تحریکِ نسوانیت

ایک جائزہ

عتیق احمد شفیق

اٹھارویں صدی میں برطانیہ کے اندر ہونے والے صنعتی انقلاب نے جہاں ترقی کے بہت سے امکانات پیدا کئے وہیں اس صنعتی انقلاب کوآگے بڑھانے کیلئے کارند وں کی شدید ضرورت  پیش آئی اس لیے عورتوں کوآزادی اورمساوات کے نعروں کے ذریعے بڑی آسانی سے صنعتی میدانوں میں اتارا گیا جن کی وجہ سے بہت سی دشواریوں کے علاوہ اختلاط مردو زن کے نتیجے میں معاشرتی جرائم کا خوفناک سلسلہ شروع ہوگیا ، مزید یہ کہ معاشرتی جرائم کے خاتمےکے بجائے انہیں جرم نہ سمجھنے کی تلقین کی گئی اور ان کی اہمیت کودل سے مٹانے کیلئے آزادی نسواں، حیوان ریلیشن شپ اور آزادئی جنس وشہرت جیسی بے راہ روی کی حوصلہ افزائی کی گئی اورانہیں قانونی درجہ دیا گیا ۔

تحریک آزادی نسواں نے مغربی معاشرہ پر تباہ کن ا ثرات مرتب کئے اوراس کے  لیے اخذ کئے گئے فلسفے اورتھیوریز نے معاشرہ کومزید تباہ کاریوں کا شکار بنادیا ، چونکہ تحریک نسواں کی بنیاد بھی کوئی مقررہ اصولوں پر نہ تھی اس لئے اس میں بہت سی دشواریاں اوررکاوٹیں آتی رہیں ، جن کے لیے متعدد اصول وضع کئے جاتے رہے ، نئ نئ حکمت عملی اختیار کی جاتی رہی، یہ ساری تدبیریں چونکہ پیش آنےوالی صورتحال کے اعتبار سے ہی کی جاتی رہیں، جن کا نتیجہ یہی ہوا کہ معاشرہ  میںمزید بگاڑ کا شمار ہوتا گیا ، اخلاقی اصولوں وضوابط مزید ٹوٹ پھوٹ کےشکار ہوتے چلے گئے ۔

اس تحریک کے ذریعے عورتوں کے جنسی معاملات کو بہت زیادہ متاثر کیا گیا حتی کہ رشتہ ازدواجیت کوغیر ضرور ی قید وبند اوردلت کا پر فریب ذریعہ قرار دے کر جنسی آزادی کا نعرہ بلند کیا گیا اور شادی سے باہر  بچوں کی پیدائش کی بھی حوصلہ افزائی کی جانے لگی ، تحریک نسوانیت کی  حامی اورمشہور مصنفہ ’’شیلا کرونن‘‘ (Sheila Cronan)لکھتی ہے :۔

“Sinc marriage constitutes Slavery for womens movement must concentrate on Attacking marriage” (Rhonda Hummar and Douglas, keuner. Third wave feminism: p:107)

یعنی شادی عورتوں کیلئے غلامی اورذلت ہے ، لہٰذا تحریک نسواں کوچاہیے کہ وہ شادی سے سسٹم کوختم   کرنے پر بنیادی توجہ صرف کرے۔

تحریک نسواں کے تمام علمبرداروں کاتقاضا ہے کہ عورت اپنے جسم کی خود مالک ہے ، یہاں ان  کی مرضی کے بغیر کسی بچہ تک کوبھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان کے جسم میں پرورش پائے، لہٰذا جب وہ چا ہے کہ بچہ کورکھے جب چاہئے اسقاط کرادے۔

تحریک نسواں کے ایک اور زبردست حامی “Judith Jarvis Thomsons”لکھتے ہیں:۔

“Women have Rights over Thir bodies, Then they have rights not to have their bodies used by other against their will.”

اگر عورتیں اپنے جسم کی مالک ہیں تو انہیں اس کا بھی حق حاصل ہے کہ کوئی ان کا جسم ان کی مرضی کے بغیر استعمال نہ کرے۔

مغربی معاشرہ میں عورت

اس طرح کے بے بنیاد فلسفوں اورتحریکات کے نتیجہ میں مغربی معاشرہ جن تباہ کاریوں کا شکار ہوا ان میں عورتوں کے ساتھ ظلم وزیادتی اورمختلف انواع کے جرائم کا شرح بے انتہا بلند ہے۔

مردوزن میں شدید تفریق

تحریک نسواں کے نام پر مساوات مردو زن اورعورتوں کومکمل حقوق کی فراہمی کا جونعرہ بلند کیا گیا وہ مکمل فریب اورتاریخ انسانی کا سنگین فراڈ کے علاوہ کچھ نہ تھا ، بس یہ کہ اس کے نام پر عورتوں کوعریاں کیا گیا ، بے توقیری کی گئی ، شاعر درندوں اور نفس پرستوں کی طرف سے ہوسناکیوں کی تکمیل کیلئے مثنیٰ محض بنالیا گیا ۔مساوات مردو زن کا نعرہ برطانیہ سے شروع ہوا جس میں خواتین کواس کے حقوق دلانے کی بات کو بنیادی مقام حاصل تھا اس لئے بہت جلد اس نعرہ مساوات کوعام قبولیت حاصل ہوگئی ۔ لیکن پس پردہ صنعت کاروں اورسرمایہ داروں کے کچھ اورہی مقاصد تھے ، وہ اپنی صنعت کی ترقی اورسرمایہ میں اضافہ کیلئے پرفریب نعرے بلند کررہے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک نسواں کے مقبرہ پہ صدیاں گزرگئیں مگر مغربی معاشرہ میں خواتین آج بھی بنیادی حقوق اورباوقار مقام سے محروم ہیں اور ہر مہاذ پر انہیں نا انصافیوں کا شکار ہونا پڑرہا ہے۔

ملازمتوں سے محرومی

برطانیہ میں ہر سال اوسطاً ۳۰۰۰۰(۳۰ہزار) عورتوں کوصرف اس جرم میں غیبت اور بے کار قرار دے کر ملازمتوں سے فارغ کردیا جاتا ہے کہ وہ قانونی طور پر ماں بننے کا فیصلہ کرلیتی ہیں۔ برطانوی اخبار’’گارجین‘‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق : ’’ اپنی ملازمتوں سے محروم ہونےوالی حاملہ عورتوں اور نئی ماوؤں کی تعداد میں چونکا دینے والا اضافہ دیکھا جارہا ہے کہ کیونکہ مالکان بچے نہ رکھنے والی دیگرملازماؤں کے مقابلہ میں انہیں غیر ضروری قرار دے کر ملازمتوں سے نکال دیتے ہیں ۔ ۵جون ۲۰۰۹ء بعنوان : ۔ Employers troseting pregnant women for redundancy

اجرتوں میں نمایاں فرق

مغربی معاشرہ میں عورتوں کومردوں کے مقابلہ بہت کم تنخواہ دی جاتی ہے Equal Payکے عنوان سے متعدد شعبوں میں ملازمین کی  ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا کہ :۔

’’عورت ملازموؤں کویکساں ذمہ داریوں کے باوجود مرد ملازمین سے بہت کم تنخواہ دی جاتی ہے ، ایک کام کیلئے مرد ملازمین کی تنخواہ ۴۲۴۴۱ پونڈ ہے جبکہ بعینہٖ اسی کام کیلئے اسی ادارے میں عورت ملازموؤں کی تنخواہ ۳۱۸۹۵ پونڈ ہے ۔ ‘‘

(Guardian-31 Augusht 2011, Equal Pay Report-)

اعلیٰ عہدوں سے محرومی

مغربی ممالک خاص کر برطانیہ کی بڑی کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر عورتوں کی تعداد نہ کے برابر ہے اورایسی بڑی کمپنیوں کی تعداد بھی خاصی زیادہ ہے ۔ جن کے بورڈ میں ایک بھی خاتون رکن نہیں ہے ۔

(Guardian,13 oct 2011, Shocking Lac women Directors)

عورتوں کی خرید و فروخت

مغربی معاشرہ میں تحریک نسوانیت عورتوں کی آزادی اوراس کے تمام حقوق کی مکمل حفاظت کے دعویٰ کے باوجود یہاں شہوت پرست اشرافیہ کے ذریعے عورتوں کی خریدو فروخت عام ہے ، بلکہ اس معاشرہ میں یہ تصور بھی عام ہے کہ عورتیں بھی شاپنگ کی جانیوالی ایک چیز ہیں اورعام مشروبات وغیرہ کے مقابلہ میں عورتوں کی خریداری زیادہ آسان ہے ۔

برطانیہ کے مشہور اور سب سے مقبول اخبار روزنامہ گارجین میں CCAT(1)نامی ادارہ کے حوالہ سے یہ خبر شائع ہوئی کہ :۔

’’برطانیہ میں ہر سال بڑی تعداد میں عورتیں عصمت فروشی کے کاروبار کیلئے استعمال کی جاتی ہیں۔ بہت سے مرد جنسی خواہش کی تکمیل کیلئے عورتوں کی خریداری کوبھی شاپنگ کی ہی ایک چیزسمجھتے ہیں ، اسی اخبار میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ مغربی معاشرہ میں جنسی ہوسناکیوں کی تکمیل کیلئے درآمد کی گئی عورتوں کی خریداری اتنا ہی آسان جتنا پینرا کا آڈر دینا ۔ (Guardian 22 Augusht 2007, Supplyment crime)امریکی معاشرہ جسکو امریکی سے زیادہ امریکہ زدہ لوگ مثالی معاشرہ سمجھتے ہیں وہاں عورتوں کے ساتھ عدم مساوات یورپ سے کہیں زیادہ ہے، اوریہاں کی خواتین کے حالات یورپین خواتین سے زیادہ خوفناک ہیں۔

American national organization for womenکے ذریعے فروری ۲۰۱۱ء میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ :۔

’’ امریکہ میں جس کام کیلئے مردغلام کوایک ڈالر اجرت میں دیا جاتا ہے ، بعینہٖ اسی کام کیلئے خاتون ورکر کو صرف ۷۷ سینٹ ہی مل پاتا ہے ۔‘‘(Guardian 21 Jul 2007, Report by field intern Rily korbon)

عورتوں کا گھر بھی جہنم

غربی معاشرہ میں عورتوں کے ساتھ ہونے والے جرائم کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے ، اور مختلف نوعیتوں کے جرائم عمل میں لائے جارہےہیں ، گھر سے باہر تو دور خود ان کے گھروں میں جن کواہم پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے ۔ وہاں بھی عورتیں محفوظ نہیں ہیں ، بلکہ ان کا گھر ان کے لیے بازار سے زیادہ خوفناک ثابت ہورہا ہے ۔ مغربی معاشرہ میں عورتوں کے ساتھ خود ان کے گھروں میں ہونیوالے تشدد کی صورتحال پرتبصرہ کرتے ہوئے ایک مشہور برطانوی دانشور’’ Lan sinclair‘‘ لکھتے ہیں:۔

’’عورتوں کے ساتھ ہونے والی سنگین زیادتیوں پر ہمیں بڑی گہرائی سے غوروفکر کرنا چاہیے ، مین اسٹریم میڈیا اگرچہ باہری حضرات کا شورمچا رہے ہیں ، حالانکہ ہمارے معاشرہ میں عورت کیلئے سب سے خطرناک جگہ اس کا گھر بن چکا ہے ، بادی النظر میں گھر کومحفوظ ترین مقام تصور کیا جاتا ہے جبکہ یہاں رنج وغم ، خوف وخطرات بلکہ بعض دفعہ موت تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسا کہ برطانیہ میں ہر ہفتے دوخواتین کا ان کے شوہر یا مرددوست کےہاتھوں قتل ہوتا ہے ۔

(www.z.communications.org/violence against women)

British crime survenکے مطابق برطانیہ میں ۴۵ فیصد خواتین کسی نہ کسی طرح گھریلو تشدد کا سامنا کرتی ہیں، اسی طرح ہرسال کم ازکم ۸۰ ہزار عورتیں زنا بالجبر کا نشانہ بنتی ہیں۔ اسی طرح انگلینڈ اورویلز میں ہرہفتے کم از کم دوعورتیں اپنے شوہر یا دوست کے ہاتھوں قتل کردی جاتی ہیں ، گھروں میں قتل کی جانے والی چالیس ۴۰ فیصد خواتین اپنے قریبی کے ہاتھوں  سے ماری جاتی ہیں۔

(Povey D. crime in England and wales-2003-4)

عورتوں کے ساتھ تشدد کی کثرت اوراس میں خوفناک اضافہ کے ساتھ ساتھ مغربی معاشرہ  عورتو ں کے با ب میں ا  س حدتک پہنچ چکا ہے کہ وہاں خواتین پر ہونے  والے تشدد کواتنی بھی اہمیت کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا جتنی اہمیت پالتو کتوں پر تشدد کوحاصل ہے ، BBCکی طرف سے Scale of Domestic aluse uncoveredکے عنوان سے پیش کردہ ایک سروے رپورٹ میں انکشاف کیاگیا کہ 78فیصد مرد و خواتین نے اقرار کیا کہ اگر ان کے پڑوس میں پالتو کتے کوپیٹا جارہا ہو تو وہ پولیس کواطلاع دے کر کتے کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں ، جبکہ کسی مرد کی طرف سے اپنی بیوی یا گرل فرینڈ پر تشد د کئے جانے کی صورت میں صرف 53فیصد نے پولیس کواطلاع دینے کیلئے آمادگی ظاہر کی ۔

HTTP:II News. bbc co.uk/2/hi/uk-news/2752567

عورتوں کے ساتھ تشدد اورسنگین زیادتیوں میں امریکہ یورپ سے بہت آگے ہے ۔ National crime victimization surveyکے مطابق ۲۰۰۸ء میں یہاں عورتوں پر ان کے مرد ساتھیوں کے ذریعے ۵۵۲۰۰۰(پانچ لاکھ باون ہزار ) پر تشدد جرائم کا ارتکاب کیاگیا ، ان میں ۳۵۶۹۰ (پینتیس ہزار چھ سو نوے ) زنا بالجبر اورجنسی زیادتیوں کے معاملات ہیں، ۷۰۵۵۰پر تشدد جان لیوا حملے ۳۸۸۲۰ لوٹ مار اور ۴۰۶۵۳ چھوٹے حملے شامل ہیں، اسی رپورٹ کے مطابق ۲۰۰۸ء میں اوسطاً ہر روز ۵۰۰ عورتیں جنسی حملوں کی شکار ہوئیں ، ۲۰۰۷ء میں قتل ہونے والی عورتوں میں ۶۴ فیصد اپنے قریبی مردیا دوستوں کے ہاتھوں ماری گئیں ۲۴ فیصد واقعات میں ان عورتوں کے موجودہ یا سابق شوہر ملوث پائےگئے ۔

(محمد بن سعود البشیر ، یوم ان اعترفت امریکا بالحقیقۃ ، جسمیں بارئر سون کی کتاب کا عربی ترجمہ ، طبعہ :مؤسسۃ الحریسی بلتوزیع با لریاض 4022564، ص :۳۷۔۳۸) اورڈائریکٹ اس لنک پہ بھی دیکھا جاسکتا ہے :

(www.national crime victimization surve UK/2008)

فوج میں عورتوں پر زیادتی

امریکی افواج میں موجود خواتین اہلکار کے ساتھ جووحشیانہ سلوک کیا جاتا ہے وہ نہایت ہی درد ناک ہے، اس تعلق سے بہت سے اعدادوشمار اورخواتین فوجیوں کی کرب ورنج سے بھری ہوئی داستانیں ذرائع ابلاغ کے واسطے سے منصہ شہود پر آچکی ہیں یہاں اعداد وشمار ذکر کرنے کے بجائے ایک سابق امریکی فوجی ’’ماریاں ہڈ‘‘ کا در دبھر ا بیان عورتوں پر ہورہے درد ناک مظالم کوواضح کرنے کیلئے کافی ہے ، امریکی پرچم لہرانے سے انکار کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں:۔

’’میں پہلے جب بھی امریکی پرچم دیکھتی تھی تویہ مجھے سرخ ، سفید اورنیلا دکھائی دیتا تھا، مگراب اس پر صرف خون کے رنگ دکھ رہے ہیں، سرخ رنگ اس خون کی نمائندگی کرتا ہے جومیرےبدن سے بہا، اورنیلا رنگ ان چوٹوں کوبیان کرتا ہے جومیرے جسم کوبرداشت کرنی پڑیں، اورسفید رنگ میرے خوفزدہ چہرے کی علامت ہے ، میں اپنے ملک کیلئے اپنوں کے ہاتھوں ماری پیٹی گئی ، میری عزت لوٹی گئی ، یہی کچھ تمام عورتوں کے ساتھ ہوتا ہے ، اسے کافی سمجھنا چاہیے ۔ ‘‘

(HTTP extras.tenver post.com/Justice/tdp-clrayal pdf)

جنسی انقلاب( جنسی آزادی)

مغربی معاشرہ کوغیر مستحکم اورمتضاد فلسفوں نے جن سنگین بحرانوں کا شکار بنا یا ہے ان میں سب سے اہم جنسی آزادی کا بحران ہے ، آزادی نسواں کے پرفریب نعروں کے ذریعے انہیں معاشی آزادی یا شعور وخرد کی آزادی کے بجائے جنسی آزادی میں مبتلا کردیا گیا ، اسکی ہمت افزائی کی گئی ، رشتہ ازدواجیت کو تاریک قیدوبند قرار دے کر آزاد جنسی خواہشات کی تکمیل کوپسندیدہ اورروش خیالی کا اعلیٰـ نمونہ قرار دیا گیا ، جنسی آزادی کوعام کرنے اور معاشرہ کی تمام اکائیوں کواس بحران میں غرق کرنے کی انقلابی کوششیں کی گئیں ۔

’’جنسی آزادی کے مطالبات کوآئینی منظور ی ملنے کے بعدوہاں کے اسکولوں ، کالجز اور یونیور سٹیو ں میں جنسی تعلیم کواعلیٰ پیمانہ پر نصابوں میں شامل کیا گیا ۔ اس میں شادی سے باہر جنسی تعلقات کو عملی طور پر اختیار کرنے کی ترغیب اوراس کی ہمت افزائی کی گئی ،اور اس تصور کوپورے معاشرہ میں عام کیا گیا کہ آزاد جنسی تعلقات قائم کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ یہاں کے اسکولوں اورکالجز میں اخلاقی  تحفظا ت سے قطعِ نظر جنسی تعلقات کوعملی شکل میں سکھایاجاتا ہے ، ان خواتین کی زبردست ہمت افزائی کی جاتی ہے ، جوشادی کی ذمہ داریوں سے آزاد رہ کر جسمانی تعلقات کوپوری رغبت کے ساتھ پسند کرلیتی ہیں، اوربچہ پیدا کرنے کیلئے نکاح کے علاوہ آزاد راستے کو ترجیح دیتی ہیں ۔

(Lonnie Branam, American is in a moral crisis Magazine san fernando church of christ, sunday, 30 Nov,2014)

آزاد جنسی تعلقات کی ترغیب اوراس کی منظم طریقہ سے حوصلہ افزائی کے نتیجہ میں مغربی معاشرہ کس بھیانک صورتحال سے دوچار ہے ، اس کا اندازہ مغربی ماہرین اورمعاشرہ پر نظر رکھنے والے مصنفین کے متعدد اقتباسات سے لگایا جاسکتا ہے ۔ مثلاً امریکہ کے ایک مشہور رائٹر پروفیسر ’’میٹریم ساروکن ‘‘  اپنی کتاب ’’امریکی جنسی انقلاب‘‘ میں لکھتے ہیں:۔

’’امریکہ والے جنسی انار کی کی طرف دوڑے چلے جارہے ہیں ، جوزوال کی علامت ہے ، جنس کے سیلاب عظیم نے ہمیں ہر طرف سے گھیر رکھا ہے ۔ ہماری تہذیب کے ہر شعبے اور ہماری معاشرتی زندگی کے ہر خانے میں وہ گھس آیا ہے ، امریکہ کی سیاسی زندگی تک شہوانیت کی لہروں کی رو میں آچکی ہے ، اورجنسی رشوتیں اورجنسی استحصال بالجبر ایسے ہی عام ہوچکے ہیں ۔ جیسے مانی رشوتیں — جنسی بدنامی والی شخصیتیں اوران کے پٹھو سفارتی عہدوں پر ہیں ، عیاش لوگ کہیں بلدی افسر ہیں، کہیں وزیر سلطنت اور کہیں سیاسی پارٹی کے لیڈر ، ہمارے پبلک حکام میں بڑی کثرت سے آوارہ منش لوگ موجود ہیں —— اب ہمارا ماحول ایسا ہوگیا ہے جو بر ہنگی یا ہم برہنگی سے بھرا ہوا ہے  ، یہاں تک کہ تجارتی اشتہاروں میں شہوانیت کی آمیزش لازم ہوگئی ہے ، اور ہمارے تمدن میں جنس ایسی رچ بس گئی ہے کہ امریکی زندگی کے ہر بن موٹپکنے لگی ہے:۔

(سید جلال الدین عمری ’ عورت اسلامی معاشرہ میں ‘ مکتبہ اسلامی دہلی ، مئی ۲۰۰۶ء)

 ہم جنس پرستی

پھر جنسی آزادی کے فروغ پا جانے کے بعدکے ہم جنس پرستی کے طوفان نے پورے مغربی معاشرہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اوربڑی تعداد اس کی عادی بن چکی ، ساتھ اورحکومتی سطح پر نہ یہ کہ اسے صرف تحفظات حاصل ہیں بلکہ اس کی ترغیب اور ہم جنس پرستوں کی حوصلہ افزائی کی منظم کوششیں کی جارہی ہیں، ۱۹۹۳ء میں ہم جنس پرستوں کے نمائندوں نے قانونیت تحفظ حاصل کرنے کیلئے امریکی صدر ’’بل کلنٹن ‘‘ کے سامنے سفارشات پیش کئے ، صدر موصوف نے یہ کہ صرف تمام سفارشات قبول کئے بلکہ جنس پرستی کی اہمیت وضرورت پر زور دیتے ہوئے وہائٹ ہاؤس نے ایک تقریر کی جس میں انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا :۔

’’ میں امریکی معاشرہ کے تمام گروہوں اورہم جنس خواتین وحضرات کے درمیان مساوات کے قیام کیلئے کی جانے والی کوششوں کی بھرپور تائید کرتا ہوں ، میرا کہنا ہے کہ محنت اور تگ ودو سے کام کرنے والا ہر شخص  امریکی معاشرہ کا حصہ ہے ، ہمارا یہ فرض ہے کہ اس خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنے کیلئے بھر پور محنت کریں۔‘‘  (USA Daily News 27 April 1993)

جرائم

مغربی معاشرہ متضاد فلسفوں اوراصول فطرت سے معارض نظریات کی بنیاد پر مادی خوشحالی اوربا فراغت زندگی کے حصول کے باوجود جن سنگین مسائل سے دوچار ہے ان میں سرِ فہرست جرائم ہے ، اور آج مغربی معاشرہ جرائم کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ، چنانچہ مغربی معاشرہ پہ گہری نظر رکھنے والے مشہور مغربی تجزیہ نگار اورسماجیات  کے ماہر “Patrick-J- Buchanan”اپنی کتاب”The death of the west”میںاس صورتحال کاتذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔

’’ یورپ میں تہذیب وتمدن کے ارتقاء کی تمام امیدیں ختم ہوچکی ہیں ، یہ کوئی حیران کن انکشاف نہیں ہے ، بلکہ صورتحال پر نظر رکھنے والے تمام ارباب فکراس سے پوری طرح واقف ہیں کیونکہ وہاں قتل وغارتگری ، ظلم وزیادتی ، عزت وآبرو کی پامالی ، خود کشی اور سنگین قسم کے جرائم دن بدن بڑھتے جارہے ہیں ، یہ صرف پسماندہ شہروں کی صورتحال نہیں بلکہ ترقی یافتہ شہر جیسے ماسکو، نیویارک، واشنگٹن ، لندن، برلن، پیرس ، اٹلی ، اسپین ویونان کی یہی صورتحال ہے ، بلکہ ان میںسے بعض شہروں کا یہ حال ہے کہ چوروں اور ڈاکوؤں کی وجہ سے سورج کے غروب ہوتے ہی گھروں کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں ، مسافروں اورراہگیروں کواور ان کی جان ومال کوہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے ۔

(سید قطب، المستقبل لہٰذا الدین، ص : ۵۶)

لوٹ کھسوٹ اورقتل

اس کے علاوہ امریکہ میں جرائم کی شرح نہایت تیزی کے ساتھ بلند ہورہی ہے ۔ امریکہ کرائم ریکارڈ بیورو کے رکن ’’ جیمس بارٹر سون ‘ ‘ نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا کہ موجودہ سروے کے مطابق امریکہ میں جرائم کی شرح ۶۰ فیصد ہوگئی ہے ، یعنی امریکی معاشرہ کی مجموعی تعداد میں ۶۰ فیصد عادی مجرم ہیں ، ایسے لوگوںکی تعداد ۵۸ فیصد ہے جنہوںنے کم از کم دو مرتبہ سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے ۔

(تفصیل کیلئے دیکھئے جیمس بارئرسون کی کتاب کا عربی ترجمہ ، محمد بن سعود البشر، یوم ان اعترفت امریکا بالحقیقۃ ، طبع: مؤسسۃ الحریسی ملتوزیع بالریاض ،۴۰۲۲۵۶۴، ص :۳۵تا ۴۱)امریکی نوجوانوں میں خود کشی کی شرح پورے یورپ سے بیس گنا اور جاپان سےچالیس گنا زیادہ ہے ، اور ڈاکہ زنی ، لوٹ کھسوٹ جیسے جرائم جاپان ، برطانیہ اوراسپین کے مقابلہ بیس گناہ زیادہ ہیں۔

(تفصیل کیلئے دیکھئے : عمران ابوحجیلۃ حالات موضی والآثار الاجتماعیۃ ملعونۃ ، ص : ۱۱۹)

اسی طرح جنرل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ گیارہ برسوں میں (2013ء تک ) ایک لاکھ ۷۶ ہزار افراد کوقتل کیا جاچکا ہے ، اوراب سالانہ ۴۴ ہزار افراد کو باہمی نزاع اورکشمکش کے نتیجہ میں قتل کئے جانے کی رپورٹ ہے ، اسی رپورٹ کے مطابق سالانہ ایک کروڑ بچوں اور ایک کر وڑ بیس لاکھ دیگر افراد کوکسی نہ کسی تشدد کا نشانہ بنا یا جاتا ہے ۔

(www.dailyausaf.com.story)

(جاری)

نومبر 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau