نظامِ رحمت کے تناظر میں انسانی ورلڈ ویو کی تشکیل
اسلامی تصورِ کائنات کا مرکز اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمت ہے۔ قرآن مجید نے اللہ تعالیٰ کو نہ صرف ’’ربّ العالمین‘‘ کہا ہے بلکہ آغاز ہی میں “الرحمن الرحیم” کے طور پر متعارف کرایا۔ اسی رحمت کی تجلی ’’رحمۃ للعالمین‘‘کے روپ میں رسول اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ اور یہی رحمت مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی شناخت کا تکوینی جوہر ہے۔
انسان کا خدا رحمٰن و رحیم ہے، اُس کا نبی ﷺ سراپا رحمت ہے، اور اُس پر نازل ہونے والی آخری کتاب — قرآن — اللہ کی رحمت کا حکیمانہ مظہر اور ہدایت نامہ ہے۔ اس لیے اگر انسان کو اس دنیا میں وجودی سطح پر اپنی حیثیت متعین کرنی ہے، تو اُسے اس “منصوبۂ رحمت” کا شعوری حصہ بننا ہوگا۔
وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ ( البلد ) — ’’ اور وہ ایک دوسرے کو رحمت کی تلقین کرتے ہیں ۔‘‘
یہ آیت نہ صرف ایک اخلاقی ہدایت ہے بلکہ مسلمانوں کی اجتماعی شناخت کا بنیادی خاکہ بھی فراہم کرتی ہے۔ یہاں ’’تواصی‘‘ کا مطلب صرف مشورہ دینا نہیں، بلکہ اجتماعی عزم، وابستگی، اور نظم و حکمتِ عملی کے ساتھ ’’نظامِ رحمت ‘‘ کا قیام ہے۔
نظامِ رحمت کی بنیاد پر انسانی زندگی کا جامع ورلڈ ویو انسانی زندگی کے تمام دائروں کو نئے تناظر فراہم کرتا ہے :
انفرادی زندگی: انسان کو اپنی شخصیت، کردار، عبادات، جذبات اور ارادوں میں ’’عبدِ رحمٰن‘‘ کی حیثیت سے اپنے آپ کو مشخص کرنا ہے۔ ہر عمل کا محرک رحمتِ خداوندی سے مقوم جذبۂ رحم اور خیر خواہی ہو۔
معاشرت: خاندان سے لے کر پورے معاشرے تک تعلقات کا محور ہمدردی، عفو، اور دوسروں کے حقوق کا احترام ہو۔ بوڑھوں کے ساتھ نرمی، بچوں کے ساتھ شفقت، عورتوں کے ساتھ حسن سلوک، پڑوسیوں کے ساتھ خیر خواہی — یہ سب نظامِ رحمت کی معاشرتی تشکیل ہے۔
معیشت: سود، استحصال، حرص اور ذخیرہ اندوزی کے بجائے انفاق، زکوٰۃ، صدقہ، کفالت، اور شراکت پر مبنی ایک معیشت، جس کا بنیادی مقصد فلاحِ عامہ ہو۔ یہ معیشت محتاج کو خود دار بناتی ہے، نہ کہ غلام۔
سیاست: اقتدار کا تصور غلبہ، جبر یا چالاکی پر نہیں بلکہ “امن، انصاف، اور عوام کی خدمت” پر ہو۔ اہل لوگوں کو ذمہ داری دینا، شورائیت ، اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت — یہ سب نظامِ رحمت کے سیاسی مضمرات ہیں۔
تعلیم و تہذیب: علم، تربیت، ادب، آرٹ اور کلچر — سب کو انسان دوست، مہذب، احترامِ انسانیت، اور خدمتِ خلق پر مبنی ہونا چاہیے۔ علم نافع وہی ہے جو انسان کو خدا سے جوڑے، اور بندوں کے لیے دنیا و آخرت میں نفع بخش ہو۔
عبادات: نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج — یہ سب محض رسومِ عبادت نہیں بلکہ رحمت اور مواسات کے ادارے بھی ہیں۔ اگر ان سے انسان میں عباد الرحمٰن کی صفات نہ پیدا ہوں، تو ان کا تہذیبی مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
غیر وں کے ساتھ معاملہ: اسلام دشمنوں کے لئے بھی عدل اور رحم کی تعلیم دیتا ہے۔ “وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلٰی أَلَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائدہ:۸) دشمنی میں بھی اخلاق اور حدودِ شریعت کا لحاظ۔
بین الاقوامی تعلقات: جنگ کے بجائے امن، تصادم کے بجائے مکالمہ، دشمنی کے بجائے اشتراک، ظلم کے بجائے عدل اور جبر کے بجائے اخلاق و نصیحہ اور جارحیت و عدوان کے مقابلے میں ہزیمت کے بجائے عزیمت و استقامت ۔ رسول اکرم ﷺ کی سیرت میں ہجرتِ حبشہ، غزوۂ احد و خندق ، صلح حدیبیہ ، فتحِ مکہ اور دعوتی وفود —سب ’’نظامِ رحمت‘‘کے نمونے ہیں۔
اگر انسان اپنے قول و عمل میں، اپنے گھر اور معاشرے میں، اپنے کردار اور طرزِ سیاست و تجارت میں رحمت کا مظہر نہیں بنتا، تو وہ نہ صرف اپنے خالق سے منقطع ہے، بلکہ اپنی وجودی بنیاد سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ ایسا انسان دنیا میں بے سکون، بے مقصد اور بے اصول ہوتا ہے، اور آخرت میں بڑے خسارے سے دوچار ہوتا ہے۔ یہی اس کی تقدیری ناکامی ہے۔
اقامتِ دین کی ایک جامع اور دلنشیں تعبیر:اقامتِ نظامِ رحمت
اقامتِ دین، ایک عظیم فریضہ ہے جسے قرآن میں امتِ مسلمہ کے اجتماعی مشن کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ قرآن میں اقامتِ دین کا حکم صراحت کے ساتھ بیان کیا گیاکہ : ’’أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ‘‘(الشورى: 13)
علما، صلحا اور تحریکاتِ اسلامی نے اس حکم کو دین کے اجتماعی قیام، اسلامی قانون کے نفاذ، اور ریاستی سطح پر اسلام کے نفوذ کے طور پر تعبیر کیا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ، اقامتِ دین کا بیانیہ زیادہ تر سیاسی قوت، ظاہری نفاذ، اور قانونی دائرہ کار تک محدود ہوتا چلا گیا — اور اس میں ’’رحمت‘‘، ’’حکمت‘‘اور ’النصیحہ‘‘ کے اصل روحانی و اخلاقی اجزا اوجھل ہو گئے۔ اس لئے عصرِ حاضر میں اس تعبیر کے حوالے سے کئی عملی، سیاسی اور ذہنی چیلنج سامنے آتے ہیں۔ اس تناظر میں ایک حکیمانہ متبادل یہ ہے کہ ’’اقامتِ دین‘‘ کو ’’ اقامتِ نظامِ رحمت‘‘ کی تعبیر کے ساتھ بیان کیا جائے — کیونکہ یہی تعبیر نہ صرف دین کی اصل غایت سے قریب تر ہے، بلکہ انسانیت کے لیے زیادہ قابلِ قبول، حکمت آمیز، اور اپنی روحانی معنویت میں بلیغ تر ہے۔
رحمت کی تعبیر میں اقامتِ دین کا بیانیہ یہ ہے کہ دینِ رحمت کو اجتماعی نظام، ادارہ اور معاشرتی ڈھانچے کی صورت میں قائم کرنا۔ ’’اقامتِ صلاۃ‘‘کی طرح ’’ اقامتِ دین ‘‘ سے بھی مراد یہی ہے کہ:
دینِ رحمت کے اصولوں کو افراد کے باطن میں بھی اور معاشرے کے ظاہر میں بھی قائم کیا جائے؛
عدل، رحم، شرافت، محبت، مساوات، خیرخواہی اور حکمت کو ادارتی اور اجتماعی سطح پر برتا جائے؛
دینِ اسلام ، انسان کو صرف اخروی جنت کی امید نہیں دلاتا، بلکہ دنیا میں بھی رحمت کی حکومت قائم کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اور یہ اسلامی ریاست محض فقہی احکام یا سیاسی غلبے کا نام نہیں، بلکہ اس کا مقصد: انسانوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ؛ کمزور، مظلوم اور لاچار طبقات کے لیے پناہ کا نظام؛ عدلِ اجتماعی، معاشی انصاف اور رفاہِ عامہ کا قیام؛ زکٰوۃ، وقف، بیت المال، اور قانونِ رحم و قسط کی صورت میں رحمت کے ادارے قائم کرنا ہوتا ہے۔ اسلامی ریاست کا بنیادی ہدف انسانوں کے لیے رحمت و برکت کا نظام قائم کرنا ہے۔ اس کا ہر پہلو اللہ اور رسول ﷺ کی رحمت کا ترجمان ہوتا ہے۔
جہاد — ظلم کے مقابل نظامِ رحمت کا دفاع
جہاد دینِ رحمت میں صرف عسکری دفاع کا نام نہیں، بلکہ ظلم، استبداد، استعمار، اور فساد فی الارض کے خلاف ایک مصلحانہ اقدام ہے تاکہ انسان کی فطرت اور ضمیر کو آزاد کیا جا سکے؛۔دینِ رحمت کو دبانے، روکنے یا بگاڑنے والوں کے خلاف رحمت کے نظام کا تحفظ کیا جا سکے؛ اور مظلوم اقوام کے لیے رحمت کا سایہ فراہم کیا جا سکے۔ جہاد کی اصل روح اقامتِ عدل اور دفعِ ظلم ہے۔ جہاد ایک قانونی، اخلاقی اور انسان دوست ردعمل ہے، نہ کہ اقتدار پرستی یا نفرت انگیزی۔
اقامتِ دین کو رحمت کے تناظر (Paradigm) میں دیکھا جائے تو یہ ایک اصلاحی، رحمانی، اور انسانی دوستی پر مبنی تحریکی تعبیر بن جاتی ہے۔ اس تعبیر میں اقامتِ دین جبر، غلبہ یا سیاسی تسلط کا نام نہیں بلکہ یہ رحمت الٰہی کے نظام کو زمین پر ” ظاہر “ کرنے کا ایک منظم عمل ہے۔ رحمانی تعبیر میں اقامتِ دین کا مطلب یہ ہے کہ:
دین کا” نفاذ “ دراصل دین کا ”اظہار“ ہے — یعنی دینِ حق کو انسانی زندگی کے ہر پہلو میں خیر اور رحمت کے طور پر ظاہر اور نمایاں کرنا۔
قوت، خدمت کا ذریعہ ہے — یعنی کمزور کے تحفظ، معاشرتی عدل اور امن و امان کو قائم کرنے کے لئے استعمال میں لائی جانے والی استعداد وطاقت ۔
تواصی بالصبر و تواصی بالمرحمہ — فرد اور امت دونوں کی شمولیت، صبر سے داخلی استقامت اور مرحمہ سے خارجی اصلاح و تبدیلی پیدا کرنے کی سعئ مسلسل ۔
وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتُ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیآءُ بَعۡضٍ ۘ یاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ ینۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ یطِیۡعُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ اُولٰٓئِکَ سَیرۡحَمُہُمُ اللّٰہُ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿التوبہ : ۷۱﴾
(مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں ، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰة دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہو کر رہے گی ، یقیناً اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔)
یہ آیت نہایت بلیغ انداز میں اقامت ِ دین کے تمام أمور کو اللہ کی رحمت سے جوڑتی ہے ؛ اور منتہائے مقصودکو کمالِ رفعت دے کرنزولِ رحمتِ خداوندی تک پہنچاتی ہے۔ اس لئے اقامتِ دین کا ہدف رحمتِ خداوندی کا حصول ہے۔
اس تعبیر کے امتیازی مضمرات
دعوتی سطح پر قبولیت: ’’نظامِ رحمت‘‘کا بیانیہ صرف مسلمانوں کو نہیں، بلکہ پوری انسانیت کو مخاطب کرنے کی امتیازی خاصیت رکھتا ہے۔ یہ تعصب اور غلبے کی غلط فہمیوں کا پیشگی انسداد کرتے ہوئے اخلاقی قیادت، ہمدردی اور عالمگیر خیر کا پیغام دیتا ہے۔ اس طرح پیغام رسانی ، عوامی قبولیت، فکری ہم آہنگی، دلوں میں تسلیم، اور معاشروں میں مثبت اقدار پیدا کرنے کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔
روحانی مرکزیت: یہ تعبیر دین کی روح — یعنی ’’قلبی تعلق‘‘، ’’رحمت کی نیابت‘‘، ’’عبادت کی شیرینی‘‘— کو مرکز میں لاتی ہے، اور محض ظاہری عمل یا نظام سازی تک محدود نہیں رہتی۔
حکمتِ عملی میں وسعت: اقامتِ دین کو اقامتِ نظامِ رحمت کی تعبیر دینے سے یہ کام صرف سیاسی جدوجہد یا حکومت سازی تک محدود نہیں رہتا، بلکہ تعلیم، تہذیب، دعوت، سماج، معیشت اور حتیٰ کہ فن و ادب تک اپنا فطری پھیلاؤ رکھتا ہے۔
نفسیاتی کشادگی: یہ تعبیر ’’رحمت‘‘کو اصل منزل قرار دیتی ہے، نہ کہ ’’نفاذ‘‘کو۔ اس سے مسلمانوں میں طاقت، سختی، غلبہ یا اجبار کے بیانیے کی جگہ اخلاقی قیادت، شفقت اور نرمی کا مزاج پیدا ہونے میں غیر معمولی مدد ملتی ہے۔ دوسری طرف مخاطبین کی جانب سے شدت پسندانہ ردّعمل، سنگدلی، اور فکری انکار و ہٹ دھرمی جیسے نقصانات سے بچاؤ کی مؤثر تدبیر ہے ۔
اس تعبیر کا فائدہ یہ بھی ہے کہ: رحمت کو مسلم شعور میں ایک مرکزی قدر کے طور پر جگہ دی جا سکتی ہے؛ اقامتِ دین کو نفاذ یا قبضہ کے طور پر نہیں بلکہ رحمت کی مجسم صورت میں سمجھا جا سکتا ہے ؛ اور تربیتی سطح پر لوگوں کو زیادہ حکمت، فہم، اور جذبے کے ساتھ قریب لایا جا سکتا ہے۔
تعبیر کی یہ تبدیلی دراصل ربّانی حکمت اور روح ِ دینِ فطرت کی بازیافت ہے ۔ تعبیر کا فرق، تحریک کی روح کو بھی تازہ اور شاداب رکھتا ہے۔ ’’نظامِ رحمت‘‘ کا بیانیہ، اقامتِ دین کو: جبر سے آمادگی میں؛اقتدار سے خدمت میں ؛غلبے سے قبولیت میں ؛ قانون سے اخلاق میں تبدیل کرتا ہے — نہ اس کے مفہوم کو بدلتا ہے اور نہ اس کی عظمت کو گھٹاتا ہے، بلکہ اس کی اصل روح کو واضح تر ،زیادہ قابلِ فہم اور محبوب تر بناتا ہے۔
اقامتِ دین کی عمومی اور رحمانی تعبیر کا فرق
عمومی تعبیر کی بنیاد غلبہ و تسلط ہے، جبکہ رحمانی تعبیر کی بنیاد خدمت ورحمت ہے۔ عمومی تعبیر میں قوت کا بنیادی مقصد سیاسی اقتدار کا حصول ہوتا ہے جبکہ رحمانی تعبیر میں اس سے آگے بڑھ کر عدل و رحمت کا قیام۔ عمومی تعبیر میں تعلقاتِ انسانی اکثر باہمی تصادم پر مبنی ہوتے ہیں جبکہ رحمانی تعبیر میں شفقت اور خیر خواہی پر۔ عمومی تعبیر میں معاشرتی اثر تردُّد اور اضمحلال کی خاصیت رکھتا ہے جبکہ رحمانی تعبیر میں اعتماد، امن اور خیر کی۔ عمومی تعبیر میں دعوتی اسلوب میں تحکم و تصغیر کا رنگ غالب آ جاتا ہے جبکہ رحمانی تعبیر میں حکمت، موعظت اور مرحمہ کا۔( خیال رہے کہ یہاں عمومی تعبیر سے مراد وہ تعبیر ہے جو عام پڑھے لکھے مسلمانوں کے ذہن ( Perception ) میں پائی جاتی ہے ، نہ کہ اکادیمی حلقوں میں ۔)
یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ “نظامِ رحمت” کا بیانیہ، اقامتِ دین کی عام تعبیر سے یکسر مختلف نہیں بلکہ حقیقتاً اس کی تفصیل اور تکمیل ہے۔ دراصل، دینِ اسلام خود سراسر رحمت کا نظام ہے۔ اس کی بنیاد الرحمٰن الرحیم کی صفات پر ہے، اس کا مظہر رسولِ رحمت ﷺ ہیں، اور اس کے اصول عدل، عفو، تعاون، خیر خواہی، شفقت، مساوات اور حکمت پر مبنی ہیں۔ لہٰذا اقامتِ دین کا حقیقی مفہوم ہی یہ ہے کہ دنیا میں ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جو: عدل و احسان پر مبنی ہو؛ طاقت و تسلط کی جگہ مروت و اختیارکو معیار بنائے؛ قانون کی روح میں رحم اور حکمت موجود ہو ؛ اور تعلیم، معیشت، سیاست اور سماج ہر سطح پر انسان کو کرامۃ (Dignity)عطا کرے۔
“دین کا نفاذ ہی نہیں بلکہ دین کا اظہار “ اقامتِ دین کے پورے رحمانی بیانیے کا نچوڑ ہے۔ اس جملے کی معنوی گہرائی درج ذیل نکات میں کھلتی ہے جب ہم مندرجہ ذیل آیات کو نبئ اکرم کے اسوہ کی روشنی میں دیکھتے ہیں ۔
’’هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ‘‘ (التوبہ: ۳۳) (وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پوری جنسِ دین پر غالب کر دے ، خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو ۔)
یہاں ’’لیظہرہ‘‘یعنی ’’ظاہر کرنا‘‘آیا ہے، ’’نافذ کرنا‘‘ نہیں۔
’’لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ‘‘ (البقرة: 256) دین کے معاملے میں کوئی زورزبردستی نہیںہے)
دین دل کی آزادی اور رضامندی سے ”ظاہر“ ہوتا ہے، جبر سے نہیں۔
نبی ﷺ کا اسوہ: دعوت، تزکیہ، تعلیم — ان سب کی روح اور قوتِ متحرکہ ” رحمت للعالمین“ ہے— کے ذریعے دین کا ظہور۔
اقامتِ دین کے حوالے سے ’’اظہارِ دین ‘‘ کا مطلب ہے: دین کو زندگی کے ہر پہلو میں رحمت، عدل، اور خیر کی صورت میں ظاہر کرنا۔ ایسا معاشرہ بنانا جو اپنی ساخت میں رحمت للعالمینکا عملی مظہر ہو۔ قوت کو محض حکم دینے کے بجائے نمونہ اور گواہی (شہادتِ رحمت) میں تبدیل کرنا۔
نفاذِ شریعت کی اصل صورت: نظامِ رحمت کا قیام
آج ہم جس تاریخی دوراہے پر کھڑے ہیں، وہاں اسلامی شریعت کی تعبیر اور اس کے نفاذ کے طریقے کو محض قانونی، سیاسی یا جذباتی سطح پر بیان کرنا نہ صرف ناکافی ہے بلکہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ اس وقت ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اقامتِ دین کو اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھیں — یعنی نظامِ رحمت کے قیام کو دین کا عملی مظہر بنائیں، نہ کہ محض قانون کے غلبے یا طاقت کے اظہار کا ذریعہ۔
نفاذِ شریعت کیا ہے؟ نفاذِ شریعت دراصل رحمتِ الہیۃ کی حاکمیت کا قیام ہے — یعنی ایک ایسا نظامِ زندگی جو انسان کی باطنی بندگی اور خارجی اطاعت کو ہم آہنگ کر دے۔ اس کا مفہوم:
شریعت کے احکام کو ایسے زندہ اقدار میں بدل دینا جو معاشرے، معیشت، سیاست اور ثقافت کا دھارا بن جائیں۔
ایسا نظم پیدا کرنا جو محض جبری قوانین کے بجائے اخلاقی خوداختیاری پر استوار ہو۔
دین کے اوامر و نواہی کو رحمتِ خداوندی کے مظاہر کے طور پر نافذ کرنا — نہ کہ جبر یا نری قوت سے۔
کلیدی نکتہ دراصل یہ ہے کہ شریعت کا نفاذ دلوں میں تسلیم، معاشرے میں اخلاق اور ریاست میں عدل کے قیام کا نام ہے — نہ کہ محض ’’ اسلامی قانون‘‘کے نفاذ کا۔
نفاذِ شریعت کیوں؟
نفاذِ شریعت کی حقیقی علت اور جوہری بنیاد ان تین نکات پر مشتمل ہے:
۱۔ انسان کی حقیقت بندگی ہے، اور بندگی کا عملی اظہار نظامِ رحمت میں ہی ممکن ہے۔
شریعت کے نفاذ کا اصل مقصد کوئی سیاسی فتح نہیں بلکہ بندے کو اس کی حقیقت (یعنی عبودیت) اور غایت (رضائے الٰہی) سے جوڑنا ہے۔ پرستش، بندگی اور سجدوں کی سزاوار ذات تو الرحمٰن ہی ہو سکتی ہے کیونکہ بندگی اور پرستش کی روح احسان مندی ہے اور وہی ہستی جو رحمت کی مصدرِ مطلق ہے اصل محسن ہے۔ اسی لئے قرآن سجدہ کا حکم دیتا ہے تو بہت لطیف انداز میں اس حکم کی توجیہ کے لئے خدا کا خاص اسمِ ذات ” الرحمٰن “ استعمال کرتا ہے۔
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اسۡجُدُوۡا لِلرَّحۡمٰنِ قَالُوۡا وَ مَا الرَّحۡمٰنُ اَنَسۡجُدُ لِمَا تَاۡمُرُنَا وَ زَادَہُمۡ نُفُوۡرًا ﴿الفرقان: ۶۰) (ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ اس رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمان کیا ہوتا ہے ؟ کیا بس جسے تو کہہ دے اسی کو ہم سجدہ کرتے پھریں؟ یہ دعوت ان کی نفرت میں الٹا اور اضافہ کر دیتی ہے ۔ )
اور جب قرآن خشیتِ قلبی کا ذکر کرتا ہے تو وہاں بھی اسمِ ذات ” الرحمٰن “ کا خصوصی تذکرہ کرتا ہے۔
اِنَّمَا تُنۡذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکۡرَ وَ خَشِی الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَیۡبِ ۚ فَبَشِّرۡہُ بِمَغۡفِرَۃٍ وَّ اَجۡرٍ کَرِیۡمٍ ﴿يٰسين : ١١﴾( تم تو اسی شخص کو خبردار کر سکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور بے دیکھے خدائے رحمان سے ڈرے ۔ اسے مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دو ۔)
۲۔ نظامِ رحمت کے بغیر ، بندگی ایک غیر مرئی خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ اگر بندگی کا معاشرتی و ریاستی نظام قائم نہ ہو تو فرد کی داخلی بندگی بھی محدود اور بےاثر ہو جاتی ہے۔
وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۱۳۲﴾(اور اللہ اور رسول کا حکم مان لو ، توقع ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا ۔)
اَمَّنۡ ہُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیۡلِ سَاجِدًا وَّ قَآئِمًا یحۡذَرُ الۡاٰخِرَۃَ وَ یرۡجُوۡا رَحۡمَۃَ رَبِّہٖ قُلۡ ہَلۡ یسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یعۡلَمُوۡنَ اِنَّمَا یتَذَکَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ۔ ( الزمر: ۹)
( کیا اس شخص کی روش بہتر ہے یا اس شخص کی ) جو مطیع فرمان ہے ، رات کی گھڑیوں میں کھڑا رہتا اور سجدے کرتا ہے ، آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت سے امید لگاتا ہے ؟
۳۔ نفاذِ شریعت، دین کے ہمہ جہتی شعور کو زندگی کا مرکز بنا دیتا ہے۔ یہ ہمیں محض عقائد کے ماننے والوں سے اٹھاکر ایک تمدنِ رحمت کے حاملین میں بدلتا ہے۔
فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ اعۡتَصَمُوۡا بِہٖ فَسَیدۡخِلُہُمۡ فِیۡ رَحۡمَۃٍ مِّنۡہُ وَ فَضۡلٍ ۙ وَّ یہۡدِیۡہِمۡ اِلَیۡہِ صِرَاطًا مُّسۡتَقِیۡمًا ﴿۱۷۵﴾ ( اب جو لوگ اللہ کی بات مان لیں گے اور اس کی پناہ ڈھونڈیں گے ان کو اللہ اپنی رحمت اور اپنے فضل و کرم کے دامن میں لے لے گا اور اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ ان کو دکھا دے گا ۔ )
نفاذِ شریعت — رحمت کا ضابطۂ حیات
شریعت کا ہر حکم — چاہے وہ عبادات ہوں، معاملات، تعزیرات یا معاشرتی اصول — رحمت کے اصول پر قائم ہے :’’ما جعل عليكم في الدين من حرج ‘‘ (الحج: 78)
’’ يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر‘‘ (البقرة: 185)
اس کی عملی اور معاشرتی تاثیر کی چند جھلکیاں اس طرح دیکھی جا سکتی ہیںکہ : روزہ — روح کی تربیت؛ زکٰوۃ — سماجی ہمدردی؛ حدود — ظلم سے تحفظ؛ اور تجارت کے اصول — باہمی اعتماد فراہم کرتے ہیں۔
……وَ رَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ ؕ فَسَاَکۡتُبُہَا لِلَّذِیۡنَ یتَّقُوۡنَ وَ یؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِاٰیٰتِنَا یؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۵۶﴾
(……مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے ، اور اسے میں ان لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے ، زکوٰة دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے) ۔
شریعت کا نفاذ درحقیقت انسانی فلاح کا نفاذ ہے۔ اس کے بغیر نظامِ رحمت نامکمل رہتا ہے۔ اور شریعت کا نفاذ تب ہی رحمت بن سکتا ہے جب وہ نبی رحمت ﷺ کے مزاج میں رچا بسا ہو۔ ’’نظامِ رحمت کا قیام‘‘ دراصل اقامتِ دین کا حکیمانہ، دلنشین اور سیرتِ نبوی ﷺ سے ہم آہنگ فریم ورک ہے۔ یہی وہ بیانیہ ہے جو اسلاموفوبیا کے موجودہ دور میں اسلام کی اصل روح کو قابلِ فہم، قابلِ قبول اور قابلِ عمل بناتا ہے۔ (جاری)







