افراد کے رویّے پر اسلامی نظریے کی تاثیر

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

انفرادی زندگی میں اسلامی نظریہ دوسرے جاہلی نظریات کے برعکس ایک نہایت ذمے دارانہ اور نہایت منضبط رویّہ پیدا کرتا ہے۔ اس نظریہ پر ایمان لانے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی اپنے جسم اور اس کی طاقتوں کو اور دنیا اور اس کی کسی چیز کو بھی اپنی مِلک سمجھ کر خود مختارانہ استعمال نہ کرےبلکہ خدا کی مِلک سمجھ کر صرف اس کے قانون کی پابندی میں استعمال کرے۔ہر چیز کو جو اسے حاصل ہے خدا کی امانت سمجھے اور یہ سمجھتے ہوئے اس میں تصرف کرے کہ مجھے اس امانت کا پورا حساب دینا ہے اور حساب بھی اس کو دینا ہے جس کی نظر سے میرا کوئی فعل بلکہ کوئی دل میں چھپا ہوا ارادہ تک پوشیدہ نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا شخص ہر حال میں ایک ضابطہ کا پابند ہوگا۔ وہ خواہشات کی بندگی میں کبھی شتر بے مہار نہیں بن سکتا۔ وہ ظالم اور خائن نہیں ہوسکتا۔ اس کی سیرت پر کامل اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ وہ ضابطہ کی پابندی کے لیے کسی خارجی دباؤ کا محتاج نہیں ہوتا۔ اس کے اپنے نفس میں ایک زبردست اخلاقی انضباط پیدا ہوجاتا ہے جو اسے ان مواقع پر بھی راستی اور حق پر قائم رکھتا ہے جہاں اسے کسی دنیوی طاقت کی باز پرس کا خطرہ نہیں ہوتا۔ یہ خدا کا خوف اور امانت کا احساس وہ چیز ہے جس سے بڑھ کر سوسائٹی کو قابلِ اعتماد افراد فراہم کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ تصور میں نہیں آسکتا۔

مزید برآں یہ نظریہ آدمی کو نہ صرف سعی وجہد کا آدمی بناتا ہے، بلکہ اس کی سعی و جہد کو خود غرضی، نفس پرستی یا قوم پرستی کے بجائے حق پرستی اور بلند تر اخلاقی مقاصد کی راہ پر لگادیتا ہے۔ n

(اسلام اور جاہلیت۔ ص:  ۲۶)

جون 2022

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau