دنیا دار الامتحان ہے

فلاح الدین فلاحی

دنیا کا ہر انسان جب اپنی آنکھیں کھولتا ہے اور باشعور ہو جاتا ہے تو اپنی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر ضرور خیال کرتا ہے کہ آخر ہم اس دنیا میں کیوںآئے ہیں؟ ۔ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے،کیا محض اس لئے آئے ہیں کہ مال و دولت بٹوریں ،کھائیں پئیں اور ضروریات کو اپنا محورِ زندگی بنائیں ۔دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ اس دنیا میں بہت سے ایسے لوگ آتے ہیں اور مال و دولت عزت و شہرت حاصل کرنے کے بعد خالی ہاتھ چلے جاتے ہیں ،چنانچہ وہ مقصدِ حیات تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ مایوس ہو جاتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ وہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کرتے ۔مشہور شاعر حفیظ میرٹھی نے ایسے انسانوں کی رہنمائی کیلئے ایک شعر کہا ہے کہ

یہ بھی تو سوچئے کبھی تنہائی میں ذرا

دنیا سے ہم نے کیا لیا دنیا کو کیا دیا

انسان اپنی زندگی کا مقصد صرف مال و دولت اکٹھا کرنا اور شادی بیا ہ کرنا سمجھ بیٹھا ہے وہ دنیا میں عارضی مستقبل کی ضمانت کی خاطر تگ و دو کرتا ہے ۔بتدریج عمر گزرتی رہتی ہے ،لوگ سمجھتے ہیں کہ اس نے زندگی میں اپنا رول ادا کردیا یہاں تک کہ اللہ تعالی انہیں موت کی آغوش میں سلا دیتا ہے پھریک بیک حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

لَقَدْ کُنتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ہَذَا فَکَشَفْنَا عَنکَ غِطَائ کَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ  ﴿ق :۲۲﴾

’’یقیناً تو اس سے غفلت میں تھا لیکن ہم نے تیرے سامنے سے پردہ ہٹا دیا پس آج تیری نگاہ بہت تیز ہے‘‘۔

یہ حقیقت کھُلتی ہے انسانوں کا وجود اس دنیا میں محض کھانے پینے شادی کرنے اور اولاد حاصل کرنے کیلئے نہیں ہوا تھا بلکہ ایک عظیم ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے تھا۔ اِس امانت کے حامل آسمان و زمین بھی نہ ہو سکے ۔بلکہ انھوںنے اس کو اٹھانے سے انکار کر دیا ۔قرآن میں اللہ تعالی فرماتا ہے:

اِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَۃَ عَلَی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَیْنَ أَن یَحْمِلْنَہَا وَأَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنسَانُ اِنَّہُ کَانَ ظَلُوماً جَہُولاً ﴿الاحزاب :۷۲﴾

’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں اورزمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا لیکن سب نے اس کو اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے ،مگر انسان نے اسے اٹھا لیا،بے شک وہ بڑا ہی ظالم اور جاہل ہے‘‘۔

اس دنیا میں انسان کا امتحان ہے یہ اللہ کی مشیت ہے کہ اس نے زمین کو اس امتحان کیلئے بطور امتحان گاہ منتخب فرمایا ۔اللہ تعالی اِنسانوںکوآزما رہا ہے کہ کون ہے جو نیک اعمال کرنے والا ہے ۔قرآن میں ہے کہ

’’ وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا آتَاکُمْ اِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَاِنَّہُ لَغَفُورٌ رَّحِیْمٌ﴿الانعام :۱۶۵﴾

’’وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا ،اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلہ میں زیادہ بلند درجے دئے ،تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ،بیشک تمہارارب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت در گزر کرنے اور رحم فرمانے والا بھی ہے۔ ‘‘

اللہ تعالیٰ اِنسانوں کو مال ،صحت ،منصب وغیرہ جیسی نعمتیں عطا کرتا ہے اور بعض کو یہ نعمتیں کم دیتا ہے جس کو ان نعمتوں کی فراوانی سے محروم رکھا گیا ہو اور اس نے صبر سے کام لیا تو وہ امتحان میں کامیاب ہو گیا ۔ ایک صالح اور نیک بندہ خالق کی ہرعنایت کا خیر مقدم کرتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے قرآن میں اللہ تعالی فرماتا ہے:

فَاِذَا مَسَّ الْاِنسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنَاہُ نِعْمَۃً مِّنَّا قَالَ اِنَّمَا أُوتِیْتُہُ عَلَی عِلْمٍ بَلْ ہِیَ فِتْنَۃٌ وَلَکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُونَ   ﴿الزمر :۴۹﴾

’’یہی انسان جب ذرا سی مصیبت اسے چھو جاتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے ،اور جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دے کر اپھار دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے !نہیں بلکہ یہ آزمائش ہے ،مگر ان میں سے اکشر لوگ جانتے نہیں ہیں‘‘۔

انسان آج اپنے مقصد وجود کو بھول گیا ہے بلکہ وہ دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھا ہے ۔ اِس بِنا پر وہ دنیا کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کیلئے ہر جائز و ناجائز کام انجام دینے لگتا ہے وقت گزرنے کے ساتھ اسے اس دنیا میں بھی ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آخرت تو اس نے بر باد کر ہی لی ہے ۔ایسے اِنسان کو جب دنیا میں بھاری نقصان کا سامنا کر پڑتا ہے تووہ بے چین ہو جاتا ہے اور خود سوزی اور خودکشی جیسے رجحانات اس کے دل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں وہ اللہ رب العزت کی دی ہوئی نعمتوں میں سے سب سے اہم اور قیمتی نعمت جسم و جان کو ضائع کردینے پر آمادہ ہوجاتا ہے ۔جبکہ قرآن مجید میں اللہ تبارک تعالی کااِرشاد ہے:

الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِیْنَۃُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَالْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِندَ رَبِّکَ ثَوَاباً وَخَیْرٌ أَمَلا ﴿الکہف:۴۶﴾

’’ یہ مال اور یہ اولاد محض دنیوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے ۔اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہترہیں اور انہی سے اچھی امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں۔‘‘

اللہ تعالی ہم کو یاد دہانی کراتا ہے کہ کوئی بھی شخص دنیا کی کسی چیز کا دائمی مالک نہیں ہے ۔ہر نوازش واپس لے لی جائے گی اور عنقریب سارے اِنسان یہاں سے چلے جائیں گے۔پھر اللہ تعالی ہی اس زمین اور اس کے سارے خزانوں کا وارث ہوگا۔

مئی 2013

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau