منشیات کا بڑھتا ہوا رواج

مولانا محمد اسجد قاسمی ندوی

احادیث میں بار بار اس حقیقت کو بیان فرمایا گیا ہے کہ اسلام میں نہ اس کی اجازت ہے کہ انسان خود اپنی ذات کونقصان پہنچائے اور نہ اس کی اجازت ہے کہ دوسروں کو نقصان پہنچائے، اب غور کیا جائے کہ شراب و منشیات اور اس سے متعلق تمام چیزوں کا استعمال صرف اپنی صحت و ذات کو نقصان پہنچانے، اپنی طاقت کو ختم کرنے، اللہ کی امانت کو ضائع کرنے، امانت میں خیانت کا مرتکب ہونے، اور اپنی قبر آپ کھودنے اور اپنے کو موت کے منہ میں لے جانے کے سوا کیا ہے؟طبی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے اور تجربات و مشاہدات اس پر شاہد ہیں کہ انسان کا جسم شراب ونشے کی وجہ سے مختلف ہولناک امراض کا مجموعہ بن جاتا ہے، یورپ کے ڈاکٹروں کے ایک پینل نے ۱۰۰؍ ایسے بڑے اورمہلک امراض کی نشاند ہی کی ہے جونشے کی لت کی وجہ سے عام ہوتے جارہے ہین، جن میں دل و دماغ اور اعصابی و نفسیا تی امراض کے ساتھ کینسر اور ایڈز کے امراض بالکل نمایاں ہیں، ایک امریکی ڈاکٹر جو محقق و مصنف بھی ہے لکھتا ہے کہ:

امریکا میں ایڈز کے چالیس فیصد مریض وہ ہیں جن کو منشیات کے بے محابا استعمال نے اس اسٹیج تک پہنچایا ہے،امریکی لوگوں نے خود اپنے ہاتھوں اپنی قبر کھودی ہے، مذہبی اخلاقیات سے ان کا رشتہ بالکل ختم ہوچکا ہے، اور یہ سب کچھ نشے کی لعنت عام ہوجانے کا وبال ہے،یورپ کے اخلاقی دیوالیہ پن اور بے راہ روی کا اصل سبب یہی ہے۔(المخدرات مدمرات: دعائض قرنی/۱۲)دل کے امراض بطور خاص بلڈپریشر کا متاثر ہوجانا، دوران خون کا نظام خراب ہوجانا، گردوں اور جگر کی خرابی، نظام ہضم کا بگاڑ اورمعدہ کی متنوع بیماریاں، بالعموم گلے کے کینسر کاعارضہ،درد سر اور بینائی کی خرابی کا مرض، قوت حافظہ کا خراب ہوجانا، رعشہ کا مرض، تمام اعصاب کامتاثر ہونا، تنفس کا عارضہ لاحق ہونا، دماغی امراض(مثلاً نسیان، دوران سر، جنون، نیند نہ آنا، مرگی، قوت فیصلہ سے محرومی وغیرہ) جلدی وجنسی امراض یہ تمام عوارض طبی تحقیقات کے مطابق منشیات کے استعمال کی وجہ سے بکثرت لاحق ہوتے ہیں، غور کیا جائے کہ ان امراض میں مبتلا انسان کے جسم کامدافعتی نظام کس درجہ متاثر ہوگا اور وہ چند ہی دنوں میں کس طرح ہڈی کا ڈھانچہ بن کر رہ جائے گا۔

آج کل جوانوں کی موت کے جو واقعات بکثرت پیش آتے ہیں ان کا اہم اور بنیادی سبب نشہ کی یہی لعنت ہے، ٹریفک حادثات بھی دوسرے درجے میں اس کا سبب ہیں، لیکن سروے کیا جائے تو آدھے سے زائد ٹریفک حادثات بھی نشہ باز ڈرائیوروں کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔منشیات کی لعنت انتہائی پیچیدہ نفسیاتی امراض کا ذریعہ بھی بنتی ہے، اور یہ امراض نشہ باز کے ساتھ اس کے اہل خانہ( بیوی، بچوں) کی زندگی اجیرن کردیتے ہیں، بلکہ مشاہدے میں یہ بات آتی ہے کہ شراب کے یہ مضر اثرات متعدی ہوکر شرابی کی نسل تک پہنچتے ہیں، اور ایسے افراد کی اولاد خصوصاً شراب و نشے کی عادی خواتین کی اولاد اکثر اسی راہ پر چل پڑتی ہے، اوران امراض کا نشانہ بنتی ہے، اسی لئے شریعت نے صاف اور دو ٹوک الفاظ میں طے کردیا ہے:

کل مسکر حرام علیٰ کل مومن۔(ابن ماجہ/۳۳۸۹)

’’ہر صاحب ایمان کے لئے ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔‘‘

اور: کل شراب أسکر فہو حرام۔(ایضاً/۳۳۸۶)

’’ ہر نشہ آور مشروب حرام ہے۔‘‘

نیز: ماأسکر کثیرہ فقلیلہ حرام۔ (ایضاً/۳۳۹۳)

’’ نشہ آور چیز کی زیادہ اور کم ہر مقدار حرام ہے۔‘‘

حضرت ام سلمہ کا بیان ہے:

نہیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن کل مسکر و مفتر۔ (ابوداؤد/۳۶۸۶)

’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نشہ آور چیز سے اور صحت میں خلل ڈالنے والی ہر چیز سے منع فرمادیا ہے۔‘‘

مالی نقصانات

منشیات کے مضرات کا ا یک پہلو مالی نقصان بھی ہے، منشیات کا فروغ امت کی معاشی اور اقتصادی قوت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

سیال و جامد منشیات کی قیمت عام طور پر بہت زیادہ ہوتی ہے، بسا اوقات ایک غریب خاندان جس رقم میں ایک دن کی خوراک کا نظم کرسکتا ہے، اتنی رقم میں شراب کی ایک بوتل دستیاب ہوتی ہے، بعض نشہ آورچیزیں مثلاً ہیروئن ایک کروڑ روپئے فی کلو کے حساب سے فروخت ہوتی ہیں، یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ ہماری حکومت ایک ہلاک ہونے والے شخص کے لئے اس کے ورثاء کو ایک لاکھ روپئے ایکس گریشیا( معاوضہ بنام ہمدردی) دیتی ہے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک کلو ہیروئن کی قیمت سو انسانوں کے مساوی ہوگی، اوراسی سے یہ بھی سمجھنا مشکل نہیں کہ ہمارے اس دور میں انسانی زندگی اور جان کس قدرارزاں ہے اور ہلاکت میں ڈالنے والی ملعون چیز کس قدر گراں ہے؟ یہ تو بہت قیمتی منشیات کا ذکر ہوا ، موجودہ حالات میں ایک خاص سازش کے تحت منشیات کو فروغ دینے خصوصاً جوانوں میں اس کی لت ڈالنے کا جو منحوس کام یا بالفاظ دیگر بہت بڑا کاروبار ہورہا ہے، اس کے نتیجے میں  نشہ پیدا کرنے والے ٹیبلٹ،کیپسول، سیرپ، پڑیا، انجکشن بہت تیزی سے عام ہورہے ہیں، اور انہیں کم قیمت پر دستیاب کرایا جارہا ہے، تاکہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے افراد، جو ایسے کاروباریوں کا اصل ٹارگٹ ہیں، بآسانی ان اشیاء کو حاصل کرسکیں، یہ منشیات اگر چہ کم قیمت کے  ہیں، لیکن پھر بھی غریبوں کاکل اثاثہ ان پر ضائع ہوکر کیسے بھیانک مالی نقصان کا باعث بنتا ہے اور ایسے نشہ بازوں کاگھر انہ کس طرح مفلوک الحال اوردانے دانے کو محتاج ہوتاہے، تصور کرلیا جائے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی قابل غور ہے کہ ابتداء میں تو انسان اپنے ارادے اور اختیار سے نشے کی لعنت میں مبتلا ہوتا ہے، لیکن پھر اس کی ایسی عادت پڑتی ہے اور ایسا چسکا لگتا ہے کہ گویا وہ اس کے بغیر زندہ ہی نہیں رہ سکتا، پھر وہ اپنے قابو ہی میں نہیں رہتا، چنانچہ وہ منشیات حاصل کرنے کے لئے سب کچھ داؤں پر لگادیتا ہے،اپنی ساری پونجی لٹا دیتا ہے، جائداد بیچ دیتا ہے، کاسۂ گدائی لے کر دردر پھرتا ہے، بھیک مانگ کر نشہ کرتا ہے، چوری کر کے کام چلاتا ہے، اپنے جسم کے اعضاء( دل ،گردہ وغیرہ) تک بیچ ڈالتا ہے، بلڈ بینک کو خون دینے والے افراد عام طور پر نشہ باز ہوتے ہیں، جوارزاں قیمت پر اپنا لہو فروخت کرکے اپنی نشہ کی چیز حاصل کرتے ہیں، حد یہ ہے کہ ایسے لوگ اپنی ا ولاد اور بیویوں تک کا سودا کرنے میں بھی نہیں ہچکچاتے ، یہ بدترین نقصانات منشیات کی نحوست ہیں۔اس وقت دنیا کا سب سے مہنگا کاروبار منشیات کا ہے، تمام تر ظاہری قانونی بندشوں کے باوجود یہ کاروبار خوب  پھل پھول رہا ہے، قوم کا انتہائی بیش قیمت اثاثہ اس کی نذر ہورہا ہے، نہ جانے کتنے افراد اس وجہ سے دیوالیہ بن گئے، کتنے گھرانے نان شبینہ کے محتاج ہوگئے، اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ ہزاروں جوانوں کی صحت، زندگی اوردولت کو تباہ کرنے والے منشیات کے تاجر حکومتوں اور آقاؤں کی خفیہ اور مضبوط سرپرستی میں اور بڑی بڑی رشوتوں کی تدبیر سے اپنے کا م میں لگے ہوئے ہیں، قوم کا خون پی رہے ہیں اور اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں، جن کی گردنوں پر بے شمار افراد کی ہلاکت، لاکھوں جوانوں کی جوانی و صحت کی تباہی، والدین کے ہوتے ہوئے یتیموں جیسی زندگی گزارنے والے نونہالوں کی محرومی اور بے بسی، شوہروں کے ہوتے ہوئے بیواؤں سے بری زندگی جینے والی خواتین کی پریشان حالی اور کس مپرسی جیسے بے شمار جرائم کابوجھ ہے، مگر وہ احساس جرم سے عاری اور اپنا بیلنس بڑھانے میں منہمک ہیں، اور انہیں کے ذریعہ پوری دنیا میں مختلف تدبیروں سے کبھی معصوم بچوں کواغوا کر کے ان کا پیٹ چیر کر ان میں منشیات بھر کر او ر کبھی کسی اورطرح سے خطرناک منشیات( افیم،ہیروئن، کوکین وغیرہ) سپلائی کی جاتی ہیں۔عرب ممالک بطور خاص مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے یہودی تاجروں کے ذریعہ منشیات کی وسیع پیمانے پر سپلائی جاری ہے، اور اس کے ذریعہ ایک تیر سے دو شکار کئے جارہے ہیں، دولت بھی سمیٹی جارہی ہے، اور امتِ عرب کو کھوکھلا اور بے قیمت بھی بنایا جارہا ہے ۔(المخدرات:عائض قرنی/۱۵)یومیہ نشہ بازوں کا تناسب بڑھتا جارہا ہے،اربوں کی دولت انسانوں کے ذریعہ اس لعنت میں صرف کی جارہی ہے، یہ اسراف قوم کی معاشی صورت حال کو کس دیوالیہ پن کی طرف لے جارہا ہے، محتاج بیان نہیں، ان مالی نقصانات سے امت کو محفوظ رکھنے کے لئے منشیات کی اس لعنت پرقدغن لگانی ہوگی، تبھی امت اسراف اور بدحالی کی زنجیر سے آزاد ہوسکے گی۔

سماجی نقصانات

انسان جس معاشرہ میں رہتا ہے، اس کے مختلف افراد سے اس کے روابط ہوتے ہیں، اور اسی لئے مختلف افراد کے حقوق اور ذمہ داریاں اس سے متعلق ہوتی ہیں، اگر وہ صاحب اولادہے تو اولاد کی تعلیم،تربیت، پرورش، خوردونوش، لباس و مکان تمام ضروریات اس سے وابستہ ہوتی ہیں، والدین حیات ہوں توان کی ذمہ داری اوران کے خرچ کا بار اس کے ذمہ ہوتا ہے، بڑا ہے توچھوٹے بھائی بہنوں کی تربیت اور نکا ح وغیرہ کے فرائض اس کوادا کرنے ہوتے ہیں، شادی شدہ ہے تو بیوی کے حقوق ادا کرنے کی ذمہ داری اس کے اوپر ہوتی ہے، اب اگر ایسا انسان جس کے ذمہ بہت سے فرائض ، حقوق اور ذمہ داریاں ہوں، نشے کی لعنت میں مبتلا ہوجائے، تو نہ وہ کسی صاحب حق کا حق ادا کرنے کی پوزیشن میں رہتا ہے اور نہ اپنی کسی ذمہ داری کی انجام دہی کا اسے کوئی شعور باقی رہ جاتا ہے۔

شراب ومنشیات کے رسیا افرادکی اپنی زندگی تو اجیرن ہوتی ہے، ان کاپورا خاندان اور گھرانہ عجیب بکھراؤ کا شکار ہوجاتا ہے، اولاد ضائع ہونے لگتی ہے، تربیت کا فقدان، تعلیم سے محرومی اور مالی بد حالی انہیں بگاڑ کی راہوں پر لے جاتی ہے، اور ایک آدمی کی بے راہ روی بہت سوں کے بگاڑ کا باعث بن جاتی ہے، بوڑھے والدین اپنی اولاد کے ضائع ہونے کے المیے کو دیکھ کر آہ سرد بھرنے اور سسکنے پر مجبور ہوجاتے ہیں،سب سے زیادہ مظلوم حالت نشے بازوں کی بیویوں کی ہوتی ہے ،جوشوہر ہوتے ہوئے بھی بیواؤں سے زیادہ بدتر حال کو پہنچ جاتی ہیں، نشہ بازوں کی بیویاں اور بچے عام طور پر جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنتے ہیں اور ناقابل بیان ذہنی اور دماغی تناؤ اور الجھن کا بھی، طلاق کے ان گنت واقعات خاص طور سے دیہی علاقوں میں نشہ کی وجہ سے پیش آتے ہیں، اور اس طلاق کا راست نقصان سب سے بڑھ کر عورت اور کم سن بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے ۔

قرآن کریم نے منشیات کے سماجی نقصانات کو بطورخاص بیان فرمایا ہے کہ اس کے ذریعہ بغض و عدوات کے جذبات پیدا ہوتے ہیں، لڑائیاں اورتنازعے شروع ہوتے ہیں، زوجین کے تعلقات بگڑتے ہیں، خاندانوں کے رشتے بکھرتے ہیں ، گھر برباد ہوجاتے ہیں اور فتنہ و فساد پیدا ہوتا ہے ، یہ بدترین سماجی مضرات ہیں جن سے شرابیوں کو دوچار ہونا پڑتا ہے۔

دینی واخلاقی نقصانات:

منشیات کے بے شمار نقصانات کا سب سے اہم حصہ دینی واخلاقی نقصانات ہیں، واقعہ یہ ہے کہ نشہ سیکڑوں برائیوں اور جرائم کا سرچشمہ ہے، ایک حدیث میں ارشاد ہوا ہے:

إیاک والخمر، فإن خطیئتہا تفرع الخطایا، کما أن شجرتہا تفرع الشجر۔ (ابن ماجہ/۳۳۷۲)

شراب سے بچو، کیونکہ شراب سے برائیاں اسی طرح پھوٹتی ہیں جیسے درخت سے شاخیں پھوٹتی ہیں۔

منشیات کے استعمال کی لت انسان سے ہر گناہ کرالیتی ہے، قتل، زنا، ظلم، سب وشتم، بدزبانی، فضول گوئی، آبروریزی، دوسروں کی عزت سے کھلواڑ، فحاشی، خباثت، دناء ت، رذالت، چوری، رہزنی غرض کون سا ایسا جرم ہے جو نشے باز سے سرزد نہیں ہوتا؟ جرائم کے واقعات کاتجزیہ کیا جائے تو آدھے سے زیادہ جرائم نشے کی وجہ سے اور نشے کی حالت میں ہوتے ہیں، مختلف ممالک کے سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر جنسی جرائم اور خواتین کے ساتھ تشدد کے واقعات اسی وجہ سے پیش آتے ہیں، بیشتر ٹریفک حادثات بھی اسی بنیاد پر رونما ہوتے ہیں۔

ان نقصانات کے ساتھ قرآنی بیان کے مطابق اللہ کے ذکر اور نماز سے غفلت پیدا ہونا بھی منشیات کا منحوس اثر ہوتا ہے اور ان کے نتیجے میں ہرخیر سے محرومی انسان کا مقدر بن جاتی ہے۔

حاصل:

مذکورہ تفصیلات سے بہ خوبی واضح ہوا کہ شراب ومنشیات کی لعنت:

(۱) دین ومذہب سے بے گانہ کردیتی ہے، اوردین کو بے حدنقصان پہنچاتی ہے۔

(۲) اخلاق وکردار کو بگاڑ دیتی ہے۔

(۳) عقل و شعور سے بے گانہ کردیتی ہے۔

(۴) جسم و صحت و قوت کوناقابل تلافی ضرر پہونچاتی ہے۔

(۵)اولاد کی صحیح تربیت سے محروم اور بگاڑ کی راہوں کا مسافر بناتی ہے۔

(۶) انسان کی کرامت و عظمت کی ردا کو تار تار کردیتی ہے۔

(۷) انسان کو شیطان کا آلۂ کار بناکر اللہ کی رحمت سے دور کردیتی ہے۔

(۸)انسان کو ذلت و رسوائی کے مہیب غار میں دھکیل دیتی ہے۔

(۹) مالی اعتبار سے انسان کومفلوک الحال بنادیتی ہے۔

(۱۰) خاندانی نظام کوبکھیر دیتی ہے۔

(۱۱) عبادت سے غافل اور معاصی کا عادی بنادیتی ہے۔

(۱۲) پوری زندگی کو بے سکونی اور بے چینی کی نذر کردیتی ہے۔

(جاری)

مارچ 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau