جمہوریت کے استحکام کے لیے صرف دستوری و قانونی اقدامات کافی نہیں ہیں۔ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیمی نظام اور نشر و اشاعت کے وسائل کے ذریعے اس نقطہ نگاہ اور ان اخلاقی قدروں کو راسخ کرنے کی پوری کوشش کی جائے جن سے جمہوری طرزِ عمل مستحکم ہوتا ہے اور حکومت ان طریقوں سے مجتنب رہے جو اس نقطہ نگاہ اور ان قدروں سے میل نہ کھاتے ہوں۔
حقیقی جمہوریت اسی وقت جڑ پکڑ سکتی ہے جب سماج کے افراد انانیت و خود پسندی سے اور فکر و فہم کے بارے میں اپنی اجارہ داری کے ان مہلک تصورات سے پاک ہوں جن میں خصوصیت سے اقتدار پانے کے بعد انسانی ذہن مبتلا ہو جاتا ہے، جب لوگوں میں عجز و انکسار ہو، جب یہ احساس ہو کہ دوسرے اشخاص کی طرح ہم بھی علم و فکر کے اعتبار سے ناقص ہیں اس لیے دوسرے انسانوں کے مشوروں اور ان کے تعاون کے محتاج ہیں ، دوسرے انسانوں کے وہی حقوق ہیں جو ہمارے ہیں اور دوسرے انسانوں کی طرح ہم پر بھی فرائض عائد ہوتے ہیں ۔
جماعت اسلامی ہند کی دعوت کے دو بنیادی نکات ، خدا کی بندگی اور اس کے سامنے جواب دہی اور وحدتِ آدم ، جمہوریت کے لیے صحیح بنیادیں فراہم کرتے ہیں۔ سب انسان خدا کے بندے ہیں اور سب کو خدا کا بندہ بن کر رہنا چاہیے ۔ یہ عقیدہ انسان کو کبر و نخوت ، انانیت و خود پرستی سے اور اپنے علم وفکر کے کامل و بے خطر ہونے کے زعم سے محفوظ رکھتا ہے۔ بزرگی خدا کو زیبا ہے۔ مقتدر اعلی صرف وہ ہے۔ اس کا علم کامل اور اس کی دانش بے خطا ہے ۔ اس کے سب بندے اس کے محتاج اور سب علم د فکر کے لحاظ سے ناقص ہیں ۔ اسی طرح وحدتِ آدم کا تصور انسانوں میں مساوات ،تعاون اور باہمی مشورے کے تصورات کو جنم دیتا ہے ۔
سیاسی زندگی میں جمہوریت کا قیام اسی وقت ممکن ہے جب سماجی زندگی میں عدل و مساوات اور معاشی زندگی میں باہم تعاون اور کفالت کے طریقے اختیار کیے جائیں۔ظلم دنا برابری، تفریق و امتیازی سلوک ، حریفانہ کش مکش اور استحصال پر مبنی سماج جس میں آبادی کا بڑا حصہ غربت، چھوت چھات ، پس ماندگی اور جہالت کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے ،جمہوریت کے ڈھانچے کو اپنا بھی لے تو اس کی روح سے محروم رہے گا۔ خدا پرستی اور اس سے پیدا ہونے والے اخلاقی اقدار کے فروغ کے ذریعے ہی ہم ان جمہوریت دشمن بلاؤں سے نجات پاسکتے ہیں۔ (قرار داد مرکزی مجلس شوری، جماعت اسلامی ہند، مئی ۱۹۷۷)







