منشیات کا بڑھتا ہوا رواج

مولانا محمد اسجد قاسمی ندوی

اسلامی شریعت کے  احکام بنیادی طور پر جن پانچ مقاصد پر مبنی ہیں ان میں دین،جان، نسل اور مال کی حفاظت کے ساتھ عقل کی حفاظت بھی شامل ہے، عقل اور فکر و نظر کی قوت کو باقی اور توانا رکھنا اور اسے ہمہ نوعی نقص و خلل سے محفوظ رکھنا اسلام کے اساسی مقاصد میں سے ہے۔شراب، منشیات اور  نشہ آور چیزوں کے استعمال کو شریعت اسلام میں حرام، ناپاک اور مہلک اس لئے بتایا گیا ہے کہ اس کے ذریعہ انسان انسانیت کے جامے سے باہر آجاتا ہے اور پھر وہ سب کچھ کر گذرتا ہے جس سے انسانیت اور شرافت شرم سار ہوجائیں ، ہمارے موجودہ سماج میں منشیات کا استعمال تیزی سے بڑھتا جارہا ہے اور خاص طورپر نوجوانوں کا طبقہ اس لت میں بری طرح مبتلا ہوتا جارہا ہے، صورت حال اس قدر تشویش ناک ہے کہ ہزارہا ہزار گھر تباہی کے دہانے پر ہیں، خاندان بکھر رہے ہیں، طلاق کی شرح بڑھتی جارہی ہے، اخلاقی بے راہ روی عام ہوگئی ہے، اور امت کے مستقبل کے معمار جوان اپنا سب کچھ داؤں پر لگاتے جارہے ہیں اور انہیں اپنے طرز عمل کی ہولناکی اور سنگینی کا احساس تک نہیں ہے۔

تمام میڈیکل تحقیقات شراب اور دیگر منشیات کے ضررر ساں اور ہول ناک نتائج و اثرات پر متفق ہوچکی ہیں، سماج میں آدھے سے زیادہ جرائم شراب کے استعمال کے نتیجے میں ہوتے ہیں، اسی لئے اسلام نے جو بہ ہمہ وجوہ فطرت سلیمہ سے ہم آہنگ ہے، شراب پر بندش لگائی ہے، چوں کہ اس وقت کا عرب معاشرہ شراب نوشی میں آخری حد تک غرق تھا، اس لئے قرآن کریم میں بتدریج کئی مرحلوں میں شراب کو حرام قطعی قرار دیا گیا ہے۔

’’پہلے مرحلے میں شراب و نشہ کو اشارۃً خراب اور قبیح چیز(رزق غیر حسن) بتایا گیا۔‘‘ (النحل /۶۷)

’’ دوسرے مرحلے میں شراب و نشہ میں بڑی خرابی(اثم کبیر) کا ذکر کر کے اس کے نقصانات کی کثرت کو بیا ن کیا گیا اورناپسندیدگی کا اظہار کیاگیا۔‘‘(البقرۃ/۲۱۹)

’’تیسرے مرحلے میں نشے کی حالت میں نماز نہ پڑھنے کا حکم آیا۔‘‘(النساء/۴۳)

مے نوشی کے مضر اثرات ان تین مرحلوں کے ذریعہ دلوں میں راسخ کئے جانے کے بعد قرآن نے اگلے مرحلے میں اسے قطعی طور پرحرام قرار دے دیا اورصاف فرمادیا:

یاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۝۹۰ اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاۗءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہِ وَعَنِ الصَّلٰوۃِ۝۰ۚ فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ۝۹۱ وَاَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰي رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ۝۹۲

’’اے ایمان والو! شراب، جوا، مورتیاں اور جوئے کے تیر یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں، لہذا ان سے بچو ، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو، شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض کے بیج ڈال دے ، اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے، اب بتاؤ کہ کیاتم ان چیزوں سے باز آجاؤ گے؟ اور اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول کاکہنامانو اور نافرمانی سے بچتے رہو، اور اگر تم اس حکم سے منہ موڑوگے توجان رکھو کہ ہمارے رسول پر صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صاف صاف طریقے سے اللہ کے حکم کی تبلیغ کردیں۔‘‘

ان آیات میں انتہائی حکیمانہ اور قطعی انداز میں مختلف الفاظ واسالیب کے ذریعہ شراب کی حرمت اور شناعت و قباحت آشکارا فرمائی گئی ہے۔

(۱) شراب کی حرمت کو بت پرستی کے ساتھ ذکر فرمایا گیا ، گویا یہ برائی شرک کے مماثل ہے، چنانچہ ایک حدیث میں فرمایا گیا:

’’شراب کا عادی مجرم بت پرست کی مانند ہے۔‘‘

(۲)اسے نجاست و پلیدی قرار دیا گیا۔(۳) اسے شیطانی عمل بتایا گیا۔(۴) اس سے بالکلیہ اجتناب ضروری قرار دیا گیا۔(۵) اس سے اجتناب کو فلاح کا ذریعہ بتایا گیا۔(۶) اس کی حرمت کا سبب واضح کیاگیا کہ اس سے باہم عداوت و نفرت پیدا ہوتی ہے۔

(۷) واضح کیا گیا کہ نشے کا عادی بناکر شیطان تم کو اللہ کی یاد اور نماز سے غافل کرتا ہے۔

(۸)اللہ نے زجر و توبیخ کے انداز میں فرمایا ہے کہ جب شراب کی لعنت اتنی خرابیوں کا مجموعہ ہے توکیا پھر بھی تم اس سے باز نہیں آؤگے؟

(۹)اللہ و رسول کی اطاعت فرض ہے اور اس کا تقاضا شراب و نشہ سے مکمل گریز ہے۔

(۱۰) سختی سے فرمادیا گیا کہ یہ حکم الٰہی ہے، اس سے اعراض کروگے تو نتیجے کے ذمہ دار خود ہوگے، رسول کے ذمے حق پہونچانا ہے، وہ پہونچا چکے، ماننا تمہارے ذمے ہے ، نہیں مانو گے توخود نقصان اٹھاؤ گے۔

جب شراب کی حرمت کا یہ قطعی حکم شریعت کی طرف سے آیا تھا تو یک لخت تمام صحابہ نے شراب چھوڑدی تھی، مدینہ کی گلیوں میں شراب کے مٹکے توڑدیئے گئے، سڑکوںپر شراب بہا دی گئی، چونکہ ان آیات میں بیداریٔ ضمیر کے لئے اور فطرت انسانی کوسلامت رکھنے کیلئے امتحاناً یہ سوال بھی اللہ نے کیا ہے کہ کیا اب بھی تم اتنی بری اور ناپاک شیطانی لعنت سے باز نہیں آؤگے؟ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے یہ سن کر فرمایا تھاکہ: اے پروردگار: ہم بازآگئے ، اب ہم کبھی شراب کے قریب بھی نہیں جائیں گے۔

احادیث کی صراحت

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و فرمودات میں شراب، نشہ اور منشیات میںمشغول افراد کے لئے لعنت اور قباحت اور وعید کے الفاظ کثرت و صراحت کے ساتھ ملتے ہیں، ذیل میں چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں:

شراب نوشی ایمان کے نور سے محرومی ہے

ارشادنبوی ہے :

’’شرابی شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا۔‘‘

چنانچہ جو شخص شراب کو جائز سمجھ کر پیتا ہے وہ واقعی ایمان سے خارج ہوجاتا ہے، اور جو حرام سمجھتا ہے پھر بھی پیتا ہے وہ ایمان کے کمال سے محروم ہوجاتا ہے، اور من جانب اللہ نور ایمان اس سے سلب کرلیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طاعات سے اس کی طبیعت اچاٹ اور معاصی کی طرف راغب ہوجاتی ہے، پھر اس کا تعارف صاحب ایمان اورنیک انسانوں کے بجائے مے نوش او رشرابی کے لقب سے ہونے لگتا ہے، اور پھر اگر مے نوشی کی یہ عادت لت بن جائے توانجام کارایمان و یقین سے محرومی کا ذریعہ ہوجاتی ہے، انہیں تمام حقائق کو زبان نبوت میں اس بلیغ ، جامع اور مختصر تعبیر میں بیان کردیا گیاہے کہ مے نوش حالت مے نوشی میں مومن نہیں رہتا۔

شراب تمام فواحش اور خبائث کی جڑ اور اصل ہے

ارشاد نبوی ہے:

’’شراب مت پیو، اس لئے کہ وہ شر کی کنجی ہے۔‘‘

حضرت عثمان غنیؓ کا ارشاد ہے:

’’شراب سے بچو ، وہ ہر گناہ کی جڑ ہے، پچھلی امتوں میں ایک عبادت گزار آدمی تھا جو عورتوں سے بالکل الگ رہتا تھا، ایک بدکار عورت اس کے پیچھے لگ گئی، اور اس نے اپنی باندی کواس کے پاس بھیجا اور کہلوایا کہ ایک معاملہ میں گواہی کے لئے آپ کی ضرورت ہے،اور اس بہانے سے اس شریف آدمی کو گھر کے اندر لے گئی، دروازہ بند کردیا، وہ عورت خود بے انتہا خوبصورت تھی،اس کمرے میں شراب کامٹکا بھی تھا، اور ایک کم سن بچہ بھی تھا، عورت نے اس عابد سے کہا کہ اگرتم نجات اور رسوائی سے بچاؤ چاہتے ہو تو تین کاموں میں سے ایک کام کرنا ہوگا: (۱) یا تو شراب کا جام پیو (۲) یا اس بچے کوقتل کرو(۳) یازنا کرو، اس عابد نے زنااور قتل کو زیادہ سنگین اور شراب کو نسبتہً کم خطرناک سمجھ کر شراب پینا منظور کرلیا، شراب کا ایک جام پی کر ایسا مست ہوا کہ پھر جام پر جام پیتا چلا گیا، اور نشہ اس قد ر چھا گیا کہ پھر بچے کو بھی قتل کیا اور زنا بھی کیا، شراب کی عادت انسان کو اسی طرح رسوا کرتی ہے اور بسا اوقات ایمان سے بھی محروم کردیتی ہے۔‘‘

معلوم ہوا کہ شراب اور نشے کی لعنت بدکاری کا زینہ ہے، موجودہ دور میں حرام کاری اور بے راہ روی کا ایک مؤثر ذریعہ شراب نوشی اور نشہ آور چیزوں کے استعمال کا بڑھتا ہوا رجحان ہے، شراب نوشی ایک متعدی جرم ہے، یہ دوسرے بے شمار جرائم کا سبب بنتی ہے، یہ انسان کی عائلی زندگی کو ملیا میٹ کرڈالنے والی چیز بھی ہے، شراب کے رسیا افراد کی ازدواجی زندگی جہنم بن جاتی ہے، ایسے لوگ خود بھی جنسی بے راہ روی میں مبتلا ہوتے ہیں، بسا اوقات ان کے اہل و عیال بھی اسی راہ پر چل پڑتے ہیں اسی لئے شریعت نے اسے ام الخبائث( تمام برائیوں کی جڑ اور اصل) قرار دیا ہے، ایک حدیث میں الفاظ ہیں:

’’شراب تمام بے حیائیوں کی اصل اور بڑے گناہوں میں بدترین گنا ہ ہے، اور جس نے اسے پیا، ممکن ہے کہ وہ اپنی ماں، خالہ اور چچی کے ساتھ بری حرکت کر بیٹھے۔‘‘

واقعہ یہی ہے کہ شراب کا نشہ انسان کو عقل سے اس طرح محروم کردیتا ہے کہ اس میں خیر و شر، اچھے برے، حتی کی بیوی اور بہن تک میں امتیاز کی صلاحیت باقی نہیں رہ جاتی۔

منشیات کے فروغ میں کسی بھی نوع کی حصہ داری ملعون حرکت ہے

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف شراب کو حرام اور نجس قرار دینے پر اکتفا نہیں فرمائی ہے، بلکہ اس سے کسی بھی نوع کا تعلق رکھنے اور اس کے فروغ و اشاعت میں کسی بھی طرح کی شرکت کو قابل لعنت جرم قرار دیا ہے، امام ابن ماجہ نے مستقل باب ذکر فرمایا ہے۔

اور یہ حدیث ذکر کی ہے:

’’دس طریقوں سے شراب کو ملعون قرار دیاگیا ہے:(۱) بذات خود شراب (۲) شراب بنانے والا (۳) شراب بنوانے والا (۴) شراب فروخت کرنے والا (۵) شراب خریدنے والا (۶) شراب اٹھاکر لے جانے والا(۷) جس کی طرف اٹھاکر شراب لے جائی جائے (۸) شراب کی قیمت کھانے والا (۹) شراب پینے والا (۱۰) شراب پلانے والا۔‘‘چنانچہ شراب نوشی، اس کی خرید و فروخت، شراب کے کارخانے میں کسی بھی طرح کا عمل سب حرام قرار دے دیا گیا ہے، اور حرمت کے ساتھ شراب کی ناپاکی اور جسم یا لباس پر لگ جانے کی صورت میں ان کا دھونا ضروری ہونا بھی متفق علیہ مسئلہ ہے، بلکہ روایات میں یہاں تک آیا ہے:

’’جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو و ہ ہرگز ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جہاں شراب کادور چل رہا ہو۔‘‘

اس حدیث پاک پر غور فرمایا جائے کہ زبان نبوت سے کس طرح شراب کے تعلق سے نفرت اور کراہیت کی تخم ریزی اہل ایمان کے ذھنوں میں کی جارہی ہے، اور ایسے ہوٹلوں، مقامات ، پروگراموں اور تقریبات میں حصہ لینے پر بندش لگائی جارہی ہے جہاں شراب علانیہ طور پر پلائی جاتی ہے اوراس کا دور چلتا ہے، اس ارشاد نبوی کی معنویت معاصر حالات میں ہرعام و خاص کے سامنے بہت نمایاں ہوکر آگئی ہے کہ فضائی سفر ہو یا زمینی ، تقریبات ہوں یا پروگرام، شراب اور اس کے متعلقات کی لعنت ہرطرف نظر آتی ہے۔

شراب گمراہی کا  بڑا ذریعہ ہے

روایات میں وارد ہوا ہے کہ شب معراج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوپیالے لائے گئے،ایک شراب کا، دوسرا دودھ کا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ لے لیا، اس پرحضرت جبریل نے فرمایا:

’’اللہ کا شکر ہے کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا، اگر آپ شراب کا پیالہ لے لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہوجاتی۔‘‘

اس سے واضح ہوتاہے کہ شراب خلاف فطرت چیز ہے، اور اس راستے سے گمراہی بہت جلد اپنی جگہ بناتی ہے۔

شراب نوشی کی ہولناک اخروی سزائیں

احادیث میں جابجا شراب نوشی کی بدترین اخروی سزاؤں کا ذکر آیا ہے، ایک حدیث میں تو یہاں تک فرمایا گیا :

’’جو شراب کا عادی توبہ کئے بغیر مرجائے گا، اللہ اس کو غوطہ کا پانی پلائے گا، یہ وہ نہرجس میں بدکار عورتوں کی شرمگاہوں کا لہو بہتا ہے، شرابیوں میں اس قدر بدبو ہوگی کہ اس سے اہل جہنم بھی پریشان ہوجائیں گے۔‘‘

مزید فرمایا گیا کہ اللہ نے اپنے ذمہ ضروری کرلیا ہے کہ جو شخص دنیا میں نشہ آور چیز استعمال کرے ، اس کو قیامت میں اہل جہنم کی پیپ پلائی جائے گی۔( ابوداؤد)

ارشاد نبوی ہے:

’’شراب کاعادی مجرم جنت میں (بغیر سزا بھگتے) داخل نہیں ہوسکے گا۔‘‘

اور

’’جو دنیا میں شراب نوشی کرے گا، اور توبہ نہیں کرے گا، وہ آخرت کی شراب طہورسے محروم رہے گا۔‘‘

نشہ آور چیزوں کے استعمال کے ساتھ نمازیں قبول نہیں ہوتیں

حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:

’’جس نے شراب پی اور نشہ آیا، اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں، اگر اسی حال میں مرجائے توجہنم میں جائے گا اور اگر توبہ کرلے تواللہ معاف کردے گا، اگردوبارہ پیئے اور نشہ آجائے توپھر چالیس دنوں کی نمازیں قبول نہیںہوں گی اور توبہ کے بغیر موت آئی تو جہنم میں جائے گا،ہاں اگر توبہ کرے گاتو اللہ تو بہ قبول فرمالے گا، پھر اگر سہ بارہ پیئے اور نشہ آجائے تو اللہ چالیس دنوںکی نمازیں قبول نہیں فرمائے گا، اگر اسی حال میں مرے گا تو جہنمی ہوگا، اور اگر توبہ کرے گا تو اللہ رحم فرمائے گا، اور اگر پھر یہ حرکت کی تواللہ لازمی طور پر اس کو دوزخیوں کے جسم سے نکلنے والالہو اور پیپ پلاکر رہے گا۔‘‘

شراب اور منشیات کے مضر اثرات

شراب اور نشے کی لعنت انسان کو چوطرفہ نقصانات سے دوچار کرتی ہے اورتباہ و برباد کرڈالتی ہیں، اس لعنت کے منحوس اثرات اور مضرات بے انتہا ہیں، ذیل میں چند کا ذکر کیا جاتا ہے :

جسمانی نقصانات

میڈیکل سائنس باتفاق رائے یہ طے کر چکی ہے کہ شراب ونشہ ایک سست رفتار زہر ہے، اور اس سے انسان کا بدن کھوکھلا ہوتا چلا جاتا ہے اور تیزی سے انسان کے قدم موت کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں، منشیات کا سب سے بڑا ضرر انسان کی صحت اور جسم و قوت کو پہونچتا ہے، واضح رہنا چاہئے کہ انسان کی زندگی، صحت، جسم اور طاقت اس کی اپنی ملکیت نہیں، بلکہ اس کے پاس اللہ کی امانت ہیں، اس امانت میں خیانت کسی بھی صورت جائز نہیں ہے، اسی لئے قرآن نے فرمایا ہے:                                (جاری)

فروری 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau