وَالْعَصْر

(2)

غلام حقانی

اس بات کی شہادت کہ ’بے شک انسان بڑے خسارے میں ہے‘، زمانہ حشر کے دن بھی دے رہاہوگا۔ حشر کاہولناک منظر یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ جو شخص جس قدر کفر، شرک اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں مبتلارہاہوگا، جو جس قدر گناہوں کا مرتکب ہواہوگا، پھر بھی اس نے کبھی توبہ بھی نہیں کی ہوگی، وہ اُسی قدر پریشان ہوگا، اُسی قدر کرب و اذیت میں مبتلا ہوگا۔ گویا کافروں ، مشرکوں، گناہ گاروں، فاسقوں اور فاجروں کی برسرعام رسوائی کا یہیں سے آغاز ہوجائے گا۔ پہلے تو ’جس دن ﴿حشر کے دن﴾ وہ قبروں سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے گویاہ وہ کسی استھان کی طرف تیزتیز جارہے ہوں، ان کی آنکھیں ﴿شرمندگی کی وجہ سے﴾جھکی ہوئی ہوںگی اور ان پر ذلّت چھارہی ہوگی۔‘ ﴿المعارج:۴۴،۴۳﴾ پھر ’جس دن ﴿حشر کے دن﴾ پنڈلی کھول دی جائے گی اور وہ سجدے کے لیے بلائے جائیںگے تو تو سجدہ نہ کرسکیںگے۔ نگاہیں ﴿شرمندگی کے مارے﴾ جھکی ہوئی ہوںگی اور ان پر ذلت چھارہی ہوگی۔ انھیں جب کہ وہ صحیح و سالم تھے ﴿سجدہ کرنے کے قابل تھے﴾ سجدے کے لیے بلایا جاتاتھا ﴿تو وہ سجدہ نہیں کرتے تھے یا سجدہ کرنے سے انکارکرتے تھے﴾‘ ﴿القلم:۴۲،۴۳﴾

ہمارے آقا محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’ہمارا رب اپنی ساق ظاہر فرمائے گا۔ پس ہر مومن مرد اور ہرمومن عورت سب سجدے میں گرپڑیں گے۔ ہاں جو دنیا میں دِکھاوے کے لیے سجدے کرتے تھے وہ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمر تختے کی طرح ﴿سخت﴾ ہوجائے گی اور وہ سجدہ نہیں کرسکیں گے۔ اس صورت حال سے حیران اور پریشان ہونے والوں کے سامنے اُن کی زندگی کا زمانہ شہادت دینے لگے گاکہ اس صورت حال کے لیے کوئی اور نہیں بل کہ اللہ تعالیٰ سے روگردانی کے سبب، وہ خودہی ذمّے دار ہیں۔

حشر کادن دراصل قطعی فیصلے کا دن، ہارجیت کے اعلان کا دن اور نامۂ اعمال کی حوالگی کادن ہوتا ہے۔ اُس دن جس کانامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور پیچھے کی جانب سے دیاجائے گا وہ کہے گا ’اے کاش مجھے میرا نامۂ اعمال نہ دیاجاتا اور میں یہ جانتاکہ میرا حساب کیا ہے۔ کاش! میری وہی موت ﴿جو دنیا میں آئی تھی﴾ فیصلہ کن ہوتی۔ آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔ میرے اقتدار نے مجھے ہلاک کرڈالا۔ ﴿حکم ہوگا﴾ پکڑو اسے اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو۔ پھر اُسے جہنم میں جھونک دو۔ پھر اسے ستر ﴿۷۰﴾ ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑدو۔ یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتاتھا اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتاتھا۔ لہٰذا آج نہ یہاں اس کا کوئی غم خوار ہے اور نہ زخموں کے دھون کے سوا اس کے لیے کوئی کھانا ہے، جسے خطاکاروں ﴿گنہگاروں﴾ کے سوا کوئی کوئی نہیں کھاتا۔‘ ﴿الحاقہ:۲۵-۳۷﴾ اس موقع پر بھی ہر سوال کا جواب ’والعصر‘ یعنی زمانے کی شہادت ہی ہوگی۔

اس بات پر کہ انَّ الْانسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ ’بے شک انسان بڑے خسارے میں ہے‘ ’زمانے‘ کی آخری شہادت اُس وقت ہوگی جب کہ:

﴿۱﴾’کفار کے غول کے غول جہنم کی جانب ہانکے جائیں گے۔ جب وہ اُس کے پاس پہنچ جائیں گے تو اس کے دروازے ان کے لیے کھول دیے جائیں گے اور جہنم کے نگہبان ان سے سوال کریں گے کہ کیا تمھارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تم پر تمھارے رب کی آیتیں پڑھتے تھے اور تمھیں اس دن کی ملاقات سے خبردار کرتے تھے؟ وہ جواب دیں گے: ’ہاں درست ہے‘ لیکن عذاب کاحکم تو کافروں پر ثابت ہوچکاہوگا۔ کہاجائے گا کہ اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، جہاں ہمیشہ رہنا ہے۔ پس سرکشوں کابڑا ہی بُرا ٹھکانہ ہے۔‘ ﴿الزمر:۷۱،۷۲﴾

’زمانے‘ کی شہادت کے آگے کافروں، مجرموں، گنہ گاروں کو اپنی شکست تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ہوگا۔جس طرح ’زمانہ ‘ کافروں، مشرکوں، گنہ گاروں کے کے ’خسارے‘ کی شہادت ان کی موت کے وقت سے دینے لگتاہے، اسی طرح انَّ الْانسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ سے مستثنیٰ لوگوں مومنین اور صالحین کے ’نفع‘ اور ان کی کام یابی وکام رانی کے تعلق سے بھی ’زمانہ‘ ان کی موت کے وقت ہی سے اپنی شہادت دینے لگتاہے۔ بعض حالات میں مومنین اور صالحین کی موت ظاہری طورپر نہایت ہی بھیانک ہوتی ہے، لیکن باطنی طورپر نہایت ہی خوبصورت ہوتی ہے جیساکہ غزوۂ احد میں ہواتھا۔ بظاہر بعض جانباز صحابہ کرامؓ   شہید ۀوگئے تھے، جن میں ہمارے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے چچا حضرت حمزہؓ   بھی شامل تھے۔ مشرکوں نے شہداے کرام کامُثلہ کیاتھا۔ان کی شرم گاہیں اور کان ناک وغیرہ کاٹ لیے تھے، پیٹ چیردیے تھے، ہندہ بنت عتبہ نے حضرت حمزہؓ   کا کلیجا چاک کردیاتھا اور اُن کے کٹے ہوئے کانوں اور ناک کا ہار بنایاتھا۔ ظاہر میں وہ خسارے سے دوچار ہوئے تھے لیکن ان شہدائے کرام کے تعلق سے اللہ تعالیٰ سورہ اٰل عمران کی آیات ﴿۱۶۹ تا ۱۷۱﴾ میں فرماتا ہے:

’جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں، انھیں مردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق پارہے ہیں، جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انھیں دیاہے، اُس پر خوش و خرم ہیں اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ایمان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔ وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پر شاداں و فرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہوچکاہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔‘ ﴿اٰل عمران :۱۶۹- ۱۷۱﴾

غزوۂ احد کے شہدائ میں حضرت جابرؓ   کے والد عبداللہ بن عمروؓ   بھی تھے۔ مسند احمد کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر بن عبداللہؓ   سے فرمایا: ’اے جابر! تمھیں معلوم بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے والد کو زندہ کیا اور ان سے کہا: اے میرے بندے! مانگ کیا مانگتاہے؟ توانھوں نے کہا: اے اللہ! دنیا میں پھر بھیج تاکہ میں دوبارہ تیری راہ میں ماراجائوں۔‘ اس سے صاف پتا چلتاہے کہ حضرت عبداللہؓ   کی موت ان کے لیے کس قدر خوبصورت رہی ہوگی جب کہ ظاہر میں وہ بے حد تکلیف دہ تھی۔

غزوۂ احد کے شہداء میں انس بن نضرؓ   بھی شامل تھے۔ اس غزوے کے دوران جب یہ افواہ اڑائی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید کردیے گئے تو صحابہ کرامؓ   کے حوصلے ٹوٹ گئے ۔ ایسے موقع پر انس بن نضرؓ   نے صحابہ کرامؓ   سے فرمایا: ’تم لوگ آپﷺ  کے بعد زندہ رہ کر کیا کروگے؟ تم بھی جان دے دو۔‘ پھر فرمایا: ’جنت کی خوشبو کا کیا کہنا! میں اُسے اُحد کے پرے محسوس کررہاہوں۔‘ اس کے بعد آگے بڑھے اور مشرکین سے لڑتے ہوئے شہادت کالذیذ جام پی لیا اور پیاری سی موت کو گلے لگالیا۔

اس سے بھی زیادہ پیاری موت تو عمارہ بن یزید بن السکنؓ   کی موت تھی۔ غزوۂ اُحد ہی میں تیراندازوں کی غلطی کے بعد جنگ کا جو پانسا پلٹا تو مسلمانوں میں افراتفری مچ گئی۔ ایسے موقعے پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صرف سات انصاری نوجوان اور دو قریشی صحابی رہ گئے تھے۔ جب مشرکین حملہ آور آپﷺ  کے بالکل قریب پہنچ گئے تو آپﷺ  نے فرمایا: ’کون ہے جو ﴿اپنی جان کی بازی لگاکر﴾ اُنھیں ہم سے دفع کرے گا اور اس کے لیے جنت ہے؟‘ساتوں انصاری نوجوان آپﷺ  کے سامنے ڈھال بن گئے اور ایک کے بعد ایک سب شہید ہوگئے۔ ساتویں انصاری نوجوان عمارہ بن یزید بن السکنؓ   جب زخموں سے چور ہوکر گرپڑے تو اس وقت تک دوسرے صحابہ کرامؓ   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ چکے تھے۔ انھوںنے مشرکین کو حضرت عمارہؓ   سے پیچھے دھکیلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اُنھیںاپنے پائوں پر لٹالیا اور حضرت عمارہؓ   نے اِس حالت میں دم توڑدیاکہ ان کے رخسار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک پاؤں پر تھے۔

’ انَّ الْانسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ ‘سے مستثنیٰ مومنین اور صالحین کی موت باطنی طورپر بے حد خوبصورت ، بے حد حسین ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ موت کامسکراتے ہوئے استقبال کرتے ہیں۔ جنگ بدر کے موقع پر مشہور خاتون عفرائ کے صاحبزادے عوف بن حارث ؓ   نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ’اے اللہ کے رسولﷺ ! پروردگار بندے کی کس بات سے ﴿خوش ہوکر﴾ مسکراتا ہے؟‘ آپﷺ  نے فرمایا: ’اس بات سے کہ بندہ خالی جسم ﴿بغیر حفاظتی ہتھیار پہنے﴾ اپنا ہاتھ دشمن کے اندر ڈبودے‘ یہ سن کر عوف بن حارثؓ   نے اپنے بدن سے زرہ اتارپھینکی اور تلوارلے کر دشمن پر ٹوٹ پڑے اور لڑتے لڑتے شہادت کالذیذ جام پی لیا۔

موت کامسکراکر استقبال کرنے والوں میں، جنھیں موت بے حد پیاری لگی تھی، عمیر بن حمامؓ   بھی ہیں۔ جنگ بدر کے موقع پر جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سناکہ اُس جنت کی جانب سبقت کرو جس کی وسعتیں آسمانوں اور زمین کے برابر ہیں تو انھوں نے کہا ’بہت خوب‘ بہت خوب کیوں کہہ رہے تھے؟‘ انھوں نے جواب دیا کہ ’اللہ کی قسم اے اللہ کے رسولﷺ ! کوئی بات نہیں سوائے اس کے کہ مجھے توقع ہے کہ میں بھی اُس جنت والوں میں سے ہوںگا۔‘ آپﷺ  نے فرمایا: ’تم بھی ان جنت والوں میں سے ہو۔‘ یہ سننے کے بعد اپنے توشہ دان سے کچھ کھجوریں نکال کر کھانے لگے۔ پھر کہنے لگے کہ اگر میں اتنی دیر تک زندہ رہا کہ اپنی کھجوریں کھالوں تو یہ تو لمبی عمرہوجائے گی۔ پھر انہوں نے کھجوریں پھینک دیں اور کفار سے لڑتے لڑتے شہادت کی حسین موت کو خوشی خوشی گلے لگالیا۔

زندگی میں کم سنی اور نوجوانی کا دور بڑا ہی پرکشش ہوتاہے۔ لیکن جن کے دلوں میں ایمان کی جڑیں مضبوط ہوگئی ہوں اور جن کے دل اپنے آقا محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سرشار ہوں، ان کے لیے موت زیادہ پرکشش ہوجاتی ہے۔ جنگ بدر میں دو کمسن نوجوان معاذ بن عمرو اورمعاذ بن عفراء کسی نہ کسی طرح سے شامل ہوگئے تھے۔ اُن میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے چھپاکر عبدالرحمن بن عوفؓ   سے کہا: ’چچا جان! مجھے ابوجہل کو دکھلادیجیے۔ عبدالرحمن بن عوفؓ   نے پوچھا کہ بھتیجے تم اس کا کیا کروگے؟ اُس نے جواب دیا: ’مجھے بتایاگیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتا ہے۔ اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر میں نے اُسے دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے الگ نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ ہم میں جس کی موت پہلے لکھی ہے وہ مرجائے۔‘ یہی بات دوسرے نوجوان نے بھی کہی۔ چند لمحوں بعد ہی ابوجہل دکھائی دیا اور عبدالرحمن بن عوفؓ   نے اس کی نشاندہی فرمادی۔ پھرتو وہ دونوں ہی ابوجہل کی جانب لپکے۔ گرچہ کہ مشرکین کی یہ کوشش رہی کہ کوئی بھی دشمن ابوجہل کے قریب نہ پہنچنے پائے، اُن دونوں نوجوانوں نے اپنی جانوں کی بالکل بھی پروا نہ کرتے ہوئے اُس پر حملہ کردیا اور اس کو مار گرایا۔ ابوجہل کے بیٹے عکرمہ نے حضرت معاذ بن عمرو کے کندھے پر تلوار چلائی جس سے ان کا ہاتھ کٹ کر بازو سے لٹکنے لگا۔ انھوں نے اسی حالت میں سارے دن لڑائی کی اور جب ان کا کٹا ہوا ہاتھ انھیں زیادہ اذیت پہنچانے لگا تو اُس پر پاؤں رکھ کر اس زور سے کھینچا کہ وہ الگ ہوگیا۔ حضرت معاذ بن عفراء نے دوسرے مشرکین کے ساتھ لڑائی جاری رکھی اور شہادت سے سرفرازہوئے۔

موت تو ان جادوگروں کوبھی بے حد پیاری لگی تھی جو فرعون کی جانب سے موسیٰؑ سے مقابلہ کرنے اور انھیں شکست دینے کے لیے پہنچے تھے۔ لیکن جب ان کے عظیم اور ہیبت طاری کردینے والے جادو کو موسیٰؑ  کے عصا نے اژدھا بن کر ہڑپ کرلیا تو اُن کے دلوں کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ بے ساختہ سجدے میں گرپڑے اور بآواز بلند کہنے لگے: ’ہم اُس رب العالمین پر ایمان لے آئے، جو کہ موسیٰؑ  اور ہارونؑ  کا رب ہے۔‘ اس پر فرعون سخت برہم ہوا اور کہنے لگا: ’میں تم سب کے ایک ہاتھ اور دوسری طرف کے پائوں کاٹوںگا۔ پھر تم سب کو سولی پر لٹکادوں گا۔‘ جادوگروں نے جواب دیا: ’کوئی مضائقہ نہیں۔تجھ کو جو کچھ کرناہے کرڈال۔ تو، جو کچھ کرسکتاہے اسی فانی دنیا ہی میںتو کرسکتا ہے۔ پھر تو ہم اپنے رب کی طرف لوٹ جائیں گے۔‘ اس موقع پر ایمان سے سرفراز ہونے والے جادوگروں نے موسیٰؑ  سے کوئی فریاد نہیں کی کہ وہ اُنھیں فرعون کے موت طاری کردینے والے شکنجے سے آزادی دلائیں ۔انھوں نے مدد کے لیے اپنے رب کو پکارا۔ انھیں حق کاخوبصورت اور باطل کا کریہہ چہرہ نظر آگیاتھا اور موت انھیں اسی لیے پیاری لگنے لگی تھی کہ اس کو گلے لگاکر ہی وہ اپنے پیارے رب کی جانب لوٹ سکتے تھے۔ ظاہر میں اُن کی موت کتنی ہی بھیانک کیوں نہ رہی ہو، باطن میں تو وہ بے حد پیاری ہی رہی ہوگی۔

ایمان اور اعمال صالحہ سے مزین پاک ہستیوں کو اپنے رب کی جانب لوٹنے کی خوشی ہی میں موت پیاری نہیں لگتی، بل کہ اُس وقت اور بھی پیاری لگتی ہے جب کہ فرشتے ان کی روح کو قبض کرتے وقت نہایت خوشی اور احترام سے کہتے ہیں:

’سلامٌ علیکم! جنت میں داخل ہوجائیے اپنے نیک اعمال کے بدلے میں۔‘ ﴿النحل:۳۲﴾

مسند میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیاگیاہے کہ نیک بندے کی جب روح قبض کی جاتی ہے تو آسمان وزمین کے درمیان فرشتے اور آسمان کے فرشتے سب اُس پر رحمت بھیجتے ہیں اور آسمانوں کے دروازے اس کے لیے کھُل جاتے ہیں۔ ہر دروازے پر مامور فرشتوں کی دعا یا خواہش ہوتی ہے کہ اُس کی پاک روح ان کے دروازے سے چڑھائی جائے۔

مسند ہی میں اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ملتا ہے کہ جب کوئی نیک بندہ دنیا کی آخری اورآخرت کی پہلی گھڑی میں ہوتا ہے تو اس کے پاس آسمان سے نورانی چہرے والے فرشتے آتے ہیں، گویا کہ ان کے چہرے سورج جیسے ﴿چمکدار﴾ ہیں۔ ان کے ساتھ جنتی کفن اورجنتی خوشبو ہوتی ہے۔ وہ اُس کے پاس جہاں تک اس کی نگاہ کام کرے وہاں تک بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آکر اُس کے سرھانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں: ’اے پاک روح! اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رضا مندی کی طرف چل۔‘ وہ اس آسانی کے ساتھ نکل آتی جیسے کسی مشکیزے سے پانی کا قطرہ ٹپک پڑے۔ ایک آنکھ جھپکنے کی دیر میں وہ فرشتے اُس روح کو ملک الموت کے ہاتھ سے لے لیتے ہیں اور جنتی کفن اور جنتی خوشبو میں رکھ لیتے ہیں۔ خود اس روح میں سے بھی مشک سے بھی زیادہ عمدہ خوشبو نکلتی ہے ایسی کہ روئے زمی پر ایسی عمدہ خوشبو نہ سونگھی گئی ہو۔ وہ اُسے لے کر آسمان کی طرف چڑھتے ہیں۔ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں وہ پوچھتے ہیں : یہ پاک روح کس کی ہے؟ وہ اس کا جو بہترین نام دنیا میں مشہور تھا وہ بتلاتے ہیں اور اس کے باپ کا نام بھی۔ آسمان دنیا تک پہنچ کر دروازہ کھلواتے ہیں۔ آسمان کا دروازہ کھول دیاجاتاہے اور وہاں کے فرشتے اُسے دوسرے آسمان تک پہنچاتے ہیں۔ پھر اللہ عزوجل فرماتے ہیں: ’میرے بندے کو کتاب علیین میں لکھ لو اور اس کو زمین کی طرف لوٹادو۔ میں نے اُسی سے ﴿زمین سے﴾ اُسے پیدا کیا ہے اور اُسی سے دوبارہ نکالوںگا۔ ﴿تفسیر ابن کثیر﴾

یہ سب کچھ وہ شہادت ہے جو ’زمانہ‘ ’بے شک انسان بڑے خسارے میں ہے‘ سے مستثنیٰ، نیک اور متقی لوگوں کے حق میں ان کی موت کے وقت سے دینے لگتا ہے۔

جب مومن اور نیک شخص کو اس کے آخری ٹھکانے کی جانب لے جایا جارہاہوتا ہے تو اس کو نہ اس بات کی فکر ہوتی ہے نہ غم کہ اس نے پیچھے اپنی چہیتی اولاد چھوڑی ہے، دل و جان سے چاپنے والی بیوی چھوڑی ہے، ہر دم ساتھ دینے والے دوست احباب چھوڑے ہیں، مال چھوڑا ہے، دولت چھوڑی ہے اور جائیداد چھوڑی ہے، بل کہ وہ خوشی سے سرشار ہوتا ہے کہ وہ اپنے پیارے رب کی جانب لوٹ رہاہوتا ہے۔

جب سارے رشتے دار اپنی عزیز یا عزیز ترین ہستی کو قبر میں لٹاتے اور مَنوں مٹی میں دبادیتے ہیںاور پھر وہاں سے فوراً لوٹ جاتے ہیں تو بندہ اپنی قبر میں تنہا رہ جاتاہے۔ لیکن اللہ کا نیک بندہ قبر میں بھی تنہا نہیں ہوتا۔ جب اُس پر کسی بھی قسم کا عذاب حملہ آور ہوتا ہے تو اس کی نماز اس کے سرھانے رکاوٹ بن کر کھڑی ہوجاتی ہے۔ زکوٰۃ دائیں جانب، روزہ بائیں جانب، صدقہ ، خیرات ، صلہ رحمی، بھلائی اور لوگوں کے ساتھ احسان اس کے پیروں کی جانب رکاوٹ بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور کسی بھی قسم کے عذاب کو اس کے قریب تک آنے نہیں دیتے۔

جب نیک بندے سے سوال کیاجائے گا کہ ’تیرا رب کون ہے؟‘ تو چوں کہ اس نے دنیا میں اللہ ذوالجلال والاکرام ہی کو اپنا رب مانا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرایا ہوگا، نہ اپنے پیشے کو اپنا رب مانا ہوگا نہ اپنی تجارت کو نہ کسی اور ذریعۂ معاش کو تو اس کی زبان سے فوراً اور بآسانی نکل جائے گا کہ’میرا رب اللہ ہے۔‘ اسی طرح جب دوسرا سوال پوچھاجائے گا کہ ’تیرا دین کیاہے؟‘ تو جس نے اپنی ساری عمر یا جس کو جب سے ہدایت اور توبہ کی توفیق ہوئی اس کے بعد سے اسلام ہی کو اپنا دین سمجھا بھی، اپنایابھی اور اس پر عمل بھی کیا تو اس کی زبان سے بآسانی یہ جواب نکلے گاکہ ’میرا دین اسلام ہے۔‘ تیسرا سوال ہم سب کے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہوگا۔ جس نے بھی آپﷺ  سے محبت کی، آپﷺ  کی توقیر کی،آپﷺ  کی تعلیمات اور احکام کو حق جانا اور ان پر عمل پیرا ہوا، جس نے آپﷺ  کے تعلق سے اپنے دل میں ذرا سی بھی تنگی کبھی محسوس نہیں کی، اس کی زبان سے فوراً نکل پڑے گا کہ آپﷺ  اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ اُس وقت آسمان سے ندا آتی ہے میرا بندہ سچا ہے، اس کے لیے جنتی فرش بچھادو اور اس کو جنتی لباس پہنادو اور اس کے لیے جنت کی طرف کا دروازہ کھول دو۔ پس جنت کی روح پرور، خوشبودار ہوائوں کی لپٹیں اسے آنے لگتی ہیںاور اس کی قبر بقدر درازیِ نظر کشادہ کردی جاتی ہے اور نوارانی بنادی جاتی ہے اور اس سے کہاجاتاہے کہ دلہن کی طرح سوجا۔ اُس کے پاس ایک شخص خوبصورت ، نورانی چہرے والا، عمدہ کپڑے پہنے ہوئے، اچھی خوشبو لگائے ہوئے آتاہے اور اس سے کہتاہے: ’آپ خوش ہوجائیے اسی دن کاوعدہ آپ سے کیاجاتاتھا۔ یہ اُس سے پوچھتا ہے کہ آپ کون ہیں؟ آپ کے چہرے سے بھلائی ہی بھلائی نظر آتی ہے۔ وہ جواب دیتاہے کہ میں آپ کا نیک عمل ہوں یعنی ’العصر‘ اُسی کی زندگی کا گزر ہوا زمانہ۔ اس کے ایمان اور اعمالِ صالحہ کی شہادت دیتے ہوئے اس کو بتاتاہے کہ وہ کس طرح ایک بڑے خسارے سے محفوظ ہوگیا۔

حشر کاد ن ہار جیت کے اعلان اور نامۂ اعمال کی حوالگی کادن بھی مومنوں اور اعمال صالحہ سے مزین لوگوں کے لیے دِلوںکو خوش کرنے والا اور نہایت ہی خوشگوار ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’جس دن تم سب ﴿اللہ تعالیٰ﴾ کے سامنے پیش کیے جائوگے تو تمھارا کوئی بھید بھی پوشیدہ نہ رہے گا۔ پس جس کانامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیاجائے گا، وہ کہے گا ’ لودیکھو۔ میرا نامہ ٔاعمال پڑھو۔ مجھے تو ﴿یقین کی حدتک﴾ گمان تھا کہ مجھے اپنا حساب ملنا ہے۔‘ پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا۔ بلند وبالاجنت میں۔ جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑرہے ہوںگے۔ ﴿ایسے لوگوں سے کہاجائے گا﴾ مزے سے کھائو پیو اپنے ان اعمال کے بدلے میںجو کہ تم نے گزرے ہوئے زمانے میں کیے تھے۔ ﴿الحاقہ :۱۸-۲۴﴾

یعنی والعصرزمانے کی اس بات پر شہادت کہ انَّ الْانسَانَ لَفِیْ خُسْرسے مستثنیٰ لوگوں کے لیے آخرت کا ہرموقع مسرت اور شادمانی سے لبریز ہوگا۔

مومن اور نیک لوگوں کو نامۂ اعمال کی حوالگی کے بعدبڑے ہی اکرام کے ساتھ جنت کی جانب لے جایا جائے گا اور وہاں بڑے ہی والہانہ انداز میں ان کا استقبال ہوگا:

’اور متقی لوگوں کو گروہ درگروہ جنت کی طرف لے لایاجایا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے، اور اس کے ﴿جنت کے﴾ دروازے پہلے ہی کھولے جاچکے ہوں گے، تو اس کے منتظمین اُن سے کہیں گے کہ ’سلامٌ علیکم! تم بہت اچھے رہے، داخل ہوجاؤ اس میں ﴿جنت میں﴾ ہمیشہ کے لیے ۔‘‘﴿الزمر:۳﴾

’جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس بات کاخوف رکھتے ہیں کہ کہیں ان سے بُری طرح حساب نہ لیاجائے، جو اپنے رب کی رضا کے لیے صبر سے کام لیتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے علانیہ وپوشیدہ خرچ کرتے ہیں اور بُرائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں، آخرت کا گھر ان ہی لوگوں کے لیے ہے۔ یعنی ایسے باغ جو ان کی ابدی قیام گاہ ہوں گے۔ وہ خود بھی اُن میں داخل ہوں گے اور اُن کے آباو اجداد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو جو بھی صالح ہوں گے، وہ بھی ان کے ساتھ وہاں جائیں گے۔ ملائکہ ہر طرف سے اُن کے استقبال کے لیے آئیں گے اور ان سے کہیں گے :’سلامٌ علیکم‘ ﴿تم پرسلامتی ہے﴾ تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اس کی بدولت آج تم اس کے مستحق ہوئے ہو۔‘ ﴿الرعد:۲۱-۲۴﴾

یعنی والعصراس کی زندگی کے گزرے ہوئے زمانے کی واضح شہادت ’زمانے‘ کی آخری شہادت کا موقع وہ ہوگا جب مومنین اور صالحین کو جنت میں اپنے اپنے ٹھکانوں تک پہنچادیا جائے گا اور وہ وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کو پاکر انتہائی شادماں و فرحاں ہوں گے۔ قرآن مجید میں جگ جگہ جنتیوں پر اللہ تعالیٰ کے انعام واکرام کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ ان کی تفصیل قرآنِ مجید کی آیات الصافات:۴۲-۴۹، المطففین:۲۲-۲۸، الکہف:۳۱، الواقعہ:۱۱-۳۸، اور الدھر:۱۲-۲۱میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

ان میں اس بات پر شہادت فراہم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انَّ الْانسَانَ لَفِیْ خُسْرسے مستثنیٰ بندوں کی کس طرح شاندار پزیرائی فرماتے ہیں اور کس طرح کی ان کی ناقابل تصورخاطر تواضع فرماتے ہیں۔

مئی 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau