دینی مدارس میں عصری علوم کی معنویت

دور حاضر کے حوالہ سے(کیوں اور کیسے)

عبد الحلیم فلاحی

اسلام نے علم نافع اور علم غیر نافع کی تقسیم کی ہے،یعنی جس علم سے اللہ سبحانہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو اور پوری انسانیت کو فائدہ پہنچے تو وہ علم نافع ہے۔اس کے برعکس جو علم انسان کو گمراہی اور فسق و فجور میں ملوث کر دے اور خلق خدا کے لئے ضرر رساں ہو تو وہ علم غیر نافع ہے۔

یہ مسلم امر ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے ۔دین و دنیا کی رہنمائی اس میں ہے۔  اس بات سے  انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس تیز زمانہ میں موجودہ دور کی جدت کو محسوس کیاگیا ہے۔ آغاز اسلام سے لے کر آج تک اسلامی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کو حاصل کرنے کی تہذیب مسلمانوں میں مسلسل موجود رہی ہے ۔اگر ہم سائنس کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ تخلیق سائنس اندلس کے مسلمانوں کا کرشمہ ہے۔مسلمانوں کے نظام تعلیم نے امت کو جہاں مفسرین، محدثین اور فقہاء دئے ہیں وہیں انہیں تاریخ ،ہندسہ، فلکیات اور جغرافیہ کی جدید راہوں کی طرف رہنمائی کرنے والے سائنس داں بھی دئے ہیں ۔ مسلمانوں کے دور حکومت میں تعلیم گاہوں میں دینی علوم کے ساتھ ساتھ طبیعاتی اور سائنسی علوم کی بھی تعلیم دی جاتی تھی،اور تعلیمی ،تربیتی،تمدنی ،انتظامی اور سیاسی شعبوں کے لئے افرادتیار کئے جاتے تھے۔ مسلمان ہر میدان میں ماہر تھے ،قدیم اسلامی تعلیمی اداروں کی روایت ہمیں بتاتی ہے کہ دینی علوم کی تعلیم کے ساتھ وقت کے تقاضوں کے مطابق عصری علوم کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔

جہاں تک دینی مدارس میں عصری علوم پڑھانے کی بات ہے تو اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ مدارس کے نصاب میں ہمیشہ سے عصری تعلیم موجودرہی ہے  بقدر ضرورت  ۔علم جغرافیہ ، فلکیات اور حساب ہر زمانہ میں اس نصاب کا حصہ رہے ہیں۔ عصر حاضر میں دینی و تحقیقی کاموں میں انٹرنیٹ کی ضرور ت و اہمیت، ابلاغی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے انگریزی و عربی زبانوں پر عبور اور صحافت کے فن کو حاصل کرنے کے لئے بہت سے مدارس نے انگریزی و عربی کو شامل کیا ہے۔ کمپیوٹر، صحا فت ، دعوت و ارشاد اور جدید ابلاغی تدریسی صلاحیتوں پر مبنی چھوٹے بڑے متعدد کورسز جاری کر رکھے ہیں۔

بر صغیر میں انگریزوں کے غلبہ سے پہلے عصری و دینی علوم کے مابین  فرق نہ تھا ۔اس وقت جہاں ’’مدارس‘‘ کا لفظ بولا جاتا تھا تو اس سے مراد صرف دینی تعلیم نہ ہوتی تھی بلکہ دنیاوی تعلیم بھی تھی۔ ۱۷۸۰ء سے پہلے مسلم دنیا میں ایک ہی نظام تعلیم تھا جب انگریزوں کی آمد ہندستان میں ہوئی تو بہت سے مسائل نے جنم لیا مسلمانوں کی تعلیم پر بھی منفی اثر پڑا ۔انگریزوں نے مسلمانوں پر تعلیم کے دروازے بند کر دئے تاکہ مسلمان  پسماندہ ہوجائیں۔ ان سنگین حالات میں مسلمانوں کو دو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ،ایک تو دین اسلام کو محفوظ کر کے آئندہ نسلوں میں منتقل کرنا اور دوسرا دشمن اسلام کا مقابلہ کرنا۔ مسلمانوں نے دین کو محفوظ کرنے کے لئے ’’ دار العلوم دیوبند‘‘ کے نام سے ایک مدرسہ قائم کیا ، جس میں وہ کامیاب رہے۔دوسری طرف جدید تعلیم کے نام پر سر سید احمد خاں نے ’’ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی‘‘ قائم کی ،تاکہ مسلمان جدید تعلیم حاصل کر کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوسکیں۔

اسی طرح دو تعلیمی نظام دینی اور عصری  وجود میں آئے۔ گرچہ دارا لعلوم دیوبند اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا طرز تعلیم ایک دوسرے سے مختلف تھا لیکن ان کے ما بین مخاصمت نہ تھی۔ جس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جب سر سید علیہ الرحمہ نے اپنے کالج میں مولانا محمد قاسم نانوتوی سے دینی علوم پڑھانے کے لئے کسی قابل استاذ کی درخواست کی تو مولانا نانوتوی نے اپنے داماد مولانا عبد اللہ کو علی گڑھ کالج میں تعلیم دینے کے لئے بھیج دیا۔ ؎پاکستان میں جامع تعلیم کے لیے مولانا شبیر احمد عثمانی ،مفتی محمد شفیع اور دیگر اشخاص نے  ارباب اختیار کی توجہ مبذول کرائی ۔انہوں نے واضح انداز میں بتایا کہ پاکستان میں نہ  دیوبند کا نصاب تعلیم رائج کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی علی گڑھ کا ۔البتہ دونوں نصابوں کو ملا کر ایک  نصاب تعلیم بنایا جا سکتا ہے ۔ایسا کرنے سے فائدہ یہ ہو گا کہ مسلمان بچے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم سے بھی بھر پور فائدہ اٹھائیں گے۔

جس تعلیم کو  عصری کہتے ہیں وہ حکمت سکھا سکتی ہے جسے نبی کریمﷺ نے مومن کا گمشدہ مال کہا ہے ۔ قرآن و حدیث کا  علم ہر عہد اور عصر سے ہم آہنگی رکھنے والا علم ہے۔ انسان کے وضع کئے ہوئے اصول و قواعد تو چند سال میں ساتھ چھوڑ دیتے ہیں ،لیکن قرآن و سنت کے اصول و قواعد زندہ اور کبھی نہ ختم ہونے والے ہیں۔ عصری علوم کا طرز نہ مذہب سے متصادم ہو اور نہ  مذہب کی رہنمائی سے بے نیاز۔ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ وہم ہے کہ اسلام اور جدید سائنس و ٹیکنالوجی لازماً متضاد چیزیں ہیں  یہ بات خلاف واقعہ ہے ۔سائنس اور ٹیکنالوجی کا کام وسائل و ذرائع پیدا کرنا ہے اور اسلام وسائل کو استعمال کرنے کا طریقہ بتاتا ہے،ساتھ ہی مقاصد کی رہنمائی بھی کرتا ہے۔ اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اسلام جدید علوم کے لئے معاون  ہے۔

ہر مسلمان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ  امت کا خیر خواہ ہو ۔بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ نبی کریمﷺ نے اپنے اصحاب سے اس بات پر بیعت لی کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کریں گے۔ فرمایا: والنصح لکل مسلم۔(بخاری:حدیث نمبر ۱۵۸؍ مسلم : حدیث نمبر ۵۶ ) آج  ایک بے بنیاد الزام  لگایا جاتا ہے کہ مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے۔اس طرح نوجوان نسل کو مذہبی تعلیم سے متنفر کیا جا سکتا ہے ۔مقصد یہ ہے کہ نوجوان اپنے مذہب سے دور ہو کر مغربی تہذیب کی رنگینیوں میں کھو جائیں۔  مسائل سے نمٹنے کے لئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کی طرف بھی توجہ کی جائے کیونکہ قرآن و سنت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں دنیاوی تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکا ہے بلکہ اللہ کے رسولؐ کا ارشاد ہے : طلب العلم فریضۃ علیٰ کل مسلم۔(ابن ماجہ،کتاب العلم)

مذکورہ حدیث میں صرف ’’العلم‘‘ کا لفظ آیا ہے جس سے دینی و دنیاوی تعلیم دونوں مراد ہیں ۔اسی طرح جب ہم اسلامی تاریخ کا بنظر غائر مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جب غزوہ بدر میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور کافر شکست خوردہ ہو گئے تھے،اور مال غنیمت کے ساتھ کافروں کے ستر آدمی قید بھی کر لئے گئے تو حضور پاکﷺ نے کفار قیدیوں کے لئے فدیہ کا حکم صادر فرمایا اور یہ بھی حکم دیا کہ اگر کوئی فدیہ نہ دے سکے تو وہ دس مسلمان بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کفار جو دس مسلمان بچوں کو تعلیم دیتے تھے وہ دینی نہیں بلکہ دنیاوی تعلیم تھی۔ اسی طرح کاتب وحی حضرت زید بن ثابتؓ نے انہیں سے لکھنا سیکھا تھا۔ (سیرۃ النبی از مولانا شبلی نعمانی، ج۱؍۱۹۶)

صحابہ کرام جہاں قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کرتے وہیں سائنسی علوم سے بھی بہرہ مند ہوتے ۔ طب نبوی خود نبی کریمؐ سے منقول ہے اور دور حاضر میں طب نبوی اپنا ایک الگ مقام رکھتی ہے۔ لہٰذا ان تمام باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ سائنسی ایجادات کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ یہ تو آپؐ کے زمانہ سے ہی شروع ہو گیا تھا دنیا کی تاریخ میں سب سے پہلے منجنیق کا استعمال غزوۂ طائف سے ہوا ۔صحابہ کرامؓ کے دور میں عصری علوم و فنون نے خوب ترقی کی ۔بحری بیڑے کی ایجاد مسلمانوں کا عظیم الشان کارنامہ ہے ۔مسلمانوں نے ہر دور میں جدید تقاضوں کے مطابق اسلحہ ایجاد کیا اس کے علاوہ جامعہ نظامیہ بغداد اور جامعہ الازھر قاہرہ وغیرہ بڑے تعلیمی اداروں میں عصری علوم و فنون کے باقاعدہ ڈیپارٹمنٹ قائم تھے ۔  اب ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء کرام عصری علوم سے رسائی حاصل کریں تب مسلمان  تہذیب کو پروان چڑھا سکتے ہیں ۔

یہ کہاں کا انصاف ہے کہ دینی مدارس سے ڈاکٹرز، انجینئر،وکیل،ماہر معاشیات،کمپیوٹر انجینئر ،حساب داں اور سائنسداں پیدا کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔کیا دینی مدارس اس کام کے لئے ذمہ دار ہیں؟ اور ان سے یہ شکوہ کیا جا سکتا ہے جو دانشور دینی مدارس اور ان کا نظام و نصاب سرے سے تبدیل کرنے کی بات کرتے ہیں تو ان کے لئے علامہ اقبال کا یہ قول ہی کافی ہے :’’ ان مدرسوں کو اسی حال پر رہنے دو ۔ غریب مسلمان بچوں کو ان مدارس میں پڑھنے دو ۔اگر یہ ملا اور درویش نہ رہے تو جانتے ہو کیا ہوگا؟ جو کچھ ہو گا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔ مدرسوں کے اثر سے محروم ہو گئے تو بالکل اسی طرح ہو گا جس طرح اندلس میں کی گئی آٹھ سو سا لہ اسلامی حکومت کے باوجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈرات اور الحمراء کے نشانات کے علاوہ اسلام کے متبعین اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کو نقش نہیں ملتا۔‘‘  مشہور و معروف شاعر علامہ اقبال کے اس اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دینی تعلیم میں عصری علوم کو شامل کرو لیکن اتنا زیادہ نہ کر لو کہ دینی علوم کا شائبہ تک باقی نہ رہے یعنی دینی علوم کھانے میں نمک کے برابر ہی رہ جائے اور اس کی جگہ عصری علوم لے لے۔  دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں عصری علوم کو بقدر ضرورت شامل کر لیا جائے ۔

نمایاں شخصیت جس نے درس نظامی میں اصلاح کی آواز بلند کی اور مسلم معاشرہ کی ضروریات اور مقتضیات کے لحاظ سے نیا نصاب تیار کرنے کی وکالت کی وہ علامہ شبلی نعمانی (۱۸۵۷ء۔ ۱۹۱۴ء) کی ذات ہے۔ آپ قدیم و جدید دونوں طرح کے تعلیمی اداروں سے منسلک رہے اور ان کی پالیسی سازی میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لیا۔ علامہ شبلی کو اس بات کا شدید احساس تھا کہ جدید مغربی تعلیم مسلمانوں کے لئے کتنا ضروری ہے اور اگر وہ اس میدان میں پیچھے رہ گئے تو ترقی کی دوڑ میں بھی پیچھے رہ جائیں گے۔ لہٰذا فرماتے ہیں:’’ مسلمان اس وقت کش مکش زندگی کے میدان میں ہیں ۔ان کی ہم سایہ قومیں مغربی تعلیم ہی کی بدولت ان سے اس میدان میں سبقت لے جا رہی ہیں ۔اگر خدانخواستہ مسلمان مغربی تعلیم میں ذرا بھی پیچھے رہ جائیں تو ان کی ملکی اور قومی زندگی دفعۃ برباد ہو جائے گی۔ ‘‘ (مقالات شبلی، مطبع معارف اعظم گڑھ، ج۳؍ ۱۴۶،۱۴۷) ۔

اس کے ساتھ آپ کو اس بات کا بھی احساس دامن گیر تھا کہ جدید تعلیمی اداروں میں مذہبی تعلیم کا انتظام نہیں ہے ۔یہ ایک بہت بڑی کمی ہے جس کی تلافی ضروری ہے ۔اس کے متعلق فرماتے ہیں:’’ ظاہر ہے کہ اس (جدید) طریقۂ تعلیم میں ہماری مذہبی اور قومی خصوصیات کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ اس میں نہ مذہبی تعلیم ہے اور نہ ہی قومی تاریخ سے کچھ واقفیت ہو سکتی ہے، نہ ہی اسلامی اخلاق اور مسائل اخلاق کا علم ہو سکتا ہے۔ ‘‘ (ایضاً، ۱۵۶) لہٰذا آپ ان اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طالبعلموں کے لئے دینیات کے ایک ایسے نظام کی ضرورت کو محسوس کرتے تھے جس سے وہ دین کی بنیادی تعلیم اور ضروری مسائل سے واقف ہوں۔فرماتے ہیں:’’ یہ ظاہر ہے کہ انگریزی تعلیم یافتہ لوگوں سے ہم کو مذہبی خدمات یعنی امامت، وعظ اور افتاء کا کام نہیں لینا ہے بلکہ غرض یہ ہے کہ وہ خود بخود بقدر ضرورت مسائل اسلام اور تاریخ اسلام سے واقف ہوں۔اس کے لئے صرف ایک مختصر اور جامع و مانع سلسلۂ کتب دینیات کی ضرورت ہے،جس میں سلسلہ بہ سلسلہ اسکول سے کالج تک کے قابل کتابیں ہوں۔اس سلسلہ میں تین قسم کی کتابیں ہونی چاہئے ۔فقہ،عقائد اور تاریخ اسلام۔‘‘ (ایضاً،۱۴۱)

علامہ شبلی چاہتے تھے کہ مسلمان جدید اور قدیم دونوں طرح کی تعلیم حاصل کریں،اور جدید تعلیم کے ساتھ  مذہبی تعلیم لازم کر دی جائے تاکہ طالب علم کا اپنے مذہب سے تعلق باقی رہے،اور اسی طرح قدیم تعلیم کے ساتھ جدید مضامین طلباء کو پڑھائے جائیں تاکہ وہ اپنے معاش کا نظم کر سکیں۔ لہٰذا فرماتے ہیں کہ : ’’یہ مناسب نہیں کہ مشرقی تعلیم سے بالکل بے اعتنائی اختیار کی جائے،البتہ اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کو زیادہ  کار آمد بنایا جائے اور مذہبی حصہ کو چھوڑ کر باقی چیزوں میں ایسی ترقی اور اصلاح کی جائے کہ مشرقی تعلیم یافتہ لوگوں کی معاش کے لئے کچھ وسائل پیدا ہو سکیں۔ ‘‘(مقالات شبلی،ج۳؍ ۱۵۰) نیز فرماتے ہیں:’’ہم نے بارہا کہا ہے اور اب پھر کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کے لئے نہ صرف انگریزی مدرسوں کی تعلیم کافی ہے نہ ہی قدیم عربی مدرسوں کی۔ ہمارے درد کا علاج ایک ’’ معجون مرکب‘‘ ہے ،جس کا ایک جزء مشرقی اور دوسرا جزء مغربی ہے۔‘‘ (ایضاً،۱۶۳) اسی طرح آپ نے علماء کے لئے انگریزی زبان سیکھنے پر بہت زور دیا ہے تاکہ وہ انگریزی جاننے والے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر ان سے انگریزی میں باتیں کریں اور اسلام کی تعلیمات ان کے سامنے پیش کریں۔ایک جگہ علامہ شبلی فرماتے ہیں کہ :’’ عالم یا فاضل کے درجہ کے بعد ضروری ہے کہ چند طلباء کو دو برس تک خالص انگریزی زبان سکھائی جائے،تاکہ انگریزی زبان میں تحریر و تقریر کا ملکہ ان کے اندر پیدا ہو اور ایسے علماء پیدا ہوں کہ یورپ کی علمی تحقیقات کو اسلامی علوم میں اضافہ کر سکیں اور انگریزی داں جماعت کے مجمع میں ان ہی کی زبان اور خیالات میں اسلامی عقائد اور مسائل پر تقریر کر سکیں۔‘‘ (مقالات شبلی، ج۳؍ ۱۶۰،۱۶۱)

بنیادی دینی تعلیم کا حصول ہر شخص پر واجب ہے لیکن علوم دینیہ میں اختصاص کمال اور اس فن میں مہارت تامہ حاصل کرنا ہر ایک پر واجب نہیں،کیونکہ اگر ہر ایک شخص دینی علوم میں مہارت تامہ حاصل کرئے گا تو جدید علوم کے ماہرین کہاں سے آئیں گے جن کے بغیر دنیا میں طاقت و قوت کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کوئی زندہ اور ترقی یافتہ قوم ان علوم سے صرف نظر ہی کر سکتی ہے۔ انسان کے ناتواں کاندھوں پر خلافت کی عظیم ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔خلافت کی عظیم ذمہ داریوں کو عمدہ طریقہ سے پائے تکمیل تک پہنچانے کے لئے دنیا کے انتظام و انصرام ،ایجادات اور فن کا جاننا اس لئے ضروری ہے کہ اس کے بغیر وہ خلافت کے بار عظیم کو بہتر طریقہ سے انجام نہیں دے سکتا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :و علّم آدم الاسماء کلھا۔(البقرہ: ۳۱)’’ اور اس نے آدم ؑ کو سب (چیزوں کے) کے نام سکھائے۔‘‘ اللہ رب العزت نے حضرت آدمؑ کو اشیاء کے اسماء کا علم سکھایا تھا۔جس اسماء کا علم اللہ نے حضرت آدمؑ کو سکھایا تھا اس کے متعلق مفسرین نے لکھا ہے کہ اسماء سے مراد مسمیات یعنی اشیاء کے خواص ہیں،اور اس کا نام سائنس ہے۔ اگر مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ وہ بھی دنیا میں دوسری ترقی یافتہ قوموں سے قدم سے قدم ملا کر چلیں،ان سے کسی بھی کام میں پیچھے نہ رہیں ، دوسری قوموں کی جارحیت کا نشانہ نہ بنیں، زمانہ کا رولر انہیں پامال کرتا ہوا آگے نہ بڑھے، نئی نئی ایجادات و انکشافات میں ان کا بھی حصہ ہو اور دنیا میں وہ ناقابل تسخیر قوم بن جائیںتو ان تمام چیزوں کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ وہ بھی جدید علوم میں دست گاہ اور مہارت تامہ حاصل کریں ورنہ اس کے بغیر طاقت و ترقی کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ بقول علامہ اقبالؔ: ؎

جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد

ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ

خلافت بنو عباس کے دور حکومت میں جب یونانی علوم کا ستارہ عروج پر پہنچا اور ان علوم کے ذریعہ عقیدۂ اسلامی پر تاخت و تاراج کی ابتداء ہوئی تو مسلمان علماء خاص طور سے امام غزالیؒ نے اُن جدید علوم کو اپنے نصاب میں داخل کیا اور انہیں اسلام کے دفاع کا ذریعہ بنایا۔ مسلمانوں نے اس علوم میں مہارت پیدا کر لی تھی  وقت کی ضرورت کے تحت مسلمانوں نے ان علوم کو سیکھا۔  مسلمان ان جدید علوم میں پہلے ہر اول دستہ کی حیثیت رکھتے تھے،اور ان ہی (مسلمانوں) سے یورپ نے ان علوم کو سیکھا لیکن اب وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم مسلمان پھر ان علوم کو سیکھیں اور اپنی گمشدہ میراث کو حاصل کریں۔

مدارس کے فارغین اور عصری علوم کے فارغین کے درمیان بیگانگی کی ایک دیوار حائل ہو گئی ہے۔ لہٰذا اب وہ وقت آ گیا ہے کہ اس تفریق کو ختم کرنے کی سنجیدہ کو شش کی جائے اور وہ اس طرح کہ دینی علوم کے جو مدارس ہیں ان میں جدید علوم کوا س حد تک ضرور داخل کیا جائے کہ مدارس کے فارغین زمانہ کے تقاضوں کو سمجھ سکیں اور صحیح رہبری کر سکیں۔اسی طرح مسلمانوں کے عصری علوم کے اداروں میں بھی دینی علوم کو اس حد تک شامل کیا جائے کہ طالب علم حلال و حرام کے درمیان تمیز کر سکیں۔

جب ہم دور حاضر کے حالات کا سنجیدگی سے مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی ہار اور دوسری قوموں کی جیت کی بنیادی وجہ مسلمانوں کا صنعت اور ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ جانا ہے مسلمان اپنی علمی اور صنعتی پسماندگی کی وجہ سے دوسری قوموں کی جارحیت کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔  ہمارا مطالعۂ د ین  ناقص ہے کہ ہم نے صرف مسجدوں میں نماز کی ادائیگی کو ہی دین سمجھ لیا ہے۔بے شک مسجدوں میں نماز کی ادائیگی ضروری ہے۔ روزہ ، زکوٰۃاور حج اسلامی فریضہ ہیں لیکن دفاع کے لئے قرآن کریم میں جہاد اور بلند ترین معیار کی تیاری  کے احکام بھی موجود ہیں۔ جہاد کے صحیح تصور کو اب دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے، مسلم حکومتیں اس معاملہ میں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقہ سے انجام دیں تاکہ مسلمان دنیا میں طاقتور قوم بن کر رہیں،دوسری قومیں انہیں اپنی جارحیت کا نشانہ نہ بنائیں اور مسلمان ملک پامال اور شکستہ حال نہ بنائے جائیں۔ اب مسلمانوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ جدید علوم و فنون، ٹیکنالوجی اور صنعت و حرفت کا حصول بھی دینی کام ہے۔یہ ہمارے اسلاف کی میراث ہے اس کے بغیر مسلمانوں کی عظمت رفتہ بحال نہیں ہو سکتی۔مسلمان اگر عظمت کی باز آفرینی کے لئے جدید علوم میں امامت کا مقام و مرتبہ حاصل کرلیں تو عند اللہ بھی ماجور ہوں گے اور عند الناس بھی معزز و مکرم ہوں گے۔

دور جدید میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا علم مسلمانوں کے لئے بہت ضروری ہے،کیونکہ سائنس اس دنیا کے متعلق اکتساب علم کا نام ہے اور اس علم اور تجربہ کو علمی لباس پہنانا ٹیکنالوجی ہے۔ قرآن مجید میں نظام کائنات پر تدبر کرنے اور آفاق و انفس کا مشاہدہ کرنے کی بار بار تلقین کی گئی ہے۔کہیں کہا گیا ہے کہ افلا تدبرون، کہیں افلا تعقلون اور کہیں افلا تفکرون وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں یہی سائنس کا مفہوم ہے ۔ یہ سمجھ لینا کہ جدید علوم صرف دنیاوی چیزیں ہیں ،اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ،ایسا سوچنا سراسر غلط ہے۔ اسلام کے جامع نظام کو ذہن نشین کرنے اور کروانے کی ضرورت ہے۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا ہو گا کہ اسلام کا مقصد دنیا و آخرت دونوں زندگیوں کو بہتر بنانا ہے۔ جب تک یہ چیزیں حاصل نہیں ہو ںگی دین کا تصور محدود رہے گا ۔ ایک اچھے صاحب ایمان اور صاحب اخلاق انسان ہونے کے ساتھ ایک مسلمان کے لئے عصری علوم و فنون میں مہارت حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔

عبادت و خلافت  کے تقاضوں کو ہم آہنگ اور باہم مربوط کرنا ایک مسلمان  عالم دین کی ذمہ داری ہے، ایمان اور علم کی  جامعیت اور روحانی و مادی طاقت کے امتزاج کے بغیر مسلمان ذہنی کمال ،قوت اختراع اور عزت و شوکت سے محروم رہیں گے۔ دینی  جماعتیں اور شخصیتیں جتنی جلد اس حقیقت کو سمجھ لیں ان کے لئے اتنا ہی اچھا ہے۔ اسی طرح اس بات کو ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ جب مسلمانوں نے آفاق و انفس پر تدبر کے نتیجہ میں سائنس کو اپنے قبضہ میں کر لیا تو سائنسی علوم خدمت خلق کا ذریعہ بنے اور ان سے فلاح و بہبود کا کام لیا گیا ۔اسی کے ساتھ ہی سائنس اور خدا پرستی میں کوئی تضاد واقع نہیں ہوا ۔اس کے بر عکس جب سائنس پر یورپ کی قوموں نے اپنا پنجہ جما لیا تو انہوں نے سائنس کو الحاد اور بے دینی کے فروغ کا ذریعہ بنا لیا اور نئی دریافتیں دنیا میں شر و فساد کے پھیلانے کا وسیلہ بن گئیں۔ اس لئے اب مسلمانوں کو غفلت کی نیند سے جاگنا ہو گا اور اپنے اسلاف کی میراث کو حاصل کرنا ہی ہو گا۔

مسلمانوں کی جس قدر علمی عروج اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر کئی صدیوں تک قائم رہا۔ اسی قدر وہ آج انحطاط و تنزل کا شکار ہیں۔صرف علم میں فقدان کے باعث ہم کئی  شعبوں میں  مغرب کے غلام بن چکے ہیں  ۔ معیشت،   سیاست میں ہم اغیار کے محتاج ہیں۔ یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے جس کا بد قسمتی سے ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مسلمان جس کی تخلیق دنیا کی رہنمائی کے لئے کی گئی  تھی ۔ آج سراب سفر کو مقصود حقیقی سمجھ کر اس پر قانع و شاکر ہے ۔اسی وجہ سے ذلت و مسکنت کے بادل چاروں طرف سے ہمیں اپنی گرفت میں لے لئے ہیں ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے شاندار ماضی اور عبرتناک حال دیکھ کر مستقبل کو درخشاں کرنے کی بہتر منصوبہ بندی کریں۔  سر سید علیہ الرحمہ نے علی گڑھ مسلم یونیوسٹی کی بنیاد رکھی تو انہوں نے صرف مذہبی تعلیم کی ہی طرف  توجہ مبذول نہیں رکھی بلکہ مذہبی تعلیم کے ساتھ جدید تعلیم کو بھی اہمیت دی تاکہ مسلمان علم کے میدان میں کسی سے بھی پیچھے نہ رہیں ۔بنگلہ دیش میں  وزرات تعلیم نے فیصلہ کیا کہ تمام مذہبی مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ جدید تعلیم کی طرف بھی توجہ دی جائے، تاکہ آنے والی نسل کو جدید تعلیم سے ہمکنار کیا جا سکے ۔ اسی طرح پوری دنیا میں موجود مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ سائنسی تعلیم کی فراہمی نا گزیر ہے۔ جابر بن حیان اور ابن ہیثم جیسے عظیم سائنسداں جنم لیں وہاں امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل جیسے عظیم ائمۂ دین بھی پیدا ہوں، تاکہ دنیاوی مقاصد کی تکمیل کے ساتھ دینی روح بھی ضعف کا شکار نہ ہو جس کی تقویت اور مضبوطی ہر چیز سے مقدم ہے۔

عصر حاضر کی اہم ضروریات

دینی اور عصری دونوں تعلیم کی ضرورت ہے جو حسب ذیل ہیں: lدینی مدارس اپنے نصاب میں انقلابی تبدیلیاں کر کے ضروری عصری علوم کو بھی اس میں شامل کریں، تاکہ ان کے فارغین تمام شعبہ ہائے حیات میں سر گرم عمل ہوں اور تمام طبقات کی قیادت و رہنمائی کر سکیں۔ lایسے تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں جس میں دینی اور عصری دونوں علوم پر مشتمل ایک جامع نصاب تیار کر کے اس کا تجربہ کیا جائے۔ lکالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والوں کو ضروری دینی اور اسلامی ثقافت و تربیت سے آراستہ کیا جائے ۔اس طرح دونوں طبقات میں ایک دوسرے سے واقفیت، باہمی احترام اور اتحاد و اتفاق کا جذبہ پیدا ہو گا اور وہ ایک ساتھ مل کر اپنا ملی کردار ادا کر سکیں گے۔

نتیجہ یہ ہے کہ ایک ایسا علمی ادارہ قائم کیا جائے جس میں دینی و عصری تعلیم میں تفریق نہ ہو ،وہ دونوں باہم مربوط ہوں ۔اس لئے  درج ذیل اہم نکات کی طرف غور ضرور کیا جائے ۔۱۔نصاب تعلیم ایسا ہونا چاہئے جو فرد اور معاشرہ کی ضرورت اور مقتضیات سے ہم آہنگ ہو۔ ملی روایات ،تہذیب و تمدن اور اقدار عالیہ پر مبنی ہو اور اس میں ملک و ملت کی فلاح و کامرانی بنیادی عناصر کی حیثیت سے شامل ہوں۔۲۔مراسلتی کورس اور اوپن اسکول کو متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔۳۔علم سماجیات ، علم سیاسیات ،علم معاشیات اور علم نفسیات کی جدید ترین تحقیقات کی اہمیت کے پیش نظر ان کو تعلیمی نصاب میں ضرور شامل کیا جائے۔ ۴۔بنیادی انگریزی اور ہندی کی تعلیم کا جلد از جلد لازمی طور پر انتظام کرنا چاہئے۔ ۵۔ تعلیم و ملازمت کی ایک دوسرے سے وابستگی کو روایتی مسلم سماج میں پسندیدہ نظروں سے نہیں دیکھا جاتا جبکہ ملک میں رائج تعلیمی نظام طلباء کو ملازمت کے سلسلہ میں سہولیات فراہم کرتا ہے ۔ اس صورت میں ہمیں  اعتدال کی راہ اختیار کرنی ہو گی۔

اگست 2017

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau