ایثار

پر امن معاشرے کی اہم ضرورت

محب اللہ قاسمی

آج دنیا کے ماحول پرمادیت کا غلبہ ہے۔ خواہش نفس کی پیروی نے نیکی اوربدی کی پہچان کو بھی بدل دیاہے۔خودغرضی نے انسانیت کی قدریں مٹادی ہیں۔معیارزندگی بلندکرنے کی ہوس نے لوگوںکوبدعنوانی کے جال میں پھنسا رکھاہے۔ انس و محبت کے خمیرسے پیداکیاگیاانسان درندہ صفت حیوان بن گیاہے ۔وہ ایک دوسرے کے خون سے اپنی پیاس بجھانے کے لیے بے قرارہے۔امیرغریبوں،بے بسوںاورلاچاروںکے خون پسینے کا کاروبارکرنے لگا ہے اوراسی سے اپنی زندگی کی عالیشان عمارت کھڑی کرتاہے۔

خودغرضی نے پوری انسانیت میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پیداکردی ہے۔اس خطرناک مرض کایہ حال ہے کہ اسے کوساجاتاہے مگراس کے علاج کی فکر نہیں ہوتی ۔لیکن اس بیماری کا ایک یقینی علاج موجودہے جس نے ساڑھے چودہ سوسال قبل ایسے ہی پراگندہ ماحول کو خوشگوار فضامیں تبدیل کردیاتھا۔یعنی اسلام! اس فضا کی عکاسی کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے

ہو خلق حسن یاکہ ہو ایثار وفاپیار

ہر چیز یہاں پر بہ صدانداز جلی ہے

اسلام نے انسانوںکوبتایا کہ مخلوق اپنے خالق کا کنبہ ہے ﴿الخلق عیال اللہ﴾۔اسلام کی دعوت کا بنیادی سبق ایثارہے۔

ایثارکی تعریف

انسان کاا پنی ضرورت پر دوسروںکی ضروریات کوترجیح دینا۔مثلاً بھوک کی شدت کے باوجودکسی بھوکے شخص کو اپنا کھاناکھلانا۔یہ ایثارہے۔

قرآن کریم میں اہل ایمان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہاگیاہے :

’’اور اپنی ذات پر دْوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘﴿الحشر:۹﴾

اس آیت کی شان نزول کے ذیل میں ایک واقعہ کتب حدیث میں مذکور ہے، جوبڑا مؤثر اورسبق آموزہے۔ اس سے ایثارکی اہمیت کا اندازہ بہ خوبی لگایاجاسکتاہے:

’’ایک بار ایک فاقہ زدہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضرہوا، اتفاق سے اس وقت آپ ﷺ کے گھرمیں پانی کے سواکچھ نہ تھا، اس لیے آپﷺ  نے مجلس میں موجود صحابہ کرامؓ  کو مخاطب کرکے فرمایا:آج کی شب کون اس مہمان کا حق ضیافت اداکرے گا؟‘‘ایک انصاری صحابی جن کا نام ابوطلحہ ؓ  تھا انھوں نے کہا’’میں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘چنانچہ وہ اس کوساتھ لے کراپنے گھرآئے،بیوی سے پوچھا کھانے کوکچھ ہے؟ بولیں’’صرف بچوں کا کھاناہے‘‘بولے بچوںکوتوکسی طرح بہلادو،جب میں مہمان کوگھرلے آؤںتوچراغ بجھادواورمیں اس پر ظاہرکروںگا کہ ہم بھی ساتھ کھارہے ہیں ، چنانچہ انھوںنے ایساہی کیا،صبح کوآپﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے توآپﷺ  نے فرمایاکہ ’’رات میں تمہارے عمل سے اللہ تعالی بہت خوش ہوا۔‘‘﴿بخاری ومسلم﴾

دوسروں کے دکھ دردکواپنا دکھ دردسمجھنااور اپنی تکلیف کوبھول کردوسروںکی پریشانی دورکرنے کے لیے بے قرارہوجانا ہی ایثارہے،اس جذبہ کو ابھارنے کے لیے نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا:

لایومن احدکم حتی یحب لاخیہ مایحب لنفسہ        ﴿متفق علیہ﴾

’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن﴿کامل﴾ نہیں ہوسکتا جب تک وہ دوسروںکے لیے بھی وہی چیز نہ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتاہے۔‘‘﴿متفق علیہ﴾

سیرت نبوی ﷺ  کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی ایثاروقربانی سے عبارت تھی۔ رحمت عالم ﷺپوری انسانیت کے لیے ہمہ وقت بے قراررہتے تھے۔ان کی نجات کی فکر آپ ﷺ کو بے قراررکھتی تھی قرآن کہتاہے :

’’اچھا ، تو اے نبیﷺ! شاید آپﷺ  ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہیں اگر یہ اس تعلیم ﴿قرآن﴾ پر ایمان نہ لائیں۔‘‘      ﴿کہف:۶﴾

آپﷺ  اصحاب کی ضروریات کی تکمیل کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ بیت المال میں کچھ آتاتو آپ تقسیم کردیتے تھے ،اگرکچھ نہ ہوتاپھربھی سائل کوواپس نہیں کرتے آپ فرماتے،جوکوئی اس کی مددکرے گا میں اس کا قرض داررہوںگا۔ایک موقع پر آپ ﷺ نے یہ اعلان فرمایا:

انا اولی بکل مؤمن من نفسہ، من ترک مالا فلاہلہ، ومن ترک دینا او ضیا عا فالی وعلی۔ ﴿مسلم﴾

’’ جوکوئی مال واسباب چھوڑکر مرے گاوہ اس کے وارث کا حق ہوگا مگرجوکوئی قرض چھوڑکرمرے گا اسے میں اداکروںگا ۔‘‘

یہاں ٹھہرکر غورکرنے کی ضرورت ہے۔ آج دنیا میں ایسے کتنے ہی مقروض ہیں جو قرض سے پریشان ہیں۔ ان کے پاس اتناپیسہ نہیں ہوتا کہ اپناقرض اداکرسکیں ، ساتھ ہی دنیا میں ایسے بے شمارمال دارلوگ ہیں جواگرتھوڑی توجہ دیں توایسے لوگوں کا مسئلہ حل ہوجائے۔یاکوئی بیت المال کا مؤثرنظم ہے تواس قرض کی ادائیگی ہوجائے۔نبی کریم ﷺ کے بارے میں روایات میں آتاہے کہ اکثر فاقہ کشی کی نوبت آجاتی اور ایسا نہیں ہوتاکہ آپ نے تین روزتک مسلسل آسودہ ہوکرکھاناکھایاہو۔

حضرت عائشہ ؓ  فرماتی ہیں:

ما شبع رسول اللہ ﷺ ثلاثۃ ایام متوالیۃ حتی فارق الدنیا، ولو شئنا لشبعنا، ولکنا کنا نؤثر علی انفسنا. ﴿بیہقی شعب الایمان﴾

’’نبی کریم ﷺتادم حیات کبھی مسلسل تین روز پیٹ بھرکرکھانانہیں کھایا،اگرہم چاہتے توخوب شکم سیر ہوسکتے تھے، لیکن ہم اپنے اوپر دوسروںکو ترجیح دیتے تھے۔‘‘

متعددروایات میں ہے کہ کوئی شخص آپ سے اپنی ضرورت کی کوئی چیز مانگ لیتا تواسے خودپر ترجیح دیتے ہوئے وہ چیزاسے عنایت فرمادیتے تھے:

’’حضرت سہل بن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بنی ہوئی چادرلے کر آئی اورکہنے لگی ، اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے اسے اپنے ہاتھ سے بناہے تاکہ آپ کو پہناؤں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے قبول فرمالیا، پھرآپﷺ اسے تہ بند کے طورپر باندھ کرہمارے درمیان تشریف لائے توایک صحابیؓ نے کہا: یہ آپﷺ مجھے پہنادیں کس قدرخوبصورت ہے یہ چادر! آپﷺ  نے فرمایا: اچھا۔پھرنبی کریم ﷺ  مجلس میں بیٹھ گئے ،پھرواپس گئے اورا س چادرکواتارکرلپیٹااور اس کو اس آدمی کے پاس بھیج دیا۔ پس لوگوں نے اس سے کہا:نبی ﷺ  نے چادراپنی ضرورت سمجھ کر پہنی تھی ،لیکن تم نے اسے آپ ﷺ سے یہ مانگ لیا اورتمھیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ کسی سائل کوواپس نہیں کرتے۔ اس نے کہا ، اللہ کی قسم! میں نے یہ پہننے کے لیے نہیں مانگی ،میں نے تویہ اس لیے مانگی ہے تاکہ ﴿آپ ﷺ  کے جسم مبارک سے لگی ہوئی بابرکت چادر﴾میرا کفن بن جائے۔راوی فرماتے ہیں کہ یہ چادراس کے کفن کے ہی کام آئی۔‘‘﴿بخاری﴾

ایثار اوراسوۂ صحابہؓ

اثیارکے جذبہ کو ہم صحابہ کرام ؓ  کی زندگی میں بھی بدرجہ اتم دیکھ سکتے ہیں، انھوں نے اسے اپنی زندگی کا وصف لازم قراردیاتھا ۔ حضرت ابوطلحہ کی مثال اوپر گزری۔ ایک دوسراواقعہ ، جوبہت مؤثر اورسبق آموزہے ،بیشترکتابوںمیں اسے ایثارکے باب میں درج کیا گیاہے۔ یہ نادرمثال ہمیشہ انسان کے اندرایثار کی روح پھونکتی رہے گی۔

’’جنگ یرموک میں حضرت عکرمہ ؓ  ،حضرت حارث بن ہشام ؓ  ،حضرت سہیل بن عمروؓ زخم کھاکرزمین پر گرے اوراس حالت میں حضرت عکرمہ ؓ  نے پانی مانگا،پانی آیاتودیکھا کہ حضرت سہیل ؓ  پانی کی طرف دیکھ رہے ہیں ،بولے’’پہلے ان کو پلاآؤ‘‘ حضرت سہیل ؓ  کے پاس پانی آیا توانھوں نے دیکھا کہ حضرت حارث ؓ  کی نگاہ بھی پانی کی طرف ہے ،بولے’’ان کو پلاؤ‘‘نتیجہ یہ ہوا کہ کسی کے منہ میں پانی کا ایک قطرہ نہ گیا اورسب نے تشنہ کامی کی حالت میں جان دی۔‘‘ ﴿اسوہ صحابہؓ  ج:اول،ص:۱۵۶﴾

اگرکوئی ہم سے ہماری محبوب چیز مانگ لے توکیا ہم دے سکتے ہیں؟بسااوقات ایک چیز کئی لوگوںکوپسند ہوتی ہے ،جسے حاصل کرنا اپنا مقصدبنا لیتے ہیں ، کبھی کبھی وہ چیزاناکا مسئلہ بن جاتی ہے اور قتل وخوںریزی تک نوبت آجاتی ہے۔یہاں انسان کے ایثارکاامتحان ہوتاہے۔ صحابہؓ  کے ایثار کی ایک نمایاں مثال یہ بھی ہے کہ حجرۂ عائشہ ؓ  میں اللہ کے رسول ﷺ  اورحضرت ابوبکرؓ  کی تدفین کے بعد صرف ایک قبرکی جگہ بچی تھی۔ حضرت عائشہ ؓ  نے اسے اپنے لیے خاص کررکھاتھا، لیکن جب حضرت عمرؓ  نے ان سے وہ جگہ مانگ لی، تو انھوں نے ایثار سے کام لیتے ہوئے وہ جگہ ان کی تدفین کے لیے اسے دے دی ۔حضرت عائشہ ؓ  خود بیان فرماتی ہیں:

کنت اریدہ لنفسی ولأوثرن بہ الیوم علی نفسی۔﴿بخاری﴾

میں نے خوداپنے لیے اس کو محفوظ رکھاتھا ،لیکن آج اپنے اوپرآپ کو ترجیح دیتی ہوں۔

حضرت عائشہ ؓ  کا ایک اورسبق آموزواقعہ جوکی خواتین کے لیے بے حد موثرہے نقل کیاجاتاہے:

ایک مسکین نے حضرت عائشہ ؓ  سے کوئی چیز مانگی جب کہ آپ ؓ  روزے سے تھیں اورسوائے روٹی کے گھر میں کچھ نہ تھا، آپ نے خادمہ سے کہا کہ یہ روٹی اسی کو دے دو۔خادمہ نے کہا کہ اس کے علاوہ گھر میں کچھ نہیں ہے آپ افطار کریں گی؟پھربھی آپ نے یہی فرمایاکہ یہ اسے ہی دے دو۔چنانچہ خادمہ نے اس کو یہ روٹی دے دی۔شام کے وقت ان کے پاس ایک بکری کاپکاہواسالن ہدیہ کے طور پرآیا ۔ توعائشہ ؓ  نے اس سے فرمایا کہ اس سے کھاؤ یہ اس ٹکڑے سے بہتر ہے۔﴿بیہقی شعب الایمان ،فصل :ایثار﴾

 ایثار اسلامی معاشرے کی خصوصیت

جذبہ ایثار اسلامی معاشرے کی ممتاز خصوصیت تھی ۔صحابہ کرامؓ  نے ہمیشہ دوسروں کے دکھ درد اورضروریات کومحسوس کرتے ہوئے ،انھیں خود پر ترجیح دی ۔اس بنا پر قرآن نے انھیں رحماء بینہم کا اعزازبخشاہے۔ چندواقعات درج ذیل ہیں:

﴿الف﴾ ایک مرتبہ حضرت عمربن الخطاب ؓ نے ایک شخص کا واقعہ بیان کیا:

ایک شخص نے ایک بکری کا سرہدیہ کے طور پر کسی کے گھربھجوایا۔جس کو دیا گیا اس نے کہا کہ اسے میرے فلاں بھائی کودے دو کہ وہ مجھ سے زیادہ اس کا ضرورت مند ہے ،جس شخص کے پاس اسے بھجوایاگیا۔ اس نے اسے دوسرے کے گھربھجوادیا۔ اس طرح وہ مسلسل سات گھروںسے منتقل ہوتا ہوا دوبارہ اس پہلے شخص کے پاس پہنچ گیا۔﴿بیہقی شعب الایمان ،فصل:ایثار﴾

﴿ب﴾  ایک مرتبہ حضرت عمرؓ  نے چارسودینار سے بھری ہوئی تھیلی،اپنے غلام کودیتے ہوئے فرمایاکہ اسے حضرت ابوعبیدۃ بن الجراح ؓ  کے پاس لے جاؤ،پھروہیں کچھ دیررکے رہوتاکہ تم دیکھ سکو کہ وہ کیا کرتے ہیں؟ حضرت ابوعبیدۃ بن الجراح ؓ نے پہلے تودعادی پھر تھیلی لی اور اپنی باندی کو بلاکرکہا کہ اس تھیلی سے سات دینا رفلاں کو دے آ، پانچ فلاں کو،حتی کہ سارامال تقسیم کردیا ، اپنے لیے کچھ نہ رکھا۔اسی مقدارکے دینار حضرت عمرؓ  نے حضرت معاذ بن جبل ؓ  کو بھی روانہ کیے۔انھوں نے بھی ویسا ہی کیا جیسا کہ حضرت ابوعبیدہ ؓ نے کیا تھا۔ حضرت معاذ ؓ  کی بیوی نے ان سے کہا کہ بخدا ہم بھی مسکین ہیں۔ کچھ تو روک لیجئے، اس وقت تھیلی میں صرف دودیناربچے تھے سو ان کو دے دیے۔ غلام نے حکم کے مطابق آکر واقعہ کی تفصیلی خبردی تو حضرت عمرؓ  اس سے بے انتہا خوش ہوئے ۔‘‘

﴿ج﴾       انسان کسی کو کوئی قرض دیتا ہے توپھر وہ اس کا حق ہے کہ وہ ایک وقت متعینہ پر اسے وصول کرلے ، اگرمقروض مجبوری یاتنگ دستی کی وجہ سے ادانہیں کرپارہاہے تو اسے مہلت دی جانی چاہیے ۔ بہر صورت قرض ایک حق ہے، جسے دینے والا وصول کرسکتاہے ۔اگر معاف کردے تویہ ایثار کی ایک بڑی مثال ہوگی۔ایسا ہی ایک واقعہ حضرت قیس بن سعدبن عبادۃ کا ہے،جو فیاضی میں کافی مشہور تھے:

جب آپ ؓ  بیمار ہوئے تو لوگوں کی ایک بڑی جماعت آپ کی عیادت کو نہیں آئی ، وجہ معلوم کی گئی توپتہ چلاکہ وہ آپ سے لیے گئے قرض کی ادائی نہ ہونے کے باعث شرمندگی کے سبب نہ آسکے ۔توحضرت قیسؓ  نے فرمایا کہ اللہ کی رسوائی ہوایسے مال پر جو لوگوں کوملاقات سے روک دے۔ پھرآپ نے یہ اعلان کروادیاکہ جن لوگوں پر ان کا قرض ہے وہ سب معاف ہے۔  ﴿مدارج السالکین﴾

ایثارانفرادی وصف

ایثارزندگی کے ہرشعبے میں مطلوب ہے۔اس وجہ سے اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔ یہ جس طرح مامورین کے لیے ضروری ہے ،اسی طرح صاحب امر کے لیے بھی ضروری ہے۔ ایک قائدبسااوقات بڑی آسانی سے کہہ دیتا ہے کہ رعایا کوایثاراورہمدردی سے کام لیناچاہیے، لیکن خود اس کا رویہ اس کے برعکس ہوتاہے وہ خودکسی قسم کی قربانی اورایثارکے لیے تیار نہیں ہوتا،اس کی عملی زندگی اس کی باتوں کی تردیدکرتی ہے۔ چنانچہ اس کی بات میں کوئی تاثیرنہیں ہوتی۔دوسری طرف عوام اپنے قائدین سے ایثارکی توقع رکھتے ہیںمگر خود ان کی زندگی اس سے عاری ہوتی ہے۔

جب تک ایثار کی کیفیت تمام افراد میں پیدانہ ہوگی اس وقت تک شر وفسادکا ماحول نہیں بدل سکتا نہ بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے۔بلکہ خودغرضی کی آگ تیز ہوتی چلی جائے گی جس سے سماج جھلستارہے گا۔ایثارہی وہ پانی ہے جواس آگ کوبجھاسکتاہے۔

مئی 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau