رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

مریض سے مصنوعی تنفس کے آلات کب ہٹائے جاسکتے ہیں؟

سوال: کسی بھی بیماری کے نتیجے میں جب مریض موت کے قریب پہنچ جاتاہے تو اس کے جسم کا ایک ایک عضو بے کار ہونے لگتاہے۔ ایسے میں اس مریض کو مشین (Ventilator)کے ذریعے مصنوعی تنفس دیاجاتاہے۔ بلڈپریشر کم ہونے لگے تو اسے نارمل رکھنے کے لیے انجکشن لگائے جاتے ہیں۔ خون میں سوڈیم، پوٹاشیم وغیرہ کی کمی ہوجائے تو ان کو بھی خون کی رگوں میں چڑھایاجاتاہے۔ ایسا مریض (Care Unit Intensive) I.C.Uمیں مشینوں اور نلکیوں کے درمیان گھِری ہوئی ایک زندہ لاش کے مانند ہوتاہے۔ طب میںایک اصطلاح ’دماغی موت‘ (Brain Death)کی استعمال ہوتی ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ اگر انسانی دماغ کو آکسیجن نہ ملے تو چار منٹ کے اندر اس کے اہم حصّے (Centers)مرجاتے ہیں۔ دماغی موت کے بعد بھی انسان زندہ رہتاہے۔ ایسے مریضوں کو اس امیدپر جب تک کہ سانس ہے تب تک آس ہے، کئی کئی دنوں تک ونٹی لیٹر پر رکھاجاتاہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ایسے مریض کو، جس کی دماغی موت واقع ہوچکی ہو، ونٹی لیٹر پر جہاں ایک عام آدمی I.C.Uکا مہنگا علاج زیادہ دنوں تک برداشت نہیں کرسکتا۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ جہاں I.C.Uمیں بستروں اور مشینوں کی پہلے ہی سے کمی ہو، وہاں ایسے مریض کو، جس کی زندگی کی امید تقریباً ختم ہوچکی ہو، کئی کئی دنوں تک رکھاجائے تو نئے آنے والے مریضوں کے لیے گنجایش باقی نہیں رہتی۔ جب کہ ان پر زیادہ توجہ دے کر ان کی زندگی بچائی جاسکتی ہے۔

بہ راہِ مہربانی اس مسئلے کو اسلامی نقطۂ نظر سے واضح فرمائیں۔

ڈاکٹر محمد عاطف اسماعیل،﴿ایم بی بی ایس، ایم ڈی﴾

نارائناسُپراسپیشلیٹی ہاسپٹل،نیلور، آندھراپردیش

جواب: اللہ تعالیٰ نے ہرانسان کی موت کاوقت مقرر کردیاہے۔ جب وہ آجائے گا تو موت طاری ہونے میں ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہیںہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفْساً اِذا جَآء  اَجَلُھَا ﴿المنافقون:۱۱﴾

’جب کسی کی مہلتِ عمل پوری ہونے کا وقت آجاتاہے تو اللہ اُس شخص کو ہرگز مزید مہلت نہیں دیتا۔‘

پہلے کسی انسان کی موت کا فیصلہ ظاہری علامتوں کو دیکھ کر کیاجاتاتھا۔ مثلاً اس کی ایک نمایاں علامت آنکھیں پتھراجانا ﴿کھلی رہ جانا﴾ ہے۔ احادیث میں بھی اس کا تذکرہ ملتاہے۔ حضرت ابوسلمہ(رض) کی وفات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے، دیکھاکہ ان کی آنکھیں پتھرائی ہوئی ہیں۔ آپﷺنے انھیں بند کیا، پھر فرمایا:

ان الروح اذا قبض تبعہ البصر ﴿مسلم، کتاب الجنائز:۹۲۰﴾

’جب کسی شخص کی روح قبض ہوجاتی ہے تو اس کے بعد اس کی نگاہ بھی سلب کرلی جاتی ہے۔‘

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آپﷺنے فرمایا:

اَلاِنْسَانَ اِذَا مَاتَ شَخَصَ بَصَرُہ‘ ﴿مسلم، ۹۲۱﴾

’انسان کی جب موت ہوجاتی ہے تو اس کی آنکھ کھلی کی کھلی رہ جاتی ہے‘

موت کی دوسری علامتوںمیں جسم ڈھیلا پڑجانا اور اس میںکسی طرح کی حس و حرکت کا نہ پایاجانا، سانس رک جانا اور حرکت قلب بند ہوجانا بھی ہے۔ جس شخص میں یہ علامتیں ظاہر ہوجاتی تھیں اسے مردہ سمجھ لیاجاتاتھا۔

اب طبّی تحقیقات نے موت کی تفصیلی کیفیت اور اس کی جزئیات فراہم کردی ہیں۔ اس کے مطابق پہلے انسان کا دل اور پھیپھڑے کام کرنا بند کردیتے ہیں۔اسے تشخیصی موت Climical deathe) (کہتے ہیں اس کے نتیجے میں دماغ کو آکسیجن کی سپلائی بند ہوجاتی ہے تو تین سے چھ منٹ کے دوران دماغ کے خلیّات کی موت ہوجاتی ہے۔ اسے دماغی موت (Brain Death)کہتے ہیں۔ اس کے بعد جسم کے مختلف اعضاء  کے خلیّات بھی مرنے لگتے ہیں۔ بعض اعضاء  کے خلیّات جلد متاثر ہوتے ہیں ور بعض کے دیر میں اسے خلوی موت (Cellular Death)کہاجاتاہے۔ موت کے معاملے میں ان تدریجی مراحل میں فیصلہ کن مرحلہ دماغی موت کاہوتاہے۔ اس لیے کہ اس کے بعد زندگی کی بنیادی خصوصیات مثلاً ادرک و شعور وغیرہ واپس نہیں آسکتیں۔

وینٹی لیٹر نامی مشین کی ایجادسے اب یہ ممکن ہوگیاہے کہ کچھ عرصے تک تنفس کا عمل بحال اور قلب کی حرکات منضبط رکھی جاسکیں۔ اب اگر دماغ کی کارکردگی بالکل ختم ہوگئی ہو اور اس کے خلیّات کی موت ہوگئی ہو۔ اس کی ظاہری حرکت بالکل مفقود ہوجاتی ہے۔ تو اس کا مطلب یقینی موت ہے۔ اس لیے کہ وینٹی لیٹر کے استعمال کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ دماغی موت کے بعد بھی وینٹی لیٹر کا استعمال جاری رہے تو اس کا فائدہ بس اتنا ہوتاہے کہ اس کے ذریعے جسم کے مختلف اعضاکو آکسیجن کی مناسب مقدار پہنچتی رہتی ہے۔ اس طرح دوسرے اعضاء  کے خلیّات کو مرنے سے تو نہیں بچایاجاسکتا، البتہ ان کی موت کے عمل کو سست ضرور کیاجاسکتا ہے۔ لیکن اگر دماغ کی کارکردگی متاثر نہ ہوئی ہوتو زندگی کی طرف واپسی کا امکان باقی رہتا ہے۔ ایسی صورت میں وینٹی لیٹر کااستعمال ضروری ہوتاہے۔ تاکہ دماغی خلیّات کو آکسیجن کی فراہمی ہوتی رہے اور ان کی موت نہ ہو۔

اس تفصیل کاحاصل یہ ہے کہ جب تک مریض کی، زندگی کی طرف واپسی کی امید قائم ہو، اس وقت تک علاج معالجے میں کوئی کسر نہیں اٹھائی جائے گی اور اس وقت تک مصنوعی تنفس کے آلات کا استعمال کرنا بھی درست ہوگا۔ اس سلسلے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی رہ نمائی موجود ہے۔ آپﷺنے فرمایا:

یَاعِبَادَاللّٰہِ تَدَاوُوا۔ فَاِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَضَعْ دَائً اِلاَّ وَضَعَ لَہ‘ دَوَاء

﴿ترمذی: ۲۰۳۸، ابوداؤد:۳۸۵۵﴾

’اے اللہ کے بندو! علاج کراؤ۔ اس لیے کہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں رکھی ہے، جس کا اس نے کوئی علاج نہ رکھا ہو۔‘

مرض کے کس مرحلے پر زندگی کی طرف واپسی کاامکان باقی ہے اور کب اس کا امکان ختم ہوگیا ہے، اس کے بارے میں فیصلہ کن رائے ماہر طبیب کی ہوگی۔ جب وہ یہ رائے دے دے تو علاجی تدابیر موقوف کی جاسکتی ہیں اور مصنوعی تنفس کے آلات بنائے جاسکتے ہیں۔

یہ مسئلہ مختلف ممالک کی فقہ اکیڈمیوں میں زیرغور رہاہے۔ ماہرین کی تحقیقات اور اصحابِ علم و فقہ کی آراء  کی روشنی میں طویل بحث و مباحثہ کے بعد جو قرار دادیں منظور کی گئی ہیں، ان میں وہی بات کہی گئی ہے جس کا تذکرہ اوپر کی سطور میں کیاگیاہے۔ ذیل میں ان قراردادوںکو نقل کیاجاتا ہے:

تنظیم اسلامی کانفرنس (O.I.C)کے زیر اہتمام قائم بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ کے تیسرے اجلاس منعقدہ عُمان ﴿اردن﴾ ۱۹۶۸ میں یہ قرارداد منظور کی گئی تھی:

’اگر کسی شخص میں مندرجہ ذیل دو علامتوں میں سے کوئی ایک علامت ظاہر ہوجائے تو شرعاً اسے مردہ تصورکیا جائے گا اور اس پر موت کے تمام احکام جاری ہوں گے۔‘

۱-اس شخص کے دل کی حرکت اور نفس مکمل طورپر اس طرح رک جائے کہ ماہر اطباء  یہ کہیں کہ اب اس کی واپسی ممکن نہیں۔

۲-اس کے دماغ کے تمام وظائف بالکل معطل ہوجائیں اور ماہر اور تجربہ کار اطبائ اس بات کی صراحت کریں کہ یہ تعطل اب ختم نہیں ہوسکتا اور اس کے دماغ کی تحلیل ہونے لگی ہے۔

ایسی حالت میں محرک حیات آلات کو اس شخص سے ہٹالینا جائز ہے، خواہ اس کاکوئی عضو مثلاً قلب محض آلے کی وجہ سے مصنوعی حرکت کررہاہو۔‘ ﴿جدید فقہی مسائل اور ان کا مجوزہ حل، طبع کراچی، ۲۰۰۶، ص:۵۲﴾

رابطہ عالم اسلامی کے تحت قائم المجمع الفقہی الاسلامی مکہ مکرمہ نے اپنے دسویںاجلاس منعقدہ مکہ مکرمہ ۱۹۸۷ میں اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر غور وخوض کے بعد درج ذیل فیصلہ کیا:

’جس مریض کے جسم سے زندگی جاری رکھنے کے آلات لگے ہوں، اگر اس کے دماغ کی کارکردگی مکمل طورپر بند ہوجائے اور تین ماہر اور واقف کار ڈاکٹر اس بات پرمتفق ہوں کہ اب یہ کارکردگی بحال نہیں ہوسکتی ہے تو اس مریض کے جسم سے لگے ہوئے آلات ہٹالینا درست ہے۔ خواہ ان آلات کی وجہ سے مریض میں حرکتِ قلب اور نظام تنفس قائم ہو۔ البتہ مریض کی موت شرعاً اس وقت سے معتبر مانی جائے گی۔ جب ان آلات کے ہٹانے کے بعدقلب اور تنفس اپنا کام بند کردیں۔‘

﴿المجمع الفقہی الاسلامی مکہ مکرمہ کے فقہی فیصلے، طبع دہلی ۴۰۰۲، ص:۱۲۲﴾

اسلامک فقہ اکیڈمی ﴿انڈیا﴾ نے بھی اس موضوع پر اپنے سولہویں سمینار منعقدہ اعظم گڑھ ﴿یوپی﴾ ۲۰۰۷ میں غور کیا اور بحث ومباحثہ کے بعد درج ذیل تین قراردادیں منظور کیں:

۱-جب سانس کی آمد و رفت پوری طرح رک جائے اور موت کی علامات ظاہر ہوجائیں تب ہی موت کے واقع ہونے کا حکم لگایاجائے گا اور اسی وقت سے موت سے متعلق وصیت کانفاذ، میراث کااجراء اور عدّت کا آغاز وغیرہ احکام جاری ہوں گے۔

۲-اگر مریض مصنوعی آلہ تنفس پر ہو، لیکن ڈاکٹر اس کی زندگی سے مایوس نہ ہوئے ہوں اور امیدہو کہ فطری طورپر تنفس کا نظام بحال ہوجائے گا تو مریض کے ورثے کے لیے اسی وقت مشین کا ہٹانا درست ہوگا، جب کہ مریض کی املاک سے اس علاج کو جاری رکھنا ممکن نہ ہو، نہ ورثہ ان اخراجات کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور نہ اس علاج کو جاری رکھنے کے لیے کوئی اور ذریعہ میّسر ہو۔

۳- اگر مریض آلۂ تنفس پرہو اور ڈاکٹروں نے مریض کی زندگی اور فطری طورپر نظام تنفس کی بحالی سے مایوسی ظاہر کردی ہوتو ورثے کے لیے جائز ہوگا کہ مصنوعی آلہ تنفس علاحدہ کردیں۔

﴿نئے مسائل اور فقہ اکیڈمی کے فیصلے، طبع دہلی ۲۰۰۹، ص:۱۸۷﴾

نومبر 2010

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau