حق کی خاطر جو اٹھا ہو وہ جواں اچھا لگا

محمد اطہر اللہ شریف

اسلامی تحریک انتھک جدوجہد اور بے حساب قربانیوں کی مانگ کرتی ہے۔ اسلامی تحریک کا اصل سرمایہ وہ افراد ہوتے ہیں جو اپنا سب کچھ اسلام کے لیے وقف کردینے کا فیصلہ کرلیتے ہیں۔ جو اپنے قول و عمل میں اسلامی تعلیمات کا دل کش نمونہ ہوتے ہیں۔ جن کی ہر ہر ادا ان کے عقیدے کی ترجمان ہوتی ہے۔اس مضمون میں ہم ریاست کرناٹک کی کچھ دل آویز تصویریں آپ کے سامنے پیش کریں گے۔یہ تصویریں بتاتی ہیں کہ کیسے کیسے اللہ والے اس قافلے میں شامل ہوئے اور اسلامی تحریک کی آواز کو قریہ قریہ بستی بستی پہنچایا۔ دنیا کے مفادات پیچھے رہ گئے اور وہ تیز رہرو منزل کی طرف بڑھتے چلے گئے۔

ہوس ٹھٹک بھی گئی مصلحت کے پاس آکر

وفا گزر بھی گئی تخت و تاج ٹھکرا کر

                    (حفیظ میرٹھی)

جناب محمد ثناء اللہ صاحب ڈپٹی تحصیلدار تھے اور جماعت اسلامی ہند کرناٹک کے ایک علاقے کے ناظم بھی۔ اپنے محکمہ میں ایمانداری اور حسن اخلاق کے سبب مقبول عام تھے۔لوگوں کے کام ہوجاتے توکچھ لوگ رشوت کی رقم چھپا کر ان کے ٹیبل پر کسی فائل کے نیچے رکھتے تو اسے ہاتھ لگائے بغیر ہی فوراً اٹھالینے کو کہتے۔ لوگ ہاتھ جوڑ کر، کبھی پاؤں چھوکر شکریہ اداکرنے کی کوشش کرتے۔ ایمرجنسی کے دوران جب ارکان جماعت کی گرفتاریاں ہو رہی تھیں، ان کی گرفتاری کے احکام بھی جاری ہو گئے تھے۔ مگر دفتر کے سینئر افسروں نے یہ کہہ کر انھیں گرفتا ر ہونے نہیں دیا کہ وہ محکمے کی شان اور آبرو ہیں۔ خوش اخلاقی اور خندہ پیشانی آپ کا شعار تھی۔ ان کے بڑھاپے کا واقعہ ہے کہ جماعت کے کنڑا ہفت روزہ ’ ’ سنمارگہ‘‘ کی مہم کے دوران اخبار کے نمائندے کے ہم راہ ایک دکاندار کے پاس پہنچے۔اتفاق سے وہ صاحب جماعت کے مخالف تھے۔ ثناء اللہ صاحب نے سلام کے بعد سنمارگہ کا تعارف کرایا کہ برادران وطن تک اسلام کی تعلیمات پہنچانے اور ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں یہ اخبار بہت اہم رول ادا کررہا ہے۔اسی طرح کنڑا پڑھنے والے مسلمانوں کےلیے وہ دین کی صحیح تعلیم کا اچھا ذریعہ ہے۔ دکاندار کوغصہ آگیا اور اس نے جماعت کے خلاف مغلظات بکناشروع کردیا۔ ثناء اللہ صاحب خاموشی سے اس کی تمام باتیں اس شعر کی تصویر بنے سنتے رہے۔

میں کیوں اہل جہاں کی تُرش روئی کا برا مانوں

کہ سونے والے جھنجھلایا ہی کرتے ہیں جگانے پر

                                                    (حفیظ میرٹھی)

آخر میں اس نے وہاں سے نکل جانے کے لیے کہا تو انھوں نے کہا ٹھیک ہے بیٹا چلتے ہیں لیکن تھوڑا گلے مل لیتے ہیں۔ آگے بڑھ کر گلے میں ہاتھ ڈال کر سینے سے لگا لیا۔ وہ دراز قد کے بزرگ تھے اور دکاندار نوجوان تھا اور قد میں چھوٹا بھی۔ اس کا سر ان کے سینے سے لگ رہا تھا۔ جس گرم جوشی سے وہ اس سے بغل گیر ہوئے، نوجوان کا دل پگھل گیا۔اس کے باپ نے بھی اسے اس طرح گلے نہیں لگا یا تھا۔ اپنے رویہ پر اس نے معافی ما نگی اور اخبار کا خریدار بن گیا۔ریٹائرمنٹ کے بعد ثناء اللہ صاحب جماعت کے ہمہ وقتی خدمات کے لیے فارغ ہو گئے۔ داونگرہ اور شیموگہ ضلع میں سینکڑوں نوجوانوں کو جماعت سے قریب کیا اور ان کی تربیت کی۔ یہ ان کی تربیت کا کمال تھا کہ ان میں سے بیشتر نوجوان جماعت کی مختلف ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل ہوگئے۔ ہری ہر مقام پر اپنا ہیڈ کوارٹر بنا کر اطراف کے مقامات کے دورے کرتے۔ فیملی اپنے وطن گنگا وتی میں رکھتے جو وہاں سے 170 کلومیٹر دوری پر تھا۔ عید الاضحی کے دن نماز عید سے فارغ ہوکر گھر والوں کے ساتھ تھوڑا وقت گزار کر فوراً ہری ہر واپس آجاتے اور رفقاکو ساتھ لے کر چرمِ قربانی جمع کرنے میں لگ جاتے۔ مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلموں سے بھی اچھے اور وسیع تعلقات تھے۔ دورے کثرت سے کرتے مگر کبھی سفر خرچ نہیں لیتے۔ جماعت سے جو کفاف ملتا اسی سے سفر خرچ بھی پورا کرلیتے۔کھانے پینے اور آرام پر زیادہ توجہ نہ تھی۔ زیادہ تکلفات کے قائل نہ تھے۔سادگی کی عمدہ مثال اورشیریں زباں تھے۔ تقریر و تذکیر بہت موثر ہوا کرتی تھی۔ عام گفتگو میں بھی مٹھاس ہوتی۔

جناب عبد المجید عرف ارشد صدیقی،نام ہے ایک سرگرم اور پھرتیلی شخصیت کا۔عام و خاص، ادیب و عالم، نوجوان و بزرگ غرض ہر طبقے کے لوگوں سے ربط و تعلق رکھنے والے۔ ا یم اے بی ایڈتک تعلیم تھی۔ ٹیچر تھے۔ پھرملازمت چھوڑ کر جماعت کے لیے یکسو ہوگئے۔ امیر مقامی سے لے کرحلقے کے سکریٹری تک کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ کرناٹک میں ادارہ ادب اسلامی کی روح رواں تھے۔ ہر کام میں پیش پیش رہنے والے، جوانوں سے بڑھ کر محنت کرنے والے۔ لکھنے پڑھنے کی رفتار بہت تیز تھی۔ منٹوں میں صفحہ بھر مضمون تیار کردیتے، نظر ثانی کی ضرورت کم ہی پیش آتی۔ موٹی کتاب بھی چند گھنٹوں میں پڑھ لیتے۔ جماعت کی مہمات کے لیے لٹریچر تیار کرتے، اچھے سلوگن بنا تے۔ ان کی تحریروں کے چارٹ طبع ہوکر گھروں میں کیلنڈر کی طرح آویزاں کیے جاتے۔

ہمیشہ اپنے ساتھ لٹریچر رکھتے اور لوگوں کی صلاحیتوں کے مطابق مناسب کتاب انھیں پڑھنے کے لیےدیتے۔ سہ روزہ دعوت کے کثرت سے قاری اور خریدار بھی بنائے۔ 1986 میں بنگلور میں ایس آئی او کی کل ہند کانفرنس کے دوران آندھی اور طوفان سے سارے انتظامات درہم برہم ہو گئے۔ہزاروں لوگ اچانک شدید سردی اوربارش میں گھرِ گئے۔ ایسے میں چشمِ تصور سے دیکھیں۔ رات کا وقت ہے،بجلی چلی گئی ہے، ہر سو اندھیرا ہے، کھلے میدان میں لوگ بچنے کے لیے سائے بانوں کی تلاش میں ہیں۔ جناب عبدالمجید صاحب ہیں کہ اپنی اسکوٹر پر دو دو افراد کو لے کر قریب کی مسجدوں تک پہنچانے میں جٹے ہوئے ہیں۔ خود بھیگ کر دوسروں کو محفوظ مقامات پر پہنچا رہے ہیں۔

ایک موقع پر شہر میں تشدد پھوٹ پڑا۔ حالات جب بے قابو ہوگئے تو پولیس کو فائرنگ کے آرڈر بھی دے دیے گئے۔ ایسے میں ایک جگہ عبد المجید صاحب پولیس کے اعلیٰ افسر سے حالات کو قابو میں کرنے کی ترکیبیں سجھارہے تھے۔ اتنے میں انھوں نے ایک پولیس والے کو دیکھا کہ وہ احتجاجیوں پر بندوق کا نشانہ تانے ہوئے ہے، عبدالمجید صاحب جھپٹ کر اس کے پاس پہنچے اور بندوق کا دہانا آسمان کی طرف کردیا، گولی اوپر چلی گئی۔ پھر انھوں نے پولیس افسر سے بات کرکے فائرنگ رکوائی۔

مولانا نجم الدین حسین عمری کا اسی ماہ ستمبر کی 20 تاریخ کو انتقال ہو گیا۔عمر 57 سال تھی۔ 7 اگست کو حادثے کا شکار ہوئے۔ تیرہ دنوں تک بے ہوشی کا عالم طاری رہا، ہزار کوششوں کے باوجود افاقہ نہ ہوا، ہزاروں رفقا کو سوگوار چھوڑکر سفر آخرت پر نکل گئے۔اپنے شہر سیڑم کے پہلے عالم دین تھے۔ جامعہ دارالسلام عمرآباد سے فراغت کے بعد 1990 سے ہی درس و تدریس سے وا بستہ ہوگئے۔ ایس۔آئی۔او کے صدر حلقہ کی ذمہ داری بھی نبھائی۔ جماعت میں ناظم ضلع، علاقہ، سکریڑی حلقہ کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ 6اگست کو بیدر ضلع میں نئی میقات کے منصوبے کے تفہیمی اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپس ہورہے تھے کہ حادثہ سے دوچار ہو گئے۔وہ بڑے اللہ والے اور قلندرانہ مزاج کے حامل تھے۔ہمیشہ متحرک رہتے۔ انھیں آرام کرتے کم ہی پایا گیا۔ رابطے کا وسیع حلقہ تھا۔میدان کے آدمی تھے۔ تقریر و خطابت سے گریز کرتے مگر ملاقاتیں کثرت سے کرتے۔ بے نفسی اور بے غرضی ان کا خاصہ تھی۔کبھی عالم ہونے کا اظہار نہیں کیا۔علما میں بھی کبھی عالم دین کی حیثیت سے اپنا تعارف نہیں کرایا۔ملاقاتو ں کا وقت بعد فجر اور بعد عشا۔دور دراز کے لوگوں سے بھی ملنے نمازِفجر کے لیے ان کے گھر کے قریب کی مسجد پہنچ جاتے۔جن رفقا کے اہل خانہ سے تعلق ہوتا ان کے یہاں ملاقات کے لیے اپنی اہلیہ کو بھی ساتھ لے جاتے۔جماعت کے مخالف علما سے بھی ملاقاتیں کرتے۔ خندہ پیشانی سے ان کی تلخ گفتگو سنتے اور مناسب وضاحتیں سلیقے کے ساتھ کرتے۔ تنظیمی ذمہ داریوں کے سبب مختلف مقامات کے دورے کرتے تو ہر جگہ روابط کا وسیع حلقہ بن جاتا۔ اس وجہ سے تقریباً پوری ریاست میں معروف تھے۔سفر کے لیے ریزرویشن کے حاجت مند نہیں تھے۔ کورونا کے دوران لاک ڈاؤن میں مولانا محمد سراج الحسن کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے گلبرگہ سے موٹر سائکل کے ذریعے اندر کے راستوں سے رائچور پہنچ گئے۔تقریبا160 کلومیٹر کی مسافت ہے۔رفقا کے بچوں کے رشتے کرانے اور لوگوں کی مالی مدد کرانے میں پیش پیش رہتے۔ لوگوں کے مسائل حل کرنے میں کافی دل چسپی لیتے۔ حالاں کہ خود کافی مشکلات کا شکار رہتے۔ حادثوں نے گویا آپ کا پتہ دیکھ لیا تھا۔ دو سال کے عرصہ میں چار بھائی اور والد محترم اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اب اس گھر میں پانچ بیوائیں اور بارہ یتیم بچے رہ گئے ہیں۔اللہ ان کی نگہبانی فرمائے۔

داونگرہ ضلع کے ہری ہر مقام پر اکبر علی خاں سرکاری اسکول میں ٹیچر تھے۔ لوگوں کی خدمت ان کی نمایا ں پہچان تھی۔غریب بچوں کے اسکولوں میں داخلے، ان کی اعلی تعلیم، ان کے روزگار کے مسائل کا حل، اکبر علی خاں کے روز مرے کے معمولات کا حصہ تھے۔اسی طرح بیماروں کے علاج کے لیے مناسب ڈاکٹروں کی طرف رہ نمائی، اسپتالوں میں ان کے داخلے،داونگرہ، شیموگہ سے لے کر بنگلور، منگلور اور حیدرآباد کے اسپتالوں کی معلومات، وہاں پر داخلہ دلانے میں تعاون، کبھی خود ساتھ چل کر، کبھی اپنے پیسوں سے، کبھی اہل خیر سے تعاون حاصل کرکے، خاں صاحب ان کاموں میں پیش پیش رہتے۔ حکیموں اور پنڈتوں سے بھی واقفیت تھی۔ کچھ صورتوں میں ان سے بھی علاج کرواتے۔ رکن جماعت تھے، طلبہ کے علاوہ عام لوگوں سے بھی وسیع تعلقات تھے۔ ٹیچر ہونے کے باوجود تقریر اور اسٹیج سے زیادہ سروکار نہ تھا۔ فیلڈورک، لوگوں کی رہ نمائی کرنا، انھیں مقصد زندگی کی طرف دعوت دینا، قریب آنے والوں کی علمی و فکری تربیت کرنا انھیں زیادہ راس آتا۔ اہلیہ بھی سرکاری اسکول میں ٹیچر تھیں۔ دونو ں کی تنخواہیں معقول تھیں۔ لیکن مستحقین کی ضرورتوں کی نذر ہو جاتیں۔ کوئی ذاتی گھر نہیں بنایا، کرایے کے گھر میں ہی رہے، اسی میں انتقال بھی کرگئے۔ان کی وفات کے بعد کئی لوگوں کا احساس تھا کہ وہ اب یتیم ہو گئے۔

1957 ء میں سندھنور، ضلع رائچور کے امیر مقامی مرحوم سید حسین صاحب کے تعزیتی اجلاس میں مرحوم کے تیسرے لڑکے 25 سالہ سید حامد حسین نے ڈوبتی آواز اور بہتے آنسوؤں پر قابو پاتے ہوئے مصمم ارادے کے ساتھ خود سے قرار لیا تھا کہ میں اپنے والد مرحوم کے مِشن کو جاری رکھوں گا ان شاء اللہ۔ اور 3 دسمبر 2010 ء تک وہ ایک زندہ شعور، پائندہ عزم اور تابندہ حوصلے کے ساتھ اس عہد کو برابر نبھاتے رہے۔

اپنے والد مرحوم سے وراثت میں تحریک اسلامی پائی تھی۔ اپنی اولاد کے لیے بھی وہی وراثت چھوڑگئے۔ ایمرجنسی سے پہلے جماعت اسلامی کی رکنیت کے لیے درخواست دی تھی جو ایمرجنسی کے اٹھنے کے بعد منظور ہوئی۔1982 ء میں جب کل ہند طلبہ تنظیم ایس۔آئی۔او کا قیام عمل میں آیا، کرناٹک میں اس کی قیادت کا بوجھ اٹھانے کے لیے ضلع رائچور کے چھوٹے قصبے سندھنور کے دو نوجوان آگے بڑھے۔ جناب محمد اقبال ملا صدر حلقہ بنے تو حامد بھائی سکریٹری۔ میقات ختم ہوئی۔ نئے صدر ملا لیاقت احمد ہبلی ہوئے، لیکن سیکریٹری کی ذمے داری دوبارہ حامد بھائی کو تفویض ہوئی۔جب طلبہ تنظیم سے فارغ ہوئے تو جماعت اسلامی ہند میں ذمہ داری اٹھائی۔ناظم ضلع، معاون اور ناظم ڈویژن، سکریٹری حلقہ، جنرل سکریٹری اور معاون امیر حلقہ کی ذمہ داریاں نبھائیں۔طبیعت بھی ایسی ہی پائی تھی اور تحریک نے تربیت بھی ایسی ہی کی تھی کہ ذمہ داری کے احساس نے منصب داری کے احساس کو دل کے قریب نہیں آنے دیا۔جو ذمہ داری بھی ملی اسے جی جان سے نبھایا اور اس کی راہ میں اپنے آپ کو خوب تھکا یا۔ ’نہ ‘ کہنے کی عادت نہ تھی، انکار کی جسار ت نہ تھی۔جس ذمہ دار نے جو کام دیا بلا چوں و چرا قبول کیا۔

کام کے دھنی تھے۔ محنت کے عادی تھے۔ مشقت سے یاری تھی۔ فرصت سے، سہولت سے، راحت سے گویا بے زاری تھی۔سفر میں آرام دہ سواری پسند نہیں تھی اور حضر میں آرام دہ بستر راس نہ آیا۔درویش صفت تھے فرش پر سوتے۔ باسی سوکھا کھا لیتے تھے۔ معاشیات میں ایم اے تھے لیکن خود اپنے معاش سے بے گا نہ تھے۔تقریر اور تحریر سے رغبت نہ تھی۔ لیکن وقت ضرورت ان سے بھی کام لے لیتے۔ تنظیمی کاموں میں تجربہ کار تھے، عزیمت کے مینار تھے۔ ایک شجرِ سایہ دار تھے۔ دھوپ سہ کر چھاؤں دیتے۔ اپنے دکھ چھپاتے تھے، دوسروں کے درد اپنا تے تھے۔ ایک بند شخصیت تھی، زیادہ کھلتے نہ تھے، زیادہ ملتے نہ تھے۔ خشک مزاج تھے، خوش آمد پسند نہ تھے۔کم بولتے تھے، کسی کا گاتے نہ تھے۔ کم کھاتے تھے، غذا بھی دوا بھی۔ گریز کرتے تھے اپنی ضرورت کے اظہار سے، رائے پر اصرار سے۔ شَکر کے بیمار تھے، شکرگزار تھے۔ پرہیز راس نہ آیا، تکلیف گوارا کرلیتے تکلف فرما لیتے۔

تلاوت کا شغف تھا۔ روزہ داری ان کا وصف تھا۔ نفل روزے کثرت سے رکھتے تھے۔ زندگی میں کبھی اسپتال نہیں گئے، لیکن اللہ نے آخری وقت میں انھیں اسپتال پہنچا یا۔ پلنگ پر سونا پسند نہ تھا لیکن اللہ نے آٹھ دن اسپتال کے پلنگ پر لٹایا۔ہمیشہ دوسروں کی خدمت کرتے، دوسروں سے خدمت لینا پسند نہ تھا، لیکن آخری وقت اللہ نے ڈاکٹروں اور نرسوں سے خدمت کرائی۔ کبھی ائیر کنڈیشنڈ سواری سے سفر کرنا پسند نہ کیا لیکن اللہ نے آخری سفر ایمبولنس کے آئس باکس میں کرایا، جس میں آپ کی میت بنگلور سے سندھنور لے جائی گئی۔خِلوت پسند تھے، بھیڑ بھاڑ سے دور رہتے تھے لیکن اللہ نے ہزاروں کندھوں پر سوار کراکر اپنے پاس بلا لیا ہمارے حامد حسین صاحب کو۔ اللہ کی رحمتوں ہوں ان پر۔

کنڑا ادب میں بالخصوص اسلامی لٹریچر میں ایک بڑا نام جناب ابراہیم سعید صاحب کا ہے۔ وہ بہ یک وقت مقرر، مصنف، مترجم،صحافی، داعی اور مربی تھے۔آپ کرناٹک کے ساحلی شہر منگلور سے تعلق رکھتے تھے۔بی کام ڈگری کے بعد بینک میں ملازمت مل گئی۔ اسی دوران جماعت اسلامی سے متعارف ہوئے۔ بینک کی ملازمت ترک کردی اور اپنے بڑے بھائی کے ساتھ کاروبار میں شامل ہوگئے۔ ابراہیم سعید نے چند رفقائے جماعت کے مشورے اور تعاون سے کنڑا ہفت روزہ ’سنمارگہ‘ (صراط مستقیم) شروع کیا۔ یہ 1978 کی بات ہے۔ اخبار آج تک جاری ہے۔ابراہیم سعید صاحب نے 26 کتابوں کاکنڑا میں ترجمہ کیا اور 18 کتابیں تصنیف کیں جن میں نبیﷺ کی سیرت پر لکھی کتاب ’’ پروادی جیونا متو سندیشا‘‘ (پیغمبر کی حیات و پیغام) بہت مقبول ہوئی جس کے کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اس کا پیش لفظ میسور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر جاؤرے گوڈا نے لکھا ہے۔جس میں وہ لکھتے ہیں کہ اس کتاب کے مسودے کو پڑھتے ہوئے کئی بار میرے آنسو بہہ نکلے۔

ابراہیم سعید صاحب نے کنڑا زبان میں عوامی درس قرآن کا سلسلہ شروع کیا جو اِس وقت ریا ست میں دعوت دین کا ایک مقبول عام طریقہ ہے۔ عموماً تین دن کا پروگرام ہوتا ہے۔ روزانہ 45 منٹ درس اور 45 منٹ سوال و جواب کے لیے مختص ہوتے ہیں۔ اس پروگرام کی پورے شہر میں خوب تشہیر کی جا تی ہے۔ انفرادی طور پر بھی لوگوں سے ملاقات کرکے دعوت دی جا تی ہے۔ خصوصاً ضلع انتظامیہ کے ذمہ داران جیسے ڈپٹی کمشنر، پولیس سپرنٹنڈنٹ، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، وکلا، یونیورسٹی اور کالج کے لکچرر، صحافی، ادیب اور شعرا، اسی طرح ایم پی، ایم ایل اےو دیگر سیاست داں اور عوام، مر د و خواتین، بزرگ اور نوجوان ہر طبقے کے لوگ اس میں شریک ہوتے ہیں۔ مذہبی پیشوابھی اکثر شریک ہو تے ہیں۔ ہر دن ایک موضوع جیسے، توحید، رسالت، آخرت، خاندانی نظام، وغیرہ پر قرآنی تعلیمات پیش کی جاتی ہیں۔ نبی ﷺ کے اسوے کو بھی سامنے رکھا جاتا ہے۔قرآن کے پیغام، قرآن کی زبان، مدرس کا طرز بیان حاضرین پر سحر پیدا کردیتا ہے۔ کئی لوگوں کی آنکھیں نم ہوتی دیکھی گئی ہیں۔ آخر ت کے موضوع پر اچھے دہریے بھی دہلتے دیکھے گئے۔ ایک مقام پر ایک سیشن جج درس قرآن پر اپنے تاثرات بیان کرکے قدم بوسی کے لیے جھک گئے۔ مرحوم ابراہیم سعید صاحب نے ایسا ہونے نہیں دیا اور ان سے بغل گیر ہو کر بتا یا کہ یہ صحیح طریقہ ہے۔

اردو بھی معیاری تھی۔ جمعہ کے خطبات ہوں کہ پبلک خطابات سب بہت موثر، پر مغز اور پر سوز ہوتے۔ہمیشہ پینٹ شرٹ اور کھلے سر کے ساتھ رہتے تھے۔ لیکن جب حلقہ کی امارت تفویض ہوئی تو سر پر ٹوپی بھی آگئی اور جبہ بھی پہننے لگے۔تحریکی ضرورتوں کے تحت وضع قطع بدلنے میں کوئی جھجک نہ تھی۔

کیرلا کے لوگ عمو ماً کار و باری مزاج کے ہوتے ہیں۔کچھ روزگار کے لیے تو کچھ دعوت و تبلیغ کے لیے نقل مکانی کرتے رہتے ہیں۔ ا س معاملہ میں مسلم و غیر مسلم (خصوصاً عیسائی) مشترک ہیں۔ شاید جتنی آبادی اس ریاست میں رہتی ہے اتنی ہی تعداد میں ملیالی لو گ دیگر مقامات پر بستے ہیں۔ کرناٹک میں بھی تحریکی افراد کیرلا سے آکر آباد ہیں۔ تجارت و دعوت دونوں میں انھوں نے یکساں نقوش چھوڑے ہیں۔ محی الدین المعروف معیدو بھائی ا ور عبد الوہاب شیموگہ شہر منتقل ہوئے۔ اردو اور کنڑا زبانیں سیکھیں اور دونوں رکن جماعت ہوئے۔ تجارت اور دعوت میں برابر مصروف رہے۔

چند سال پہلے معیدو بھائی کا انتقال ہو گیا۔ ان کا ایک چھوٹا ہوٹل تھا جو اب ان کے صاحب زادے دیکھ رہے ہیں۔وہ لوگوں کو برسرروزگار کرنے اور کم زوروں کی معاشی حالت بہتر کرنے کا خاص جذبہ رکھتے تھے۔ فٹ پاتھ پر تجارت کرنے والوں کو ٹھیلہ گاڑی دلادیتے، مہاجن یا بینکوں کے سودی قرضوں میں مبتلا تاجروں کا قرضہ اداکرکے انھیں سود کے چنگل سے آزاد کراتے، پھر آسان قسطوں میں اپنی دی ہوئی رقم واپس لیتے۔ اس راہ میں انھیں تلخ تجربے بھی ہوتے رہے لیکن دوسروں کی مدد کرنے میں ایسے واقعات رکاوٹ نہیں بنے۔ان کی اپنی تجارت متوسط درجے کی تھی لیکن اپنے سے کم زور لوگوں کو اوپر اٹھانے کی فکر دامن گیر رہتی۔لکڑی کے ایک تاجر کو پندرہ لاکھ کی ضرورت پیش آگئی۔ وہ بھی جماعت کے رفیق تھے۔ معیدو بھائی نے جیسے تیسے انتظام کردیا۔ لیکن چند وجوہ سے و ہ صاحب وعدہ نبھا نہیں سکے، یہاں تک کہ نقصان میں گھِر گئے۔ تجارت بیٹھ گئی۔ ہمت ہار گئے۔ نقل وطن کر گئے۔مگر معیدو بھائی انھیں ہمت دلاتے رہے۔ اور دوسروں کی بھی مدد جاری رکھی۔ وہ بڑی رقم انھیں واپس نہیں ملی۔

عبد الوہاب صاحب کا بھی ایک چھوٹا ہوٹل شیموگہ کے بس اسٹینڈ کے احاطے میں ہے۔ رفقائے جماعت کے لیے یہ ہوٹل قلبی مرکزکی طرح ہے، ساتھ ہی یہ دعوتی کاموں کا مرکز بھی ہے۔ لوگوں سے خاصے روابط رکھتے ہیں۔امیر مقامی کی ذمہ داری آن پڑی۔ ملیالم میں کچھ تعلیم پائی تھی۔ اردو بول چال سے کسی قدر واقف تھے۔ مگر ذمہ داری نبھانے میں کسر نہ چھوڑی۔ شہر بھر میں پھیلے ہوئے رفقاکو ایک مقام پرآباد کرکے ہم خیال لوگوں کی کالونی بنانے کا شوق سوار ہوا۔ مضافات میں ایک بڑی زمین کا سودا کیا، پیشگی رقم ادا کی، اس زمین میں چھوٹے پلاٹوں کا نقشہ بنا کر رفقا تک پہنچے۔ قسطوں میں ان سے رقم لے کر زمین کے مالک کو کُل رقم ادا کی۔ اسی مقام پر مسجد کے لیے جگہ بھی مختص کی۔خود اپنا ایک چھوٹا مکان بنا کر منتقل ہوگئے۔یکے بعد دیگرے لوگ مکانات بناکر آباد ہونا شروع ہوئے۔ اس علاقے کا نام وادی ہدی رکھد یا۔ نیا علا قہ تھا، ایک مسجد بھی بنا ڈالی۔ بچوں کے لیے اسکول کی ضرورت تھی۔ اپنے گھر سے نرسری کلاسوں کا آغاز کیا جو اب ایک مستقل عمارت میں وِزڈم اسکول کے نام سے جاری ہے اور دسویں جماعت تک ہے۔ مقامی امارت کی ذمہ داری سے سبکدوش ہوئے لیکن کام سبک رفتار ی سے ہنوز جاری ہے۔

محمد جعفر منیار، المعروف جانی بھائی رائچور کی معروف شخصیت، صدر بازار میں اچھی دکان کے مالک تھے۔جماعت کے ابتدائی دنوں ہی میں وابستہ ہوگئے۔ افراد سازی اور خدمت میں خاص مقام رکھتے ہیں۔ اپنی جوانی ہی میں کئی ہم عمروں کو جماعت سے وابستہ کرایا۔ مولانا محمد سراج الحسن بھی آپ ہی کی کوششوں سے جماعت سے وابستہ ہوئے تھے۔ بنگلور سے دس گھنٹے کی مسافت پر رائچور ریلوے اسٹیشن پا یا جاتا ہے۔بنگلورسے دلی جانے والی ٹرینیں عموماً رائچور سے گزرتی ہیں۔ بنگلور سے دلی یا دلی سے بنگلور آنے جا نے والے رفقائے جماعت کے بارے میں اگر انھیں علم ہوتا تو توشہ دان لے کر اسٹیشن پہنچ جا تے۔ جوار کی روٹیاں، پانی کی بوتل اور چند کیلے اس توشہ دان کی خاص چیزیں ہوتی تھیں۔ کبھی ٹرین رات کے ایک یا دو بجے گزرتی تب بھی جانی بھائی موجود رہتے۔ کبھی ٹرین کے پہنچنے میں تاخیر ہوتی، جانی بھائی وہیں انتظار کرتے رہتے۔

جماعت کے کنڑا ترجمان سنمارگہ کے لیے تعاون لینے ایک بیڑی فیکٹری کے مالک کے پاس پہنچے۔ فیکٹری کے کمپاؤنڈ کا منظر مالک کو اپنی دفتر کی پہلی منزل سے نظر آتا تھا۔ عصر کے بعد کا وقت تھا۔ جانی بھائی فیکٹری کے گیٹ سے اندر داخل ہوئے، ان کے ساتھ ایک اجنبی شخص کو دیکھ کر فیکٹری کے مالک سمجھ گئے کہ کسی کے مالی تعاون کے لیے ان کی آمد ہو رہی ہے۔انھوں نے کھڑکی سے آواز دی جانی بھائی جلدی آئیے فیکٹری کا کیش کاؤنٹر ابھی بند ہو نے والا ہے۔سیٹرھیوں سے جانی بھائی کے دفتر پہنچنے تک فیکٹری کے مالک نے اپنے کیشیئرکو طلب کرلیا تھا۔ جب جانی بھائی نے سنمارگہ کے سلسلے میں گفتگو کی تو مالک نے اشارہ کیا اور کیشیئر نے رقم لا کر دے دی۔ اس کے بعد فکیٹری مالک نے کہا اللہ کا یہ بندہ کبھی اپنے کسی کام سے نہیں آتا، ہمیشہ دوسروں کے لیے آتا ہے۔ مجھے یقین ہوگیا کہ آج بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوگا۔

ابراہیم شریف صاحب بنگلور کی سٹی مارکٹ میں پھلوں کے تاجر تھے۔ کم پڑھے لکھے تھے۔اپنے جگری دوست عبد الرشید ندوی کی صحبت میں رہ کر جماعت کے قریب ہوئے اور رکن بن گئے۔ کثیر العیال اور تنگدست تھے مگر مہمان نواز تھے۔ بیماروں کے علاج و معالجہ سے خاص شغف تھا۔ سرکاری وکٹوریہ اسپتال میں غریبوں کے علاج کے لیے ڈاکٹروں سے رجوع کرتے ہوئے اس قدر مشہور ہو گئے کہ ہر ڈاکٹر تک رسائی ان کے لیے بہت آسان تھی۔ نرسنگ اسٹاف بھی ان کی خدمت کا معترف تھا۔ جو مریض اسپتال میں داخل کرلئے جاتے ان کے تیمارداروں کی ضرورتوں کا بھی آپ پورا پورا خیال رکھتے۔ جہاں پر مالی مدد کی ضرورت ہوتی، وہ اپنی مارکیٹ کے شناسالوگوں سے اکٹھا کرلیتے۔ مارواڑی تاجروں کی ایسوسی ایشن سے بھی بارہا تعاون لیتے رہتے۔خود ایسوسی ایشن کے لو گ آپ کو بلاکر رقم تھما دیتے کہ کسی غریب کے علاج کے لیے استعمال کریں۔ مولانا سراج الحسن صاحب جب امیر حلقہ تھے تو ابراہیم شریف صاحب دفتر حلقہ میں خدمت پر مامور تھے۔ دفتر حلقہ ان دنوں سٹی مارکٹ اور وکٹوریہ اسپتال سے قریب تھا۔ باہر کے شہروں کے رفقائے جماعت علاج کے لیے بنگلور آتے تو عموماً دفتر حلقہ سے رجوع ہوتے، ابراہیم شریف صاحب ہرایک کے لیے میڈیکل گائیڈ بھی تھے اور خادم بھی۔عوام میں بھی آپ کی بے لوث خدمت کے ذریعے کئی لوگ جماعت سے قریب ہوئے جن میں راقم الحروف بھی شامل ہے۔

میر جعفر علی صاحب الامین کالج بنگلور میں اردو کے پروفیسر تھے۔ اقبالیات کے دلدادہ۔ نہایت خوش مزاج، فعال اور متحرک شخصیت۔ 1944 میں ہی جماعت کے رکن بن گئے تھے۔1945 میں پٹھانکوٹ میں منعقدہ کل ہند اجتماع میں ریاست میسور سے تنہا شریک ہوئے تھے۔ ایک عرصہ میسور علاقے کے ناظم بھی رہے۔ شاگردوں کے علاوہ شناسا لوگوں کا وسیع حلقہ تھا۔ خصوصاً برادران وطن سے وسیع تعلقات تھے۔ دلت وائس ہفت روزہ کے ایڈیٹر راج شیکھر اور ان کے قلم کاروں سے قریبی تعلقات تھے۔ نوجوانوں میں نوجوان بن کر اور بزرگوں میں بزرگوں کی طرح رہنے کا سلیقہ تھا۔ اپنے شاگردوں کی علمی و فکری تربیت پر خاصی توجہ کرتے۔ مشہور افسانہ نگار فیاض قریشی بھی ان کے شاگرد ں میں تھے۔ ایک بار موصوف نے بتا یا کہ اس زمانے میں فون وغیرہ کی سہولت نہیں تھی۔ فجر کی نما ز کو جگانے کے لیے استاذ محترم سائیکل کے ذریعے پانچ کلو میٹر کی مسافت طے کرکے ان کے گھر جا کر دستک دیتے۔ اسی طرح دوسرے شاگردوں کے گھروں کا بھی چکر لگاتے۔ نماز کے بعد شاگردوں کو لے کر کسی پارک میں ٹہلنے کے بہانے گشتی تذکیر کا اہتمام کرتے۔ اپنے ملاقاتیوں سے بے تکلفی تھی۔ جلد گھل مل جاتے۔ ادبی ذوق اور بذلہ سنجی نے طبیعت میں کشش پیدا کردی تھی۔ آپ کے جنازے میں برادران وطن کی کثیر تعداد شریک تھی جو اس سے پہلے کسی اور کے جنازے میں نہیں دیکھی گئی۔ اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کے تمام ساتھیوں پر جو اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہوئے گزر گئے۔

مشمولہ: شمارہ نومبر 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau