فکر کی دنیا میں سب سے بنیادی سوال یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی کو کس زاویے سے دیکھتا ہے۔ جدید دنیا کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے انسان کو علم تو دیا، مگر مقصد چھین لیا۔ چنانچہ انسان کے پاس سہولتیں بڑھ گئیں، مگر زندگی کا معنی کمزور ہو گیا۔ قرآن اس بحران کا علاج اس کی جڑ میں کرتا ہے۔ وہ انسان کو واضح طور سے بتاتا ہے کہ وہ بے مقصد نہیں، بلکہ آزمائش کے لئے ہے اور اس کے وجود کا ایک ربانی مقصد ہے۔
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات:56)
(اور میں نے جنّ و انس کو پیدا نہیں کیا مگر اس لئے کہ وہ میری عبادت کریں۔)
قرآن کی زبان میں عبادت بندگی کامل ہے۔ یعنی انسان کی فکر، اس کی خواہش، اس کا کردار، اس کی ترجیحات، اس کا نظامِ زندگی سب اللہ کی رضا کے تابع ہوں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس سے اقامتِ دین کا تصور خود بخود پیدا ہوتا ہے، کیونکہ بندگی اگر کامل ہے تو اس کا اثر لازماً اجتماعی زندگی میں بھی ظاہر ہوگا۔
قرآن مقصد کے ساتھ جواب دہی کا تصور جوڑتا ہے۔ مقصد اگر نہ ہو تو عمل کمزور پڑ جاتا ہے، اور اگر جواب دہی نہ ہو تو جدوجہد بے روح ہو جاتی ہے۔ قرآن انسان کو جھنجھوڑ کر بتاتا ہے کہ یہ زندگی عبث نہیں۔
أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ (المؤمنون: 115)
(کیا تم نے یہ گمان کر لیا کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہ جاؤ گے؟)
قرآن کی یہ تعبیراقامتِ دین کے داعی کو ایک گہرا اخلاقی وژن عطا کرتی ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ دین کی جدوجہد کوئی وقتی سرگرمی نہیں بلکہ جواب دہی کے احساس کے ساتھ ادا کی جانے والی ذمہ داری ہے۔
علامہ اقبال نے اپنے خطبات میں یہ بات نہایت واضح انداز میں بیان کی کہ اسلام “عمل” کا دین ہے، اور قرآن کا بنیادی کارنامہ یہ ہے کہ وہ انسان کو مقصدیت عطا کرتا ہے۔ اسی مقصدیت سے ایک نئی اخلاقی دنیا پیدا ہوتی ہے۔ دوسری طرف شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے “حجۃ اللہ البالغہ” میں دین کے مقاصد کو انسان کی فلاح اور معاشرتی اصلاح کے ساتھ جوڑ کر یہ واضح کیا کہ شریعت کا مقصد فرد کو بھی سنوارنا ہے اور معاشرے کو بھی۔
قرآن کی مقصدیت اقامتِ دین کی فکر کو فطری بنیاد فراہم کرتی ہے۔
قرآن اور توحیدِ عملی
قرآن کی فکری بنیاد کا دوسرا بڑا ستون توحید ہے، مگر توحید یہاں صرف ایک نظری عقیدہ نہیں، بلکہ زندگی کی مضبوط بنیاد ہے۔ قرآن انسان کو یہ بتاتا ہے کہ اطاعت، حکم، معیار، اور فیصلہ سازی کا اصل حق صرف اللہ کے پاس ہے۔ یہی توحیدِ عملی ہے، اور یہی اقامتِ دین کی روح۔
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ° لَا شَرِيكَ لَهُ ° (الانعام: 162-163)
(کہہ دیجئے! بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ )
قرآن دین اور دنیا کی مصنوعی تقسیم کو رد کرتا ہے۔ قرآن ایک مسلمان کو دوہری زندگی کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ تقاضا کرتا ہے کہ انسان کی عبادت بھی اللہ کے لئے ہو اور اس کی زندگی کی سمت بھی اللہ کے لئے ہو۔ اقامتِ دین کی جدوجہد اسی حقیقت کا اجتماعی اظہار ہے۔ قرآن دین کی جامع تعبیر کو “حکم” کے تصور کے ذریعے واضح کرتا ہے:
إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ (یوسف: 40)
(حکم صرف اللہ کا ہے۔)
یہاں قرآن دین کو صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ “حاکمیتِ الٰہی” کے اصول پر قائم ایک نظامِ زندگی قرار دیتا ہے۔ اقامتِ دین کا مطلب یہی ہے کہ انسانی معاشرہ اللہ کی ہدایت کے مطابق اپنے فیصلے کرے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ یہ تصور کسی خاص سیاسی خواہش کا نام نہیں، بلکہ قرآن کی بنیادی فکر ہے کہ انسان انسان کا غلام نہ رہے، وہ اللہ کا بندہ رہے۔
مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے ” تدبرِ قرآن“میں دین کی اسی جامعیت کو نظمِ قرآن کے تحت واضح کیا ہے کہ قرآن کا پیغام ایک مربوط نظام ہے، اور اس میں عبادت سے لے کر معاشرت اور ریاست تک سب شامل ہے۔ امام فراہیؒ کے مطابق قرآن کا دین محض جزوی ہدایات نہیں بلکہ ایک مکمل اور مربوط فکری و عملی نظام ہے۔
سید قطب شہیدؒ نے “معالم فی الطریق” میں اس حقیقت کو نہایت جرأت اور فکری صراحت کے ساتھ واضح کیا کہ جدید دور کی جاہلیت بتوں کی پرستش تک محدود نہیں رہی، بلکہ وہ انسانی زندگی کے نظام میں منتقل ہو چکی ہے۔ ان کے نزدیک اصل جاہلیت یہ ہے کہ انسان اپنی اجتماعی زندگی کے فیصلوں میں اللہ کی ہدایت کے بجائے انسانوں کی خواہشات، طبقاتی مفادات، قومی تعصبات یا طاقتور گروہوں کے بنائے ہوئے قوانین کو حتمی اتھارٹی مان لے۔ گویا انسان کا انسان پر حاکم ہونا صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک اعتقادی مسئلہ ہے، کیونکہ اس میں بالواسطہ طور پر اللہ کے حقِ حاکمیت میں دوسروں کو شریک کیا جاتا ہے۔ سید قطبؒ کے نزدیک توحید کا تقاضا یہی ہے کہ بندگی صرف نماز اور ذکر تک محدود نہ ہو، بلکہ انسانی زندگی کے پورے نظم میں ظاہر ہو۔ اسی لئے وہ اقامتِ دین کو محض اصلاحِ فرد یا چند اخلاقی تبدیلیوں کا نام نہیں سمجھتے، بلکہ اسے ” حاکمیتِ الٰہی“کے قیام اور جاہلی نظام کی فکری و تمدنی شکست کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تاہم یہ بات بھی ان کے یہاں واضح ہے کہ یہ جدوجہد محض طاقت کی جنگ نہیں، بلکہ ایمان، تربیت، اخلاق، اور ایک صالح جماعت کی تشکیل سے شروع ہوتی ہے، کیونکہ قرآن کا انقلاب پہلے انسان کے اندر سے اٹھتا ہے اور پھر معاشرے میں اپنا نظام قائم کرتا ہے۔
اسی طرح مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ نے ” دین حق“ اور ” تفہیم القرآن“ میں دین کی حقیقت کو ایک جامع اور مربوط تصور کے طور پر پیش کیا۔ ان کے نزدیک دین صرف چند عبادات، روحانی واردات یا انفرادی اخلاقیات کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے جس میں عقیدہ، عبادت، اخلاق، معاشرت، معیشت، قانون اور سیاست سب شامل ہیں۔ مولانا مودودیؒ نے خاص طور پر یہ بات واضح کی کہ اسلام کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی حاکمیت کو مانے، اور اسی کے مطابق زندگی کے تمام معاملات میں اطاعت اختیار کرے۔ چنانچہ اقامتِ دین ان کے نزدیک کوئی وقتی سیاسی تحریک نہیں، بلکہ ایک مستقل دینی فریضہ ہے: یعنی انسان کی زندگی میں اللہ کی بندگی کو فرد کی سطح سے اٹھا کر معاشرے اور ریاست کے نظم تک لے جانا۔ مولانا مودودیؒ کے یہاں اقامتِ دین کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اسلام انسان کو محض ” نجاتِ فرد“ کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ ” ہدایتِ انسانیت“ اور “اصلاحِ تمدن “ کی ذمہ داری بھی دیتا ہے۔ اسی لئے وہ اسلامی تحریک کو دعوت، تربیت، تنظیم، اخلاقی اصلاح اور تدریجی جدوجہد کے ذریعے ایک صالح اجتماعی قوت کی تشکیل کے طور پر دیکھتے ہیں، جو بالآخر معاشرے میں دین کے نظام کو قائم کرنے کے قابل ہو سکے۔
یوں سید قطبؒ اور مولانا مودودیؒ دونوں کی فکر کا مشترک نقطہ یہ ہے کہ توحید محض قلبی یقین نہیں بلکہ اجتماعی نظام کی بنیاد ہے، اور دین محض عبادت نہیں بلکہ زندگی کی قیادت ہے۔ اقامتِ دین اسی توحیدِ عملی کا نام ہے کہ انسان اللہ کے دین کو اپنی ذات، اپنے معاشرے اور اپنے اجتماعی نظام میں غالب کرنے کی سنجیدہ اور اخلاقی جدوجہد کرے۔ فرق صرف اسلوبِ بیان اور فکری تعبیر کے بعض زاویوں میں ہے، لیکن دونوں کے یہاں اقامتِ دین کا جوہر یہی ہے کہ انسان کی بندگی صرف مسجد تک محدود نہ رہے، بلکہ انسانی زندگی کے پورے نظم میں اللہ کی ہدایت نافذ ہو، تاکہ انسان ظلم، استحصال اور خواہش پرستی کے نظام سے نکل کر عدل، رحمت اور خیر کے نظام میں داخل ہو سکے۔
قرآن اور امت کا منصب
قرآن کی فکری بنیاد کا تیسرا بڑا پہلو یہ ہے کہ وہ اسلام کو محض فرد کی نجات کا منصوبہ نہیں بتاتا بلکہ امت کی اجتماعی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ قرآن امتِ مسلمہ کو انسانیت کے سامنے “گواہ” بنا کر کھڑا کرتا ہے۔ یہ گواہی محض زبان سے نہیں، نظام سے ہوتی ہے، کردار سے ہوتی ہے، اور اجتماعی عدل سے ہوتی ہے۔
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ (البقرۃ: 143)
(اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک درمیانی امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔)
یہ آیت اقامتِ دین کی فکر کو امت کے منصب سے جوڑ دیتی ہے۔ امت کی گواہی تبھی ممکن ہے جب اس کی اجتماعی زندگی میں دین کی روشنی نظر آئے۔ اگر دین صرف انفرادی عبادت و اطاعت تک محدود ہو جائے تو امت کا منصبِ شہادت ادھورا رہ جاتا ہے۔
قرآن اسی ذمہ داری کو ” امر بالمعروف“اور ” نہی عن المنکر “ کے فریضے کے ذریعے واضح کرتا ہے۔ یہ محض فرد کو نصیحت نہیں بلکہ اجتماعی جدوجہد کی تفویض ہے۔
وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ (آل عمران: 104)
(اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو خیر کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔ )
یہاں ” جماعت“ کا لفظ بہت معنی خیز ہے۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ ہر شخص تنہا یہ کام کرے، بلکہ کہتا ہے کہ ایک منظم جماعت ہونی چاہئے۔ یہی وہ قرآنی بنیاد ہے جس سے اقامتِ دین کی تحریکوں کا جواز اور ضرورت پیدا ہوتی ہے۔
اس پہلو کو کلاسیکی علماء نے بھی نہایت وضاحت سے بیان کیا ہے۔ امام ابن تیمیہؒ نے امر بالمعروف کے موضوع پر لکھتے ہوئے واضح کیا کہ اجتماعی اصلاح کا کام محض وعظ نہیں بلکہ معاشرتی نظام کے اندر خیر کے قیام کی کوشش ہے۔ اسی طرح بہت سے ائمہ کرام نے مقاصدِ شریعت کے تحت واضح کیا کہ شریعت کا مقصد انسانی زندگی میں خیر اور عدل کا قیام ہے، اور یہ مقصد اجتماعی نظام کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔
یہاں یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ اقامتِ دین کا مطلب صرف سیاسی تبدیلی نہیں۔ قرآن امت کے منصب کو دعوت، اخلاق، عدل، اور خدمتِ خلق کے ساتھ جوڑتا ہے۔ چنانچہ اقامتِ دین کی فکر اصل میں ایک تہذیبی ذمہ داری ہے، جس میں دین کی روح بھی شامل ہے اور دین کا نظام بھی۔
قرآن اور اقامتِ دین کا منہج
اقامتِ دین کی فکر اگر صحیح بنیادوں پر قائم ہو تو اس کا منہج لازماً متوازن ہوگا۔ قرآن نہ تو دین کے نام پر بے حکمت شدت پسندی کو قبول کرتا ہے اور نہ دین کے نام پر تساہل پسندی کو۔ قرآن کا منہج یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کی اصلاح کرے، دین کی دعوت دے اور اجتماعی تعمیر کی طرف بڑھے، اور اس پورے راستے میں صبر، حکمت اور اخلاق کو لازم پکڑے۔
قرآن تزکیہ کو بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔ اقامتِ دین کی جدوجہد اگر اخلاقی پاکیزگی سے خالی ہو تو وہ فساد میں بدل سکتی ہے۔
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا (الشمس: 9)
(کامیاب ہوگیا وہ جس نے نفس کو پاک کر لیا۔ )
یہ آیت اقامتِ دین کے کارکن کو یاد دلاتی ہے کہ سب سے پہلی ذمہ داری اپنی ذات ہے۔ امام غزالیؒ نے ” احیاء علوم الدین“ میں اسی پہلو کو مرکزی حیثیت دی کہ دین کا اصل جوہر دل کی اصلاح ہے۔ اگر دل درست نہ ہو تو عبادت بھی بے اثر ہو جاتی ہے اور دینی جدوجہد بھی دنیا پرستی میں بدل جاتی ہے۔
قرآن دعوت کے اسلوب کو حکمت اور حسنِ اخلاق سے جوڑتا ہے:
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل: 125)
(اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو اور ان سے ایسے طریقے پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔ )
یہ آیت اقامتِ دین کے داعی کو سختی، تحقیر اور نفرت کے مزاج سے بچاتی ہے۔ دعوت کا اصل جوہر خیر خواہی ہے۔ اسی اصول کو قرآن نے رسول اللہ ﷺ کی سیرت میں نمونہ بنا کر دکھایا۔ اور یہی منہج اقامتِ دین کی تحریکوں کے لئے بھی لازم ہے۔
قرآن جدوجہد کے راستے میں آزمائش اور صبر کو قانون قرار دیتا ہے:
أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنکبوت:2)
(کیا لوگوں نے یہ گمان کر لیا کہ انہیں صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیا جائے گا کہ ہم ایمان لائے اور ان کی آزمائش نہ ہوگی؟)
اس آیت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اقامتِ دین کی جدوجہد کو قرآن کا یہ حکم حقیقت پسندانہ بناتا ہے۔ اس راستے میں مخالفت ہوگی، قربانی ہوگی اور استقامت کا امتحان ہوگا۔ قرآن جدوجہد کو ایمان کا لازمی تقاضا بناتا ہے، تاکہ دین کے داعی حالات کے دباؤ میں کمزور نہ پڑیں۔
قرآن تبدیلی کے اصول کو بھی واضح کرتا ہے کہ اجتماعی تبدیلی کا آغاز اندرونی تبدیلی سے ہوتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ (الرعد: 11)
(بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلیں۔ )
اقامتِ دین کا راستہ اصلاحِ نفس، تربیت اور فکری تبدیلی کے ساتھ لازم و ملزوم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقامتِ دین کی تحریکیں اگر تربیت سے خالی ہوں تو ان کی جدوجہد سطحی رہ جاتی ہے۔ مولانا مودودیؒ نے اسلامی تحریک کے لٹریچر میں اسی نکتے کو بار بار واضح کیا کہ اسلامی انقلاب کا راستہ افراد کی تربیت اور اخلاقی تبدیلی سے ہو کر گزرتا ہے۔
قرآن وحدت کو اقامتِ دین کا اہم منہج قرار دیتا ہے:
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا (آل عمران: 103)
(اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو۔)اعتصام بحبل اللہ تحریکِ اقامتِ دین کو فرقہ واریت، گروہی تعصب اور تنظیمی خود پسندی سے بچاتا ہے۔ دین کا کام اگر وحدت کے بغیر ہو تو وہ قرآن کی روح کے خلاف ہے۔
قرآن فکری بنیاد کی اساس اس لئے ہے کہ وہ انسان کو مقصدِ زندگی دیتا ہے، توحید کو نظامِ زندگی بناتا ہے، امت کو منصبِ شہادت عطا کرتا ہے اور اقامتِ دین کے لئے ایک متوازن منہج فراہم کرتا ہے۔ قرآن انسان کو محض عبادت گزار فرد نہیں بناتا بلکہ اسے ایک ذمہ دار سماجی معمار بناتا ہے۔ اسی معمارِ انسانیت کے ذریعے معاشرے میں خیر کا قیام، عدل کی ترویج اور دین کی اجتماعی روح کا احیا ممکن ہوتا ہے۔







