جدید دور کی اخلاقی و قانونی رکاوٹوں کے باوجود، اسرائیل بے روک ٹوک نسل کشی کر رہا ہے اور ہم اس خوں ریزی کو ہوتے ہوئے دیکھنے پر مجبور ہیں۔
دورِ حاضر کی ظالمانہ پالیسیوں کوانسانی تاریخ کو داغ دار کرنے والے ماضی کے ہول ناک مظالم کے مقابلے میں کم شدید سمجھا جانا ایک بڑی غلطی ہے۔ ماضی کے سانحات میں دوسری جنگ عظیم کی ہول ناکیاں بھی شامل ہیں۔
اس غلطی کی بنیاد ی وجہ زمانی تفاوت کے عنصر سے علیحدگی اور ماضی کی سفاکیت کے اعادے کو روکنے کے لیے تشکیل دی گئیں قانونی رکاوٹوں اور قدغنوں کے ارتقا کو نظر انداز کرنے میں مضمر ہے۔
یہ قدغنیں قدر اساس اور عالمی قانونی فریم ورک کی تشکیل تک محدود نہیں ہیں، اور نہ ہی عالمِ انسانیت کے اجتماعی ضمیر کے ارتقا تک محدود ہیں،اگرچہ یہ بات اور ہے کہ ان اقدار و معیارات کی پاسداری بھی کہاں کی جاتی ہے۔
ان قدغنوں میں یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ آج کے بہت سے جرائم میڈیا کوریج کے ذریعے عین اسی وقت (real time) بے نقاب ہو جاتے ہیں۔ ان جرائم کو چھپانا ماضی کے مقابلے میں، جب استعمار، ریاست اور فوجیں سنگین جرائم پر بڑی آسانی سے پردہ ڈال دیا کرتی تھیں، کہیں زیادہ مشکل ہے۔
ہرچند کہ نازیوں کے ظالمانہ منصوبوں کے کچھ ابتدائی اشارے نسل پرستانہ اور اشتعال انگیز بیانات، جبر یہ قانون سازی اور طریقۂ کار کی کارروائیوں، اور تشدد اور حراستی کیمپوں کی خوف ناک پالیسیوں کے ذریعے دنیا کو معلوم ہوگئے تھے۔ تاہم، اس کے باوجود نازی حکومت کے خاتمے تک ان میں سے بہت سی ہول ناکیاں، جیسے آشوٹز کے دروازوں کے اوپر لگائے گئے پرفریب بینر (“کام آپ کو آزاد کرتا ہے”) کے تلے کیے جانے والے پرہول مظالم، قلعہ بند دیواروں کے پیچھے چھپی رہیں۔ اس سے چند دہائیاں قبل ہی، جرمنی نے افریقہ میں نسل کشی کا ارتکاب کیا تھا – وہاں کے بھیانک واقعات جرمن ریاست کے ذریعے دیر سے سرکاری طور پر تسلیم کیے جانے کے باوجود آج بھی بڑے پیمانے پر نامعلوم ہیں۔ جرمن نوآبادکاروں نے بیسویں صدی کے اوائل میں نمیبیا میں ہیریرو اور ناما عوام کی نسل کشی کے دوران دسیوں ہزار افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
ایسے مہیب مظالم پر تاریخ کا پردہ ڈالنے کے بالکل برعکس، غزہ پٹی میں اسرائیل کی جاری نسل کشی کو اسکرینوں اور نیٹ ورکس کے ذریعے گراؤنڈ سے براہ راست نشر کیا جا رہا ہے، ہرچند کہ اسرائیل کے ذریعے اس خطے میں عالمی میڈیا کے داخلے پر پابندی عائد ہے۔
وحشیانہ خلاف ورزیاں
زمین کے اس تنگ خطے میں انسانی زندگیوں اور وقار کو ایک ایسے دور میں وحشیانہ طور پر پامال کیا جا رہا ہے جب بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں کو خوب ترقی حاصل ہوئی، قوموں کے احتساب کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی میکنزم، خاص طور پر بین الاقوامی عدالتِ انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کا ظہور دیکھنے میں آیا۔
اگر ماضی کی بربریت کو آج کے دور میں کسی طرح پھر سے دکھایا جاسکتا تو وہ بھی غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے نسل کشی کے آگے ماند پڑ جاتے جو جدید طریقوں سے پوری دنیا کے آنکھوں کے سامنے جاری ہے۔ ماضی کے آمروں اور ہلاکوؤں کو اسرائیلی جنگی رہ نماؤں کی منظم پالیسیوں اور طریقوں اور ہر تازہ ظلم کا جواز پیش کرنے کے لیے استعمال ہونے والے پروپیگنڈا بیانیوں سے بہت کچھ سیکھنے کو مل سکتا تھا۔
اسی طرح اگر غزہ میں آج رونما ہونے والی سفاکیاں ماضی کے ادوار میں رونما ہوئی ہوتیں، تو شاید وہ اس سے بھی زیادہ ہول ناک سطح پر پہنچ جاتیں کیوں کہ وہ جدید قدغنوں سے آزاد ہوتیں اور اکیسویں صدی میں درکار وسیع تر جواز کی ضرورت نہ پڑتی۔
آج ایک جدید حکومت کے ذریعے، اسرائیلی فوج کے فلسطینی عوام کی حصار بندی، ظلم اور نسل کشی جیسے منصوبے کی شکل میں منظم انداز میں انجام دی جانے والی بربریت کو انسانی تاریخ کی سنگین ترین ہول ناکیوں میں شمار کیا جانا چاہیے، کیوں کہ ان جرائم کا ارتکاب تمام تر قدغنوں اور رکاوٹوں کی موجودگی کے باوجود کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ اسرائیل کے اقدام اگر ان جدید پابندیوں اور قدغنوں سے آزاد ہوتے تو کیسے نظرآتے؟ کیا یہ غاصب ماضی کی استعماری طاقتوں، ریاستوں، حکومتوں اور فوجوں کو حاصل اُسی بے مہار سفاکی اور بربریت سے کام نہیں لے رہا ہے؟
غزہ میں نسل کشی کے اسرائیل کے منصوبے سے پیدا ہونے والے بے پناہ خطرات کو پوری طرح سمجھنے کے لیے اس حقیقت کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔ بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری، مکمل تباہی، فاقہ کشی، غربت، انسانی وقار کی پامالی اور حیاتیاتی و ماحولیاتی جنگ جیسے وحشیانہ مظالم صرف ماضی تک محدود نہیں ہیں، جو بلیک اینڈ وہائٹ فوٹیج کی شکل میں نظر آتے ہیں، جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے۔
یہ مظالم آج پوری رعونت کے ساتھ منظر عام پر آ رہے ہیں، قتل و غارت گری کے میدان سے لمحہ بہ لمحہ براہ راست نشر کیے جا رہے ہیں۔ ان کی دردناک تفصیلات دنیا کی آنکھوں کے سامنے مسلسل سامنے آ رہی ہیں، جن کا ارتکاب ایک جدید ریاست اپنے انتظامی اداروں اور معاصر فوج کے ذریعے کرتی ہے۔ جب کہ نفیس ریشمی ٹائیاں پہنے سیاست داں ان جرائم کا جواز پیش کر رہے ہیں اور متاثرین ہی کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔
زمانی عنصرسے علیحدگی کا ایک اور خطرہ اس بات کو فراموش کر دینے کا ہے کہ بیسویں صدی کے نصف اول کے مظالم بنیادی طور پر دو عالمی جنگوں کے دوران انجام دیےگئے تھے، یہ وہ تباہ کن واقعات تھے جنھوں نے جدید دنیا کو راکھ میں تبدیل کردیا اور شہروں میں لاکھوں افراد کو ملبے اور دھوئیں میں بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس کے برعکس، غزہ میں نسل کشی ایک ایسےسیاق میں انجام دی جا رہی ہے جہاں قوت کے استعمال اور بڑے پیمانے پر تباہی کے جواز کے لیے جدید عسکریت کو ڈھالا گیا ہے جب کہ شہریوں کی خوں ریزی کو کم سے کم کرنا بنیادی عالمی جنگی اصول ہے۔
وقت کے خلاف دوڑ
مغرب کے ذریعے فراہم کردہ ہتھیاروں اور ٹیکنالوجیوں کے ذریعے انجام دیے گئےاسرائیل کے جرائم کی شدت کوپوری طرح سمجھنے کے لیے، غزہ کے ننھے سے جغرافیائی خطے میں ہلاکتوں، تباہی، نقل مکانی اور بھوک کے پیمانے پر غور کرنا ضروری ہے، جہاں تقریباً 20 لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔ نسل کشی کے ان تقریباً دو برسوں کے دوران، اسرائیلی فوج نے لاکھوں افراد کو ہلاک یا زخمی کیا ہے، اور بہت سے مستقل طور پر معذور ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ اور اس کے انسانی حقوق کے اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ میں ہر روز بچوں کو ایک پورے کلاس روم کے برابر قتل کر رہی ہے اور کوئی بھی بین الاقوامی طاقت اسے روکنے کے لیے قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔ شہری ہلاکتوں کی براہ راست تعداداب تک 61,000 سے زیادہ ہو چکی ہے، جن میں سے نصف بچے اور خواتین ہیں، اور اس تعداد میں روز بروز مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رہائشی علاقوں کے ایک بڑے حصے کو نقشے سے مٹا دیا گیا ہے۔ بالواسطہ ہلاکتیں، یعنی ادویات اور طبی وسائل کی کمی، یا خراب خوراک اور زہریلے ماحول کی وجہ سے ہونے والی اموات اس سے الگ ہیں جن سے یہ اعداد و شمار مزید خوف ناک ہو رہے ہیں۔
اسرائیلی قیادت اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ اسے جدید دور کی اخلاقی اور قانونی رکاوٹوں کے باوجود بین الاقوامی اداروں اور عدالتوں کی نگرانی میں ان مظالم کو انجام دینے کی آزادی حاصل ہے۔ اس طرح اس نے ایک بار پھروہی نسلی صفائی کی مہم بحال کردی ہے جو اس نے پون صدی قبل 1948 میں نکبہ کے ساتھ شروع کی تھی۔ اسرائیل اب مختلف طریقوں سے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں حتمی نتیجے تک پہنچ جانے کی کوشش میں ہے۔ موجودہ دور کی قدغنوں کے باوجود اپنی اس شش و پنج سے باخبر، جس میں مغربی رہ نماؤں کی بے نظیر مخالفت بھی شامل ہے – وہ چاہتا ہے کہ ’اسرائیلی استثنا پسندی‘ کے نام پر اس کے جرائم سے چشم پوشی کی جائے۔ اسی استثنا کی بدولت اسے طویل عرصے سے بین الاقوامی نظام کی پامالی اور اس کے کنونشنوں کو نظر انداز کرنے کا لائسنس حاصل ہے۔
اسرائیل مقدس صحیفوں کی من مانی تفسیر کرکے، انھیں جدید معاہدوں اور ذمہ داریوں سے مستثنیٰ نسل کشی کے مینوئل کے طور پر غلط طریقے سے پیش کرکے،ان جرائم کا ارتکاب ’استثنائی متاثر‘ (exceptional victim)کی خانہ ساز دوہری شناخت کا استعمال کرتے ہوئے کرتا ہے، جو گویا اسے ایسے جرائم کرنے کا مستحق بناتی ہےجس کا ارتکاب اوروں کے لیے قابلِ گرفت ہے۔
اسرائیلی قیادت زمانی عنصر کو نظر انداز کرنے کی ایک اور کوشش میں امریکیوں اور یورپیوں کو مسلسل ان جنگی جرائم کی یاد دلاتی رہی ہے جو ان کی اپنی ریاستوں نے کئی دہائیوں تک دنیا پر کیے تھے، یہ ایک گھٹیا چال ہے جس کا مقصد اپنے اوپر ہونے والی نکتہ چینی کو خاموش کرانا ہے، جب کہ اس کے ساتھ ساتھ یہ اس بات کا بھی اعادہ ہے کہ فلسطین میں نوآبادیاتی تجربہ ہمیشہ کے لیے مغربی سیاق سے جڑا رہے گا جس نے اسے اس سرزمین پر پہلے پہل مسلط کیا تھا۔
مشمولہ: شمارہ ستمبر 2025