Opens in a new tab

اعداد بہتر ہو رہے ہیں،مگر سوال ابھی باقی ہیں

(UDISE+ 2025–26 کے آئینے میں ملک کے اسکولی نظام کا ایک تنقیدی جائزہ)

ہمارے ملک میں تعلیم پر گفتگو عجیب طرح کی ہے۔ کبھی ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ملک کا تعلیمی نظام تیزی سے بدل رہا ہے، اسکولوں کی تعداد بڑھی ہے، اساتذہ پہلے سے زیادہ ہیں، بنیادی سہولتیں تقریباً ہر جگہ پہنچ چکی ہیں اور بچوں کا اسکول سے باہر رہ جانا کم ہورہا ہے۔ دوسری طرف جب ہم کسی گاؤں کے اسکول میں بیٹھ کر بچوں کی کتابیں دیکھتے ہیں تو تصویر اتنی سادہ نہیں رہتی۔ کئی بچے اپنی جماعت کے مطابق روانی سے پڑھ نہیں پاتے، بعض بنیادی حساب میں الجھ جاتے ہیں اور بہت سے بچے ایسی عمر میں اسکول چھوڑ دیتے ہیں جب ان کی تعلیم ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی۔دونوں تصویریں سچ ہوسکتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اعداد و شمار کو نہ تو آنکھ بند کرکے قبول کرنا چاہیے اور نہ ہی سرے سے رد کردینا چاہیے۔ اصل کام یہ ہے کہ اعداد کے پیچھے چھپی ہوئی حقیقت کو پڑھا جائے۔

UDISE+ 2025–26 کی تازہ رپورٹ اس اعتبار سے اہم ہے۔ یہ بھارت کے اسکولی نظام کی ایک بہت بڑی تصویر ہمارے سامنے رکھتی ہے۔ ملک میں تقریباً 14.67 لاکھ اسکول، 1.03 کروڑ اساتذہ اور 24.72 کروڑ طلبہ ہیں۔ یہ ایک غیر معمولی تصویر ہے۔ دنیا کے شاید ہی کسی دوسرے ملک میں اسکولی تعلیم اتنی بڑی تعداد، اتنے مختلف جغرافیائی حالات اور اتنے متنوع سماجی پس منظر کے ساتھ چل رہی ہو۔

رپورٹ میں کئی باتیں واقعی خوش آئند ہیں۔ اساتذہ کی مجموعی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ طالب علم:استاد تناسب (pupil-teacher ratio)بہتر ہوا ہے۔ اسکول چھوڑنے کی شرح (dropout rate)میں کمی آئی ہے۔ ثانوی سطح پر مجموعی داخلہ تناسب (gross enrolment ratio)بڑھا ہے۔ پینے کے پانی، بیت الخلا، بجلی اور دوسری بنیادی سہولتوں کی رسائی میں بھی خاصی   پیش رفت ہوئی ہے۔ان باتوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔

لیکن تعلیم کی اصل کہانی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں اعداد ہمیں مطمئن کرنے کے بجائے سوال کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔اگر اعداد بہتر ہورہے ہیں تو کیا بچوں کی آموزش (learning) بھی اسی رفتار سے بہتر ہورہی ہے؟

ملک نے اپنے اسکولوں کو گننا کیسے شروع کیا؟

تعلیم کے بارے میں درست فیصلہ کرنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اسکول کہاں ہیں، بچے کتنے ہیں اور اساتذہ کہاں تعینات ہیں۔ یہی ضرورت بھارت میں اسکولی تعلیم کے اعداد و شمار جمع کرنے کے ایک منظم نظام کی بنیاد بنی۔

ضلعی سطح پر تعلیمی اعداد و شمار جمع کرنے کے لیے تعلیم کے لیے ضلعی اطلاعاتی نظام (DISE) نے ابتدائی سطح کی اسکولی تعلیم سے متعلق معلومات کو ایک منظم شکل دینا شروع کیا۔ بعد میں ثانوی تعلیم کے لیے ثانوی تعلیم کا اطلاعاتی نظام (SEMIS) وجود میں آیا۔2012–13 میں DISE اور SEMIS کو یکجا کرکے مربوط ضلعی اطلاعاتی نظام (+UDISE) بنایا گیا۔ اس کا مقصد اسکولی تعلیم کے مختلف مرحلوں سے متعلق معلومات کو ایک ہی نظام میں جمع کرنا تھا۔

2018–19 سے اس نظام کو مزید جدید بناکر +UDISE کی شکل دی گئی۔ اسکول کی سطح سے آن لائن اعداد و شمار جمع کرنےنیز ان کی جانچ اور تصدیق کے لیے زیادہ منظم طریقہ اپنایا گیا۔2022-23سے طالب علم کی سطح پر معلومات جمع کرنے کا عمل بھی شروع ہوا، جس کا مقصد بچوں کے تعلیمی سفر، منتقلی اور اسکول چھوڑنے کے رجحان کو زیادہ درست طور پر سمجھنا تھا۔

یہ سفر اہم ہے۔ +UDISE نے بھارت کو پہلی مرتبہ اتنے بڑے پیمانے پر یہ دیکھنے کا موقع دیا کہ اسکولی نظام کہاں کھڑا ہے۔لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے۔جو چیز گنی جاسکتی ہے، وہ ضروری نہیں کہ پوری حقیقت بھی بیان کرتی ہو۔

+UDISE ہمیں اسکول، استاد، داخلہ اور سہولیات کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔ لیکن کلاس روم کے اندر بچے نے کیا سمجھا، استاد نے کیسے پڑھایا اور بچے نے اپنی تعلیم کو زندگی سے کیسے جوڑا، اس کے لیے ہمیں دوسرے ذرائع بھی دیکھنے پڑتے ہیں۔اور یہی اس پورے نظام کو پڑھنے کا صحیح طریقہ ہے۔

ایک کروڑ اساتذہ، پھر بھی ایک لاکھ اسکول ایک استاد کے سہارے

ملک میں اساتذہ کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ مجموعی طالب علم:استاد تناسب بھی 24:1 کے آس پاس ہے۔ پہلی نظر میں یہ ایک حوصلہ افزا تصویر ہے۔لیکن اسی تصویر میں ایک اور عدد بھی موجود ہے۔ملک میں اب بھی ایک لاکھ سے زیادہ اسکول ایسے ہیں جہاں صرف ایک استاد ہے۔یہ تضاد ہمیں رک کر سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔قومی سطح پر استاد اور طالب علم کا تناسب اچھا ہوسکتا ہے، مگر کسی دور دراز گاؤں کے اسکول میں ایک استاد پانچ جماعتوں کو سنبھال رہا ہو تو اس بچے کے لیے قومی اوسط کسی کام کا نہیں۔

فرض کیجیے ایک اسکول میں 200 بچے اور دس استاد ہیں۔ دوسرے میں 20 بچے اور ایک استاد۔ دونوں کے اوسط اعداد شاید مجموعی قومی تناسب کو زیادہ متاثر نہ کریں، مگر دونوں اسکولوں میں ایک بچے کا تعلیمی تجربہ ایک جیسا نہیں ہوگا۔

ایک استاد کو مختلف جماعتوں کو پڑھانا ہے، مختلف مضامین سنبھالنے ہیں، بچوں کی مختلف سطحوں سے نمٹنا ہے، حاضری اور ریکارڈ دیکھنا ہے اور ممکن ہے کہ تدریس کے علاوہ کئی دوسرے سرکاری کام بھی اسی کے ذمے ہوں۔

ایسے میں سوال استاد کی محنت پر نہیں اٹھتا۔سوال نظام کی تقسیم پر اٹھتا ہے۔ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے:ہمارے پاس کتنے استاد ہیں؟ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے:وہ کہاں ہیں؟کس علاقے میں استاد ضرورت سے زیادہ ہیں اور کہاں ایک استاد کئی جماعتوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے؟تعلیم میں قومی اوسط اہم ہے، لیکن بچے کی اصل دنیا قومی اوسط نہیں، اس کا اپنا اسکول ہے۔

جب اسکول کم ہوجائیں تو کیا مسئلہ بھی کم ہوگیا؟

صفر داخلہ والے اسکولوں (Zero-Enrolment Schools) کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔ یہ بظاہر ایک اچھی خبر ہے۔خالی اسکول کسی بھی تعلیمی نظام کے لیے ایک سوال ہوتے ہیں۔ اگر کسی اسکول میں ایک بھی بچہ نہیں تو حکومت کو یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ اسے کس طرح چلایا جارہا ہے اور اس کے پیچھے وسائل کیوں خرچ ہورہے ہیں۔

لیکن یہاں بھی ایک سوال ہے:ان اسکولوں کے بچے کہاں گئے؟کیا بچے واپس آگئے؟کیا خاندان دوسری جگہ منتقل ہوگئے؟کیا اسکول کسی دوسرے اسکول میں ضم کردیا گیا؟کیا اسے بند کردیا گیا؟اگر اسکول بند ہوا تو بچے اب کتنی دور پڑھنے جاتے ہیں؟ایک سرکاری جدول میں یہ صرف ایک کم ہوتا ہوا عدد ہے۔ایک بچے کی زندگی میں اس کا مطلب گھر سے ایک گھنٹہ زیادہ دور اسکول جانا ہوسکتا ہے۔یہ فرق معمولی نہیں۔اس لیے اسکولوں کی تعداد میں کمی کو خود بخود تعلیمی کام یابی نہیں کہا جاسکتا۔

کبھی اسکول کو ضم کرنا درست فیصلہ ہوتا ہے۔ کبھی واقعی کسی اسکول کی ضرورت ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن کبھی کم داخلے کی وجہ اسکول کی کم زور کارکردگی بھی ہوسکتی ہے۔اس لیے بند کرنے سے پہلے یہ پوچھنا زیادہ ضروری ہے کہ:اسکول میں بچے کم کیوں ہیں؟کیا استاد موجود نہیں؟کیا تدریس کم زور ہے؟کیا والدین کسی دوسرے اسکول کو بہتر سمجھتے ہیں؟کیا اسکول بہت دور ہے؟کیا آبادی ہجرت کرچکی ہے؟کیا اسکول کی زبان یا ماحول بچوں کے لیے مسئلہ ہے؟ہر سوال کا جواب الگ ہے اور ہر جواب کا حل بھی الگ ہوگا۔اسکول بند کرنا اور اسکول بہتر کرنا ایک ہی تعلیمی پالیسی نہیں۔

اسکول صرف چار دیواری نہیں ہوتا

ہم اسکول کو اکثر ایک عمارت سمجھنے لگتے ہیں۔کمرے کتنے ہیں؟بیت الخلا کتنے ہیں؟استاد کتنے ہیں؟بچے کتنے ہیں؟کمپیوٹر کتنے ہیں؟یہ سب سوال ضروری ہیں۔مگر اسکول صرف یہ نہیں۔کسی گاؤں میں اسکول اس بستی کی اجتماعی زندگی کا حصہ ہوتا ہے۔ بچے وہیں پہلی مرتبہ گھر کے دائرے سے باہر مختلف لوگوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ وہیں دوستی، اختلاف، تعاون، گفتگو اور اجتماعی زندگی کے ابتدائی سبق سیکھتے ہیں۔

ایک چھوٹے بچے کے لیے گھر سے دو کلومیٹر دور اسکول اور دس کلومیٹر دور اسکول ایک جیسی چیز نہیں۔خاص طور پر لڑکیوں، چھوٹے بچوں، معذور بچوں اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے اسکول کا فاصلہ بہت معنی رکھتا ہے۔اس لیے جب کسی اسکول کو ضم کرنے کی بات ہو تو صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ وہاں کتنے بچے ہیں۔یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان بچوں کے لیے نیا اسکول کہاں ہوگا۔تعلیمی     منصوبہ بندی میں انتظامی سہولت اہم ہے، لیکن بچے کی سہولت اس سے کم اہم نہیں۔

سہولیات پہنچ گئیں، اب کلاس روم کی باری ہے

+UDISE کے اعداد بتاتے ہیں کہ بنیادی سہولتوں کے معاملے میں بھارت نے خاصا سفر طے کیا ہے۔پینے کا پانی تقریباً تمام اسکولوں تک پہنچ چکا ہے۔ لڑکیوں کے لیے بیت الخلا تقریباً ہر جگہ موجود ہیں۔ بجلی کی رسائی بھی بہت بہتر ہوئی ہے۔ لائبریریاں پہلے کے مقابلے میں زیادہ اسکولوں میں موجود ہیں۔یہ بڑی پیش رفت ہے۔اسے کم نہیں سمجھنا چاہیے۔لیکن اب سوال بدل رہا ہے۔

کلاس روم کے اندر کیا ہورہا ہے؟لائبریری موجود ہے، مگر کیا بچے کتابیں پڑھتے ہیں؟کمپیوٹر موجود ہے، مگر کیا وہ استعمال ہوتے ہیں؟

انٹرنیٹ موجود ہے، مگر کیا اس سے تدریس میں کوئی فرق پڑ رہا ہے؟بیت الخلا موجود ہے، مگر کیا وہ صاف اور قابلِ استعمال ہے؟کلاس روم موجود ہے، مگر کیا بچے وہاں سوال کرتے ہیں؟ہم ایک ایسے مرحلے میں داخل ہورہے ہیں جہاں صرف سہولتوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں ہوگا۔اب ہمیں سہولت کے استعمال اور اثر کو دیکھنا ہوگا۔

ایک لائبریری کا ہونا اور بچوں میں مطالعے کی عادت پیدا ہونا دو مختلف باتیں ہیں۔ایک کمپیوٹر کا ہونا اور بچے کا ڈیجیٹل طور پر باصلاحیت ہونا دو الگ شے ہیں۔اسی طرح، ایک کلاس روم کا ہونا اور وہاں اچھی آموزش (Learning) ہونا دو بالکل الگ چیزیں ہیں۔عمارت بنانا ضروری تھا۔اب عمارت کے اندر اچھی تعلیم پیدا کرنا ضروری ہے۔

انٹرنیٹ بڑھا، مگر سوال باقی ہے

+UDISE کے حالیہ اعداد کے مطابق اسکولوں میں انٹرنیٹ کی رسائی بھی بڑھی ہے۔یہ اچھی خبر ہے۔لیکن ابھی بھی ایک بڑی تعداد ایسے اسکولوں کی ہے جہاں یہ سہولت دستیاب نہیں۔ڈیجیٹل دور میں یہ فرق اہم ہے۔

لیکن یہاں بھی اصل سوال صرف انٹرنیٹ کنکشن کا نہیں۔کیا بجلی مستقل آتی ہے؟کیا آلات کام کرتے ہیں؟کیا استاد انھیں استعمال کرنا جانتا ہے؟کیا مقامی زبانوں میں معیاری مواد موجود ہے؟کیا بچے صرف ویڈیو دیکھ رہے ہیں یا واقعی کچھ سیکھ بھی رہے ہیں؟

ڈیجیٹل تعلیم کا مطلب صرف وائی فائی نہیں۔اس میں آلہ، رابطہ، استاد کی صلاحیت، مناسب مواد اور صحیح استعمال سب شامل ہیں۔

ورنہ ایک نئی قسم کی تعلیمی نابرابری پیدا ہوسکتی ہے۔

اصل سوال: بچہ آخر سیکھ کیا رہا ہے؟

شاید +UDISEکی سب سے بڑی حد بھی یہی ہے اور اس کی سب سے بڑی ضرورت بھی۔یہ ہمیں بتاتا ہے کہ بچہ اسکول میں ہے یا نہیں۔لیکن یہ ہمیشہ یہ نہیں بتاتا کہ بچہ اسکول میں رہ کر کیا سیکھ رہا ہے۔

یہ سوال ہمیں ASER، NAS اور PARAKH جیسے دوسرے ذرائع کی طرف لے جاتا ہے۔ASER (Annual Status of Education Report) 2024 نے دیہی بھارت میں بنیادی آموزش پڑھنے اور حساب کی صلاحیتوں میں 2022 کے بعد قابلِ ذکر بہتری دکھائی۔ یہ اچھی خبر ہے۔لیکن اسی رپورٹ کے اعداد یہ بھی بتاتے ہیں کہ بنیادی آموزش کے میدان میں ابھی بہت کام باقی ہے۔

کلاس III کے سرکاری اسکولوں کے بچوں میں 2024 میں تقریباً 23.4 فیصد بچے ہی کلاس II کی سطح کا متن پڑھ سکتے تھے۔ کلاس V میں یہ تناسب تقریباً 44.8 فیصد تھا۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ باقی بچے کچھ نہیں جانتے۔بچے ہمیشہ’’جانتے ہیں‘‘یا ’’نہیں جانتے‘‘کے دو خانوں میں تقسیم نہیں ہوتے۔لیکن یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں بچے اپنی عمر اور جماعت کے لحاظ سے مطلوبہ بنیادی سطح تک نہیں پہنچ پائے۔

یہاں ہمیں خوشی اور تشویش دونوں کو ایک ساتھ دیکھنا چاہیے۔2022 کے بعد بہتری ہوئی ہے۔مگر بہتری کی گنجائش اب بھی بہت بڑی ہے۔

جماعت آگے بڑھتی ہے، مگر بچہ کہاں کھڑا ہے؟

ہمارے اسکولی نظام میں ایک مسئلہ خاموشی سے بڑھتا رہا ہے۔بچہ ایک جماعت سے دوسری جماعت میں چلا جاتا ہے، لیکن اس کی بنیادی تعلیمی کم زوری ہمیشہ دور نہیں ہوتی۔کلاس III۔پھر IV۔پھر V۔پھر VI۔کتابیں آگے بڑھتی رہتی ہیں۔نصاب آگے بڑھتا رہتا ہے۔

امتحان آگے بڑھتا رہتا ہے۔لیکن بچہ وہیں کھڑا رہ جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ بچہ کس جماعت میں ہے۔ہمیں پوچھنا چاہیے:وہ اس وقت کیا کرسکتا ہے؟کیا وہ روانی سے پڑھ سکتا ہے؟کیا وہ پڑھی ہوئی چیز سمجھ سکتا ہے؟کیا وہ بنیادی حساب کرسکتا ہے؟کیا وہ اپنی بات لکھ سکتا ہے؟کیا وہ اپنے الفاظ میں کسی سوال کا جواب دے سکتا ہے؟یہ سوال بچے کی حقیقی آموزش کے زیادہ قریب ہیں۔

نصاب بدلنے سے کلاس روم خود نہیں بدلتا

NEP 2020 نے بنیادی خواندگی اور عدد شناسی (Foundational Literacy and Numeracy)، تصوراتی سمجھ، تنقیدی سوچ اور مہارت پر مبنی تعلیم پر زور دیا ہے۔یہ سمت درست ہے۔لیکن پالیسی اور کلاس روم کے درمیان ایک لمبا فاصلہ ہوتا ہے۔پالیسی کاغذ پر لکھی جاتی ہے۔تعلیم کلاس روم میں ہوتی ہےاور کلاس روم میں پالیسی کا اصل چہرہ استاد ہوتا ہے۔اسی لیے استاد کی تربیت اتنی اہم ہے۔

ہم نے برسوں سے ٹیچر ٹریننگ کے پروگرام چلائے ہیں۔ اساتذہ نے ورکشاپ کیے، تربیت لی اور سرٹیفکیٹ حاصل کیے۔لیکن اصل سوال یہ ہے:تربیت کے بعد کلاس میں کیا بدلا؟کیا استاد کا طریقہ تدریس بدلا؟کیا بچوں کو زیادہ سوال کرنے کا موقع ملا؟کیا کم زور بچوں کو الگ مدد ملی؟کیا جائزہ قدر بہتر ہوا؟کیا استاد نے اپنے طریقۂ تدریس پر غور کرنا شروع کیا؟اگر نہیں تو ہمیں ٹریننگ کے تصور کو بھی نئے سرے سے دیکھنا ہوگا۔تربیت کے گھنٹے ایک عدد ہیں۔تدریس میں تبدیلی اصل نتیجہ ہے۔

ثانوی تعلیم اب بھی ہماری توجہ مانگ رہی ہے

تازہ +UDISE اعداد میں ثانوی مرحلے کا مجموعی داخلہ تناسب 71.7 فیصد ہے، جب کہ مڈل مرحلے میں یہ 89.6 فیصد کے قریب ہے۔یہ فرق معمولی نہیں۔بچے مڈل مرحلے تک بڑی تعداد میں اسکول میں رہتے ہیں، لیکن ثانوی مرحلے تک پہنچتے پہنچتے ایک نمایاں حصہ تعلیمی نظام سے باہر ہوجاتا ہے۔ثانوی ڈراپ آؤٹ کی شرح میں کمی بھی آئی ہے اور یہ 7 فیصد تک پہنچی ہے۔

یہ یقیناً اچھی خبر ہے۔لیکن سات فیصد بھی معمولی عدد نہیں۔فیصد کے پیچھے بچے ہوتے ہیں۔ایک بچہ غربت کی وجہ سے اسکول چھوڑتا ہے۔دوسرا کام کرنے لگتا ہے۔کسی لڑکی پر گھر کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔کسی بچے کے لیے اسکول بہت دور ہے۔کسی کو مسلسل ناکامی نے مایوس کردیا ہے۔کسی کو لگتا ہے کہ اسکول میں جو کچھ پڑھایا جارہا ہے، اس کا اس کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں۔اس لیے ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے:کتنے بچے اسکول چھوڑ رہے ہیں؟بلکہ:وہ کیوں چھوڑ رہے ہیں؟سرکاری اسکولوں سے اعتماد کیوں کم ہورہا ہے؟

+UDISE کے حالیہ اعداد میں سرکاری اسکولوں میں داخلے میں کمی اور نجی غیر امدادی اسکولوں (Private Unaided Schools) میں داخلے میں اضافے کا رجحان بھی توجہ چاہتا ہے۔اسے محض ’’پرائیویٹ اسکول اچھے ہیں‘‘یا ’’سرکاری اسکول خراب ہیں‘‘کے دو جملوں میں بند نہیں کیا جاسکتا۔

والدین کے فیصلے کے پیچھے کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ بہتر تدریس کی امید ہوسکتی ہے۔وہ انگریزی زبان کو مستقبل کے لیے زیادہ مفید سمجھ سکتے ہیں۔انھیں ڈسپلن (نظم و ضبط) بہتر محسوس ہوسکتا ہے۔ سرکاری اسکول کے بارے میں معاشرتی تاثر کم زور ہوگیا ہو، یہ بھی ہوسکتا ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ بعض علاقوں میں سرکاری اسکول واقعی بہتر کارکردگی کررہے ہوں اور نجی اسکول کا انتخاب صرف سماجی خواہش کی وجہ سے ہو۔

اس لیے اس سوال پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔لیکن ایک بات واضح ہے:سرکاری اسکول صرف غریب بچوں کے اسکول نہیں ہونے چاہئیں۔ایک اچھا سرکاری اسکول وہ ہے جس پر معاشرے کے مختلف طبقات اعتماد کریں۔کیوں کہ مضبوط سرکاری اسکول صرف تعلیم نہیں دیتے، وہ معاشرے کو ایک ساتھ بیٹھنے کا موقع بھی دیتے ہیں۔

مساوات کا مطلب سب کو ایک جیسا دینا نہیں

بھارت میں تعلیمی مساوات کی بات کرتے ہوئے ملک کی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔شہر اور گاؤں ایک جیسے نہیں۔ پہاڑی ضلع اور بڑا صنعتی شہر ایک جیسے نہیں۔ متوسط آمدنی والا گھر اور روزانہ اجرت پر گزارا کرنے والے گھر کی تعلیمی فضا ایک جیسی نہیں۔

کسی بچے کے گھر میں کتابیں ہیں،کسی کے گھر میں پڑھنے کے لیے مناسب جگہ بھی نہیں۔کوئی بچہ تیز رفتار انٹرنیٹ کے ساتھ بڑا ہورہا ہے، کوئی ابھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔

اس لیے ہر بچے کو بالکل ایک جیسی چیز دینا ہمیشہ مساوات نہیں ہوتا۔کبھی انصاف کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس بچے کو زیادہ مدد کی ضرورت ہے، اسے زیادہ مدد دی جائے۔کسی کو تدارکی تدریس (یعنی اضافی تعلیمی مدد) چاہیے،کسی کو زبان کی مدد ،کسی کو مالی معاونت،کسی کو محفوظ سفر اورکسی کو خصوصی تعلیمی سہولت، اصل مساوات وہ ہے جس میں بچہ اپنے امکانات تک پہنچ سکے۔

زبان: بچے کی دنیا سے کتاب کی دنیا تک

بھارت میں تعلیم اور زبان کا رشتہ بہت گہرا ہے۔بچہ گھر میں ایک مخصوص زبان میں سوچتا ہے، اگر اسکول میں اسے اچانک ایسی زبان میں تعلیم ملے جس سے وہ پوری طرح مانوس نہ ہو تو اس کے لیے تعلیم مشکل ہوجاتی ہے۔NEP 2020 نے ابتدائی سطح پر مادری زبان یا مقامی زبان اور کثیر لسانی تعلیم (multilingual education)کو اہمیت دی ہے۔

اصول اچھا ہے۔اب اصل مسئلہ عمل کا ہے۔کیا ہر بچے کے لیے اس کی زبان میں معیاری کتابیں موجود ہیں؟کیا استاد کثیر لسانی کلاس روم سنبھال سکتا ہے؟کیابھارتی زبانوں میں سائنس، ریاضی اور جدید علوم کا اچھا مواد دستیاب ہے؟اور سب سے بڑھ کر:کیا بچہ اپنی زبان میں سوال پوچھنے اور اپنی بات کہنے کے لیےخود کو آزاد محسوس کرتا ہے؟زبان صرف الفاظ نہیں۔یہ بچے کے اعتماد کا حصہ بھی ہے۔

امتحان میں نمبر، زندگی میں کیا؟

بھارت کی تعلیم پر امتحان کا سایہ بہت گہرا ہے۔بچہ کتنے نمبر لایا، یہی اکثر اس کی قابلیت کا مختصر فیصلہ بن جاتا ہے۔لیکن زندگی صرف نمبر نہیں مانگتی۔وہ سمجھ مانگتی ہے۔دلیل مانگتی ہے۔تخلیق مانگتی ہے۔دوسروں کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت،غلطی سے سیکھنے کی عادت اوراپنی بات واضح کرنے کی صلاحیت مانگتی ہے۔

اس لیے جائزہ قدر (تعلیمی جانچ) کا مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ بچے کو کتنے نمبر ملے۔اصل سوال یہ بھی ہے کہ:اس نے کیا سمجھا؟وہ اس علم کو کہاں استعمال کرسکتا ہے؟کیا وہ سوال کرسکتا ہے؟کیا وہ دلیل دے سکتا ہے؟کیا وہ کسی مسئلے کو نئے انداز سے دیکھ سکتا ہے؟

یہ وہ سوال ہیں جو تعلیم کو محض امتحان سے نکال کر زندگی کے قریب لے جاتے ہیں۔

تعلیم صرف روزگار کا نام نہیں

روزگار تعلیم کا ایک اہم مقصد ضرور ہے۔ایک نوجوان کے لیے اچھی تعلیم کا مطلب بہتر روزگار، معاشی خود مختاری اور بہتر زندگی ہوسکتا ہے۔لیکن تعلیم صرف نوکری کی تیاری بھی نہیں۔تعلیم انسان کو شہری بناتی ہے۔اسے سوال کرنا اوراختلاف سننا سکھاتی ہے۔ دلیل اور افواہ میں فرق کرنا سکھاتی ہے۔اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھنے کا شعور دیتی ہے۔اپنے معاشرے کو دیکھنے اور اس کے مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ایک ملک کے لیے تعلیم یافتہ شہری صرف اس لیے اہم نہیں کہ وہ زیادہ کمائے گا۔وہ اس لیے بھی اہم ہے کہ وہ بہتر فیصلے کرے گا۔

استاد کو صرف ملازم نہیں، معلم سمجھنا ہوگا

بھارتی تعلیمی نظام کی سب سے بڑی طاقت استاد ہےاور شاید سب سے زیادہ دباؤ بھی اسی پر ہے۔اس سے تدریس چاہیے۔حاضری چاہیے۔جائزہ قدر چاہیے۔ڈیٹا چاہیے۔ٹریننگ چاہیے۔مختلف سرکاری پروگراموں کا نفاذ بھی چاہیے۔پھر ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہر بچے کی انفرادی ضرورت کو بھی سمجھے۔

یہ توقع غلط نہیں۔لیکن اس کے لیے استاد کو وقت، تربیت، وسائل اور مناسب ماحول بھی دینا ہوگا۔اچھا استاد صرف سرٹیفیکٹ سے نہیں بنتا۔اسے مسلسل سیکھنے کا موقع چاہیے۔ساتھی اساتذہ سے   بات چیت چاہیے۔مینٹر چاہیے۔فیڈ بیک چاہیےاور سب سے بڑھ کر یہ احساس چاہیے کہ وہ صرف سلیبس مکمل نہیں کررہا، بچوں کی زندگی میں کچھ تعمیر کررہا ہے۔

ایک خاموش بحران: بچوں کے درمیان تعلیمی فاصلہ

ہم اکثر’’اوسط بچے‘‘کی بات کرتے ہیں۔مگر کلاس روم میں اوسط بچہ نہیں ہوتا۔ایک بچہ گھر میں کتابیں پڑھتا ہے۔دوسرے کے والدین خود تعلیم یافتہ نہیں۔ایک کوٹیوشن مل رہی ہے دوسرے کے پاس گھر میں پڑھنے کی جگہ نہیں۔ایک کے پاس موبائل اور انٹرنیٹ ہے دوسرا ان سہولتوں سے محروم ہے۔کوئی بچہ بہت تیزی سے سیکھ رہا ہےاورکوئی بنیادی چیزوں میں ہی پیچھے رہ گیا ہےاور ہم سب کو ایک ہی رفتار سے ایک ہی سبق پڑھا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے سب کے ساتھ انصاف کردیا۔ ہمیں یہ تصور بدلنا ہوگا۔تعلیمی انصاف کا مطلب یہ ہے کہ ہر بچے کو اس کی ضرورت کے مطابق مدد ملے۔

اعداد حقیقت کا بدل نہیں

UDISE+ نے بھارت میں تعلیمی منصوبہ بندی کو ایک مضبوط بنیاد دی ہے۔لیکن ہمیں ڈیٹا کے ساتھ بھی دیانت داری برتنی ہوگی۔

ایک عدد پوری حقیقت نہیں ہوتا۔ڈراپ آؤٹ سات فیصد ہے۔لیکن ان سات فیصد بچوں کی زندگیاں سات فیصد نہیں ہیں۔ واحد استاد والے اسکول ایک لاکھ سے زیادہ ہیں۔لیکن ہر اسکول کی کہانی الگ ہے۔ صفر داخلے والے اسکول ہزاروں میں ہیں۔لیکن ہر اسکول کے پیچھے ایک الگ آبادی اور ایک الگ وجہ ہے۔

اسی لیے ہمیں اعداد کے ساتھ میدان کی آواز بھی سننی ہوگی۔استاد کی والدین کی اور بچے کی۔کبھی بچے سے بھی پوچھ لیجیے۔تعلیم کے بارے میں زیادہ تر فیصلے بڑے لوگ کرتے ہیں۔حکومت بتاتی ہے کتنے اسکول ہیں۔افسر بتاتا ہے کتنے استاد ہیں۔ماہرین نصاب بناتے ہے۔والدین بتاتے ہیں کہ بچے کو کیا پڑھنا چاہیے۔

لیکن بچے سے ہم کتنی بار پوچھتے ہیں:تمھیں اسکول میں کیا اچھا لگتا ہے؟کیا مشکل لگتا ہے؟تم کلاس میں سوال کیوں نہیں کرتے؟تمھیں کون سا استاد یاد رہتا ہے؟تم کتاب کیوں پڑھتے ہو یا کیوں نہیں پڑھتے؟تم اسکول چھوڑنے کا کیوں سوچتے ہو؟تم اسکول سے کیا سیکھنا چاہتے ہو؟یہ سوال چھوٹے لگ سکتے ہیں۔لیکن تعلیم آخرکار بچے کے لیے ہے۔اگر بچے کی آواز ہماری تعلیمی منصوبہ بندی میں نہیں ہے تو تصویر ابھی مکمل نہیں ہوئی۔

کیا ہم تعلیم پر واقعی کافی خرچ کررہے ہیں؟

تعلیم کے معیار کی بات مالی وسائل کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔اچھا اسکول چاہیے تو عمارت چاہیے۔اچھا استاد چاہیے تو مناسب تنخواہ اور تربیت چاہیے۔اچھی لائبریری چاہیے تو کتابیں چاہیے۔اچھی سائنس کی تعلیم چاہیے تو تجربہ گاہ چاہیے۔ڈیجیٹل تعلیم چاہیے تو آلات اور انٹرنیٹ چاہیے۔

لیکن صرف رقم بڑھانا کافی نہیں۔یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ رقم کہاں خرچ ہوئی اور اس سے کیا بدلا۔ایک عمارت بننا ایک ضمنی نتیجہ ہے۔اس عمارت میں بچوں کی آموزش بہتر ہونا اصل نتیجہ ہے۔ایک استاد کا ٹریننگ پروگرام میں شریک ہونا ایک ضمنی نتیجہ ہے۔اس کے بعد اس کی تدریس بہتر ہونا اصل نتیجہ ہے۔ایک لاکھ ٹیبلٹ تقسیم کرنا ایک ضمنی نتیجہ ہے۔ان ٹیبلٹ سے بچوں کی آموزش بہتر ہونا اصل نتیجہ ہے۔

تعلیم کو اب اسی فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اگلا +UDISEکیا بتائے؟

+UDISEنے ہمیں بہت دور تک پہنچایا ہے۔اب شاید اسے ایک قدم اور آگے جانا چاہیے۔ہمیں صرف یہ نہ معلوم ہو کہ اسکول میں لائبریری ہے۔یہ بھی معلوم ہو کہ وہ استعمال کتنی ہوتی ہے۔صرف یہ نہ معلوم ہو کہ استاد موجود ہے۔یہ بھی معلوم ہو کہ ہر جماعت اور مضمون کی ضرورت پوری ہورہی ہے یا نہیں۔صرف یہ نہ معلوم ہو کہ بچہ داخل ہے۔یہ بھی معلوم ہو کہ اس کی آموزش کہاں کھڑی ہے۔صرف یہ نہ معلوم ہو کہ ڈراپ آؤٹ کم ہوا۔یہ بھی معلوم ہو کہ بچے کیوں نکلے۔صرف یہ نہ معلوم ہو کہ اسکول ضم ہوا۔یہ بھی معلوم ہو کہ اس کے بعد بچے کہاں گئے۔یہ سوال مشکل ہیں،لیکن اب ہمیں انھی مشکل سوالوں کی ضرورت ہے۔

پھر بھی امید کی بہت سی وجوہات ہیں

اس پورے تجزیے کے بعد یہ کہنا ضروری ہے کہ بھارت کے تعلیمی نظام میں امید کی کمی نہیں۔ہم نے واقعی بہت کچھ حاصل کیا ہے۔

اساتذہ کی تعداد بڑھی ہے۔بنیادی سہولتوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔اسکولوں تک رسائی بڑھی ہے۔ثانوی سطح پر داخلہ بہتر ہوا ہے۔اسکول چھوڑنے کی شرح کم ہوئی ہے۔ڈیجیٹل رسائی بڑھی ہےاور ASER کے حالیہ نتائج میں بنیادی پڑھنے اور حساب کی صلاحیتوں میں 2022 کے بعد نمایاں بہتری سامنے آئی ہے۔

یہ سب معمولی باتیں نہیں۔ان کے پیچھے لاکھوں اساتذہ، کروڑوں بچے، والدین، سرکاری ملازمین اور برسوں کی محنت ہے۔اس لیے تنقید کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس پیش رفت سے انکار کریں۔ہمیں دو باتیں ایک ساتھ کہنے کی عادت ڈالنی ہوگی:ہاں، بہتری ہوئی ہےاور:نہیں، ابھی کافی نہیں۔ یہی ایک سنجیدہ تعلیمی گفتگو کی بنیاد ہے۔

آخر میں سوال اعداد کا نہیں، بچے کا ہے

UDISE+ 2025–26 ہمیں ایک بہت بڑی تصویر دکھاتا ہے۔14.67لاکھ اسکول۔1.03 کروڑ اساتذہ۔24.72کروڑ طلبہ۔یہ صرف اعداد نہیں۔یہ 24کروڑ سے زیادہ بچوں کے مستقبل کا سوال ہے۔یہ ایک کروڑ سے زیادہ اساتذہ کی محنت کا سوال ہے۔یہ لاکھوں اسکولوں میں ہر روز کھلنے والے دروازوں کا سوال ہے۔ کیوں کہ بہتر اعداد اچھی خبر ضرور ہیں۔لیکن بہتر اعداد کو بہتر تعلیم سمجھ لینا ابھی بھی ایک غلطی ہوگی۔

بھارت کے تعلیمی نظام کی اگلی بڑی کام یابی زیادہ اسکول، زیادہ کمرے یا زیادہ آلات نہیں ہوگی۔اگلی بڑی کام یابی یہ ہوگی کہ ایک بچہ جو آج پڑھنے میں مشکل محسوس کرتا ہے، کل روانی سے پڑھ سکے۔جو بچہ آج سوال پوچھنے سے گھبراتا ہے، کل ہاتھ اٹھا کر اپنی بات کہہ سکے۔جو بچہ آج ریاضی سے ڈرتا ہے، کل اسے اپنی روزمرہ زندگی میں استعمال کرسکے۔جو استاد آج تنہا کئی جماعتوں کو سنبھال رہا ہے، اسے مناسب ساتھی اور وسائل ملیں۔جو اسکول آج صرف ایک عمارت ہے، وہ کل واقعی ایک زندہ تعلیمی ادارہ بنےاور جو بچہ آج صرف ایک داخلہ کا اندراج نمبر ہے، وہ کل اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ ایک بااختیار انسان بن کر سامنے آئے۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

اعداد بہتر ہو رہے ہیں،مگر سوال ابھی باقی ہیں

حالیہ شمارے

ستمبر 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223