Opens in a new tab

سخت ترین حالات میں انبیا کا کردار

انبیا کی زندگیاں اس اعتبار سے ممتاز ہیں کہ انھوں نے کبھی سازگار حالات میں دعوت کا آغاز نہیں کیا بلکہ ہر نبی نے ایسے ماحول میں اپنی ذمہ داری سنبھالی جہاں مخالفت، استہزا، ظلم، تنہائی، محرومی، جلاوطنی، قید، تہمت اور جان کے خطرات ان کے گرد حصار بنائے ہوئے تھے۔ اس کے باوجود ان کی زبان سے مایوسی کا ایک لفظ نہ نکلا، ان کے قدم کبھی ڈگمگائے نہیں، ان کی دعوت میں کبھی اشتعال نے حکمت کی جگہ نہیں لی اور نہ ہی انھوں نے وقتی فائدے کے لیے اپنے اصولوں پر سمجھوتا کیا۔ قرآن مجید انہی تابندہ کرداروں کو محض تاریخی واقعات کے طور پر پیش نہیں کرتا ،بلکہ انھیں قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے نمونۂ عمل قرار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی امتیں آزمائشوں میں گھرتی ہیں تو قرآن انھیں ماضی کے ان روشن میناروں کی طرف متوجہ کرتا ہے تاکہ وہ جان سکیں کہ مشکلات سے نجات کا راستہ جذباتی ردِّعمل نہیں بلکہ صبر، استقامت، یقین اور حکمت کے ساتھ حق پر ثابت قدم رہنا ہے۔

قرآن مجید نے متعدد مقامات پر اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ آزمائش انبیا کی زندگی کا لازمی حصہ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَصَبَرُوۡا عَلٰى مَا كُذِّبُوۡا وَاُوۡذُوۡا حَتّٰٓى اَتٰهُمۡ نَصۡرُنَا ۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۚ وَلَقَدۡ جَآءَكَ مِنۡ نَّبَاِى الۡمُرۡسَلِیۡنَ  (الأنعام: 34)

’’تم سے پہلے بھی بہت سے رسُول جھٹلائے جا چکے ہیں، مگر اس تکذیب پر اور اُن اذیتوں پر جو انھیں پہنچائی گئیں، انھوں نے صبر کیا، یہاں تک کہ انھیں ہماری مد پہنچ گئی۔ اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے، اور پچھلے رسُولوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کی خبریں تمھیں پہنچ ہی چکی ہیں۔ ‘‘

اس ایک آیت میں دعوتِ حق کا پورا فلسفہ سمٹ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ انبیا کو مخالفت سے محفوظ رکھا گیا ، بلکہ یہ فرمایا کہ انھوں نے تکذیب اور اذیت برداشت کی، پھر صبر کیا، اور اس کے بعد اللہ کی نصرت آئی۔ گویا نصرت کا راستہ صبر اور استقامت سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہی سنتِ الٰہی ہے جسے نہ زمانہ بدل سکتا ہے اور نہ حالات۔ تفہیم القرآن اور ابن کثیر دونوں اس مقام پر یہی وضاحت کرتے ہیں کہ اللہ کی مدد کا وعدہ فوری نتائج سے وابستہ نہیں بلکہ ثابت قدمی سے وابستہ ہے۔ اسی لیے انبیا کی سیرت میں جلد بازی، انتقام کی نفسیات اور بے صبری کہیں دکھائی نہیں دیتی، بلکہ ہر مقام پر اللہ کے فیصلے کا انتظار، مسلسل جدوجہد اور حکیمانہ دعوت کا اسلوب نمایاں نظر آتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر    تفہیم القرآن میں مولانا مودودی اس طرح کرتے ہیں کہ ’’یعنی اللہ نے حق اور باطل کی کش مکش کے لیے جو قانون بنادیا ہے اسے تبدیل کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے۔ حق پرستوں کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ ایک طویل مدت تک آزمائشوں کی بھٹی میں تپائے جائیں۔ اپنے صبر کا، اپنی راست بازی کا، اپنے ایثار اور اپنی فداکاری کا، اپنے ایمان کی پختگی اور اپنے توکل علی اللہ کا امتحان دیں۔ مصائب اور مشکلات کے دور سے گزر کر اپنے اندر وہ صفات پرورش کریں جو صرف اسی دشوار گزار گھاٹی میں پرورش پاسکتی ہیں۔ اور ابتداءً خالص اخلاق فاضلہ و سیرت صالحہ کے ہتھیاروں سے جاہلیت پر فتح حاصل کر کے دکھائیں۔ اس طرح جب وہ اپنا اصلح ہونا ثابت کردیں گے تب اللہ کی نصرت ٹھیک اپنے وقت پر ان کی دست گیری کے لیے آپہنچے گی۔ وقت سے پہلے وہ کسی کے لائے نہیں آسکتی۔ ‘‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی صبر و استقامت کا ایسا درخشاں باب ہے جس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ انھوں نے ایک ایسے معاشرے میں آنکھ کھولی جہاں شرک صرف مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ تہذیب، سیاست اور معیشت کا بنیادی ستون بن چکا تھا۔ اپنے ہی باپ آزر نے ان کی دعوت کو قبول کرنے کے بجائے انھیں سنگسار کرنے کی دھمکی دی، پوری قوم نے انھیں باغی قرار دیا اور      بادشاہِ وقت نمرود نے ان کی دعوت کو اپنی حکومت کے لیے خطرہ سمجھا۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نہ تلخ لہجہ اختیار کیا، نہ نفرت انگیز طرزِ گفتگو اپنایا اور نہ ہی دعوت کے میدان سے کنارہ کش ہوئے۔ قرآن مجید ان کی گفتگو نقل کرتا ہے تو اس میں دلیل کی متانت، اخلاق کی شائستگی اور یقین کی قوت نمایاں نظر آتی ہے۔ انھوں نے باپ سے بھی ادب کے ساتھ فرمایا: یا أَبَتِ( اے میرے والد محترم)، قوم سے بھی عقل و فطرت کی بنیاد پر گفتگو کی اور نمرود سے بھی منطقی استدلال کے ذریعے حق واضح کیا۔ یہ اسوہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ دعوت کی قوت بلند آواز میں نہیں بلکہ مضبوط دلیل، پاکیزہ کردار اور اللہ پر کامل اعتماد میں مضمر ہوتی ہے۔ سخت ترین حالات میں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حکمت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور یہی ان کے کردار کی سب سے بڑی عظمت ہے۔

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کا فیصلہ ہوا تو بظاہر دنیا کی ہر طاقت ان کے خلاف کھڑی تھی۔ ایک طرف پوری قوم، دوسری طرف وقت کا طاقت ور حکم ران، اور تیسری طرف دہکتی ہوئی آگ جسے کئی دن تک بھڑکایا گیا تھا۔ انسانی نگاہ سے دیکھا جائے تو نجات کا کوئی امکان باقی نہیں تھا، لیکن ایمان کی نگاہ مادی اسباب سے آگے دیکھتی ہے۔ قرآن مجید بیان کرتا ہے:

قُلۡنَا یٰنَارُ كُوۡنِىۡ بَرۡدًا وَّسَلٰمًا عَلٰٓى اِبۡرٰهِیۡمَۙ‏ (الأنبیاء: 69)

’’ہم نے کہا ’’ اے آگ، ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا ابراہیمؑ پر۔‘‘

یہ محض ایک معجزہ نہیں بلکہ اہلِ ایمان کے لیے دائمی پیغام ہے کہ جب بندہ اپنی ذمہ داری پوری کر دیتا ہے تو پھر نتائج اللہ کے اختیار میں ہوتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آگ سے بچنے کے لیے اپنے اصول نہیں بدلے، باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا اور نہ ہی وقتی مصلحت کے نام پر حق سے     دست بردار ہوئے۔ اللہ نے انھیں آگ سے بچا کر یہ اعلان کر دیا کہ ظاہری قوتیں کبھی بھی اللہ کے فیصلے پر غالب نہیں آسکتیں۔ موجودہ دور میں جب اہلِ ایمان مختلف آزمائشوں سے دوچار ہیں تو ابراہیمی اسوہ انھیں یہی سبق دیتا ہے کہ ایمان کی حرارت اگر دل میں باقی ہو تو حالات کی آگ بھی راہِ حق کے مسافروں کو جلا نہیں سکتی۔

حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ قرآن مجید نے ’’ اَحْسَنَ الْقَصَصِ‘‘  قرار دیا ہے، کیوں کہ اس میں آزمائش، صبر، حکمت، عفو، تدبیر اور اللہ پر کامل اعتماد کی ایسی جامع تصویر ملتی ہے جو ہر دور کے انسان کے لیے رہ نمائی کا سرچشمہ ہے۔ ان کی زندگی کا آغاز ہی حسد اور سازش سے ہوا۔ اپنے ہی بھائیوں نے کنویں میں پھینک دیا، غلام بنا کر فروخت کر دیا گیا، اجنبی سر زمین میں پہنچا دیے گئے اور پھر پاکدامنی کے باوجود قید خانے کی تاریکی ان کا مقدر بنا دی گئی۔ حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ ان تمام مراحل میں حضرت یوسف علیہ السلام کے کردار میں نہ انتقام کی آگ دکھائی دیتی ہے، نہ شکوہ و شکایت کی کثرت، نہ مایوسی کا غلبہ اور نہ ہی مقصد سے انحراف۔ انھوں نے ہر مرحلے کو اللہ کی مشیت سمجھ کر قبول کیا اور ہر آزمائش کو اپنی شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ قید خانہ بھی ان کے لیے دعوت کا مرکز بن گیا اور مصیبت بھی ان کی دعوتی ذمہ داری میں رکاوٹ نہ بن سکی۔ قرآن اس کردار کے ذریعے بتاتا ہے کہ مؤمن کا اصل سرمایہ حالات کی آسانی نہیں بلکہ اس کا زندہ ایمان اور ثابت قدم کردار ہوتا ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے بندے کو کسی عظیم مقصد کے لیے منتخب کرتا ہے تو اس کی تربیت بھی غیر معمولی آزمائشوں کے ذریعے فرماتا ہے۔ ان کی ولادت ہی فرعون کے اس ظالمانہ دور میں ہوئی جب بنی اسرائیل کے نومولود لڑکوں کو قتل کردینا ریاستی قانون بن چکا تھا۔ ایسے ماحول میں ایک ماں کا اپنے شیر خوار بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا کے حوالے کر دینا انسانی تدبیر نہیں بلکہ ایمان کی بلند ترین منزل ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے:

وَاَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰٓى اُمِّ مُوۡسٰٓى اَنۡ اَرۡضِعِیۡهِ‌ۚ فَاِذَا خِفۡتِ عَلَیۡهِ فَاَ لۡقِیۡهِ فِى الۡیمِّ وَلَا تَخَافِىۡ وَلَا تَحۡزَنِىۡۚ اِنَّا رَآدُّوۡهُ اِلَیۡكِ وَجٰعِلُوۡهُ مِنَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ‏ (القصص: 7)

’’ ہم نے موسیٰؑ کی ماں کو اشارہ کیا کہ‘‘ اِس کو دُودھ پلا، پھر جب تجھے اُس کی جان کا خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور کچھ خوف اور غم نہ کر، ہم اسے تیرے ہی پاس واپس لے آئیں گے اور اس کو پیغمبروں میں شامل کریں گے۔‘‘

اس واقعے میں اللہ تعالیٰ نے امت کو یہ اصول عطا فرمایا کہ جب بندہ اپنی ذمہ داری ایمان کے ساتھ ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کرتا ہے جن کا تصور بھی انسانی عقل نہیں کر سکتی۔ جس محل سے قتل کے احکام صادر ہوتے تھے، اسی محل میں موسیٰ علیہ السلام کی پرورش ہوئی۔ اس واقعے میں صرف معجزہ نہیں بلکہ یہ ابدی تعلیم مضمر ہے کہ باطل کی ظاہری قوت کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہو، اللہ کی تدبیر اس سے کہیں زیادہ غالب اور مؤثر ہوتی ہے۔

نبوت عطا ہونے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جس مشن پر بھیجا گیا، وہ انسانی تاریخ کے سب سے طاقت ور اور متکبر حکم ران کے مقابلے کا مشن تھا۔ فرعون محض ایک بادشاہ نہیں تھا بلکہ الوہیت کا مدعی، اقتدار کا نشے میں مست آمر اور ظلم کا استعارہ تھا۔ ایسے شخص کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے صرف جرأت کافی نہیں تھی، بلکہ حکمت، ضبط اور اللہ پر کامل اعتماد بھی ضروری تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا:

اذْهَبَآ اِلىٰ فِرْعَوْنَ اِنَّهُ طَغَىٰ • فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَینًا لَّعَلَّهٗ یتَذَكَّرُ اَوۡ یخۡشٰى  (طٰہٰ: 43-44)

’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ، وہ سرکش ہو گیا ہے، پھر اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا شاید وہ نصحیت کو قبول کرے یا ڈر جائے۔‘‘

یہ آیت دعوتِ دین کا وہ عظیم اصول ہے جو ہر دور کی تحریکوں کے لیے چراغِ راہ ہے۔ جس شخص نے ہزاروں انسانوں پر ظلم کیا، جو خود کو رب کہتا تھا، اس کے سامنے بھی اللہ تعالیٰ نے سخت لہجے کا نہیں بلکہ نرم گفتگو کا حکم دیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ انبیا کی دعوت غصے کی نہیں بلکہ حکمت کی دعوت تھی، ان کا مقصد مخالف کو شکست دینا نہیں بلکہ حق کو اس کے سامنے واضح کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ہر مرحلے پر دعوت کو اخلاق اور دلیل کے ساتھ پیش کیا، حالاں کہ ان کے سامنے ظلم کی انتہا موجود تھی۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا سب سے نازک مرحلہ وہ تھا جب بنی اسرائیل سمندر کے کنارے پہنچ گئے اور پیچھے فرعون کا عظیم لشکر تعاقب میں تھا۔ ظاہری اسباب مکمل طور پر ختم ہو چکے تھے۔ سامنے سمندر تھا، پیچھے موت کا سایہ۔ اس موقع پر بنی اسرائیل نے گھبرا کر کہا:

اِنَّا لَمُدْرَكُونَ،

’’ اب تو ہم یقیناً پکڑے جائیں گے۔‘‘

مگر ایک نبی کا ایمان حالات کی زبان نہیں بولتا بلکہ اللہ کے وعدے پر یقین رکھتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

قَالَ كَلَّا ۚ اِنَّ مَعِىَ رَبِّىۡ سَیهۡدِیۡنِ (الشعراء: 62)

موسیٰؑ نے کہا ’’ ہرگز نہیں۔ میرے ساتھ میرا ربّ ہے۔ وہ ضرور میری رہ نمائی فرمائے گا۔‘‘

اس مختصر مگر ایمان افروز جملے میں صبر، یقین، توکل اور استقامت کی پوری روح سمٹ آئی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سمندر کو راستہ بنا دیا اور وہی پانی جو بظاہر رکاوٹ تھا، اہلِ ایمان کے لیے نجات کا وسیلہ اور ظالموں کے لیے عذاب کا سبب بن گیا۔ یہ واقعہ اس اٹل حقیقت کا اعلان ہے کہ اللہ کی نصرت وہاں سے آتی ہے جہاں انسانی نگاہ کوئی راستہ نہیں دیکھ پاتی۔ امتِ مسلمہ کو بھی اپنی مشکلات کے درمیان اسی یقین کی ضرورت ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے دل میں موجزن تھا۔

حضرت ایوب علیہ السلام کا تذکرہ قرآن مجید میں صبر کی معراج کے طور پر آیا ہے۔ ایک ایسا انسان جسے مال، اولاد، صحت اور معاشرتی وقار جیسی تمام نعمتیں عطا ہوئی تھیں، پھر یکے بعد دیگرے سب کچھ اس سے واپس لے لیا گیا۔ جسم بیماری کا شکار ہوا، اہل و عیال کی آزمائش آئی، دنیا نے کنارہ کشی اختیار کر لی، لیکن ان کے دل میں اپنے رب کے بارے میں بدگمانی پیدا نہ ہوئی۔ قرآن مجید ان کی دعا نقل کرتا ہے:

وَاَیوۡبَ اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّىۡ مَسَّنِىَ الضُّرُّ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ (الأنبیاء: 83)

’’اور یہی (ہوش مندی اور حکم و علم کی نعمت) ہم نے ایوبؑ کو دی تھی۔ یاد کرو، جب کہ اس نے اپنے ربّ کو پکارا کہ ’’ مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تُو ارحم الراحمین ہے۔‘‘

اس دعا میں نہ شکوہ ہے،  نہ اعتراض،  نہ بے صبری، بلکہ ادب،  امید اور بندگی کا حسین امتزاج ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اِنَّا وَجَدۡنٰهُ صَابِرًا  نِعۡمَ الۡعَبۡدُ  اِنَّـهٗۤ اَوَّابٌ (ص: 44)

’’ہم نے اُسے صابر پایا، بہترین بندہ، اپنے رب کی طرف بہت رُجوع کرنے والا۔‘‘

یہ اسوہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ مصیبت کا اصل امتحان جسم پر نہیں بلکہ دل پر ہوتا ہے۔ جس کا تعلق اللہ سے مضبوط ہو، اس کی امید حالات کے بدلنے سے نہیں بلکہ اللہ کی رحمت سے وابستہ رہتی ہے۔

قرآن مجید میں حضرت نوح علیہ السلام کا تذکرہ بھی استقامت کی ایک غیر متزلزل مثال کے طور پر موجود ہے۔ انھوں نے صدیاں نہیں بلکہ تقریباً ایک ہزار برس کے قریب دعوت کا فریضہ انجام دیا، جن میں نو سو پچاس سال مسلسل اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ قرآن ان کی زبان سے کہلواتا ہے:

قَالَ رَبِّ اِنِّىۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِىۡ لَیۡلًا وَّنَهَارًا (نوح: 5)

اُس نے عرض کیا ’’ اے میرے ربّ، میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب و روز پکارا ‘‘

اتنی طویل جدوجہد کے باوجود انھوں نے دعوت کا راستہ ترک نہیں کیا، نہ لوگوں کی بے رخی کو اپنی ناکامی سمجھا اور نہ ہی نتائج کو اپنی ذمہ داری قرار دیا۔ یہی انبیائی مزاج ہے کہ وہ کوشش کے پابند ہوتے ہیں، کام یابی کے نہیں۔ موجودہ دور میں دعوت، اصلاح اور اقامتِ دین کی جدوجہد کرنے والوں کے لیے حضرت نوح علیہ السلام کی زندگی عظیم رہ نمائی فراہم کرتی ہے کہ اگر نتائج میں تاخیر ہو، مخالفت میں اضافہ ہو یا تنہائی نصیب ہو جائے تب بھی دعوت کے چراغ کو بجھنے نہیں دینا چاہیے، کیوں کہ اللہ کے یہاں اصل قدر کوشش، اخلاص اور استقامت کی ہے، نہ کہ فوری کام یابی کی۔

اگر انبیا علیہم السلام کی پوری تاریخ میں کسی ایک شخصیت کو تمام آزمائشوں کا جامع نمونہ قرار دیا جا سکتا ہے تو وہ خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے۔ آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ درحقیقت صبر، استقامت، حکمت، عفو، رحمت اور مسلسل جدوجہد کا ایسا کامل مرقع ہے جس کی نظیر انسانی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ بعثت کے ابتدائی لمحے سے لے کر وصالِ مبارک تک آپ ﷺ کی زندگی کا کوئی مرحلہ ایسا نہیں گزرا جس میں آزمائش نے آپ کا استقبال نہ کیا ہو۔ مکہ کی گلیوں میں استہزا، گالی، تہمت، جسمانی اذیت، معاشی بائیکاٹ، سماجی تنہائی، عزیزوں کی جدائی، جان لیوا سازشیں اور مسلسل مخالفت آپ کا مقدر بنائی گئی، لیکن اس کے باوجود نہ آپ ﷺ کے لبوں پر بددعا آئی، نہ آپ کی دعوت میں تلخی پیدا ہوئی اور نہ ہی آپ کے عزم میں کوئی لغزش آئی۔ قرآن مجید نے اسی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:

فَاصۡبِرۡ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الۡعَزۡمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسۡتَعۡجِلْ لَّهُمۡ‌كَاَنَّهُمۡ یوۡمَ یرَوۡنَ مَا یوۡعَدُوۡنَۙ لَمۡ یلۡبَثُوۡۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنۡ نَّهَارٍ بَلٰغٌ ۚ فَهَلۡ یهۡلَكُ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡفٰسِقُوۡنَ (الأحقاف: 35)

’’ پس اے نبیؐ، صبر کرو جس طرح اُولوا العزم رسُولوں نے صبر کیا ہے، اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو۔ جس روز یہ لوگ اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا انھیں خوف دلا یا جا رہا ہے تو انھیں یوں معلوم ہوگا کہ جیسے دنیا میں دِن کی ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ بات پہنچا دی گئی، اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا؟ ‘‘

گویا رسول اکرم ﷺ کی ذات میں تمام اولوا العزم انبیا کے اوصاف اپنے کامل ترین حسن کے ساتھ جلوہ گر ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ سیرتِ نبوی دراصل تمام انبیائی اسووں کا جامع اور آخری نمونہ ہے۔ مکی زندگی کا ہر دن اہلِ ایمان کے لیے استقامت کا ایک مستقل درس ہے۔ شعبِ ابی طالب کی تین سالہ معاشی اور سماجی ناکہ بندی تاریخِ انسانیت کی سخت ترین اجتماعی آزمائشوں میں شمار ہوتی ہے۔ خوراک کی قلت، معاشی بائیکاٹ، معاشرتی تنہائی اور مسلسل دباؤ کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے دعوت کا چراغ بجھنے نہیں دیا۔ اسی زمانے میں حضرت خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابو طالب کی وفات نے غم کو مزید گہرا کر دیا، یہاں تک کہ اس سال کو عام الحزن کہا گیا۔ اس کے بعد طائف کا سفر پیش آیا جہاں آپ ﷺ کو جس انداز سے تکلیف دی گئی، وہ انسانی دل کو آج بھی تڑپا دیتی ہے۔ خون سے مبارک جسم تر ہو گیا، جوتے خون سے بھر گئے، مگر اسی موقع پر جب فرشتۂ پہاڑ حاضر ہوا اور اہلِ طائف کو نیست و نابود کرنے کی اجازت طلب کی تو رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کی عبادت کریں گے۔ یہ فیصلہ کسی کم زور انسان کا نہیں بلکہ اس نبیﷺ کا تھا جس نے غضب کے موقع پر بھی رحمت کو اختیار کیا، انتقام کے موقع پر بھی اصلاح کو ترجیح دی اور مایوسی کے ماحول میں بھی مستقبل کی امید کو زندہ رکھا۔ یہی وہ حکمت ہے جس نے دلوں کو فتح کیا اور تاریخ کا رخ بدل دیا۔

صلح حدیبیہ انبیائی حکمت کا ایسا عظیم باب ہے جسے سمجھے بغیر دعوت و تحریک کی نفسیات کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ بظاہر معاہدے کی اکثر شرائط مسلمانوں کے خلاف محسوس ہوتی تھیں، یہاں تک کہ بہت سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی شدید رنج ہوا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے جذبات کے بجائے وحی کی روشنی میں حکمت کو اختیار فرمایا۔ قرآن مجید نے اسی معاہدے کو إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِینًا کہہ کر ’’واضح فتح‘‘ قرار دیا۔ تاریخ نے ثابت کر دیا کہ وقتی طور پر مشکل دکھائی دینے والا یہ فیصلہ اسلام کی عظیم ترین فتوحات کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ اسی طرح فتحِ مکہ کے موقع پر جب وہی لوگ آپ ﷺ کے سامنے بے بس کھڑے تھے جنھوں نے برسوں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تھے، اس وقت آپ ﷺ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے الفاظ دہرا دیے:

لَا تَثْرِیبَ عَلَیكُمُ الْیوْمَ،

’’آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔‘‘

پھر فرمایا:

اذهبوا فأنتم الطلقاء،

’’جاؤ، تم سب آزاد ہو۔‘‘

اس منظر نے دنیا کو بتا دیا کہ انبیا کی کام یابی انتقام میں نہیں بلکہ عفو و درگزر، اصلاح اور انسانیت کی فلاح میں مضمر ہوتی ہے۔ یہی وہ اخلاقی عظمت تھی جس نے شکست خوردہ دلوں کو اسلام کا شیدائی بنا دیا۔

قرآن مجید میں بیان کردہ انبیا علیہم السلام کے یہ تمام واقعات الگ الگ تاریخیں نہیں بلکہ ایک ہی آفاقی سنت کے مختلف مظاہر ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کی طویل دعوت، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آتشِ نمرود، حضرت یوسف علیہ السلام کی قید، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرعون سے مقابلہ، حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل آزمائشیں ایک ہی حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کو آزمائشوں سے گزار کر ان کے ذریعے حق کی سربلندی کا سامان پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے قرآن بار بار اہلِ ایمان کو ماضی کے ان روشن نمونوں کی طرف متوجہ کرتا ہے تاکہ وہ وقتی مشکلات کو آخری حقیقت نہ سمجھیں۔ آزمائشیں کبھی بھی اللہ کی ناراضی کی علامت نہیں ہوتیں بلکہ اکثر وہی قومیں اور وہی افراد بڑی ذمہ داریوں کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں جنھیں سخت حالات میں صبر، استقامت اور اخلاص کے امتحان سے گزارا جاتا ہے۔ یہی وہ زاویۂ نگاہ ہے جو مایوسی کو امید میں، اضطراب کو اطمینان میں اور شکست کے احساس کو نئی قوت میں تبدیل کر دیتا ہے۔ قرآن کی نگاہ میں کام یابی کا معیار صرف ظاہری غلبہ نہیں بلکہ حق پر ثابت قدم رہنا ہے، خواہ حالات کتنے ہی ناموافق کیوں نہ ہوں۔

آج امتِ مسلمہ فکری انتشار، تہذیبی یلغار، سیاسی دباؤ، معاشی مشکلات، علمی پسماندگی، ابلاغی جنگ اور اخلاقی انحطاط جیسے متعدد چیلنجوں سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں اگر امت اپنی رہ نمائی وقتی جذبات، ردِّعمل، نفرت یا غیر قرآنی راستوں سے تلاش کرے گی تو وہ مزید انتشار کا شکار ہوگی۔ حقیقی راہِ نجات وہی ہے جسے انبیا علیہم السلام نے اپنے عمل سے روشن کیا۔ صبر ایسا ہو جو کم زوری نہیں بلکہ کردار کی مضبوطی بن جائے، استقامت ایسی ہو جو حالات کے بدلنے سے متزلزل نہ ہو، حکمت ایسی ہو جو دعوت کو مؤثر بنائے، علم ایسا ہو جو شعور عطا کرے، اخلاق ایسا ہو جو دلوں کو فتح کرے اور جدید ذرائع و وسائل کا استعمال ایسا ہو جو حق کے پیغام کو دنیا کے ہر گوشے تک پہنچانے کا ذریعہ بنے۔ یہی انبیائی منہج ہے، یہی قرآن کا راستہ ہے اور یہی امت کے مستقبل کی حقیقی ضمانت ہے۔ جو قوم اپنے انبیا کے اسوۂ حسنہ سے وابستہ رہتی ہے، وہ آزمائشوں میں بھی اپنا وقار برقرار رکھتی ہے، اور جو قوم اس سرچشمۂ ہدایت سے دور ہو جاتی ہے، وہ وسائل کی فراوانی کے باوجود فکری اور اخلاقی بحران سے نجات نہیں پا سکتی۔ اس لیے آج کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ہم انبیا علیہم السلام کے صبر کو اپنی قوت، ان کی استقامت کو اپنا سرمایہ، ان کی حکمت کو اپنی حکمتِ عملی اور ان کی دعوت کو اپنی اجتماعی زندگی کا مرکز بنا لیں۔ یہی قرآن کا پیغام ہے، یہی سیرتِ انبیا کا خلاصہ ہے اور یہی ہر دور میں امتِ مسلمہ کی بقا، عزت اور کام یابی کا واحد  قابلِ اعتماد راستہ ہے۔

انبیا علیہم السلام کی تاریخ کا مطالعہ انسان کو اس نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ حق کی کام یابی کبھی بھی حالات کی سازگاری کی مرہونِ منت نہیں رہی، بلکہ اس کا انحصار ایمان کی پختگی، کردار کی بلندی اور مقصد کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی پر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آگ گلزار بنی، دریا راستہ بن گیا، کنواں اقتدار کی تمہید ثابت ہوا، قید خانہ عزت و تمکنت کا زینہ بن گیا، ہجرت عالمی انقلاب کی بنیاد قرار پائی اور مٹھی بھر   اہلِ ایمان دنیا کی عظیم ترین تہذیبی قوت بن گئے۔ یہ تمام واقعات اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی سنت اسباب سے انکار نہیں کرتی، مگر اسباب کو فیصلہ کن قوت بھی قرار نہیں دیتی۔ فیصلہ کن حقیقت ایمان، صبر، استقامت، اخلاص اور اللہ پر غیر متزلزل اعتماد ہے۔ جب یہ صفات کسی فرد یا امت کی اجتماعی زندگی میں راسخ ہو جاتی ہیں تو ناموافق حالات بھی اس کے لیے امکانات کی نئی دنیا کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مجید انبیا کے واقعات کو محض ماضی کی داستانوں کے طور پر نہیں بلکہ :

لَـقَدۡ كَانَ فِىۡ قَصَصِهِمۡ عِبۡرَةٌ لِّاُولِى الۡاَلۡبَابِ‌ مَا كَانَ حَدِیۡثًا یفۡتَـرٰى وَلٰـكِنۡ تَصۡدِیۡقَ الَّذِىۡ بَیۡنَ یدَیۡهِ وَتَفۡصِیۡلَ كُلِّ شَىۡءٍ وَّهُدًى وَّرَحۡمَةً لِّـقَوۡمٍ یؤۡمِنُوۡنَ (یوسف: 111)

’’ اگلے لوگوں کے ان قصّوں میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جا رہا ہے یہ بناوٹی باتیں نہیں ہیں بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں انہی کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اوررحمت۔ ‘‘

کے اعلان کے ساتھ صاحبانِ عقل کے لیے دائمی سرچشمۂ ہدایت قرار دیتا ہے۔

آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم حالات کی سنگینی کا ماتم کریں یا اپنے گرد پھیلی ہوئی تاریکیوں کو اپنی بے عملی کا جواز بنا لیں، بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے فکری اور عملی سفر کو دوبارہ انبیا    علیہم السلام کے اسی روشن راستے سے وابستہ کریں جس نے ہر دور میں ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ اگر امتِ مسلمہ قرآن کو اپنی فکر کا مرکز، سیرتِ نبوی ﷺ کو اپنی عملی زندگی کا معیار، صبر کو اپنی قوت، استقامت کو اپنی شناخت، حکمت کو اپنی دعوت، علم کو اپنا سرمایہ، اخلاق کو اپنی زبان اور عصرِ حاضر کے ذرائع و وسائل کو خیر و ہدایت کی اشاعت کا مؤثر وسیلہ بنا لے تو موجودہ آزمائشیں بھی اس کے لیے ایک نئے عہدِ تعمیر کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ انبیا علیہم السلام نے کبھی حالات کے بدلنے کا انتظار نہیں کیا بلکہ اپنے کردار سے حالات کا رخ موڑ دیا۔ یہی وہ ابدی پیغام ہے جسے قرآن ہر دور کے اہلِ ایمان کے دلوں میں تازہ کرتا ہے اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر آج بھی امتِ مسلمہ اپنی کھوئی ہوئی عزت، فکری قیادت اور اخلاقی وقار دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔ انبیا علیہم السلام کا اسوہ محض قابلِ احترام ماضی نہیں بلکہ زندہ حال اور روشن مستقبل ہے، اور حقیقت یہی ہے کہ اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ امت کو عزت، استحکام اور فلاح کی منزل تک نہیں پہنچا سکتا۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

سخت ترین حالات میں انبیا کا کردار

حالیہ شمارے

ستمبر 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223