اقامت دین کی اصطلاح کی معنویت

(اعتراضات کے تناظر میں)

ڈاکٹر محمد رفعت

امتِ مسلمہ پر یہ اللہ کا بڑا فضل ہے کہ ایک صدی سے دنیا کے بہت سے ملکوں میں اسلامی جماعتیں اورتنظیمیں کام کررہی ہیں۔ اپنے احوال کے مطابق وہ اللہ کے دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ان میں وہ تنظیمیں اور جماعتیں قابلِ ذکر ہیں جن کا دین کا تصور نسبتاً جامع ہے۔ یعنی وہ تصور جس میں دین کے سارے پہلوؤں پر توجہ دی گئی ہے۔ ایسی جماعتوں کو ’اسلامی تحریک‘ کہا جاتا ہے۔ ان کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ ان سب کوششوں کی ابتدا جماعت اسلامی اور اخوان المسلمون سے ہوئی ہے۔ اکثر تنظیمیں اس لٹریچر سے استفادہ کرتی ہیں، جو جماعت کے بزرگوں اور اخوان المسلمون کے رہنماؤں نے تیار کیا تھا۔

تازہ مظہر یہ ہے کہ پچھلی ربع صدی میں پوری دنیا میں اسلام اور کفر کی کشمکش تیز ہوچکی ہے اور دن بدن تیز ہوتی جارہی ہے۔ اس کشمکش میں اسلام کے داعیوں کے سامنے جو دشواریاں ہیں اس میں مسلمانوں کی بے عملی ایک بڑی دشواری ہے۔ مسلمانوں میں بعض غلط رویے موجود ہیں فکری و عملی، کچھ پرانے کچھ نئے، وہ فروغِ دعوت کے راستے میں حائل ہیں۔ ان سب دشواریوں پر دین کے خادموں کو قابو پانا ہے۔ مسلمانوں کے رویوں کی اصلاح بھی کرنی ہے اور ان کو صالح عمل پر بھی ابھارنا ہے۔ آج دنیا کی عمومی صورتِ حال یہ ہے کہ اسلامی تحریک نے جو پیغام پیش کیا ہے وہ ان عناصر کو ناگوار ہے جو اللہ سے بغاوت پر آمادہ ہیں اور جو یہ چاہتے ہیںکہ پوری دنیا پراللہ کے باغیوں کی مرضی چلے۔

اسلامی دعوت کی علم بردار تنظیمیں جب قائم ہوئیں اس وقت بھی ان کی دعوت ہر گوشے میں پسند نہیں کی جاتی تھی بلکہ بعض حلقوں میں ناگواری کا اظہار کیا جاتا تھا۔ اب اس مخالفت کی شدت بڑھ گئی ہے، اسلامی اصطلاحات میں اس وقت خاص طور پر تین اصطلاحات مخالفت کا نشانہ ہیں۔ اقامت دین، اسلامی ریاست اور جہاد۔ ان تین اصطلاحات کی معنویت کی نفی کرنے والوں میں دانا دشمن بھی شامل ہیں اور نادان دوست بھی۔ پچھلے دنوں جہاد کے موضوع پر بعض کتابیں سامنے آئی ہیں، جن میں بہت سی صحیح باتوں کے ساتھ جہاد کے سلسلے میں غلط باتیں بھی کہی گئی ہیں۔ البتہ اسلوبِ نگارش عالمانہ اور سنجیدہ ہے۔ اسی طرح کچھ اور تحریروں میں اقامتِ دین اور اسلامی ریاست کی مقصودیت کی نفی کی جارہی ہے۔

اسلامی اصطلاحیں

یہ واقعہ ہے کہ مختلف احوال میں اسلامی تنظیموں نے اپنے پیغام اور دعوت کا تعارف کرانے کے لیے مناسب اصطلاحیں استعمال کی ہیں۔ اسلام کی ترجمانی کے لیے کون سی اصطلاح داعی استعمال کرے اس کے لیے داعی کو حکمت سے کام لینا ہوتا ہے۔ قرآن و حدیث سے ہی اصطلاحیں ماخوذ ہوں، یہ بات بہرحال لازم ہے۔ چنانچہ قرآن کے طالب علم جانتے ہیں کہ اقامت دین، اظہارِ دین، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، شہادت علی الناس، اعلاء کلمۃ اللہ، دعوت دین، یہ سب کلیدی دینی اصطلاحیں ہیں۔ ان اصطلاحوں میں سے داعی کس کو تخاطب کے دوران استعمال کرے، اس سلسلے میں دین نے اسے پابند نہیں کیا ہے۔ قرآن و حدیث کے دائرے میں، حالات اور سننے والوں کی رعایت کرتے ہوئے تمام موزوں اصطلاحیں استعمال کی جاسکتی ہیں۔ دعوت کی مصلحت کا یہ تقاضا بہرحال ہے کہ اصطلاحیں ایسی منتخب کی جائیں جو زیادہ سے زیادہ جامع ہوں۔ مطلوب یہ ہے کہ دین کے تعارف کے ذیل میں،دینی ہدایات و تعلیمات کے حقیقی معانی لوگوں کے سامنے آجائیں۔ اس لحاظ سے جب غور کرتے ہیں تو مذکورہ بالا اصطلاحوں میں ’’اقامتِ دین‘‘، سب سے زیادہ جامع اصطلاح معلوم ہوتی ہے۔ جماعت اسلامی اپنے نصب العین کے تذکرے لیے اقامتِ دین ہی کی اصطلاح استعمال کرتی ہے۔ بہت سی اسلامی تنظیمیں دوسرے الفاظ استعمال کرتی ہیں۔ یہ ذمہ داری جماعت اسلامی کے وابستگان کی ہے کہ اس جامع اصطلاح کو زندہ رکھیں، اُسے متروک نہ ہونے دیں، جسے بڑی کاوش سے متعارف کیا گیاہے۔ دیگر مخلص عناصر کی بھی ذمہ داری ہے کہ دین کی اقامت کا جذبہ اُمت کے اندر پیدا کریں۔

جماعت اسلامی کا دستور

جماعت اسلامی ہند اپنی عددی طاقت کے لحاظ سے تو زیادہ قوی نہیں، لیکن اپنی فکر کے لحاظ سے وہ کمزور نہیں ہے۔ اللہ کے فضل سے وہ دینی فکرکی حامل ہے جو مضبوط فکر ہے۔ اہلِ حق جس فکر پر قائم ہوں اس پر انہیں قائم رہنا چاہیے۔ قرآن و سنت سے کوئی ثابت کرے کہ داعی گروہ کے پیغام میں کوئی خامی ہے، تو اصلاح کرلینی چاہیے۔ لیکن محض نادان لوگوں کے شور شرابے اور مخالفت نیز پروپیگنڈے سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ حالات سخت ہوں تو اُن سے متاثر ہونے کے رجحانات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ان سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ اوپر سے نیچے، نوجوانوں سے بوڑھوں تک ہر مومن کے قلب میں باطل کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ دین کے خادموں اور حق کے داعیوں کو صحیح اسلامی فکر پر ہر حال میں قائم رہنا چاہیے۔ اس فکر کی پیش کش میں موزوں اصطلاحوں کی بڑی اہمیت ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اسلام کی ترجمانی کے لیے دینی اصطلاحوں کے ذکر میں داعی کو جھجکنا نہیں چاہیے۔ جہاد اہم دینی  اصطلاح ہے، دیگر اصطلاحوں کی طرح بات چیت میں جہاں ضرورت ہو،  اس کا ذکر کرنا چاہیے۔ اسی طرح اقامتِ دین ایک بنیادی اصطلاح ہے، اسلامی نصب العین کی وضاحت کے لیے بوقت ضرورت اس کا استعمال کرنا چاہیے۔ یہ ظاہر ہے کہ اقامت دین کی تشریح میں اسلامی ریاست کے ذکر کو حذف نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے اسلامی ریاست کا تعارف بھی، اسلام کے پیغام کا حصہ ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے دستور میں اقامتِ دین کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کچھ بنیادی باتیں درج کی گئی ہیں۔ جماعت کے دستور کے ابتدائی حصے میں اسلامی عقیدےکی تشریح کے بعد نصب العین درج کیا گیا ہے۔ نصب العین کے معنی ہیں وہ فرض جو ہر وقت نگاہوں کے سامنے رہے۔ جو کام اہلِ ایمان کو کارگاہِ حیات میں عملاً کرنا ہے وہ نصب العین کے تحت آتا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے دستور میں لکھا گیا ہے کہ جماعت کا نصب العین، اقامتِ دین ہے، جس کا حقیقی محرک صرف رضائے الٰہی اور فلاح آخرت کا حصول ہے۔ حقیقی محرک، دیگر صالح محرکات کی نفی نہیں کرتا بلکہ وہ سب حقیقی محرک کے اندر شامل ہوتے ہیں۔ مثلاً انسانیت کی فلاح کی تمنا، انسانوں سے محبت، انسانی مسائل کے حل کی جستجو۔ بہرحال حقیقی محرک اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی فلاح حاصل کرنا ہے۔

اقامت دین کے سلسلے میں ذہن میں پہلا سوال یہ آتا ہے کہ لفظ دین کے معنی کیا ہیں؟ دین کے معنی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنی کتاب ’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘ میں بیان کیے ہیں۔ کتاب میں زیرِ بحث  چار بنیادی اصطلاحیں ہیں: رب، الٰہ، عبادت اور دین۔

دین

دین ایک کلیدی اصطلاح ہے۔ سید مودودیؒ کی مذکورہ تحقیقی تصنیف میں دین کے چار معانی بیان کیے گئے ہیں، ان میں جو معنی، اقامتِ دین کی اصطلاح سے مناسبت رکھتا ہے، وہ ہے ’’زندگی گزارنے کا طریقہ‘‘۔ یہ مفہوم مسلمانوں کے درمیان معروف ہے۔ عموماً کوئی شخص دین کا لفظ استعمال کرتا ہے، تو اس سے یہی معنیٰ مراد لیتا ہے۔ اس مفہوم پر دلالت کرنے والی قرآن مجید کی متعدد آیات موجود ہیں جِن سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ زندگی گزارنے کے راستہ کی تفصیل اللہ کی شریعت بتاتی ہے۔ دین کا مفہوم جان لینے کے بعد دوسرا اہم سوال سامنے آتا ہے، جو خود انسانی زندگی سے متعلق ہے۔ ظاہر ہے کہ انسانی زندگی کے بہت سے پہلو ہیں۔ مثلاً انسانی شخصیت سے متعلق ایک موضوع ایمان ہے۔ انسان کے لیے موزوں عمل کی نشاندہی بھی ایک اہم موضوع ہے۔ انسانی تعلقات، نظامِ حکومت، لین دین کے طریقے، یہ سب زندگی کے اہم امور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا دین میں یہ سب باتیں شامل ہیں یا محض بعض امور، دین کا دائرہ ہیں۔ یہ سوال بڑا اہم ہے۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں زندگی کے سارے پہلو شامل ہیں۔ یہ بات مسلمانوں میں تسلیم شدہ ہے۔

اس جامع دین کے بارے میں قرآنِ مجید ہدایت دیتا ہے کہ ’اقیموا الدین‘یعنی دین کو قائم کرو۔ سوال یہ ہے کہ اس جملے میں دین سے کون سا دین مراد ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد اسلام ہے۔ آیتِ مذکورہ میں یہ بات واضح ہے۔ دستورِ جماعت اسلامی میں وضاحت کی گئی ہے کہ ’الدین‘ سے مراد اسلام ہے، اس لیے کہ اللہ کے نزدیک کوئی اور دین قابلِ قبول نہیں ہے۔ اس پر قرآن مجید کے دلائل سے ہرصاحب علم واقف ہے۔ دستور جماعت اسلامی میں نصب العین کے لیے حقیقی محرک، رضائے الٰہی اور فلاحِ آخرت کے حصول کو قرار دیا گیا ہے۔ ضمنی محرک یہ ہے کہ انسانی مسائل حل ہوں، انسانوں کی مشکلات دور ہوں اور انسان کی زندگی کی صالح تعمیر ہو۔ یہ سب محرکات رضائے الٰہی اور فلاحِ آخر ت سے ہم آہنگ ہیں۔ ان کو حقیقی محرک میں شامل سمجھا جائے گا۔

اقامتِ دین کا مفہوم

ترتیب کے لحاظ سے اگلا اہم سوال یہ ہے کہ دین کی اقامت کا مطلب کیا ہے۔ اس سوال کے جواب کے لیے اقامتِ دین کو اقامتِ صلوٰۃ پر قیاس کرسکتے ہیں۔ اقیموا الصلاۃ کی تلقین، کتابِ الٰہی میں بار بار آئی ہے۔ اقامتِ صلوٰۃ کا  جومفہوم امت سمجھتی ہے، وہ یہ ہے کہ اقامت سے محض نماز کی ادائیگی مراد نہیں ہے۔ بلکہ اہتمام کے ساتھ اس کی ادائیگی مراد ہے۔ مثلاً اہتمام میں یہ بات شامل ہے کہ نماز باجماعت ادا کی جائے ، مساجد کا نظم  قائم ہو، جب نماز ادا ہو تو شرائط و آداب کے ساتھ ہو، اس کے اثرات پوری زندگی پر مرتب ہوں، جو لوگ نماز ادا نہ کررہے ہوں ان کو توجہ دلائی جائے اور پورے معاشرے میں نماز کو رواج دیا جائے۔ یہ سب امور اقامتِ صلوٰۃ میں شامل ہیں۔ محض سادہ لفظوں میں نماز ادا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ اقامتِ صلوٰۃ کی ہدایت دی گئی ہے۔ اقامتِ صلوٰۃ پر قیاس کرتے ہوئے اقامتِ دین کے معنی متعین کیے جاسکتےہیں ، گویا ہدایت صرف اتنی نہیں دی گئی کہ دین پر عمل کرو، بلکہ رب کائنات یہ کہتا ہے کہ دین کو قائم کرو یعنی  دین پر عمل کرو پورے اہتمام کے ساتھ۔ دستور جماعت میں درج تشریح میں یہی بات کہی گئی ہے۔ اقامتِ دین سے مراد یہ ہے کہ اس پورے دین کی مخلصانہ پیروی کی جائے۔ اس میں شک نہیں کہ اقامتِ دین، دین پر عمل کا نام ہے۔ البتہ مطلوب یہ ہے کہ دین پر عمل اہتمام کے ساتھ ہو۔ کسی تفریق و تقسیم کے بغیر، پورے دین کی مخلصانہ پیروی کی جائے۔ ہر طرف سے یکسو ہوکر کی جائے۔ رہنمائی کے لیے کسی اور دین کی طرف نہ دیکھا جائے۔ انسانی زندگی کے انفرادی اور اجتماعی تمام گوشوں میں اللہ کے دین کو اس طرح جاری و نافذ کیا جائے کہ فرد کا ارتقاء، معاشرے کی تعمیر اور ریاست کی تشکیل سب کچھ اسی دین کے مطابق ہو۔

فرد، سماج اور ریاست ، تینوں سے دین خطاب کرتا ہے۔ اقامتِ دین کی اس تشریح کا جو جز، کوتاہ بینوں کو سب سے زیادہ ناگوار ہے، وہ ریاست کی تشکیل ہے۔ اُن کی ناپسندیدگی کے باوجود — واقعہ یہ ہے کہ درج بالا تشریح، اقامتِ دین کی  درست تشریح ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ حکومت و ریاست زندگی کا جزء ہے۔ جب دین پوری زندگی سے بحث کرتا ہے تو ریاست کو کیسے نظر انداز کرسکتا ہے، چنانچہ اقامتِ دین میں اسلامی ریاست کی تشکیل یقیناً شامل ہے۔ دستورِ جماعت میں مزید وضاحت کے لیے کہا گیا ہے کہ دین قائم کرنے کا مثالی نمونہ  نبی کریمﷺ اور آپ کے خلفائے راشدین کا ہے۔ ظاہر ہے کہ امت میں اس امر پر کوئی اختلاف نہیں ہے کہ دورِ نبوی اور دورِ خلافتِ راشدہ  مثالی دور تھا، جو مسلمانوں کے لیے معیار اور کسوٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔

اپنی کتاب ’’خلافت وملوکیت‘‘ میں مولانا مودودیؒ نے خلافتِ راشدہ کی سات خصوصیات گنائی ہیں۔ یعنی انتخابی خلافت، شوروی طرزِ حکومت، بیت المال کا امانت ہونا، حکومت کی جوابدہی، قانون کی بالاتری، عصبیتوں سے پاک طرزِ حکمرانی اور روحِ جمہوریت کی موجودگی۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ خلافت اور بادشاہی میں کوئی خاص امتیاز نہ تھا۔ یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ مولانا مودودیؒ  نے بتایا ہے کہ وہ سات بنیادی اصول، جو اسلام کی اصل دَین ہیں، خلافتِ راشدہ میں موجود تھے، مگر بادشاہی میں وہ ضابطے قائم نہیں رہے۔ خلافت راشدہ کا دور مثالی دور تھا۔ پوری امت کے نزدیک وہ مثالی دور ہے۔ اسی نمونے کو دین کے خادموں کے پیش نظر ہونا چاہیے۔ اقامت دین کی یہ وہ تشریح ہے جو داعیانِ حق کو سمجھنی بھی ہے اور یاد بھی رکھنی ہے۔

اسلامی ریاست

اسلامی ریاست کی مقصودیت پر بعض اعتراضات کیے گئے ہیں۔ ایک اعتراض یہ ہے کہ ’’حکو مت تو اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔ اس کے لیے ارادی و شعوری کوشش کرنا اہلِ ایمان پر فرض نہیں۔ حکومت وہ انعام ہے جو ایمان اور عمل صالح کے نتیجے میں اللہ کی جانب سے مومنین کو ملا کرتا ہے۔ چنانچہ اسلامی تنظیموں کے کارکنان جب کہتے ہیں کہ دین قائم کرنے کی کوشش کرو، (جس میں یہ بات شامل ہے کہ اسلامی حکومت کے قیام کی کوشش کرو) تو اُن کی یہ دعوت، اسلامی مزاج کی ترجمانی نہیں کرتی۔ دین کا ہم سے یہ مطالبہ نہیں ہے کہ حکومت کے قیام کے لیے سعی کریں۔‘‘ اس اعتراض میں اتنی بات تو صحیح ہے کہ حکومت یقینا اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔ قرآن مجید میں ہے:

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِیْ الْأَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِیْ ارْتَضَی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُم مِّنْ بَعْدِ خَوْفِہِمْ أَمْناً یَعْبُدُونَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئاً وَمَن کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَأُوْلٰئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ o                                                                                                                                                                                         (نور: ۵۵)

’’تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور جنھوںنے نیک عمل کیے، اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ انھیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا۔ جیسا کہ ان لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا، جو ان سے پہلے گزرے۔ اللہ تعالیٰ یقینا ان کے لیے ان کے اُس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کردے گا جسے وہ ان کے لیے پسند کرچکا ہے۔ وہ ان کی (موجودہ) حالتِ خوف کو امن سے بدل دے گا۔ بس وہ میری عبادت کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اس کے بعد بھی جو لوگ ناشکری کریں وہ فاسق ہیں۔‘‘

مذکورہ بالا آیت کے مطابق یہ بات بالکل صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح کے بدلے میں اہلِ ایمان سے یہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں زمین میں اقتدار بخشے گا۔ لیکن قرآن مجید میں محض یہی ایک آیت نہیں ہے، جو اس موضوع کا ذکر کرتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حکومت کے سلسلے میں ایک پہلو انعام کا ہے جس کا اس آیت میں تذکرہ ہوا۔ دوسرا پہلو، صالح و عادل حکومت کے لیے اس سعی و کوشش کا ہے جس کا مطالبہ اہلِ ایمان سے قرآن کرتا ہے۔ اس دوسرے پہلو کا تذکرہ مثال کے طور پر سورہ صف میں ہے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا ہَلْ أَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِیْمٍo تُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ وَرَسُولِہٖ وَتُجَاہِدُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِأَمْوَالِکُمْ وَأَنفُسِکُمْ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ إِن کُنتُمْ تَعْلَمُونَo یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَیُدْخِلْکُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ وَمَسَاکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنَّاتِ عَدْنٍ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُo وَأُخْرَی تُحِبُّونَہَا نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَo                                                          (الصف: ۱۰-۱۳)

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میں بتاؤں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذابِ الیم سے بچادے۔ ایمان لاؤ اللہ اور اُس کے رسول پر اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا، اور تم کو ایسے باغوںمیں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔ اور اللہ وہ دوسری چیز بھی تمہیں دے گا جو تم چاہتے ہو۔ یعنی اللہ کی نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہوجانے والی فتح۔ اے نبی، اہلِ ایمان کو اس کی بشارت دے دو۔‘‘

ان آیات سے فوراً پہلے اس سورت میں منصوبہ الٰہی کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ دین کو غالب کرے گا، چاہے یہ امر مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔ پھر مسلمانوں کو نفع بخش تجارت کی ترغیب دی گئی ہے۔  تجارت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے  سادہ معنوں میں ایمان اور عمل کے ذکر پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ مسلمانوں سے کہا یہ گیا ہے کہ ایمان لاؤ اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ جہاد یقینا عمل صالح کا جز ہے، لیکن اس کی اہمیت کی بنا پر صراحت کے ساتھ اس کا ذکر ہے۔ پھر بتایا گیا کہ جہاد کا صلہ کیا ہوگا۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں معاف کردے گا، بہترین جنت میں تمہیں جگہ دے گا اور اس دنیا میں وہ دوسری چیزبھی دے گا جو تم چاہتے ہو-وہ فتح ہے جو جلد حاصل ہوجائے گی۔

منشائے الٰہی کی وضاحت کے لیے سورئہ صف کی ترتیب پر بھی غور کرنا چاہیے۔ سورت شروع اس تنبیہ سے ہوتی ہے کہ بعض لوگ بڑے بڑے دعوے کرتے تھے کہ ہم اللہ کے راستے میں جہاد کرنا چاہتے ہیں، ان سے کہا گیا کہ وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ پھر تاریخی مثالوں کے ذکرکے بعد بتایا گیا کہ اللہ اپنے دین کو غالب کرے گا، اُس نے رسول کو بھیجا ہی اس مقصد کے لیے ہے۔

لوگ کہتے ہیں کہ سورہ صف میں اظہارِ دین کی نسبت، اللہ کی طرف کی گئی ہے۔ یہ بات صحیح ہے۔ لیکن اللہ خود اہلِ ایمان کو بلا رہا ہے کہ اظہارِ دین کے لیے کی جانے والی سعی میں حصہ لو۔ اہلِ ایمان کے لیے یہ سعادت کی بات ہے کہ اُن کو شرکت کا موقع ملے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اسی لیے حواریوں سے کہا تھا کہ کون ہے اللہ کی طرف میرا مددگار؟ اس مثال کے تذکرے کے ساتھ، اللہ نے  مومنوں سے کہا ہے کہ کونوا انصار اللّٰہ۔ (اللہ کے مددگار بنو)۔

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اظہارِ دین کے کارِ عظیم میں شرکت، انسانوں کا درجہ بلند کرنے کے لیے ہے۔ اللہ اُن کو موقع دے رہا ہے کہ تم اس کام میں حصہ لو۔  اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایمان لاؤ اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ اس خدمت کے نتیجے میں اجر کے طور پر جنت ملے گی اور دنیا میں بھی فتح حاصل ہوگی۔ عیسیٰ علیہ السلام کے پیرووں کی مثال دے کر بتایا گیا ہے کہ بالآخر وہ اپنے مخالفین پر غالب رہے۔ بلاشبہ اہلِ ایمان سے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ فتح کے لیے کوشش کرو، قرآن کا اسلوب یہ نہیں ہے بلکہ اہلِ ایمان کو وہ کام بتایا گیا جو انہیں کرنا ہے۔  یہی اسلوب مناسب ہے کہ اہلِ ایمان کو یاددہانی کی جائے کہ دین کی پیروی کرو جس میں جہاد شامل ہے۔ پھر توقع رکھو کہ اللہ فتح عطا فرمائے گا ۔

جناب شبیر احمد عثمانی سورہ صف کی مذکورہ بالا آیات کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرنا تو اللہ کا کام ہے، لیکن تمہارا فرض یہ ہے کہ ایمان پر پوری طرح مستقیم رہ کر اُس کے راستے میں جان و مال سے جہاد کرو۔‘‘

یہ بات درست ہے کہ حق کی فتح اللہ کا انعام ہے لیکن اس انعام کو حاصل کرنے کے لیے اہلِ ایمان کو بھی کچھ کرنا ہے۔ جو کرنا ہے وہ اللہ تعالیٰ نے بتادیا ہے۔ حق کی فتح کا مظہر یہ ہے کہ لوگ اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوں۔ یعنی اللہ کے دین میں داخل ہونے کے راستے میں حائل رکاوٹیں ختم ہوجائیں۔

إِذَا جَائَ  نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ o وَرَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ أَفْوَاجاً o فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إِنَّہُ کَانَ تَوَّاباً o  (النصر)

’’جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح نصیب ہوجائے اور تم دیکھ لو کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اور اس سے مغفرت کی دعا مانگو۔ بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘

مولانا اشرف علی تھانوی کا موقف

مولانا تھانوی برصغیر کے معروف عالم گزرے ہیں جن کے علمی مقام و مرتبے کا اعتراف سب نے کیا ہے۔ انھوںنے جہاد کے سلسلے میں فرمایا:

’’جیسے یہ غلط ہے کہ نماز روزہ کو کامیابی میں کیا دخل ہے، اُسی طرح یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ نماز روزہ کامیابی کے لیے کافی ہے۔ بلکہ دلائل اس کے شاہد ہیں کہ خالی نماز روزہ سے کبھی کامیابی نہیں ہوتی اور نہ ہوسکتی ہے۔ بلکہ ایک دوسری چیز کی بھی ضرورت ہے اور وہ چیز قتال و جہاد ہے۔

غلبہ کی حیثیت سے نماز روزہ اور قتال میں فرق یہ ہے کہ نماز او روزہ تو غلبے کی شرط ہے، اگر نماز، روزہ اور اطاعت ہوگی تو غلبہ ہوگا اور جہاد، غلبے کی علت ہے۔ گو نماز، روزہ فرضِ عین ہے اور جہاد فرضِ کفایہ ہے مگر غلبے کی علت جہاد ہی ہے۔

پس ثابت ہوا کہ مسلمانوںکا غلبہ، دونوں ہی چیزوں پر موقوف ہے۔ اور یہ میری رائے، آج سے نہیں ہمیشہ سے ہے کہ جب تک طاعت کے ساتھ قتال و جہاد نہ ہوگا، اُس وقت تک مسلمانوں کو فلاح میسر نہیں ہوسکتی۔‘‘     (بہ حوالہ اسلامی حکومت و دستورِ مملکت، مرتب محمد زید مظاہری ندوی)

مولانا تھانوی نے ایک دوسرے موقع پر فرمایا:

’’میری دلی تمنا اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ، حکومت عادلہ مسلمہ قائم فرمادے اور میں اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں۔ میں نے عادلہ (یعنی شریعت کے مطابق انصاف کرنے والی حکومت) کی قید اس واسطے لگائی کہ سلطنت مسلمہ تو بحمدہ تعالیٰ آج کل بھی متعدد جگہ ہیں مگر عادلہ نہیں۔ بلکہ سب کی حالت بے راہ روی کی ہے۔ امورِ شرعیہ کی پابند نہیں۔‘‘ (ایضاً)

مولانا  عبدالماجد دریابادی راوی ہیں کہ ۱۹۲۸ء میں جب پہلی بات (مولانا تھانوی کی خدمت میں) حاضری ہوئی تو اس ملاقات میں حضرت نے دارالاسلام کی اسکیم خاصی تفصیل سے بیان فرمائی تھی کہ ’’جی یوں چاہتا ہے کہ ایک خطے پر خالص اسلامی حکومت ہو، سارے قوانین و تعزیرات وغیرہ کا اجراء احکامِ شریعت کے مطابق ہو، بیت المال ہو، نظامِ زکوٰۃ رائج ہو، شرعی عدالتیں قائم ہوں وغیرہ۔ اس مقصد کے لیے صرف مسلمانوں ہی کی جماعت ہونی چاہیے اور اسی کو یہ کوشش کرنی چاہیے۔‘‘ (ایضاً)

اقامت دین

سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے دین کے نظامِ حیات ہونے کا تصور پیش کیا۔ نصف صدی قبل ایک صاحبِ علم نے اس تصور پر تنقید کی۔ اُن کا کہنا یہ تھا کہ مولانا مودودیؒ نے تصورِ دین کے سلسلے میں جو باتیں پیش کی ہیں سب صحیح بیان کی ہیں، کوئی بات غلط نہیں ہے۔ لیکن دین کا جو مجموعی نظام وہ پیش کرتے ہیں وہ درست نہیں ہے، اس لیے کہ اس مجموعی خاکے میں انھوںنے اسلامی حکومت کو بنیادی اہمیت دے دی ہے۔ جبکہ دین میں اسلامی حکومت کو بنیادی اہمیت حاصل نہیں۔ بلکہ صاحب ِ ایمان کے اللہ سے تعلق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

اس تنقید سے ملتا جلتا ایک سوال مولانا مودودیؒ سے پوچھا گیا تھا۔ کتاب ’’رسائل و مسائل‘‘ میں اس کا جواب درج ہے۔ بہت سے سوالات کیے گئے تھے، ان میں سے ایک سوال یہ تھا۔  ’’نماز وروزہ، زکوٰۃ و حج اور جہاد، ان عبادات میں شرعاً مقصود بالذات کون سی عبادت ہے اور اولیٰ درجہ کس کو حاصل ہے؟ کیا نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، اسلام میں مقصود نہیں بلکہ ان کی حیثیت ذرائع اور وسائل کی ہے۔ مقصود دراصل جہاد ہے؟ یہ عقیدہ، آپ کا ہے یا نہیں؟‘‘

مولانا مودودیؒ نے اس سوال کا یہ جواب دیا:

’’میرے نزدیک مقصود دراصل اقامتِ دین ہے۔ ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ۔ (دین کو قائم کرو اور اس میں متفرق نہ ہوجاؤ)۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اس دین کے ارکان ہیں جن پر دین قائم ہوتا ہے۔ اس لیے اُن کو قائم کرنا، اقامتِ دین کے لیے مطلوب ہے۔ اور جہاد چونکہ دین کو اس کے پورے نظام کے ساتھ قائم کرنے کا ذریعہ ہے، اس لیے وہ بھی اقامتِ دین ہی کے لیے مطلوب ہے۔… نبی ﷺ نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں وہ چیزیں نہ بتاؤں جو دین کا سر اور ستون اور کو ہان کی حیثیت رکھتی ہیں۔ دیکھو، دین کا سر، اسلام ہے، اُس کا ستون نماز ہے اور جو چیز کوہان کی حیثیت رکھتی ہے، وہ جہاد ہے۔‘‘                                                                                                                                                                         (رسائل و مسائل، حصہ چہارم)

سید مودودیؒ کے پیش کردہ تصورِ دین پر اعتراض، مولانا مودودیؒ کی بات کو نہ سمجھنے کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ مولانا نے یہ نہیں کہا کہ دین کا مرکزی نکتہ اسلامی حکومت ہے، مولانا مودودیؒ نے تو یہ بات پیش کی ہے کہ مرکزی نکتہ، دین کی اقامت ہے۔ اگر مسلمان یہ بھول جائیں کہ انہیں پورے دین کو قائم کرنا ہے تو گویا انھوںنے دین کو سمجھا ہی نہیں۔ یہ مولانا مودودیؒ کی بنیادی فکر ہے۔ سید مودودیؒ کے تصورِ دین پر تنقید کے باوجود جہاں تک جماعت اسلامی پاکستان اور جماعت اسلامی ہند کے عملی پروگرام کا تعلق ہے، مذکورہ صاحبِ علم نے اس پروگرام سے اتفاق کیا ہے۔ اُن کو اختلاف صرف تعبیر سے ہے جو دین کی مجموعی تفہیم کے ذیل میں پیش کی گئی ہے۔ اب یہ بات قابلِ غور ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تصور تو درست نہ ہو مگر عملی پروگرام دراست ہو۔ یہ بات ممکن نہیں معلوم ہوتی۔ واقعہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے جس طرح دین کو سمجھا اور پیش کیا ہے، وہ اسی فہم کے مطابق ہے، جو امت کے اندر رائج اور معروف ہے۔ جماعت اسلامی نے دین کی کوئی ایسی تشریح نہیں کی ہے جو امت کی روایت سے مختلف ہو۔

نفاذِ دین کاطریقہ

حالیہ دنوں میں ایک اور صاحبِ علم کے اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ اعتراضات کے بیان میں پاکستان کا پس منظر جھلکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی مسلم ملک کے عوام منظور کریں تو وہاں اسلامی ریاست قائم ہوسکے گی، اگر عوام نہ منظور کریں تو کسی کو حق نہیں کہ ان پر اسلامی ریاست کا نظام نافذ کرے۔

اس اعتراض کے دو پہلو ہیں، ایک عملی ہے اور دوسرا فکری۔ عمل کے اعتبار سے جہاں تک اسلامی تنظیموں کے طریقِ کار کا معاملہ ہے وہ تنظیمیں، مسلمان معاشرے کی اصلاح و تربیت کو بنیادی اہمیت دیتی ہیں۔ وہ رائے عامہ کی تربیت کرکے ہی اسلامی ریاست کی جانب پیش قدمی کرنا چاہتی ہیں۔ مولانا مودودیؒ فوجی انقلاب کے قائل نہ تھے۔ اس لیے عملی دنیا میں، اسلامی تحریکوں کے طریقے پر یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا۔

سید مودودیؒ کہتے ہیں:

’’اسلامی تحریک کے کارکنوں کو میری آخری نصیحت یہ ہے کہ انہیں خفیہ تحریکیں چلانے اور اسلحہ کے ذریعے سے انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہ کرنی چاہیے۔ یہ بھی دراصل بے صبری اور جلد بازی ہی کی ایک صورت ہے۔ اور نتائج کے اعتبار سے دوسری صورتوں کی بہ نسبت زیادہ خراب ہے۔ ایک صحیح انقلاب ہمیشہ عوامی دعوت ہی کے ذریعے برپا ہوتا ہے۔ کھلے بندوں عام دعوت پھیلائیے۔ بڑے پیمانے پر اذہان اور افکار کی اصلاح کیجیے۔ لوگوں کے خیالات بدلیے۔ اخلاق کے ہتھیاروں سے  دلوںکو مسخّر کیجیے۔ اور اس کوشش میں جو خطرات اور مصائب بھی پیش آئیں اُن کا مردانہ وار مقابلہ کیجیے۔ اس طرح بتدریج جو انقلاب برپا ہوگا، وہ ایسا پائیدار اور مستحکم ہوگا جسے مخالف طاقتوں کے ہوائی طوفان محو نہ کرسکیں گے۔ جلد بازی سے کام لے کر مصنوعی طریقوں سے اگر کوئی انقلاب رونما ہو بھی جائے تو جس راستے سے وہ آئے گا، اُسی راستے سے وہ مٹایا بھی جاسکے گا۔‘‘  (تفہیمات، حصہ سوم)

جہاں تک مذکورہ بالا اعتراض  کے فکری پہلو کا تعلق ہے، وہ صراحتاً غلط ہے۔ جب ایک شخص نے کلمہ طیبہ پڑھ لیا تو وہ پوری زندگی میں اللہ کی اطاعت کا پابند ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری زندگی کے ہر پہلو میں تو اللہ کے دین پر عمل ہوگا البتہ میری مرضی سے قائم ہونے والی ریاست، اللہ کے دین سے آزاد ہوگی۔ دین سے بے نیازی کی بات جس طرح ایک ایمان لانے والا فرد نہیں کہہ سکتا اسی طرح اسلامی معاشرہ بھی نہیں کہہ سکتا۔ کسی ملک کے مسلم عوام دین سے لاتعلقی کے اظہار کا حق نہیں رکھتے۔ جب تک وہ کلمہ پڑھتے ہیں، وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہماری سماجی زندگی اور نظامِ خاندان میں تو شریعت کی حکم رانی ہوگی، بازار اور لین دین میں بھی شریعت نافذ ہوگی مگر کارِ حکومت میں نہ ہوگی، جب تک ہم اس کی منظوری نہ دیں۔ یہ بالکل غلط موقف ہوگا۔

مذکورہ اعتراض کے ذیل میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ’’اگر کسی مسلم ملک میں شریعت نافذ کرنی ہے تو اُس کے ایک ایک حکم کو عوام سے منظور کرانا چاہیے۔ مثلاً عوام کے سامنے یہ تجویز رکھی جائے کہ سود بندکیا جائے،  اگر عوام منظور کرلیں تو سود بند ہوجائے گا، نہ منظور کریں تو بند نہیں ہوگا۔‘‘ کوئی صاحبِ ایمان، مسلم عوام کا یہ حق تسلیم نہیں کرسکتا۔ حکمت کا تقاضا یہ تو یقیناً ہے کہ مسلم عوام کی تربیت کی جائے تاکہ دین حق کی قدروقیمت سے وہ آگاہ ہوں، اس کو بوجھ نہ سمجھیں۔ لیکن یہ بات کہ شریعت کا نفاذ ان کی منظوری پر منحصر ہے، غلط خیال ہے۔ حضرت ابوبکر نے مانعینِ زکوٰۃ کے سلسلے میں جو رویہ اختیار کیا وہ سب کو معلوم ہے۔

اگر صالح عناصر کو اقتدار حاصل ہو تو نفاذِ قانونِ الٰہی، اُن کی ذمہ داری ہے۔ یہ بات کہ وہ عوام کی مرضی کے منتظر رہیں، یہ درست موقف نہیں ہے۔ دین کے موقف کے مطابق جو صحیح طریقہ ہے وہ یہ ہے کہ  اقتدار حاصل ہو تو بتدریج، شریعت نافذ کی جائے اور عوام کی تربیت کی کوشش بھی ہو۔  شریعت کا نفاذ لوگوں کی مرضی پر موقوف نہیں ہے۔

مصلحانہ جہاد

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ دنیا سے ظلم اور جبر کو مٹانے کے لیے کوشش تو درست ہے اور اس میں طاقت صَرف کرنی چاہیے، یہ دین کا تقاضا ہے۔ لیکن کفر کے غلبے کو ختم کرنے کے لیے،کسی کوشش اور جہاد کی گنجائش نہیں ہے۔ اس اعتراض کی تائید میں کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ آزادی دی ہے کہ وہ  چاہے تو ایمان لائے اور چاہے تو کفر کرے۔ اس آزادی کا مدعا یہ ہے کہ افراد کی طرح انسانی گروہوں کو بھی یہ آزادی حاصل ہو کہ وہ چاہیں تواپنے زیرِ تسلط علاقوں میں کفر کی حکومت قائم کریں۔

اپنی تحریروں میں مولانا مودودیؒ نے اس غلط فہمی کو دور کیا ہے۔ فرد کو یہ آزادی یقینا حاصل ہے کہ  وہ دین حق کو قبول کرے یا نہ کرے۔ ہر جگہ یہاں تک کہ اسلامی حکومت میں بھی یہ آزادی حاصل ہے کہ ایک شخص چاہے تو مسلمان ہوجائے اور چاہے تو کفر پر قائم رہے۔ لیکن اللہ کی زمین پر کسی کا بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مرضی کے بجائے اپنی مرضی، انسانوں پر چلائے۔ باطل کے غلبے کا خاتمہ بھی یقیناً جہاد کا مقصد ہے۔ مصلحانہ جہاد کا انکار کرنے والے معترضین بسا اوقات مولانا امین احسن اصلاحی اور امام فراہی کا حوالہ بھی دیتے ہیں لیکن یہ دونوں اساطینِ علم، مصلحانہ جہاد کی نفی نہیںکرتے۔ ان کی تفسیریں اور تحریریں دیکھی جاسکتی ہیں۔

مصلحانہ جہاد پر اعتراض کرنے والوں نے اس کی ضرورت پر غور نہیں کیا اس لیے ایک غلط موقف اختیار کرلیا ہے۔ قرآن مجید انسانوں کو پیغام دیتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو باطل اور کفر سے آزاد کرائیں۔  انسانوں کے درمیان اس پیغام کی اشاعت، دعوت سے ہوگی۔ فکرِ صالح کی ترویج کا کام انسانوں سے بات چیت کے ذریعے کیا جائےگا۔ اُن کو سمجھانے بجھانے کی سعی کی جائےگی۔ لیکن جب دعوت کا راستہ روکا جائے تو رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے بشرطِ استطاعت، طاقت کااستعمال درست ہوگا۔ طاقت کا یہ استعمال بھی حدود اور آداب کے تحت ہوگا۔ من مانے طریقوں سے نہیں ہوگا۔ بہرحال انسانی آزادی کی بحالی کے لیے طاقت کے حکیمانہ استعمال کی، اہلِ ایمان کو اجازت ہوگی۔ براہِ راست اس سوال پر بحث کرنے کے بجائے کہ مصلحانہ جہاد کیا جاسکتا ہے یا نہیں، پہلے اس پر بحث کر نی چاہیے کہ بیان کردہ مقصد، اہم ہے یا نہیں۔ انسانوں کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کرنا، ابلاغِ حق اور قبولِ حق کے راستے کی رکاوٹیں دور کرنا اور انسانی آزادی کا تحفظ، یہ ضروری ہے یا نہیں؟ اس پر غور کرنا چاہیے۔ حق کی ترسیل، اس پر عمل اور اُس کے قبول کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے تو ظاہر ہے کہ مصلحانہ جہاد کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ لیکن اگر رکاوٹ ڈالی جائے تو جہاد کی ضرورت، مسلّم ہے۔

اظہارِ دین

اس بحث کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ دنیا   میںباطل کے غلبے کا خاتمہ، اظہارِ دین کا تقاضا ہے۔ قرآن مجید میں اظہارِ دین کا تذکرہ تین مقامات پر ہے:

ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَo (توبہ: ۳۳)

’’وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے، تاکہ اسے پوری جنسِ دین پر غالب کردے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘

یہی الفاظ سورہ صف کی آیت ۹ کے بھی ہیں۔  سورہ فتح میں بھی اظہارِ دین کا ذکر کیا گیا ہے:

ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَکَفَی بِاللّٰہِ شَہِیْداً o (فتح: ۲۸)

’’وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اس کو پوری جنسِ دین پر غالب کردے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔‘‘

سورہ توبہ کی مذکورہ بالا آیت کی تشریح کے ذیل میں جناب شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں:

’’اسلام کا غلبہ، باقی ادیان پر معقولیت اور حجت و دلیل کے اعتبار سے، یہ تو ہر زمانہ میں بحمدللہ نمایاں طور پر حاصل رہا ہے۔ باقی حکومت و سلطنت کے اعتبار سے، وہ اس وقت حاصل ہوا ہے اور ہوگا، جبکہ مسلمان اصولِ اسلام کے پوری طرح پابند اور ایمان و تقویٰ کی راہوں میں مضبوط اور جہاد فی سبیل اللہ میں ثابت قدم تھے یا آئندہ ہوں گے۔‘‘

سورہ فتح کی درج بالاآیت کی تفسیر میں موصوف لکھتے ہیں:

’’اصول و فروع اور عقائد و احکام کے اعتبار سے یہی دین سچا اور یہی راہ سیدھی ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ لے کر آئے۔ اس دین کو اللہ نے ظاہر میں بھی سینکڑوں برس تک سب مذاہب پر غالب کیا اور مسلمانوں نے صدیوں تک …بڑی شان و شوکت سے حکومت کی اور آئندہ بھی دنیا کے خاتمے قریب، ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب ہر چہار طرف دینِ حق کی حکومت ہوگی۔ باقی حجت و دلیل کے اعتبار سے تو دین اسلام ہمیشہ ہی غالب رہا اور رہے گا۔‘‘

سورہ فتح کی مذکورہ بالا آیت کی تشریح کرتے ہوئے جناب اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:

’’اتمام بہ معنی اثبات و تقویت بالدلائل، تو اسلام کے لیے ہر زمانے میں عام ہے اور یہی مقابل ہے اخفا یعنی رَد کا۔ اور مع اعتبار انضمامِ سلطنت، مشروط ہے صلاحِ اہلِ دین کے ساتھ۔‘‘

سورہ صف کی آیت ۹ کی تشریح میں موصوف لکھتے ہیں:

’’(دین کاغلبہ) باعتبار حجت و دلیل تو ہمیشہ (ہوگا) اور بااعتبارِ شوکت و سلطنت اسلام کے (واقع ہوگا) بشرطِ صلاحِ اہلِ دین کے۔ اور چونکہ یہ شرط، صحابہ میں پائی جاتی تھی اس لیے یہ آیت، اثباتِ رسالت کے ساتھ بشارت بھی ہوگئی، صحابہ کے لیے فتوحاتِ عامہ کی۔ چنانچہ ایسا ہی واقع ہوا۔‘‘

اساطینِ علم کی مندرجہ بالا تشریحات سے یہ بات واضح ہے کہ ’’اظہارِ دین‘‘ کے معنی، باطل پر حق کے غلبے کے ہیں، اور اس غلبے کے لیے جدوجہد کا وجوب محض دورِ نبوی تک محدود نہیں ہے اور نہ سرزمینِ حجاز تک محدود ہے۔

دسمبر 2017

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau