تربیت کےعمل میں ایمان کا کردار

محی الدین غازی

انسان کی اہم ذمے داریوں میں تربیت کا فریضہ شامل ہے۔ سب سے پہلے اپنی تربیت، پھر اپنے بچوں کی تربیت، استاذ ہے تو طلبا کی تربیت، صاحب منصب ہے تو اپنے ماتحتوں کی تربیت، پیر ہے تو مریدوں کی تربیت، گھر میں رہتے ہوئے اہل خانہ کی تربیت، ادارے اور تنظیم میں رہتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی تربیت اور سماج میں رہتے ہوئے سماج کے افراد کی تربیت۔ اس طرح تربیت کا دائرہ اپنی ذات سے شروع ہوتا ہے اور متعلقین کے مختصر دائرے سے ہوتے ہوئے وسیع تر سماج میں پھیل جاتا ہے۔

تربیت کا دائرہ انسان کی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ وہ تربیت ناقص اور ادھوری ہے جو شخصیت کے کچھ گوشوں تک ہی محدود رہے۔ کامل تربیت پوری زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔ باطن سے ظاہر تک اور انفرادی سے اجتماعی تک۔ خراب عادتوں اور بری باتوں سے چھٹکارا دلانا اور اچھی عادتوں اور بھلی باتوں سے آراستہ کرنا تربیت کے دو اہم پہلو ہیں۔کم زوریوں کو دور کرنا، صلاحیتوں کو اجاگرکرنا، ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ہٹانا اور بلندی کی طرف سفر کے لیے مہمیز لگانا تربیت کے خاص ابواب ہیں۔ تربیت کے اس عمل میں زیادہ لوگ شریک ہوں اور اسے بہتر طریقے سے انجام دیا جائے تو بہترین نتائج سامنے آتے ہیں۔ انسانوں کے مربّی انسانیت کے حقیقی محسن ہوتے ہیں۔ان کی تربیت کے فیض سے اچھی نسلیں تیار ہوتی ہیں، عمدہ افراد سازی ہوتی ہے اور یہ دنیا اپنے مکینوں کے لیے سازگار وخوش گوار بنتی ہے۔

تربیت کے مختلف حوالے

تربیت مختلف حوالوں سے کی جاتی ہے۔ ایک عربی شاعر نے تربیتی پیغام دیتے ہوئے کہا:

إذا لم تخش عاقبة اللیالی   ولم تستح فاصنع ما تشاء

اگر تمھیں گردش زمانہ کا خوف نہیں اور تمھارے اندر شرم بھی نہیں تو جو چاہو کرو

تربیت کرتے وقت یہ سب کچھ مفید ہے کہ ہم تہذیب وادب کے تقاضے ذہن میں بٹھائیں، انسانیت کے اسباق یاد کرائیں، سماج کا فرد ہونے کی حیثیت سے سماجی ذمے داریاں یاد دلائیں، اچھے اور ذمے دار شہری کے فرائض رٹائیں، عزت کے ساتھ جینے کی اہمیت سمجھائیں، ‘لوگ کیا کہیں گے’ کا احساس دلائیں، خوشی کے روحانی اور نفسیاتی راز بتائیں، صحت اور تعلقات پر پڑنے والے برائی کےنقصانات کا ذکر کریں۔کچھ نہ کچھ فائدہ ان سب پڑھائیوں کا ضرور ہوتا ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی پڑھائی اتنی مضبوط اساس نہیں بنتی ہے کہ نفس کو درپیش بڑا جھٹکا برداشت کرسکے۔

درحقیقت پختہ اور پائیدار تربیت وہ ہے جو ایمان کو اساس بناکر کی جائے۔اسے ہم ایمانی تربیت کہہ سکتے ہیں۔

ایمانی تربیت کا مطلب

ایمانی تربیت یہ ہے کہ دل ودماغ کی گہرائی تک ایمان کی جڑیں اتر جائیں، اس کی شاخوں کا سایہ پوری زندگی پر پڑے اور اس کے ثمرات پوری شخصیت کو مالا مال کردیں۔ایمانی تربیت ایمان کے حوالے سے کی جاتی ہےاور اس میں ساری توجہ اس پر ہوتی ہے کہ وہ کون سی باتیں ہیں جو ایمان کے منافی ہیں،جن سے دور رہنا ضروری ہے اور وہ کون سی باتیں ہیں جو ایمان کا تقاضا ہیں اور جنھیں اختیار کرنا لازم ہے۔پھر ترک واختیار کے لیے کسی اور وجہ کی ضرورت ہی نہیں رہتی ہے۔ یہ حوالہ کافی ہو تا ہےکہ ایمان کی بقا اور تکمیل کے لیے ایسا کرناضروری ہے۔آگے ہم وہ احادیث ذکر کریں گے جن میں اسی اندازکی ایمانی تربیت نظر آتی ہے۔

ایمانی تربیت کی خصوصیات

ٹھوس اور پختہ تربیت

ایمان تربیت کو مضبوطی عطا کرتا ہے۔ ایمان کے ہوتےکوئی اور جذبہ اسے اکھاڑ کر پھینک نہیں سکتا۔ یہ یقین کہ اللہ کو یہ چیز پسند ہے، حقیقی کام یابی کے لیے ضروری ہے اوراس میں دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے، اسے غیر معمولی ترغیب عطا کرتا ہے۔ اسی طرح یہ یقین کہ یہ چیز اللہ کو ناپسند ہے، اصل ناکامی کا سبب ہے اور اس میں دنیا و آخرت کی خرابی ہے، اس سے بے انتہا نفرت پیدا کرتا ہے۔ اگر ایمان مضبوط ہے تو کسی عمل کے بارے میں اللہ کی پسند اور ناپسند معلوم ہونے کے بعد پھر کوئی اور لالچ یا خوف انسان کے ارادے پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ ایمانی تربیت بہت ٹھوس اور پختہ ہوتی ہے۔ اس میں آسانی سے دراڑ نہیں پڑتی ہے۔

سدا بہار تربیت

تربیت کے ساتھ ایک بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اس پر کبھی بہار آتی ہے اور کبھی خزاں طاری ہوجاتی ہے۔ تنگ دستی میں کچھ حالت ہوتی ہے اور خوش حالی میں کچھ اور۔ موڈ اچھا ہو تو رویہ بھی اچھا رہتا ہے اور مزاج میں گرانی ہو تو رویہ کچھ اور ہوجاتا ہے۔ ایمان تربیت کو سدا بہار کردیتا ہے۔ پھر ایسا نہیں ہوتا کہ اس کے ثمرات کبھی ظاہر ہوں اور کبھی ظاہر نہیں ہوں۔ کوئی اور داعیہ ایسا نہیں ہے جس کے ہوتے ہوئے انسان کے اخلاق وکردار پر کبھی خزاں نہیں آئے۔ ایسے رب پر ایمان جو حی وقیوم ہے، جسے کبھی نیند یا اونگھ نہیں آتی، جو ہمیشہ ہر چیز سے باخبر رہتا ہے، جس کی قدرت سے کچھ باہر نہیں ہے، جس کی رحمت ہر وقت سایہ فگن رہتی ہے، ایسے رب پر ایمان ہونے کا عکس زندگی کے ہر لمحے پر پڑتا ہے۔خلوت وجلوت میں کوئی فرق نہیں رہتا ہے۔ طیش ہو یا عیش انسان اپنی بلندی پر برقرار رہتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے مومن کی مثال ایسے درخت سے دی جس کے پتے کبھی نہیں گرتے۔

إنَّ من الشجرةِ شجرةٌ لا یسقطُ ورقها وهی مثلُ المؤمنِ (ترمذی)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ مومن کی تربیت اس طرح ہوتی ہے کہ اس کی خوبیاں سدا بہار رہتی ہیں ان پر کبھی خزاں نہیں آتی۔ شاعر نے خوب کہا ہے:

ظفر آدمی اس کو نہ جانیےگا، ہو وہ کیسا ہی صاحبِ فہم و ذکا

جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی، جسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا

لیکن یادِ خدا اور خوفِ خدا ہر حال میں رہے، یہ اعلی کیفیت ایمانی تربیت ہی سے حاصل ہوتی ہے۔

استقامت سےبھرپور تربیت

ایمانی تربیت صبر و استقامت عطا کرتی ہے۔ مشکل سے مشکل حالات میں بھی مردِ مومن اپنے اصولوں یعنی ایمان کے تقاضوں سے دست بردار نہیں ہوتا۔ بعض لوگوں کا سمجھنا ہے کہ آدمی اگر شدید تنگ دستی کا شکار ہو تو اس کے اوپر صرف بھوک اور روٹی کی فکر سوار رہتی ہے، چند اشعار ملاحظہ ہوں:

مفلسی حسّ لطافت کو مٹا دیتی ہے

بھوک آداب کے سانچوں میں ڈھل نہیں سکتی

 

بھوک میں عشق کی تہذیب بھی مٹ جاتی ہے

چاند آکاش پہ تھالی کی طرح لگتا ہے

 

بھوک میں صرف چاہیے روٹی

پیٹ باتوں سے بھر نہیں سکتا

تاہم ایمانی تربیت اسے یقینی بناتی ہے کہ سخت سے سخت حالات میں بھی خدا یاد رہے اور خدا کی یاد ایمان کے تقاضے یاددلاتی رہے۔ آپ ﷺفرمایا:

عجبا لأمر المؤمن إن أمره كله خیر ولیس ذاك لأحد إلا للمؤمن إن أصابته سراء شكر فكان خیرا له وإن أصابته ضراء صبر فكان خیرا له (مسلم)

‘‘مومن کا معاملہ بھی کیاخوب ہے۔ اس کا سارامعاملہ خیر ہی خیر ہے۔ اور یہ خوبی صرف مومن کو حاصل ہے، اگر اسے خوش حالی ملتی ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے، یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے، اور اگر اسے تنگ حالی لاحق ہوتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔’’

ہمہ گیر تربیت

ایمان تربیت کو ہمہ گیر بنادیتا ہے۔ زندگی کا کوئی گوشہ اس سے چھوٹتا نہیں ہے۔ ایمان پوری زندگی کا احاطہ کرتا ہے، اس لیے ایمان کی بنیاد پر جب تربیت ہوتی ہے تو وہ بھی زندگی کے تمام پہلوؤں کو سمیٹ لیتی ہے۔ایمان کی رو سے پورا انسانی وجود ایک ناقابل تقسیم اکائی ہے جسے اللہ کا مطیع وفرماں بردار ہونا چاہیے۔ انسان کے دل میں وہی خیالات وجذبات آئیں،اس کی زبان سے وہی الفاظ ادا ہوں اوراس کے اعضا وجوارح وہی کچھ کریں جس کی ایمان اجازت دے۔

طہارت بخش تربیت

ایمانی تربیت انسان کو پاکیزگی کی صفت عطا کرتی ہے۔ وہ زندگی کے ہر پہلو میں پاکیزگی اختیار کرتا ہے۔ نیت بھی پاکیزہ رکھتا ہے اور عمل بھی۔ پاکیزہ مال کماتا ہے اور پاکیزہ جگہوں پر خرچ کرتا ہے۔ اس کی زبان پاکیزہ کلمات ادا کرتی ہے اور پاکیزہ رزق سے لطف اندوز ہوتی ہے۔وہ اپنے دامنِ کردار پر معمولی سا داغ بھی نہیں لگنے دیتا ہے۔ اگر کوئی داغ لگ جائے تو سچی توبہ سے اسے فوراً پاک و صاف کرلیتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے مومن کی پاکیزہ طبیعت کی مثال شہد کی مکھی سے دی، فرمایا:

وَالَّذِی نَفْسُ ‏ ‏مُحَمَّدٍ ‏بِیدِهِ إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ ‏ ‏لَكَمَثَلِ النَّحْلَةِ أَكَلَتْ طَیبًا وَوَضَعَتْ طَیبًا۔ (احمد)

‘‘قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، بے شک مومن کی مثال شہد کی مکھی جیسی ہے، پاکیزہ غذا کھاتی ہے اور پاکیزہ شہد نکالتی ہے۔’’

فعّال شخصیت بنانے والی تربیت

سلبی تربیت جس میں انسان خود نیک بن جانے پر اکتفا کرلے، ایمان کے شایان شان نہیں ہے۔ ایمان ایسی تربیت کا تقاضا کرتا ہے کہ انسان اپنی اصلاح کے ساتھ دوسروں کے سلسلے میں اپنی ذمے داری کو بھی محسوس کرے۔ یہ تربیت ظلم کرنے سے روکتی اور مظلوم کی نصرت کے لیے آگے بڑھاتی ہے۔ برائیوں سے روکتی اور بھلائیوں پر اکساتی بھی ہے اور برائیوں سے روکنے والا اور بھلائیوں پر اکسانےوالا بھی بناتی ہے۔ ایمانی تربیت حاصل کرکے انسان سماج کا ایک فعّال فرد بنتا ہے اور سماج کے تئیں اپنے تربیتی فریضے کو ادا کرتا ہے۔ اس تربیت کی رو سے مسکین کو دھتکارنا گناہ ہے، مسکین کو کھانا نہیں کھلانا گناہ ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے پر دوسروں کو نہیں اکسانا بھی گناہ ہے۔

ایمانی تربیت کے اثرات

ایمانی تربیت کا اثر زندگی کے تمام پہلوؤں کو نکھارتا ہے، ہم یہاں چند گوشوں کا ذکر کریں گے، یہ وہ گوشے ہیں جن سے لوگوں کو عام طور سے سابقہ پیش آتا ہے اور وہ اکثر کوتاہی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ایمانی تربیت کا اثر بچوں کی شخصیت پر

بچپن بہت معصوم ہوتا ہے، لیکن برائیوں کے حملے کا سب سے آسانی سے شکار بن جاتا ہے۔ دورِ حاضر میں ان حملوں کے امکانات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ بچے کو اپنی حفاظت میں رکھنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ خود بچے کے اندر شیطانی حملوں سے بچاؤ کی طاقت پیدا کی جائے۔ یہ طاقت اس طرح پیدا ہوگی کہ اس کے اندر ایمانیات کو مضبوط کیا جائے۔ بچے کی تربیت کرتے ہوئے سب سے زیادہ توجہ اس پر ہونی چاہیے کہ بچہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت سے سرشار ہوجائے۔دل میں ایمان اس طرح جاگزیں ہوجائے کہ اس کا حوالہ دے دینا کسی عادت کو اختیار کرنے اور کسی عادت کو چھوڑدینے کے لیے کافی ہوجائے۔اللہ کے حاضر وناظر ہونے کا احساس اس طرح دل میں بیٹھ جائے کہ کسی بھی برائی سے بچنے کا فیصلہ و ہ خود کرسکے، خواہ بہکانے والے کتنا ہی بہکائیں۔

صحیح تربیت یہ نہیں ہے کہ بچوں کو سخت نگرانی اور شدید پابندیوں میں جکڑ کر رکھا جائے۔ صحیح تربیت تو یہ ہے کہ بچوں کے اندر خیر اور شر میں فرق کرنے کا ملکہ پروان چڑھایا جائے۔ نیکی کا شوق اور برائی سے نفرت پیدا کردی جائے۔ نیکیوں پر اللہ کا خوش ہونا اور برائیوں پر اللہ کا ناراض ہونا دل میں بٹھایا جائے۔ان سے ایسی باتیں کی جائیں کہ بچپن سے ہی وہ جنت کے خواب دیکھنے لگیں اور جہنم کا خوف کھانے لگیں۔  اللہ دیکھ رہا ہے کا سبق انھیں بار بار پڑھایا جائے۔ نماز کا شوق پیدا کرتے ہوئے اسے زندگی کا لازمی معمول بنادیا جائے۔ شخصیت کی تعمیر میں نماز کی بڑی اہمیت ہے۔ نماز ایمان کی عملی صورت ہے اور ایمان کے تقاضے بار بار یاد دلاتی ہے۔انھیں نماز اس کی روح اور مفہوم کے ساتھ سکھائی جائے۔قرآن وحدیث کی تعلیم اس طرح دی جائے کہ ان کا مفہوم دل میں اچھی طرح بیٹھ جائے۔ انھیں وہ آیتیں اور حدیثیں خاص طور سے سنائی اور پڑھائی جائیں جن میں ایمان کی حقیقت اور اس کے تقاضے بتائے گئے ہیں۔

ایمانی تربیت کا اثر رشتوں پر

انسان اپنی جس چیز کو بہت زیادہ خراب کرتا ہے وہ اس کے اپنے رشتے ہوتے ہیں۔ اگر رشتوں کو نباہنے کا محرّک اللہ کو راضی کرنا بن جائے تو رشتوں میں بے پناہ پختگی اور استحکام آجاتا ہے۔ رشتوں کوخراب کرنے والے عوامل اکثر نفسانی ہوتے ہیں اور نفسانیت کو واقعی شکست دینا صرف ایمان کے ذریعے ممکن ہوپاتا ہے۔جب اللہ کے لیے محبت کی جاتی ہے تو اللہ کے لیے لوگوں کی بہت سی خامیوں اور شکایتوں کو نظر انداز کردینا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ورنہ قدم قدم پر چھوٹی چھوٹی شکایتیں دل کو میلا کرتی ہیں۔ شوہر اور بیوی کے رشتے سے لے کر خاندان کے تمام رشتوں تک اس بات کا بار بار ذکر ہوناچاہیے کہ رشتوں کو بنا کر رکھنا اور ان کے حقوق ادا کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ پھررشتوں کے ساتھ تعامل اس بنیاد پر نہیں ہوگا کہ جو میرے ساتھ اچھا کرے گا میں اس کے ساتھ اچھا کروں گا، بلکہ اس بنیاد پر ہوگا کہ اللہ مجھ سے راضی ہوجائےاس لیے میں سب کے ساتھ اچھا کروں گا۔ اللہ کی ناراضی کا خوف رشتہ توڑنے سے روکے گااوراللہ کو راضی کرنے کا شوق رشتے جوڑنے کی استعداد بڑھائے گا۔

رشتوں کو مضبوط کرنے اور تلخیوں سے بچانے کے لیے فیملی کونسلنگ کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ فیملی کونسلنگ میں بھی ایمان کو اصل بنیاد بنانا چاہیے۔ تجربات بتاتے ہیں کہ جہاں شکایتوں کا تصفیہ بہت مشکل معلوم ہوتا ہے ایمان کے تقاضوں کا حوالہ عفو و درگزر کا راستہ کھول دیتا ہے اور ایک ہی لمحے میں سب کچھ درست ہوجاتا ہے۔ دل کا سارا میل کافور ہوجاتا ہے اور نئے پرانے تمام گلے شکوے دور ہوجاتے ہیں۔

آدمی کسی سے قطعِ تعلق کے لیے ہزارعذروں کا سہارا لے سکتا ہے، لیکن ایمان کا حوالہ ان سارے عذروں کوبے وزن کردیتا ہے۔

ایمانی تربیت کا اثر عام انسانوں سے تعلق پر

ایمان کا ایک پہلو یہ ہے کہ اللہ سے بے پناہ محبت ہو، سب رشتوں سے زیادہ عزیز ومحبوب اللہ کا رشتہ ہو اور پھر اللہ سے اس بے پناہ محبت کا عکس اس کی تمام مخلوقات پر پڑے۔ خالق کو راضی کرنے کے لیے خلقِ خدا سے محبت ہوجائے۔ جب کوئی شخص انسانوں سے اللہ کے لیے محبت کرنے لگے تو وہ انسانوں کا بے لوث خادم و محسن بن جاتا ہے۔ کسی بھی انسان کو پریشانی میں دیکھ کر اسے اللہ کی یاد آجاتی ہے اور اللہ کو راضی کرنے کی خاطروہ اس کی مدد کے لیے بے چین ہوجاتا ہے۔ اس کے کام انسانوں کے فائدے کے لیے ہوتے ہیں لیکن ان کاموں کا صلہ وہ اللہ سے مانگتا ہے۔پھر انسان اپنے ساتھ پیش آنے والے انسانوں کے رویے پر نہیں، بلکہ خدا کے یہاں ملنے والے صلے پر نظر رکھتا ہے۔ نماز اللہ سے محبت کا اظہار ہے اور صدقہ اللہ کے لیے اللہ کے بندوں سے محبت کا اظہار ہے۔

ایمانی تربیت کے لیے ایمان کی تربیت

ایمان کے حوالے سے دی جانے والی تربیت اسی وقت رنگ لائے گی جب خود ایمان مضبوط اور طاقت ور ہوگا۔ اگر ایمان کم زور ہو تو اس کے حوالے سے دی جانے والی تربیت بھی کم زور رہ جائے گی۔ امت میں جو تصور رائج ہے وہ بہت کم زور ایمان کا ہے۔ ایسا ایمان جو زندگی پر اثر انداز نہیں ہوتا ہے۔ خواہشات سے بھرے ہوئے دل کے کسی گوشے میں دبا دبا سا رہتا ہے اور کبھی کبھی بے شعوری کی نقاہت کے ساتھ زبان پر ظاہر ہوجاتا ہے۔ ایسا کم زور ایمان زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی کیسے لاسکتا ہے!!عظیم تبدیلی ایسے مضبوط ایمان کی مرہون منت ہوتی ہےجو پورے دل میں تنہا رہتا ہے اور زندگی کی ہر اقلیم پر حکومت کرتا ہے۔

اللہ کی طرف سے ایمان کو قوت بہم پہنچانے کے لیے خاص انتظامات کیے گئے ہیں، ان کا شعوری استعمال بہت مفید ہوسکتا ہے۔ قرآن مجید کی ہر آیت ایمان بڑھانے کا کام کرتی ہے۔متعدد احادیث رسول ایمان کی غیر معمولی قوت کو بیان کرتی ہیں۔ کائنات کی نشانیاں ایمان افروز پیغامات مسلسل نشر کرتی ہیں۔ پوری کائنات میں چنا ہوا بے شمار نعمتوں کا دسترخوان ایمانی غذا کا سامان رکھتا ہے۔ نماز اپنے اقوال واعمال سے ایمان کی تجدید کرتی ہے۔ ہر وقت اور ہرحالت کے اذکار اور دعائیں ایمان کو تازہ کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ ایک دوسرے کو ایمان کی تذکیر کرنا موثر ترین وسیلہ ہے۔ یہ تمام ذرائع و وسائل شعور کی بیداری چاہتے ہیں۔ تحریک اور افرادِ تحریک میں ایمان کی کار فرمائی کے لیے ایسے تمام ذرائع کا بھرپور استعمال ہونا چاہیے۔

ایمان کی غذا تذکیر ہے

ایمان میں مضبوطی تذکیر سے آتی ہے۔وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِینَ ‎(الذاریات:  55)

قرآن مجید اور احادیث سے ہمیں اپنی اور دوسروں کی تذکیر کے لیے بہت سے نکات ملتے ہیں، جیسے:

  • اللہ ہماری ہر بات سے واقف ہے، وہ ہماری نگرانی کررہا ہے
  • اللہ اچھی بات سے خوش ہوتا ہے اور بری باتوں سے ناراض ہوتا ہے
  • اللہ آخرت میں جزا اور سزا دے گا
  • ہماری ہر بات اور ہر کام لکھا جارہا ہے
  • ہمیں اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے
  • ہمیں روز نئی زندگی اللہ کے حکم سے ملتی ہے
  • توبہ نہ کرنے والوں سے اللہ سخت ناراض ہوتا ہے
  • آخرت ضرور آئے گی اور وہاں کسی کی نہیں چلے گی
  • آخرت کے سلسلے میں اللہ نے وعدے کیے ہیں اور وعیدیں دی ہیں، ان کا پورا ہونا یقینی ہے
  • اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ کی قدرت ہر چیز سے ظاہر ہے
  • ہم کبھی اللہ کی پکڑ سے باہر نہیں نکل سکتے
  • قیامت کے دن یاد آنا کچھ فائدہ نہیں کرے گا
  • موت کا وقت متعین ہے مگر ہمیں معلوم نہیں ہے

مضبوط ایمان کی نرالی شان

اللہ تعالی کا فرمان ہے:  قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ (المؤمنون:  ۱) یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کرلی۔

ایک اور فرمان ہے:  وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِینَ (آل عمران:  139) تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔

معلوم ہوا کہ ایما ن کوئی معمولی بات نہیں ہے، یہ تو وہ عظیم شے ہے جو آخرت کی کام یابی اور دنیا کی سربلندی کی ضمانت لیتی ہے۔

اللہ کے رسول ﷺ کی احادیث بھی بتاتی ہیں کہ ایمان آخرت کی نجات اور کام یابی کو یقینی بناتا ہے۔ فرمایا:

لا یدْخُلُ النَّارَ أحَدٌ فی قَلْبِهِ مِثْقالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِن إیمانٍ.(مسلم)

‘‘جہنم کی آگ میں ایسا کوئی شخص نہیں داخل ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہوگا۔’’

رائی کے دانے کے برابر ایمان بھی کتنا طاقت ور ہوتا ہے، اور زندگی پر اس کی تاثیر کتنی زیادہ ہوتی ہے، اس کی وضاحت بھی احادیث میں ملتی ہے، فرمایا:

مَن رَأَى مِنكُم مُنْكَرًا فَلْیغَیرْهُ بیدِهِ، فإنْ لَمْ یسْتَطِعْ فَبِلِسانِهِ، فإنْ لَمْ یسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وذلكَ أضْعَفُ الإیمانِ.(مسلم)

‘‘جو برائی کو دیکھے وہ اپنے ہاتھ سے اسے بدل دے، اس کی طاقت نہیں ہو تو زبان سے اور اس کی طاقت بھی نہیں ہو تو دل سے۔ اور یہ ایمان کا کم زور ترین درجہ ہے۔ ’’

آپ نے  یہ بھی فرمایا:

فمَن جاهَدَهُمْ بیدِهِ فَهو مُؤْمِنٌ، ومَن جاهَدَهُمْ بلِسانِهِ فَهو مُؤْمِنٌ، ومَن جاهَدَهُمْ بقَلْبِهِ فَهو مُؤْمِنٌ، ولیسَ وراءَ ذلكَ مِنَ الإیمانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ۔ (مسلم)

‘‘جو (برے لوگوں) سے کشمکش اپنے ہاتھ سے کرے وہ مومن ہے، جواپنی زبان سے کرے وہ بھی مومن ہے اور جو اپنے دل سے کرے وہ بھی مومن ہے، اس کے بعد ایمان رائی کے دانے کے برابر بھی نہیں رہ جاتا ہے۔ ’’

معلوم ہوا کہ رائی کے دانے کے برابر ایمان جس کے اندر ہوتا ہے وہ استطاعت ہونے پر برائی کے خلاف عملی سرگرمی دکھاتا ہے،اس کی استطاعت نہیں ہونے پر قولی سرگرمی انجام دیتا ہے اور اس کی استطاعت بھی نہیں ہونے پر قلبی بے چینی میں مبتلا رہتا ہے۔ ظاہر ہے برائی دیکھ کر جس کا دل بے چین رہے وہ خود برائیوں کے قریب بھی نہیں پھٹکے گا اور نیک کام کرنے میں پیش پیش رہے گا۔ جب رائی کے دانے کے برابر ایمان کی قوت اتنی زیادہ ہوتی ہے تو کامل ایمان کی قوت کتنی زیادہ ہوگی۔

رسولِ پاک ﷺ کی احادیث یہ بھی بتاتی ہیں کہ دنیا میں نیک اور صالح زندگی ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ایسی ایمانی زندگی جو آخرت کے میزانِ عدل میں کام یابی کی اہل قرار پائے۔ راوی بیان کرتے ہیں:

ما خطبنا رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ علیه وسلَّم إلَّا قال :  لا إیمانَ لمن لا أمانةَ له، ولا دینَ لمن لا عهدَ له (احمد)

‘‘اللہ کے رسولﷺ ہمیں جب بھی خطاب کرتے تو یہ ضرور کہتے:  جس کے پاس امانت نہیں اس کے پاس ایمان نہیں، اور جس کے پاس عہد کی پاس داری نہیں اس کے پاس دین نہیں۔’’

حدیثِ پاک سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ ایمان کے ہوتے ہر طرح کی زندگی نہیں گزاری جاسکتی ہے۔ ایمان کے ساتھ ایمان والی زندگی ہی گزاری جاسکتی ہے۔ ایمان ہر طرح کی زندگی کا ساتھ قبول نہیں کرتا ہے۔ فرمایا:

لا یزْنِی الزَّانِی حِینَ یزْنِی وهو مُؤْمِنٌ، ولا یشْرَبُ الخَمْرَ حِینَ یشْرَبُ وهو مُؤْمِنٌ، ولا یسْرِقُ حِینَ یسْرِقُ وهو مُؤْمِنٌ، ولا ینْتَهِبُ نُهْبَةً، یرْفَعُ النَّاسُ إلَیهِ فیها أبْصارَهُمْ حِینَ ینْتَهِبُها وهو مُؤْمِنٌ. (البخاری)

‘‘کوئی شخص ایمان کی حالت میں زنا نہیں کرتا ہے۔ کوئی شخص ایمان کی حالت میں شراب نہیں پیتا ہے۔ کوئی شخص ایمان کی حالت میں چوری نہیں کرتا ہے۔ کوئی شخص ایمان کی حالت میں دن دہاڑے لوٹ مار نہیں کرتا ہے۔’’

معلوم ہوا کہ ایمان محض خیال نہیں ہے جو صرف دل میں رہ جائے، نہ وہ سادہ سی کوئی بات ہے جو محض زبان سے ادا ہوجائے۔ ایمان کسی کم زور اور ناتواں نظریے کا نام نہیں جسے زندگی میں دخل دینے کی اجازت نہیں ملے۔ ایمان تو وہ عقیدہ ہے جو زندگی کی شہِ رگ میں سرایت کرجائے اورپوری زندگی میں عظیم انقلاب برپا کرے۔ ایمان پوری زندگی پربلا شرکتِ غیرے حکومت کرنے والا عقیدہ ہے۔

ایمان ایسا بے فیض درخت نہیں ہے جس پر پھل نہیں آئیں یا کڑوے کسیلے پھل آجائیں۔ اس لیے یہ جاننا بالکل بے معنی سوال ہے کہ ایمان ہونے کے باوجود ایمان کے ثمرات سے خالی زندگی کا انجام کیا ہوگا۔ انسانوں کے لیے تو اصل میں یہ جاننا ضروری اور مفید ہے کہ ایمان کے سائے میں تربیت پانے والی زندگی کتنی حسین ہوتی ہے اور اس کا انجام کتنا بہترین ہوگا اور ایمان سے محروم زندگی کتنی بدصورت ہوتی ہے اور اس کا انجام کتنا بھیانک ہوگا۔ قرآن مجید اسی کی طرف توجہ مرکوز کرتا ہے اور اللہ کے رسول ﷺ کی صحیح احادیث بھی اسی کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

ایمان پوری زندگی پر محیط ہے

اللہ کے رسول ﷺ ایمان کے کچھ ایسے پہلوؤں کی طرف رہ نمائی کرتے ہیں جو نہایت بلند ہیں اور ہم اپنی کم ہمتی کی وجہ سے ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے نیز کچھ ایسے پہلوؤں کی طرف بھی رہ نمائی کرتے ہیں جنھیں ہم بہت معمولی سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں، حالاں کہ ایک اعلی اور مثالی زندگی کے لیے ان کی بھی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا:

الإِیمانُ بضْعٌ وسَبْعُونَ شُعْبَةً، فأفْضَلُها قَوْلُ لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ، وأَدْناها إماطَةُ الأذَى عَنِ الطَّرِیقِ، والْحَیاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإیمانِ.(مسلم)

‘‘ایمان کی ستّر سے زیادہ ( بہت زیادہ) شاخیں ہیں، سب سے اونچی شاخ لا الہ الا اللہ کہنا ہے، سب سے نچلی شاخ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹادینا ہے، اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔’’

کلمہ توحید ادا کرنا ایمان ہے یہ تو سب کے ذہنوں میں موجود ہے، تاہم راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی ایمان ہے اس بات کی طرف ذہن نہیں جاتا ہے۔ شرم وحیا کو بھی لوگ اخلاق میں تو شمار کرتے ہیں ایمان کا حصہ نہیں سمجھتے۔ یہ حدیث صاف بتارہی ہے کہ ایمان پوری زندگی پر محیط ہے، عقیدہ بھی اس میں شامل ہے، چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی اور اخلاق بھی۔

ایمان کی اثر آفرینی

حدیثوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان زندگی کے ہر شعبے پر اثر انداز ہوتا ہے، اگلی سطور میں ہم احادیث کے حوالے سے ایسے کچھ اہم پہلوؤں کی طرف اشارہ کریں گے:

دل کے احوال پر

حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ محبت کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ کس سے محبت کی جائے یہ فیصلہ بھی انسان کو کرنا ہے اور کسی سے کس لیے محبت کی جائے یہ فیصلہ بھی انسان ہی کو کرنا ہے۔ یہی دراصل اس کا اس دنیا میں امتحان ہے۔ آپ نے فرمایا:

من أحبَّ للهِ، وأبغض للهِ، وأعطَى للهِ، ومنع للهِ، فقد استكمل الإیمانَ (الترمذی، وأبو داود)

‘‘جس نے اللہ کے لیے محبت کی اور اللہ کے لیے نفرت کی، اللہ کے لیے نوازا اور اللہ کے لیے روکا، اس کا ایمان مکمل ہوگیا۔’’

لا یؤمن أحدكم حتى أكون أحبَّ إلیه من ولده ووالده والناس أجمعین (متفق علیه)

‘‘تم میں سے کوئی ایمان والا نہیں ہوگا جب تک میں اس کے نزدیک اس کی اولاد اس کے والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔’’

گویا ایمان میں یہ بات شامل ہے کہ دل کے احوال ایمان کے تقاضوں کے پابند ہوں۔محبت جیسا نازک معاملہ بھی انسان کے بس میں اور ایمان کے مطابق رہے۔

ذہن و دماغ پر

احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان صرف دل کے احوال تبدیل نہیں کرتا ہے، وہ انسان کے اندر صالحیت کو نشو و نمادینے پر اکتفا نہیں کرتا ہے، بلکہ اس سب کے ساتھ وہ فہم وفراست اور ذہانت و دانش مندی بھی پروان چڑھاتا ہے۔ ایمان کے اس پہلو پر عام طور سے توجہ نہیں ہوتی ہے۔ نادانی، سادہ لوحی اور فریب خوردگی مومن کے شایانِ شان نہیں ہے۔

إنَّ المُؤمِنَ لا یلدَغُ من جُحرٍ مرَّتینِ.( تخریج مشكل الآثار)

‘‘ایمان والا ایک بل سے دوبار نہیں ڈسا جاتا ہے’’

اتَّقوا فراسةَ المؤمنِ فإنَّه ینظُرُ بنورِ اللهِ (مجمع الزوائد)

‘‘ایمان والے کی فراست سے ڈرو کیوں کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے’’

اپنے ایمان کی فکر کرنے والے اپنی سمجھ بوجھ کی فکر بھی کیا کرتے ہیں۔

طرزِ زندگی پر

اسلام اعلی اخلاق سے آراستہ طرزِ زندگی پیش کرتا ہے۔ طرزِ زندگی اور لائف اسٹائل کے سلسلے میں دین میں تفصیلی رہ نمائی موجود ہے۔ بہت سی حدیثیں اس کے خد و خال متعین کرتی ہیں۔ لائف اسٹائل کی دین میں اتنی اہمیت ہے کہ بعض حدیثیں اس کے بعض مظاہر کو ایمان کا تقاضا قرار دیتی ہیں۔

من كان یؤمِنُ باللهِ والیومِ الآخِرِ فلا یلبَسْ حَریرًا ولا ذَهَبًا (صحیح الجامع)

‘‘جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ ریشم یا سونا نہ پہنے’’

مَن كان یؤمنُ باللهِ والیومِ الآخِرِ فلا یأخُذَنَّ إلا مِثْلًا بمِثْلٍ (صحیح الجامع)

‘‘جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ سود کے ساتھ اشیا کا تبادلہ نہ کرے۔’’

لیس منا من لم یرحم صغیرنا ویوقر كبیرنا (الترمذی)

‘‘جو چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور بڑوں کا احترام نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔’’

من كان یؤمنُ باللهِ والیومِ الآخرِ فلا یدخلْ حلیلتَه الحمامَ من كان یؤمنُ باللهِ والیومِ الآخرِ فلا یشربِ الخمرَ من كان یؤمنُ باللهِ والیومِ الآخرِ فلا یجلسْ على مائدةٍ یشربُ علیها الخمرَ من كان یؤمنُ باللهِ والیومِ الآخرِ فلا یخلوَنَّ بامرأةٍ لیس بینَه وبینَها محرمٌ (مجمع الزوائد)

‘‘جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنی بیوی کو حمام میں داخل نہ کرے، (ایسے حمام جہاں بے پردگی ہوتی تھی) جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ شراب نہ پیے، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جہاں شراب پی جارہی ہو، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ کسی عورت کے ساتھ اس کے محرم کی غیر موجودگی میں تنہائی میں نہ رہے۔’’

منْ كانَ یؤمِنُ باللَّهِ والیومِ الآخِرِ فلا یقِفَنَّ مواقِفَ التُّهمِ (تخریج الكشاف)

‘‘جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ تہمت لگنے والے کام نہ کرے’’

إن المؤمن یأكل فی مِعی واحد، والكافر یأكل فی سبعة أمعاء (متفق علیه)

‘‘بے شک مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے’’

ایسی متعدد حدیثیں لائف اسٹائل طے کرنے کے لیے اہم بنیادیں پیش کرتی ہیں، اور ایمان کا تقاضا قرار دے کر انھیں ٹھوس اور مضبوط بنادیتی ہیں۔

انسانی تعلقات پر

احادیث میں انسانی تعلقات کا بہت اعلی تصور پیش کیا گیا ہے، اور اسے ایمان کی ٹھوس اور پائیدار بنیاد فراہم کی گئی ہے۔ بنیاد پائیدار ہو تو تعلقات کی پائیداری کی ضمانت ملتی ہے۔ تعلقات کی اساس ایمان بن جائے تو کبھی کوئی نا زیبا حرکت سرزد نہ ہو۔

المسلمُ من سلم الناسُ من لسانه ویدهِ، والمؤمنُ من أمنه الناسُ على دمائهم وأموالهم (النسائی والترمذی)

‘‘مسلم وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہیں، اور مومن وہ ہے جس کی طرف سے لوگو ں کو اپنی جان ومال کا خطرہ نہ ہو۔’’

لا یؤمِنُ أحدُكم حتى یحِبَّ لأخیه ما یحِبُّ لنفسِه (متفق علیه)

‘‘تم میں سے کوئی ایمان والا نہیں ہوگا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔’’

لا تَدْخُلُونَ الجَنَّةَ حتَّى تُؤْمِنُوا، ولا تُؤْمِنُوا حتَّى تَحابُّوا، أوَلا أدُلُّكُمْ علَى شیءٍ إذا فَعَلْتُمُوهُ تَحابَبْتُمْ؟ أفْشُوا السَّلامَ بینَكُمْ. (مسلم)

‘‘تم جنت میں داخل نہیں ہوگے جب تک ایمان والے نہ بنو، اور ایمان والے نہیں بنو گے جب تک آپس میں محبت نہ کرو، کیا میں تمھیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ تم اسے کرو تو آپس میں محبت ہوجائے؟ اپنے درمیان سلام کو رواج دو۔’’

مَن كان یؤمِنُ باللهِ والیومِ الآخِرِ فلا یؤذینَّ جارَه، مَن كان یؤمِنُ باللهِ والیومِ الآخِرِ فلیكرِمْ ضَیفَه، مَن كان یؤمِنُ باللهِ والیومِ الآخِرِ، فلیقُلْ خَیرًا أو لیسكُت. (مسند أحمد)

‘‘جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوس کو ہرگز تکلیف نہیں دے۔جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت وضیافت کرے۔ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ یا تو اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ ’’

من كان یؤمنُ باللهِ والیومِ الآخرِ فلیصلْ رحمَه (متفق علیه)

‘‘جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے رشتے جوڑ کر رکھے۔’’

واللَّهِ لا یؤْمِنُ، واللَّهِ لا یؤْمِنُ، واللَّهِ لا یؤْمِنُ. قیلَ:  ومَن یا رَسولَ اللَّهِ؟ قالَ:  الذی لا یأْمَنُ جارُهُ بَوایقَهُ. (البخاری)

‘‘اللہ کی قسم وہ ایمان والا نہیں، اللہ کی قسم وہ ایمان والا نہیں، اللہ کی قسم وہ ایمان والا نہیں، لوگوں نے کہا:  کون اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا:  جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ رہے۔’’

لیس المؤمنُ بالطَّعَّانِ ولا باللَّعَّانِ ولا بالفاحشِ البذیءِ (ترمذی)

‘‘جس کے اندر ایمان ہو وہ نہ تو عیب جو ہوتا ہے، نہ لعن طعن کرنے والا ہوتا ہے، اور نہ ہی فحش گو اور گندی باتیں کرنے والا ہوتا ہے۔’’

ان احادیث سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسانوں کے باہمی تعلقات کا سرا جب ایمان سے جُڑ جائے تو تعلقات میں کیسی بلندی اور پختگی آسکتی ہے۔

انقلاب آفریں حدیثیں

بہت بڑے ذخیرہ احادیث سے یہ کچھ حدیثیں بطور مثال پیش کی گئی ہیں۔ یہ زندگی میں انقلاب برپا کرنے والی حدیثیں ہیں۔ یہ ایمان کا انقلابی تصور پیش کرتی ہیں۔ علم کلام کی بہت سی لایعنی بحثوں نے ایمان کے اس انقلابی تصور کو دھندلا کردیا ہے۔ علم کلام میں اس سے بحث کی جاتی ہے کہ آیاعمل کے بغیر محض ایمان بندے کی نجات کے لیے کافی ہوسکتا ہے؟ جب کہ احادیثِ رسول یہ بتاتی ہیں کہ ایمان زندگی کو نیک اعمال والا بنادیتا ہے۔ وہ برے اعمال کے ساتھ اور نیک اعمال کے بغیررہتا ہی نہیں ہے۔ وہ خود نیک اعمال کو جنم دیتا ہے اور نیک اعمال ہی کی جھرمٹ میں رہتا ہے۔

ایک اور بات جو ہم ان احادیث میں دیکھتے ہیں، وہ یہ کہ ان میں تنوع (variation)بہت زیادہ ہے۔ جن اعمال کو انجام دینے اور جن اعمال سے دور رہنے کو ایمان کا تقاضا بتایا گیا ہے وہ مختلف طرح کے اور مختلف سطح کے ہیں۔ جیسے مہمان کی ضیافت کرنا اور زنا سے دور رہنا دونوں میں بہت تفاوت ہے تاہم دونوں ہی ایمان کا تقاضا ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایمان کا تقاضا صرف وہی چیزیں نہیں ہیں جنھیں ہم بہت بڑا سمجھتے ہیں بلکہ ہماری نظر میں جو چیزیں چھوٹی ہوتی ہیں اور ہم انھیں زیادہ اہمیت نہیں دیتے وہ بھی ایمان کے تقاضوں میں شامل ہیں۔

یہ اور ان جیسی تمام احادیث کو یکجا کرکے دیکھنے سے ایک اصول یہ نکلتا ہے کہ وہ تمام اعمال جن کے بارے میں کسی دلیل سے یہ معلوم ہوجائے کہ وہ اللہ کو راضی کرنے والے ہیں انھیں کرنے کو ایمان کا تقاضا سمجھنا چاہیےاور وہ تمام کام جن کے بارے میں یہ معلوم ہوجائے کہ وہ اللہ کو ناراض کرنے والے ہیں ان سے دور رہنے کو ایمان کا تقاضا سمجھنا چاہیے، خواہ کسی حدیث میں انھیں صریح طور پر ایمان کا تقاضا نہیں بتایا گیا ہو۔

ہر زمانے کے رسم ورواج مختلف ہوتے ہیں، اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے زمانے کے بعض غلط رواجوں سے روکنے کے لیے انھیں ایمان کے منافی قرار دیا۔ دورِ حاضر میں بھی ایسے رواج جن کا غلط ہونا اور مقاصدِ شریعت سے متصادم ہونا واضح ہوجائے انھیں ایمان کے منافی قرار دیناچاہیے۔ مثال کے طور پر فضول خرچی والی زندگی بہت بڑی بڑائی بلکہ بہت سی بڑی برائیوں کی جڑ بن چکی ہیں۔اس میں شک نہیں کہ فضول خرچی ایمان کے منافی ہے۔ ایسے لائف اسٹائل کو ایمان کے منافی قرار دے کر اس سے خود باز رہنا اور دوسرے مسلمانوں کو باز رکھنا آسانی سے ممکن ہوسکتا ہے۔ جب کہ اسے ایمان سے الگ کر کے محض چھوٹی برائی سمجھنا اس کے سلسلے میں ٹھوس موقف تک نہیں پہنچاسکتا ہے۔

غرض وہ احادیث جن میں ایمان کے مختلف تقاضے بیان کیے گئے ہیں انھیں بار بار پڑھنے اور سننے سے انسان کی اسی طرز پر بہترین ذہن سازی ہوسکتی ہے۔ پھر انسان کا ذہن کلامِ نبوت کے طرز پر سوچنے والا بن جائے گا اور وہ مختلف چیزوں کے سلسلے میں خود فیصلہ کرسکے گا کہ یہ ایمان کے موافق ہیں یا مخالف۔

ایمان سے ایمان کے تقاضوں تک

مسلمانوں کے دل میں یہ بات تو اچھی طرح بیٹھی ہوئی ہے کہ آخرت کی کام یابی کے لیے ایمان ضروری ہے۔ وہ ایمان کو اپنی سب سے قیمتی متاع سمجھتے ہیں اور آخرت کی کام یابی کے لیے اسی پر تکیہ کرتے ہیں۔لیکن مسلمانوں کی تمام کم زوریوں کی جَڑ یہ ہے کہ ان کے دل و دماغ ایمان کے تقاضوں سے ناواقف ہیں۔ وہ کام یابی کی امید ایسے ایمان سے وابستہ کیے ہوئے ہیں جس کے تقاضوں سے وہ غافل ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ ایمان کے کسی تقاضے کو پورا کیے بنا بھی ان کی کام یابی یقینی ہے۔

ہمارا خیال ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں ایمان کی اہمیت کا کسی بھی درجے میں پایا جانا اپنے آپ میں قیمتی موقع ہے۔ ان کی اصلاح و تربیت میں اس سےزبردست فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔اس کے لیےکرنا یہ ہوگا کہ بے شمار آیتوں اور حدیثوں سے انھیں ایمان کے لازمی تقاضے اور ضروری مطالبات بتائے جائیں۔اس طرح امید ہے کہ وہ بے تقاضا ایمان سے تقاضوں والے ایمان کی طرف کوچ کرسکیں گے۔

قرآن مجید اور احادیثِ رسول میں ایمان کے تقاضے بہت اہتمام اور تاکید سے بتائے گئے ہیں۔ اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے ایمان پر رائے زنی کریں، ان پر کافر وفاسق ہونے کا لیبل چسپاں کریں اور ان کے جہنمی ہونے کا فیصلہ کریں۔ یہ رویہ اپنے آپ میں ایمان کے منافی ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے۔

دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو ایمان سے عاری بتانے کے بجائے آیات و احادیث کی روشنی میں ایمان کے تمام زیورات سے خود آراستہ ہوں اور دوسروں کو ان سے آراستہ ہونے کی ترغیب دیں۔اسی سے انسانوں کی بہترین اصلاح و تربیت ممکن ہے اور اسی کی طرف اس مضمون میں توجہ دلائی گئی ہے۔

یاد رہے، قرآن مجید کی آمد اور اللہ کے رسول ﷺ کی بعثت بے سود اور لا حاصل کلامی بحثیں چھیڑنے کے لیے نہیں ہوئی۔ اس کا مقصد صرف اور صرف انسانوں کی اصلاح وتربیت ہے۔ اسی مقصد کو سامنے رکھ کر ہمیں قرآن مجید کی آیتیں اور رسول پاک ﷺ کی حدیثیں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اسلامی تحریک کا نظامِ تربیت

اسلامی تحریکات کا تربیتی نظام ایمان پر قائم ہونا چاہیے۔ ایمان کی اساس جس قدر مضبوط ہوگی تزکیہ وتربیت کا عمل اتنے ہی اچھے پھل دے گا۔ جب کوئی شخص تحریک میں شامل ہو تو اس کا دل ایمانی جذبات سے لبریز رہے۔ وہ تحریک کا کوئی کام کرے تو صرف اللہ کی رضا مقصود رہے۔ امیر کی اطاعت بھی اللہ کی خاطر ہو اور مشورہ و مشاورت بھی اللہ کے لیے ہو۔ دل میں کسی منصب کی چاہت رہے نہ نمایاں ہونے کی خواہش پلے۔ اللہ کی نصرت کا کیف ہر کیفیت سے بے نیاز کردے۔ کوششیں قبول نہ ہونے کا خوف کوششوں کو ہر عیب سے پاک رکھے۔

افرادِ تحریک کے دل و دماغ پر جب تک ایمان سایہ فگن رہے گا ان کی رفتار بھی تیز رہے گی اور کردار بھی بلند رہے گا۔ رخ بھی درست رہے گا اور رویہ بھی بہتر رہے گا۔ تحریک بیرونی یلغار کا مقابلہ کرنے کی قوت بھی رکھے گی اور اندرونی خلفشار سے محفوظ بھی رہے گی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تحریک میں ایمانیات کا ذکر سب سے زیادہ ہو۔ تحریکوں میں در آنے والی کم زوریوں کی سب سے بڑی وجہ ایمان کی غیر موجودگی ہوتی ہے۔ ایمان ہر وقت حاضر رہے اس کے لیے شعوری کوششیں کرناضروری ہے۔

دسمبر 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau