موجودہ ہندوستان میں ہندتو کی سماجی قوت اور نفوذ

عزائم، حکمت عملی اور ذیلی تنظیموں کی کارکردگی کی روشنی میں ایک تجزیاتی مطالعہ

جاوید علی

یہ نا قابل تردید حقیقت ہے کہ ہندتوا تحریک نظریاتی تحریک سے بہت آگے بڑھ کر ہندوستانی سماج میں طاقت ور نفوذ حاصل کرچکی ہے۔ ذیل کی سطور میں ہم نکات وار اس کا جائزہ لیں گے۔ یہ جائزہ تعارفی نوعیت کا ہے۔

ہندتو کے سیاسی سفر سے نہ صرف ہم سب واقف ہیں بلکہ اس کے راست مشاہد بھی رہے ہیں، اس لیے اس کا جائزہ بالعموم آج کے مطالعہ میں شامل نہیں ہے۔ حسب ضرورت کسی بات کو واضح کرنے کے لیے اس کا حوالہ دیا گیا ہے۔

موجودہ ہندوستان پہلے کے ہندوستان سے کافی مختلف ضرور ہے لیکن عجوبہ بالکل نہیں ہے۔ رام مندر کی پوری تحریک ہمارے سامنے ہے۔ بہرحال ایک عرصے سے جو باتیں undercurrent تھیں وہ کھل کر سامنے آگئی ہیں (جگہ کی تنگی کی وجہ سے اس کی متعین مثالیں
نہیں دی جارہی ہیں)۔ہندتو سماجی، ثقافتی اور سیاسی سطح پر کافی مضبوط ہوا ہے۔

۱۱؍ ستمبر ۲۰۰۱ء ( نائن الیون)کے بعد عالمی صورت حال میں غیرمعمولی تبدیلی آئی۔ امریکہ کی دہشت گردی مخالف جنگ (War on Terror)سے ملت اسلامیہ کا بہت نقصان ہوا اور اس سے ہندتو کی طاقتوں کو مبینہ طور پر غیرمعمولی قوت ملی۔ کمیونسٹ روس کی ہار کے بعد بالعموم پہلے ہی دنیا یک رخی سی ہوگئی تھی اور تاریخ کے خاتمے کا اعلان کردیا گیا تھا۔ بی جے پی کی قیادت میں مرکزی حکومت (۱۹۹۹ء سے ۲۰۰۴ء تک) نے طلبا کی ایک کل ہند اسلامی تنظیم پر مکمل پابندی لگادی۔ حکومت War on Terror میں برابر کی شریک تھی۔ جب کہ دوسری طرف ہندتو کی دیگر پرتشدد طاقتوں کو مبینہ طور پر برابر تحفظ ملتا رہا۔ ۲۰۰۲ء کے مسلم کش فسادات (گجرات میں) اور ۲۰۰۴ء کے انتخابات کی شکست کے بعد حکمت عملی میں تبدیلی آنے لگی۔ اور اب ہندتو کی مختلف تنظیمات کے درمیان کاموں کی تقسیم واضح طور پر ہونے لگی۔ جب کہ مرکز میں کانگریس کی حکومت نے Soft Hindutva کی سیاست چلائی۔

عزائم اور خواب: ہم سب جانتے ہیں کہ گرو گولوالکر کے مطابق سنگھ کے اندرونی دشمن تین ہیں۔ ۱۔ مسلمان ۲۔ عیسائی اور ۳۔ کمیونسٹ۔ یہاں صرف مسلمانوں پر گفتگو ہوگی۔

( الف) مسلمانوں کے سلسلے میں کیا عزائم اور خواب ہیں اس کے لیے ساورکر کی ۱۹۶۰ء کی تحریر کے کچھ حصہ کا خلاصہ پیش کیا جارہا ہے۔ یاد رہے ساورکر ان کے لیے بہت ہی قابل احترام و تقلید شخصیت ہیں۔ہندتو کا تصور انھی کا دیا ہوا ہے۔

مسلمانوں کے سلسلے میں ساورکر کی تحریر کا خلاصہ ان کی کتاب Six Glorious Epochs of Indian History سے ماخوذ ہے:

ساورکر کا تجزیہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی آمد سے قبل غیرملکی حملہ آوروں کا واحد مقصد صرف سیاسی تسلط یا اقتدار تھا۔ جب کہ نئے دشمن یعنی مسلمانوں کا مقصد ہندوؤں کو سیاسی طور پر کچلنا تو تھا ہی، اس کے ساتھ ان کا مقصد ہندو مذہب کو تباہ و برباد کرنا تھا (پیراگراف ۳۱۵، ساورکر نے اپنی پوری کتاب کے ہر پیراگراف کا نمبر دیا جس کا حوالہ یہاں اور آئندہ دیا جائے گا)۔ ان کے بقول عیسائیوں کا بھی یہی مقصد تھا اور انھوں نے لاکھوں ہندوؤں کو تلوار کی نوک پر عیسائی بنایا۔

ساورکر کہتے ہیں کہ ہندوؤں نے صدیوں تک مسلمانوں کا مقابلہ سیاسی سطح پر کیا ہے، اب ان کا مقابلہ مذہبی سطح پر بھی کیا جانا چاہیے۔ اس پالیسی میں مسلمانوں کا reconversion یا دوبارہ تبدیلیٔ مذہب کر کے ہندو بنانا، خواتین پر جنسی حملے اور مساجد کو بند کرنا یا ختم کردینا، نمایاں طور پر شامل ہے۔ ساورکر کے مطابق دوبارہ ہندو بنا کر، ان کی حیثیت کے مطابق مناسب ورنوں اور ذاتوں میں ضم کرلینا چاہیے، جیسا کہ ساکا، ہون اور دیگر قبائل کے ساتھ ماضی میں کیا جاچکا تھا (پیراگراف ۶۳۵)۔ ساورکر نے دورِ وسطیٰ میں مراٹھا اور شیواجی کی مذہبی پالیسی پر زبردست تنقیدیں کی ہیں کہ انھوں نے کسی موقع پر کلیان کے مسلم گورنر کی بہو اور باسن (Bassein) کے پرتگیز گورنر کی بیوی کو باعزت طور پر واپس کردیا تھا (پیراگراف ۴۴۹ تا ۴۵۸)۔ مراٹھا طاقتوں کو فتح کے بعد کس طرح جبراً مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنانا چاہیے تھا اس کا ذکر انھوں نے پیراگراف 609 تا 617 میں تفصیل سے کیا ہے۔ اس کا بیان شاید یہاں مناسب نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں ان کا قابلِ تقلید ماڈل اسپین (اندلس) ہے جہاں پندرہویں صدی عیسوی کے اختتام پر عیسائیوں نے اقتدار میں آنے کے بعد کسی شخص کو جو اپنے کو مسلمان کہے اور کوئی ڈھانچہ جس کو مسجد کہاجائے، باقی نہیں رکھا (پیراگراف ۶۲۷ تا ۶۳۵)۔ ساورکر کے مطابق مسلمانوں کے خلاف یہی کارروائی پولینڈ، سربیا، بلغاریہ، گریس اور دیگر ممالک میں دہرائی گئی۔ (پیراگراف 627 تا 630)

(ب) سنگھ میں تبدیلی: کہا جاتا ہے کہ اپنے لمبے سفر میں سنگھ کی آئیڈیولوجی میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ اور اب سنگھ کو گولوالکر اور ساورکر سے نہیں سمجھا جاسکتا وغیرہ۔ یقیناً ہر زندہ تحریک اور تنظیم میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ آج ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر سنگھ کے بڑے آئکن ہوگئے ہیں۔ جب کہ پہلے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ کوئی دلت یہ مقام حاصل کر سکے گا۔ لیکن اس کے ساتھ دلتوں کے اچھوت بنانے کی ذمہ داری مسلمانوں اور عیسائیوں پر ڈال دی گئی ہے۔ سنگھ کا ہندو راشٹر کا نصب العین ورن آشم دھرم کا آئیڈیل، راشٹر کا صرف ایک کلچر ہوتا ہے جو کہ شروع سے ہندو ہے، اس پر اصرار کہ مسلمان اور عیسائی ہندو مذہبی شخصیات کو اپنا قابل احترام پوروج تسلیم کریں۔ سب کچھ پہلے جیسا ہے۔ ان سب کے باوجود سنگھ سے بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔

حکمت عملی: اکیسویں صدی میں مکمل طور پر تقسیم کار کے اصول پر کام ہورہا ہے۔ خاص طور پر مرکز میں ( ۲۰۱۴ءمیں) حکومت سازی کے بعد اس پر پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ تقسیم گجرات کے ۲۰۰۲ء کے مسلم کش فسادات کے بعد واضح طور پر شروع ہوگئی تھی۔ اس فساد سے بی جے پی کے لیڈروں کو نکلنے میں برسوں لگے۔ دوسری طرف ملک اور بیرون ملک کافی بدنامی بھی ہوئی۔ چناں چہ پریوار کی تنظیموں کا دائرۂ کار طے کردیا گیا۔ یاد رہے پریوار میں وہ تنظیمیں شامل ہیں جہاں سنگھ کے پرچارک باقاعدہ کام کرتے ہیں۔ ان میں سنگٹھن منتری کا عہدہ ان کے لیے متعین بھی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری ہم سفر تنظیمیں اور افراد ہیں۔ وہ بھی اس اسکیم میں شامل ہیں۔

تقسیم کار

انداز گفتگو/ کام یا اسلاموفوبیا کے لحاظ سے سنگھ پریوار کی تنظیموں اور سہیوگی دلوں (ہم سفر معاون تنظیموں) کو تین زمروں میں تقسیم کرسکتے ہیں:

نرم گفتار  Subtle Islamophobia ۱؂  (دقیق یا لطیف اسلاموفوبیا والے): بی جے پی اب عموماً نرم گفتاری کی سیاسی حکمت عملی پر عمل کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کے وزرا اور اعلیٰ لیڈران مرکز میں بالعموم سخت یا قانونی طور پر قابلِ گرفت گفتگو کرنے سے پرہیز کرنے لگے ہیں۔ نریندرمودی نے اپنے وزرا تک کو میڈیا کی بری تشہیر سے متنبہ کیا ہے تاکہ بہتر حکم رانی کے ذریعے معاشی ترقی کی راہ ہم وار کی جاسکے۔ ان کا اسلاموفوبیا بالعموم اسلام اور مسلمانوں کے کارناموں کے اظہار سے تہی دامن ہوتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ سخت گفتار والوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ چناں چہ ان کے خلاف مبینہ طور پر قانونی کارروائی نہیں کی جاتی ہے۔ اگر کی بھی جاتی ہے تو بچنے کی راہ رہتی ہے۔ ان کے خلاف ہلکی دفعات پولیس کی طرف سے لگائی جاتی ہیں۔ پارٹی اور حکومت کے اعلیٰ عہدیدار کھل کر ان کی مذمت نہیں کرتے۔ اپنے اقتدار والی ریاستوں میں اب بڑے فسادات سے بچا جاتا ہے۔ کیوں کہ اس سے عمومی معاشی نقصان کے علاوہ بڑی بدنامی بھی ہوتی ہے۔

کم گفتار- آر ایس ایس Deep Islamophobia والے): یہ کم بولیں گے، لیکن اپنے اصل موقف میں کوئی تبدیلی نہیں لاتے۔ سمجھانے کے لیے وہ الفاظ بدل سکتے ہیں لیکن حقیقت نہیں بدلتی۔ سنگھ کا کہنا ہے کہ ہندو دھرم میں سب کو بچانے کی طاقت اور صلاحیت ہے۔ ان کا اصل کام تربیت، افراد سازی، سمت پر نظر رکھنا اور اپنے چنندہ افراد کو مختلف تنظیموں میں متعین کرنا ہے۔

سخت گفتار Hard Islamophobia والے: وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، اے بی وی پی، ہندو یو اواہنی (سربراہ یوگی آدتیہ ناتھ)، ہندو رکھشا دل (سربراہ بھوپندر تومر عرف پنکی چودھری)، ہندو جاگرن منچ وغیرہ شامل ہیں۔ مسلمانوں کے لیے ان کا انتہائی سخت رویہ رہتا ہے۔ مسلمانوں اور اقلیتوں کی مذمت میں سخت اور توہین آمیز الفاظ کا استعمال ہوتا ہے۔

مسلمانوں کی منھ بھرائی، گائے کی نام نہاد قربانی، ہندوؤں کا تبدیلیٔ مذہب، دہشت گردی، لو جہاد، آبادی میں اضافہ وغیرہ ان کے خاص موضوعات ہیں۔ گذشتہ کئی سال سے اب مسلم تاجروں، کاریگروں کا بائیکاٹ بھی اس میں نمایاں طور پر شامل ہوگیا ہے۔ زیادہ تر تشدد آمیز کام ان تیسرے زمرے کی تنظیموں یا مقامی گروپوں کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔ پولیس مبینہ طور پر ان تنظیموں اور افراد کی معاونت کرتی نظر آتی ہے یا پھر انھیں نظرانداز کر دیتی ہے۔ ان سب کا اصل مقصد غالباً ُُ‘‘شدھی کرن’’ یا ‘‘گھر واپسی’’ ہے۔ کیوں کہ یہ تنظیمیں اس میں پیش پیش رہی ہیں۔ بہر حال مقاصد پر آگے گفتگو کی جائے گی۔

ہم سفر تنظیمیں و افراد: اسلام اور مسلمانوں پر سخت جارحانہ حملے کرنے والی وہ تنظیمیں اور افراد بھی اس میں شمار ہوتے ہیں جو تنظیمی طور پر سنگھ میں شامل نہیں ہیں لیکن ’ہندو راشٹر‘ کے مقصد میں متفق ہیں۔ یہ اتنہائی سخت گفتار (ultra-islamophobic) ہیں۔ ان کا کام جہاں سماجی اور معاشی طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے بائیکاٹ پر لوگوں کو اکسانا ہے، وہیں ساورکر کے نسخہ کے مطابق مذہب کو بھی کھلے عام نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کا طریقہ کار جو بھی ہو لیکن یہ سب ہندتو کے لیے مخلص ہیں۔ چناں چہ نہ صرف ایسے لوگوں کو تحفظ ملتا ہے، بلکہ حسب موقع ان کی عزت افزائی کی جاتی ہے۔ جن ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں قائم ہیں، وہاں وہ دندناتے پھرتے ہیں۔ سنگھ کی طرف سے میڈیا میں کھل کر ان کی مذمت نہیں آتی۔ حالاں کہ مسلمانوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے یہاں انتہا پسندی کا سدِّ باب کریں۔

(۶ ) مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ/ اسلاموفوبیا/ اقدام/ مظالم کے ممکنہ و مبینہ مقاصد:

(۱) سیاسی طور پر بے اثر بنانا۔ بی۔ جے۔ پی الیکشن میں مسلم امیدواروں کو شاذ و نادر ہی کھڑا کرتی ہے۔ہندتو کے لیڈروں کو یقین ہے کہ مسلمان کا ووٹ ان کے خلاف جائے گا۔ اس لیے وہ پہلے ہی کہہ دیتے ہیں کہ انھیں مسلم ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے۔ بلکہ بعض تو مسلم علاقوں میں جانے سے ہی پرہیز کرتے ہیں جیسے آسام کے لیڈر ہیمنت بسوا سرما کا حالیہ بیان۔

( ۲) مسلمانوں کو demonise کرنا یا راکشس قرار دینا۔ یہ شیطان ہیں اس لیے ان کا مقابلہ شیطان بن کر ہی کیا جاسکتا ہے تاکہ ان کے خلاف گھناؤنے مظالم کو جائز قرار دیا جاسکے۔ کسی کو ان سے ہمدردی نہ ہو اور یہ چیز نارمل بن جائے۔

( ۳) ہندو مسلم اتحاد اور قربت کو روکنا۔ مذکورہ اتحاد یا قر بت کو ہندو اتحاد کی راہ کا روڑا سمجھا جاتا ہے۔ اس قربت سے اسلاموفوبیا کا پروپیگنڈہ بے اثر ہوسکتا ہے۔ باہمی اتحاد و یکجہتی سے غلط فہمیاں دور ہو سکتی ہیں۔ اور وہ مسلمان اور اسلام کو پسند کر سکتے ہیں۔ اس سے اسلام کے فروغ کی راہ کھلتی ہے۔

( ۴) مساجد کی تعمیر کی مخالفت۔ وہ اس کو مسلمانوں کی فتح کی علامت سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ یہ ایک معبد ہے جہاں خدا کی عبادت کی جاتی ہے۔ (اسی لیے بعض لوگوں نے ’مسجدپریچے (تعارف)‘ کا پروگرام شروع کیا ہے۔ جس میں غیر مسلموں کو مسجد آنے کی دعوت دی جاتی ہے)۔

( ۵) مسلمانوں کی خود اعتمادی کو خوف میں بدلنا اور ہمتوں کو توڑنا۔ تا کہ ان کی ناجائز باتوں کو بھی قبول کرلیا کریں اور خوشامدی بن کر رہیں۔

( ۶) تجارت اور ہنرمندی کی مخالفت۔ اس سے ان کی غربت میں اضافہ ہوگا اور وہ معاشی طور پر بے اثر ہوجائیں گے۔ وہ دو وقت کی روٹی میں ہی لگے رہیں گے اور بڑے معاشی عزائم سے بچیں گے۔

( ۷) اس سے ’گھر واپسی‘ کی منزل آسان ہوجائے گی اور انضمام کی راہ کھلے گی۔ دباؤ، خوف اور لالچ میں وہ شاید اسلام ہی چھوڑ دیں اور دیگر مذہب اختیار کر لیں۔

اسلاموفوبیا کے جو بھی مقاصد یا وجوہ ہوں یہ بات طے ہے کہ اس سے سماج میں انتشار بڑھے گا اور بھارت کا عالمی قوت بننا یا ’وشو گرو‘ (عالمی استاد) بننا آسان نہیں ہوگا۔

( ۷) سماجی قوت و نفوذ: اس کے لیے کچھ اعداد و شمار اور اشارے دیے جاتے ہیں جن سے ان کی قوت کا اندازہ ہوگا۔

۱۔ مذہبی طبقے میں نفوذ: اس مہم میں وشو ہندو پریشد رہ نما ہے۔ اس نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر میں فنڈ جمع کرنے کے لیے زبردست عوامی مہم 15 جنوری تا 27 فروری 2020پورے ملک میں چلائی۔ VHP کے 20 لاکھ سے زائد کارکنوں نے ساڑھے پانچ لاکھ گاؤں میں پہنچ کر چندہ جمع کیا۔ سنگھ کے تمام لوگ اس مہم میں آگے آگے رہے۔ یہ سارا چندہ حکومت کے ذریعے بنائے گئے ایک ٹرسٹ میں جمع ہوا۔ ۴۴ دنوں کی مہم میں ساڑے پانچ ہزار کروڑ روپیے جمع کیے گئے۔ اس میں غیرملکی چندہ شامل نہیں ہے کیوں کہ اس وقت تک انھیں FCRA نہیں ملا تھا۔

۲۔ جذباتی نوجوانوں میں: بجرنگ دل کام کرتا ہے جو VHP کے تحت آتا ہے۔ 14 سال کی عمر کے نوجوانوں کو ممبر بنایا جاتا ہے۔ دل کے موجودہ کنوینر موہن سولنکی کے مطابق 2012 میں دل کے ممبران کی تعداد 32 لاکھ تھی جو 2016 میں 40 لاکھ ہوگئی۔ 2020 میں یہ تعداد 55 لاکھ بتائی جاتی ہے۔

۳۔ سنگھ کی لیبر پارٹی کا نام بھارتیہ مزدور سنگھ (BMS) ہے۔ یہ ہندوستان کی سب سے بڑی لیبر یونین ہے۔ (قیام ۱۹۵۵)۔ حکومت ہند نے ممبرشپ تصدیق کے بعد ۱۹۸۴ء میں اس کودوسری سب سے بڑی لیبر یونین قرار دیا تھا۔ اور ۱۹۹۶ء میں اس کو سب سے بڑی مرکزی مزدور یونین، حکومتِ ہند کی طرف سے قرار دیا گیا۔ ۲۰۰۲ء میں بھی یہ حالت برقرار رہی۔ اس کے باقاعدہ ممبران کی تعداد ایک کروڑ کے قریب تھی۔ لیکن یہ پرانا ڈیٹا ہے۔ اس کے بعد کوئی اعداد و شمار نہیں ملتا۔ بہر حال کمیونسٹوں اور کانگریس کی ٹریڈ یونین سے یہ برسوں سے آگے ہے۔ اسی طرح بھارتیہ کسان سنگھ (قیام ۱۹۷۹ء) ہے جو بہت بڑی تنظیم ہے۔

۴۔ طلبا میں نفوذ (اکھل بھارتیہ  ودیارتھی پریشد[ABVP]): طلبا میں کام کرنے والی یہ تنظیم ۱۹۴۹ء سے قائم ہے۔ سنگھ کو اس سے بہت سارے ہمہ وقتی کارکن ملے ہیں۔ ۲۰۱۴ء میں اس کے ممبران کی تعداد ۳۲ لاکھ تھی۔ طلبا یونین الیکشن میں ۲۰۱۷ء میں انھیں کافی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن اگلے سال ان کی حالت بہتر ہوگئی۔ ۲۰۲۰ء میں آٹھ سال کے بعد حیدرآباد مرکزی یونیورسٹی کے یونین الیکشن میں ان کی نمایاں طور پر جیت ہوگئی۔ ان کے ممبران کی تعداد ابھی ۳ ملین بتائی جاتی ہے۔ (33,39,682 ممبران سال 2019-20 میں۔)

ان چند اعداد و شمار سے اس کی سماجی قوت اور نفوذ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہاں تعلیمی اور خدمت خلق کے میدان میں ان کے کارناموں کو نہیں گنایا گیا ہے، جو یقیناً اپنے اندر سبق رکھتے ہیں۔

( ۸) حکومت کی طاقت سے ہندوتو نے کن مقاصد کو حاصل کیا ہے؟ حکومت حاصل کرنے والی تنظیم بی جے پی ہے۔ اس کے ذریعے ہندتو نے اپنے کئی اہداف کو حاصل کیا: ( ۱) ایودھیا میں عالی شان رام مندر کا قیام، ہندو دھرم کے دبدبے میں اضافہ /شرکیہ اعمال میں مضبوطی آئی ہے۔ ( ۲) ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کا ۲۰۱۹ء میں خاتمہ (دفعہ ۳۷۰ منسوخ)، permanent residentبنانے والی دفعہ ۳۵ ۱ے منسوخ۔ ریاستی رہائشی قرار دنیا آسان ہوگیا۔ پارلیمنٹ میں ایک بیان کے مطابق دو سال میں ۴۲ لاکھ افراد بشمول مغربی پاکستان کے شرناتھیوں، دلتوں،نیپالیوں، سابق فوجیوں اور دیگر کو ریاست کا مستقل رہائشی قرار دیا گیا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے اگلی مردم شماری میں وہاں مسلمانوں کی اکثریت کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ ( ۳) شہری حقوق کی منسوخی یا محرومی کی تیاری۔ دسمبر ۲۰۱۹ء میں شہریت ترمیمی قانون کی پارلیمنٹ سے منظوری۔ اس کے خلاف زبردست مظاہرہ ہوا، جس کی قیادت بالعموم مسلم خواتین اور نوجوان کر رہے تھے۔ اس زبردست پرامن اور دیر پا احتجاج کی مثال آزاد ہندوستان میں نہیں ملتی۔ بہرحال اس کے ذیلی ضوابط نہیں بن سکے ہیں۔ تین طلاق قانون کی منظوری (جسے مسلم خواتین کے تحفظ کے لیے بڑے اقدام کے طور پر پیش کیا جارہا تھا) کے باوجود مسلم خواتین اس احتجاج میں پیش پیش تھیں۔ ( ۴) مسلمانوں کے ووٹ کو بے اثر بنانے یا ان کے بغیر ایک بڑی فتح یا فتوحات الیکشن میں حاصل کی۔ ابھی بھی سیاسی طور پر وہ بے اثر اور غیرمنظم ہیں۔ 2014 کے مینی فیسٹو میں مثبت اعلانات کے باوجود مسلمانوں اور دیگر کی معاشی حالت دگرگوں ہوئی ہے۔ کئی جگہ مسلم کاریگروں اور تاجروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اس مہم کے خلاف کوئی اقدام بالعموم نہیں ہورہا ہے۔ ( ۵) ارتداد کی خبریں (اجتماعی اور انفرادی) مختلف مقامات سے آتی رہتی ہیں۔ ( ۶) بعض بڑے مسلم تعلیمی اقلیتی اداروں پر مقدمات قائم ہیں، کچھ خطرے میں ہیں، اقلیتی اداروں کی منظوری تقریباً بند ہے۔

( ۸) سنگھ کی مختلف شاخوں اور حصوں کے درمیان تعاون و افتراق کی صورت حال: اسلاموفوبیا کے معاملے میں مختلف درجات کے ساتھ عمومی اتفاق ہے۔ کرنے والے اپنا کام کر رہے ہیں۔ دوسری طرف بالعموم اقتدار کی طرف سے انھیں تحفظ حاصل ہے۔ سیاسی و تنظیمی سطح پر اندرونی استحکام قائم ہے۔

لیبر اور کسانوں کی سطح پر بے چینی اور عدم اطمینان ہے۔ BMS نے حالیہ برسوں میں کئی پالیسیوں سے اختلاف کیا ہے۔ دوسری طرف کسانوں کی تنظیم بھارتیہ کسان سنگھ (BKS) قیام ۱۹۷۹ء، ( جو بڑی تنظیم ہے) اس میں بے چینی ہے۔ لیکن وہ چار فارم قوانین کی تائید کرنے میں معمولی تبدیلی اور MSP سے قانون چاہتے ہیں۔ کل ملا کر اطمینان کی صورت حال ہے۔

( ۹) سنگھ کی طاقت کا اصل سرچشمہ / ذریعہ: پرچارک کا نظام اور دوم، ان کا تصور تاریخ ہے۔ ۲۲-۲۰ سال کا ہندو نوجوان گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ، انجینئر یا ڈاکٹر پرچارک بنا لیا جاتا ہے۔ وہ سنگھ کا ایسا رکن ہے جس کی زندگی کا مقصد سنگھ کے ذریعے سماج کی خدمت ہے۔ وہ اپنی آزاد مرضی سے اس مقصد کے لیے وقف ہوتے ہیں۔ دستور میں لکھا ہے کہ اس کے لیے انھیں کوئی معاوضہ نہیں دیا جائے گا۔ جس کام کے لیے انھیں لگایا جاتا ہے وہ اس میں لگ جاتے ہیں۔ موجودہ ہندی مسلمانوں میں اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ دوسری طرف تاریخ بالخصوص خود ساختہ بھارتی تاریخ ان کے لیے مصدقہ دلیل ہے جو مقصد کے تعین کے ساتھ ترغیب کا باعث بھی ہوتی ہے۔

(۱۰) سنگھ کے لیے خطرات : ( ا) گجرات کے مسلم کش فسادات ۲۰۰۲ء سے سنگھ اور اس کے افراد کی تصویر بین الاقوامی سطح پر بہت خراب ہوگئی تھی۔ اس کی انھیں زیادہ پروا تو بظاہر نہیں ہے لیکن پھر بھی اسے نظرانداز نہیں کرسکتے۔ چناں چہ شخصی سطح پر احتیاط کی تلقین کیڈر کو کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود دسمبر ۲۰۱۹ء میں بھارت میں سی اے اے کے خلاف پرامن مظاہرین پر حفاظتی دستوں کے اقدامات اور فائرنگ سے عالمی سطح پر حکومت کی تصویر خراب ہوئی۔ چند کا حوالہ دیا جاتا ہے: ( الف) اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور ترجمان کی طرف سے تشویش کا اظہار۔ ( ب) اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مچل بیجلٹ کا آواز اٹھانا اور بھارتی سپریم کورٹ میں اس معاملے میں مداخلت کی اپیل۔ ( ج) یو این او کے ادارے انسداد نسل کشی کی طرف سے مئی ۲۰۰۰ء میں مسلمانوں کی حمایت میں بیان۔ ( د) اس کے علاوہ آزادیٔ مذہب پر امریکی ادارے USCIRF کی طرف سے ۲۰۲۰ء اور ۲۰۲۱ء میں ہندوستان پر منفی رپورٹ (لگاتار)۔ اس میں سی اے اے، تبدیلیٔ مذہب، بین مذہبی شادیوں کے خلاف قوانین اور دہلی فسادات وغیرہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔(۲) ہندوتو کے ماننے والوں کی طرف سے مزید جارحانہ اور پرتشدد اقدامات سے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔(۳) عرب، افریقہ اور تیسری دنیا کے ممالک میں اقلیتوں کے معاشی اور معاشرتی بائیکاٹ کی خبروں کا ردِّ عمل ہوسکتا ہے۔ اب تک اس کا نقصان سوشل میڈیا تک محدود رہا ہے۔ ابھی تک اس کا ادارہ جاتی نوٹس نہیں لیا گیا ہے لیکن اگر یہ سلسلہ دراز رہا تو پھر ادارہ جاتی مطالعات کے مراکز قائم ہوسکتے ہیں یا قائم شدہ اداروں میں اس کا الگ سے مطالعہ یا مونیٹرنگ ہوسکتی ہے۔ Ultra Islamophobic عناصر کی کھلے عام سرگرمیوں سے بھارت کی اخلاقی اور معتدل تصویر بھی دھندلا سکتی ہے۔۲؂

( ۴) مسلمانوں اور عیسائیوں کی طرف سے خطرات کے ازالہ کے لیے آپسی تال میل بڑھنے کا امکان ہے۔

(۱۱) خلاصہ: افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد عالمی منظرنامے پر بظاہر War on Terror میں دراڑ پڑ گئی ہے۔ اس کے اثرات بھارت پر بھی پڑیں گے۔ اس کے لیے ہماری کیا تیاری ہے؟ بہر حال یہ اس وقت ہمارا موضوع نہیں ہے۔

حوالہ جات:

۱؂ Subtle Islamophobia یا دقیق /لطیف اسلاموفوبیا کی اصطلاح پرشانت وائیکر، ریسرچر نتیانگ ٹکنولوجیکل یونیورسٹی، سنگاپور کے مضمون سے لی گئی ہے۔ پرشانت نے ۲۰۱۴ء تا ۲۰۱۸ء کے دوران میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ۳۵ تقاریر، انٹرویو، گفتگو کا جائزہ لیا اور اس میں اسلاموفوبیا کا عنصر تلاش کیا۔ محقق کے بقول ہندتو کی روایت کے مطابق مسلمانوں کو ہندوؤں سے کمتر دکھایا گیا ہے۔ محقق نے کہا کہ ان تقاریر میں صرف ‘‘ہندو تجربات’’ ہیں۔ اس میں مسلم تاریخ کا یا ان کے کارناموں کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ پرشانت نے اس کے لیے Subtle Islamophobia کی اصطلاح استعمال کی ہے۔

۲؂ Reading Islamophobia in Hindutva: An Analysis of Narendra Modi’s Political Discourse by Prashant Waikar.

https: //www.jstor.org/stable/10.13169/islastudj.4.2.0161

(a) How Hindutva hatred is jeopardising India’s gulf ties: Tabriz Ahmad, April 27, 2020, https: //m.thewire.in

(b) False propagenda: Indian embassy in Qatar after ‘Bycott Indian products’ trend on twitter; sept 29, 2021, https: //m.thewire.in

نومبر 2021

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau