کشمیری خواتین کی صورتحال

امتیاز احمد وانی

عورت سماج کی معمار ہے اور نصف انسانیت بھی۔ عورت کو نظرانداز کرکے نوع انسانی کے لیے جو  پروگرام بنے گا وہ ناقص اور ادھورا ہوگا۔ ہم ایسے کسی سماج کا تصور نہیں کرسکتے جو تنہا مردوں پر مشتمل ہو اور جس میں عورت کی ضرورت نہ ہو۔ دونوں ایک دوسرے کے محتاج ہیں، نہ عورت مرد سے بے نیاز ہوسکتی ہے اور نہ مرد عورت سے بے نیاز۔ ان کےربط کی نوعیت سماجی و معاشرتی بھی ہے اور جنسی و نفسیاتی بھی۔ ایک طرف اجتماعی زندگی ان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ قدم سے قدم اور شانہ سے شانہ ملا کر کام کریں تو دوسری طرف جنسی تقاضے ان کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے دامن میں سکون اور اطمینان ڈھونڈیں۔

تہذیب و تمدن کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جیسے جیسے  معاشرے کے تانے بانے بُنے جانے لگے ویسے ویسے عورت سے متعلق متعدد سماجی و مذہبی بندشیں شدید ہوئیں ۔ اُن میں جکڑ کر عورت ایک مظلوم و محکوم ہستی بن کر رہ گئی، اس کی صلاحیتیں مفقود ہوگئیں، بہت سے حقوق سے محروم کردی گئی۔ گزرتے وقت کے ساتھ   استحصال کے مختلف طریقے  رواج پاتے گئے  مرد کا غلبہ کا نظام قوت کے ساتھ رائج ہوا۔  یہ تبدیلی کسی ایک قوم یا خطہ تک مختص نہیں رہی بلکہ مختلف النوع صورتیں تمام  عالم میں نمودار ہوئیں۔غالباً  قدیم  میں ہندوستا نی معاشرہ   میںعورتوں کو نقل و حرکت کی آزادی حاصل تھی۔ وہ عوامی زندگی میں  برابر کی شریک تھیں، لیکن  بعد کے ادوار میں نا انصافی پر مبنی رواج شروع ہوئے۔

اجتماعی زندگی اس وقت ترقی کرتی ہے جب  دونوں کا سیاسی و سماجی رشتہ ٹھیک ہو ۔ عورت کی سعی و جہد میں جو خلاء رہ جائے اس کو مرد پُر کرے اور مرد کی دوڑ دھوپ میں جو نقص اور کمی ہو اس کو عورت پورا کرے۔ لیکن اگر مرد اور عورت کے سماجی و معاشرتی رشتوں میں عدم توازن اوربے اعتدالی پیدا ہوجائے تو معاشرہ زوال اور انحطاط کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ توازن نہ ہونے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اجتماعی زندگی کے بعض گوشے خالی اور ویران ہونے لگتے ہیں   یہ باتیں معاشرہ کے لیے تباہ کن ہے ۔ تمدنی ومعاشرتی حالات پر غوروفکر کرنے والا اس اعتراف پر مجبور ہے کہ عورت اور مرد کے ٹکرائو نے  تہذیب کی بنیادیں ہلا دی ہیں اور انسان کو ایک ایسے مقام پر لاکھڑا کردیا ہے جہاں سکون اور چین کے ہزار سامان کے باوجود وہ سکون سے محروم ہے۔

عورت زندگی کے ہر بہت  سے پہلوؤں میں اپنا لوہا منواسکتی ہے  جہاں بھی اسے موقع فراہم ہوا اس نےاپنی اہلیت کو خوبصورتی کے ساتھ سچ ثابت کردکھایا۔ تہذیب و تمدن کی ترقی میں عورت کا بھر پور رول رہا ہے تاہم وقت گزرتے اس کی حصہ داری کو پس پشت ڈال دیا گیا ۔ سماج میںاس کے مشترکہ تعاون کے باوجود ہ امتیازی کے سلوک گھیرے میں آتی رہی ۔ اس کو ثانوی حیثیت دی جانے لگی اور اسے بنیادی حقوق کے حصول سے دور کردیا گیا۔ظلم و ستم کی بہت سی شکلیں ہیں اور استحصال کے نت نئے ہتھکنڈے ہیں۔ قبیح منظر ہماری آنکھوں کے سامنے سے روزانہ گزرتے ہیں۔

انہیں دردناک مناظر میں سے ایک منظر کشمیر سے معاشرے میں عورتوں کے ساتھ ہونے والا امتیازی سلوک بھی ہے جس کی روایت صدیوں پرانی ہے۔ صدیوں کے ظلم و ستم سے دوچار خواتین کو جہاں اور جس شکل میں بھی آزادی کی کوئی رمق نظر آئی وہ بلا سوچے سمجھے اس کے پیچھے دوڑ پڑیں۔ کشمیر میں  شورش  اورٹکرائو کا ماحول موجود ہے جس کے منفی اور مضر اثرات یہاں کے عوام پر پڑے  ہیں۔  لوگ  ذہنی تنائو سے دوچار ہیں۔ یہ دبائو زندگی کے ہر شعبے پراثرانداز ہے۔ موجود ہ نسل منفی اثرات میں پرورش پاکر شدید مسائل سے دوچار ہے۔ ان نامساعد اور کشیدہ حالات میں خواتین بھی متاثر ہوئی ہیں۔

یہاں انسانی نفسیات کا توازن بگڑ گیا ہے۔ایک سماج اخلاقی طور پر تب ہی مستحکم ہوتا ہے جب ایک عورت کو بحیثیت ماں اور بیوی  حقوق دیئے جاتے ہیں۔ سماج  ترقی پاتا ہے جب خواتین کو تعلیم کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ سماج، قوم اور ملک کا مستقبل  روشن ہوتا ہے جب خواتین کو تعلیم سے دُور نہ رکھا جائے۔ سماج تقافتی و تمدنی لحاظ سے ہی مضبوط ہوتا ہے جب خواتین کوگھر اور گھرسے باہر کی ذمہ داریاں نبھانے کا حوصلہ دیا جاتا ہے۔ اُن کو  تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔ سماج کی روحانی نشونما  ہوپاتی ہے جب ایک ماں، ایک بیٹی اور بہن کا احترام ہوتا ہے۔  سماج سیاسی لحاظ سے تب ہی فروغ پاتا ہے جب خواتین کو اِجتماعی امور میں مواقع دیئے جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ملک کی ترقی کے ساتھ مضبوط ریاست جموں وکشمیر پر تو جہ دی جائے۔ یہاں کی خواتین کو  زندگی کے ہر شعبہ میںسہولیات فراہم کی جائیں۔

 

نومبر 2017

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau