھی ہے جس کو ہر بجٹ میں پختہ تر کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت غریب عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ مستقل بڑھا یا جا رہا ہے اور امیر سرمایہ داروں پر راست ٹیکس کم کئے جا رہے ہیں۔ تیل کی عالمی قیمت میں زبردست کمی کے باوجود عام آدمی کو اس کا فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ تیل کی قیمت بھی موجودہ مہنگائی کا ایک بڑا سبب ہے۔ راست ٹیکسوں میں ڈیڑھ ہزار کروڑ کی کمی کی گئی ہے جب کہ بالواسطہ ٹیکسوں میں بیس ہزار کروڑ اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ تعلیم و صحت جیسی ضروری خدمات کو بھی ٹیکس کے دائرہ میں لے آیا گیا ہے ۔ امیر طبقے اور کارپوریٹ اداروں کو ہر سال ٹیکس میں بھاری چھوٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ اقدامات بتاتے ہیں کہ غریب عوام کے اجتماعی مفاد کی قیمت پر مٹھی بھر اندرونی و بیرونی سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانا موجودہ پالیسی کا ہدف ہے۔

معاشی صورت حال کی ایک علامت ملک کے بنکنگ نظام کی کیفیت بھی ہے۔ غریب عوام کے ٹیکس سے وصول شدہ سرمایہ ، قومی بنکوں کے ذریعہ بڑے بڑے سرمایہ داروں کو منتقل ہو رہا ہے اور ایسے بنکوں کی جانب سے بڑے سرمایہ کاروں کو دیے گئے بھاری قرضوں کی مقدار بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ قرضے نا قابل واپسی ہیں اور ہندوستانی بنکوں کے ایسے قرضے اب کئی لاکھ کروڑ تک پہنچ چکے ہیں جن کی واپسی متوقع نہیں ۔ جماعت اسلامی ہند کا یہ اجلاس حکومت کو یاد دلاتا ہے کہ دستور ہند کی اسپرٹ کے مطابق ملک کی حکومت کو ایک فلاحی ریاست کا کردار ادا کرنا چاہیے چنانچہ حکومت کو ایسی معاشی پالیسیاں اختیار کرنی چاہئیں جن سے افزائش دولت کی حوصلہ افزائی کے ساتھ وسائل کی منصفانہ تقسیم عمل میں آتی ہو ۔ نیز دولت کی گردش امیروں سے غریبوں کی طرف ہو۔ یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ زراعت، دیہی معیشت اورملکی صنعت  کے شعبوں پر توجہ بڑھائی جائے ، بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے، پٹرولیم پر ڈیوٹی گھٹائی جائے، غذائی اجناس اور اشیائے ضروریہ میں سٹہ بازی پر پابندی لگائی جائے اور روزگار بڑھانے اور بازار کی کساد مندی کو دور کرنے پر بھر پور توجہ دی جائے۔

(5)ترکی کی ناکام بغاوت

جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس ترکی کے عوام کو اور وہاں کی منتخب جمہوری حکومت کو اس امر پر مبارکباد پیش کرتا ہے کہ انہوں نے شرپسند عناصر کی بغاوت کی کوشش کو ناکام بنا دیا  اور پوری دنیا کے لئے ایک روشن مثال قائم کی۔ اجلاس کو امید ہے کہ ترکی کے غیور عوام کی یہ جرأت مندانہ مزاحمت وہاں فوجی بغاوتوں کے طویل سلسلہ اور رجحان کو جڑ سے ختم کرنے کا باعث بنے گی۔ ترکی میں جمہوری حکومت ، جمہوری قدروں اور اداروں کی جڑیں مستحکم ہوں گی، ملک کے تحفظ کے سلسلے میں فوج کا حقیقی کردار بحال ہوگا اور بیرونی طاقتوں کی مداخلتیں اور ریشہ دوانیاں بے اثر و ناکام ثابت ہوں گی۔

اجلاس ترکی کی حکومت اور ملک کے مقبول صدر رجب طیب اردگان کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو وہ ملک میں حکمرانی کی ا چھی روایات اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لئے کر رہے ہیں۔ اچھے مستقبل کے لئے ضروری ہے کہ بغاوت کی ذمہ دار اندرونی و بیرونی طاقتوں کو بے نقاب کیا جائے اور جو عناصر مجرم ثابت ہوں، ان کے خلاف عدل و انصاف اور قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔

اجلاس کے نزدیک یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ باغی عناصر کے خلاف نہ صرف ترکی کے عوام نے بے مثل اتحاد ، جرأت و پامردی اور ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا بلکہ ترکی کی تمام سیاسی جماعتوں اور حزب اختلاف نے بھی بغاوت کی مذمت کی اور منتخب حکومت کی تائید کی۔ بغاوت کے اس واقعہ نے مغرب اور مغربی حکومتوں کے دوہرے رویوں اور منافقت کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ بغاوت کے دوران اور اس کے فوری بعد عالمی میڈیا اور نام نہاد دانشوروں و تجزیہ نگاروں کے ایک بڑے طبقے اور بعض حکومتی عہدیداروں کی جانب سے جانبدارانہ رد عمل سامنے آیا۔ اس رویے سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ عالمی طاقتیں مشرق وسطیٰ اور مسلم ملکوں میں جمہوریت کو پسند نہیں کرتیں اور یہاں عوام پر زبردستی اپنے آلہ کار حکمرانوں کو مسلط کرنا چاہتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ د نیا کے اور مغربی ملکوں کے انصاف پسند عوام مغربی حکومتوں کی جمہوریت دشمن پالیسیوں سے واقف ہوں اور اُن کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اور یہ مطالبہ بھی کریں کہ .جن ملکوں میں جمہوریت پر شب خون مارا گیا ہے وہاں جمہوریت بحال کی جائے۔

اجلاس اس موقع پر ترکی کی حکومت کو بھی یاد دلانا چاہتا ہے کہ موجودہ صورت حال ترکی کی قیادت کے لئے ایک بڑا امتحان ہے۔ اجلاس کو امید ہے کہ ترکی کی حکومت دانش مندی ، مستقل مزاجی اور تحمل و بردباری کے ساتھ ان سخت حالات سے نبرد آزما ہوگی اور اس امر کو یقینی بنائے گی کہ حالات کی یہ کروٹ ترکی میں جمہوری حکومت کے ساتھ جمہوری قدروں کے استحکام ، قانون کی حکمرانی اور حقوق انسانی کی پاسداری اور ملک کی تعمیر و ترقی کا ذریعہ بنے۔

(محمد سلیم انجینئر)

قیم جماعت

ستمبر 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau