جدید ملحدین کا غیر علمی رویہ

اسلام کے تناظر میں

اب تک کے سلسلۂ مضامین میں ہم نے جدید الحاد اور جدید الحادی تحریک کی فلسفیانہ بنیادوں کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے یہ فلسفیانہ بنیادیں تین ہیں۔

سب سے پہلی فلسفیانہ بنیاد یہ ہے کہ کائنات اور انسان کی توجیہ و تشریح سائنسی نیچریت کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔

دوسری بنیاد اثباتیت یا امپریسزم ہے جس کے تحت یہ مانا جاتا ہے کہ ہر واقعہ بشمول کائنات کی پیدائش اور کائنات میں موجود ہر شے، ہر قسم کی زندگی اور اس سے جڑے ہوئے تمام پہلوؤں کے مطابق کوئی بھی دعوی اسی وقت صحیح مانا جائے گا جب وہ مشاہدہ یا ڈیٹا کے ذریعے فیصل کیا جا سکتا ہو۔

تیسری اور ایک اور اہم ترین بنیاد نہیلزم کے حوالے سے ہے جس کے تحت یہ مانا جاتا ہے کہ انسان اور کائنات اور اس میں شامل ہر شے کوئی خاص معنی اور مقصد اپنے اندر نہیں رکھتی بلکہ یہ سب ایک اتفاقی حادثے کا نتیجہ ہے۔ کائنات وجود میں آتی ہے پھر فنا ہو جاتی ہے اور پھر دوبارہ وجود میں آ سکتی ہے ان تینوں فلسفیانہ بنیادوں پر نقد و تنقید بھی پچھلی سطور میں گزر چکی ہے۔

اب آگے کے سلسلۂ تحریر میں جدید الحاد اور اس کے بڑے سرخیلوں، جہت کاروں اور مبلغوں کے اس طریقہ کار کا تنقیدی جائزہ لیا جائے گا جو وہ تمام مذاہب کی مخالفت میں اختیار کرتے ہیں۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ طریقہ کار کے حوالے سے وسائل پر گفتگو مقصود نہیں ہے بلکہ جدید الحاد کے مبلغین کے ذریعے کس طریقے سے عقل کی سطح پر بے ایمانی کی جاتی ہے اور کس طریقے سے وہ مذاہب کے سلسلے میں اسی شدت پسندی کا شکار ہو جاتے ہیں جس کا الزام وہ مذہب کے ماننے والوں کو دیتے نہیں تھکتے ہیں۔ یہاں ان پہلوؤں پر روشنی ڈالنا مقصود ہے۔

جدید ملحدین اور ان کے ذریعے سے تحریک پانےوالے جدید الحادی توسیعی فکر رکھنے والے محققین، مبلغین اور شارحین کی کتابوں، بیانات اور انٹرویو کا جائزہ لیا جائے تو جدید الحاد کے بیانیے میں چار بڑی خامیاں واضح طور پر محسوس ہوتی ہیں۔

جدید الحاد کے تقریباً تمام ہی محققین و مبلغین کے یہاں مذہب کی نیچری تعریف ایک مسلّمہ مانی جاتی ہے۔ مذہب اور سماج کی عمرانیات اور اس کی پیچیدگی سے ان کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اگر ہے بھی تو لیوڈ ریلٹیز یعنی مذہب پر عمل درآمد کی شکل میں کسی سوسائٹی یا سماج میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اسی حد تک ہے۔ یہ ایک بہت بڑی خامی ہے۔ کیوں کہ مذہب کی نیچری توضیح اور تشریح میں جو بڑے اور بنیادی قسم کے مسائل ہیں وہ ابھی تک حل نہیں ہوئے ہیں۔ ان پر تفصیلی گفتگو ہم نے اپنی کتاب سائنس سائنس پرستی اور اسلام کے ایک باب “مذہب اور اس کا ارتقا” میں کی ہے۔ مختصر یہ کہ مذہب کے ارتقا کی پوری تھیوری ہی انتہائی کم زور بنیادوں پر کھڑی ہے اور اتنی کم زور بنیادوں پر مذہب جیسے پیچیدہ انٹرپرائز کو محمول کرنا ایک علمی بددیانتی ہے۔

مذاہب کی تعریف اور ان کی شکلوں کے تعین میں دوسری سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ جدید ملحدین مذاہب کی کسی بھی تقسیم کو خاطر میں نہیں لاتے وہ مذاہب کو ایک ارتقائی خطی ترتیب کے تحت دیکھتے ہیں۔ جو عملًا غلط ہے اور تحقیق کے اعلی معیار کے اعتبار سے ثابت شدہ نہیں ہے۔ چناں چہ اس کے نتیجے میں وہ تمام مذاہب کو ایک ہی خانے میں رکھ دیتے ہیں اور اس طرح مذہب اور اس کی بگڑی ہوئی شکلوں میں، رسوم و رواج میں اور مذہب نما رسومات میں فرق نہیں کر پاتے اور اس وجہ سے ان کے بیانیے میں بڑی کم زوری آ جاتی ہے۔

تیسری سب سے بڑی خامی جو جدید الحاد کے بیانیے میں اور اس کی پیش کش میں محسوس کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ جدید الحاد کے حاملین عیسائیت، اسلام اور یہودیت تینوں ابراہیمی مذاہب کو ایک ہی ترازو میں تولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات ایک عام قاری بھی جان سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے کہ اپنے منبع کے اعتبار سے ایک ہونے کے باوجود ان تینوں مذاہب کے بنیادی اصولوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ مثلًا عیسائیت کے تثلیث والے عقیدے میں اور اسلام کے توحید والے عقیدے میں بہت واضح فرق ہے۔ اسلام کے رسالت کے تصور میں اور یہودیت کے رسالت کے تصور میں بھی بہت فرق ہے۔ اسی طریقے سے اسلام میں گناہ اور ثواب کا تصور بالکل جداگانہ حیثیت رکھتا ہے جب اس کا موازنہ ہم عیسائیت میں گناہ اور ثواب کے تصور سے کرتے ہیں۔ اسی طریقے سے برائی اور برائی کا مسئلہ اسلامی نظام عقائد میں انتہائی مختلف نظر اتا ہے جب اس کا موازنہ ہم عیسائیت میں موجود برائی کے مسئلے سے کرتے ہیں۔ اسی طرح خدا اور اس کے اختیارات کے تعلق سے جو تصورات عیسائیت میں ہیں اسلام میں اس کے بالمقابل بالکل مختلف تصورات ہیں۔ جزا و سزا، انسانیت کا اعلی ترین مقصد، انفرادی انسانی مقصد اور اجتماعی طور پر تمام انسانوں کا بالآخر مقصد، یہ سب تینوں مذاہب میں مختلف ہیں۔ جنت اور جہنم کے تصورات ان تینوں مذاہب میں کئی درجوں پر مختلف ہیں۔ لیکن جدید ملحدین اور جدید ملحد مفکرین ان تینوں مذاہب کے ساتھ ایک ہی طرح کا تعامل کرتے نظر آتے ہیں اور اس طریقے سے ایک علمی بددیانتی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

چوتھی سب سے بڑی خامی جو سب سے بنیادی خامی ہے، یہ ہے کہ جدید ملحد مفکرین اور اس کی توسیعی فکر پر یقین رکھنے والے محققین اسلام کی اصولی بنیادوں پر تنقید کرنے کے بجائے مسلمانوں کے تہذیبی مسائل پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ کسی بھی ملحد یا جدید ملحد کے یہاں اسلام کے توحیدی نظام پر تنقید نہیں پائیں گے لیکن مسلمان عورتوں کے حقوق کسی سوسائٹی میں ادا نہیں کیے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب میں مسلمان عورتوں کو کار چلانے کی اجازت نہیں تھی۔ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہوگی۔ اس طرح فروعی مسائل یا وہ تہذیبی مسائل جو کلچر کی پیداوار ہیں اور جو مسلمان امت کے یہاں مختلف فیہ ہیں ان تمام پر خوب خوب تنقید کرتے ہوئے پائیں گے۔اسی طرح سے وہ اسلام کے اساسی اور بنیادی عقیدوں پر تنقید نہیں کرتے بلکہ مسلمان سوسائٹی میں موجود بعض اوقات غیر اسلامی رسوم و رواج کا موازنہ دیگر مذاہب کے ساتھ کرنے لگتے ہیں۔

یہ چار بنیادی خامیاں ہمیں جدید الحاد کے سب سے بڑے حامیوں کے یہاں بآسانی مل جاتی ہیں۔ ذیل میں ہم اس کی کچھ مثالیں پیش کرتے ہیں۔

مثلًا رچرڈ ڈاکنز نے ایڈن برگ بک فیسٹیول میں یہ کہا کہ تورات کا خدا تو غالبًا سب سے برا کردار رکھتا ہے لیکن قرآن والا خدا تو اس سے بھی برا ہے۔[1]

اب اس کا موازنہ آپ ان کے اس ٹویٹ سے کیجیے جس میں انھوں نے یہ کہا تھا کہ میں نے بائبل تو پڑھی ہے اور اس کا خدا تو برا ہے ہی، میں نے قرآن نہیں پڑھا لیکن امید ہے کہ اس کا خدا اس سے بھی برا ہوگا۔ [2]

اب دیکھیے ایک طرف یہ دعوی ہے کہ قرآن پڑھا ہی نہیں اور دوسری طرف یہ دعوی ہے کہ قرآن کا خدا سب سے برا خدا ہی ہوگا۔

اسی طرح ایک بار فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ اسلام سب سے زیادہ زہریلا مذہب ہے۔ بائبل خود بھی اتنی ہی زہریلی ہے جتنا قرآن ہے، لیکن تمام عیسائیوں کو یہ نہیں سکھایا جاتا ہے کہ بائبل کو لفظ بلفظ ماننا ہے۔[3]

یہ انتہائی زہریلے الفاظ اور تشدد بھرے الفاظ ہیں جو اسلام کے متعلق کہے جا سکتے تھے۔ رچرڈ ڈاکنز ایک طرف تو اعتراف کرتے ہیں کہ انھوں نے پورا قرآن نہیں پڑھا دوسری طرف وہ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ قرآن انتہائی زہریلی کتاب ہے اور تمام مسلمانوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ اس کے حرف حرف پر یقین رکھنا ایمان کا عقیدہ ہے۔ یقینًا یہ بات درست ہے کہ قرآن پر یقین رکھنا تمام مسلمانوں کے عقیدے کا حصہ ہے، لیکن قرآن میں عبودیت کا، انسانوں کے ساتھ رحم دلی کا، انسانوں کے ساتھ حسن سلوک کا، تمام انسانیت کو اللہ کی تخلیق ماننے کا اور خدا ترسی اور تقوی والی زندگی کا بھی تذکرہ ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ بہت سے دوسرے تذکرے بھی ہیں جو بظاہر تشدد والے نظر آتے ہیں لیکن ان تمام کی تفسیر اور تشریح مفسرین نے کردی ہے۔ ان تمام کے قطع نظر وہ صرف اسلام کے ان حصوں کو لیتے ہیںتو جو ان کے ایجنڈے کی تکمیل کرتے نظر آتے ہیں۔ اس طریقے سے وہ اس بات کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ اسلام اور قرآن پر کوئی علمی تنقید ان کا مقصود نہیں ہے بلکہ اس کے مشمولات کو اس کے سیاق و سباق سے کاٹ کر مسلمانوں کی سوسائٹی کے اندر موجود اخلاقی خرابیوں کو اجاگر کر کے اسلام کی شبیہ بگاڑنا ان کا مقصود ہے۔

یہ علمی بددیانتی ان جدید ملحدین کے یہاں عام طورپر دیکھی جا سکتی ہے۔

رچرڈ ڈاکنز ایک دوسری جگہ کہتے ہیں کہ اسلام بنیادی طور پر عورتوں کا مخالف ہے۔ چہرے کا نقاب، برقع، حجاب یہ عورتوں کی تکریم کے لیے نہیں ہے بلکہ مردوں کے تسلط کے اظہار کے لیے ہے۔[4]  اس طریقے سے وہ پردے کے بنیادی اصولوں پر اور پردے کی ضرورت اور اس کے باریک اور پیچیدہ اور انتہائی حساس پہلوؤں پر بات نہیں کرتے بلکہ مسلمان سوسائٹی میں جو روایات ہیں ان پر نکتہ چینی کر رہے ہوتے ہیں اور پردے کے اصلی اصول پر بات نہیں کرتے ہیں۔ اسی طریقے سے وہ مردوں کی برتری یا پدر شاہی سماج کی طرف اشارہ تو کرتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام نے عورتوں کو جو مقام دیا تھا اور دیا ہے وہ مغرب اپنی تمام تر خوبیوں کے باوجود بھی دے نہیں پایا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ زوال کے ساتھ مسلمانوں میں ایسے کچھ رواج پائے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان سوسائٹیوں میں عورتوں کو دبا کر رکھا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

اسی طرح سے مدرسے کے نظام تعلیم پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مسلمان اسکول دوسرے تمام مذہبی اسکولوں کی طرح بچوں کا برین واش کرتے ہیں اور ان کے اندر فری انکوائری یعنی آزادانہ سوچ کو بری طرح دباتے یا ختم کرتے ہیں۔ اسی طرح ان مدارس میں طلبہ کو بس یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ صرف جہنم، مرتد ہونے کی سزا اور شہادت کے بارے میں ہی سوچیں!!! [5] یہ کتنا غیر علمی اور جاہلانہ الزام ہے جو مدرسہ کے نظام تعلیم کے اوپر لگایا جاتا ہے۔ مدارس نے اپنی منظم اور غیر منظم شکل میں اپنی چودہ سو سال سے طویل تر تاریخ میں اعلی ترین دماغ پیدا کیے، محققین پیدا کیے۔ اسلام کے سنہرے دور کی پوری تاریخ انھی مدارس یا ان سے ملتے جلتے اداروں سے وابستہ ہے۔ ان تمام روشن پہلوؤں کو یکسر نظر انداز کر کے بغیر کسی مضبوط دلیل کے مدارس اور اسلامی نظام تعلیم پر سنگین حملے کرتے نظر آتے ہیں۔ مدارس میں علم کی بنیاد قرآن اور حدیث ہے اور قرآن نے واضح طور پر بار بار غور و فکر کرنے، کائنات میں پھیلی ہوئی نشانیوں پر توجہ اور تدبر کرنےپر اکسایا ہے۔ ایک ایسی کتاب جس میں علم، تدبر، آیتوں پر غور و فکر کی طرف سینکڑوں بار توجہ دلائی گئی ہو اس نظام تعلیم میں پڑھائی جانے والی کتابوں پر اور اس نظام تعلیم پر یہ الزام عائد کرنا کہ وہ ذہن کو قید اور آزاد تحقیق پر بندش لگاتا ہے ایک علمی جہالت کے سوا اور کیا ہے۔

اسی طرح سے وہ اسلام کے تئیں اپنے دل کا بغض نکالتے نظر آتے ہیں۔ مثلًا بی بی سی کی ہارڈ ٹاک کو دیے گئے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ آپ عیسائیت کا مذاق اڑا سکتے ہیں لیکن اسلام خوف سے بنی دیوار میں محصور ہے، اس کا مذاق نہیں اڑاسکتے[6]۔ یہ جملہ اصل میں اسلام دشمنی کا وہ مظہر ہے جو ان کی تمام تر علمی کاوشوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔ یہاں وہ کہتے ہیں کہ عیسائِت کا مذاق اڑانا آسان ہے لیکن اسلام کا نہیں!! تو کیا کسی مذہب کی بنیادوں پر گفتگو کو اس مذہب کے مذاق اڑانے پر محمول کرنا چاہیے!! اسلام اپنے اوپر تنقید کے لیے کھلا ہے اور اسلام میں واضح طور پر اس بات کا اعلان ہے کہ دین میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے اور حق بات غلط بات سے چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔ اسی طرح سے اسلام میں یہ بھی تذکرہ ہے کہ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے جو لوگ اس پر نقد و تنقید و تبصرہ کرنا چاہتے ہیں وہ اکیڈمک سطح پر اگر کریں تو اس کے لیے اسلام کھلا ہے۔ لیکن کوئی بھی تہذیب یافتہ گروہ کسی بھی مذہب پر تنقید کا ایک دائرہ متعین رکھتا ہے اور اس پر اکیڈمک سطح پر گفتگو کرتا ہے۔

اسی طرح سے بہت سارے قارئین ان کے اس مشہور ڈیبیٹ کو سن چکے ہوں گے اور بعض نے اسے دیکھا بھی ہوگا جس میں وہ مہدی حسن کے ساتھ بحث کر رہے ہیں اس میں ڈاکنز نے معراج کے واقعے کو بنیاد بنا کر بہت ہی جارحانہ انداز میں مہدی حسن سے یہ پوچھا تھا کہ کیا آپ 21 ویں صدی میں اس بات پر یقین کر سکتے ہیں کہ کوئی دو پر والا گھوڑا کسی شخص کو لے کر کے کائنات کی ایک بہت دور افتادہ جگہ پر کسی خدا کے سامنے انسان کو لے گیا ہوگا؟[7]  مہدی حسن نے اس کا جو جواب دیا وہ تو انھوں نے دیا لیکن یہ ہماری اس بات کی دلیل ہے جو ہم نے سب سے اوپر بیان کی کہ رچرڈ ڈاکنز اسلام کے بنیادی اصول، اس کے عقائد اور اس کے منبع پر بات نہیں کرتے بلکہ وہ اسلام کے ان جزوی اور فروعی چیزوں میں آپ کو الجھانا چاہتے ہیں جن کی مختلف توجیہات اسلام کے اندر موجود ہیں۔ مثلًا معراج کے واقعے کوبھی کئی حوالوں اور پہلوؤں سے دیکھا جا سکتا ہے اس کا ایک حوالہ اور پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی میٹافزکس پر یقین رکھتا ہو تو اس طرح کے معجزات کی تاویل ممکن ہے اور اس کے علاوہ بھی اس معجزے کی تشبیہی و تعبیری قسم کے پہلوؤں پر بھی گفتگو ہو سکتی ہے۔

اس بات کی وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ معراج کے واقعے پر یقین بنیادی طور پر اسلامی عقیدے کا ویسا حصہ نہیں ہے جس کے ماننے یا نہ ماننے پر کسی کے ایمان کی صحت مشکوک ہوتی ہو۔ رچرڈ ڈاکنز اور ان کی قبیل کے تمام تر ملحد مفکرین و محققین تمام تر معجزات کا انکار کرتے ہیں اور اسے فزکس کے بنیادی اصولوں کے خلاف گردانتے ہیں بلکہ اسے کہانی اور قصے اور دیو مالائی باتوں سے جوڑتے ہیں لیکن اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ معجزات کا وجود میں آنا اور ان پر یقین کرنا یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں اور معجزات کی توجیہ و تشریح ممکن ہے جب آپ اسے ایک مکمل نظام عقائد اور نظام علم و فکر سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔

اسی طرح 2015 میں ٹائمز کو دیے ہوئے انٹرویو میں اسلامی بنیاد پرستی کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ” جہنم میں جائے اس طرح کی ثقافتی حسیت، اسلام کو چیلنج کرنا چاہیے اور اس کو چیلنج کرنا اس وقت اور ضروری ہو جاتا ہے جب کہ اسلام اور اس کے ماننے والے اپنے اوپر تنقید کو دھمکیوں سے خاموش کرنا چاہتے ہیں اور اپنے لیے خصوصی مراعات کی مانگ کرتے ہیں۔“[8]

اس قسم کے بیانات رچرڈ ڈاکنز نے خاص طور پر داعش اور دیگر دہشت گردانہ تنظیموں کے حوالے سے دیے ہیں۔ وہ داعش کو اسلام کا نمائندہ مانتے ہیں جب کہ ساری دنیا کے تمام علما نے جن میں ہر قسم کے مسلک شامل ہیں داعش اور اس سے جڑی ہوئی دہشت گردانہ کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور داعش کے بہت سے طریقہ ہائے واردات کو بنیادی اسلامی اصولوں کے خلاف بتایا ہے۔ اس کے باوجود رچرڈ ڈاکنز حقیقی اسلامی فوبیا کا انکار کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اسلامی ثقافت کو اور ثقافت کے شعار کو چیلنج کرنا ضروری ہے. یہاں بھی اس بات کو صاف طور پہ دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اسلام کے کسی بنیادی اصول جیسے توحید رسالت آخرت یا اسلام کے دیگر اصول و مبادی پر بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ جدید دور میں اسلام کے نام پر جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کو عین اسلام قرار دے کر اس کے حوالے سے اسلام کو نشانہ بناتے ہیں۔

ایک آخری مثال کے ساتھ ہم اس مضمون کو ختم کرنا چاہیں گے کہ رچرڈ ڈاکنز نے اگست 2013 میں ایک ٹویٹ کیا تھا جس میں انھوں نے یہ کہا تھا کہ تمام مسلمان ممالک مل کر بھی اتنے نوبل انعام یافتہ پیدا نہیں کر پائے جتنے نوبل انعام یافتہ اکیلے ٹرینٹی کالج نے پیدا کیے ہیں۔[9] یہ بڑی مضحکہ خیز بات ہے۔ ہم نے اس پر اپنی کتاب سائنس سائنس پرستی اور اسلام میں بھی گفتگو کی ہے کہ کسی ملک کی سائنسی ترقی کو صرف اس کے مذہب سے جوڑ کر دیکھنا بالکل غیر علمی بات ہے۔ سائنس اور سائنسی ترقی کئی طرح کے عوامل پر منحصر ہوتی ہے اور یہ عوامل جب اجتماعی طور پر کارفرما ہوتے ہیں تو کسی ملک کی سائنسی ترقی میں تغیر آتا ہے چاہے وہ مثبت ہو یا منفی۔ اس پر باقاعدہ تحقیقات موجود ہیں۔ لیکن رچرڈ ڈاکنز مسلمانوں کے اس ثقافتی مظہر کو براہ راست اسلام سے جوڑتے ہیں اور اس بات کی دہائی دیتے ہیں کہ چوں کہ مسلم اکثریت والے ممالک میں اسلام کے ماننے والے رہتے ہیں اس لیے وہ سائنس میں ترقی نہیں کر پاتے کیوں کہ اسلام سائنسی ترقی کا مخالف ہے! اسلام آزادانہ سوچ پر روک لگاتا ہے! اسلام آزادانہ سوچ پنپنے نہیں دیتا ہے! لیکن یہ کہتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اسی اسلام کے ماننے والوں نے اسلام کے سنہری دور کی تشکیل کی ہے۔ یہ وہی مسلمان تھے جنھوں نے یونان سے سائنسی سرمائے کو لے کر اسے سائنس کی نشاة ثانیہ تک پہنچایا اور اس کے بعد یورپ نے وہ مشعل اپنے ہاتھ میں لی اور اس کے بعد سے اب تک وہ اسی سائنسی دنیا کی آبیاری کر رہا ہے، جو اسے بہت ترقی یافتہ شکل میں مسلمانوں سے ملی تھی۔

حوالہ جات

[1] https://www.youtube.com/watch?v=xGeCtaWMIeo

[2] https://x.com/richarddawkins/status/316101862199791616

[3] https://www.youtube.com/watch?v=vsMB5Hr-QA8

[4] Dawkins, R. (2006). The God Delusion. Boston, MA: Houghton Mifflin. (p. 39)

[5] Deduced by Author from various sources

[6] https://www.bbc.co.uk/programmes/b008m9xv (Currently unavailable)

[7] https://www.youtube.com/watch?v=U0Xn60Zw03A

[8] https://www.express.co.uk/news/uk/611231/Richard-Dawkins-in-extraordinary-blast-at-Muslims-To-hell-with-their-culture

[9] https://twitter.com/RichardDawkins/statuses/365473573768400896

مشمولہ: شمارہ اگست 2025

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2025

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223