مروجہ معاشیات کی حقیقت اور اس کے متبادلات

ڈاکٹر وقار انور

یہ سوال بہت اہم ہے کہ مروجہ معاشیات کی بنا اور حقیقت کیا ہے۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا جدید دنیا میں معیشت کی صورت گری کے لیے متبادل تصورات بھی پائے جاتے ہیں۔

یہ واقعہ ہے کہ مروجہ معاشیات یوروسنٹرک(Euro-Centric)یعنی یوروپ پر مرکوز ہے۔ اس کی ابتدا یوروپ میں ہوئی اور اس کا دائرہ کار مغربی تہذیب بن گیا۔ جو حالات و نفسیات مغربی تہذیب کے اثر و رسوخ کی ترویج کا باعث بنے وہی اس تہذیب کے ایک مظہریعنی مروجہ علم معاشیات کے ‘مروجہ’ بننے کا سبب بنےاور اسی وجہ سے دیگر متبادلات قابلِ توجہ نہ بن سکے۔ اس کے در پردہ یورو سنٹرک سے مغربی تہذیب تک کے سفر کی ایک داستان ہے جس کا جائزہ لینا مناسب ہوگا۔

فروری 1899 میں برطانوی ناول نگار اور شاعر روڈیارڈ کپلنگ (Rudyard Kipling) کی نظم The White Man’s Burden (سفید فام نسل کا بوجھ) کے عنوان سے لندن سے شائع ہونے والے میگزین دی ٹائمس میں چھپی۔ اس نظم میں کپلنگ نے امریکہ کو یہ پیغام دیا کہ وہ سفید نسل کی دنیا میں سلطنت کا وہ “بوجھ” اٹھائے، جو اس سے قبل برطانیہ اور یورپی اقوام نے اٹھا رکھا تھا۔ کپلنگ کا خیال تھا کہ برطانوی سلطنت کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ زمین پر خدا کی سلطنت قائم کرے اور اس نے اپنے ذمہ کا کام کیا۔ اب امریکہ کی باری ہے کہ یہ بوجھ اٹھائے تاکہ سفید فام افراد دنیا کے بقیہ افراد کو مہذب بنا سکیں۔ اس زمانہ میں امریکہ میں یہ موضوع زیرِبحث تھا کہ فلپائن کو، جسے امریکہ نے اسپین کو جنگ میں شکست دے کر حاصل کیا تھا، آزاد مملکت کا درجہ دیا جائے یا امریکہ اپنی کالونی بنا لے۔ کپلنگ کی نظم فلپائن کو کالونی بنانے کے حق میں دلیل کے طور پر استعمال کی گئی اور باضابطہ امریکہ کے سینیٹ کے ڈیبیٹ میں پڑھی گئی۔ اس نظم کا عنوان ‘‘سفید فام نسل کا بوجھ’’ سامراجیت کی علامت کے طور پر ایک محاورہ بن گیا۔ (مغرب میں جدید زمانہ کی دائیں بازو کی سیاست White Supremacyاسی فکر کی غماز ہے۔ )

سفید فام نسل کو خداوند قدوس کی جانب سے عطا کردہ برتری کا یہ تصور امریکہ کے لیے اور اس کے زیر اثر دنیا کے دیگر علاقوں کے لیے بہت دنوں تک مقبول نہیں رہ سکا کیوں کہ خود امریکہ میں غیر سفید فام نسل کے حقوق کا غلغلہ بلند ہوا جس کے نتیجہ میں ایسے قوانین بنے جن کے تحت نسلی برتری کا تصور جرم قرار پایا۔ البتہ یوروپ بشمول انگلینڈ کی برتری سے شروع ہونے والا سفر سفید نسل تک پہنچ کر ختم نہیں ہوا بلکہ اس نے مغرب اور مغربی تہذیب کی برتری کے تصور کو جنم دے دیا۔ اس طرح مغربی تہذیب ایک اکائی بن گئی جس کے تحت اس علاقے میں آباد غیر سفید فام اشخاص بھی شامل ہو گئے۔ یہ وہ علاقہ ہے جس نے ماضی میں دنیا کے دیگر علاقوں کو عسکری طریقہ سے کالونی بنایا اور ان کے وسائل پر ہاتھ صاف کیا اور جدید دور میں اس کے لیے دیگر ذرائع وضع کر لیے۔ مغربی تہذیب کی برتری کے تصورکے ساتھ یہ خیال بھی پیدا ہوا کہ اس تہذیب کے تحت جو علوم اور ادارے قائم ہوئے ہیں وہی سارے عالم کے لیے مفید بلکہ لازمی ہیں۔

سیموئل پی ہنٹنگٹن (Samuel P Hantington)نے اپنی مشہور کتاب ‘تہذیبوں کے تصادم میں اس صورت حال پر روشنی ڈالی ہے۔

”عالمگیر تہذیب کا تصور مغربی تہذیب کی ایک مخصوص پیداوار ہے۔ انیسویں صدی میں ‘سفید فام نسل کا بوجھ’ کے خیال نے غیر مغربی معاشروں پر مغربی سیاسی اور اقتصادی تسلط کو بڑھانے کا جواز فراہم کیا۔ بیسویں صدی کے اواخرمیں ایک عالمی تہذیب کا تصور دوسرے معاشروں پرمغربی ثقافتی غلبے، اس کے طریقہ کار اور اس کے اداروں کی ضرورت کا جواز فراہم کرتا ہے۔“[1]

مغربی تہذیب اپنے اصولوں پر جس جدیدکاری کی علم بردار ہے اور اس میں اسے غیر مغربی علاقوں میں جن مسائل کا سامنا ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے ہنٹنگٹن نے مسلم دنیا کے سلسلے میں اس رائے کا اظہار کیا ہےکہ اصل رکاوٹ معاشیات کےاصول ہیں ان کے علاوہ دیگر امور میں زیادہ مسائل نہیں ہیں۔

”اسلامی معاشروںیں جدید کاری (Modernisations) کے سلسلے میں مسائل رہے ہیں۔ ۔ ۔ سود، روزہ، وراثت کے قوانین اور افرادی قوت کی حیثیت سے خواتین کی شرکت جیسے معاشی معاملات میں اسلام اور جدیدیت کے درمیان تنازعات ہیں۔ ۔ ۔ ۔ (البتہ) مسلمانوں کے مذہب میں، معاشیات کے علاوہ، ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو جدید سرمایہ داری کی راہ میں مسلم دنیا کے ترقی کرنے میں رکاوٹ بنے۔“[2]

مغربی تہذیب کی ماہیت اورپوری دنیا پر تسلط حاصل کرنے کی نفسیات اور مقاصد کے بارے میں مصنف کا تجزیہ درج ذیل اقتباس میں سمٹ آیا ہے:

”مغربی تہذیب کی واحد سب سے بڑی خصوصیت پہلے کیتھولک اور بعد میں کیتھولک کے ساتھ پروٹسٹنٹزم کی صورت میں مغربی عیسائیت ہے۔ ۔ ۔ مغربی عیسائی لوگوں میں اپنی کمیونٹی کا یہ ترقی یافتہ احساس موجود تھا کہ وہ ترکوں، موروں، بازنیطیوں اور دیگر لوگوں سے الگ ہیں۔ سولہویں صدی میں وہ دنیا کو فتح کرنے کی لیے خدا اور سونا (God and gold) کے لیے نکلے تھے۔ “[3]

یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ جہاں تک الٰہی خدمت کا تعلق ہےاس کے لیے عیسائیت کی تبلیغ ہونی تھی۔ لیکن سونا یعنی دنیا کے وسائل سے مستفید ہونے بلکہ قابض ہونے کے لیے نسلی برتری کا منفی تصور کافی نہیں تھا بلکہ اس کے لیے اصولوں کی حاجت تھی جسے یوروپ میں ہی پلی بڑھی معاشیات نے فراہم کر دیا۔ ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے ان اصولوں کا خلاصہ درج ذیل الفاظ میں کیا ہے :

” (علم معاشیات) کی نشو و نماایک خاص تہذیبی اور ثقافتی پس منظر میں ہوئی ہے۔ اس کے کلیدی تصورات میں یہ شامل ہےکہ۔ ۔ ۔ اس دنیا میں معاش کے لیے استعمال ہونے والی چیزوں کی قلت پائی جاتی ہے اس لیے ہر فرد کے لیے لازم ہے کہ وہ اس کے لیے جد و جہد کرے۔ یہ جد و جہد مسابقت کہلاتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ اس جد و جہد میں کام یابی بقدر استطاعت ملتی ہے۔ جو جتنا زیادہ ماہر (Efficient)ہوگااس کو مسابقت کے بازار میں اتنی ہی کام یابی ملے گی۔ قلت کی اس دنیا میں بہترین تقسیم وسائل وہی ہوتی ہے جو مسابقت اور مہارت فن (Efficiency)کا ثمرہ ہو ۔“[4]

افراد سے متعلق ان اصولوں کا اطلاق قوموں پرہواتو کم مہارت و مسابقت رکھنے والی غیر مغربی اقوام کے وسائل جواز کے ساتھ لقمہ تر بن گئے۔

ایک دوسرے مصنف کونارڈ سیبسٹین(Conard Sebastian)نے یوروپ/مغرب کی نفسیات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بتایا ہےکہ یوروپ کے احوال کو جدیدیت (Modernization)کا ہم معنی سمجھ لیا گیا۔

”بہت سی نصابی کتابوں میں یہ درج ہے اور عمومی افکار میں یہ خیال راسخ ہے کہ جدیدیت کی ابتدا یوروپ میں ہوئی اور دھیرے دھیرے اس کی ترویج پوری دنیا میں ہو گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یوروپ(یعنی مغرب) ترقی اور جدیدیت کا بنیادی محرک رہا ہے۔ “[5]

مصنف نے بتایا ہے کہ اگرچہ اب ایسے پُراعتماد اور فاتحانہ سوچ اور لب و لہجے میں کمی آئی ہےجس سے یورو سنٹرزم (Eurocentrism)کو غذا ملی تھی۔ البتہ یہ مفروضہ جڑ پڑ چکا ہے کہ یوروپ / مغرب جدت کا مرکز ہے۔ دوسرے لفظوں میں ” عالمی تاریخ بنیادی طور پر یوروپ کی ترقی کا پھیلاؤ ہے۔“ [6]

مروجہ معاشیات کے متبادلات

انسانی معاملات کو مغرب اور غیر مغرب بلکہ مغرب اور دیگر(West and the Rest)کے چشمہ سے دیکھنا کوتاہ چشمی ہے۔ ہندوستان، چین، جاپان اور مسلم بلاک کے حالات الگ ہیں اور وہاں انسانی معاملات کو حل کرنے کی کاوشیں مختلف طریقے سے ہوئی ہیں۔ ہم ہندوستان کی مثال پر اکتفا کریں گے۔

ہندوستان میں پیش کیے گئے متبادلات کے سلسلے میں دو سوشلسٹ لیڈران کی آرا کا حوالہ مفید ہے۔ ایک رام منوہر لوہیا جنھوں نے (Humbolt University of Berlin Germany)سے 1933 میں معاشیات میں پی اچ ڈی کی تھی۔ ان کے ایک سوانح نگار نے لکھا ہے کہ :

”مارکس اور اینگلز کی اصل تحریروں کے گہرے مطالعے سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ یورپی معاشیات، چاہے وہ مارکس نے پیش کی ہو یا ایڈم اسمتھ اور کینز نے، ناکافی ہے کیوں کہ یہ سب یورپ پر مرکوز تھے۔ انگلستان اور فرانس کی سرمایہ دارانہ جمہوریت، وسطی یورپ کی سوشلسٹ جمہوریت اور روسی کمیونزم، یہ تینوں ہندوستان یا مجموعی طور پر انسانیت کے مسائل کا حل فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔“[7]

لوہیاکا خیال تھا کہ ہندوستانی قوم منفرد سماجی طریقوں کی حامل ہے اس لیے یوروپ کے حالات میں بنے سرما یہ دارانہ اور اشتراکی طریقے یہاں کے لیے مفید نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر دونوں ہی بھاری مشینوں کے بڑے پیمانے پر استعمال پر انحصار کرتے ہیں جب کہ ہندوستان کی حاجت ایسی معیشت کی ہے جو زیادہ افرادی قوت کو کھپا سکے۔ لوہیا ذات پات کے نظام کے سخت مخالف تھے اور اس کے خاتمے کو معاشی ترقی کے لیے ضروری قرار دیتے تھے۔

دوسری شخصیت جے پرکاش نارائن کی ہے جنھوں نے امریکہ سے سوشیولوجی کی ڈگری لی تھی اور وہاں روس اور یوروپ کے سیاسی و معاشی امور کا قریب سے جائزہ لے کر ہندوستان واپس آئے تھے۔ ملک کی آزادی کے بعد سیاسی حالات سے بددل ہو کر ونوبا بھاوے کی سروودے تحریک میں شامل ہو گئے اور ان کے خیالات میں بہت بڑی تبدیلیاں آئیں۔ گاندھی جی کے بعد ونوبا بھاوے سے ہوتے ہوئے جے پرکاش نارائن تک متبادل معاشی جد وجہد کا نقشہ کار دیہی معیشت اور باہمی تعاون پر مبنی معیشت ہے۔ اس طرز فکر میں ملک میں ماضی کے تجربات کو تحسین سے دیکھنا شامل ہے۔ جے پرکاش نارائن نے لکھا ہے :

’’اگر ہمیں اپنے موجودہ سیاسی عمل کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کرنی ہے… .تو ہمیں اپنے ماضی کے ہندوستانی سماجی نظام کا حوالہ دینا ہوگا اور اس طرز زندگی کو اپنانا ہوگا جس کے تحت ہر کوئی معاشی سرگرمیوں میں مصروف تھا اور اس طرح اس نے مجموعی طور پر معاشرے کی خدمت کی۔‘‘ [8]

ماضی کے ہندوستانی سماج میں سماجی، سیاسی اور معاشی سرگرمیاں ورنا آشرم کی بنیاد ذات پات پر تھی، اس خیال سے جے پرکاش نارائن متفق نہیں تھے۔ وہ ونوبا بھاوے کی اس رائے سے متفق تھے کہ ماضی کے ہندوستان میں ورنا آشرم کی بنیاد معاشرے کی صلاحیتوں پر مبنی تقسیم کار پر تھی۔ [9]

یہ مثالیں صرف یہ ظاہر کرنے کے لیے دی گئی ہیں کہ دنیا میں متبادل نظام معیشت کی تلاش رہی ہے اور دنیا نے مروجہ نظام معیشت کو بالکلیہ قبول نہیں کیا۔ ان دونوں حضرات کی آرا کا حوالہ اس لیے دیا گیا ہے کہ انھوں نے مغرب میں تعلیم حاصل کی اور اپنے خیالات کے مطابق ساری عمر جد و جہد کرتے رہے۔ یعنی یہ صرف ڈرائنگ روم اور کلاس روم تک محدودرہنے والے مفکرین نہیں تھے بلکہ میدان کار میں نبرد آزما افراد تھے۔ ان کی آرا پر تبصرہ و رائے زنی یہاں مقصود نہیں ہے بلکہ صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ مروجہ معاشیات سے سے بے اتفاقی و بے اطمینانی پائی جاتی رہی ہے۔

اسلامی تصورات کی بنیاد پر معیشت کی تنظیم نو پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ بات بحث کا موضوع ہے کہ کیا اسلام کا مستقل بالذات کوئی معاشی نظام ہے یا صرف معیشت میں اسلامی اصولوں خصوصاً محرمات کا لحاظ کیا جانا کافی ہے؟[10]ان اصولوںمیں سود اور قمار کی حرمت لازمی عنصر ہے۔ خصوصاً سود کے سلسلے میں اسلامی رویہ سمجھوتےسے بالاتر (Uncompromising)ہے اس لئےمعیشت کے اسلامی متبادل کا یہ لازمی جزو ہے۔ مروجہ معاشیات اور اس کے تمام متبادلات سود و قمار کے سلسلے میں اسلامی حساسیت سے عاری ہیں۔ سود اور قمار کے نتیجہ میں معیشت میں جو فساد پیدا ہوتا ہے اس کا جائزہ اسلامی متبادل کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔

مروجہ معاشیات میں سود اور قمار پر مشتمل مروجہ معاشی نظام کے برپا کردہ فسادات کی تفصیلی وضاحت ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی نے اپنی تحریروں میں کی ہے۔ ہم ان کی تحریروں کے حوالے سے اس پہلو کو سمجھنے کی سعی کریں گے۔ موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ انسانوں کے درمیان شخصی طور پر اور ممالک کے درمیان اجتماعی طور جو معاشی فساد بشمول نابرابری ہے اس کا سبب مروجہ معاشیات کی یہی خرابیاں ہیں جہاں قرض پر مبنی معاشی معاملات کا چلن ہے اور بازار میں سٹے کا زور ہے۔ [11]

معاملہ صرف بازار میں موجود سود اور سٹے کا نہیں ہے بلکہ معاشرے میں لین دین کی سہولت کے لیے جب زر کو طبع کر کے لایا جاتا ہے، سود وہیں سے سسٹم میں داخل ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر صدیقی نے زر کی طباعت سے لے کر اس کے بازار میں آنے اور معیشت کے تمام اعمال میں اس کے عمل دخل کے مراحل کا تفصیلی جائزہ لے کر بتایا ہے کہ کس طرح سود کے سبب معیشت کا نظام بگڑتا ہے اور ظلم و نابرابری بڑھتی چلی جاتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جدید زر کلی طور پر قرض پر مبنی ہے اور یہ قرض’ عندالطلب کھاتوں کی امانت (demand deposit) کے استثنا کے ساتھ’ سود کے بوجھ سے لدا ہوتا ہے۔ [12]

سود کا تعلق صرف قرض سے متعلق لین دین سے ہے۔ انسانی سماج میں تمویلی نوع کا لین دین صرف تین چیزوں : زر، قرض اور ایکیوٹی (ملکیت سے متعلق دستاویز) کے مابین ہوتا ہے۔ اس طرح لین دین کی صرف چھ صورتیں بنتی ہیں: زر اور زر کے درمیان؛ زر اور ایکیوٹی کے درمیان؛ زر اور قرض کے درمیان؛ قرض اور ایکیوٹی کے درمیان؛ قرض اور قرض کے درمیان اور ایکیوٹی اور ایکیوٹی کے درمیان۔ ان چھ میں سے تین قرض سے متعلق ہیں۔ سود کا تعلق صرف ان تین صورتوں سے ہے۔ اسلامی اصول یہ ہے کہ قرض کا لین دین بغیر اضافہ کے (at par)ہو۔ زر اور ایکیوٹی کے تبادلہ اور ایکیوٹی کی ایک قسم سے دوسری قسم حاصل کرنے میں سود کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ حقیقی صورت حال یہ ہے کہ سود کا تعلق صرف قرض سے ہے اور قرض پوری معیشت کو محیط نہیں ہے۔ دیگر نوعیت کے لین دین بھی ہیں جو سود سے متعلق نہیں ہیں۔ [13]

مروجہ معیشت میں دولت کا ارتکاز سرمایہوالوں کی طرف ہو گیا۔ اس میں ان کی طمع کو کام یابی سود اور سٹہ پر مبنی معاشی نظام کے سبب ملی۔ اس کے نتیجہ میں ظلم و نا انصافی کا بازار گرم ہوا۔ اس کے مقابلہ میں اسلامی معاشیات کی خصوصیت معاشی عمل میں پنہاں خطر کو بانٹنے ( risk sharing)کی ہے جب کہ سود اور سٹہ کے دوش پر پروان چڑھی مروجہ معیشت میں خطر کا تبادلہ ( risk transfer)ہو جاتا ہے۔ سٹہ کے سلسلے میں ڈاکٹر صدیقی نے یہی تبصرہ کیا ہے اس میں غیر متعلق تیسرے فریق خطر خرید لیتے ہیں اور خطر پیدا کر کے خطر لینے کی دعوت دی جاتی ہے۔ [14]

ڈاکٹر صدیقی معاشی عمل میں خطر کو باٹنے کی وکالت کرتے ہیں جہاں ہر فریق خطر کے اپنے حصہ کو قبول کرتا ہے۔ دراصل ہر کاروبار میں نفع کے امکان کے ساتھ نقصان کا کھٹکا لگا رہتا ہے۔ جوئے کے کھیل اور معروف کاروبار میں یہ فرق ہے کہ وہاں کسی نہ کسی فریق کا خطر یقینی ہے جب کہ کاروبار کے معروف طریقوں میں ہر فریق کے لیے یکساں طور پر فائدہ حاصل کرنا ممکن ہے۔ اسی وجہ سے ڈاکٹر موصوف ایکیوٹی فاینانس ( سرمایہ کے فائدہ حاصل کرنے اور نقصان برداشت کرنے کی شرط کے ساتھ حصہ داری) کے طرف دار ہیں۔ [15] یہ سوال بہت اہم ہے کہ تمویل کی اصل غرض کیا ہے۔ بنیادی طور پر اسے انسانوں کی اشیا اور خدمات کی شکل میں اصل حاجت کی پیداوار، تبادلہ اور صرف(Production, exchange and consumption)میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ لیکن جب سرمایہکاری اپنے اس بنیادی فریضہ سے قطع نظر خود ایک مقصد بن جائے تو اس کا نتیجہ معیشت کے لیے تباہ کن ہوتا ہے۔ گرچہ مال و زر کی بہتات ہو جاتی ہے لیکن انسانوں کی بنیادی ضرورت کی چیزیں اور خدمات مہیا نہیں ہوتی ہیں۔ اس طرح نابرابری، مالی تفاوت اور غربت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ [16]

تمویل کا معاشیات سے رشتہ قطع کر کے مال کی پیدائش کی راہ پر چلے جانے کے نتیجہ میں مالیاتی انجینیرنگ (financial engineering)کا رواج ہو جاتا ہے جو چند افراد کے حق میں منافع بخش ہو تب بھی بنی نوع انسان کے لیے مجموعی طور پر ضرر رساں ہے۔ اس خطرہ کا تعلق کسی اسکیم کا کوئی نام رکھنے سے نہیں ہے اور نہ کسی حیلہ سے ہے۔ مروجہ معاشیات و تمویل کے اثرات بد اس درجہ ہیں کہ اس کی صحبت اور نقل میں اسلامی تمویل کا نام لے کر بھی اس مہلک راہ پر نکل جانا بعید از امکان نہیں ہے۔[17]

مروجہ معاشیات نے انسانی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں اور امید کی کرن نظر نہیں آ رہی ہے۔ معیشت کی ان خرابیوں میں چند کا ذکر درج ذیل ہے:

حقیقی معیشت کو مالیاتی معیشت نے اس قدر تباہ کر دیا ہے کہ حقیقی معیشت کا حجم مؤخر الذکر کے دسویں حصے سے بھی کم ہو گیا ہے۔ مثلاً دنیا میں ہونے والی حقیقی کاروباری سرگرمیوں کا کل حجم 100ٹریلین امریکی ڈالر ہے تو دنیا میں مالیاتی ذمہ داریوں سے متعلق دستاویزات 1150 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ دوسری طرف مالیاتی معیشت کا یہ سائز گردش میں موجود کالے دھن کے علاوہ ہے۔

بڑے بین الاقوامی کارپوریشن اس پوزیشن میں ہیں کہ ان کے سامنے بڑے اور بظاہر طاقتور نظر آنے والے ممالک بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ ادارے اپنے مفاد کے مطابق حکومتوں کو فیصلے کرانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ ایسی حکومتیں کم یاب ہیں جو ان اداروں کے مفادات کے علی الرغم فیصلے کر سکتی ہوں۔ بلکہ اکثر ایسی نظر آنے والی حکومتوں کی حکم رانی میں ان اداروں کے اتحادی ہونے کا امکان بعید از قیاس نہیں ہے۔ دراصل ان بین الاقوامی کارپوریشنوں کی مالیات کا اپنا سائز کئی ممالک کے بجٹ سے زیادہ ہوتا ہے اور اس کا اصلی سبب مروجہ معاشیات کا نظام کاروبار و زر ہے۔ سود کی وجہ سے کریڈٹ یعنی قرض حاصل کرنا آسان ہو گیا ہے۔ نتیجتاً کارپوریٹ سیکٹروں اور حکومتوں دونوں کی مالیات میں، قرض کا عنصر ایکویٹی کیپٹل (یعنی بنیادی سرمایہ) سے زیادہ تیز رفتاری سے بڑھ جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سے کم زور معیشت والے ممالک اکثر اپنے قرض کی قسطوں اور ان پر سود کی ادائیگی کے بحران (Sovereign Debt Crisis)میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ . قرض کی بڑھتی ہوئی سطح بعض اوقات ادارہ جاتی قرضوں کے بحران (Institutional Debt Crisis)کی کیفیت پیدا کرتی ہے جہاں وہ اپنے وعدوں کی ادائیگی نہیں کر پاتے اور یہ چیز تباہ کن اثرات کا باعث بنتی ہے۔ دنیا نے چند سال پہلے مالیاتی سونامی کے دوران دیوہیکل تنظیموں کو تاش کے پتوں کی طرح گرتے دیکھا۔

قرض اور اس پر سود کا نظم حقیقت میں مستقبل کی آمدنی کو زمانہ حال میں استعمال کرناہے۔ اس کے ذریعے مستقبل کی متوقع آمدنی کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر اخراجات کیے جا رہے ہیں۔ یہ افراد، خاندانوں اور قوموں سب کا عمومی طرز عمل بن جاتا ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ آسان کریڈٹ دستیاب ہے کیوں کہ کریڈٹ فراہم کرنا خود ایک طاقتور اور فائدہ مند کاروبار بن گیا ہے۔ اس طرح بچت (Saving)کے ذریعے معاشی عمل اور تمویل ثروت، صرف معاشیات کی کتابوں کی زینت بن چکے ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ حال کے اخراجات ومستقبل کے نمو کی منصوبہ بندی مالی خسارے (Deficit Financing) کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں قرضوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور کرنسی نوٹوں کی چھپائی بغیر کسی ٹھوس بنیاد کے ہو رہی ہے۔

مروجہ معاشیات کے زیر اثر انسانی معاشرہ ہم وار ترقی نہیں کر سکتا ہے کیوں کہ تجارتی سائیکل(Trade Cycle) اس نظام معیشت کا جز ولاینفک ہے، یعنی دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ مروجہ معیشت کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے تقریباً گھڑی جیسی باقاعدگی کے ساتھ کساد بازاری اور ترقی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ایک زمانہ میں معیشت کا گراف نیچے گرنے لگتا ہے اور پھر بحال ہو کر خوشحالی کے مراحل میں پہنچ جاتا ہے۔ یہ سب کسی حقیقی معاشی عمل کا نتیجہ نہیں ہوتا ہے بلکہ نفسیاتی سبب سے ہوتا ہے۔ ماہر معاشیات جان مینارڈ کینز (John Maynard Keynes) نےکساد بازاری اور تجارتی سائیکل کی وضاحت میں انسان کی حیوانی جبلت (Animal Spirit)کا حوالہ دیا ہے۔ یہ جبلت بڑھ جاتی ہے تو معاشی عمل تیز گام ہو جاتا ہے۔ حیوانی جبلت سے ماہرین اقتصادیات کی مراد صارفین کی بے ساختہ اور جارحانہ فیصلہ سازی ہے جس کی وجہ سے وہ اخراجات کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ اس کا تعلق انسانوں کی حقیقی حاجات سے نہیں ہے۔ معیشت کا انسانی ضرورتوں سے اس طرح لا تعلق ہوجانا مروجہ معاشیات کا پیدا کردہ المیہ ہے۔

حوالہ جات

[1] Huntington, Samuel P (1989), The Clash of Civiluzation and the Remaking of World Order, Simin 6and Schuster, New York, P66

[2] Ibid, P77-78

[3] Ibid, P70

[4] فریدی’ ڈاکٹر فضل الرحمٰن (2016)؛ اسلامی معاشیات ایک تعارف؛ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی، ص 8۔ 9

[5] Conard, Sebastian (2016), What is Global History, Princeton University Press, New Jersey, P73

[6] Ibid P74

[7] Ram Manohar Lohia, Biography by Indumati Kelkar (2010), National Book Trust of India, New Delhi, P 23-24

[8] Jayaprakash Narayan (2013), Total Revolution, Sarva Seva Sangh Prakashan, Varanasi,

[9] P 7-8

[10] Ibid P 30

[11] Anwar, Dr Waquar (2012), Economics in Islam, Markazi Maktaba Islami Publishers, New Delhi, P 9

[12] ibid P 62-63

[13] ibid P 278

[14] ibid P 102

[15] ibid P 104

[16] ibid P 158

[17] صدیقی، نجات اللہ(2017): مقاصد شریعت (نظر ثانی ژدہ ایڈیشن): مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، دہلی: ص 197

مئی 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau