رسائل ومسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

کیا غوروتدبر کا تعلق دل سے ہے؟

سوال: سورۂ محمد کی آیت نمبر ۲۴ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَی قُلُوبٍ أَقْفَالُہَاo

’’کیا یہ لوگ قرآن پر غورو تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں؟‘‘

عام طورپر غوروفکر اور تدبر کا تعلق دماغ سے سمجھاجاتاہے۔ لیکن اس آیت مبارکہ سے پتا چلتا ہے کہ اگر دلوں پر قفل پڑے ہوں تو انسان قرآن مجید پر غورو فکر اورتدبر نہیں کرپاتا۔ ازراہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ قرآن مجید میں غوروفکر اور تدبر کے ضمن میں انسانی دل کس طرح اپناکردار نبھاتا ہے؟

غلاّم حقانی،محبوب گارڈن کالونی، حیدرآباد-۸

جواب: قرآن کریم میں کثرت سے ایسی آیتیں ہیں جن میں آخرت اور دیگر عقائد پر استدلال کرتے ہوئے انسانوں کو غوروتدبر کا حکم دیاہے اور ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو اندھے بہرے بنے رہتے ہیں اور عقل کو کام میں نہیں لاتے۔ کہاگیاہے کہ مختلف مظاہر کائنات، خود انسان کے وجود اور تاریخ میں کثرت سے نشانیاں ہیں، ان لوگوں کے لیے جو عقل و تدبر سے کام لیتے ہیں۔ ان کے لیے قَومٌ یَّعْقِلُونَ، قَوْمٌ یَّتَفَکَّرُوْنَ، قَوْمٌ یَّفْقَہُوْنَ، قَوْمٌ یَذَّکَّرُوْنَ، اُوْلِی الْاَلْبَاب، اُوْلِی الاَبْصَارِ، اُوْلِی النُّہیٰ اور ذِیْ حِجْر کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اسی طرح تعقَّل و تفکُّر پر ابھارنے کے لیے اَفَلاَ تُبصِرُونَ،اَفَلاَ تَعْقِلُونَ، اَفَلاَ یَتَدَبِّرُونَ، اَفَلاَ تَذَکَّروُنَ، اور اَفَلاَ تَتَفَکَّرُونَ جیسے الفاظ لایے گئے ہیں۔ ﴿قرآن کریم میں تفکرو تدبر پر کتنا زور دیاگیاہے اس پر تحقیقی بحث کے لیے ملاحظہ کیجیے عقلیاتِ قرآن کریم، ڈاکٹر فاطمہ اسماعیل مصری، ترجمہ عبیداللہ فہد، ادارہ علوم اسلامیہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی﴾

قرآن کریم میں آیتِ مذکور کے علاوہ متعدد آیات ایسی ہیں، جن میں علم، عقل، ذکر، فقہ اور تدبر وغیرہ کو قلب کی طرف منسوب کیاگیا ہے۔ مثلاً:

أَفَلَمْ یَسِیْرُوا فِیْ الْأَرْضِ فَتَکُونَ لَہُمْ قُلُوبٌ یَعْقِلُونَ بِہَا﴿الحج: ۴۶﴾

’کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں، جن سے ان کے دل ایسے ہوجائیں کہ ان سے سمجھنے لگیں…‘

لَہُمْ قُلُوبٌ لاَّ یَفْقَہُونَ بِہَا  ﴿الاعراف:۱۷۹﴾

’ان کے پاس دل میں، مگر وہ ا سے سوچتے نہیں‘

وَطَبَعَ اللّٰہُ عَلَی قُلُوبِہِمْ فَہُمْ لاَ یَعْلَمُون ﴿التوبۃ: ۹۳﴾

’اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپّہ لگادیا، اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے۔‘

اِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَذِکْرَی لِمَن کَانَ لَہُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیْدo﴿ق:۳۷﴾

’’اس ﴿تاریخ﴾ میں عبرت کا سبق ہے ہر اس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو یا جو توجہ سے بات کو سنے‘‘

ویسے قرآن میں قلب، قلبین اور قلوب کے الفاظ ۱۳۲ مرتبہ استعمال ہوئے ہیں اور بیش تر مقامات پر ان کی طرف علم وعقل اور غوروتدبر کی صفات کی نسبت کی گئی ہے۔ اسی وجہ سے قدیم مفسرین اس طرح کی بات لکھ گئے ہیں کہ علم وعقل کا محل قلب ہے۔ امام رازیؒ فرماتے ہیں:

’’میرے نزدیک قلب خیال اور تدبر سے کنایہ ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اِنَّ فِی ذٰلِکَ لَذِکْرَیٰ لِمَنْ کَانَ لَہ‘قَلْبٌ ﴿اس میں عبرت کا سبق ہے ہر اس شخص کے لیے جو دل رکھتاہو﴾ بعض لوگوں کے نزدیک تفکر کامحل دماغ ہے، لیکن اللہ تعالیٰ یہ واضح کررہاہے کہ اس کامحل سینہ ہے… کیا آیت سے معلوم ہوتاہے کہ عقل ہی علم ہے اور علم کامحل دل ہے؟ اس کا جواب ہے: ہاں، اس لیے کہ ارشاد باری تعالیٰ یَعْقِلُوْنَ بِہَا سے مقصود علم ہے۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ قلب اس عقل کا آلہ ہے، اس لیے اسے عقل کا محل ماننا ضروری ہے۔‘‘  ﴿التفسیرالکبیر، داراحیائ الثرات العربی، ۱۲/۴۵﴾

میڈیکل سائنس میں دل اور دماغ کا شمار اعضاے رئیسہ یعنی جسم انسانی کے انتہائی اہم کام انجام دینے والے اعضا میں ہوتاہے۔ ان سے الگ الگ کام متعلق ہیں۔ دل سینے  میں پایاجانے والا ایک عضو ہے،جو دورانِ خون کانظام کنٹرول کرتاہے۔اس کی انقباضی و انبساطی حرکات سے خون پورے بدن میں، ہر عضو اور ہر خلیّہ میں پہنچتاہے، پھر واپس دل میں آتاہے۔ دماغ حس وحرکات کا مبدأ ہے اور وہ تعقّل و تفکر اور استنباط و استنتاج کی بھی خدمت انجام دیتاہے۔ لیکن زبان و ادب کا معاملہ دوسرا ہے۔ اس میں لفظ ’دل‘ اس معنی میں بھی استعمال ہوتاہے جس میں وہ علم تشریح (Anatomy)میں مستعمل ہے اور اس کا استعمال تعقل وادراک کی خدمت انجام دینے والے عضو کی حیثیت سے بھی ہوتاہے۔ عربی زبان میں بھی لفظ ’قلب‘ مذکورہ دونوں معنو ں میںاستعمال ہوتاتھا۔ اسی لیے قرآن کریم نے بھی اسے انہی معانی میں استعمال کیا۔ ماضی قریب کے مفسّر شیخ طاہر بن عاشور تیونسی ﴿م ۱۹۷۳؁ء﴾ نے آیت خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ ﴿البقرہ:۶﴾ کی تفسیر میں لکھاہے:

’’یہاں قلوب سے مراد عقول ہیں۔ اہل عرب قلب کا اطلاق جسم انسانی میں پائے جانے والے صنوبری شکل کے عضو پر بھی کرتے تھے اور ادراک و عقل پر بھی کرتے تھے۔ انسانوں کے تعلق سے انھوںنے اسے صرف انہی دو معانی میں استعمال کیا ہے اور حیوانات میں بھی اس کااکثر استعمال انہی معانی میں ہوا ہے۔ یہاں اس سے مراد ادراک و عقل ہے۔ یقینا اس کامرکز دماغ ہے، لیکن قلب ہی اس کو وہ قوت بہم پہنچاتا ہے جس سے ادراک کا عمل انجام پاتا ہے۔‘‘                      ﴿التحریر والتنویر،طاہر بن عاشور، تیونس، ۱۹۸۴؁ء ۱/۲۵۵﴾

ڈاکٹر محمد الشرقاوی نے قرآن میں لفظ قلب کے استعمالات سے بحث کرتے ہوئے لکھاہے:

’’اس بات کی طرف اشارہ کردینا مناسب معلوم ہوتاہے کہ لفظ ’قلب‘ کا استعمال اگرچہ قرآن کریم میں ایک سو تیس سے زائد مقامات پر ہواہے، لیکن کسی جگہ بھی وہ طبّی تشریحی (Medical Anatomical)معنی میں نہیں آیا ہے۔ بل کہ اس سے مراد ادراک ومعرفت کا ایک ایسا انتہائی پیچیدہ نظام لیاگیا ہے جو متعدد، متنوع اور باہم مربوط افعال انجام دیتا ہے۔ وہ ایسی منفرد خصوصیات رکھتاہے، جن میں جسم انسانی کی دیگر صلاحیتیں اس کی شریک نہیں ہیں۔ قرآن نے اس کے مفوّضہ کاموں میں سے دو کاتذکرہ خصوصیت سے کیا ہے: ایک ادراک ، معرفت اور علم ہے اور دوسرا ایمان اور اس سے متعلق جذبہ، وجدان اور ارادہ ہے۔‘

﴿تأملاّت حول و سائل الادراک فی القرآن الکریم، عالم الکتب، الریاض، ص۴۳﴾

ایک دوسرے محقق ڈاکٹر محمد علی الجوزو رقم طراز ہیں:

’’قلب کالفظ قرآن کریم میں ۱۳۲/ آیات میںاستعمال ہواہے، جو نفس انسانی کے مختلف پہلوئوں پر گفتگو کرتی ہیں۔ کبھی معلوم ہوتاہے کہ ہم عقل کی کسی صورت کے سامنے یا خود عقل کے سامنے ہیں، کبھی جذبات و احساسات اور وجدانی شعور کے سامنے اپنے کو موجود پاتے ہیں اور کبھی ایسا نظرآتا ہے کہ عقلی وجذباتی پہلوئوں کی جامع تصویر سامنے ہے۔‘   ﴿مفہوم العقل والقلب فی القرآن والسنۃ، ڈاکٹر محمد علی الجوزو، دارالعلم للملایین، بیروت، ۱۹۸۳؁ء، ص۱۸۶﴾

یہ صرف عربی زبان ہی کا معاملہ نہیں ہے، بل کہ دیگر زبانوں میں بھی یہی استعمالات ہیں۔ مثال کے طورپر اردو زبان میں لفظ ’دل‘جہاں جسم انسانی میں پائے جانے والے عضو کے لیے بولاجاتاہے وہیں ادراک، معرفت، احساس، خیال اور ارادے کے افعال بھی اس کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔ مثلاً: دل برداشتگی، دل بستگی، دل پزیری، دل پسندی، دل جمعی، دلچسپی، دل دہی، دل سوزی، دل شکستگی، دل فریبی، دل کشی، دل گرفتگی، دل اچاٹ ہونا، دل باغ باغ ہونا، دل بجھنا، دل بھرآنا، دل پگھلنا، دل پھسلنا، دل دہل جانا، دل مچلنا، دل موہ لینا، د ل میں آنا وغیرہ۔

قرآن کریم میڈیکل سائنس کی کتاب نہیں ہے، بل کہ کتاب ہدایت ہے۔ وہ اس زبان میں کلام کرتا ہے جسے عام انسان آسانی سے سمجھ سکیں اور الفاظ کے وہی معانی مراد لیتاہے جن کی طرف لوگوں کے ذہن فوراً منتقل ہوسکیں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنی شہرۂ آفاق تفسیر تفہیم القرآن میں آیت أَفَلَمْ یَسِیْرُوا فِیْ الْأَرْضِ فَتَکُونَ لَہُمْ قُلُوبٌ یَعْقِلُونَ بِہَا﴿الحج:۴۶﴾ کی تفسیر میں لکھا ہے:

’خیال رہے کہ قرآن سائنس کی زبان میں نہیں، بل کہ ادب کی زبان میں کلام کرتاہے۔ یہاں خواہ مخواہ ذہن اس سوال میں نہ الجھ جائے کہ سینے والا دل کب سوچا کرتا ہے۔ ادبی زبان میں احساسات، جذبات، خیالات، بل کہ قریب قریب تمام ہی افعالِ دماغ سینے اور دل ہی کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔ حتیّٰ کہ کسی چیز کے ’یاد ہونے‘کو بھی یوں کہتے ہیں کہ ’وہ تو میرے سینے میں محفوظ ہے۔‘

﴿تفہیم القرآن، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، ۳/۲۳۶، سورۂ الحج، حاشیہ ۹۱﴾

اوپر جو سوال درج کیاگیاہے اسی طرح کا سوال ایک صاحب نے مولانا مودودیؒ سے کیاتھا۔ وہ سوال اور مولانا کا جواب دونوں کو ذیل میں درج کردینا مناسب معلوم ہوتاہے:

سوال:  خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ سے معاًیہ خیال آتاہے کہ گویا دل خیالات کی ایک جلوہ گاہ (Agency)ہے۔ شاید اُس زمانے میں جالینوس کے نظریات کے تحت ’دل‘ کو سرچشمۂ افکار (Originator of Thoughts)سمجھاجاتا تھا۔ لیکن آج کل طبی تحقیق سے ثابت ہوچکاہے کہ دل صرف دورانِ خون کو جاری رکھنے والا ایک عضو ہے اور ہر قسم کے خیالات اور حسیّات اور ارادے اور جذبات کامرکز دماغ ہے۔ اس تحقیق کی وجہ سے ہر اس موقع پر الجھن پیدا ہوتی ہے جہاں دل سے کوئی ایسی چیز منسوب کی جاتی ہے جس کا تعلق حقیقت میں دماغ سے ہوتاہے۔

جواب: دل کالفظ ادب کی زبان میں کبھی اس معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے، جس میں یہ لفظ علم تشریح اور علم و ظائف الاعضاء  (Physiology)میں استعمال ہوتاہے۔ ادب میں دماغ Creationکی نمایندگی کرتاہے اور اس کے برعکس دل جذبات وحسّیات اور خواہش وارادے کامرکز مانا جاتاہے۔ ہم رات دن بولتے ہیں کہ میرا دل نہیں مانتا، میرے دل میں یہ خیال آیا، میرا دل یہ چاہتاہے۔ انگریزی میں Qualities of head and heartکا فقرہ کثرت سے استعمال کیاجاتاہے۔ یہ الفاظ بولتے وقت کوئی شخص بھی علم تشریح والا دل مراد نہیں لیتاہے۔ ممکن ہے کہ اس کاآغاز اسی نظریے کے تحت ہوا ہو جو جالینوس کی طرف منسوب ہے، لیکن ادب میں جو الفاظ رائج ہوجاتے ہیں، وہ بسااوقات اپنے ابتدائی معنی کے تابع نہیں رہتے۔‘‘ ﴿رسائل ومسائل، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، ۲۰۰۶؁ء، ۲/۲۵۸-۲۵۹﴾

قرآن کریم میں اس معنی کے لیے ’فؤاد‘ اور اس کی جمع ’افئدۃ‘ کے الفاظ کابھی استعمال ہوا ہے:

اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ أُول ئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُلا﴿بنی اسرائیل: ۳۶﴾

’یقینا کان، آنکھ اوردل سب ہی کی بازپرست ہونی ہے۔‘

وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَۃَ  ﴿السجدہ:۹﴾

’’اور تم کو کان، آنکھ اور دل دیے‘‘

اس کا ترجمہ بھی اردو میں ’دل‘ سے کیاجاتاہے۔ لیکن اس کے طبّی معنی نہیں، بل کہ ادبی معنی مراد ہوتے ہیں۔ مولانا مودودیؒ نے لکھاہے:

’دل سے مراد وہ ’ذہن‘ (Mind)ہے جو حواس کے ذریعے سے حاصل شدہ معلومات کو مرتب کرکے ان سے نتائج نکالتاہے اورعمل کی مختلف امکانی راہوں میں سے کوئی راہ منتخب کرتا اور اس پر چلنے کا فیصلہ کرتاہے۔‘  ﴿تفہیم القرآن، ۴/۴۲، سورہ السجدہ، حاشیہ۱۷﴾

قرآن کریم میں ایک لفظ ’صدر‘ ﴿سینہ﴾ کا بھی استعمال اسی معنی میں ہوا ہے۔ گویا قلب، فؤاد اور صدر تینوں الفاظ قرآن میں نیت وارادہ، تعقل وتفکر، غوروتدبر، جذبہ وخواہش اور علم وادراک کے مراکز کے طورسے استعمال ہوئے ہیں۔اور یہ استعمال ادبی حیثیت سے بالکل درست ہے اور آج بھی دنیا کے تمام خطوں میں اور تمام زبانوں میں معروف ہے۔ یہ تشریح مولانا مودودیؒ کے مکاتیب میں بھی ایک جگہ ملتی ہے۔ انھوں نے لکھاہے:

’’قرآن مجیدچونکہ سائنس کی زبان میں نہیں،بل کہ ادب کی زبان میں نازل ہواہے، اس لیے وہ قلب، فواد اور صدر کے الفاظ اسی طرح ادبی طرزمیں استعمال کرتاہے، جس طرح تمام دنیا کی زبانوں میں یہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً اردو میں ہم کہتے ہیں کہ ’اس بات کو میرا دل نہیں مانتا‘ یا ’فلاں شخص کا سینہ بے کینہ ہے‘ یا انگریزی میں Heart Searchingاور Qualities of Head and Heartکے الفاظ بولے جاتے ہیں۔ اس سے خود بہ خود یہ ظاہر ہوجاتاہے کہ قلب، فؤاد اور صدر سے مراد علم، شعور، جذبات، ارادوں، نیتوں اور خواہشات کے مراکز ہیں۔ ادب کی زبان میں اس مقصد کے لیے دماغ کالفظ کم اور دل کالفظ زیادہ استعمال ہوتاہے، بل کہ دماغ کے بجائے بھی زیادہ تر ’سر‘ کالفظ بولتے ہیں، جیسے سرِ پُرغرور، یا فلاں شخص سرپھرا ہے۔‘‘

﴿مکاتیب سیدالابوالاعلیٰ مودودیؒ، مکتبہ ذکریٰ رام پور، ۱۹۸۴؁ء جلددوم، ص۳۶۹، مکتوب نمبر:۲۶۰﴾

کیاتعلیم جاری رکھنے کے مقصد سے اسقاط کروایاجاسکتا ہے؟

سوال: ایک خاتون کاتعلیمی سلسلہ جاری تھا کہ اس کا نکاح ہوگیا۔ شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں۔ بیوی کی خواہش پر انھوں نے اسے تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ کورس پورا ہونے میں ابھی ڈیڑھ سال باقی ہے۔ اس عرصے میں ہر چھ ماہ میں ایک بار امتحان کی غرض سے آنا ہوگا۔ ایک ماہ ہونے کو ہے، بیوی کو معلوم ہواکہ وہ حمل سے ہے۔ وہ دورانِ تعلیم حمل و وضع حمل کے بکھیڑوں سے آزاد رہناچاہتی ہے، اس لیے بچے کی پیدایش اور پرورش کو ڈیڑ ھ سال کے لیے مؤخر کرنا چاہتی ہے۔ ایسی صورت میں کیا موجودہ حمل کا اسقاط کروایا جاسکتا ہے؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے تخلیقِ انسانی کا ایک فطری طریقہ مقرر کیا ہے۔ مرد اور عورت رشتۂ ازدواج میں بندھتے ہیں، ان کے درمیان جنسی تعلق قائم ہوتاہے، اس کے نتیجے میں وہ اولاد کی نعمت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہے۔اس سے خاندان کی رونق قایم رہتی ہے۔مزید یہ کہ اس کے ذریعے نسل انسانی کا تسلسل جاری رہتا ہے۔ اس لیے عام حالات میں شریعت نے اس فطری طریقے کے کسی بھی مرحلے میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ نکاح انبیاء   اور خاص طورپر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ محرکات ہونے کے باوجود اس سے باز رہناپسندیدہ نہیں، اسی طرح نکاح ہوجانے کے بعداولاد کی پیدایش میں کوئی رکاوٹ ڈالنا بھی جائز نہیں۔ عہدجاہلیت میں لوگ اس کی بڑی بھونڈی تدبیر اختیار کرتے تھے کہ پیدایش کے بعد وہ ناپسندیدہ بچوں کو قتل کردیتے تھے۔ اسلام نے ایسا کرنے سے سختی سے روکا اور اس کی شدید مذمت کی۔ اب سائنسی ایجادات کے نتیجے میں پیدایش سے قبل ہی ناپسندیدہ بچوں کو مختلف تدابیر سے ہلاک کردیاجاتاہے۔ یہ عمل فطرت سے بغاوت ہے، اس لیے شریعت کی نظر میں وہ بھی ناجائز ہے۔

دوسری طرف اسلامی شریعت میں احکام پر عمل آوری کے سلسلے میں ’عذر‘ کا اعتبار کیاگیا ہے۔ جوشخص جس درجے میںمعذور ہے اسی درجے میں اس سے احکام ساقط ہوجاتے ہیں۔ کوئی مرد یا عورت کسی وجہ سے حقوقِ زوجیت ادا کرنے پر قادر نہ ہوتو وہ حکم نکاح کی مخاطب نہیں ہے۔ عورت کسی ایسے مرض میں مبتلا ہوکہ وہ حمل کو ولادت کے مرحلے تک پہنچانے کی متحمل نہ ہو یا اس سے اس کے مرض میں اضافے کا ظن غالب ہوتو استقرار حمل کے بعد بھی شریعت نے اسے اسقاط کروانے کی اجازت دی ہے۔ عورت ایڈز کا شکار ہو اور یہ یقینی ہوکہ حمل کو جاری رکھنے کی صورت میں بچہ بھی ایڈز زدہ پیداہوگا، ایسی صورت میں حمل کو ساقط کروایاجاسکتا ہے۔ تشخیصی آلات کے ذریعے معلوم ہوگیاہو کہ رحم مادر میں پرورش پانے والا جنین ناقص الخلقت ہے، پیدایش کے بعد وہ طبعی ز ندگی نہیں گزارسکے گا، تو اس کا اسقاط کروانے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس طرح کی اور بھی دیگر صورتیں سوچی جاسکتی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ کوئی بھی صورت، جس میں عورت یا جنین کی زندگی کو ضرر پہنچنے کا ظن غالب ہو، اس میں اسقاط کروایاجاسکتا ہے۔

سوال پیداہوتاہے کہ کیا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی خواہش اسی طرح کاکوئی عذر ہے جس کی بنا پر اسقاط جائز ہوجائے؟ اس سوال کا جواب دینے سے قبل چند نکات پر غور کرلینا چاہیے:

۱-            اللہ تعالیٰ کی نوازش کے الگ الگ پیمانے ہیں۔ وہ کسی کو صرف لڑکے دیتا ہے، کسی کو صرف لڑکیاں، کسی کو دونوں اور کسی کو کسی مصلحت سے اولاد سے محروم رکھتا ہے ﴿الشوریٰ:۴۹،۵۰﴾ کسی کو بہت سی اولادوں سے نوازتا ہے، کسی کو دواورکسی کو صرف ایک لڑکی یا لڑکا عطا کرتا ہے۔ کیا خبر کہ اس نے کسی عورت کی تقدیر میں صرف ایک مرتبہ استقرارِ حمل لکھاہو اور وہ اس کا اسقاط کرواکے خود کو ہمیشہ کے لیے اولاد کی نعمت سے محروم کرلے۔

۲-           فطری نظام میں چھیڑچھاڑ بسااوقات ضرررساں ہوتی ہے۔ حمل چاہے ابتدائی ایام کاہو یا آخری ایام کا اور اسقاط چاہے دواؤں کے ذریعے کروایاجائے یا صفائی کے آلات (D & C)کے ذریعے، کسی نہ کسی درجے میں اس کا مکان موجود رہتاہے کہ اس چھیڑچھاڑ کے نتیجے میں رحم میں آئندہ استقرار حمل نہ ہوپائے۔ پھر کیا یہ عمل معقولیت پر مبنی ہوگا کہ کوئی عورت استقرار حمل کا اسقاط کرواکے خود کو اس خطرے میںڈال لے۔

۳-          مناسب ہے کہ تعلیمی سلسلے کو وضع حمل تک کے لیے موقوف کردیاجائے۔ تعلیم جاری رکھنے کی خواہش چاہے محض علمی صلاحیت میں اضافے کے لیے ہو یا اس کے بعد ملازمت کرنے کا ارادہ ہو، دونوں صورتوں میں ایک سال کا وقفہ اتنا زیادہ نہیں ہے کہ اسے انگیز نہ کیاجاسکے۔ یونی ورسٹیوں میں ایسی سہولیات موجود ہوتی ہے کہ کوئی کورس کرتے ہوئے کسی عذر کی بنا پر درمیان میں وقفہ کیاجاسکتا ہے۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

جو شخص بھی ان نکات کو اپنے پیش نظر رکھے گا اس کا جواب یہی ہوگا کہ تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی خواہش کو ئی شرعی عذر نہیں ہے۔ اس بنا پر اس کے لیے استقرار شدہ حمل کا اسقاط کروانا جائز نہیں ہے۔

فروری 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau