عظمت کا پیمانہ: زندگی کا معرکہ

ایک بزرگ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا مجھے آپ سے چھوٹا سا کام ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ چھوٹے کاموں کے لیے چھوٹے آدمی کو تلاش کرلو، میں تو لوگوں کے بڑے کام آنا چاہتا ہوں۔

انسان کی عظمت اس کے معرکے کی عظمت سے ہے۔

انسان کی زندگی کا معرکہ جتنا عظیم ہوگا اس کی شخصیت کا قد بھی اتنا ہی عظیم ہوگا۔

معرکے کی عظمت کا انسانی عظمت سے اتنا گہرا تعلق ہے کہ بعض دفعہ معمولی صلاحیت اور ذہانت کا آدمی بھی اپنے معرکے کی عظمت کی بنا پر عظیم ہوجاتا ہے اور بعض دفعہ انتہائی ذہین و فطین شخص بھی چھوٹے معرکے میں سرمایہ حیات جھونک دینے کی وجہ سے اعلی صلاحیت و قابلیت کے باوجود کوتاہ قد اور بے وزن بن کر دنیا سے دفع ہوجاتا ہے۔

کچھ معرکے تو ایسے ہیں جو ہر انسان کو لامحالہ اپنی زندگی میں لڑنے ہی پڑتے ہیں اور کسی انسان کو ان معرکوں سے مفر نہیں۔ جیسے تعلیم کا معرکہ، ازدواجی زندگی کا معرکہ، معاش کا معرکہ، اولاد کی پرورش کا معرکہ اور تعلقات نباہنے کا معرکہ وغیرہ۔

عظیم انسانوں اور عام انسانوں میں ایک بڑا فرق یہ ہوتا ہے کہ عام انسان روزمرہ کے معرکوں کو اپنا سب سے بڑا معرکہ بنالیتے ہیں جیسے کہ معاش کی تگ دو ہی زندگی کا سب سے بڑا معرکہ بن جاتی ہے اور زندگی کی ساری توانائیاں کھینچ لیتی ہے۔

جب کہ وہ لوگ جن کی عظمت کی دنیا قائل ہوتی ہے، جو دنیا کے لیے باعثِ رحمت اور انسانوں کے لئے سامانِ راحت ہوتے ہیں، روزمرہ کے یہ سب معرکے تو لڑتے ہی ہیں اور انھیں بڑی خوش اسلوبی سے سر بھی کرتے ہیں لیکن ان معرکوں کو وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا معرکہ نہیں بننے دیتے۔ وہ ان چھوٹے معرکوں کو سب سے بڑا معرکہ سمجھ لینے کو خلاف عقل اور خلاف عدل سمجھتے ہیں۔

خلاف عقل اس لیے کہ روزمرہ کے معرکے تو اللّٰہ کی بنائی ہوئی تقدیر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان چھوٹے معرکوں میں محنت کے بعد ملنے والا حصہ اور پھل بھی اللّٰہ تعالی کی طرف سے طے شدہ ہے۔ اس لیے چاہے کوئی شخص کتنا ہی اپنے معاشی معرکے کو اپنے اوپر سوار کرلے اپنے مقدر سے زیادہ نہیں حاصل کرسکتا۔ چیزوں کے قد کو ان کی حقیقت سے بڑھا چڑھا کر دیکھنا غیر دانشمندانہ رویہ ہے۔

خلاف عدل اس لیے کہ اللّٰہ تعالی نے انسان کو اتنے وقت اور ایسی صلاحیتوں سے نوازا ہے کہ یہ صلاحیتیں اور انسانی فطرت کے بیش بہا خزانے انسان سے بڑے معرکے اور لمبی مہم کا تقاضا کرتے ہیں۔ انھیں چھوٹی چیزوں کے لیے خرچ کرڈالنا غیر عادلانہ عمل اور سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔

معرکے کا بدل جانا اور عظمت کا کردار سے رخصت ہوجانا بھی انسانی زندگی کا المناک واقعہ ہے۔ معرکے کا بدل جانا صرف معرکے کا بدل جانا نہیں ہوتا بلکہ وہ پوری شخصیت کا بدل جانا ہوتا ہے۔ اگر معرکہ چھوٹا ہوجائے تو شخصیت کا قد بھی چھوٹا ہوجاتا ہے۔ افکار و خیالات کی بلند پروازی بھی ختم ہوجاتی ہے، مشاغل بھی بدل جاتے ہیں، صحبتیں اور گفتگوئیں بھی بدل جاتی ہیں، سوچنے کا انداز بھی بدل جاتا ہے یہاں تک کہ انسان کا سلوک اور اس کا کردار بھی بدل جاتا ہے۔

انسانی تاریخ میں کتنے ہی عظیم کردار ایسے ملتے ہیں کہ جب وہ بڑے معرکوں میں کھڑے للکار رہے تھے تو دنیا سر جھکا کر ان کی عظمت کو سلام کررہی تھی لیکن کچھ عظیم رہنماؤں کے ساتھ یہ سانحہ بھی ہوا کہ ان کی زندگی کا معرکہ بدل گیا۔ وہ عظیم معرکوں کے میدانوں سے فرار اختیار کرکے حقیر معرکوں کی کیچڑ میں الجھ گئے اور تاریخ کے صفحات نے انھیں فراموش کردیا۔ صلاحیتیں تو وہی تھیں لیکن عظمت کی وہ روشنی جو پہلے نگاہوں کو چکاچوندھ کر رہی تھی غائب ہوگئی۔

عظیم معرکے انسان کو اس لیے بھی عظیم بناتے ہیں کہ وہ انسانی زندگی میں زیادہ بدلاؤ اور زیادہ ارتقا کا تقاضا کرتے ہیں۔ معرکے اپنے درجات کے مطابق کردار کے بدلاؤ اور صلاحیتوں کے فروغ کا تقاضا کرتے ہیں۔ چھوٹے معرکے انسانی شخصیت کے حقیقی اور کامل ارتقا کا تقاضا نہیں کرتے ہیں۔

معرکہ محبت کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ انسان کی محبت جتنی عظیم ہوتی ہے اس کا معرکہ بھی اتنا ہی عظیم ہوتا ہے۔

اگر زندگی میں ‌پیسہ سب سے زیادہ عزیز ہوتو معاش ہی زندگی کا سب سے بڑا معرکہ بن جاتا ہے۔

منصب سب سے زیادہ عزیز ہو تو وہی زندگی کا سب سے بڑا معرکہ ہوجاتا ہے۔زندگی کی قیمتی پونجی اسی خواہش کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔

اور اگر اللّٰہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ عزیز ہوں تو حق و باطل کا معرکہ ہی سب سے بڑا معرکہ بنتا ہے۔

بات صرف محبت کی نہیں بلکہ سب سے زیادہ محبت کی ہے۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ [البقرة: 165]

عظیم معرکے اپنی افادیت کے لحاظ سے بھی بہت عظیم ہوتے ہیں۔ چھوٹے معرکوں کی انسانوں کو فائدہ پہنچانے کی صلاحیت بھی بس اسی دنیا تک محدود ہوتی ہے۔ جب کہ بڑے معرکوں کی وسعت زمین و آسمانوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی ہے۔

بڑے معرکے افادیت کی وسعت بھی چاہتے ہیں اور دل کی وسعت کا بھی تقاضا کرتے ہیں۔ خود غرضی اور تنگ دلی سے بڑے معرکے نہیں لڑے جاسکتے بلکہ وہ تو کمال استغنا کے طالب ہوتے ہیں۔

جس طرح افراد کی عظمت ان کے معرکوں کی عظمت کی مرہون منت ہوتی ہے اسی طرح قوموں کی عظمت بھی ان کے معرکوں کی عظمت سے طے ہوتی ہے ۔

وہ قومیں جو عظیم معرکوں میں حصہ لیتی ہیں انھیں قیادت بھی ملتی ہے اور پروقار زندگی بھی نصیب ہوتی ہے۔ وہ علم کی جویا، وسائل سے لیس اور اخلاقی زیور سے آراستہ ہوتی ہیں کہ یہی ان کے معرکے کی بنیادی ضروریات ہوتی ہیں۔

لیکن وہ قومیں جن کا ایسا عظیم آئیڈیل نہ ہو جس کے لیے انھیں کسی معرکے میں اترنے کی ضرورت پیش آئے تو ایسی قوموں کو نہ کسی علم کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ اخلاق ہی کی کوئی حاجت محسوس ہوتی ہے۔ حقیر مقاصد رکھنے والی قومیں اسی طرح کے وسائل سے لیس ہونا پسند کرتی ہیں۔ عام طور سے قوموں کا مقصد دوسری اقوام کے وسائل پر قبضہ کرنا ہوتا ہے۔ دوسری قوموں کے وسائل لوٹنے کے لیے لوٹنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے جسے زیادہ سے حاصل کرنے کی ان قوموں کے درمیان مقابلہ آرائی ہوتی ہے۔

جو تہذیبیں بڑے معرکوں سے دست کش ہوجاتی ہیں زوال و شکستگی ان کا مقدر ہوتا ہے۔ عظیم معرکے قوموں کی حیات اور ان کی لائف لائن کی مانند ہوتے ہیں۔

اللّٰہ تعالی نے امت مسلمہ کو عظیم ترین معرکے کے لیے برپا کیا ہے اور اللّٰہ کے رسول ﷺ نے عملاً امت مسلمہ کو اس عظیم ترین معرکے کی راست اور کامل تربیت دی۔ یہ عظیم معرکہ سوائے امت مسلمہ کے کوئی اور گروہ لڑ ہی نہیں سکتا اور نہ ایسی عظمتیں اور رفعتیں حاصل کرسکتا ہے جو صرف امت مسلمہ ہی کا مقدر بن سکتی ہیں۔

امت مسلمہ کا معرکہ ایسا بابرکت ہے کہ کسی بھی زمانے اور کسی بھی خطہ زمین میں جہاں امت مسلمہ رہتی بستی ہو اور ہزارہا مشکلات اور وسائل کی قلت اور قیادت کے قحط کا شکار ہو لیکن ان سب کمیوں کے باوجود امت مسلمہ اللّٰہ تعالی کے تفویض کردہ عظیم معرکہ میں اترنے کا جس دم فیصلہ کرتی ہے اس کے حالات بدل جاتے ہیں۔ نصرت خداوندی اس کے ہم رکاب ہوجاتی ہے اور عظیم قیادت کا نہ رکنے والا سلسلہ اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے بطور انعام جاری ہوجاتا ہے۔ عظمت و سربلندی امت مسلمہ کے قدم چومتی ہے۔ شرط عزمِ معرکہ کی ہے۔ یہی عظیم ترین معرکہ امت مسلمہ کی زندگی ہے اور اس سے فرار امت مسلمہ کی موت ہے۔

امت مسلمہ کا معرکہ پوری انسانیت کو عظمت اور وقار سے ہم کنار کرتا ہے۔ امت مسلمہ کا معرکہ کسی خطہ زمین پر اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کا معرکہ نہیں ہے بلکہ وہ انصاف کو قائم کرنے، ظلم کو مٹانے، غربت کو ختم کرنے، علم کی روشنی عام کرنے، معروف کو پھیلانے، منکر کو مٹانے اور خیر کی طرف بلانے کا معرکہ ہے۔ یہ انسان کی عظمت رفتہ کی بحالی کا معرکہ ہے۔ یہ معرکہ کسی قوم کو پسپا کرکے اس کے وسائل کو چوس لینے کا معرکہ نہیں بلکہ انسانیت کو بامِ عروج سے ہم کنار کرنے کا معرکہ ہے۔

ایسا انسانی گروہ جو بغیر کسی مفاد اور غرض کے تمام انسانوں کی دنیوی فلاح اور اخروی نجات کے لئے سرگرداں ہو، کیا انسانی فطرت کے لئے ناپسندیدگی اور نفرت کا نشان بن سکتا ہے؟ کیا انسانی فطرت ایسے گروہ کی محبت سے باز رہ سکتی ہے؟

عظیم ترین دینِ اسلام کے لیے عظیم افراد کی ضرورت ہے، جو اس کے شایانِ شان جدوجہد، شایانِ شان قربانی اور شایانِ شان کارنامے انجام دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ کسی نے کہا تھا: یہ دین بہت اونچی شان والا ہے، اگر اسے شان دار افراد مل جاتے۔ وَفِي ذَلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ [المطففين: 26]

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

عظمت کا پیمانہ: زندگی کا معرکہ

حالیہ شمارے

فروری 2026

شمارہ پڑھیں

جنوری 2026

Zindagi-e-Nau Issue Jan 2026 - Cover Imageشمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223