اسلام کا عائلی نظام

ایک مطالعہ

محمد رضی الاسلام ندوی

عصرحاضر میں اباحیت،آزاد روی، خودغرضی اور حقوق کی پامالی کے جو اثراتِ بد انسانی معاشرے اور خاص طورپر نظامِ خاندان پر پڑے ہیں ان سے مسلم معاشرہ اورمسلم خاندان بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔ چنانچہ افراِ خاندان کے درمیان دوریاں بڑھ رہی ہیں اور ایک دوسرے کے حقوق پامال کیے جارہے ہیں۔ صورت حال کی اس خطرناکی کو محسوس کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند نے اپنی میقاتِ رواں میں شعبۂ اسلامی معاشرہ کے تحت خاندان کی اصلاح پر توجہ مرکوز کی ہے اور مختلف سطحوں پر اپنے پروگراموں کے ذریعے خاندان کے بارے میں اسلامی تعلیمات کو نمایاںکرنے اور مسلم امت کو ان پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرنے کامنصوبہ بنایاہے۔ جماعت کے موجودہ امیرمولانا سید جلال الدین عمری، جو عالم اسلام کے ایک معتبر عالم دین ہیں، ان کی تصانیف امت مسلمہ کی فکری رہ نمائی میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔ موصوف کاتحریری سرمایہ اگرچہ مختلف موضوعات کااحاطہ کرتاہے، لیکن ان کاپسندیدہ اور خاص موضوع ’اسلامی معاشرت اور اس میں عورت کا مقام ومرتبہ‘ ہے۔ اس موضوع پر ان کی قابل قدر تصانیف: عورت اسلامی معاشرہ میں، مسلمان عورت کے حقوق اور ان پر اعترضات کاجائزہ، عورت اور اسلام اور مسلمان خواتین کی ذمے داریاں، علمی و دینی حلقوں میں بہت مقبول ہیں۔ موصوف کی کتاب ’اسلام کا عائلی نظام‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو مذکورہ تصنیفات کے بعد شائع ہوئی ہے۔ مختصر عرصے میں اس کتاب کے دو ایڈیشن منظرعام پر آئے ہیں اور یہ پاکستان سے بھی شائع ہوچکی ہے۔ یہ کتاب جماعت اسلامی ہند کی اس مہم میں اہم کردار ادا کرے گی، کیوںکہ اس میںاسلامی نظامِ خاندان کے بارے میں مستند مواد فراہم کیاگیا ہے۔ یہاں اس کے مشتملات کامختصر مطالعہ پیش کیاجارہا ہے۔

موجودہ دور میں انسانی معاشرہ جن سنگین مسائل سے دوچار ہے، ان میں سے ایک خاندانی نظام کی تباہی و بربادی ہے۔ آج خودغرضی، مفاد پرستی، مادیت کے غلبہ، مذہب کی غلط تعبیر اور نامعقول رسم و رواج کی وجہ سے نظامِ خاندان پارہ پارہ ہورہاہے، رشتوں کاتقدس پامال ہے، حقوق کی ادائی سے مجرمانہ غفلت برتی جارہی ہے، افرادِ خاندان ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن کر رہ گئے ہیں اور ان میں خاندان کی قید وبند سے آزادی کارجحان پروان چڑھ رہاہے۔ طرفہ تماشا یہ کہ اسلام نے خاندانی استحکام کے لیے جو بیش قیمت تعلیمات دی ہیں وہی اعتراضات اور الزامات کی زد پر ہیں۔ انھیں فرسودہ قرار دیاجارہاہے۔ مسلمان عورت، جسے بعض اہم ترین ذمے داریاں تفویض کیے جانے کی وجہ سے بہت سی رخصتیں دی گئی ہیں، اسے مظلوم و مقہور اور حقوق سے محروم بناکر پیش کیاجارہا ہے۔ ان حالات میں شدید ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا کے سامنے انتشارِ خاندان کے بُرے نتائج و عواقب پیش کیے جائیں، لوگوں کے سامنے ان کی سنگینی واضح کی جائے اور نظام خاندان کے لیے اسلام کی تعلیمات واقدار کی معقولیت دلائل سے آشکارا کی جائے۔ زیرنظر کتاب اسی ضرورت کی بہ حسن وخوبی تکمیل کرتی ہے۔

اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے۔ ابتدا میں خاندان کی اہمیت اور اس کی مختصر تاریخ بیان کی گئی ہے۔ نظام خاندان کے مخالفین کے دلائل ذکر کرکے ان کارد کیاگیا ہے اور عرب کے خاندانی اور قبائلی نظام کی تفصیلات تاریخ عرب کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے اسلام نے اس نظام میں جو اصلاحات کیں، ان پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ دوسرے حصے میں اسلامی خاندان کے خدّوخال واضح کیے گئے ہیں۔ اس میں بتایاگیاہے کہ نظام خاندان کی تشکیل میں اسلام نے انسان کے جنسی جذبے کی کس حد تک رعایت کی ہے؟ ازدواجی تعلقات کو کن حدود و قیود کاپابند کیاہے؟ اور اہل خاندان کے کیا حقوق و فرائض بیان کیے ہیں؟ تیسرے حصے میں، جو نصف کتاب سے زائد صفحات پر مشتمل ہے، بعض ان مسائل سے بحث کی گئی ہے، جو بسااوقات مسلم معاشرہ میںپیش آتے ہیں، یا جن پر دوسروں کی طرف سے اعتراضات کیے جاتے ہیں۔ ابتدا میں خطبۂ نکاح میں پڑھی جانے والی آیات کی بھرپور تشریح اور نکاح کے موقعے کے لیے ان کی معنویت واضح کی گئی ہے۔ سسرال میں لڑکیوں کے ساتھ جو سلوک کیاجاتاہے،اسی طرح جہیز نے جو بھیانک شکل اختیار کرلی ہے، اس کا نفسیاتی تجزیہ کرتے ہوئے بڑے دل نشیں انداز میں علاج تجویز کیاگیا ہے۔ دین سے دوری کے موجودہ حالات میں مسلمان عورت جن مسائل سے دوچار ہے، ان میں سے ایک اہم مسئلہ معیشت کاہے۔ اس پر تفصیل سے بحث کی گئی ہے اور عورت کے معاشی حقوق بیان کرتے ہوئے اس ضمن میں اٹھنے والے بعض سوالات کے جوابات دیے گئے ہیں۔

بعض مسائل وہ ہیں جن کے متعلق خیال کیاجاتاہے کہ وہ مساواتِ مردوزن اور عورت کی آزادانہ حیثیت کے منافی ہیں، جیسے عورت کے لیے مسجدمیں مردوں کے ساتھ نماز ادا کرنے کو غلط یا ناپسند قرار دینا، مردوں کی جماعت کے لیے عورت کی امامت کا عدم جواز، اسلامی ریاست میں عورت کی قیادت، عورت کے نکاح کے لیے ولی کی شرط، کفائ ت کا مسئلہ،ان مسائل پر مولانا نے قرآن، حدیث اور فقہ کی روشنی میں تفصیل سے بحث کی ہے اور جو اعتراضات کیے جاتے ہیں ان کاجواب دیا ہے۔

خواتین سے متعلق بعض مسائل مستقل زیربحث رہتے ہیں اور انھیں عورت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ یا منافیٔ عدل سمجھاجاتاہے، جیسے عورت کے لیے حجاب کی پابندی، آواز کا پردہ، محرم کے بغیر حج یاملازمت کے لیے عورت کا سفر اور تنہا رہائش، زمانہ عدّت میں ملازمت یا دیگر سرگرمیاں،نفقۂ مطلقہ، خواتین کے لیے کوٹا سسٹم، عورت کے ستر کے حدود۔ یہ اور اس طرح کے بعض دیگر مسائل پر کتاب میں اسلام کا نقطۂ نظر بیان ہواہے۔ اس سے بہت سی وہ غلط فہمیاں دور ہوجاتی ہیں جو ان مسائل کے سلسلے میں پیداکی جاتی ہیں۔ بعض مسائل پرمولانا کی بحثیں مختصر ہیں، جن سے تشنگی کااحساس ہوتا ہے، لیکن جیساکہ انھوںنے اپنے پیش لفظ میں لکھاہے، ان موضوعات پر ان کی دیگر تالیفات اور مقالات میں تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔

یہ کتاب عصر حاضر کے ایک بہت اہم موضوع سے بحث کرتی ہے۔ امید ہے، علمی و دینی حلقوںمیں اسے قبول عام حاصل ہوگا اور جماعت اسلامی ہند کے کارکنان اور وابستگان بھی اس سے بھرپور استفادہ کریں گے۔

نومبر 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau