علماء کرام کا مطلوبہ کردار

مولانا محمد جرجیس کریمی

امت مسلمہ کے عام افراد کے اوپر جن دینی تعلیمات پر عمل کرنا واجب ہے ان تعلیمات پر عمل کرنا علماء کے لئے بھی ضروری ہے مگر اس کے ساتھ ہی ان سے مزید اعمال کامطالبہ کیاگیا ہے جو ان کے دینی منصب پر قیادت کا تقاضا ہے۔ مومنانہ سیرت و کردار کے ساتھ عالمانہ سیرت و کردار ہو جب ہی صحیح طریقے سےملت کی رہ نمائی کا فریضہ انجام دیاجاسکتا ہے ذیل میں اختصار کے ساتھ ایسے کچھ اعمال و کردار کی نشان دہی کی جاتی ہے۔

علماء وارث انبیاء ہیں

نبوت و رسالت کی حقیقت پر غور کیاجائے تو یہ بات واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لئے مادی وسائل و ذرائع پر اکتفا نہیں کیابلکہ اس کا رشتہ روحانیت ، علم اور دلائل سے قائم کیا۔ اب اگر کوئی شخص انبیاء کے لائے ہوئے دین کی تبلیغ و اشاعت کرنا چاہتاہے تو اسے بھی ان ہی طریقوں کو اختیار کرنا ہوگا جن کو اختیار کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے انبیاء کو دیا۔ اسی وجہ سے حدیث میں کہاگیاکہ انبیاء کرامؑ درہم ودینار کی وراثت نہیں چھوڑتے ہیں بلکہ علم کی وراثت چھوڑتے ہیں اور علم سے مراد علم وحی ہے۔ لہٰذا علماء جب انبیاء کے وارث ہوئے تو لازمی بات ہے کہ انھیں علم وحی کے حصول اور اس کی تبلیغ کا مکلف بنایاگیا ہے۔ چنانچہ انبیاء نے جب دعوت دین پیش کیا تو ان کی قوموں نے مختلف طریقے سے دعوت کو رد کیا اور مختلف مطالبات کیے۔ کبھی ان سے معجزات کےظہور کا مطالبہ کیاگیاتو کبھی کہاگیاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں سے خزانے اتار لائیں یا باغات پیدا کردیں اور نہریں جاری کردیں ان باتوں کے جواب میں انبیاء نے ایسا نہیں کیاکہ ان چیزوں کو پیدا کرکے قوم کے مطالبے کو پورا کردیا بلکہ انہوںنے اس بات کا حوالہ دیاکہ ان کے پاس وحی آتی ہے اور اسی وحی کے مطابق عمل کرنے کا وہ مکلف ہیں، ان کے اختیار میں خزانے لانا اور باغات پیدا کرنا اور نہریں جاری کرنا نہیں ہے۔ ارشاد ہے:

قُل لاَّ أَقُولُ لَکُمْ عِندِیْ خَزَآئِنُ اللّہِ وَلا أَعْلَمُ الْغَیْٔبَ وَلا أَقُولُ لَکُمْ إِنِّیْ مَلَکٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا یُوحَی  اِلَیَّ )الانعام:۵۰(

’’اے نبی ؐ! ان سے کہو میں تم سے یہ نہیں کہتاکہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں نہ میں غیب کا علم رکھتاہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے۔‘‘

موجودہ دورمادیت پرستی کا دور ہےحق و باطل کو بھی مادیت کے حوالے سے پرکھنے کی کوشش ہوسکتی ہے ایسی صورت حال میں علماء اسلام کو مادیت سے بالاتر ہوکر انبیائی سیرت و کردار پیش کرنا ہوگا۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اسباب و علل سے بالکلیہ اعراض کا رویہ اختیار کرلیاجائے مگر اسباب سے زیادہ توکل علی اللہ کا نمونہ پیش کرنے کی ضرورت ہوگی۔ چنانچہ انبیائی کردار کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ انہوںنے اپنی قوموں سے دعوت دین کے معاوضے کا مطالبہ نہیں کیابلکہ انہوںنے ہر مرحلے میں واضح کردیاکہ وہ دنیا میں معاوضہ یا منصب و جاہ کے طالب نہیں ہیں بلکہ ان کامطالبہ صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو قبول کرلیں۔ ارشاد ربانی ہے:

وَمَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِیَ إِلَّا عَلَی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (الشعراء:۱۰۹(

’’میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمّہ ہے۔‘‘

مذکورہ آیت قرآن مجید میں متعدد انبیاء کرام کے حوالے سے وارد ہے۔ ہمارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل مکہ کی طرف سے پیش کش ہوئی تھی کہ اگر آپ مال و دولت یا حکومت اور بادشاہت کے خواہش مند ہوتو یہ چیزیںہم آپ کو دینے کے لئے تیار ہیں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پیش کش ٹھکرادی اور ان پر واضح کردیاکہ میرا مقصد خالص دین کی دعوت پیش کرنا ہے۔ اگر میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند رکھ دیاجائے تب بھی میں اس سے باز نہیں آسکتا۔ (سیرت ابن ہشام جلد؍۳۱۳؍۳۱۴(

انبیاء اعلیٰ اخلاق پر فائزہوتے ہیں

انبیاء کی سیرت سے معلوم ہوتاہے کہ وہ اعلیٰ اخلاق پر فائز ہوتے ہیں۔ چنانچہ تمام انبیاء نے اپنے کو ’’رسول امین‘‘ کہاہے چونکہ ان کی بعثت کا مقصد لوگوں کی اصلاح ہوتی ہے اس وجہ سے قوموں کے مقابلے میں ان کے اخلاق اعلیٰ درجے کے ہوتے ہیں تاکہ ان کے پیغام پر لوگ ایمان لائیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اعلیٰ اخلاق پر فائز تھے اور آپ کے اعلیٰ اخلاق کی گواہی کفار مکہ نے خود دی ہے۔ چنانچہ جب آیت ’’و انذر عشیرتک الاقربین‘‘ نازل ہوئی اور آپؐ نے صفا پہاڑ پر اہل مکہ کو بلایا تو لوگوں نے آپؐ کی امانت و صداقت کی تصدیق کی۔ اس طرح ابوسفیان نے ہرقل کے دربار میں اس کی تصدیق کی کہ آپؐ سے کبھی جھوٹ کا تجربہ نہیں ہواہے۔ آپؐ کی زوجہ مطہرہ نے نبوت کے اولین مرحلے میں آپؐ کے اعلیٰ اخلاق کی توثیق کی، حضرت انسؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی مگر اس دوران کبھی آپؐ سے بدخلقی کا صدور نہیں ہوا، حضرت زید بن ثابتؓ کو آپؐ نے اپنا منہ بولابیٹا بنایاتھا آپؐ کے حسن اخلاق کی وجہ سے اپنے والدین کے پاس جانے سے انکار کردیا۔آپؐ کی گیارہ ازواج مطہرات تھیں مگر کسی نے بھی آپؐ کی بدخلقی کی شکایت نہیں کی جب کہ بیویاں عام طورپر شوہر کی شکایت کردیتی ہیں، آپؐ کے کثیر تعداد میں صحابہ کرامؓ تھے جنہوں نے تنگی ترش میں آپؐ کا ساتھ دیا، جنگوں میں شریک رہے، انہوںنے آپؐ کو ہر طرح کے حالات میں پرکھا مگر کبھی کسی نے آپؐ کے غیراخلاق مند ہونے کی شکایت نہیں کی بلکہ اعلیٰ اخلاق کی شہادت پیش کی۔ ان باتوں سے ثابت ہوتاہے کہ علماء اسلام کو بھی اپنے زمانے میں نمایاں اور اعلیٰ اخلاق پر فائز ہونا چاہئے جن کی شہادت ان کے متعلقین پیش کریں۔ اسی صورت میں وہ دین کی حقیقی خدمت انجام دے سکتے ہیں۔

انبیاء نے دعوت کی راہ میں اذیتیں برداشت کیں

انبیائی کردار کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ انبیاء کرام نے دعوت دین کی راہ میں ایذائیں برداشت کیں، ان کو طرح طرح سے ستایاگیا، ان کی راہ میں کانٹے بچھائے گئے ، ان پر پتھر برسائے گئے، ان کے خلاف جنگ کی گئی، ان پر طرح طرح سے اعتراضات کئے گئے مگر ان باتوں سے انہوںنے کارِ دعوت کو ترک کیا نہ بددل ہوئے اور نہ ہی قوموں کی خیرخواہی سے کنارہ کشی اختیار کی بلکہ وہ اپنے مشن پر جمے رہے۔ علماء اسلام وارث انبیاء ہیں اس حوالے سے ان کو بھی یہی نمونہ پیش کرنا ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ارشاد میں اس کی پیش گوئی کی ہے کہ امت میں ایک گروہ ایسا ضرور موجود رہے گا جو دین کی بصیرت حاصل کرے گا اور حق پر قائم رہے گا چاہے اس کی جتنی بھی مخالفت ہو۔ ارشاد نبویؐ ہے۔

’’اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیرکا ارادہ کرتاہے، اسے دین کی سمجھ عطا کردیتاہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں دینے والا اصلاً اللہ تعالیٰ ہے اور ہمیشہ امت میں ایک گروہ حق پر قائم رہے گا اور جو اس کی مخالفت کرے گا اس سے اس کو کوئی نقصان لاحق نہیں ہوگا یہاں تک کہ قیامت واقع ہوجائے۔‘‘ (بخاری ، کتاب العلم نمبر اے، ۳۸۶، ۳۶۴۱، ۷۳۱۲، ۴۴۱۲(

انبیا نے عملی نمونہ پیش کیا

انبیائی کردار کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوموں کے سامنے عملی نمونہ پیش کیا۔ محض زبانی طورپر لمبی چوڑی باتیں نہیں بنائیں۔ ایمان کے اعلیٰ معیار پر وہ قائم تھے اسی اعتبار سے ان کی سخت آزمائشیں بھی ہوئیں، عبادت الٰہی کی طرف اگر وہ لوگوں کو بلاتے تھے تو خود بھی عبادت انجام دیتے تھے۔ اگر انہوں نے قوموں کو جہنم کی آگ سے ڈرایا اور مختلف اعمال سے بچنے کی تلقین کی تو خود بھی جہنم کی آگ سے بچنے کے لئے ان اعمال سے پرہیز کیا۔ جنت کا شوق دلایا تو خود بھی اس کے لئے مشتاق ہوئے۔ جہاد کی فضیلت بیان کی تو خود بھی میدان جنگ میں تشریف لے گئے اور دشمن کا مقابلہ کیا، اگر دنیا کی ناپائیداری کا قوم کو سبق پڑھایا تو خودبھی دنیا سے بے راغب رہے۔ کاردعوت میں اگر آپؐ کے صحابہؓ نے مشکلات اٹھائیں تو آپؐ نے بھی ان سے زیادہ مشکلات اٹھائیں چنانچہ غزوۂ خندق کے موقع پر واقعہ پیش آیا کہ ایک صحابی نے آکر بھوک کی شکایت کی اور اپنے پیٹ پر ایک پتھر بندھے ہونے کا راز فاش کیا تو اس وقت آپؐ کے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ آپؐ کی تعلیمات میں اگر صدق و امانت اور عفو درگذر کی تلقینات ملتی ہیں تو آپؐ خود امین و صادق رہے۔ اور عفوو درگذر کا مظاہرہ فرمایا غرض کہ کسی بھی پہلو سے آپؐ کی زندگی کاجائزہ لیاجائے تو وہاں نبی کا عملی نمونہ موجود ملے گا۔ عمومی طورپر تمام انبیاء نے اپنی قوموں کے سامنے عملی نمونہ پیش کیاہے مگر خاص طور سے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سراپا عمل رہی ہے۔ علماء اسلام نبیوں کے وارث ہیں تو ان کو بھی عملی نمونہ پیش کرنا ہوگا اور اپنی زندگیوں کو تضادات سے بچانا پڑے گا۔ زبان سےخدا پرستی کی باتیں کی جائیں اور دل پر مادہ پرستی حاوی ہو، زبان سے عفوو درگذر کی تلقینات ہوں اور عملاً انتقامی جذبہ کی پرورش ہو، زبان سے جہنم کی ہولناکی کے بیانات ہوں اور عملاً اس سے بے خوفی کے مظاہرے ہوں، زبان سے جنت کی ترغیبات ہوں اور عملاً دنیا کی رنگینیوں پر فدائیت ہو تو ان تضادات کو لوگ محسوس کیے بنا نہیں رہیں گے اور پھر علماء کے دل بے اثر ہوجائیں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ علماء انبیاء کے اس روش وکردار کو اپنی زندگیوں میں پیدا کریں۔

دینی حمیت و غیرت

علماء کے لئے ضروری ہے کہ ان کے اندر دین کے تعلق سے حمیت و غیرت کا مادہ عام مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ پایا جائے۔ دین کے لئے ان کا دل تڑپے، دینی تعلیمات کی پامالی پر انہیں غصہ آئے۔ دین کے لئے ان کے اندر جوش جذبہ جاگ اٹھے۔ بے حمیتی و بے غیرتی کی حالت میں انسان کو اپنی ذلت کا بھی احساس نہیں ہوتا تو وہ دین کی پرواہ کیا کرے گا۔ بے غیرتی سے انسان خود غرض اور ذاتی مفادات کا قیدی بن جاتاہے اور ایسے آدمی سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی جو خودغرض ہو۔ دینی غیرت و حمیت کے لئے قرآن و حدیث میں مستحکم دلائل موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمَن یُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّہِ فَہُوَ خَیْرٌ لَّہُ عِندَ رَبِّہِ       (الحج:۳۰(

’’اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی حرمتوںکا احترام کرے تو یہ اس کےرب کے نزدیک خود اسی کے لئے بہتر ہے۔‘‘

ایک حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’بے شک اللہ تعالیٰ کو غیرت آتی ہے اور غیرت الٰہی یہ ہے کہ مومن حُرمات کا ارتکاب کرے۔‘‘ (بخاری کتاب النکاح، باب الغیرۃ ۵۲۲۳(

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سراپا رحمت تھے، عفو ودرگذر آپؐ کی امتیازی صفات میں سے ہیں لیکن جب دین کی پامالی ہوگی یا تعلیمات دین سے بے اعتنائی برتی جاتی یا حدود و شریعت توڑے جاتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آتا اور آپؐ ایسا کرنےوالوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے:

’’حضرت عائشہ سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ جب کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو معاملوں کے درمیان اختیار دیاگیا تو آپؐ نے ان میں سے آسان معاملے کا انتخاب فرمایا الاّ یہ کہ اس سے گناہ کے صدور کا امکان ہو۔ ایسی صورت میں آپؐ اس سے الگ ہی رہتے۔ قسم خدا، نبی کریمؐ نے کبھی بھی اپنی ذات کے لئے کسی سے بدلہ نہیں لیا اور یہ کہ اللہ کی حرمت پامال کی جارہی ہو، ایسی صورت میں آپؐ اللہ واسطے بدلہ لیتے تھے۔‘‘ (بخاری کتاب الحدود باب اقامۃ الحدود والانتقام محرمات اللہ(

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دینی غیرت و حمیت کی ایک مثال وہ واقعہ ہے جس میں ایک مخذومیہ عورت کی چوری کرنے پر اسامہ بن زید کے ذریعہ سزا میں تخفیف کی سفارش کی گئی جس پر آپؐ سخت غضبناک ہوئے اور ارشاد فرمایا:

’’قسم خدا کی اگر فاطمہ بنت محمد چوری کرتی تو محمدؐ اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘ ) خاری ۶۷۸۸، کتاب الحدود(

ایک دوسرا واقعہ مذکور ہے حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سےو اپس تشریف لائے میں نے ایک صحن پردے سے سجادیا جس میں تصویریں تھیں جب آپؐ نے اسے ملاحظہ فرمایا تو اسےنوچ ڈالا اور فرمایا قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان کو ہوگا جو تخلیق الٰہی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ (بخاری کتاب اللباس، ۵۹۵۴، مسلم ۵۵۲۸(

احادیث میں ان کے علاوہ متعدد واقعات موجودہیں جن میںآپؐ نے دینی غیرت و حمیت کامظاہرہ فرمایا ہے۔ صحابہ کرامؓ بھی غیرتِ دین کے حامل تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے مانعین زکوٰۃ کے خلاف علم جہاد دین غیرت ہی کی بنیادپر بلند کیا تھا حالانکہ وہ دین سے بالکلیہ خارج نہیں ہوگئے تھے۔ (بخاری ۱۴۰۰،۱۴۵۷(

رسول اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار مکہ سے یکطرفہ شرائط پر صلح کرلیا تو حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احتجاج کیا اور کہاکہ کفار کے مقابلے میں ہم بزدلی کیوں دکھائیں؟ یہاں بھی دراصل غیرت دین کام کررہی تھی۔ حضرت عمرؓ نے اپنے صاحبزادے سے محض اس وجہ سے گفتگو ترک کردی کیوں کہ انہوں نے عورتوں کے مسجد جانے کے سلسلے میں رسول اللہؐ کی مخالفت کی تھی۔ ان کے علاوہ دیگر بہت سے واقعات موجود ہیں جن سے صحابہ کرامؓ کی دینی غیرت و حمیت کاپتہ چلتاہے۔ فی زمانہ دینی تعلیمات کی پامالی علماء کرام کی نظروں کے سامنے ہوتی ہے مگر اس سے ان کے سلوک و رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آتی نہ پامالی کرنے والوں کے خلاف غصہ آتاہے نہ ان کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے اور نہ جذبۂ امر بالمعروف و نہی عن المنکر پیدا ہوتا ہے۔ یہود کے علماء کے سامنے منکر کا ارتکاب ہوتاتھا مگر وہ اس سے روکتے نہیں تھے نتیجہ کے طورپر وہ خود ذلت و مسکنت کے شکار ہوگئے اس کا حوالہ قرآن مجید میں دیاگیا ہے۔ ارشاد ہے :کَانُواْ لاَ یَتَنَاہَوْنَ عَن مُّنکَرٍ فَعَلُوہُ لَبِئْسَ مَا کَانُواْ یَفْعَلُونَ(المائدہ:۷۹(

’’انہوں نے ایک دوسرے کو بُرے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑدیاتھا۔ بُرا طرزعمل تھا جو انہوں نے اختیار کیاتھا۔‘‘

امانت و دیانت داری

علماء کے لئےایک وصف جو لازمی شرط کی حیثیت رکھتاہے وہ امانت و دیانت داری کا ہے۔ انبیاء کرام نے جب اپنی قوموں کے سامنے اپنی نبوت و رسالت کا دعویٰ پیش کیا تو انہیں اپنی امانت و دیانت داری کاثبوت پیش کیا اور کہاکہ میں ’’رسول امین‘‘ ہوں۔ یعنی اے قوم کے لوگوں میں تمہارے ساتھ کسی مکرو فریب کا معاملہ نہیں کررہاہوں بلکہ اس امانت کو تم تک پہنچا رہاہوں جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کیاہے۔ انبیاء کرام کی نبوت سے پہلے کی زندگی بھی امانت و دیانت کاپیکر ہوا کرتی تھی۔ لیکن نبی پر خیانت کاالزام عائد نہیں کیاگیا۔ علماء وارث انبیاء ہیں تو انھی کے مثل اپنی زندگیوں کو امانت و دیانت سے مزین کرنی پڑیںگی۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

إِنَّ اللّہَ یَأْمُرُکُمْ أَن تُؤدُّواْ الأَمَانَاتِ إِلَی أَہْلِہَا   (النساء:۵۸(

’’بے شک اللہ تمہیں حکم دیتاہے کہ امانتیں امانت والوں کو ادا کرو۔‘‘

اس آیت کے ذیل میں حافظ ابن کثیر دمشقی لکھتے ہیں:

’’امانت کا دائرہ ان تمام امنتوں پر محیط ہے جو انسان پر واجب ہیں خواہ وہ حقوق اللہ ہوں جیسے نماز، زکوٰۃ، کفارات الزکوٰت نذر اور روزہ وغیرہ۔ یہ انسان پر امانت ہیں جن کا ادا کرنا ضروری ہے گرچہ دوسرے انسان اس پر مطلع نہ ہوسکیں۔ یا حقوق العباد ہوں جن کا ادا کرنا واجب ہے، یا اسی طرح ایک د وسرے کے پاس رکھی گئی امانت ہوں اور رکھنے والا ہی جانتاہے اور اس پر کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔ اللہ نے انھیں ادا کرنے کا حکم دیاہے۔ اگر دنیا میں یہ ادا نہ ہوئیں تو قیامت کے دن ادا کرنا ہوگا۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر۱؍۵۷۷، موئسۃ الریان ۲۰۰۷ء؁(

امانت کی ضد خیانت ہے خیانت حقوق اللہ میں بھی ہوسکتی ہے اور حقوق العباد میں بھی۔ مادی چیزوں میں بھی ہوسکتی ہے اور معنوی چیزوں میں بھی خیانت ہوسکتی ہے۔ اگر ایک عالم خیانت کا مرتکب ہونے لگے تو خود اس کے معاملات خراب ہوئے بنا نہ رہیںگے ایسی صورت میں وہ قوم کی غلط رہ نمائی کا بھی مرتکب ہوجائے گا اسی لئے سلف نے اس کی سخت خدمت کی ہے۔ امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں۔

’’سلف کہاکرتے تھے دو قسم کے لوگوں سے بچنا ضروری ہے۔ ایک نفس پرست سے جس کو نفس پرستی نے فتنے میں مبتلا کردیاہو۔  اور دوسرا دنیادار سے جس کو دنیاداری نے اندھا کررکھا ہو۔ اور کہاکرتے تھے عالم فاجر اور عابد جاہل کے فتنوں سے بھی بچو کیوں کہ ان دونوں کا فتنہ ایسا ہے کہ آدمی مبتلا ہوسکتاہے۔ ان کی مثال یہودونصاریٰ کی طرح ہے۔ یہود نے حق کو جانتے ہوئے اس کی پیروی اختیار نہ کی اور نصاریٰ بغیر علم کے عمل کرتے اور گمراہ ہوئے۔‘‘ (اقتضاء الصراط المستقیم ۱؍۱۱۹(

عہدہ و مناصب بھی امانت ہیں اور جاہل لوگوں کو عہدہ دینا ادائی امانت کا تقاضا ہے لیکن اگر نااہل اشخاص عہدہ و مناصب پر فائز ہونے لگیں تو قیامت کی علامتیں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ ایک حدیث میں وارد ہے ایک صحابیؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیاکہ قیامت کب واقع ہوگی؟ آپؐ نے فرمایاکہ جب امانتیں ضائع ہونے لگیں۔ صحابیؓ نے پوچھاکہ امانت کاضائع ہونا کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایاکہ نااہل کو عہدہ دے دیاجائے۔‘‘ (بخاری: ۶۴۹۴(

مالیات میں بھی خیانت کا امکان ہے۔ مال کمانے کے لئے دین کو استعمال کرنے کی مذمت قرآن مجید اور احادیث میں وارد ہے۔ اسی طرح ناحق کسی کے مال پر اپنا حق جتانے کی وعید بھی وارد ہے۔ اجتماعی زندگی میں مالی امور میں خرد برد کرنے کے سلسلے میں متعدد حدیث میں ممانعت وارد ہے۔ ارشاد ہے:

’’اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کو بندوں کاذمہ دار بنایا اور وہ ان کے ساتھ فریب کرتا رہا ہوتو جب وہ مرے گا تو اللہ اس پرجنت حرام کردے گا۔‘‘ (مسلم ۳۶۳(

اسلامی تعلیمات میں معمولی چیزمیں خیانت کو خیانت تصور کیاگیا چاہے وہ بظاہر بے وقعت چیز ہی کیوں نہ ہوں۔ ایک حدیث میں اشاد ہے:

’’جس شخص کو میں نے کسی کام پر لگایا پھر ہم سے ایک سوئی یا اس سے کم یا زیادہ چھپالے تو وہ خیانت ہے۔ قیامت کے دن وہ اسے لے کر آئے گا۔(مسلم:۴۷۴۳(

ایک حدیث میں وارد ہے: اللہ تعالیٰ طیب ہے اور طیب ہی کو قبول کرتا ہے۔ لوگوں کو انھیں باتوں کا حکم دیا ہے جن باتوں کا اس نے اپنے انبیاء کو حکم دیاتھا اور وہ باتیں یہ ہیں:

یَا أَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحاً إِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِیْمٌ  )   المومنون: ۵۱(

’’اے رسولو! پاکیزہ روزی کھائو اور نیک اعمال کرو بے شک تم جو کچھ کرتے ہو میں جانتا ہوں۔‘‘

ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُلُواْ مِن طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ         (البقرہ:۱۷۲(

’’اے مومنو! جو پاکیزہ روزی ہم نے تمہیں دی ہے وہ کھاؤ۔‘‘

ایک شخص دور دراز سفر طے کرتا ہے۔ غبار آلود اور الجھے بالوں والا ہوتا ہے اپنے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی طرف پھیلائے پکارتا ہے اے رب !اے رب! حالانکہ اس کا کھانا حرام ہے، پہننا حرام ہے اور لباس حرام ہے اور حرام سے غذا حاصل کیا ہوا ہے تو بھلا اس کی دعا کیسے قبول ہوسکتی ہے۔ (مسلم:۲۳۴۶)

خیانت کا تعلق علم سے بھی ہے۔ اس لئے کہ مال کے مقابلے میں علم میں خیانت کے اثرات زیادہ دور رس ہوتے ہیں۔ علم میں خیانت پورے معاشرہ کو تباہ و برباد کرسکتی ہے۔ چنانچہ تاریخ میں ایسے علماء کی مثالیں موجود ہیں جو گمراہ ہوئے تو ان کی گمراہی کی وجہ سے ان کے زمانے کے بہت سے لوگ بھی گمراہ ہوگئے۔ علم میں دیانت یہ بھی ہے کہ جس بات کا علم ہو اسی کے بارے میں فتویٰ دیاجائے، جس بات کا علم نہ ہو اس کے بارے میں اپنی لاعلمی کا اظہار کردے۔ حدیث جبریل میں جب حضرت جبریل علیہ السلام نے آپؐ سے مختلف سوالات کیے تو ان میں ایمان، اسلام، احسان کی تفصیلات آپؐ نے بتادیں مگر قیامت کے بارے میں سوال کے جواب میں آپؐ نے فرمایاکہ سوال کرنے والے ہی زیادہ واقف ہیں۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ عدم واقفیت کا اظہارکوئی عیب نہیں ہے۔

تواضع و انکساری

علماء کے لئے ایک اہم چیز تواضع و انکساری بھی ہے۔ سچے عالم کو غرور اور خودپسندی کا مرض لاحق نہیں ہوتا کیوں کہ وہ جانتاہے کہ علم ایک بحرناپید کنار ہے اور کوئی بھی شخص اس کی آخری حد کو نہیں پہنچ سکتا۔ خود اللہ تعالیٰ نے وضاحت کردی ہے کہ انسان کو تھوڑا ہی علم عطا کیاگیا ہے:

وَمَا أُوتِیْتُم مِّن الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِیْلاً    (الاسراء:۸۵)

’’اور تمہیں تھوڑاہی علم دیاگیا ہے۔‘‘

حقیقی علم اللہ تعالیٰ کی معرفت کا نام ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کو جان لے وہ کبر اور گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے اندر خشیت ، خوف ،تقویٰ اور خاکساری کی صفات پیدا ہوںگی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

إِنَّمَا یَخْشَی اللَّہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاء          (فاطر:۲۸)

’’اور اللہ سے اس کے عالم بندے ہی ڈرتے ہیں۔‘‘

انسانی ذہنی ارتقاء پذیر واقع ہونے کے ساتھ متفاوت بھی واقع ہواہے یعنی عمر کے ساتھ علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح افراد کے درمیان علم کی صلاحیتیں جدا ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ علم بھی ارتقاء پذیر ہے یعنی کل تک ایک بات متحقق طورپر معلوم نہیں تھی مگر آج معلوم ہوگئی ہے اور آئندہ کل اس میں مزید معلومات کے امکانات ہیں لہٰذا یہ نہیں کہاجاسکتاکہ آج جس کے پاس جتنا علم ہے وہ مکمل ہے۔ اس تصور سے علماء کے اندر خاکساری اور تواضع کی صفت پیدا ہوتی ہے۔

اخلاص

علماء کے لئے جو صفات ضروری ہیں ان میں ایک اخلاص بھی ہے اخلاص کے معنی ہیں کہ تمام دینی عمل کو خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لئے انجام دینا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہِ أَحَداً                         (الکہف:۱۱۰)

’’جو شخص اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہرائے۔‘‘

ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ میں اپنی امت کے بارے میں شرک کے اندیشہ میں مبتلا ہوں مگر یہ نہیں کہتاکہ لوگ سورج اور چاند یا کسی بت کی پوجا کرنے لگیںگے بلکہ مجھے اسی کا اندیشہ ہے کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کے لئے کام کریںگے اور ان کے اعمال کے پیچھے چھپی ہوئی خواہشات نفس کارفرما ہوںگی۔‘‘ (ابن ماجہ)

اخلاص کے مواقع تین ہیں۔ کسی کام کو انجام دینے سے پہلے، کام کے دوران اور کام کے بعد تینوں حالتوں میں اخلاص مطلوب ہے۔ بعض وقت اخلاص سے کام انجام دیا جاتاہے مگر جب اس کی بنیاد پر آدمی کی شناخت ہونے لگتی ہے تو متعلق فرد کے اندر خودنمائی اور گھمنڈ کی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے۔ اسی طرح بعض وقت کام کا آغاز اخلاص سے ہوتاہے مگر جب کام سے دنیاوی فوائد بھی ظاہر ہونے لگتے ہیں تو اصل یہی فوائد قرار پاجاتے ہیں اور اصل مقصد نظرانداز ہونے لگتے ہیں۔ حدیث میںارشاد ہے:

’’اللہ تعالیٰ صرف خالص عمل ہی کو قبول کرتاہے اور اس عمل کو قبول کرتا ہے جو محض اس کی رضا کے لئے انجام دیاجائے۔‘‘(النساء)

دین میں اخلاص کی اہمیت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ اگر آدمی نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنی جان ہی کیوں نہ دے دی ہو اگر اس کے اندر اخلاص نہیں ہے تو اللہ کے یہاں اس کا اجر نہیں ہے۔

اخلاص کے منافی اعمال بھی جان لینا ضروری ہے ان میں دنیا طلبی، شہرت طلبی، جاہ طلبی، حصول منصب، حصول عزت، ریا طلبی، خودسری، نفس پرستی اور خودپسندی خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

اخلاص میں کمی کے مظاہرے درج ذیل ہیں: اپنی تعریف سے خوش ہونا، اس کی خواہش رکھنا، مخلوق کی خوشنودی کے لئے تگ و دوکرنا، اپنے کاموں کا خود سے چرچا کرنا یا اپنے حواری سے چرچا کرنا، عبادتوں کی ادائیگی میں سستی دکھانا، جاہ و منصب کی طلب رکھنا، غصہ کرنا، لوگوں سے بدظنی میں مبتلا ہونا، لوگوں کو حقیر جاننا، اختلاف رائے پر طعن و تشنیع کرنا، تنقید برداشت نہ کرنا، فخرو مباہات میں مبتلا ہونا وغیرہ۔

اکتوبر 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau