علم و فکر کی اقلیم پر نوجوانوں کی شہر یاری

محمد صیاد | ترجمہ : محمد علی اختر

ایک ایسے پُر شباب تمدن کے سائے تلے، جس نے نہ صرف جغرافیائی بلکہ علمی و فکری اعتبار سے بھی، صدیوں تک محیر العقول قوت و حرکت کے ساتھ، زمامِ عصر اپنے قبضے میں رکھی، تہذیبی سرمائے کی آبیاری میں نوجوانوں کی شرکت کسی حیرت کا باعث نہیں۔ بہت سے مسلم مفکرین گزرے ہیں جن کی قابلیت کے آثار تقریبا دس سال کی عمر سے ہی ظاہر ہونے شروع ہوگئے تھے۔ سابقہ زمانوں میں متعدد اہل علم کے علمی و فکری کارناموں کی کثرت و عظمت کو اس کی روشنی میں سمجھا جاسکتا ہے، کہ ابتدائی نشو و نما کے چند برسوں کو چھوڑ کر ان کی تمام عمر تقریبا قلم و دوات کے لیے وقف ہوتی تھی۔

اس کے باوجود کہ ماہرینِ ’’اصول فقہ‘‘ نے اہلِ علم اور بالخصوص اہلِ فتوی و اجتہاد کے لیے کچھ شرائط مقرر کی ہیں، مگر ان میں عمر کی کوئی حد مقرر نہیں کی ہے۔ اہل اسلام کے یہاں مسندِ افتا و تدریس پر جلوہ افروز ہونے کے لیے عمر کی کوئی تحدیدنہیں۔ اس مقالے میں اسلامی علوم و معارف کے فروغ میں نوجوانوں کے کردار کا احاطہ کرتے ہوئے، اسلامی تہذیب میں علمی تخلیقات کی کثرت و زرخیزی اور علمائے اسلام کے علمی و فکری زندگی کے ابتدائی مرحلے میں ہی اوجِ کمال پر پہنچنے کے اسرار کی کھوج کی گئی ہے۔

فطری انتخاب کا جمہوری طریقہ

ہم دیکھتے ہیں بہت سے اکابر علما نے بلوغت کے معًا بعد یعنی بچپن کا مرحلہ گزرتے ہی مسندِ تدریس و افتا سنبھال لی۔ اس سلسلے میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ انھوں نے علمی حلقوں پر، بلکہ عوام کے درمیان بھی خود کو مسلط نہیں کیا۔ اس سے ایک اہم پہلو نکل کر ہمارے سامنے آتا ہے، جس نے نوجوان اہلِ علم کی علمی سرگرمیوں کو فروغ بخشا، وہ فطری انتخاب کا جمہوری طریقہ ہے۔ جماعتِ علما کا انتخاب فطری طور سے عمل میں آیا، جسے ہم ’’معاشرتی انتخاب کا قانون‘‘ کہہ سکتے ہیں؛ کیوں کہ عوام انھی سے فتوی پوچھتے ہیں جن کی دینداری اور دیانت داری پر ان کو اعتماد ہوتا ہے، اسی طرح تشنگانِ علم و فقہ ایسے ہی افراد کے اسباق میں شامل ہوں گے جنھیں وہ منصبِ تدریس و قیادت کا اہل سمجھیں۔

علما کا انتخاب ہی بس اصل معیار نہیں ہے۔ ایک اور چیز اہل ایمان کے درمیان مقبولیت بھی ہے، جس کی رعایت سیاست، فقہ اور دین و دنیا کے تمام امور میں شرعا معتبر ہے۔ اہل ایمان سے مراد یہاں عوام ہیں کہ ان کے یا ان کے نمائندوں کے انتخاب سے ہی قیادت قائم ہو سکتی ہے۔ یہاں تک کہ علمائے اصول نے پیروی کے لیے عوام کو اپنے فقیہ کے انتخاب کا بھی حق دیا ہے، بلکہ ان پر اس سلسلے میں غور و فکر اور اجتہاد کو لازم قرار دیا ہے۔

اس سلسلے میں امام جوینی فرماتے ہیں: ’’مقلد کے لیے غور و فکر اور اجتہاد کے بغیر کسی دوسرے کی تقلید جائز نہیں۔ فکر و اجتہاد کی شکل میں اختلاف ہے‘‘۔ بعض علما کے مطابق عوام کو اس بات کا حق ہے کہ وہ ہر فن سے چند مسائل منتخب کرنے کے بعد ان مسائل میں مفتی کا امتحان لیں۔ بعض کی رائے ہے کہ مفتی کا اپنے بارے میں اجتہاد کی اہلیت کا اقرار کرنا کافی ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ (م: ۷۲۸ھ) اپنی کتاب ’’قاعدة في المحبة‘ میں کہتے ہیں: ’’عوام کا اجتہاد علما سے جہاں تک ممکن ہو سوالات اور استفتا کے ذریعے علم طلب کرنا ہے۔‘‘

کم عمری میں مقامِ قیادت کا حصول

جب ہم عنفوانِ شباب میں ہی اقلیمِ علم پر ائمہ کبارکی شہریاری کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارا سامنا شیخ الاسلام عالمِ امت انس بن مالكؒ (۹۳-۱۷۹ھ) سے ہوتا ہے، جنھوں نے صحابہ کرامؓ کے تربیت یافتہ تابعین کرامؒ سے علم حاصل کیا۔ سات سال کے تھے تو تحصیل علم کا آغاز کیا اور صرف سترہ سال کی عمر میں جب ان کے شیوخ و اساتذہ ابھی با حیات تھے، مسندِ تدریس و افتا پر متمکن ہو ئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا حلقۂ درس ہم عصروں اور اساتذہ کے حلقاتِ درس سے زیادہ وسیع ہوگیا۔

قاضی عیاض (م: ۵۴۴ھ) نے “ترتیب المدارک” میں نقل کیا ہے: “سفیان بن عیینہ بیان کرتے ہیں کہ امام مالک نے مسند ِدرس سنبھالی تو ان کی عمر سترہ برس کی تھی، او ر اساتذہ کی زندگی میں ہی ان کی امامت کا شہرہ پھیل گیا تھا۔ ابن منذر کا بیان ہے: مالک، نافع [مولی ابن عمر] اور زید بن اسلم (م: ۱۳۶ھ) کی حیات میں فتوی دیتے تھے….، ایوب سختیانی(م: ۱۳۱ھ) فرماتے ہیں: میں نافع کی زندگی میں مدینہ حاضر ہوا، اس وقت مالک کا اپنا حلقۂ درس تھا۔” ذھبی (م: ۷۴۸ھ) نے “سیر اعلام النبلاء” میں امام نافع کی تاریخِ وفات کے سلسلے میں اختلافات کا ذکر کرنے کے بعد وثوق کے ساتھ لکھا ہے: “زیادہ صحیح یہ ہے کہ نافع کی وفات سنہ ۱۱۷ھ میں ہوئی۔”

علمی میدان میں سیادت کا مقام حاصل کرتے وقت امام مالک کی کم سنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امام ذہبی کہتے ہیں: “کچھ دس سال کے ہوں گے تو مالک طلبِ علم کے سفر پر روانہ ہوئے، اور محض۲۱سال کی عمر میں انھوں نے فتوی دینے کی اہلیت حاصل کرلی اور تدریس کی مسند پر جلوہ آرا ہوئے۔ ابھی وہ بانکے نوجوان ہی تھے کہ علما کی ایک جماعت ان سے حدیث کی روایت کر رہی تهی۔ ابو جعفر منصور (م: ۱۵۸ھ) کی حکومت کے آخری عہد اور اس کے بعد کے دور میں عشّاقِ علم دور دور سے ان کے دربار ِ علم کا رخ کرتے۔ خلیفہ رشید (م: ۱۹۳ھ) کے دور میں طالبانِ علم کا ان کے یہاں اژدحام تھا جو ان کی وفات تک باقی رہا۔”

علما کے نزدیک مسند نشینی کی معروف شرط کے مطابق جس کا میں نے اوپر ذکر کیا، امام مالک نے اپنے کبارِاساتذہ،جو وقت کے ائمہ فن تھے، کی اجازت کے بعد ہی مسندِ افتا کو زینت بخشی، اس بارے میں خطیب بغدادی (م: ۴۶۳ھ) نے اپنی کتاب ’الفقیه و المتفقه‘ میں مالک بن انس سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ وہ کہتے تھے: “جب تک ستّر اہل فن نے یہ گواہی نہیں دے دی کہ میں فتوی دینے کا اہل ہوں، میں نے فتوی نہیں دیا۔”

امام شافعی کا کمال

اپنے شیخ امام مالک کے نقش قدم پر، امام شافعی (م: ۲۰۴ھ) نے کم عمری میں ہی تحصیل علم کا آغاز کیا اور اس کے لیے کثرت سے اسفار کیے۔ حصولِ علم کے راستے میں ان کی بلند حوصلگی اور گہری دل چسپی عیاں تھی۔ سات سال کی عمر میں انھوں نے حفظ ِقرآن مکمل کرلیا اور پندرہویں سال میں مسندِ افتا سنبھال لی۔ خطیب بغدادی ’تاریخ بغداد‘ میں بیان کرتے ہیں کہ اسماعیل مزنی (م: ۲۶۴ھ) نے اپنے استاذ امام شافعی کو کہتے ہوئے سنا: “سات سال کی عمر میں، میں نے قرآن حفظ کر لیا اور دس سال کا تھا تو مؤطا مجھے ازبر ہو چکی تھی۔”

امام ابن جوزی (م: ۵۹۷ھ) ’المنتظم‘ میں امام شافعی کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’سات سال کی عمر میں، میں نے قرآن حفظ کر لیا اور دس سال کا تھا تو میں مؤطا حفظ کر چکا تھا، اور جب تک مجھے دس ہزار احادیث یاد نہیں ہوگئیں میں نے فتوی دینا نہیں شروع کیا…‘‘۔ جب انھوں نے فتوی دینا شروع کیا، ان کی عمر محض پندرہ سال تھی۔امام ذہبی ’السِیر‘میں رقم طراز ہیں کہ امام شافعی ’’مدینہ تشریف لائے–جب وہ بیس سال سے کچھ اوپر کے رہے ہوں گے اس وقت وہ فتوی دینا شروع کر چکے تھے اور منصب امامت کے اہل ہو چکے تھے- اور امام مالک سے زبانی مؤطا سناکر اس کی اجازت حاصل کی۔‘‘

امام شافعی کی پرورش تنگ دستی میں ہوئی۔ امام ذہبی نے ’السِیر‘میں ان کا قول اس طرح نقل کیا ہے: “اپنی والدہ کی آغوش میں، میں نے یتیمی کی حالت میں پرورش پائی۔ میری والدہ کے پاس معلم کو دینے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ معلم میری تعلیم کے لیے اس بات پر راضی ہوگئے تھے کہ ان کی عدم موجودگی میں، میں بچوں کی نگرانی کروں اور ان کے کام میں ہاتھ بٹاؤں۔” مگر تنگدستی انھیں تفوق و امامت حاصل کرنے، مسندِ تدریس و افتا پر جلوہ افروز ہونے اور علما سے اس کی اہلیت کی شہادت پانے سے نہیں روک سکی۔ غربت و تنگدستی تحصیلِ علم کے لیے عام طور سے بھی اور کم عمری میں بھی مانع نہیں ہے۔ امام شافعی تیسری صدی ہجری کے اختتام پر جیسا کہ امام ذہبی نے کہا ہے، ’مجدد‘ کی صورت میں جلوہ گر ہوئے۔

مملکت ِاسلامی کے مشرقی افق سے طلوع ہونے والے امام المحدثین محمد بن اسماعیل بخاری (م: ۲۵۶ھ) اپنے بارے میں بتاتے ہیں کہ مکتب میں پڑھتے ہوئے دس سال کی کم عمری میں انھوں نے حدیثیں یاد کرنا شروع کردیا تھا۔ سولہ سال کی عمر تک وہ کئی علمی کتابیں یاد کر چکے تھے اور اٹھارہ سال کے ہوتے ہوتے تصنیف و تالیف شروع کردی تھی۔

فقیہ فلسفی

کم عمری میں مرتبۂ فضل و کمال حاصل کرنا صرف علما شریعت پر موقوف نہیں، بلکہ اطبا، فلاسفہ اور اس دور میں رائج بیشتر فنون کے عشّاق میں ہمیں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ دنیا کے ایک بڑے فلسفی شیخ ابن سینا (م: ۴۲۸ھ) صغر سنی میں ہی تحصیل علم میں لگ گئے اور کم عمری میں ہی انھوں قرآن حفظ کرلیا اور فقہ کے دروس میں حاضر ہونے لگے۔

ابن ابی اصیبعه (م: ۶۶۸ھ) نے ’عیون الأنباء فی طبقات الاطباء‘ میں ان کے تعلیمی سفر کی روداد تحریر کی ہے، جس میں وہ کہتے ہیں: ’’مجھے قرآن اور ادب کے اساتذہ کے پاس بھیجا گیا، اور جب میری عمر دس سال کی ہوئی تو میں قرآن اور بہت سے ادبی شہ پارے حفظ کر چکا تھا، یہاں تک کہ لوگ مجھے یادداشت میں عجوبۂ روزگار سمجھتے تھے…، پھر میں خود سے کتابوں اور شروحات کا مطالعہ کرنے لگا یہاں تک کہ علم منطق پر مجھے عبور حاصل ہوگیا…، پھر میرا اشہبِ شوق علمِ طب کی طرف مڑ گیا۔ علمِ طب مشکل علم نہیں ہے، اسی لیے کوئی حیرت کی بات نہیں کہ قلیل عرصے میں، میں نے اس میں اتنی مہارت حاصل کر لی کہ علمِ طب کے فضلاء مجھ سے یہ علم پڑھنے لگے۔‘‘

حیرت کی بات تویہ ہے کہ فلسفہ، منطق اور طب میں منصبِ امامت حاصل کرنے کے باوجود، ابن سینا نے فقہ کو نہیں چھوڑا، بلکہ اپنی پوری توجہ اس پر مبذول کردی، یہاں تک اس علم میں بھی انھیں دسترس حاصل ہوگئی۔ وہ کہتے ہیں: ’’میں مریضوں کا علاج کرتا تھا، اور اس عمل کے نتیجے میں علاج و معالجہ کے اتنے دروازے مجھ پر وا ہوئے کہ جن کا کوئی شمار نہیں۔ اس کے ساتھ ہی میں فقہ کے دروس میں بھی حاضر ہوتا اور مباحثے کرتا تھا۔ اس وقت میری عمر سولہ سال کی تھی۔ پھر میں نے ڈیڑھ سال پوری طرح علوم کے مطالعہ و قراءت میں صرف کیا اور منطق و فلسفے کے تمام أجزا دوبارہ پڑھے۔”

عہدِ شباب میں تحصیل ِعلم اور اپنے علمی رسوخ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں: ’’اس وقت میں علوم کا سب سے بڑا حافظ تھا اور آج ان میں مجھے زیادہ پختگی حاصل ہے، مگر علوم وہی رہے، اس کے بعد ان میں کوئی جدت نہیں پیدا ہوئی۔‘‘ اکتسابِ علم کے طریقِ کار پر یہ ایک اہم تربیتی زاویۂ نگاہ ہے، جس کی رو سے شباب کا مرحلہ حفظ، ذوق و شوق، لگن اور شخصیت سازی کا مرحلہ ہے، اور ما بعد شباب غور و فکر، پختگی اور رسوخ حاصل کرنے کا مرحلہ ہے۔

اساطین علما کا درس میں شامل ہونا

ابن سینا کے عہد سے قریب ہی، ہماری ملاقات حجۃ الاسلام ابو حامد غزالی (۴۵۰-۵۰۵ھ) سے ہوتی ہے۔ انھوں نے بھی کم عمری میں ہی تحصیل علم کا آغاز کیا اور اپنا علمی سفر جاری رکھا یہاں تک کہ ان کی شہرت پھیل گئی اور عوام میں انھیں مقبولیت حاصل ہو گئی، مگر جلد ہی انھوں نے عوامی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کرلی، اور خلوت کو جلوت پر اور گمنامی کو شہرت پر ترجیح دیتے ہوئے گوشہ نشینی اختیار کر لی۔

نہ صرف یہ کہ کم عمری میں ہی ان کی علمی شہرت عام ہوئی، بلکہ ہم عمروں پر انھیں علمی فوقیت حاصل تھی۔ ابن کثیر ’البدایہ والنہایہ‘میں رقم طراز ہیں کہ امام غزالی نے “امام حرمین [جوینی] سے علمِ فقہ حاصل کیا…، جس موضوع پر بھی گفتکو کرتے ایسا لگتا کہ دنیا کا سب سے ذہین شخص بول رہا ہے۔ جوانی میں ہی ان کی شہرت دور دور تک پھیل گئی، اور جب سنہ۴۸۴ھ میں، ۳۴سال کی عمر میں، بغداد کے مدرسہ نظامیہ میں وہ تدریس کے لیے مسند نشیں ہوئے، تو اساطین علما ان کے درس میں شامل ہوتے۔‘‘

’المنقذ من الضلال‘ میں امام غزالی اپنے بارے میں بتاتے ہیں کہ انھوں نے ابتدا میں ہی تقلید کا قلادہ اتار کر پھینک دیا اور بیس سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے “بحر ذخار” میں غوطہ زنی اور مختلف مذاہب و فِرق کے اقوال کی چھان پھٹک میں لگ گئے: “عنفوان شباب سے لے کر آج تک (جب کہ ان کی عمر پچاس کے پار ہو چکی تھی) میں اس گہرے سمندر کی موج پیمائی کرتا آرہا ہوں۔ میں نے نڈر وبے باک بن کر، کسی احتیاط وخوف کے بغیر اس کے تلاطم کا مقابلہ کیا ہے۔ ہر ظلمت کو میں نے چاک کیا، ہر مشکل پر وار کیا، ہر دشواری کو پار کیا اور ہر فرقے کے عقائد کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔‘‘

کم عمری ہی میں اپنی گردن سے تقلید کا قلادہ اتارنے کے بارے میں وہ کہتے ہیں: ’’طفولت کے کچھ ہی بعد، تقلید کا قلادہ میری گردن سے اتر گیا، اور موروثی عقائد کا محل میرے سامنے چکنا چور ہوگیا۔‘‘ کبار ائمہ کی طرح تقلید کو چھوڑنے، غور و فکر اور اجتہاد کی دعوت دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ایک بار تقلید کو پس پشت ڈالنے کے بعد تقلید کی طرف لوٹنےکی کوئی وجہ نہیں رہ جاتی ہے۔‘‘ نو عمری کی اس قابلیت میں چار چاند لگتے گئے، یہاں تک کہ جیسا کہ وہ خود اپنے بارے میں بتاتے ہیں، جس کا ہم آگے ذکر کریں گے، اور جیسا کہ اہلِ سیر ان کے بارے میں لکھتے ہیں اور جیسا کہ جلال الدین سیوطی (م: ۹۱۱ھ) کے ’مقامات‘ میں مذکور ہے، وہ چھٹی صدی کے سرے پر اپنی صدی کے مجدد کہلائے۔

غیر معمولی صلاحیت

مشہور حنبلی فقیہ اور قاضی ابویعلی کی سنہ۴۵۸ھ میں وفات کے بعد، ان کے شاگرد ابوالوفا ابن عقیل (۴۳۱-۵۱۳ھ) بغداد میں ’جامع منصور‘ کی اسی مسندِ تدریس پر جلوہ گر ہوئے جس پر عرصے تک ان کے شیخ متمکن رہے تھے، اور اس طرح ابن عقیل نے محض ۲۷سال کی عمر میں مذہبِ حنبلی کے شیوخ کے درمیان مرکزی مقام حاصل کیا، جب کہ شریف ابو جعفر بن ابی موسی ہاشمی (م: ۴۷۰ھ) ان سے عمر میں بھی بڑے تھے اور ان سے زیادہ مدت اپنے استاذ ابو یعلی کی صحبت میں گذاری تھی۔ ابن عقیل نے ہی شیخ کی وفات پر ان کے غسل و تکفین کی ذمہ داری ادا کی، جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شیخ کے انتقال کے بعد وہی شیخ کی علمی میراث اور مقام و مرتبہ کے زیادہ حقدار تھے۔

جو علمی مقام و مرتبہ ابن عقیل کو حاصل ہوا، وہاں تک پہنچنے میں انھیں ابو منصور ابن یوسف سے–جو کہ حنبلی اور بہت بڑے تاجر تھے، اور عباسی خلیفہ قائم بامر اللہ (م: ۴۶۷ھ) کے مشیر تھے–بہت مدد ملی۔ ’ذیل طبقات الحنابلۃ”‘میں ابن رجب حنبلی (م: ۷۹۵ھ) کے بیان کے مطابق، ابن عقیل اس دور کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں: ’’ابو منصور ابن یوسف میرے پاس آئے، تو مجھے ان سے سب سے زیادہ عزت و احترام ملا۔ انھوں نے عمر میں مجھ سے بڑے (ان کے مد مقابل ہاشمی) کی موجودگی میں فتاوی میرے سامنے پیش کیے، سن [۴سو] ۵۸ھ میں میرے شیخ (ابو یعلی) کی وفات کے بعد جامع منصور میں برامکہ کے حلقے کا مجھے مسند نشیں بنایا، اور میری معاش اور حلقے کے ساز و سامان کا بار اٹھایا۔‘‘

ابن عقیل کی وفات سے تین سال پہلے ابن جوزی (۵۱۰-۵۹۷ھ) پیدا ہوئے اور کم سنی سے ہی حصولِ علم میں لگ گئے۔ چھ سال کی عمر میں قرآن پڑھنا شروع کیا اور سات کی عمر میں حدیث کی سماعت شروع کی۔ ’لفتۃ الکبد‘ میں اپنے بارے میں ابن جوزی لکھتے ہیں: ’’ جب میں چھ سال کا تھا اور مکتب میں پڑھتا تھا، مجھے یاد ہے کہ میرا عزم بلند تھا، اورمیں بڑی عمر کے بچوں کا ہم سبق تھا۔ کم سنی میں ہی مجھے اتنی عقل آگئی تھی جتنی بڑے بوڑھوں کو بھی نصیب نہیں ہوتی۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی راستے میں ہم جولیوں کے ساتھ میں کھیل کود میں پڑا، یا کبھی [حد سے] زیادہ ہنسا، یہاں تک کہ جب میں–اور اس وقت میری عمر کچھ سات سال کی رہی ہوگی–جامع مسجد جاتا تو کسی کرتب باز کے حلقے میں شامل نہیں ہوتا، بلکہ کسی محدث کے حلقے کا رخ کرتا اور سِیر میں جو سب ان سے سنتا یاد داشت میں محفوظ کرلیتا اور گھر آکر اسے قلم بند کر تا۔‘‘

جس طرح ابن عقیل کو قدرت کی طرف سے ابو منصور جیسا تاجر نصیب ہوا جس نے علمی ترقی میں ان کی مدد کی، اسی طرح ابن جوزی کو بھی ایک بڑے شیخ کا سہارا نصیب ہوا، جن کے بارے میں کہتے ہیں: ’’مجھے شیخ ابو الفضل ابن ناصر (محمد بن علی سلامی بغدادی، م: ۵۵۱ھ) جیسے استاد ملے جو مجھے شیوخ کی مجلسوں میں لے جایا کرتے۔ وہاں میں نے مسند (مسند امام احمد) اور دیگر امہات کتب کی سماعت کی۔ ‘‘

پر عزم بچپن

ابن رجب ’ذيل طبقات الحنابلة‘ میں تحریر کرتے ہیں: جب سنہ ۲۷[۵۲۷ھ] میں ابن زاغونی کا انتقال ہوا تو ابن جوزی نے ان کے حلقے کی تدریس کی درخواست پیش کی، مگر کم سنی کی وجہ سے ان کو اس کی اجازت نہیں ملی۔ اس کے باوجود وزیر انوشیروان (ابن خالد کاشانی، م: ۵۳۲ھ) نے انھیں وعظ کی اجازت دی۔ اسی سال بغداد کے کئی مقامات پر ابن جوزی نے لوگوں کو خطاب کیا، پھر ان کی مجالسِ پند وسیع ہوتی گئی اور لوگوں کا اژدحام ہونے لگا۔ ابن کثیر اور ان کے بعض دیگر سوانح نگاروں کے مطابق بیس سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ابن جوزی وعظ و نصیحت کے موضوع پر کتابیں تصنیف کر چکے تھے۔

السِیر میں امام ذہبی کے بقول ابن جوزی کی پرورش یتیمی میں ہوئی، کیوں کہ تین سال کی عمر میں ہی ان کے والد وفات پا چکے تھے۔ چچا نے ان کی پرورش کی۔ ابن جوزی کے اقارب و رشتہ دار پیتل کا کاروبار کرتے تھے۔ جب کچھ بڑے ہوئے تو ان کے چچا انھیں ابو ناصر کے پاس لے گئے جو انھیں سماعت کے لیے لے جایا کرتے۔ ابن جوزی کو عمر کے ابتدائی مرحلے میں ہی وعظ و خطابت کا شوق پڑ گیا تھا اور وہ کم عمری سے ہی لوگوں میں خطاب کرنے لگے تھے۔

ساتویں صدی ہجری کے اختتام پر ہماری ملاقات نمونۂ دہر شیخ الاسلام ابن تیمیہ (م: ۶۶۱-۷۲۸ھ) سے ہوتی ہے، جو ۲۱ سال کی عمر میں اپنے والد–جو کہ ایک حنبلی امام تھے–کی مسندِ تدریس پر ان کی جانشینی کا بار سنبھالتے ہیں۔ اس سے قبل انیس سال کی عمر سے ہی وہ فتوی دے رہے تھے اور تصنیف و تالیف میں مصروف تھے۔ اپنی کتاب ’سیرت شیخ الاسلام ابن تیمیہ‘میں امام ذہبی رقم طراز ہیں: ’’کم سنی میں ہی انھوں نے مجالس و محافل میں آنا جانا شروع کردیا جہاں وہ اپنی گفتگو اور مباحثوں سے بڑے بڑوں کو لا جواب کر دیتے۔ علم کی ایسی باریکیاں بیان کرتے کہ اہل شہر انگشت بدنداں رہ جاتے۔ انیس بلکہ اس سے بھی کم عمر میں انھوں نے افتا اور تصنیف و تالیف کا کام شروع کر دیا..، ان کے والد کا انتقال ہوا–جو کہ حنابلہ کے بڑے شیوخ اور ائمہ میں سے تھے–تو ان کی تدریسی ذمہ داریاں سنبھال لیں، اس وقت ان کی عمر ۲۱سال کی تھی۔ اس کے بعد سے ان کی شہرت پھیلتی گئی اور چہار دانگ عالم میں ان کا غلغلہ بلند ہوگیا۔‘‘

نوجوان مجدد

بلوغت سے قبل ہی تفوق حاصل کرنے کا یہ دستور قائم رہا۔ جلال سیوطی (۸۹۴-۹۱۱ھ) کا شمار بھی ان شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے کم عمری میں ہی علم حاصل کیا اور مقام ِکمال کو پہنچے۔ سیوطی نے آٹھ سال سے کم عمر میں حفظِ قرآن مکمل کیا، پھر فقہ، اصول اور نحو کی کتابوں کے حفظ میں لگ گئے۔ سنہ ۸۶۴ھ کی ابتدا میں جب ان کی عمر ۱۵ سال کی تھی، وہ علم کی خدمت میں مشغول ہوئے اور ۱۷سال کی عمر میں سنہ۵۶۶ھ کے آغاز میں پہلا علمی رسالہ تصنیف کیا۔

محض ۲۲ سال کی عمر میں انھوں نے فتوی دینا شروع کیا۔ اس بارے میں وہ اپنی کتاب ’التحدث بنعمۃ اللہ‘ میں فرماتے ہیں: ’’سنہ۲۱ [۸۲۱ھ] میں، میں فتوی دینے کے لیے بیٹھا۔ اس کے بعد میں نے کتنے فتوے لکھے، اس کا علم اللہ کو ہی ہے!‘‘۔

سیوطی نے سنہ۸۷۲ھ میں جب ان کی عمر ۲۳برس کی تھی، جامع طولون میں حدیث نبوی کے املا کی مجلسیں منعقد کیں۔ ان کے ہم عمروں، یا عام طور سے اس مقام پر پہنچنے کے عمر کے مقابلے میں ان کی عمر بہت کم تھی، خاص طور سے جب کہ یہ معاملہ نسبتاً اخیر کی صدیوں کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حافظ سخاوی (م: ۹۰۲ھ) جیسے عمر میں ان سے بڑے اہل علم کی موجودگی کے باوجود، کم عمری میں ہی، پورا مصر ان کا گرویدہ تھا۔

سیوطی کی پرورش یتیمی اور مفلسی میں ہوئی تھی۔ انھیں اپنی مفلسی اور خود کفیلی پر ناز تھا۔ اپنے مقامات ’طرز العمامة‘ میں وہ اپنے ایک حریف سے کہتے ہیں: ’’تم میری مفلسی کا مذاق اڑاتے ہو، تو سنو کہ مفلسی اللہ کے نزدیک شرف کی بات ہے۔ علما نے کہا ہے: عزت دار مال ودولت پر فخر نہیں کرتے۔‘‘ سخت محتاجگی کے باوجود، سیوطی نے اجتہادِ مطلق کا درجہ حاصل کیا، جیسا کہ انھوں نے خود اپنے بارے میں کہا ہے: ’’جہاں تک اجتہاد کا معاملہ ہے، تو اللہ کا فضل و احسان ہے کہ میں نے شرعی احکام، حدیث نبوی، اور عربی..، میں اجتہادِ مطلق کا مقام حاصل کیا۔‘‘

’مجتہدِ مطلق‘ سے مراد وہ عالم ہے جو علمِ اصولِ فقہ میں منصوص عام شرعی دلائل سے براہ راست احکام مستنبط کرنے کی علمی صلاحیت و اہلیت رکھتا ہو۔ اس کے بالمقابل ’مجتہدِ مقید یا منتسب‘ کی اصطلاح ہے، جس سے مراد ایسا مجتہد ہے جو استنباطِ احکام میں کسی خاص فقہی مذہب کے امام کے متعین کردہ اصولوں کا پابند ہو۔

نوجوان اطبا

کم عمری میں مقام کمال کا حصول صرف انھیں ائمہ کبار پر موقوف نہیں جن کا اوپر میں نے ذکر کیا، اور نہ ہی یہ کسی علم یا فن کے ساتھ خاص تھا۔ بلکہ اطبا، فلاسفہ، متکلمین، وعاظ وغیرہ میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔

ہمیں اندلسی طبیب ابو العلاء ابن زہر (م: ۵۲۵ھ) کی مثال ملتی ہے، جن کے بارے میں ابن ابی اصیبعہ ’عيون الأنباء‘ میں کہتے ہیں: معتضد بالله أبی عمرو عباد ابن عباد [أمير إشبيلية] (م: ۴۶۱ھ) کےزمانے میں کمسنی میں ہی وہ علمِ طب کےحصول میں لگ گئے،ادب بھی انھوں نےپڑھا،اسی لئےان کی تصنیفات میں حسن اور تحریر میں دل کشی پائی جاتی ہے۔ انھی کے زمانے میں ابن سینا کی کتاب ’القانون‘مغرب میں پہنچی…، کم سنی میں ہی ذہانت ان کے بشرے سے برستی تھی اور علم کا چشمہ ان کی ذات سے پھوٹتا تھا۔ متقدمین کی کتابوں سے فہم رسا خوشہ چینی اور زمانے کے شیوخ سے علمی کسب فیض کا سلسلہ انھوں نے جاری رکھا، یہاں تک علم طب میں اس حد سے بھی آگے نکل گئے جہاں خود طب کی طنابیں ٹوٹتی تھیں اور فہم و شعور نے جہاں تک رسائی نہیں پائی تھی۔‘‘

یہاں یہ بات مگر قابل توجہ ہے کہ اس زمانے میں علوم کی سرحدیں متعین نہیں تھیں بلکہ شاخوں کی طرح وہ ایک دوسرے میں پیوست تھے، اس اعتبار سے کہ بہت سے علما بیک وقت عالم، فقیہ، طبیب اور فلسفی بھی ہوتے تھے۔ ابن جوزی مثلا صرف محدث، واعظ اور حنبلی فقیہ ہی نہیں تھے، بلکہ طب میں بھی ان کو رسوخ حاصل تھا، یا جیسا کہ ’السیر‘میں امام ذہبی ان کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’علم تفسیر کے سمندر، سیرت و تاریخ کے علامہ، حدیث اور علوم حدیث کے اچھے جانکار، اجتہاد و اختلاف سے واقف فقیہ ہونے کے ساتھ، علمِ طب کے فروغ میں بھی ان کا کردار اہم ہے۔‘‘ اسی طرح ابن سینا فلسفی اور طبیب ہونے کے ساتھ فقہ میں بھی اتنا درک رکھتے تھے کہ بیس سال سے کم عمر میں ہی اس موضوع پر مناظروں میں شریک ہوتے!!

اپنی کتاب ’إنباء الغُمْر‘ میں ابن حجر، تاج الدین سبکی (م: ۷۷۶ھ) کی سیرت لکھتے ہوئے رقم طراز ہیں: ’’اپنے والد کی وفات کے بعد، دس سال کی عمر میں انھوں نے جامع اموی میں خطابت کی ذمہ داری سنبھالی، اس سے پہلے اپنے والد کی زندگی میں ہی، جب کہ ان کی عمر سات سال کی تھی، انھوں نے امینیہ میں درس دینا شروع کر دیا تھا۔‘‘ ابن عجمی (م: ۸۳۳ھ) کی سوانح میں ابن حجر کہتے ہیں: ’’کم عمری سے ہی ان کے والد نے ان پر توجہ کی، ابھی گیارہواں سال پورا بھی نہیں ہوا تھا کہ انھوں نے سنہ۸۸ [۷۸۸ھ] میں پہلے ظاہریہ [مدرسہ] میں لوگوں کو تراویح میں قرآن سنایا۔ ‘‘

نتائج و نکات

مختلف فنون کے ائمہ کے کم عمری میں ہی مقامِ کمال و قیادت تک پہنچنے کے واقعات اولین تین صدیوں میں مسلمانوں کے علمی و تہذینی منظر نامے پر چھائے رہے، بعد کی صدیوں میں بھی پہلے سے کم تعداد میں سہی ایسے واقعات ظہور پذیر ہوتے رہے۔ اس حیرت ناک علمی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے کئی اہم نکتے ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔

پہلا نکتہ: قرونِ اولی کے دوران علمی ساخت میں واضح لچک، جو کہ بعد کی صدیوں میں فتوی و اجتہاد کی اہلیت کے شرائط میں پیچیدگی آنے کی وجہ سے مفقود ہوگئی۔ چناں چہ امام جوینی، امام غزالی وغیرہ نے اپنے بارے میں ائمہ اربعہ کی طرح اجتہاد مطلق کے درجہ تک پہنچنے کی صراحت کی، مگر ان کے زمانے کے اہل فن علما نے اس پر کوئی نکیر نہیں کی۔ بلکہ ابن قیم اور سیوطی جیسے اہل علم نے اجتہاد مطلق کی جز بندی کو بھی صحیح قرار دیا ہے۔ جز بندی سے مراد یہ ہے کہ کوئی عالم کسی فن کے ایک باب میں اجتہاد مطلق کا درجہ حاصل کرلے، مگر اسی فن کے دوسرے ابواب میں اسے یہ مرتبہ حاصل نہ ہو۔ اس صورت میں کوئی شخص فقہ کے کسی ایک پہلو میں بھی مجتہد ہوسکتا ہے، جب کہ دوسرے پہلوؤں میں وہ اس مرتبے تک نہ پہنچ سکے۔ یہ نہایت اہمیت کا حامل نکتہ ہے، جس کا استحضار، آج کے دور میں جب کہ علوم نہایت پیچیدہ ہوچکے ہیں اور ان کی شاخوں کی شاخیں نکل آئی ہیں، ضروری ہے۔

دوسرا نکتہ: اساتذہ کا اپنے شاگردوں کو تدریس و افتا اور قیادت کی اجازت دینا۔ اس کے متعدد علمی، اخلاقی اور نفسیاتی اسباب تھے جو ان اساتذہ میں موجود تھے۔ بعد کی صدیوں میں ان تمام یا بعض اسباب کے فقدان کے نتیجے میں شاگرد کا قیادت کے مرتبے تک پہنچنا اساتذہ کے لیے پریشان کن اور باعث تشویش مسئلہ بن گیا، اسی طرح بعض شاگردوں کے لیے اساتذہ کی نصیحت بوجھ محسوس ہونے لگی۔

تیسرا نکتہ: اس کا تعلق عصر حاضر میں پورے عالم اسلام، یا کم سے کم اس کے بیشتر حصے اور علاقے میں اس حیرت انگیز صورت حال کے مفقود ہونے کی وجوہات سے ہے۔ سچ یہ ہے کہ کم سنی سے ہی علوم پر خاطر خواہ توجہ دینا صرف طالب علم بچے کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ اس میں سیاسی، معاشی، سماجی، مکانی وغیرہ بہت سے عوامل کا عمل دخل ہوتا ہے۔ بہت سے ملکوں میں مثلًا مکاتب نہ تو موجود ہیں اور نہ ان کا کوئی تصور باقی رہا ہے۔ حالاں کہ مکاتب بلاشبہ بچوں میں قابلیت کی تشکیل کا اہم عنصر تھے، کیوں کہ ان مکاتب میں کم سنی میں ہی پڑھنا، لکھنا سیکھ کر اور قرآن و حدیث یاد کر کےبچے عمر کے ابتدائی مرحلے میں ہی اعلی علوم کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے۔

دورِ جدید کا نظامِ حکومت بھی–اپنی نوعیت، حد سے زیادہ اختیارات اور زندگی کے تمام گوشوں پر حاوی ہونے کی وجہ سے–اس تاریخی صورت حال کے خاتمے کا سبب بنا ہے۔ قدرتی طور پر نئے نظامِ تعلیم نے(جس میں کم سنی سے ہی بچوں کو مخصوص علمی مضامین سے اور ایک ایسے قطعی نظام سے باندھ دیا جاتا ہے جس سے نکلنے کی کوئی گنجائش نہیں اور جو کہ ملازمت، ترقی اور نیک نامی کے لیے لازمی مانا جاتا ہے ) اپنے منہج اور پابندیوں سے باہر نکلنے کی راہیں مسدود کردی ہیں کیوں کہ یہ نظام ِتعلیم جدیدیت اور اس کے تقاضوں کے نتیجے میں ابھرنے والے موجودہ حالات میں معیشت، ملازمت اور تنخواہ کی ضمانت دیتا ہے۔

اس کا ثبوت یہ ہے کہ نظامیہ مدارس ( پانچویں صدی کے وسط سے کثرت سے جن کا قیام عمل میں آیا اور تعداد روز بروز بڑھتی گئی) کی داغ بیل پڑتے ہی بلوغت سے قبل تفوّق کے ان بے نظیر واقعات میں کمی واقع ہونے لگی۔ پھر جدید طرزِ تعلیم کا رواج ہوا، جو اس صورت حال کے تابوت کا آخری کیل ثابت ہوا۔ سیاسی عامل کا وجود گو اب بھی باقی ہے، کیوں کہ سماجی انحطاط اور جبر کے دور میں علمی قابلیت و تفوّق کے ایسے مظاہر کا تصور نہیں کیا جا سکتا، خاص طور سے جب اقتدار پسند حکم رانوں کی عام طور پر کوشش تعلیم کو کم زور یا ختم کرنے، تعلیم یافتہ افراد کا مذاق اڑانے، اور مختلف حیلوں سے انھیں فقر و تنگدستی میں مبتلا رکھنے کی ہو، کیوں کہ اسی میں ان کے تخت و تاج کے بچنے کی ضمانت ہے۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ان تمام ائمہ کبار میں جو صفات مشترک نظر آتی ہیں وہ ان کی خود ساز شخصیت، (کم عمری میں مرتبۂ تدریس، فتوی، اجتہاد اور تصنیف و تالیف کے حصول کے با وجود) راسخ علمی قیادت، تنگ حالی اور بسا اوقات یتیمی ہے جو کہ ہمیں امام شافعی، بخاری اور ابن عقیل جیسے بعض ائمہ کے نزدیک نظر آتی ہے۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ کم عمری میں علمی تفوّق کے ایسے واقعات قوموں کے عروج کے زمانے میں پیش آتے ہیں، نہ کہ سیاسی اور ثقافتی انحطاط کے دور میں جو کہ تہذیبی عمر رسیدگی کی علامت ہے۔ تہذیبی بڑھاپے میں علمی قیادت کا مقام بھی عمر ڈھلنے کے بعد حاصل ہوتا ہے جب جوانی کی طاقتیں اور صلاحیتیں خزاں رسیدہ ہوچکی ہوتی ہیں۔

نومبر 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau