حقیقی سعادت کا تصور

(حجۃ اللہ البالغہ کے باب ’سعادت کی حقیقت ‘ کا مطالعہ)

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی شہرۂ آفاق تصنیف حجۃ اللہ البالغہ اسلامی فکر و حکمت کا ایک ایسا شاہ کار ہے جس میں انسانی زندگی، شریعتِ اسلامیہ، اخلاق، تمدن اور معاشرت کے بنیادی اصول نہایت فلسفیانہ اور حکیمانہ انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ اس کتاب کا ہر باب اپنے اندر ایک مستقل علمی دنیا سموئے ہوئے ہے۔ انہی ابواب میں ایک اہم باب ’حقیقتِ سعادت‘ ہے، جس میں شاہ ولی اللہؒ نے اس بنیادی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ انسان کی حقیقی کام یابی اور سعادت کیا ہے؟

یہ سوال بظاہر بہت سادہ معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں انسانی زندگی کے تمام فلسفے، نظریات اور تہذیبیں اسی سوال کے مختلف جوابات پیش کرتی رہی ہیں۔ کوئی دولت کو کام یابی قرار دیتا ہے، کوئی اقتدار کو، کوئی لذت کو، کوئی آزادی کو اور کوئی مادی ترقی کو۔ شاہ ولی اللہؒ ان تمام تصورات کا نہایت عمیق تجزیہ کرتے ہوئے انسانی سعادت کا ایک منفرد اور جامع اسلامی تصور پیش کرتے ہیں۔ وہ ایک نہایت لطیف اسلوب اختیار کرتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے کائنات کی مختلف مخلوقات کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ ہر مخلوق کا ایک مخصوص کمال (perfection) ہوتا ہے اور اسی کمال کا حصول اس کی سعادت کہلاتا ہے۔ وہ سب سے پہلے جمادات کی مثال دیتے ہیں۔ ایک مضبوط پہاڑ اپنی بلندی، استحکام اور مضبوطی کی وجہ سے کامل سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس کی ہیئت، قوت اور استقامت برقرار رہے تو یہی اس کی سعادت ہے۔ اس کے بعد وہ نباتات کا ذکر کرتے ہیں۔ ایک پودے یا درخت کی سعادت اس کی نشوونما، سرسبزی، پھولوں، پھلوں اور حسن و دل کشی میں مضمر ہے۔ جب وہ اپنی فطری صلاحیتوں کے مطابق پروان چڑھتا ہے تو وہ اپنی سعادت کو پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح حیوانات کی سعادت ان کی جسمانی قوت، حرکت، غذا حاصل کرنے کی صلاحیت، غلبہ اور حیوانی خصوصیات میں ہے۔ جس حیوان میں یہ صفات زیادہ نمایاں ہوں، وہ اپنی نوع کے اعتبار سے زیادہ کامل شمار ہوتا ہے۔

اس کے بعد وہ انسان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ عام طور پر دنیا انسان کی سعادت کا معیار مادی چیزوں کو سمجھتی ہے۔ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جس شخص کے پاس زیادہ دولت ہو، بڑے بڑے محلات ہوں، بلند و بالا عمارتیں ہوں، اعلیٰ عہدے ہوں، سیاسی اقتدار ہو، معاشی ترقی ہو، آسائش کے تمام وسائل میسر ہوں اور زندگی ہر قسم کی سہولتوں سے آراستہ ہو، وہی کام یاب اور خوش بخت انسان ہے۔ لیکن وہ اس تصور کو ناکافی قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ تمام چیزیں اگرچہ زندگی کی سہولتیں ہیں، لیکن یہ حقیقی سعادت نہیں ہیں، کیوں کہ ان کا تعلق انسان کی اس حیثیت سے ہے جو حیوانات کے ساتھ مشترک ہے۔ کھانا، پینا، آرام، جسمانی آسائش، مال و دولت اور مادی ترقی ایسی چیزیں ہیں جن میں انسان اور حیوان کسی نہ کسی درجے میں شریک ہیں۔ اگر کام یابی کا معیار صرف یہی چیزیں ہوں تو انسان اور حیوان کے درمیان بنیادی امتیاز باقی نہیں رہتا۔

شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک انسان کی اصل امتیازی خصوصیت اس کا نفسِ ناطقہ، یعنی اس کی روحانی اور عقلی قوت ہے۔ یہی وہ قوت ہے جو انسان کو دیگر تمام مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔ اس لیے حقیقی سعادت بھی اسی وقت حاصل ہوگی جب انسان کی حیوانی خواہشات اس کی روحانی اور عقلی قوت کے تابع ہو جائیں، نہ کہ اس کے برعکس۔اسی بنیاد پر وہ انسانی سعادت کے تین بنیادی اصول بیان کرتے ہیں:

پہلا اصول یہ ہے کہ انسان کی حیوانی قوتیں، جذبات اور خواہشات اس کے نفسِ ناطقہ اور روحانی شعور کے تابع ہوں۔ انسان کا فیصلہ صرف شہوت، غصہ یا وقتی جذبات کی بنیاد پر نہ ہو، بلکہ اس کی عقل اور روح اس کی رہ نمائی کرے۔

دوسرا اصول یہ ہے کہ انسان کی خواہشات عقلِ سلیم کے تابع ہوں۔ خواہش انسان پر حکومت نہ کرے بلکہ عقل خواہشات کی رہ نمائی کرے۔ جب خواہش عقل کے تابع ہو جاتی ہے تو انسان اعتدال، حکمت اور توازن کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔

تیسرا اصول یہ ہے کہ انسان کے تمام اعمال میں مصلحتِ کلیہ پیش نظر ہو۔ یعنی اس کا ہر عمل صرف اپنی ذات کے فائدے تک محدود نہ ہو بلکہ اس میں پوری انسانیت اور معاشرے کی بھلائی مضمر ہو۔ وہ ایسے فیصلے کرے جن سے اجتماعی خیر پیدا ہو اور جن کا فائدہ عام انسانوں تک پہنچے۔

جب یہ تینوں اوصاف کسی انسان میں جمع ہو جائیں تو وہ حقیقی سعادت سے ہم کنار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ انسان ہے جو اپنی حیوانی خواہشات پر قابو پا کر عقل و روح کی رہ نمائی میں زندگی گزارتا ہے، اور اپنی ذات کے بجائے پوری انسانیت کی خیر خواہی کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے۔ گویا ان کے نزدیک سعادت کا تعلق نہ محض مادی ترقی سے ہے، نہ صرف دولت اور اقتدار سے، بلکہ انسان کے باطن کی اصلاح، عقل کی بالادستی، روحانی تربیت اور اجتماعی خیر خواہی سے ہے۔ یہی وہ اسلامی تصورِ سعادت ہے جو انسان کو حیوانیت سے بلند کر کے مقامِ انسانیت پر فائز کرتا ہے، اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک صالح فرد، ایک مہذب معاشرہ اور ایک عادلانہ تہذیب وجود میں آتی ہے۔

شاہ ولی اللہ دہلویؒ حقیقی سعادت کے تصور کو مزید واضح کرنے کے لیے شجاعت کی مثال پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جس طرح شجاعت کے ظاہری مظاہر کو دیکھ کر ہر شخص کو بہادر نہیں کہا جاسکتا، اسی طرح مادی کام یابیوں کو دیکھ کر ہر انسان کو سعادت مند قرار نہیں دیا جا سکتا۔ وہ پہلے حیوانات کی شجاعت کا تجزیہ کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ حیوانی دنیا میں شجاعت کا معیار بنیادی طور پر چند فطری اوصاف پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان میں غصہ، انتقام کا جذبہ، شدید مشکلات میں ثابت قدم رہنا اور خطرناک حالات میں بلا تردد حملہ کر دینا شامل ہے۔ جس حیوان میں یہ صفات زیادہ نمایاں ہوں، عرفِ عام میں اسے زیادہ بہادر تصور کیا جاتا ہے۔

لیکن شاہ ولی اللہؒ فوراً اس غلط فہمی کی اصلاح کرتے ہیں کہ یہی اوصاف اگر انسان میں بھی موجود ہوں تو اسے شجاع قرار دے دیا جائے۔ ان کے نزدیک انسان کی شجاعت کا معیار حیوانی شجاعت سے یکسر مختلف ہے، کیوں کہ انسان کی اصل امتیازی قوت اس کا نفسِ ناطقہ اور عقل ہے۔ لہٰذا حقیقی شجاعت وہ ہے جس میں انسان کے جذبات اور خواہشات عقل کے تابع ہوں، اس کے فیصلے محض غصے یا انتقام کی بنیاد پر نہ ہوں بلکہ حکمت اور بصیرت کے مطابق ہوں، اور اس کے اقدامات صرف ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ مصلحتِ کلیہ، یعنی اجتماعی خیر اور انسانی بھلائی کے پیشِ نظر ہوں۔ اگر یہ عناصر موجود نہ ہوں تو خواہ کوئی شخص بظاہر کتنا ہی دلیر کیوں نہ دکھائی دے، شاہ ولی اللہؒ کی نظر میں وہ حقیقی معنوں میں شجاع نہیں کہلا سکتا، کیوں کہ اس کی جرأت ابھی حیوانی سطح سے آگے نہیں بڑھی۔

اسی مثال کی روشنی میں وہ حقیقی سعادت کی مزید وضاحت کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر وہ عمل جو انسان سے صرف اس کی طبعی یا فطری جبلت کے تحت صادر ہو، اگرچہ بظاہر اچھا معلوم ہوتا ہو، حقیقی سعادت کا ذریعہ نہیں بنتا۔ انسان کی جبلت میں بہیمی تقاضے بھی رکھے گئے ہیں اور روحانی و ملکوتی صلاحیتیں بھی ودیعت کی گئی ہیں۔ اگر انسان اپنی فطری خواہشات کے مطابق کھاتا پیتا، گھر بناتا، شادی کرتا، معاشرتی تعلقات قائم کرتا اور مختلف صلاحیتوں کا اظہار کرتا رہے، لیکن اپنی باطنی تربیت اور روحانی ارتقا کے لیے کوئی شعوری جدوجہد نہ کرے، تو اس کی یہ تمام سرگرمیاں دنیا کی زندگی تک محدود رہ جائیں گی۔ وہ اپنے اندر وہ اخلاقی اور روحانی کمال پیدا نہیں کر سکے گا جو انسان کی تخلیق کا اصل مقصد ہے۔

شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک حقیقی سعادت دراصل اس کیفیت کا نام ہے جس میں انسان اپنی بہیمی قوتوں کو اپنی ملکوتی اور روحانی قوتوں کے تابع کر دے، خواہشات عقل کی رہ نمائی قبول کریں، اور عقل بھی محض ذاتی مصلحت کے بجائے مصلحتِ عامہ کی خدمت گزار بن جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان حیوانیت سے بلند ہو کر اپنے حقیقی انسانی مقام پر فائز ہوتا ہے۔

اس کے بعد وہ واضح کرتے ہیں کہ جس طرح شجاعت کے اعتبار سے تمام انسان ایک درجے کے نہیں ہوتے، اسی طرح حقیقی سعادت کے حصول کی استعداد بھی تمام انسانوں میں یکساں نہیں ہوتی۔ افراد کے درمیان فطری صلاحیتوں، نفسیاتی ساخت اور قبولیت کے اعتبار سے نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ بعض افراد ایسے ہوتے ہیں جن کی فطرت اس قدر کم زور ہوتی ہے کہ بہترین تربیت اور مسلسل کوشش کے باوجود ان میں اعلیٰ درجے کی شجاعت پیدا نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح انسانی معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے جس میں حقیقی سعادت کو قبول کرنے کی استعداد نہایت محدود ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ حقیقت تلخ ہے، لیکن انسانی نفسیات کا ایک حصہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس کے مقابلے میں دوسرا طبقہ وہ ہے جس میں استعداد تو موجود ہوتی ہے، لیکن اسے صحیح تعلیم، مسلسل تربیت، عملی مشق اور اخلاقی مجاہدے کے ذریعے پروان چڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔     شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک انسانوں کی اکثریت اسی طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کی اصلاح کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام مبعوث کیے گئے، آسمانی کتابیں نازل ہوئیں اور دینی تعلیم و تربیت کا پورا نظام قائم کیا گیا۔ مناسب رہ نمائی اور مسلسل تربیت کے ذریعے یہی افراد حقیقی سعادت کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔

تیسرا طبقہ ان افراد کا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے پیدائشی طور پر خیر، حق اور فضیلت کی طرف غیرمعمولی میلان عطا کیا ہوتا ہے۔ ان کے اندر سعادت کے بیج ابتدا ہی سے موجود ہوتے ہیں اور جب انھیں وحی اور نبوی تعلیمات کی روشنی ملتی ہے تو ان کی شخصیت غیر معمولی سرعت کے ساتھ نشوونما پاتی ہے۔ شاہ ولی اللہؒ اس کیفیت کو قرآن مجید کی اس مثال سے قریب قرار دیتے ہیں جس میں زیتون کے اس مبارک درخت کا ذکر ہے جس کا تیل آگ کے بغیر بھی چمکتا محسوس ہوتا ہے، اور جب اس میں آگ شامل ہو جائے تو وہ  نُورٌ عَلَىٰ نُورٍ(النور: 35)کا مظہر بن جاتا ہے۔ اسی طرح بعض نفوس فطری طور پر خیر کی طرف مائل ہوتے ہیں اور وحی کی روشنی انھیں کمال کی بلند ترین منزلوں تک پہنچا دیتی ہے۔      صحابۂ کرامؓ، بالخصوص حضرت ابوبکر صدیقؓ کی شخصیت اس حقیقت کی نمایاں مثال ہے کہ وہ حق کو سنتے ہی بلا تردد قبول کر لیتے تھے، کیوں کہ ان کی فطرت پہلے ہی اس کے لیے آمادہ تھی۔

چوتھا اور آخری درجہ انبیائے کرام علیہم السلام کا ہے۔ شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک اللہ تعالیٰ انھیں سعادت، حکمت اور کمال کی کامل ترین اور وافر ترین مقدار عطا فرماتا ہے۔ وہ کسی دوسرے امام یا رہ نما کے محتاج نہیں ہوتے، بلکہ خود پوری انسانیت کے امام، مقتدا اور ہادی ہوتے ہیں۔ ان کی شخصیت انسانی سعادت کی کامل ترین صورت ہے اور باقی تمام انسان اپنی اپنی استعداد کے مطابق انہی کے فیض سے سعادت حاصل کرتے ہیں۔

آخر انسان اس سعادت تک پہنچے کیسے؟ شاہ ولی اللہ دہلویؒ اس بنیادی سوال کا جواب دیتے ہیں کہ محض اس حقیقت کو جان لینا کافی نہیں کہ انسان کی اصل کام یابی کیا ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ اس منزل تک رسائی کا صحیح راستہ کون سا ہے۔

حصولِ سعادت کے ایک نظریے کے مطابق انسانی کمال کا راستہ یہ ہے کہ انسان اپنی جسمانی خواہشات اور حیوانی تقاضوں کو بالکل ختم کر دے۔ دنیا سے کنارہ کش ہو جائے، معاشرتی زندگی ترک کر دے، پہاڑوں اور جنگلوں میں گوشہ نشین ہو جائے، کھانے پینے اور دیگر فطری ضروریات کو حتی المقدور ترک کر دے، اور انسانی معاشرے سے اپنا تعلق منقطع کر لے۔ ان کے نزدیک جتنی زیادہ جسمانی خواہشات دب جائیں گی، اتنا ہی انسان کمال کے قریب پہنچ جائے گا۔

اس تصور کو وہ اسلامی نقطۂ نظر سے درست نہیں قرار دیتے۔ ان کے نزدیک اسلام نہ رہبانیت کی تعلیم دیتا ہے اور نہ انسانی فطرت کو مسخ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ قرآن مجید نے جس انسان کی تعمیر مطلوب قرار دی ہے، وہ اپنی فطری خواہشات کا انکار نہیں کرتا بلکہ ان کی صحیح رہ نمائی کرتا ہے۔ اس لیے مقصد بہیمی قوتوں کو مٹا دینا نہیں بلکہ انھیں ان کے صحیح مقام پر رکھنا ہے۔

شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک صحیح منہج یہ ہے کہ انسان کی بہیمی قوتیں اس کی روحانی اور ملکوتی قوتوں کے تابع ہو جائیں۔ انسان کے نفسِ ناطقہ، عقل اور روح کی رہ نمائی اس کی خواہشات پر غالب آ جائے۔ جب بھی حیوانی خواہش کوئی تقاضا پیش کرے تو روحانی شعور، عقل اور الٰہی ہدایت اس کی اصلاح کریں، یہاں تک کہ رفتہ رفتہ انسان کی پوری شخصیت اس توازن پر قائم ہو جائے جس میں خواہشات غلام ہوں اور عقل و روح ان کی قائد۔

یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی حیوانی سطح سے بلند ہو کر ملائکہ کے اوصاف سے مناسبت پیدا کرتا ہے۔ شاہ ولی اللہؒ کے مطابق جب انسان کی ملکوتی قوتیں بہیمی قوتوں پر غالب آ جاتی ہیں تو اس کے باطن میں ایک نئی روحانی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس کا تعلق عالمِ ملکوت سے مضبوط ہوتا ہے، اس کے قلب پر انوارِ الٰہی کی تجلیات منعکس ہونے لگتی ہیں، اور وہ تدریجاً اس مقام تک پہنچتا ہے جہاں اس کے لیے معرفتِ الٰہی کے نئے دروازے کھلنے لگتے ہیں۔ یہ وہ روحانی ارتقا ہے جسے شاہ ولی اللہؒ نے انسانی سعادت کی معراج قرار دیا ہے۔

ان کے نزدیک اسلامی تربیت کا مقصد انسان کی بہیمی قوتوں کو فنا کر دینا نہیں، کیوں کہ یہی قوتیں انسانی زندگی کے بقا اور معاشرتی نظام کے لیے ضروری ہیں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ ان قوتوں کی قیادت بدل جائے۔ وہ نفس اور خواہشات کی غلامی سے نکل کر عقل، وحی اور روحانیت کی اطاعت قبول کرلیں۔ گویا اسلام انسان کو فرشتہ بنانے نہیں آیا، بلکہ انسان کو ایسا انسان بنانا چاہتا ہے جس کی حیوانی قوتیں بھی ربانی مقاصد کی خدمت گزار بن جائیں۔

شاہ ولی اللہؒ حقیقی سعادت کے حصول کے لیے چار بنیادی اخلاقی اوصاف بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسانی شخصیت کی تعمیر انہی چار ستونوں پر قائم ہوتی ہے، اور جس قدر یہ اوصاف انسان کے اندر راسخ ہوتے جائیں گے، اسی قدر وہ حقیقی سعادت کے قریب ہوتا جائے گا۔

ان چار اوصاف میں سب سے پہلا وصف طہارت ہے۔ عام طور پر طہارت سے مراد صرف وضو، غسل یا ظاہری پاکیزگی لی جاتی ہے، لیکن شاہ ولی اللہؒ اس کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ظاہری طہارت دراصل باطنی نورانیت کا ذریعہ بنتی ہے۔ وضو، غسل اور دیگر طہارت کے اعمال انسان کے قلب میں ایک خاص قسم کی لطافت، انشراح، فرحت اور روحانی تازگی پیدا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جب انسان ظاہری اور باطنی طہارت سے دور ہو جاتا ہے تو اس کے اندر ایک قسم کی گھٹن، انقباض، بے چینی اور ظلمت پیدا ہونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے طہارت کو محض جسمانی صفائی نہیں بلکہ روحانی ارتقا کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

شاہ ولی اللہؒ مزید بیان کرتے ہیں کہ طہارت انسان کے لیے ملائکہ کے قرب کا ذریعہ بنتی ہے۔ پاکیزگی انسان کو ملائکہ کے انوار اور برکات سے قریب کرتی ہے، جب کہ ناپاکی انسان کو شیطانی اثرات کے قریب لے جاتی ہے۔ گندے خیالات، فاسد وسوسے، خوف ناک خواب اور قلبی ظلمت بھی ایک حد تک اسی باطنی آلودگی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے طہارت صرف فقہی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مستقل روحانی نظام ہے۔

دوسرا بنیادی وصف اخبات ہے۔ اخبات سے مراد اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی، انکساری، خشوع، خضوع اور کامل سپردگی کی کیفیت ہے۔ یہ صرف ظاہری عبادت کا نام نہیں بلکہ قلب کی وہ کیفیت ہے جس میں بندہ اپنی پوری ہستی کو اپنے رب کے سامنے جھکا دیتا ہے۔ شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک    معرفتِ الٰہی کا دروازہ اسی اخبات سے کھلتا ہے، کیوں کہ تکبر اور خود پسندی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں ہو سکتا۔

تیسرا وصف سماحت ہے، جو شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک انسانی اخلاق کی عظیم ترین بنیادوں میں سے ایک ہے۔ سماحت کا مفہوم صرف سخاوت نہیں بلکہ تحمل، برداشت، ایثار، وسعتِ قلب اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کی صفت ہے۔ انسان کے اندر جب بہیمی خواہشات پوری نہ ہوں، تب بھی وہ صبر اور برداشت کا مظاہرہ کرے، یہی سماحت ہے۔ مال ہونے کے باوجود بخل سے بچے، شہوت کے مواقع ہونے کے باوجود عفت اختیار کرے، غصہ آنے کے باوجود حلم اور بردباری کا دامن نہ چھوڑے، یہی حقیقی سماحت ہے۔ اسی وجہ سے عرب معاشرے میں ایسے شخص کو صاحبُ السَّماحةکہا جاتا تھا جو صرف اپنی ذات کے لیے نہ جیتا ہو بلکہ دوسروں کو بھی ساتھ لے کر چلتا ہو، ان کے حقوق کا خیال رکھتا ہو اور اجتماعی خیر کو اپنی ذاتی منفعت پر ترجیح دیتا ہو۔

چوتھا وصف عدالت ہے۔ عدالت سے مراد صرف عدالتی فیصلے یا حکومتی انصاف نہیں بلکہ پوری شخصیت کا اعتدال اور توازن ہے۔ انسان اپنی عقل، خواہش، جذبات، معاملات اور تعلقات میں افراط و تفریط سے محفوظ رہے، ہر صاحبِ حق کو اس کا حق دے، اور زندگی کے ہر شعبے میں عدل کو اپنا شعار بنائے۔ یہی وہ وصف ہے جو دیگر تمام اخلاقی صفات کو اعتدال عطا کرتا ہے اور انسان کی شخصیت کو کمال تک پہنچاتا ہے۔

شاہ ولی اللہ دہلویؒ حقیقی سعادت کی حقیقت اور اس کے اخلاقی ارکان بیان کرنے کے بعد ایک نہایت اہم سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر انسان اس سعادت کو عملاً حاصل کیسے کرے؟ ان کے نزدیک سعادت محض ایک نظری تصور نہیں بلکہ ایک ایسا عملی کمال ہے جس کے حصول کے لیے باقاعدہ تربیت، مسلسل مجاہدہ اور متوازن تزکیۂ نفس ضروری ہے۔ اسی لیے وہ اس کے حصول کے دو بنیادی ذرائع بیان کرتے ہیں: قوتِ علمیہ اور قوتِ عملیہ۔ گویا انسان کی اصلاح صرف علم سے بھی ممکن نہیں اور محض عمل بھی اس کے لیے کافی نہیں، بلکہ صحیح علم اور صالح عمل دونوں کا امتزاج ہی انسان کو حقیقی سعادت تک پہنچاتا ہے۔

شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک قوتِ علمیہ انسان کی فکری اور اعتقادی تعمیر کا ذریعہ ہے۔ انسان کا ہر عمل اس کے علم، یقین اور شعور کے تابع ہوتا ہے۔ اگر اس کے دل میں کسی حقیقت کا یقین راسخ ہو جائے تو اس کا طرزِ عمل خود بخود اس کے مطابق ڈھلنے لگتا ہے۔ اسی اصول کو واضح کرتے ہوئے وہ حیا اور خوف کی مثال دیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی گناہ کا ارادہ کرے، لیکن اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف یا شرم و حیا پوری قوت کے ساتھ موجود ہو تو وہ اس گناہ کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی کردار کی اصل بنیاد خارجی جبر نہیں بلکہ داخلی یقین اور قلبی کیفیت ہے۔ جب انسان کے دل میں یہ یقین مستحکم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ہر لمحہ اسے دیکھ رہا ہے، اس کے اعمال سے باخبر ہے اور ایک دن اس سے بازپرس کرے گا، تو یہی یقین اس کے لیے سب سے بڑی اخلاقی قوت بن جاتا ہے۔

شاہ ولی اللہؒ قرآن مجید کو انسانی تربیت کا سب سے بڑا سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک قرآن کا پورا نظامِ تعلیم دراصل انسان کی علمی تربیت کا نظام ہے، اور اگر اس کے مضامین کا تجزیہ کیا جائے تو مجموعی طور پر انھیں پانچ بنیادی عنوانات کے تحت سمجھا جا سکتا ہے۔

پہلا عنوان آیاتُ اللہ ہے۔ یعنی وہ آیات جو کائنات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کی نشانیاں پیش کرتی ہیں تاکہ انسان کا ایمان علم و بصیرت کی بنیاد پر مضبوط ہو۔

دوسرا عنوان ایامُ اللہ ہے، یعنی تاریخ کے وہ واقعات جن میں اللہ تعالیٰ کی سنتیں جلوہ گر ہوتی ہیں، جہاں اقوام کے عروج و زوال اور حق و باطل کی کش مکش کے ذریعے انسان کو عبرت اور بصیرت حاصل ہوتی ہے۔

تیسرا عنوان انذار و تبشیر ہے، جس میں قرآن نیکوکاروں کو جنت اور رضائے الٰہی کی بشارت دیتا ہے، جب کہ سرکشوں اور ظالموں کو عذابِ آخرت سے خبردار کرتا ہے۔ یہی ترغیب و ترہیب انسان کے اندر اخلاقی ذمہ داری کا احساس بے دار کرتی ہے۔

چوتھا عنوان احکامِ شریعت ہے، جس میں حلال و حرام، واجبات، اخلاق اور عملی زندگی کے ضابطے بیان کیے گئے ہیں تاکہ انسان کی عملی زندگی وحی کی رہ نمائی کے مطابق استوار ہو۔

پانچواں عنوان ان اقوام اور گروہوں کے حالات ہیں جنھوں نے حق کا انکار کیا، جیسے کفار، مشرکین اور منافقین۔ ان کے کردار، نفسیات اور انجام کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اہلِ ایمان ان کے رویوں سے اجتناب کریں اور اپنی فکری و عملی زندگی کو ان کی روش سے محفوظ رکھیں۔

شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک قرآن مجید کے یہ تمام مضامین دراصل انسان کے اندر انہی چار بنیادی اخلاقی اوصاف—طہارت، اخبات، سماحت اور عدالت—کو پیدا کرنے کے لیے ہیں، کیوں کہ یہی اوصاف حقیقی سعادت کی بنیاد ہیں۔

علمی تربیت کے بعد وہ قوتِ عملیہ پر گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک محض نظری علم انسان کو کامل نہیں بناتا، بلکہ علم کو مسلسل عمل، عبادت، مجاہدہ اور اخلاقی تربیت کے ذریعے شخصیت کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ اسی لیے وہ علم اور عمل کو لازم و ملزوم قرار دیتے ہیں۔

اس کے بعد شاہ ولی اللہؒ انسانی ارتقا کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا نہایت گہرا نفسیاتی تجزیہ پیش کرتے ہیں، جنھیں وہ حُجُب (پردے) سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک جب تک یہ پردے انسان کے قلب سے دور نہ ہوں، وہ حقیقی سعادت تک نہیں پہنچ سکتا۔

سب سے پہلا پردہ حجابِ طبیعت ہے، جسے موجودہ زبان میں حجابِ نفس بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کی پوری زندگی صرف کھانے، پینے، مال، اولاد، راحت، غم، خوشی، خواہشات اور ذاتی مفادات کے گرد گھومتی رہے۔ ایسے لوگ اپنی پوری زندگی انہی حیوانی تقاضوں میں گزار دیتے ہیں اور انھیں اس سے آگے کسی بلند مقصد کی جستجو ہی پیدا نہیں ہوتی۔ ان کی تمام فکری اور عملی توانائیاں صرف اپنی ذات کی خدمت میں صرف ہو جاتی ہیں، اس لیے وہ حقیقی سعادت کی طرف پیش قدمی نہیں کر پاتے۔

دوسرا پردہ حجابِ رسم ہے۔ اس سے مراد معاشرتی رسوم، رواج اور عوامی پسند و ناپسند کی غلامی ہے۔ بعض لوگ اگرچہ ذاتی خواہشات سے کسی حد تک بلند ہو جاتے ہیں، لیکن پھر بھی وہ اپنے اعمال اللہ تعالیٰ کی رضا کے بجائے لوگوں کی تعریف، سماجی مقبولیت اور معاشرتی شہرت کے لیے انجام دیتے ہیں۔ ان کی زندگی کا معیار حق نہیں بلکہ معاشرہ بن جاتا ہے۔ گویا وہ نفس کے بجائے سماج کے غلام بن جاتے ہیں۔

تیسرا پردہ حجابِ فہم ہے، یعنی فکری انحراف اور غلط تصورِ حقیقت۔ جب انسان صحیح معرفتِ الٰہی سے محروم ہو جائے، اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارے میں غلط تصورات اختیار کرے، یا دین کی حقیقت کو صحیح طور پر نہ سمجھ سکے، تو اس کی پوری عملی زندگی بھی ان غلط تصورات کی بنیاد پر استوار ہو جاتی ہے۔     شاہ ولی اللہؒ کے نزدیک یہ فکری گم راہی انسان کے روحانی ارتقا کی سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے، کیوں کہ عمل کی اصلاح صحیح فکر کے بغیر ممکن نہیں۔

ان حجابات کے ذکر کے بعد شاہ ولی اللہؒ ان کے علاج کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ ان کے نزدیک تزکیۂ نفس کے لیے مختلف روحانی اور عملی ریاضتیں اختیار کرنا ضروری ہے۔ خصوصاً کثرتِ صیام،        شب بیداری، اعتکاف، عبادت اور ذکر انسان کی بہیمی خواہشات کو قابو میں رکھنے اور روحانی قوتوں کو مضبوط بنانے میں نہایت مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم وہ اس معاملے میں بھی اعتدال کی تعلیم دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ اعمال دوا کی حیثیت رکھتے ہیں، اور جس طرح دوا ضرورت سے زیادہ استعمال نہیں کی جاتی، اسی طرح ریاضت میں بھی افراط درست نہیں۔ ہر شخص کی نفسیاتی ساخت، روحانی استعداد اور فطری کیفیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے تربیت کا طریقہ بھی ہر فرد کے مزاج کے مطابق ہونا چاہیے۔

اسی بنیاد پر شاہ ولی اللہؒ انسانوں کی مختلف نفسیاتی کیفیات کا تجزیہ کرتے ہوئے ان کی متعدد اقسام بیان کرتے ہیں۔ بعض افراد میں روحانی قوت زیادہ ہوتی ہے اور حیوانی تقاضے کم زور ہوتے ہیں، جب کہ بعض کے اندر اس کے برعکس کیفیت پائی جاتی ہے۔ اس لیے ہر شخص کے لیے یکساں تربیتی پروگرام مفید نہیں ہو سکتا۔ کسی کے لیے زیادہ ریاضت مناسب ہے، کسی کے لیے اعتدال، اور کسی کے لیے پہلے جسمانی و نفسیاتی توازن پیدا کرنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اسلامی تربیت کو ایک زندہ، متوازن اور حکیمانہ نظام قرار دیتے ہیں جو ہر انسان کی فطری ساخت اور نفسیاتی استعداد کو سامنے رکھ کر اس کی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔

بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ حقیقی سعادت کسی وقتی جذبے یا مجرد علمی معلومات کا نام نہیں، بلکہ ایک تدریجی روحانی ارتقا ہے، جو صحیح عقیدہ، صحیح فکر، متوازن عبادت، مسلسل تزکیۂ نفس اور اخلاقی مجاہدے کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وہ منہج ہے جو انسان کو حیوانیت کی پستیوں سے اٹھا کر ربانیت کے بلند ترین مدارج تک پہنچا دیتا ہے۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

حقیقی سعادت کا تصور

حالیہ شمارے

جولائی 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223