بچوں کی عادت سازی میں والدین کا کردار

انسان کا دماغ ایک حیرت انگیز مشین ہے ،جو ہر روز ہزاروں فیصلے کرتا ہے مگر ان میں سے اکثر وہ شعوری طور پر نہیں کرتا۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ دن کا بڑا حصہ عادات کے آٹو پائلٹ موڈ پر گزارتے ہیں۔ ہم پیاس لگنے پر خود بخود پانی کی طرف بڑھتے ہیں، گرمی محسوس ہو تو پنکھے کا بٹن دبا دیتے ہیں، نماز کا وقت ہوتا ہے تو جسم ازخود اٹھنے کو تیار ہوجاتا ہے۔ یہی وہ نظامِ عادت ہے جو زندگی کو منظم بناتا ہے، لیکن یہی انسان کے رک جانے، جمود کا شکار ہونے، یا نئی راہوں سے ہچکچانے کا سبب بھی بنتا ہے۔ اور اسی لیے جب ہم بچوں کی تربیت کی بات کرتے ہیں تو ”عادت سازی“(Habit Building) محض ایک اخلاقی یا وقتی تربیتی پہلو نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق Brain Wiring سے ہے۔ آئیے ہم یہ جانتے ہیں کہ

Habit Building: بچوں میں نئی عادتیں کیسے پروان چڑھائی جائیں؟

Unlearning: بری عادتوں سے نجات کیسے دلائی جائے اور انھیں بری عادتوں کو ترک کرنا کس طرح سکھایا جائے؟

Relearning: بچوں کو غلط عادتوں اور پیٹرن کو بھلا کر نیا روٹین اوراچھی عادتیں بنانا کیسے سکھایا جائے ؟

Adjustment: ساتھ ہی انھیں اپنے مضبوط کردار کے ساتھ کس طرح بدلتے ماحول میں ڈھلنا سکھایا جائے؟

بچوں کا دماغ مشاہدہ کرنے میں بڑا تیز ہوتا ہے۔ وہ جو دیکھتا ہے اسے کرنے کی کوشش کرتا ہے ، جو وہ سنتا ہے اسے بولنے لگتا ہے اور اسی طرح بار بار دہرا کر کچھ عادتیں بن جاتی ہیں جو اس کے ذہن کی ساخت میں شامل ہوجاتی ہیں۔ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر بروس لیپٹن (Dr. Bruce Lipton) کے مطابق:

”بچے کی زندگی کا پہلا سات سالہ دور وہ دور ہے جب اس کا ذہن ‘ریکارڈنگ موڈ’ میں ہوتا ہے ، وہ شعوری طور پر نہیں سوچتا بلکہ ہر تجربہ، ہر ردعمل، ہر منظر کو اپنے لاشعور میں محفوظ کرتا ہے۔“ اور اس لیے زندگی کے ابتدائی یہ سات سال عادتیں بنانے کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں۔ ان سات سالوں میں بچے ابتدائی باتیں سیکھ جاتے ہیں جیسے کھانا کہاں کھانا ہے، کھانا کس طرح کھانا ہے، کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھونا ہے، کپڑے کس طرح پہننے ہیں، گھر میں داخل ہوتے وقت چپل اور جوتے باہر ہی نکالنے ہیں، سونا کہاں ہے وغیرہ ان ساری ابتدائی باتوں میں بچوں کو بہت زیادہ ہدایت دینے اور تاکید کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ سچ بولنا، دوسرے کی چیز لینے کی اجازت لینا، اپنی چیزوں کی حفاظت کرنا ، عزت کرنا یہ ابتدائی نوعیت کی اخلاقیات بھی بچے بہ آسانی سیکھ جاتے ہیں۔

یوں ہر عمل جو بار بار دہرایا جائے، وہ بچے کے دماغ کے نقشے میں اپنی پگڈنڈی بناتا جاتا ہے اور یہی پگڈنڈی ایک وقت کے بعد اس کی شخصیت کا راستہ بن جاتی ہے۔ یہ سب عادتیں آہستہ آہستہ دماغ کے نیورونز کے راستوں (Neural Pathways) میں درج ہو جاتی ہیں۔ ان راستوں کو مضبوط کرنے کے لیے دماغ کو تکرار(Repetition) اور جذباتی وابستگی (Emotional Connection) دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یعنی اگر بچہ کسی عمل کو بار بار خوشی یا اطمینان کے ساتھ انجام دیتا ہے، تو دماغ اسے “محفوظ” کر لیتا ہے اور یہی عمل بعد میں عادت بن جاتا ہے۔ اس لیے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس ‘ریکارڈنگ موڈ’ کے زمانے میں ہر دن کو ایک تربیتی موقع سمجھیں، کیونکہ انہی لمحوں میں زندگی بھر کے لیے اچھی عادتیں تشکیل پاتی ہیں۔

(الف) مندرجہ ذیل تدابیر کی مدد سے بچوں میں اچھی عادتیں پختہ کی جاسکتی ہیں:

بچوں میں اچھی عادتیں پروان چڑھانے کے لیے سب سے پہلا اصول نمونہ بننا (Modelling)ہے۔ بچہ وہ جلد نہیں سیکھتا جو آپ اسے کرنے کو “کہتے” ہیں، بلکہ وہ جلد سیکھتا ہے جو آپ “کرتے” ہیں۔ یعنی سننے سے زیادہ بچوں کا فوکس دیکھنے پر ہوتا ہے جو اسے دکھائی دیتا ہے اسے وہ اپناتا ہے۔

اگر والدین خود نظم و ضبط، صفائی، وقت کی پابندی، عمدہ گفتگو، ہمدردی اور آپسی تعاون کا مظاہرہ کریں تو بچہ ان اوصاف کو لاشعوری طور پر اپنا لیتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق جب بچہ اپنے قریبی لوگوں کے کسی عمل کو بار بار دیکھتا ہے تو دماغ میں “Mirror Neurons” فعال ہوجاتے ہیں، یعنی وہ عمل صرف دیکھنے سے ہی اس کے اندر نقل ہونے لگتا ہے۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ”آپ جو بنانا چاہتے ہیں، وہ پہلے خود بن جائیں، تبھی بچہ ویسا بنے گا۔”

دوسرا اہم اصول دہرانا (Repetition)ہے۔ عادت کوئی ایک دن میں نہیں بنتی۔ بچے کو بار بار ایک ہی عمل دہرانا ہوتا ہے۔ جیسے بچوں کو الفاظ سمجھانے اور یاد کرانے کے لیے نظمیں یاد کرائی جاتی ہیں اور نظمیں یاد کرنے کے لیے نظموں کو بار بار دہرایا جاتا ہے۔ بچوں میں کوئی عادت ڈالنی ہو تو بچوں کو بار بار وہ کرواتے رہیے تاکہ بچے کے ذہن کو اور اس کے جسم کے اعضا کو ایک پیٹرن کی عادت ہوجائے اور مسلسل کرنے کے بعد وہ بنا محنت کے اور بنا کاہلی کے اسے کرتا رہے۔

تیسرا اصول جذباتی وابستگی (Emotional Connection)ہے۔ بچہ جس عمل کو خوشی خوشی کرتا ہے وہی اس کے اندر دیرپا اثر چھوڑتا ہے اور وہ اس عمل کو خود بخود دہراتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب والدین کسی کام کو خوش دلی سے سکھاتے ہیں ۔ اکثر ہوتا یوں ہے کہ جب والدین یہ سوچتے ہیں کہ انہیں بچوں کو کچھ اچھی عادتیں سکھانی ہیں تب وہ سنجیدہ ہوجاتے ہیں اور ایک پروجیکٹ کے طور پر مطلوبہ عادتوں پر فوکس کرتے ہیں اور بعض دفعہ ان کی توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ دوسروں کے یا ان کے ہی دوسرے بچوں نے یہ کام ، عادت یا مہارت کتنی دیر میں کس طرح سیکھی اور یہ بچہ جسے ہم سکھارہے ہیں وہ کتنی دلچسپی لے رہا ہے۔ اب ضروری نہیں کہ ہر بچہ فوراً سیکھ جائے یا ہر بچہ ہر عادت اپنانے کے لیے فوراً تیار ہو اور تب والدین مایوس ہوجاتے ہیں۔

ہونا تو یوں چاہیے کہ جب والدین بچوں کو کچھ سکھارہے ہیں تو انہیں اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ انہیں وقت دینا ہوگا وہ جلدبازی نہیں کریں، انھیں نتیجے کا انتظار کرنے کے بجائے سکھانے کے عمل پر فوکس رکھتے ہوئے اس عمل کو انجوائے کرنا ہوگا۔

والدین کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیےکہ ان کی اور بچوں کی عمروں میں دہائیوں کا فاصلہ ہے، والدین بہت سے معاملات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں لیکن بچے ابھی سادہ لوح اور معصوم ہیں، ابھی بچوں کے لیے خوشی اور کھیل کود کا دور ہے۔ لہذا والدین کو یہ کام صبر اور سمجھ داری سے کرنا ہے اور سکھانے کے اس پورے عمل کو دلچسپ بنانا ہے۔ بچوں کو جو نظمیں اور ترانے بچپن میں یاد کرائے جاتے ہیں ان میں بہت سے اچھے پیغامات بھی پوشیدہ ہوتے ہیں جنھیں بچے بڑے ہو کر ایک لمبی عمر تک یاد رکھتے ہیں کیونکہ نظموں میں الفاظ ہم قافیہ ہوتے ہیں، ترنم ہوتا ہے تو بچوں کو ان میں مزہ آتا ہے اور وہ جلد یاد کرلیتے اور پھر لمبے عرصے تک ذہن میں محفوظ کرتے ہیں۔ اسی طرح بچوں کے لیے سکھانے کے عمل کو آسان بنائیں، خود بھی انجوائے کریں اور انہیں بھی کرنے دیں۔

چوتھا اصول حوصلہ افزائی (Positive Reinforcement)ہے۔ہر انسان فطرتاً تعریف اور انعام کی چاہت رکھتا ہے۔ قرآن و سنت میں بھی اجر و ثواب اور جنت کا خوب تذکرہ ملتا ہے۔ بچوں کی عمر چاہے جو ہو ان کی تعریف ضرور کریں۔ اس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور ان کے سیکھنے کے عمل میں تیزی آتی ہے ساتھ ہی وہ عادتیں اتنی پختہ ہوجاتی ہیں کہ بعد میں ان کے کردار کی پہچان بنتی ہیں۔

پانچواں اصول تسلسل (Consistency)ہے۔ والدین اگر اپنے بچوں کا شاندار مستقبل چاہتے ہیں تو وہ اپنی طبیعت میں استقلال لائیں اور اپنے بچوں کو استقلال سکھائیں۔ پیرنٹگ کے ابتدائی سات برسوں میں خاص طور سے والدین کو ہمت نہیں ہارنی ہے اور عادتوں کو بنانے میں مسلسل محنت کرنی ہے۔ اگر والدین بیزار ہوجاتے ہیں ، سستی اور کاہلی کا شکار ہوجاتے ہیں یا بہت مشقت کے باوجود خاطرخواہ کامیابی نہیں ملنے پر مایوس ہو جاتے ہیں تو وہ کچھ دیر آرام کرسکتے ہیں یا نیا انداز اپنا سکتے ہیں لیکن انہیں رکنا نہیں چاہیے۔ والدین کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو استقامت کے معاملے میں بالکل ہی کچا ہے انہیں چاہیے کہ وہ چھوٹی چھوٹی عادتوں پر فوکس کریں اور چھوٹے چھوٹے مقاصد پورے کرنے پر توجہ دیں۔

بچوں کو اچھی عادتیں اپنانے کا شوق کیسے دلائیں؟

سات برس کی عمر تک بچوں میں عادتیں متعارف کرانا اور انہیں سکھانا اتنا مشکل نہیں ہوتا، لیکن یہ زیادہ اہم ہے کہ بچہ ہمیشہ اچھی عادتیں سیکھتا رہے اور ان میں دلچسپی برقرار رکھے۔

نوعمری اور نوجوانی کے دور میں اس شوق کو زندہ رکھنا اور اچھی عادتوں پر قائم رہنا، تربیت کا نازک مگر لازمی مرحلہ ہے۔

اس لیے والدین کو چاہیے کہ

کم سنی ہی سے بچوں کو اچھی عادتوں سے متعارف کراتے رہیں اور ان کے اندر ان عادتوں کو اپنانے کا شوق پیدا کرتے رہیں۔

اپنے روزمرہ معمولات میں اچھی عادتوں کو نمایاں رکھیں اور بچوں کے سامنے ان کا ذکر بھی کرتے رہیں، تاکہ وہ دیکھیں کہ والدین خود ان پر عمل پیرا ہیں۔

اچھے کاموں میں صحت مند مسابقت (healthy competition)کروائیں تاکہ بچے نیکی اور نظم و ضبط میں ایک دوسرے سے بہتر بننے کے جذبے سے سرشار ہوجائیں۔

ہر عمل سے پہلے نیت کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ وہ جان سکیں کہ وہ کوئی بھی کام کیوں کر رہے ہیں، اس طرح وہ سمجھ پائیں گے کہ اچھی عادتیں دراصل اعلی مقاصد سے جڑی ہوتی ہیں، جو ان کی کامیابی کے ضامن ہوتے ہیں۔

بچوں کو مختصر اور طویل مدتی مقاصد (short & long-term goals)دیا کریں، تاکہ وہ کسی بھی اچھی عادت کو اپنانے کے لیے واضح، پُرعزم اور تیار رہیں۔

انہیں ضمیر کی آواز سے روشناس کرائیں ، یہ وہ اندرونی رہنما ہے جو انھیں اچھائی اور برائی میں تمیز سکھاتا ہے۔

جب وہ اپنی اس ”اندرونی آواز“کو سننا سیکھ لیتے ہیں تو ان کے اندر کا ہیرو بیدار ہوتا ہے، جو انھیں نیکی کرنے، خود کو بہتر بنانے اور نئی مثبت عادتیں اپنانے کی تحریک دیتا ہے۔

(ب) بچوں کو بری عادتوں سے نجات کیسے دلائیں اور انھیں بری عادتیں ترک کرنا کیسے سکھائیں؟

بچوں میں بری عادتیں پنپنا کوئی غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ بچپن سیکھنے کا دور ہے اور سیکھنے کے دوران غلطی کرنا بھی سیکھنے کا حصہ ہے۔ لیکن اصل دانشمندی یہ ہے کہ والدین بچے کو یہ سکھائیں کہ غلطی کا احساس ہونا اور اس سے نکلنا بھی ایک صلاحیت ہے، تاکہ ان کے لیے زندگی میں کبھی بھی اپنی غلطی ماننا اور اپنے آپ کو تبدیل کرنا آسان ہوجائے ۔

بری عادت کو ختم کرنے کے لیے سب سے پہلے والدین کو بے جا غصے اور ڈانٹ ڈپٹ سے گریز کرتے ہوئے بردباری اور حکمت سے کام لینا چاہیے۔اگر بچہ کسی غلط عادت میں مبتلا ہو جائے جیسے ضد کرنا، تاخیر کرنا، جھوٹ بولنا، چیخنا چلانا، یا غلط الفاظ اور جملوں کا استعمال کرنا، تو یہ اکثر کسی اندرونی (نفسیاتی یا ذہنی) یا بیرونی (ماحولیاتی یا دوستوں کے اثر) وجہ سے ہوتا ہے۔ اس لیے بچوں کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ والدین عادت کی جڑ کو سمجھنے کی کوشش کریں، نہ کہ فوراً سزا دیں۔ جب والدین کو عادت کے پیچھے کا محرک (trigger)مل جائے، تو اصلاح کا عمل خود بخود آسان ہو جاتا ہے۔

اکثر والدین بچوں کی غلطی پکڑ کر ان سے اس انداز میں بات کرتے ہیں جیسے انہوں نے خود کبھی کوئی غلطی نہ کی ہو، گویا وہ بالکل بے عیب ہیں۔ اس طرح والدین نہ صرف بچے سے فاصلہ پیدا کرتے ہیں بلکہ اس پر الزام بھی عائد کرتے ہیں۔ الزام کے نتیجے میں بچہ اپنا دفاع کرنے لگتا ہے، غلطی تسلیم کرنے کے بجائے چھپانے لگتا ہے، یا دوسروں پر الزام ڈال دیتا ہے اور یوں اصلاح کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔

والدین کو چاہیے کہ ایسے موقعوں پر اپنے لہجے میں شمولیت، انسیت اور نرمی پیدا کریں تاکہ بچہ محفوظ ماحول میں اپنی غلطی کو بھانپ سکے۔

والدین ایسا کرسکتے ہیں کہ ہفتے میں ایک دن مثلاً اتوار کے روز بچوں کے ساتھ بیٹھ کر گذشتہ ہفتے کا جائزہ لینے کا معمول بنائیں۔ اس سے بچوں میں خود احتسابی (self-evaluation) کی عادت پروان چڑھے گی۔ اگر ممکن ہو تو ہر ماہ چند مقاصد طے کریں اور مہینے کے اختتام پر ساتھ بیٹھ کر کارکردگی اور نتائج کا جائزہ لیں۔ ایک عمر کے بعد بچوں کو یہ سکھائیں کہ ہر رات سونے سے پہلے وہ خود سوچیں کہ انہوں نے دن بھر کیا کیا ہے۔ یوں وہ اپنی بری عادتوں کو خود پہچاننے اور ان پر قابو پانے کے اہل ہو جائیں گے۔

کسی بھی بری عادت کے بعد بچے کو اس طرح برا نہ گردانیں کہ وہ اپنے آپ کو برا سمجھنے لگے، یا آئندہ اپنی غلطیوں کے احساس کو ہی نظرانداز کرنے لگے۔ بلکہ یہ احساس دلائیں کہ بری عادت کو چھوڑنا ممکن ہے، اور وہ خود بہتر بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

(ج) بچوں کو بری عادتیں ترک کرنا اور نئی اچھی عادتیں اپنانا کیسے سکھائیں؟

ہمارا دماغ قدرت کا ایک حیرت انگیز نظام ہے جو اربوں نیورون (Neurons) یعنی اعصابی خلیوں پر مشتمل ہے۔ یہ نیورون ایک دوسرے سے برقی اور کیمیائی سگنلوں (Electrical & Chemical Signals) کے ذریعے جُڑے ہوتے ہیں۔

جب بھی ہم کوئی کام بار بار کرتے ہیں جیسے برش کرنا، کپڑے پہننا ، پڑھنا، لکھنا، سائیکل چلانا، یا کسی موقع پر “شکریہ” کہنا تو اس عمل سے جو نیورون ساتھ میں فعال ہوجاتے ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے سے جڑ کر ایک خاص راستہ (Pathway)بناتے ہیں۔ جیسے زمین پر بار بار چلنے سے ایک پگڈنڈی بن جاتی ہے، ویسے ہی کسی عمل کو بار بار کرنے سے دماغ میں بھی Neural Pathway بن جاتے ہیں، جتنی زیادہ بار وہ عمل دہرایا جاتا ہے، یہ راستہ اتنا ہی مضبوط اور چست ہوتا جاتا ہے۔ اسی لیے جب کوئی عمل عادت بن جاتا ہے تو دماغ کو اسے کرنے کے لیے زیادہ سوچنے یا محنت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی وہ عمل خودکار (Auto-pilot) ہو جاتا ہے۔ اسے brain wiringکہتے ہیں۔

لیکن جب کوئی بچہ (انسان) کسی بری عادت کو ترک کرتا ہے، تو اس کے دماغ کے اندر بنے ہوئے راستے کے نیورون کا آپس میں ایک دوسرے سے کنکشن کمزور پڑنے لگتا ہے، یہ ایک دم سے بالکل ہی ختم نہیں ہوجاتا بلکہ کچھ دیر کے لیے غیر فعال ہوجاتا ہے۔ اور اگر دماغ کو کوئی نیا مقصد نہ ملے اور دماغ کے نیورون کو کوئی نیا عمل نہ ملے تو پھر سے یہ کنکشن فعال ہو جاتا ہے۔ کیونکہ دماغ خالی جگہ کو خالی نہیں رہنے دیتا، وہ ہمیشہ کسی نہ کسی عمل کو جگہ دیتا ہے۔ اسی لیے بچوں کو بری عادت چھوڑنا سکھانے کے ساتھ ساتھ اچھی عادت اپنانا بھی سکھانا ضروری ہے، تاکہ دماغ کو نئی سمت، نیا ذوق اور نیا مقصد مل سکے۔ اسے brain rewiringکہتے ہیں۔ اور یہی relearningہے، جس کا مطلب ہے کہ پرانا چھوڑ کر نیا سیکھنا۔ مثلاً اگر بچہ زیادہ وقت اسکرین کے سامنے گزارتا ہے تو صرف ”فون چھوڑ دو“کہنا کافی نہیں، بلکہ اس کی جگہ کسی نئے اور دلچسپ مشغلے سے اسے جوڑیں جیسے کہانی سننا، مطالعہ کرنا، جسمانی کھیل، یا گھر کے کسی چھوٹے کام میں ہاتھ بٹانا۔

اس طرح جب بچہ نئے عمل کو خوشی، دلچسپی یا اطمینان کے ساتھ دہراتا ہے اور ایک نئی عادت اپناتا ہے تو دماغ میں ایک نیا نیورل پاتھ وے بنتا ہے،جو رفتہ رفتہ پرانی (بری) عادت کو مٹا دیتا ہے۔ یوں دماغ میں نیا راستہ بنتا ہے اور وہ دوبارہ تربیت پاتا ہے۔ یہی ری لرننگ کا حقیقی مقصد ہے۔

بہت سی بری عادتیں فوراً نہیں چھوڑی جا سکتیں، اس لیے انہیں ختم کرنے کے لیے آہستہ آہستہ تبدیلی اپنائیں۔ مثلاً اگر بچہ اسکرین ایڈکشن کا شکار ہے تو پہلے اس کے وقت میں کمی لائیں، پھر رفتہ رفتہ کسی نئی اور دلچسپ سرگرمی جیسے مطالعہ، کہانی سننا، یا کھیل کے ذریعے اسکرین کے استعمال کو مکمل طور پر ترک کرائیں۔

جب آپ نے یہ طے کر ہی لیا ہو کہ کوئی بری عادت چھڑانی ہے تو اس کے ساتھ کوئی اچھی سرگرمی یا مثبت عادت کا انتظام ضرور کریں۔ تاکہ دماغ کو اپنی توانائی استعمال کرنے کے لیے فورا کوئی نیا مشغلہ یا کوئی دلچسپ عمل مل جائے ۔

دماغ فوراً کسی پرانے پیٹرن کو ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، اس دوران انسان سستی، بے چینی یا مزاحمت محسوس کرتا ہے۔ اس لیے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور بچوں کو استقلال (پائیداری) اور ثابت قدمی کی تربیت دیں۔

اگر آپ اپنے بچے کو کوئی بہترین گر سکھانا چاہتے ہیں تو وہ استقامت (Perseverance)ہے۔ استقامت وہ صلاحیت ہے جو انسان کو کسی مقصد پر جمے رہنے، مشکلات کے باوجود کوشش جاری رکھنے اور وقتی ناکامی سے مایوس نہ ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہی وہ خوبی ہے جو تمام اچھی عادتوں کو پختہ کرتی ہے، کیونکہ عادتیں ایک دن میں نہیں بنتیں، بلکہ عادتوں کی تکرار سے بنتی ہیں۔ بچوں کو یہ سکھائیں کہ اگر وہ کسی نئی عادت (جیسے وقت پر سونا، صفائی، مطالعہ یا ورزش) میں کبھی پیچھے رہ جائیں، تو ہار نہ مانیں بلکہ اگلے دن پھر سے کوشش کریں۔

بعض ماہرینِ نفسیات کے مطابق اگر کوئی شخص کسی نئے عمل کو مسلسل اکیس دن تک دہراتا رہے تو دماغ اس عمل کے لیے ایک نیا Neural Pathway بنا لیتا ہے۔ یعنی اگر بچہ روزانہ کسی مخصوص وقت پر مطالعہ کرے، وقت پر سوئے، یا صبح اٹھتے ہی بستر درست کرے تو اکیس دنوں میں یہ عمل دماغ کے لیے ”نیا معمول“ بننے لگتا ہے۔

یہ اصول سب سے پہلے ڈاکٹر میکسویل مالٹز (Dr. Maxwell Maltz)نے 1960 میں اپنی مشہور کتاب Psycho-Cybernetics میں بیان کیا تھا۔

انہوں نے اپنے مریضوں کے مشاہدے سے بتایا کہ انسان کو کسی نئی عادت کے ساتھ مانوس ہونے یا کسی پرانی عادت سے الگ ہونے میں اوسطاً 21 دن لگتے ہیں۔ بچوں کی تربیت میں یہ اصول نہایت مؤثر ہے کیونکہ والدین کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کسی بھی عادت کے لیے مستقل مزاجی ضروری ہے، فوری نتائج کی امید نہیں کرنی چاہیے۔

والدین بچوں کے لیے 21 دن کا روٹین بناسکتے ہیں یا 21 دنوں کا کوئی چیلنج دے کر آپس میں مقابلہ کرا سکتے ہیں۔

استقلال سے آپ کے بچے کی شخصیت مضبوط ہوگی اور وہ زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کا سامنا کرسکے گا۔

(د) مضبوط کردار کے ساتھ ماحول میں ڈھلنا سکھائیں

تبدیلی زندگی کی ایک یقینی حقیقت ہے۔ وقت، حالات، دوست، اسکول، آس پڑوس اور معاشرہ سب بدلتے رہتے ہیں۔ ایسے میں کامیاب وہی بچہ ہوتا ہے جو اپنے اصولوں، اقدار اور سچائی پر قائم رہتے ہوئے نئے ماحول میں خود کو ڈھالنا سیکھ لیتا ہے۔ یہی صلاحیت دراصل ذہانت اور قیادت کی بنیاد ہے۔

جب بچہ کسی نئے تجربے یا تبدیلی سے گزر رہا ہو تو اس سے بات کریں۔ اس کے احساسات سنیں، اکثر بچے تذبذب اور بے یقینی کا شکار ہوجاتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا محسوس کر رہے ہیں، ایسے میں والدین کا کام ہے کہ نہ صرف بچے کے جذبات کو پہچانیں بلکہ انھیں بھی خود کو سمجھنے کا حوصلہ دیں۔ ان سے رائے لیں، ان کے فیصلوں اور مشوروں کی قدر کریں اور ان کی سوچ کو سراہیں۔ یہ عمل بچے میں اعتماد لاتا ہے اور اسے سکھاتا ہے کہ تبدیلی خوف نہیں ہے بلکہ سیکھنے اور بڑھنے کا موقع ہے۔

بچوں کو یہ سکھائیں کہ بدلنے کا مطلب اپنی پہچان کھونا نہیں، بلکہ خود کو بہتر بنانا ہے۔

انہیں یاد دلائیں کہ ان کے اخلاقی اصول، اقدار اور ایمان ان کی زندگی کی اساس ہیں۔ چاہے موسم بدلے، زمین بدلے، یا ماحول ان بنیادوں سے جڑے رہنا ہی ان کی اصل طاقت ہے۔

جب وہ نئے اسکول، نئے دوستوں یا نئے نظام میں داخل ہوں، تو انہیں اتنا حوصلہ اور اعتماد دیں کہ وہ خوف یا مزاحمت کے بجائے سیکھنے، ڈھلنے اور ترقی کرنے کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں۔

ایسے بچے نہ صرف اپنے حالات کے مطابق ڈھل جاتے ہیں بلکہ اپنے مضبوط کردار سے ماحول کو بھی بہتر بناتے ہیں۔

ماں باپ کا کردار صرف اچھی عادتیں سکھانے یا منتقل کرنے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ ان کا اصل فریضہ یہ ہے کہ وہ بچے کی زندگی کو ایک منظم اور متوازن سسٹم میں ڈھالیں۔ کیونکہ بچہ صرف وہی نہیں سیکھتا جو اسے سکھایا جاتا ہے بلکہ وہ اپنی تمام حسیات کا استعمال کرتے ہوئے اس پورے ماحول سے سیکھتا ہے جس میں وہ پل رہا ہوتا ہے۔ دماغ جو جسم کے ہر عمل کو کنٹرول کرتا ہے، دراصل ایسا مرکز ہے جہاں سے عادتیں بنتی ہیں، فیصلے ہوتے ہیں اور روزمرہ زندگی کا نظام ترتیب پاتا ہے۔ یہی دماغ وقت کے ساتھ ساتھ ایک نقشہ (Map) تیار کرتا ہے جس میں بچے کے خیالات، احساسات، رویے اور ردِعمل محفوظ ہو جاتے ہیں۔

اسی لیے ماہرینِ نفسیات کے مطابق عادت سازی اور ایک منظم نظامِ حیات کے لیے ضروری ہے کہ والدین دماغ کے اس عمل اور ساخت کو سمجھیں۔ کیونکہ جب والدین یہ جان لیتے ہیں کہ عادتیں صرف اخلاقی تربیت کا حصہ نہیں بلکہ دماغی و اعصابی عمل (Neural Process)ہیں، تو وہ زیادہ مؤثر تدابیر اختیار کرسکتے ہیں۔

عادت بنانا محض نصیحت یا تاکید سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے ایسے حالات، تجربات اور جذباتی ماحول کی ضرورت ہوتی ہے جو دماغ میں مضبوط نیورل پاتھ وے (Neural Pathways) بنا سکیں۔

چنانچہ باشعور والدین کے لیے تربیت کا مطلب دماغ کی فطری ساخت کو سمجھ کر اس کے اصولوں کے مطابق زندگی کو ڈھالنا ہے، تاکہ بچہ صرف چند اچھی عادتیں نہ اپنائے بلکہ ایک منظم، متوازن اور خودکار نظامِ زندگی سیکھ جائے جو عمر بھر اس کا رہنما بنے۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

بچوں کی عادت سازی میں والدین کا کردار

حالیہ شمارے

دسمبر 2025

Dec 25شمارہ پڑھیں

نومبر 2025

Novشمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223