لہو لہو فلسطین اور اردو کا شعری انتفاضہ

ڈاکٹر خالد مبشر

اس تحریر کا مقصد فلسطین کے مسئلے پر اظہارِ خیال کرنا نہیں ہے۔ یہاں صرف اردو شاعری میں اس حوالے سے جو تخلیقی اظہارات ہیں اور جس طرح اس میں آوازیں بلند کی گئی ہیں اور ان آوازوں کی کتنی قسمیں ہیں، اس کا ایک مختصر جائزہ مقصود ہے۔ ایک بات اور عرض کرتا چلوں کہ شعری اظہار میں اور عام اظہار میں فرق ہے، صحافیانہ اظہار کے تقاضے الگ ہیں اور تخلیقی اظہار کے تقاضے الگ ہیں۔ لہٰذا اس کا بھی خاص خیال رکھاجائے۔

میں نے ذاتی طور پر یہ محسوس کیا ہے کہ یہ آوازیں اقبالؔ سے ہی بلند ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اقبال کے بعد جو بڑا نام ہے، وہ فیض احمد فیض کا ہے۔ اور اس کے بعد تواتر کے ساتھ آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ مسئلۂ فلسطین کو ہمارے شاعروں نے بہت حساس طور پر لیا ہے۔ لیکن میں ایک ادب کا طالب علم ہونے کے ناطے یہ احساس بھی رکھتا ہوں، جس کا اظہار کرنامیں ضروری سمجھتا ہوں، کہ یہ مزاحمتی آواز، باغیانہ آواز، بنیادی طور پر کسی ظلم کے خلاف ایک جذباتی اظہار ہے۔ اس میں شعریت کے وہ عناصر تلاش کرنا جو ہماری اعلیٰ درجہ کی شاعری کا خاصہ ہیں، مناسب نہیں، کیوں کہ اس قسم کی شاعری کے تقاضے مختلف ہیں۔ مزاحمتی شاعری کے اپنے الگ تقاضے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں یقینا زیادہ تر سطحی جذباتیت کااظہار ہواہے، غیر شعری بیانیہ بھی در آیا ہے، سپاٹ پن بھی در آیا ہے، تخلیقی تہیں نہیں ہیں، تہہ داری نہیں ہے، تخیل کی وہ پرواز نہیں ہے اور رمزیت و علامت کا وہ پہلو اور وہ تمام عناصر ہمیں نہیں ملتے، جو ہماری شاعری کی شان ہیں۔ لیکن اس میں ایک مزاحمتی رنگ ہے، کہیں غم و غصہ ہے، کہیں رزمیہ آہنگ ہے، اس کے اپنے تقاضے ہیں، کہیں بغاوت کے تیور نظرآتے ہیں، کہیں للکار ہے، کہیں ماتمی انداز بھی آپ کو نظر آئے گا اور رونے رلانے والا مایوس کن اور حزنیہ لہجہ بھی آپ کو نظر آئے گا۔ فلسطین کے حوالے سے اردو میں جو شاعری ہوئی ہے اس میں کہیں ترانے کا جوش، ترانے کا آہنگ اور ولولہ آپ کو ملے گا، کہیں ماضی کی شان و شوکت میں کھویا ہوا شاعر ماضی کے ترانے گاتا ہوا نظر آئے گا، کہیں روشن مستقبل کی بشارت بھی ملے گی اور کہیں رجائیت اور امید پروری کی فضا بھی ملے گی۔ لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے کہ فلسطین کے حوالے سے اردو میں جو شاعری ہوئی ہے، وہ کسی ایک خاص اسلوب یا آہنگ کی پابند نہیں رہی ہے۔ اس کا الگ الگ رنگ ہے، الگ الگ آہنگ ہے۔ اور ایک بات جو میں نے محسوس کی ہے کہ تلمیحاتی سطح پر شاعری کو ایک طاقت ملتی ہے۔یہاں کچھ تلمیحوں  کی  بہت تکرار محسوس ہوتی ہے۔ جیسے کہ خلیل اللہ، بہت اہم تلمیح کے طور پر فلسطین کی شاعری میں ہمیں نظر آتے ہیں، سلیمان، رسول پاک ﷺ، انبیائے کرام، موسیٰ علیہ السلام، بنی اسرائیل، عمر فاروق اور سلطان صلاح الدین ایوبی تلمیح کے طور پر ملیں گے۔ شاعروں نے موضوعاتی سطح پر زیادہ تر تقدس یا عظمت، یا ایمان یا قبلۂ اول کی افضلیت کو نمایاں موضوع بنایا ہے۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی تذبذب نہیں کہ فلسطین کے حوالے سے اردو میں ہمیں ایسی شاعری بہت کم ملتی ہے، جو استعاراتی، رمزیہ یا تخلیقی سطح پر اعلیٰ درجے کی شاعری ہو۔ ہم نے ایک مجموعی جائزے کے طور پر یہ بات کہی ہے۔ اب تک میری نظر سے تقریباً  ۹۶ نظمیں گزری ہیں، جو فلسطین یا مسئلۂ فلسطین کے حوالے سے ہیں۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اقبالؔ سے یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اقبالؔ ہمارا بڑا شاعرہے۔ لیکن اقبال کے یہاں فلسطین کو اس طور پر شاعری کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے، جیسا کہ اب ہے۔ لیکن اس کی وجہ بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ ۱۹۳۸ء میں تو اقبال کی وفات ہو جاتی ہے اور اس وقت تک یہ مسئلۂ فلسطین اس طرح سامنے نہیں آیا تھا۔ حالاں کہ اس کی دھمک، اس کی لرزشیں اور اس کی آوازیں آنا شروع ہو چکی تھیں۔ اقبالؔ ۱۹۳۱ء میں یروشلم کے حوالے سے ایک کانفرنس میں بھی شریک ہو چکے تھے اور مسجداقصیٰ کے قریب ہی انھوں نے قیام کیا تھا۔ ان کی تحریریں نثری طور پر بھی اس حوالے سے ملتی ہیں۔ اس حوالے سے ان کی تقریریں بھی موجود ہیں۔ شعر کے طور پر کچھ اشعار ضربِ کلیم میں مل جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اقبال کہتے ہیں:

ہے خاکِ فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق

ہسپانیہ پہ حق نہیں کیوں اہلِ عرب کا

ظاہر ہے کہ بہرحال شعری سطح پر دیکھیں تو یہ کوئی بہت اعلیٰ درجے کا شعر کا نہیں کہا جائے گا۔ یہ بیانیہ ہے، سپاٹ بیانیہ، بلکہ منطقی اور خطابیہ آہنگ ہے، لیکن بہرحال اقبال کی اس مسئلے سے وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں:

جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پہ مِرا دل

تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدۂ دشوار

جب لیگ آف نیشنز نے اشارہ کرنا شروع کردیا تھا کہ فلسطین پہ یہودیوں کا حق ہے، تو اس وقت اقبال نے عرب ملوکیت اور برطانویت کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور فلسطینی عوام کے حقوق غصب کرنے کے سلسلے میں انھوں نے توانا لہجے میں یہ بات کہی تھی:

یہی شیخِ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے

گلیمِ بوذرؓ و دلقِ اویسؓ و چادرِ زہراؓ

یا فلسطینی عرب سے خطاب کرتے ہوئے اقبال نے کہا تھا، جو ضرب کلیم میں موجود ہے:

زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ

میں جانتا ہوں وہ آتش تِرے وجود میں ہے

تِری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں

فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے

سنا ہے میں نے غلامی سے امتوں کی نجات

خودی کی پرورش و لذتِ نمود میں ہے

اب دیکھیے کہ اقبال کی نظر نے اسّی سال بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصہ قبل یہ محسوس کر لیا تھا کہ عالمی اقتداری طاقتیں کبھی بھی فلسطین کی حمایت نہیں کریں گی۔ انھوں نے فلسطینیوں کو آگاہ کردیاتھا کہ اس مسئلے کا حل خودتمھیں بن سکتے ہو۔ تمھاری غلامی کا اگر کوئی حل ہو سکتا ہے تو وہ تمھاری خودی میں ہی مضمر ہے۔

فیض نے دو نظمیں فلسطینیوں اور مسئلۂ فلسطین کے حوالے سے کہی ہیں۔ ایک نظم ہے ’’فلسطینی جہاد‘‘بعد میں اس کا عنوان’’ہم دیکھیں گے‘‘ہو گیا۔ یہ نظم آج تمام انقلابیوں کا ترانہ ہو گئی ہے۔ لیکن یہ کون جانتا ہے کہ اس نظم کا عنوان تھا ‘‘فلسطینی جہاد’’ جو فیض نے فلسطینیوں کو خراج پیش کرتے ہوئے لکھی تھی۔ ۱۹۹۷ء میں امریکہ میں یہ نظم فلسطینی جہادیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے فیض نے کہی تھی۔ انھوں نے مجاہدین فلسطین کے لیے ایک اور نظم ’’ترانہ‘‘کے عنوان سے لکھی تھی، میں چاہتا ہوں کہ اس کا بھی بس آخری حصہ آپ کے سامنے پیش کروں:

قد جاء الحق و زھق الباطل

فرمودۂ ربِّ اکبر ہے

جنت اپنے پاؤں تلے

اور سایۂ رحمت سر پر ہے

پھر کیا ڈر ہے،ہم جیتیں گے

حقا! ہم اک دن جیتیں گے

بالآخر اک دن جیتیں گے

اسی طرح نعیم صدیقی کا اسلامی ادب میں جو مقام و مرتبہ ہے، اس سے سب واقف ہیں۔ ان کی مشہور نظم ہے ’’یروشلم یروشلم‘‘۔ مسلمانوں نے مسجدِ اقصیٰ کی بازیابی کے لیے جو مختلف تحریکیں برپا کیں، ان کی پوری تاریخ اس نظم میں سمو دی گئی ہے۔ یہاں پوری نظم تو پیش نہیں کی جا سکتی، لیکن ایک بند درمیان سے اور ایک بند آخر سے ضرور پیش کرنا چاہوں گا، تا کہ وہ رنگ سامنے آ سکے:

یہیں سے ہو کے عرش کو سواری نبی گئی

ابھی تک ان فضاؤں میں ہے اک مہک بسی ہوئی

یہاں کی خاک پر ٹکے براقِ نور کے قدم

یروشلم یروشلم، یروشلم، یروشلم

اس بندمیں یروشلم کے تقدس اور اس کی عظمت کا بیان کس طرح کیا گیا ہے، اس کی تشریح کی ضرورت نہیں کہ رسولِ پاک ﷺ نے معراج کے سفر میں پہلے مسجد اقصیٰ میں ہی قیام کیا اور وہاں تمام انبیا موجود تھے، جن کی امامت آپ نے فرمائی اور پھر وہاں سے آسمان کی جانب سفر شروع کیا۔ آخری بند دیکھیے:

پھر ایک بار آئیں گے، یہ جاں نثار آئیں گے

اجل کے دوش پر سوار شہ سوار آئیں گے

بصد وقار آئیں گے، تِرے وقار کی قسم

یروشلم یروشلم، یروشلم، یروشلم

اسی طرح حفیظ بنارسی ہمارے ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ مشاعروں میں ان کی دھوم ہوا کرتی تھی۔ انھوں نے بھی فلسطین کے حوالے سے ایک نظم کہی ہے، جس کا عنوان ہے ’’اے ارضِ فلسطین کے جانباز مسلمان!‘‘۔ اس نظم کا بھی ایک حصہ دیکھیں:

اے مردِ جری! دولتِ ایماں کے نگہباں!

اے ارضِ فلسطین کے جانباز مسلماں!

منظور نہ کر قوتِ باطل کی غلامی

تو مردِ مجاہد ہے خدا ہے تِرا حامی

صہیونی ارادوں کو تہِ خاک ملا دے

کیا حق کی تب و تاب ہے دنیا کو دکھا دے

یہ آہنگ اور یہ جذبہ و ولولہ، جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا گیا، اس حوالے سے کہی گئی نظموں کے الگ الگ رنگ اور الگ الگ آہنگ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آپ محسوس کریں گے کہ ہمارے بڑے شعرا نے جس طرح اس مسئلے کو دیکھا اور الگ الگ طور اور اپنے اپنے طرز سے اسے پیش کیا ہے، وہ غیر معمولی ہے۔

اسی طرح قیصرالجعفری نے ’’حریفِ جاں سے کہو‘‘کے بالکل مختلف عنوان سے ایک نظم کہی ہے۔ میں اس کا آخری حصہ اس وجہ سے بھی پیش کرنا چاہتاہوں کہ اس میں بھرپور شعری اظہار ملتا ہے:

یہ دور پھر کسی فرعون کو ڈبوئے گا

تمام نیل کا پانی عصا کی زد پر ہے

تمھاری آنکھوں پہ شب خون پڑنے والا ہے

تمھارا خواب ہماری انا کی زد پر ہے

سمٹنے والا ہے یہ کاروبارِ تیرہ شبی

تمھاری رات چراغِ حرا کی زد پر ہے

کھلیں گے مسجدِ اقصیٰ کے بند دروازے

تمھاری ساری خدائی خدا کی زد پر ہے

جہادِ شب کا مقدر نظر میں روشن ہے

چراغِ مصطفوی رہ گزر میں روشن ہے

یہ تلیمحاتی بیانیہ بھی ہماری اردو شاعری میں فلسطین کے حوالے سے موجود ہے۔

اسی طرح ’’رفِ داد و تسلی‘‘کے عنوان سے ڈاکٹر منشاء الرحمن خاں منشاء کی ایک نظم ہے، اس کا بھی ایک حصہ آپ ملاحظہ کریں:

اے ارضِ فلسطین کے جانباز سپوتو!

ہمت نہ کبھی جہد کے میدان میں ہارو!

ہے تم کو قسم اپنے تر و تازہ لہو کی

دکھلاتے رہو جذبۂ ایمان کی گرمی

تم اصل میں ہو مسجدِ اقصیٰ کے نگہبان

رہنا ہے تمھیں شام و سحر بر سرِ پیکار

کرنی ہے حفاظت تمھیں نبیوں کی زمیں کی

لاؤ نہ کبھی عظمتِ کردار میں پستی

یہ پوری نظم حوصلہ بخش اور امنگ پرور نظم ہے، جو مجاہدینِ فلسطین کو خراج تحسین بھی ہے اور حوصلہ افزائی بھی۔ اسی طرح ’’اے ارضِ فلسطین‘‘کے عنوان سے قمر سنبھلی کی نظم ہے۔صرف ایک بند دیکھیے:

باطل کے لیے حق و صداقت کی ہے شمشیر

وہ صبر و یقیں جذبۂ ایثار کی تصویر

تخریب کے طوفان میں اک صورتِ تعمیر

پیکر میں مجاہد کے ہے ایمان کی تفسیر

ہونٹوں پہ ہے تسبیح تو ہاتھوں میں علم ہے

اے ارضِ فلسطیں! تِری عظمت کی قسم ہے

یہ لہجہ، یہ آہنگ، یہ مبارزت طلبی اوریہ معرکہ آرا ہونے کا یہ انداز، فلسطین کے حوالے سے ہماری نظموں میں جابجا نظر آتاہے۔ ڈاکٹر ظفر مرادآبادی کی ایک طویل نظم ’’جہد فکریہ‘‘کا ایک چھوٹا سا حصہ ملاحظہ فرمائیں:

ہماری ہی لچک اور درگزر، بے اعتدالی نے

ہمیں ہی کر دیا رسوازمانے کی نگاہوں میں

بنا ڈالا ہمیں کم زور صہیونی سیاست نے

کہ تن آساں بنا ڈلا سلاطیں کی رفاقت نے

بہت بزدل بنا ڈالا ہمارے سفلہ پرور عیش و عشرت نے

ذرا سوچیں!

انھوں نے اس کو ایک فکری رنگ دینے کی کوشش کی ہے اور بار بار سوچنے اور غور و فکر کرنے اور اس مسئلے پر تدبر کرنے کا پیغام یا اس پر آمادہ کرنے والا لہجہ اختیار کیا ہے۔

عشرت قادری کی نظم کا عنوان ہے ’’الجہاد‘‘۔ صرف ایک بند ملاحظہ فرمائیں:

گھِر گئیں آگ کے شعلوں میں قرآنی آیات

وہ دھواں دیتی ہے معرا ج کی پہلی منزل

جل اٹھے مسجدِ اقصیٰ کے مقدس مینار

کب تلک اپنے فرائض سے رہوگے غافل

اے اسیرانِ شب و زلفِ گرہ گیر اٹھو!

خون میں گونجتا ہے نعرۂ تکبیر اٹھو!

یہ رزمیہ لہجہ، جو اس پوری نظم کا آہنگ ہے، عشرت قادری کے یہاں ہمیں بہت ابھارتا ہے۔ اسی طرح عشرت ظفر کی ایک نظم ہے ’’تن بجولاں ہے اگر ارضِ فلسطین تو کیا‘‘۔ صرف تمہیدی بند دیکھیں، جس سے اندازہ ہو جائے گا کہ اس نظم میں کس طرح اس مسئلے کو پیش کیا گیا ہے:

تن بجولاں ہے اگر ارضِ فلسطین تو کیا  کوچہ و راہ میں رقصاں ہیں فراعین تو کیا

یک قلم نرغۂ دشمن میں ہے بیت مقدس  ذرہ ذرہ ہے اگر خون سے رنگین تو کیا

بربریت کا دھواں ساری فضا پر ہے محیط  خواب ہے آشتی و امن کا آئین تو کیا

لفظ و آواز کے اقلیمِ گراں مایہ میں  گرچہ نافذ ہیں شقاوت کے فرامین تو کیا

یہ پوری نظم اسی تیور کے ساتھ آگے بڑھتی ہے اور ایک طویل نظم ہے۔ ایک نظم محمد ایوب بسمل کی ہے۔ یہ بھی ایک طویل نظم ہے، جس کا عنوان ہے ’’ملتِ اسلامیہ سے‘‘۔ جوش و ولولہ اور امنگ پروری اور معرکہ آرائی کی کیفیت سے بھرپور اس نظم کا صرف آخری بند دیکھیے:

کوہِ فاراں سے اٹھو! وادی بطحا سے اٹھو!          بحرِ قلزم سے اٹھو! سینۂ صحرا سے اٹھو!

آبِ قرمز سے اٹھو! ساحلِ روما سے اٹھو!  باغِ بابل سے اٹھو!         خاکِ مدینہ سے اٹھو!

بڑھ کے یلغارکرو! مسجد اقصیٰ والو! خوف کس بات کا ہے منزلِ عقبیٰ والو!

اسی طرح مشہور شاعر و نقاد تقی عابدی کی ایک نظم ’’فریادِ مسجدِ اقصیٰ‘‘کے عنوان سے ہے، جس میں مرثیے کا بھی رنگ آجاتا ہے:

بیتِ اقدس ہوں فلسطین کی دستار ہوں میں

دستِ مسلم میں چمکتی ہوئی تلوار ہوں میں

زیرِ آفاق مہکتا ہوا گلزار ہوں میں

اجنبی قوم میں ہیہات گرفتار ہوں میں

آج ہر سمت مسلمان سے بے زاری ہے

دینِ اسلام مٹانے کی مہم جاری ہے

ناوک حمزہ پوری کی نظم ’’ایہاالاخواں!‘‘کے تہمیدی حصے سے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ کس طرح انھوں نے اس مسئلے کو دیکھا ہے:

سنو! کہ ارضِ فلسطیں سے گونجتی ہے اذاں

صفیں درست کرو! اے مصلیانِ جہاں!

ہے اتحاد ہی امت کی زندگی کا نشاں

ہے اتفاق ہی ہر زندہ قوم کی برہاں

پکارتے ہیں فلسطینی ایہاالاخواں!

بیک زباں کہیں لبیک صاحبِ ایماں

اسی طرح متین باغپتی نے بھی اس مسئلے پر نظم کہی ہے۔ انقلابی اور مزاحمتی یاولولہ خیز نظمیں کہنے میں انھیں کمال حاصل ہے اور ان کے یہاں ترانے کا رنگ بھی نظر آتا ہے۔ ان کی نظم کے عنوان  ’’شیوۂ مردانِ حق‘‘سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان کے یہاں کس طرح کی شاعری ہے۔صرف دو شعر ملاحظہ فرمائیں:

ہے شیوۂ مردانِ حق آگاہ ازل سے

ہر ظلم کے سر کو سرِ میدان کچلنا

ہمت کی کمر کھول نہ دینا سرِ مقتل

ہے تم کو ابھی پیکرِ ایثار میں ڈھلنا

اس طرح بہت سے شعرا ہیں، لیکن مجھے جس نظم نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، وہ نظم ڈاکٹر معظم علی خان کی نظم ہے۔ مجھے بھی ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہے۔ ان کی پوری نظم نہایت غضب کی اور دل کش ہے۔ نظم کا عنوان ہے ’’فلسطینی نوجوانوں سے خطاب‘‘۔کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں:

سرزمینِ انبیا کے پاسبانوں کو سلام

ایک شاعر کا فلسطینی جوانوں کو سلام

قابلِ تعریف ہے یہ نشّۂ شوقِ جہاد

کام آتا ہے مصیبت میں یہی ذوقِ جہاد

دیدۂ تر میں خوشی کی لہر دوڑاتے ہو تم

سامنے جب ظلم کے سینہ سپر ہوتے ہو تم

موت کی دہلیز پر کرتے ہو رقصِ زندگی

تم نے سمجھایا ہے مفہومِ جنونِ آگہی

جذبۂ اسلام ہے تم سے جہاں میں سرخرو

کام یابی کی ضمانت ہے تمھارا ہی لہو

کام یابی ہی تمھارا غیب سے انعام ہے

سرزمینِ قبلۂ اول تمھارے نام ہے

یہ ڈاکٹر معظم علی خان کا خراج تھا۔ اب کیف نوگانوی کی ترانے کے رنگ و آہنگ میں کہی گئی نظم دیکھیں:

اے قبلۂ اول، پاک حرم

ہے آج ترا ہر سو ماتم

دل خون ہے، آنکھیں ہیں پرُنم

شیرازہ ہے درہم برہم

پھر ملت کی تنظیم کرے

پھر کوئی صلاح الدین اٹھے

اسی طرح شکیل احمد شرر کی ایک بہت ہی شعلہ بار نظم ہے ’’شوقِ شہادت جاگے‘‘۔ صرف تین شعر اس نظم سے پیش کرتا ہوں:

دل میں ایمان ہے، آنکھوں میں صداقت کی بھپن

آبلہ پا ہے وفادار ہے سر پر ہے کفن

لے کے دم لیں گے دغاباز سے یہ اپنا وطن

گولے برسائیں گے کب تک بھلا توپوں کے دہن

بچہ بچہ تو ہمیں موت کا شوقین ملا

خون میں ڈوبا ہوا عکسِ فلسطین ملا

کوثر صدیقی کی نظم ’’سوزِ شبنم‘‘ہے۔ اس پوری نظم میں کئی رنگ، کئی کیفیات ابھرتی ہیں۔ کہیں ماتمی فضا ہے، کہیں رجائیت ہے، کہیں جوش و ولولہ ہے، کہیں غم و غصہ ہے۔ ہر قسم کی کیفیت اس نظم میں ملتی ہے۔ ابتدا میں ایک ماتمی فضا ہے، ملاحظہ فرمائیں:

ہے فلک کی چشمِ سوزاں اشک بار

دامنِ گل سوزِ شبنم سے ہے تار

نطق ہے سازِ شکستہ کی طرح

قفل بر لب عندلیبِ سوگوار

دودِ غم سے ہے فلک ظلمت بدوش

ابر میں روپوش مہرِ تاب دار

ایک نظم شاد عباسی کی ہے ’’لوم جیالے‘‘۔ بہت رزمیہ آہنگ میں اور کیفیت میں سرشار نظم ہے۔ صرف ایک بنددیکھیں:

طائف سے اٹھو! مصر کے بازار سے نکلو!

آپس میں تعصب کی شبِ تار سے نکلو!

مدہوشی کی اب وادی پرخار سے نکلو!

قبلے کے لیے کعبے کی دیوار سے نکلو!

ایوبی کی عظمت کا بھرم ٹوٹ رہا ہے

فاروقی جلالت کا بھرم ٹوٹ رہا ہے

یہ پوری نظم اسی آہنگ میں ہے۔

ایک امیدپروری اور رجائیت کی فضا بھی ہمیں ان نظموں میں ملتی ہے۔ جیسے انور کمال انور کی ایک نظم ’’اے قومِ یہود!‘‘کا ایک حصہ دیکھیے، جس میں صہیونیوں کو خطاب کیا گیا ہے:

ہو رہے ہیں اہلِ ایماں متحد تیرے خلاف

جاگ اٹھا ہے عالمِ اسلام اے قومِ یہود!

ڈوبنے والا ہے سورج تیرے استبداد کا

ہونے والی ہے تری اب شام اے قومِ یہود!

خون کے آنسو رلائے ہیں بہت تو نے جنھیں

اب وہ چھینیں گے تِرا آرام اے قومِ یہود!

مردِ میدانِ شجاعت ہو نہیں سکتے اسیر

چاہے جتنے تو بچھا لے دام اے قومِ یہود!

بہت سی نظمیں ہیں، کس کس کا حوالہ دیا جائے۔ لیکن میں آخر میں بس ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ فلسطین کے حوالے سے ہماری اردو شاعری میں اگرچہ تخیل کی سطح پر، علامت اور رمزیت کی سطح پر، استعارے کی سطح پر، تخلیقیت اور شعریت کی سطح پر چاہے وہ دبازت اور وہ آہنگ نہ ملے یا وہ وہ تہہ داری نہ ملے، لیکن یہ شاعری جو مزاحمتی شاعری ہے، انقلابی شاعری اور باغیانہ شاعری کے تمام تیور اور تمام بلند آہنگی کے ساتھ قضیۂ فلسطین کے حوالے سے ایک شعری انتفاضہ اور شعری مزاحمت کا بھرپور اظہار کرتی ہے، جس کے مطالعے کی ضرورت اب بھی ہے اور چوں کہ اس سے ہمیں تحریک حاصل ہوتی ہے، ہماری صفوں میں ایک ولولہ پیدا ہوتا ہے، لہٰذا اس کی افادیت آگے بھی قائم رہے گی۔

مشمولہ: شمارہ دسمبر 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau