حق کے حامل ہونے کا مفہوم

ڈاکٹر محمد فاروق اعظم

یہ ایک فطری سوال ہے کہ حق پر کون ہے ؟ ہر کسی کا جواب ہے کہ ہم حق پر ہیں۔ مثلاً ہم شیعہ ہیں تو ہمارا کہنا ہے کہ ہم حق پر ہیں ۔ اگر ہم سنی ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں۔ سنی میں بھی اگر بریلوی مکتبۂ فکر کے حامل ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ہی حق پر ہیں۔ دیوبندی اوراہلِ حدیث ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں۔ توپھر صحیح معنیٰ میں حق پرکون ہے ؟

حق پر ہونے کا مطلب جاننے سے پہلےیہ جاننا ضروری ہے کہ حق کیا ہے ۔ حق  زندگی گزارنے کے صحیح طریقے کا نام ہے۔حق وہ ہے جسے قبول کرکے انسان کی سمجھ میں آجائے کہ وہ اپنی ذات کے ساتھ  کیا رویہ اختیار کرے، اپنی قوتوں اور صلاحیتوں سے کیا کام لے ، اُس سامان کوجوروئے زمین پر اس کے تصرف میں ہے کس طرح کام میں لائے، اُن انسانوں کے ساتھ جن سے مختلف حیثیتوں میں اس کو سابقہ پیش آتا ہے کیا سلوک کرے اورمجموعی طور پر اس نظام کائنات کے ساتھ جس میں رہ کر ہی اس کو کام کرنا ہے ، وہ کیا  معاملہ کرے جس سے وہ کامیاب ہو۔ ا س کی کوششیں اورمحنتیں غلط راہوں میں صرف ہوکر تباہی اور بربادی  کا باعث  نہ ہوں۔ اسی صحیح طریقہ کا نام حق ہے اورجس نے اس صحیح طریقہ کوجان لیا اور اس پر عمل کرنا شروع کردیا وہی حق پر ہے ۔ اس صحیح طریقہ کی ہدایت قرآن کے مطابق صرف اللہ ہی دیتا ہے۔

’’کہو صرف اللہ ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے ‘‘۔ (سورۂ یونس آیت ۳۵)

اس لئے حق کو جاننے کے لیے اور حق پر گامزن رہنے کے لئے بنیادی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آیا جائے۔

حق کا سر چشمہ:

اللہ نے انسانوں کی صحیح رہنمائی کے لیے حق ناز ل کیا  ۔ قرآن حق کا سرچشمہ ہے ۔ اس کو نظر انداز کرکے کوئی بھی انسان حق تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔ حق کے نازل ہوجانے کے بعد حق کواختیار کرنا آدمی کے لیے لازم ہے اوراس سے روگردانی تباہی اور بربادی کا باعث ہے۔سورۂ یونس میں ہے۔

’’اے محمد ؐ ، کہہ دو کہ ’’ لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آچکا ہے ۔ اب جوسیدھی راہ اختیار کرے اس کی راست روی اسی کے لیے مفید ہے اورجوگمراہ رہے اس کی گمراہی اسی کے لیے تباہ کن ہے اور میں تمہارے اوپر کوئی حوالہ دار نہیں ہوں‘‘۔ ( سورۂ یونس آیت ۱۰۸)

اللہ تعالیٰ کے نزدیک علم حق رکھنے والے اوراس سے غافل رہنے والے یکساں نہیں ہیں ۔

’’بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ شخص جوتمہارے رب کی اس کتاب کوجو اس نے تم پر نازل کی ہے حق جانتا ہے اوروہ شخص جواس حقیقت کی طرف سے اندھا ہے ، دونوں یکساں ہوجائیں‘‘۔ (الرعد، آیت ۱۹)

’’(حق کو ماننے والوں) کا طرزعمل یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے ساتھ اپنے عہد کوپورا کرتے ہیں، اسے مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ نہیں ڈالتے۔ ان کی روش یہ  ہوتی ہے کہ اللہ نے جن روابط کوبرقرار رکھنے کا حکم دیا ہے انہیں برقرار رکھتے ہیں، اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ کہیں ان سے بری طرح حساب نہ لیا جائے ۔ ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنے رب کی رضا کے لیے صبر سے کام لیتے ہیں ، نماز قائم کرتےہیں، ہمارے دیے ہوئے رزق میںسے علانیہ اورپوشیدہ خرچ کرتے ہیں اوربرائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں۔ آخرت کا گھر انہیں لوگوںکے لئے ہے ‘‘۔ (سورہ الرعد، آیات ۲۰ تا ۲۲)

ان آیتوں کوباربار پڑھیے اوراپنے حق پر ہونے کا جائزہ لیجئے اوراپنے رویے کا محاسبہ کیجئے۔ صرف زبانی کہہ دینے  سے کام نہیں چلے گا کہ ۔’’ بس ہم ہی حق پر ہیں‘‘۔

سورۂ الجرات میں اہلِ ایمان اورحق پر ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کوواضح طورپر کچھ احکامات دیے گئے ہیں ۔

’’ اے لوگوجوایمان لائے ہو، اللہ اوراس کے رسولؐ کے آگے پیش قدمی نہ کرو۔ اوراللہ سے ڈرو، اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے ‘‘۔ (سورۂ الجرات، آیت ۔۱)

’’ اے لوگو جوایمان لائے ہو ، اپنی آواز نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ نبیؐ کے ساتھ اونچی آواز سے بات کرو‘‘۔( سورۂ الجرات، آیت ۔۲)

’’اے لوگو جوایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیاکرو، کہیں ایسا نہ ہوکہ تم کسی گروہ کونادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اورپھر اپنے کیے پر پشیمان ہو‘‘۔( سورۂ الجرات، آیت ۔۶)

’’اگر اہلِ ایمان میں سے دوگروہ آپس میں لڑجائیں، تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے ۔ تو زیادتی کرنے والے سے لڑو۔ یہاںتک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔ پھر اگروہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرادواورانصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنےو الوں کے ساتھ ہے ‘‘۔ سورۂ الجرات ،آیت ۔۹)

’’مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں ۔ لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کودرست کرو اوراللہ سے ڈرو۔ امید ہے تم پر رحم کیا جائے گا‘‘۔سورۂ الجرات، آیت ۔۱۰)

’’اے لوگو جوایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں نہ عورتیںدوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ہوسکتا ہے کہ جن کا مذاق اڑایا جارہا ہے وہ مذاق  اڑانے والے سے بہترہوں ۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اورنہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ ایمان لانے کے بعد فسق میںنام پیدا کرنا بہت بری بات ہے ۔ جولوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں‘‘۔سورۂ الجرات، آیت ۔۱۱)

’’ اے لوگو جوایمان لائے ہو ، بہت گمان کرنے سے بچو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ۔ تجسس نہ کرو اورتم میںسے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے‘‘۔ سورۂ الجرات، آیت ۔۱۲)

مندرجہ بالا آیات کو پڑھیں اوراپنا بغور جائزہ لیں ۔ یہ تمام احکامات اہلِ ایمان سے متعلق ہیں۔

مقامِ رسالت:

سب سے مقدم بات یہ کہی گئی ہے کہ تم (اہل ایمان) اللہ اوراس کے رسولؐ کے آگے پیش قدمی نہ کرو۔ یہاں پیش قدمی سے مراد یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی ہدایات سے روگردانی جائز نہیں ۔ زندگی کے ہر موڑ پر حکم دیکھنا ہے تو اللہ کا اوراس حکم سے متعلق اسوہ اختیارکرنا ہے تو رسول اللہ کا۔

دوسری آیت میں نبیٔ وقت سے متعلق تہذیب سکھائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ نبیؐ کی آواز سے بلند کسی کی آواز نہ ہو ۔ نبیؐ کے ساتھ تہذیب وشائستگی ایک بدیہی بات تھی جس کا حکم آیت میں دیا گیا ہے جس کا خیال نہیںرکھنے کی وجہ سے تمام اعمال کے غارت ہوجانے کا اندیشہ ہے۔نبی کا نمونہ بہترین نمونہ ہے۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جوانداز گفتگو تھا اور آپؐ کی گفتگوؤں میں جو سنجیدگی اور متانت موجود تھی ہم ان سب کا بھر پور خیال رکھیں ۔ مسلموں کے درمیان اصلاحِ حال کا معاملہ ہو یا غیر مسلموں میں دعوتی کام ، ان کی انجام دہی سے قبل ، قرآن کی رہنمائی میں غوروتدبر کریں اورحکمت  والی راہیں اختیار کریں۔

ایسا نہ ہوکہ مسائل کا واضح حل حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات میں موجود ہو ، اس کے باوجود ہم  دوسرے طریقوںپر عمل کرنے میں لگ جائیں ۔ یہ عمل نبیؐ کی آواز سے بلندترآواز میں بات کرنے کے ہم معنیٰ ہے ۔ اس سے بچنا لازمی ہے۔

مذکورہ بالا بنیادی احکام کےبعدبعض ضروری باتوں کی طرف خصوصی توجہ دلائی گئی ہے۔ کسی خبر کی تحقیق وتصدیق کے بغیراسے سچ مان لینا اور ردِّ عمل کا فوری اظہار کرنانادانی ہے۔ جس کا زبردست نقصان بھی ہوسکتا ہے اوربعد از خرابی بسیار پشیمان بھی ہونا پڑتا ہے ۔ مومن کو یہ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ وہ بلا تحقیق کسی خبر کے،پیچھےبھاگے۔

قرآن نے فسق کوبڑا گناہ قرار دیا ہے اوراس سے بچنے کی تاکید کی ہے ۔ مذکورہ آیت میں فاسق کے ذریعے موصولہ خبر کی تحقیق پر خاص   زور دیا گیا ہے ۔فاسق لوگوں کی چالوں کو سمجھنا  ضروری ہے۔ یہ لوگ جھوٹی خبریں یا اطلاعات پھیلاتے اورلوگوں کوگمراہ کرتے ہیں۔ فسق شیطانی عمل ہے جس سے انسان سراسر نقصان میں پڑجاتا ہے۔

اصلاح بین المسلمین:

پھر حکم دیا گیا ہے کہ اگر اہلِ ایمان کے دوگروہ آپس میں لڑپڑیں تو پہلی کوشش صلح کرا نے کی ہو۔ جوگروہ زیادتی پر ہی تلا رہے تو زیادتی کرنے والے  سے اس وقت تک لڑنا چاہیے جب تک وہ زیادتی سے باز نہ آئے۔زیادتی کرنے والے گروہ کو زیادتی سے روک دیا جائے ۔ زیادتی سے رُک جانے کے بعد پھر انصاف کیا جائے۔ مومن انصاف پسند ہوتا ہے ۔ ادنیٰ درجے کی نا انصافی بھی اہلِ ایمان کوزیب نہیں دیتی۔

’’بلا شبہ اللہ تمہیں عدل اوراحسان کا حکم دیتا ہے‘‘۔ (سورۂ النحل ، آیت ۹۰)

عدل جس چیز کا نام ہے وہ دو مستقل حقیقتوں سے مرکب ہے ۔ ایک یہ کہ لوگوں کے درمیان حقوق میں توازن اور تناسب قائم ہو ۔ دوسرے یہ کہ ہرایک کو اس کا حق بے لاگ طریقہ سے دیا جائے۔

’’یہاںعدل کے ساتھ احسان کا بھی حکم ہے ۔ جس سے مرادہےنیک برتاؤ ، فیا ضانہ معاملہ ، ہمدردانہ رویہ، رواداری ، خوش خلقی، در گزر، باہمی مراعات، ایک دوسرے کا پاس ولحاظ ، دوسرے کواس کے حق سے کچھ زیادہ دینا ، اور خود اپنے حق سے کچھ کم پرراضی ہوجانا۔ یہ انصاف سے زائد ایک چیز ہے جس کی اہمیت اجتماعی زندگی میںعدل سے بھی زیادہ ہے ۔عدل اگرمعاشرے کی اساس ہے تو احسان اس کا جمال اور اس کا کمال ہے ۔عدل اگر معاشرے کوناگوار یوں اورتلخیوں سے بچاتا ہے تو احسان اس میں  خوشگواریاں اور شیر ینیاں پیدا کرتا ہے‘‘ ۔(تفہیم القرآن) اس لئے ہر مومن کوعدل اوراحسان دونوںسے کام لینا چاہئے تا کہ اس کا معاشرہ محبت، شکر گزاری ، عالی ظرفی ، ایثار ، اخلاص ، خیر خواہی جیسی قدروں سے مالا مال ہو اور معاشرتی  زندگی میں لطف وحلاوت صاف نظر آئے۔

ایک تیسرا بڑا حکم اسلامی اخوت سے متعلق ہے ۔ آیت میں کہا گیا ہے کہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں اس لیے ان کے درمیان تعلقات درست ہونے چاہئیں۔ تعلقات کودرست رکھنے کے لیے عدل و احسان کے ساتھ صلۂ رحمی کا بھی حکم دیا گیا ہے ۔عدل ، احسان اورصلۂ رحمی سے کام لینے والوں پراللہ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے کیونکہ اللہ ایسے لوگوں سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔

’’اللہ انصاف کرنے والوں کوپسند کرتا ہے ‘‘۔ (الممتحنہ، آیت ۔ ۸)

تکریمِ انسانیت:

انسان کبھی کبھی ایک دوسرے کا مذاق بھی اڑانے کی غلطی کرتا ہے ۔ مرد مردوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور عورت بھی دوسری عورتوں کا ۔ مومن مرد اورعورت دونوں کوحکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑائیں ۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ تم جس کا مذاق کسی ظاہری نقص کی بنیاد پر اڑاتے ہو وہ تم سے بہتر ہو ۔ پھر مذاق اڑانے سے دلوں کوٹھیس پہنچتی ہے جس کی وجہ سے آپس میں دوریاں بڑھتی ہیں اوراجتماعیت کمزور ہوتی ہے ۔ مومن کو ایسا کوئی رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے جس سے  اجتماعیت کمزور ہوتی ہو۔

اجتماعیت کوکمزور کرنے والا عمل طعن کرنا اور کسی کوبرے القاب سے یاد کرنا بھی ہے ۔ اس لیے کسی پر طعن کسنے اورکسی کے لیے  برے القاب استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔ یہاں اس بات کا خیال رہے کہ آیتِ مذکور میں کسی کا مذاق اڑانے ، طعن کرنے اوربرے القاب سے یاد کرنے جیسی برائیوں کے ذکر کے ساتھ ہی یہ کہا جارہا ہے کہ ایمان لانے کےبعد فسق میںنام پیدا کرنا بہت بری بات ہے ، جس کا صاف مطلب یہ نکلتا ہے کہ یہ برائیاں فسق کے زمرے میں آتی ہیں اورفسق کی روش اختیار کرنے والے کواِسی آیت میں ظالم کہا گیا ہے ۔ اللہ تمام مومنین کوفسق وفجور سے محفوظ رکھے ۔

’’گمان بھی ایک معاشرتی برائی ہے اوربہت زیادہ گمان کوگناہ قرار دیا گیا ہے ۔ جوگمان گناہ کے زمر ے میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کسی شخص سے بلا سبب بدگمان ہو، یا دوسروں کے متعلق رائے قائم کرنے میں ہمیشہ بدگمانی سے ہی ابتدا کرے ، یا ایسے لوگوں کے معاملے میں بدظنی سے کام لے جن کا ظاہرحال یہ بتارہا ہو کہ وہ نیک اورشریف ہیں۔ اس طرح یہ بات بھی گناہ ہے کہ ایک شخص کے کسی قول یا فعل میںبرائی اوربھلائی کا یکساں احتمال ہواورہم محض سوء ظن سے کام لے کر اس کوبرائی ہی پر محمول کریں۔

ایک لفظ ’’تجسس‘‘ بھی ہے اورآیتِ مِذکور میں تجسس کرنے سےمنع کیا گیا ہے ۔ یہاں تجسس سے مراد راز ٹٹولنا ہے ۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے راز نہ ٹٹولتے پھرو۔ ایک دوسرے کے عیب نہ تلاش کرو۔ دوسروں کے حالات اورمعاملات کی ٹوہ نہ لگاتے پھرو۔ لوگوں کے نجی خطوط پڑھنا، دوآدمیوں کی باتیں کان لگاکر سننا ، ہمسایوں کے گھرو ں میں جھانکنا اورمختلف طریقوں سے دوسروں کی خانگی زندگی یا ان کےذاتی معاملات کی ٹٹول کرنا ، یہ سب اس تجسس میں داخل ہے جس سے منع فرمایا گیا ہے۔

تجسس کی ممانعت کا یہ حکم صرف افراد کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ اسلامی حکومت کے لیے بھی ہے۔ شریعت نے نہی عن المنکر کا جوفریضہ حکومت کے سپرد کیا ہے اس کایہ تقاضا نہیںہے کہ وہ جاسوسی کا ایک نظام قائم کرکے لوگوں کی چھپی ہوئی برائیاں ڈھونڈ ڈھونڈکرنکالے اوران پرسزا دے، بلکہ اسے صرف ان برائیوں کے خلاف طاقت استعمال کرنی چاہیے جوظاہر ہوجائیں ۔ رہیں محض برائیاں یا خرابیاں تو ان کی اصلاح کا راستہ جاسوسی نہیں ہے بلکہ تعلیم، وعظ وتلقین ،عوام کی اجتماعی تربیت اورایک پاکیزہ معاشرتی ماحول پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

اس حکم سے مستثنیٰ صرف وہ مخصوص حالات ہیںجن میں تجسس کی فی الحقیقت ضرورت ہو، مثلاً کسی شخص یا گروہ کے رویے میں بگاڑ کی کچھ علامات نمایاں نظرآرہی ہوں اوراس سے متعلق یہ اندیشہ پیدا ہوجائے کہ وہ کسی جرم کا ارتکاب کرنے والا ہے توحکومت اس کے حالات کی تحقیق کرسکتی ہے‘‘۔(تفہیم القرآن)

غیبت:

’’تم میںسے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے‘‘۔ یہ غیبت بھی بہت بڑی برائی ہے جس سے بچنا چاہیے۔ غیبت کی تعریف یہ ہے کہ ’’ آدمی کسی شخص کے پیٹھ پیچھے اس کے متعلق ایسی بات کہے جو اگراسے معلوم ہو تو اسے ناگوار گزرے‘‘۔ یہ تعریف خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےمنقول ہے ۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت سے مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اوردوسرے محدثین نے نقل کیا ہے ، اس میں حضورؐ نے غیبت کی یہ تعریف بیان فرمائی ہے ۔

’’غیبت یہ ہے کہ ’’ تواپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرے جواسے ناگوار ہو‘‘۔ عرض کیا گیا اگرمیرے بھائی میںوہ بات ہو جومیں کہہ رہا ہوں تواس صورت میں آپ کا کیا خیال  ہے؟ فرمایا اگراس میں وہ بات پائی جاتی ہوتوتونے اس کی غیبت کی اوراگر اس میںوہ موجود نہ ہو تو تونے اس پربہتان لگایا ‘‘۔

اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کے خلاف اس کے پیچھے جھوٹا الزام لگانا بہتان ہے اور اس کے واقعی عیوب بیان کرنا غیبت۔ یہ فعل خواہ صریح الفاظ میں کیا جائے یا اشارہ وکنایہ میں، بہر صورت حرام ہے ۔ اسی طرح یہ فعل خواہ آدمی کی حیات میں کیا جائے یا اس کے مرنے کے بعد ، دونوں صورتوں میں اس کی حرمت یکساں ہے ۔

غیبت کرنا قرآن کے نزدیک اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے کےمترادف ہے جوظاہر ہے کوئی اسے گوارا نہ کرے گا ۔ لیکن نادانستہ ہی سہی یہ برائی بھی عام طور سے اہلِ ایمان میں  بدقسمتی سے پائی جانے لگی ہے ۔ غیبت کے مرتکبین سے اس آیت میں آگے کہا گیا کہ ’’ اللہ سے ڈرو (اورتوبہ کرو) اللہ توبہ قبول کرنے والا اوررحیم ہے ‘‘۔ (الحجرات، آیت ۱۲)

اہل ایمان اورمسلم معاشرے کوخرابیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے مندرجہ بالا آیات کے ذریعہ جو ہدایات دی گئی ہیں وہ بڑی اہم ہیں۔ ان ہدایات کی روشنی میں اہلِ ایمان کواپنا  جائزہ ضرور لینا چاہیے اور اصلاحِ حال پرتوجہ دینی چاہئے۔ابھی اس وقت دنیا کے جوحالات ہیںان میںامتِ مسلمہ کوکیسا ہونا چاہیے، اس امت کے افراد اوراس کی اجتماعیت کے اندر کیا  صفات ہونے چاہئیں، اس کی طرف واضح اشارہ مندرجہ بالا آیات میں ثبت ہے۔ ظاہر ہے کہ کچھ مخصوص خوبیوں کواپنے اندر پیدا کیے بغیر اوربڑی  خرابیوں کودور کیے بغیر نہ تو اہل ایمان انفرادی طور پر کسی کام کے لائق ہوں گے اورنہ ہی ان کے اندروہ اجتماعیت پیدا ہوسکے گی جوحالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے ، دعوتی ذمہ داریوں کوادا کرنے اوردم توڑتی ہوئی انسانیت کوبچانے کے لیے مطلوب ہے۔

وحدت بنی آدم:

سورۃ الحجرات بہت بڑی سورت نہیں ہے کہ اس کا مطالعہ ایک نشست میں نہ کیا جاسکے۔ امتِ مسلمہ کے افراد کو اس سورت کا بار بار مطالعہ کرنا چاہیےاس سورت میں جہاں مسلمانوں کے داخلی مسائل کا حل موجودہے وہیں پوری بنی نوع انسان کی اس عظیم گمراہی کی اصلاح کا نسخہ بھی اس میں موجود ہے جودنیا میں ہمیشہ عالمگیر فسادکی موجب بن رہی ہے ۔

’’لوگو، ہم نے تم کوایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اورپھر تمہاری قومیںاور برادریاں بنادیں تا کہ تم ایک دوسرے کوپہچانو۔ در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جوتمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے ‘‘۔ (الحجرات، آیت ۱۳)

’’اس مختصر سی آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کومخاطب کرکے تین نہایت اہم اصولی حقیقتیں بیان فرمائی ہیں۔ایک یہ کہ تم سب کی اصل ایک ہے ۔ ایک ہی مرد اورایک ہی عورت سے تمہاری پوری نوع وجود میں آئی ہے اورآج تمہاری جتنی نسلیں بھی دنیا میں پائی جاتی ہیں وہ در حقیقت ایک ابتدائی نسل کی شاخیں ہیں جوایک ماں اورایک باپ سے شروع ہوئی تھی۔ اس سلسلہ ٔ تخلیق میں کسی جگہ بھی اُس تفرقے اوراونچ نیچ کے لیے کوئی بنیاد موجود نہیں ہے جس کے زعمِ باطل میں تم مبتلا ہو۔

دوسرے یہ کہ اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ہونے کے باوجود تمہارا قوموں اورقبیلوں میں تقسیم ہوجانا ایک فطری امر تھا۔ مگر اس فطری فرق واختلاف کاتقاضا یہ ہرگز نہ تھا کہ اس کی بنیاد پر اونچ نیچ ، شریف اورکمین، برتر اورکمتر کے امتیازات قائم کیے جائیں، ایک نسل دوسری نسل پر اپنی فضیلت جتائے، ایک رنگ کے لوگ دوسرے رنگ کے لوگوں کوذلیل اورحقیر جانیں، ایک قوم دوسری قوم پر اپنا تفوق جمائے ، اورانسانی حقوق میں ایک گروہ کودوسرے گروہ پر ترجیح حاصل ہو۔ خالق نے جس وجہ سے انسانی گروہوںکواقوام اور قبائل کی شکل میں مرتب کیا تھا وہ صرف یہ تھی کہ ان کے درمیان باہمی تعارف اورتعاون کی فطری صورت یہی تھی۔ مگر یہ شیطانی جہالت تھی کہ جس چیز کو اللہ کی بنائی ہوئی فطرت نے تعارف کا ذریعہ بنایا تھا اُسے تفاخر اورتنافر کا ذریعہ بنا لیا گیااور پھر نوبت ظلم وعدوان تک پہنچا دی گئی۔

تیسرے یہ کہ انسان اورانسان کے درمیان فضیلت اوربرتری کی بنیاد اگر کوئی ہے اورہوسکتی ہے تووہ صرف اخلاقی فضیلت ہے ۔ پیدائش کے اعتبار سے تمام انسان یکساںہیں ، اصل چیز جس کی بنا پر ایک شخص کو دوسروں پر فضیلت حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ دوسروں سے بڑھ کرخدا سے ڈرنے والا ، برائیوں سے بچنے والا اورنیکی وپاکیزگی کی راہ پر چلنے والا ہو‘‘۔(تفہیم القرآن)

مذکورہ بالا تینوں اصولی حقیقتوں کوسمجھ لینے کے بعد یہ سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کہ ان حقیقتوں کو نظرانداز کی  وجہ سے ہی دنیا میں رنگ ، نسل ، زبان ، وطن اورقومیت کا تعصب وغیرہ کا سنگین مسئلہ دن بہ دن مزید پیچیدہ ہوتا جاتا ہے ۔ اگرمذکورہ اصولی حقیقتوں کوپہلے اہلِ ایمان سمجھیں اورعمل میں لائیں تو خود ان کےبہت سے داخلی  مسائل حل ہوسکتےہیں۔اسی طرح اگروہ ان حقیقتوں کوعام انسانوں کے ذہن نشین کرنے میں کامیاب ہوجائیں تودنیا میں رنگ ونسل اورزبان ووطن کے نام پر جونا انصافیاں ہورہی ہیں وہ دور ہوسکتی ہیں۔ دنیا میں عالمگیر فساد کوروکنے کاو احد راستہ یہی ہے کہ مندرجہ بالا حقائق کودل سے تسلیم کیا جائے  اور عامۃ الناس کو بڑے پیمانے پران سے  واقف کرایا جائے۔

سورت کے اخیر میں اہلِ ایمان سے صاف صاف یہ کہہ دیا گیا ہے کہ اصل چیز ایمان کا زبانی دعویٰ نہیں ہے بلکہ سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول ؐ کوماننا ، عملاً فرماں بردار بن کر رہنا اورخلوص کے ساتھ اللہ کی راہ میں اپنی جان ومال کھپا دینا ہے ۔ ؎

تو عرب ہو یا عجم ہو، ترا لا الٰہ الاّ

لُغت غریب جب تک ترا دل نہ دے گواہی

اپریل 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau