اسلامی تمدن کا قلب

(عالم اسلام کی ارضی سیاسیات، تمثیلوں کی زبان میں)

محمد المختار الشنقیطی | ترجمہ: ڈاکٹر محی الدین غازی

مضمون نگار مشہور اسلامی ماہر سیاسیات ہیں، یہ مضمون ان کی کتاب ‘الأزمة الدستورية في الحضارة الإسلامية’ (اسلامی تمدن میں آئینی بحران) سے ماخوذ ہے۔ کتاب کا ترجمہ جلد ہی منظر عام پر آنے والا ہے۔ (مترجم)

 

اس کتاب میں عالم اسلام کی عربی، ترکی اور فارسی خطوں پر ارتکاز رہا ہے اور یہ دعوی کیا گیا ہے کہ عالم اسلام کا مستقبل ان حالات سے وابستہ ہے جو ان خطوں میں پیش آرہے ہیں۔

کوئی اعتراض کرسکتا ہے کہ عالم اسلام تو ان خطوں سے بہت بڑا اور وسیع تر ہے، بلکہ وہ اسلامی ممالک جو سب سے زیادہ آبادی والے ہیں ان خطوں سے باہر ہیں۔ یہ سوال بجا ہے اور یہ اعتراض قابل لحاظ ہے، لیکن یہ سوال و اعتراض آبادیات (ڈیموگرافی) کے تصور سے پیدا ہوئے ہیں، جب کہ ہماری گفتگو کا محور سیاسی تاریخ اور سیاسی جغرافیہ ہے۔ سیاسی تاریخ اور سیاسی جغرافیہ کی منطق سے عربی ترکی فارسی علاقہ عالم اسلام کا قلب قرار پاتا ہے۔

جہاں تک سیاسی تاریخ کی بات ہے، اس کے شواہد میں یہی بات کافی ہے کہ عالم اسلام پر مرکزی حکمرانی عرب علاقے سے ہوئی ہے یا پھر اناضول سے۔ نبوت اور خلافت راشدہ اور اموی و عباسی سلطنتوں کا مرکز عرب علاقے میں تھا (مدینہ منورہ، پھر دمشق، پھر بغداد)، پھر عثمانی سلطنت کا مرکز اناضول (استنبول) میں رہا۔ ایران میں سلجوقی سلطنت کا بیج پھوٹا، جس نے عالم اسلام کے قلب پر تسلط قائم کیا اور اسی میں صفوی سلطنت کا جنم اور جلوہ ہوا، جو عثمانی مرکزی حکومت کی سب سے طاقت ور حریف تھی۔ یہ ماضی کے حقائق ہیں، جن کے اثرات ابھی تک جاری ہیں۔ یہ حقائق عرب، ترکی اور ایران کو دل کی پوزیشن دیتے ہیں، جو عالم اسلام کے سیاسی مستقبل کے خطوط متعین کرے۔

سیاسی جغرافیہ کی منطق اس امر کو اور زیادہ واضح کردیتی ہے۔ اس سلسلے میں ہم سیاسی جغرافیہ کے دو عظیم معاصر ماہرین کے افادات سے فائدہ اٹھائیں گے۔ جغرافیہ کے مصری ماہر جمال حمدان اور ترکی کے سیاسی مفکر احمد داؤد اوغلو۔ شاید معاصر مسلم مفکرین میں یہ دونوں یکتا مفکر ہیں جنھوں نے اسلامی سیاسی جغرافیہ کے سلسلے میں باہم مربوط تصور پیش کیا ہے۔

جمال حمدان نے نوٹ کیا کہ عالم اسلام اپنی جغرافیائی صورت میں ایک ہلال ہے “جس میں ایک قلب ہے اور دو بازو ہیں”[1] یہ ہلال جنوب ایشیا سے شمال افریقہ تک محیط ہے۔ “افریقہ میں دار اسلام پہلے درجے میں اس کے شمالی نصف پر مرکوز ہے، جب کہ ایشیا میں جنوبی نصف پر ہے”[2] اور اس ہلال کے محیط کے باہر “خط استوا کے جنوب میں کچھ ثانوی درجے کی انگلیاں اور کنارے ہیں، نیز نئی دنیا میں وہ ادھر ادھر بکھری ہوئی مدھم چنگاریاں ہیں۔”[3] اسی طرح کی بات عالم اسلام کے قلب سے دور ایشیا کے بعض دور کے ملکوں، جیسے بنگلہ دیش اور انڈونیشیا پر صادق آئے گی، گوکہ ان دونوں ملکوں کا آبادیاتی وزن بہت زیادہ ہے۔

جہاں تک عالم اسلام کے قلب کی بات ہے، تو حمدان کے بقول وہ عالم عرب میں ہے، جو “اسلام کے لیے ایٹمی تخم” اور “اہل اسلام کے لیے مقناطیسی قطب” ہے۔[4] وہ ” تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے اسلام کا چشمہ اور اس کا فوارہ ہے۔”[5] اور رہے ہلال کے دونوں بازو تو وہ مشرق میں جنوبی ایشیا اور مغرب میں شمالی افریقہ تک پھیلے ہوئے ہیں۔

عالم اسلام میں عالم عرب کی مرکزیت کا سبب عربوں کی اسلامی یا انسانی خانوادے کے دوسرے افراد پر برتری نہیں ہے، بلکہ اس کا سبب دیگر دینی اور ثقافتی عوامل ہیں، جن کا تعلق تاریخ اور جغرافیہ سے ہے، جن میں سے اہم پہلو یہ ہے کہ بلاد عرب ہی “عقیدے کا گہوارہ اور مقدس مقامات کا مخزن ہے”[6] (مکہ، مدینہ اور قدس)، اس کے علاوہ عربی زبان کا اسلامی وحی سے جان و قالب کا تعلق ہونا بھی ایک سبب ہے۔ عربی زبان “ایسا عنصر ہے جو خود عربوں کی بہ نسبت اسلام سے زیادہ ربط اور گہرا تعلق رکھتا ہے” جیسا کہ جمال حمدان نے درست مشاہدہ کیا۔[7] یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ دل ہمیشہ جسمانی صحت اور قوت کا سرچشمہ نہیں رہتا ہے، بلکہ کبھی بیماری اور کم زوری بھی وہیں سے نکلتی ہے۔ عالم اسلام کا دل بھی اس سے مستثنی نہیں ہے۔

لیکن جو شخص بھی اس سیاسی جغرافیہ پر غور کرے گا جس کی تصویر جمال حمدان نے پیش کی ہے، وہ بعض تفصیلات کو گم شدہ پائے گا، جن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ حمدان نے قد آور اسلامی پرندے کو سر کے بغیر ہی چھوڑ دیا، حالانکہ نقشے پر تو ترکی کو اس دل اور دو بازو والے پرندے کے جسم میں سر کی جگہ ملتی ہے۔ اس حیران کن حذف کا سبب ترکوں کے خلاف جمال حمدان کی عربی قومیت والی جانب داریوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ مخالف جانب داریاں ہم ان کے یہاں اس وقت بہت صاف اور واضح طور پر پاتے ہیں جب وہ عثمانی سلطنت کی تاریخ کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ مثلاً جب عربوں کا اسلامی ریاست پر حکومت کرنا زیر گفتگو ہوتا ہے، تو حمدان اسے “حریت پسند سلطنت” قرار دیتے ہیں”[8]، وہی حمدان عالم اسلام پر ترکی حکمرانی کو عالم عرب پر ایک قسم کا “دینی استعمار” قرار دیتے ہیں۔ حمدان کا دعوی ہے کہ “ترک اسلامی مذہب کا بھیس اختیار کرکے اور اس کی نقاب اوڑھ کر آئے”[9] اس کے ساتھ ہی ان کا یہ گمان بھی ہے کہ “ترکی استعمار” عربوں کے لیے “بانجھ استعمار تھا، نتیجوں کے اعتبار سے بھی اور کارناموں کے اعتبار سے بھی”[10]

اگر حمدان انصاف سے کام لیتے تو یہ ضرور تسلیم کرتے کہ اسلام کی پیش قدمی کے مرحلے میں عرب اسلام کی تلوار بنے اور اسلام کے دفاع کے مرحلے میں اسلام کی ڈھال ترک بنے، یہ دونوں قومیں (اور دیگر مسلم اقوام بھی) اسلامی تمدن میں اپنا اپنا حصہ رکھتی ہیں۔ اس حقیقت کا ادراک کرنے کے لیے اتنا کافی ہے کہ انصاف پسند شخص اس بیان پر غور کرلے جو ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں اس تعلق سے درج کیا ہے کہ جب عربوں کا اقتدار کم زور ہوگیا تو اسلامی تمدن کی سرحدوں کی حفاظت میں اور اس کی شادابی کو نئی تازگی عطا کرنے میں ترکوں کا کیا کردار تھا۔رہا استعمار اور آزادی کے معاصر مقولوں کو قدیم اسلامی سلطنت پر، جو مختلف اقوام پر مشتمل تھی چسپاں کرنا، تو یہ درست رویہ نہیں ہے اور جمال حمدان کی سطح کا عبقری مفکر اس کا ارتکاب نہیں کرسکتا تھا، اگر قومی عصبیت کار فرما نہیں ہوتی، جس نے بہت سے معاصر عربوں اور ترکوں کو وہ دینی اور تاریخی رشتے دیکھنے سے محروم کردیا جو ان کے درمیان پائے جاتے ہیں۔

دل اور دو بازو والے نظریے کے ذریعہ عالم اسلام کے جغرافیہ کو معنویت عطا کرنے کے لیے حمدان کے احسان کا اعتراف ہمیشہ کیا جائے گا۔ البتہ (دقیق تر عکاسی اور زیادہ انصاف کے ساتھ) کہا جاسکتا ہے کہ عالم اسلام کا سیاسی جغرافیہ پرندے کی شکل کے ایک بہت قد آور جسم سے عبارت ہے۔ اس قد آور جسم کا ایک سر ہے جو ترکی ہے، ایک دل ہے جو جزیرہ عرب، شام اور عراق ہے، دایاں بازو ہے جو مشرق کی طرف ایران سے شروع ہوتا ہے اور بایاں بازو ہے جو مغرب کی طرف مصر سے شروع ہوتا ہے۔[11]

یہاں ہم جمال حمدان کو چھوڑتے ہوئے احمد داود اوغلو کی طرف چلتے ہیں، جنھوں نے عالم اسلام کے قلب کے سیاسی جغرافیہ کو تجزیاتی معنویت دینے کی کوشش کی، ان کے یہاں اسلام کا قلب مشرق وسطی کا علاقہ ہے، جو ترکی، مصر، شام، عراق، جزیرہ عرب اور ایران پر مشتمل ہے۔ داود اوغلو کا خیال ہے کہ “مشرق وسطی کا علاقہ اپنے بہت اہم اسٹریٹیجک محل وقوع کی وجہ سے، روحانی اور مادی دونوں سطح پر اپنے اندر انسانی تاریخ کے اساسی خطوط رکھتا ہے۔”[12]

یہ وہ خطہ ہے جو قد آور اسلامی پرندے کی کشش کا مرکز بنتا ہے۔ داود اوغلو کا ماننا ہے کہ مشرق وسطی کا علاقہ تین مثلثوں پر مشتمل ہے: بڑا، درمیانی اور چھوٹا۔ بڑا مثلث ترکی، مصر اور ایران ہے، اس کے اندر درمیانی مثلث ہے جو سعوی عرب، عراق اور شام سے بنتا ہے۔ درمیانی مثلث کے اندر چھوٹا مثلث ہے، جو اردن، لبنان اور فلسطین سے تشکیل پاتا ہے۔ سیاسی جغرافیہ کا جو نقطہ نظر داود اوغلو نے اختیار کیا ہے اس کے لحاظ سے تینوں مثلثوں میں سب سے اہم سب سے بڑا مثلث ہے، یعنی ترکی ایران اور مصر کا مثلث، جو تاریخی اور جیو سیاسیات کے پہلو سے ان قوتوں کے توازن کے لیے مرکزِ ثقل بنتا ہے، جو مشرق وسطی کی گھیرا بندی کیے ہوئی ہیں۔”[13]

داود اوغلو کے یہاں جانب داری جمال حمدان سے کم ہے اور وہ خطے کی تمام اقوام کوسموئے ہوئے مشترک ماضی اور مشترک انجام کا زیادہ گہرا ادراک رکھتے ہیں۔ انھوں نے خطے کی اقوام کو تین باتوں کی نصیحت کی: “ایک دوسرے کے خلاف اکٹھا ہوئے نفسیاتی جذبات کے ملبے کے ڈھیر سے آگے بڑھ جائیں، خطے کے مشترک انجام کا شعور گہرا اور مستحکم کریں اور عالمی اتار چڑھاؤ کی اثر اندازیوں سے اپنے باہمی تعلقات کو محفوظ رکھیں’’[14] یہی وہ خلاصہ ہے جس تک جاسم سلطان دوسرے راستے سے پہونچے۔ انھوں نے  عرب، ایران اور ترک کے مثلث کو۔اس خطے  کی‘ تاریخی بنُاوٹ’ (texture)  قرار دیا‘‘[15] یہ تاریخی  بُناوٹ جب تعاون اور تنظیم سے ہم کنار ہوتی ہے، تو یہ خطہ سمندر پار کی قوتوں کے مقابلے میں حفاظتی حصار حاصل کرلیتاہے اور جب ٹھیک جوڑ نہیں بیٹھ پاتا تو وہ اپنی ہی ذات پر پلٹ جاتا ہے اور اسے تباہ کردیتا ہے، انجام کار اسے بیرون سے آنے والوں کے سامنے سرنگوں ہونا پڑتا ہے، جیسا کہ صلیبیوں کے سامنے ہوا یا بڑے تاتاری حملے میں میدان کے پیچھے سے آنے والوں کے سامنے ہوا۔”[16]

داود اوغلو اور جاسم سلطان نے جو تجویز دی ہے وہ ایک ولولہ آفریں پروگرام ہے۔ اس کے بغیر اس خطے کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ لیکن اس کے راستے میں ہنوز متعدد رکاوٹیں ہیں، جن میں قومی جانب داریاں ہیں جو تبادلے میں ہر فریق کی طرف سے ظاہر ہوتی ہیں، بین الاقوامی نفوذ ہے جو ہر اس ہم آہنگی میں رکاوٹ ڈال دیتا ہے جو خطے کے اہم عناصر کے درمیان ہوسکتی ہے، نیز سیاسی انا ہے جس کا سبب یہ ہے کہ اہل استبداد کے ہاتھوں میں معاملات کی زمام ہے۔ اور شاید ان اہم رکاوٹوں میں اس رکاوٹ کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے جو داود اوغلو کے الفاظ میں ایران کا “اپنے خول میں بند ہونے کی اسٹریٹجی کے کنویں میں”[17] سمٹ جانا ہے۔ درحقیقت وہ صرف اپنے خول میں بند ہونا نہیں ہے، بلکہ سیاسی توسیع پسندی اور مسلکی خول پسندی کا ایک ملغوبہ ہے، جو تضاد کی ایک خطرناک صورت حال بن گیا ہے۔ اس نے ایران کو اور پورے خطے کو بہت نقصان پہونچایا، نیز عالم اسلام میں ایران کی تاریخی پوزیشن کو چھوٹا کردیا، حالانکہ وہ قد آور اسلامی پرندے کے دائیں بازو کے قلب میں واقع ہے اور اس میں جو کچھ بھی ہوگا (وہ روشن ہو یا تاریک) اسلامی تمدن کے سیاسی عواقب کو طے کرنے والے اہم عوامل میں رہے گا۔

بہرحال، ہمیں سیاسی جغرافیوں کے ان تجزیوں سے دلچسپی اس لیے ہے تاکہ اسلامی تمدن کے آئینی بحران کا مطالعہ کرتے ہوئے عالم عرب، ترکی اور ایران پر ہمارے ارتکاز کا سبب واضح ہوجائے۔ واضح رہے کہ ہم اسلامی تمدن کو عالم عرب، ترکی اور ایران میں سمیٹ نہیں رہے ہیں۔ لیکن ہمیں اس کا ادراک ہے کہ ترکی اسلامی سیاسی جغرافیہ کے سر کے علاقے میں ہے اور عالم عرب عالم اسلام کے سینے اور بائیں بازو کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ وہ اسلام کا روحانی اور ثقافتی دل ہے۔ ایران عالم اسلام کے دائیں بازو کے قلب میں واقع ہے اور اگر وہ مسلک کے خول میں بند نہ ہوجاتا تو عالم اسلام کے مستقبل میں نمایاں مقام کا امیدوار ہوسکتا تھا۔ یہ تاریخی اور جغرافیائی حقائق آخری برسوں میں پیش آنے والی عرب بہار اور ترکی کے سیاسی ارتقا کو ایک بڑی قدر value عطا کرتے ہیں، ورنہ وہ محض ایک محدود سیاسی واقعہ رہ جاتا ہے جو عربی اور ترکی بولنے والوں تک محدود رہتا ہے یا پھر عرب ملکوں اور ترکی کی شہریت رکھنے والوں تک۔

ہم سے پہلے صمویل ہنٹنگٹن نے اسلامی تمدن میں ہونے والی ہر گہری سیاسی تبدیلی میں عالم عرب اور ترکی کے مرکزی کردار کا ادراک کیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ کچھ بڑے اسلامی ملک (جیسے انڈونیشیا) اسلامی تمدن میں مرکزی ملک نہیں بن سکتے، کیوں کہ وہ “عالم اسلام کے کناروں پر ہیں، اس کے عربی مرکز سے دور”[18] جب کہ اس نے ترکی کو اس کے لیے اہل پایا۔ ہنٹنگٹن کا یہ خیال درست ہے۔ ترکی عالم اسلامی کے قلب میں واقع ہے اور وہ اس کے عربی قلب سے مکانی اور وجدانی پہلوؤں سے قریب ہے، بلکہ وہ تو جیسا کہ ہم نے دیکھا، اسلامی سیاسی جغرافیہ کے سر کے مقام پر ہے۔ عالم عرب (قرآن کی زبان اور مقامات مقدسہ سے تعلق کی بنا پر) عالم اسلام کا ثقافتی قلب ہے اور ترکی (اس طور سے کہ وہ آخری اسلامی سلطنت کا گہوارہ رہا ہے) عالم اسلامی کا ادارہ جاتی قلب ہے۔

ترکی نے عرب بہار کے زمانے میں ہی اپنی خاص انقلابی بہار دیکھی، جب مئی ۲۰۱۶ کے وسط میں ایک عوامی جست نے ترکی کے جمہوری نظام کے خلاف ہونے والی فوجی بغاوت کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ترکی بہار زمانے اور اشارے کے لحاظ سے عرب بہار کی ہم زاد ہے۔ دونوں کے بیچ بنیادی فرق یہ ہے کہ ترکی قوم نے چند گھنٹوں میں وہ کچھ حاصل کرلیا، جو عرب قومیں کئی سال گزر جانے کے بعد بھی اب تک حاصل نہیں کرسکی ہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ترکی میں انقلاب کے لیے درکار اجتماعی شرطیں اور سیاسی ثقافت بالیدہ ہوچکی ہے، جب کہ عالم عرب کا حال ابھی اس سے یکسر مختلف ہے۔

حواشی و حوالہ جات

جمال حمدان، العالم الإسلامي المعاصر (القاهرة: مطبعة المدني، 1971)، 20.

حمدان، العالم الإسلامي المعاصر، 20.

حمدان، العالم الإسلامي المعاصر، 20.

حمدان، العالم الإسلامي المعاصر، 26.

حمدان، العالم الإسلامي المعاصر، 51.

حمدان، العالم الإسلامي المعاصر، 26.

حمدان، العالم الإسلامي المعاصر، 62.

جمال حمدان، استراتيجية الاستعمار والتحرير (بيروت: دار الشروق: 1983)، 26.

حمدان، استراتيجية الاستعمار والتحرير، 46.

حمدان، استراتيجية الاستعمار والتحرير، 45.

جن لوگوں کا دھیان پرندے کی شکل میں اس جغرافیائی ڈھانچے اور سر کی جگہ ترکی کے ہونے کی طرف کی طرف گیا، ان میں جاسم سلطان ہیں، دیکھیں: الذاكرة التاريخية: نحو وعيٍ استراتيجي بالتاريخ (المنصورة: أم القرى، 2007)، 137.

أحمد داود أوغلو، العمق الإستراتيجي: موقع تركيا ودورها في الساحة الدولية، ترجمة محمد جابر ثلجي وطارق عبد الجليل (الدوحة: مركز الجزيرة للدراسات، 2011)، 157.

داود أوغلو، العمق الإستراتيجي، 471.

أحمد داود أوغلو، العمق الإستراتيجي، 450.

جاسم سلطان، الجغرافيا والحلم العربي القادم (بيروت: تمكين للأبحاث النشر، 2013)، 166.

سلطان، الجغرافيا والحلم العربي، 166.

داود أوغلو، العمق الاستراتيجي،43.

Samuel, Huntington. The clash of civilizations. 1993

فروری 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau