روزے کی روح

انسان کی فطری صلاحیتوں اور قوتوں کے ابھرنے اور نشو و نما پانے کے لیے تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ عام طور پر ذہنوں پر مادی اور افادی پہلو کا اس قدر غلبہ ہوتا ہے کہ آدمی کے لیے حد درجہ مشکل ہوتا ہے کہ وہ چیزوں کو ان کی فطری پاکیزگی میں دیکھ سکے اور زندگی کی اہم قدروں اور بیش قیمت حقیقتوں کو سمجھ سکے۔ روزہ ایک مقدس عبادت اور ہماری روحانی اور اخلاقی تربیت کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ روزے کا اصل مقصد طہارتِ روح اور تقویٰ ہے۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقره: ۱۸۳) ’’اے ایمان لانے والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تا کہ تم تقویٰ حاصل کرو۔“

جب تک آدمی میں ضبطِ نفس نہ ہو اس کے اندر تقویٰ کی کیفیت پیدا نہیں ہوسکتی۔ خواہشات سے مغلوب انسان کو نہ خدا کی عظمت کا احساس ہوتا ہے اور نہ وہ زندگی کی اعلیٰ حقیقتوں اور ضرورتوں کو محسوس کرپاتا ہے۔ غالب بہیمیت اسے اس کا موقع ہی نہیں دیتی کہ وہ اپنی فطرت کے حقیقی تقاضوں کی طرف توجہ دے سکے۔ روزہ اس بات کا عملی مظاہرہ ہے کہ اکل و شرب اور جنسی خواہش کی تکمیل کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے جو ہماری توجہ کی طالب ہے۔ روزہ بندے کو خدا کی طرف اور زندگی کی ان اعلیٰ حقیقتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے جو حیاتِ انسانی کا اصل سرمایہ ہیں۔ وہ بندے کو تجرید کے اس اعلیٰ مقام پر پہنچاتا ہے جہاں بندہ اپنے رب سے بے حد قریب ہوجاتا ہے، جہاں تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں اور نفسیاتی حجابات اٹھ جاتے ہیں۔۔

روزہ بظاہر اس چیز کا نام ہے کہ آدمی سحر کے وقت سے لے کر سورج غروب ہونے تک کھانے پینے اور جنسی خواہش کے پورا کرنے سے رکا رہے، لیکن اپنی روح کے لحاظ سے روزہ جس چیز کا نام ہے وہ یہ ہے کہ آدمی کو اپنی خواہشات پر قابو ہو اور اسے تقوی کی زندگی حاصل ہو۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آدمی بظاہر تو روزے سے ہوتا ہے لیکن حقیقت میں اس کا روزہ نہیں ہوتا۔ نہ اس کی نگاہیں عفیف ہوتی ہیں اور نہ اس کی زندگی پاکیزگی اور خدا ترسی کی آئینہ دار ہوتی ہے۔۔۔روزہ حقیقت میں اسی شخص کا ہے جو روزے کی حالت میں تو کھانے پینے اور جنسی خواہش کو پورا کرنے سے باز رہے لیکن گناہوں کے ارتکاب اور ناپسندیدہ طرزِ عمل کو ہمیشہ کے لیے ترک کردے۔ (کلام نبوت، حصہ دوم، ص ۱۱۱ اور ۱۱۲)

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

روزے کی روح

حالیہ شمارے

فروری 2026

شمارہ پڑھیں

جنوری 2026

Zindagi-e-Nau Issue Jan 2026 - Cover Imageشمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223