نکاح کا عظیم تصور، مذہب کا معجزہ

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

یہ مذہب کا معجزہ ہے کہ وہ انسان کو، مردو و عورت دونوں کو، نوع اور تمدن کے لیے قربانی پر آمادہ کرتا ہے اور اس خود غرض جانور کو آدمی بنا کر ایثار کے لیے تیار کر دیتا ہے۔ وہ خدا کے بھیجے ہوئے انبیا ہی تھے جنھوں نے فطرت کے منشا کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر عورت اور مرد کے درمیان تعلق اور تمدنی تعاون کی صحیح صورت، نکاح کی تجویز کی۔ انھیں کی تعلیم و ہدایت سے دنیا کی ہر قوم اور روئے زمین کےہر گوشے میں نکاح کا طریقہ جاری ہوا۔ انھیں کے پھیلائے ہوئے اخلاقی اصولوں سے انسان کے اندر اتنی روحانی صلاحیت پیدا ہوئی کہ وہ اس خدمت کی تکلیفیں اور نقصانات برداشت کرے۔ ورنہ حق یہ ہے کہ ماں اور باپ سے زیادہ بچے کا دشمن اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ انھیں کے قائم کیے ہوئے ضوابطِ معاشرت سے خاندانی نظام کی بنا پڑی۔ جس کی مضبوط گرفت لڑکیوں اور لڑکوں کو اس ذمے دارانہ تعلق اور اس اشتراکِ عمل پر مجبور کرتی ہے۔ ورنہ شباب کے حیوانی تقاضوں کا زور اتنا سخت ہوتا ہے کہ محض اخلاقی ذمہ داری کا احساس کسی خارجی ڈسپلن کے بغیر ان کو آزاد شہوت رانی سے نہ روک سکتا تھا۔ شہوت کا جذبہ بجائے خود اجتماعیت کا دشمن (anti-social) ہے۔ یہ خود غرضی، انفرادیت اور انارکی کا میلان رکھنے والا جذبہ ہے۔ اس میں پائیداری نہیں، اس میں احساسِ ذمہ داری نہیں، یہ محض وقتی لطف اندوزی کے لیے تحریک کرتا ہے۔ اس دیو کو مسخر کر کے اس سے اجتماعی زندگی کی، اس زندگی کی جو صبر و ثبات، محنت و قربانی، ذمے داری اور پیہم جفا کشی چاہتی ہے، خدمت لینا کوئی آسان کام نہیں۔ وہ نکاح کا قانون اور خاندان کا نظام ہی ہے جو اس دیو کو شیشے میں اتار کر اس سے شرارت اور بد نظمی کی ایجنسی چھین لیتا ہے اور اسے مرد و عورت کے اس لگاتار تعاون و اشتراکِ عمل کا ایجنٹ بنا دیتا ہے جو اجتماعی زندگی کی تعمیر کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ نہ ہو تو انسان کی تمدنی زندگی ختم ہو جائے۔ انسان حیوان کی طرح رہنے لگیں اور بالآخر نوعِ انسانی صفحۂ ہستی سے ناپید ہو جائے۔

( پردہ)

فروری 2020

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau