حلال و حرام کی بحثوں سے گزرتی قہوہ کی تاریخ

(کسی نئی چیز کے شرعی حکم تک پہنچنے کے لیے اجتہادی عمل کو مختلف مرحلوں سے گزرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ ایک زندہ علمی روایت کے لیے یہ بات معیوب نہیں ہوتی ہے۔ اجتہاد کی آزادی اہل علم کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی گنجائش دیتی ہے جس کے نتیجے میں شروع میں مختلف رائیں سامنے آتی ہیں اور ان کے درمیان مباحثہ ہوتا ہے۔ بتدریج مناسب ترین رائے کی طرف رجحان بڑھتا جاتا ہے۔ قہوہ کی داستان اس کی ایک مثال ہے۔ مدیر)

آج کی اگر بات کی جائے تومفید و مضر مشروبات کی ایک طویل فہرست ہے جن سے جدید انسانی تہذیب آشنا ہے، بلکہ بسا اوقات یہ مشروبات لوگوں کے معیارِ زندگی کا تعین بھی کرتے ہیں۔ لیکن چار ساڑھے چار سو برس پہلے تک صورت حال بالکل مختلف تھی۔ شراب اگرچہ مشروب کی حیثیت سے عام تھی، لیکن اسلامی تہذیب نے اپنے دائرۂ اثر میں اس کا داخلہ ممنوع کر دیا تھا۔ اسی دوران سولہویں صدی کے آغاز میں ایک نئے مشروب کی آمد ہوئی۔ اس مشروب نے قہوے یا کافی کے نام سے نہ صرف شہرت پائی اور انسانی زندگی کا جزوِ لاینفک بنی، بلکہ حرام و حلال کی ایک ایسی بحث کو بھی جنم دیا جس پر ایک صدی سے زیادہ عرصے تک علما وفقہا کے درمیان بحث و مباحثے اور تصنیف در تصنیف کا سلسلہ جار ی رہا، اور آخرکار جیت قہوے کی ہوئی اور اس نے حلت و حرمت کی بحث سے آزادی پا کر اسلامی تہذیب کے اندر اپنا وجود قائم کیا۔

انسانی تہذیب میں قہوے یا کافی کی آمد کاباعث ایک واقعہ بنا۔ کہا جاتا ہے کہ سولہویں صدی کے ایک عارف و صوفی بزرگ ابوبکر بن عبداللہ شاذلی عیدروس (م: 909ھ/ 1504ء) سفر کے دوران ایک راستے سے گزر رہے تھے۔ ان کی نظر کافی (جسے عربی زبان میں بُن کہا جاتا ہے) کے درخت پر پڑی اور انھوں نےاس کا پھل توڑ کر کھا لیا۔ پھل کے جو اثرات ان کے جسم وذہن پر ہوئے اس نے انھیں حیرت میں ڈال دیا۔ ان کے تجربے میں یہ بات آئی کہ اس پھل کا استعمال نیند کے اثرات زائل کرکے جسم و ذہن میں چستی و نشاط پیدا کر دیتا ہے۔ چناں چہ انھوں نے اس پھل کو اپنی غذا اور مشروب کا حصہ بنا لیا اور اپنے مریدین کو بھی ہدایت کی کہ عبادت و شب بیداری میں نشاط حاصل کرنے کے لیے اس پھل کا استعمال کیا کریں۔اس طرح یہ درخت سب سے پہلے یمن میں عام ہوا، پھر بلادِ حجاز سے گزر کر ملکِ شام ومصر میں بھی عام ہو گیا۔ اس طرح مورخ ابن عماد حنبلی (1089ھ/1679ء) کے مطابق عیدروس قہوہ (کافی) کے موجد قرار پائے۔

ایک نئی بحث کا آغاز

917ھ/1511ء میں مملوکی امیر خایر بک مکہ کا گورنر تھا۔ اسی سال 23 ربیع الاول کی شب میں وہ خانہ کعبہ سے اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ راستے میں کچھ لوگ عید میلاد النبی کا جشن مناتے ہوئے نظر آئے۔ اس کی نظر ایک ایسی چیز پر پڑی جو ان کےد رمیان رکھی ہوئی تھی اور اس کے جام کا باہم تبادلہ وہ اس طرح کر رہے تھے جس طرح شراب کے جام ایک دوسرے کو پیش کیے جاتے ہیں۔ خایر بک ٹھٹھسکا اور ان سے پوچھ تاچھ کے لیے رکا۔ پوچھ تاچھ کے بعد معلوم ہوا کہ اس مشروب کا نام قہوہ (کافی) ہے جسے کافی کے بیج کے چھلکوں کو ابال کر تیار کیا جاتا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ مکہ کا یہ گورنر اب تک اس مشروب سے ناواقف تھا، حالاں کہ مکہ میں اس کا چرچا عام ہو چکا تھا اور یہ عام بازار میں فروخت ہو تا تھا۔

خایر بک کے لیے یہ صورت حال اضطراب وپریشانی کا سبب بن گئی کیوں کہ عوام کے اخلاق و آداب کی اصلاح و درستی کے لیے وہی ذمے دار تھا۔ اس نے بلاتاخیر علما، ادیبوں اور طلبہ کا ایک اجلاس بلایا، جس میں اس وقت کے معروف علماو ادبا، مثلاً قاضی نجم الدین بن عبدالوہاب مالکی اور چیف جسٹس قاضی صلاح الدین بن ظہیرہ شافعی شریک ہوئے۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ نفس قہوہ میں اور قہوہ پیتے ہوئے جو ماحول اور حالات نظر آتے ہیں، دونوں میں فرق کرنا چاہیے۔

البتہ یہ معاملہ اطبا پر چھوڑ دیا گیا کہ اس ’پودے‘ کے کیا اثرات ذہن وجسم پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس پر مکہ کے گورنر نے فوری ایکشن لیتے ہوئے شہر کے دو بڑے طبیبوں، نورالدین کازرانی اور علاء الدین کازرانی کو طلب کیا۔ انھوں نے گورنرکے سامنے یہ گواہی دی کہ کافی کے چھلکے سے حاصل کیا جانے والا یہ مشروب تاثیر کے اعتبار سے سرد وخشک ہے اور معتدل جسم کے لیے فساد کا سبب بن سکتا ہے۔

گرما گرم بحث کے دوران ایک فقیہ نے اطبا کی رائے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے مباح اور مفید قرار دیا تو مخالف رائے رکھنے والوں نے اس کے جواب میں یہ اصول پیش کیا کہ اباحت جب معصیت کا سبب بنے تو ساقط الاعتبار ہو جاتی ہے۔یہاں بھی قہوہ اگرچہ مباح ہے مگر اس کے پینے کی مجلسوں میں معصیتوں کا ارتکاب ہوتا ہے۔

آخر کار گورنرخایر بک نے اپنا فیصلہ صادر کر دیا اور مکہ اور اس کے اطراف میں عام منادی کرادی کہ قہوہ پینا ممنوع ہے۔ لیکن اس فیصلے نے اختلاف و بحث کی ایک چنگاری کا کام کیا اور اس کی اگلی صدی میں فقہا اور قاضیوں نیز سلاطین کے درباروں اور سرکاری اداروں میں سب جگہ قہوہ ایک گرم اختلافی موضوعِ بحث بنتا چلا گیا۔

بحث واختلاف کا سبب

لفظ ’قہوہ ‘اسلامی تاریخ میں کوئی نیا لفظ نہیں تھا۔ البتہ اس کے قدیم وجدید استعمال نے بحث اور اختلاف کی ایک نئی راہ کھول دی تھی۔ دراصل امویوں اور عباسیوں کے زمانے سے ہی ’قہوہ‘ کا لفظ شراب (خمر) کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ شراب کے لیے قہوے کی یہ اصطلاح قدیم عربی ڈکشنریوں میں بھی ملتی ہے۔ ابن منظور کی ’لسان العرب‘ قہوے (کافی)کی دریافت سے تقریباً دو صدی پہلے مرتب کی گئی تھی۔ اس میں قہوہ کی تعریف یوں کی گئی ہے: ’’قہوہ خمر (شراب) ہے۔ شراب کو یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیوں کہ یہ اپنے پینے والے کو کھانے پینے سے روک دیتی ہے، یعنی اس کی اشتہا ختم کر دیتی ہے۔‘‘ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جب یہ نیا ’قہوہ‘ بازار میں آیا تو لوگوں کے ذہن میں اس لفظ کا وہی قدیم منفی مفہوم تھا۔ لیکن جلد ہی انھیں یہ احساس ہوا کہ دونوں قہووں میں فرق ہے۔ شراب کا قہوہ انسانی عقل کو معطل و ناکارہ کر دیتا ہے، جب کہ یہ قہوہ یادداشت کو تیز کرتا ہے اور ذمے داریوں کو ادا کرنے میں معاون ہوتا ہے۔

بحث واختلاف کے دائرے میں وسعت

ابھی تک یہ بحث مکہ کے گلی کوچوں اور علمی حلقوں تک محدود تھی، لیکن مذکورہ اجلاس کی روداد قاہرہ میں مملوکی سلطان ’قانصور غوری‘ کی خدمت میں پیش کی گئی تو زمان ومکان کی حدود کو پھلانگ کر یہ بحث روز افزوں وسعت اختیار کرتی چلی گئی۔ سلطان نے اس روداد کی روشنی میں اس کے استعمال پر پابندی کے حکم نامے پر مہر لگا دی تو اس زمانے کے ایک بڑے فقیہ امام زکریا انصاری (926ھ/1520ء) نے فوراً ہی اس کی تائید بھی کر دی۔ یہ دیکھتے ہی قہوےکے حامی و دل دادہ دیر کیے بغیر امام انصاری کی خدمت میں پہنچے۔ ان کی آمد پر امام انصاری نے حقیقتِ حال سے واقف ہونے کے لیے کافی کے بیج کے چھلکے منگوائے۔ انھیں ابلوا کر قہوہ تیار کر ایا اور یہ قہوہ ان لوگوں کو پیش کیا جو اس کے حلال ہونے کا دفاع کرتے ہوئے ان کے پاس آئے تھے۔ قہوہ پی لینے کےبعد ان سے گفتگو شروع کی اور کچھ دیر گفتگو کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد ان کی گفتگو میں کوئی ناخوش گوار تبدیلی محسوس نہیں ہوئی، بلکہ خوش مزاجی میں ہی کچھ اضافہ محسوس ہوا۔ چناں چہ امام انصاری نے اپنی رائے تبدیل کرتے ہوئے فوری طور پر قہوے کی حلت پر ایک رسالہ بھی تصنیف کر دیا۔ مکہ، قاہرہ اور دمشق کے لوگوں کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ چناں چہ شیخ کازرونی نے اس کی حرمت پر ایک رسالہ ترتیب دیا۔ پھر اس کے جواب میں بھی رسالے لکھے گئے، جن میں ایک رسالہ شیخ ابوبکر مکی نے بھی لکھا، جس میں قہوے کے استعمال کو حلال ثابت کیا گیا تھا۔ اس طرح جواب در جواب کا سلسلہ چل نکلا۔ کسی نہ کسی بہانے قہوہ اپنے حامیوں اور مخالفین کو کش مکش کے میدان میں گھسیٹ لاتا تھا۔ ایک بار دمشق کے دو بزرگوں شیخ یونس عیثاوی مناوی اور شیخ ابوالفتح مکی کے درمیان اس موضوع پر اختلاف اس حد تک بڑھا کہ دونوں عثمانی قاضی علی افندی رومی کے پاس پہنچے۔ دونوں نے قہوے کے حق میں اور اس کے خلاف اپنی اپنی دلیلیں پیش کیں۔ شیخ ابوالفتح مکی اپنی بحث میں شیخ یونس پر غالب آگئے، کیوں کہ حرمت کے سلسلے میں ان کے دلائل واضح نہیں تھے۔اسی طرح دمشق کے عثمانی گورنر لالامصطفی پاشا کے عہد (971- 976ھ/ 1563ھ-1568ء) میں قہوے کے حامیوں اور مخالفوں کے درمیان اختلاف عروج پر پہنچ چکا تھا۔

کافی کی تجارت

ایک طرف یہ بحث و اختلاف جاری تھا اور دوسری طرف کافی کی تجارت عروج حاصل کر ہی تھی۔ خلافت عثمانیہ، جس کی حکم رانی کا سکہ عرب خطوں پر بھی قائم ہو چکاتھا، کی حدود میں کافی کی تجارت خلافت کی اقتصادی ترقی کا واضح سبب بن رہی تھی۔ درمیان میں اس میں کمی بھی واقع ہوئی۔ لیکن عہدِمملوکی (مصر) کے آخری دور میں شاہراہ ’رجاء الصالح‘ کی دریافت کے بعد مصر ہندستان اور یورپ کے درمیان ترسیلی تجارت (transit trade) کے اہم مرکز کی حیثیت سے منظر نامے سے غائب ہو گیا تو مسالوں کی تجارت میں زوال آ گیا۔ اس سے ایک بار پھر قہوے کی زراعت و تجارت نے خلافت عثمانیہ کی داخلی تجارت کو توانائی فراہم کر دی۔ بڑے بڑے تاجر اس میں شریک ہونے لگے اور اسے عام کرنے کے لیے جگہ جگہ قہوہ خانے تعمیر کرانے لگے۔

سماج میں سرایت کرتا قہوہ

بحث و اختلاف کی ان تمام سرگزشتوں کے علی الرغم قہوہ سماج کے اندر اپنی راہیں تیزی سے    ہم وار کر رہا تھا۔ ساٹھ پینسٹھ برسوں کے دوران قہوے نے کافی مقبولیت حاصل کر لی تھی اور قہوہ پینے کے لیےمخصوص قہوہ خانے (کافی ہاؤس) کھولے جا رہے تھے کہ اچانک 968ھ/1572ء میں صورت حال اس وقت بدل گئی جب عثمانی سلطان سلیمان قانونی کی طرف سے شاہی حکم نامہ جاری ہوا جس کی رو سے حرام اشیا و منشیات کے استعمال پر پابندی کے ساتھ سرائے اور مے خانوں کے دروازے تو مقفل کیے ہی گئے قہوے کا استعمال بھی ممنوع قرار دیا گیا۔ اسے علانیہ پینے پر پابندی لگا دی گئی اور قہوے کے لیے استعمال ہونے والے برتن اور آلات توڑ دیے گئے۔تاریخی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلے میں حکومتی کارندوں اور سپاہیوں نے ظلم و زیادتی کا بھی مظاہرہ کیا اور لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ جس طرح اس وقت قہوے کے برتن توڑے جا رہے ہیں، ہمیں نہیں معلوم کبھی اس طرح شراب تیار کیے جانے والے برتنوں اور بھٹیوں کو بھی حکومت کے حکم سے توڑا گیا ہو۔

لیکن یہ دور زیادہ دن برقرار نہیں رہا۔ جلد ہی حکومتی فرامین میں نرمی برتی جانے لگی اور قہوے کے دلدادہ و رسیا حکومت کے فیصلوں اور مخالفین قہوہ پر غالب آ گئے۔ قاہرہ کے  ادیب و شاعر برہان الدین بن المبلّط (م: 991ھ/1583ء)نے اس فتح یابی کی داستان اشعار کی زبان میں یوں بیان کی ہے:

أرى قهوة الّبنِّ فی عصرنا

على شُربها النّاسُ قد أجمعوا

’’میں دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے دور میں بُن کا جو قہوہ ہے اسے پینے پر تمام لوگ متفق ہو چکے ہیں۔‘‘

وصارت لشرابها عادة

ولیست تضرّ ولا تنفع

’’اسے پینا عادت بن چکی ہے، اور یہ نہ مضر ہے نہ ہی فائدےمند۔‘‘

سولہویں صدی ختم ہوتے ہوتے قہوے کے مخالفین دم توڑ چکے تھے اور قاہرہ تو قہوہ خانوں کا گڑھ بن ہی چکا تھا، استنبول میں بھی قہوہ خانے کھلنے لگے تھے۔ قاہرہ کا سفر کرنے والے دو یوروپی سیاحوں کی گفتگو سے یہ انداز ہ بھی ہوتا ہے کہ مغرب و یورپ اس وقت تک کافی کے مشروب یا اس کے پھل یا درخت سے قطعاً ناواقف تھے۔ ہنری کاسٹیلا (سفر قاہرہ: 1600-1601ء) کہتا ہے کہ ’’متعدد قہوہ خانے دیکھے جن میں بیٹھ کر لوگ سارا سارا دن سیاہ رنگ کا گرم پانی پیتے رہتے تھے۔‘‘ اسی طرح ایک دوسرے سیاح جوہان ویلڈ نے لکھا ہے کہ اس نے 1606- 1610 کے دوران مصر کا سفر کیا تھا۔ دمیاط میں اپنی موجودگی کے دوران اس نے ایک جگہ دیکھی جسے ’قہوہ خانہ‘ کہا جاتا ہے۔یہاں —اس کے بیان کے مطابق— سیاہ رنگ کا ابلا ہوا پانی پینے کے لیے لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ رہتا تھا۔ یوں اس زمانے سے ہی عرب خطوں میں قہوہ اور قہوہ خانے رسوخ حاصل کر چکے تھے۔

(بشکریہ الجزیرہ ویب سائٹ)

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

حلال و حرام کی بحثوں سے گزرتی قہوہ کی تاریخ

حالیہ شمارے

جولائی 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223