دشمنوں کے ساتھ حسنِ سلوک

محمد اقبال ملا

حضر ت محمد ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ آپؐ رحمة للعالمین ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ کا ارشاد ہے:

‘‘ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔ ‘‘ (الانبیاء: ۱۰۷)

گویا آپؐ سب کے لیے رحمت ہی رحمت ہیں۔ آپؐ کی رحمت کا حال یہ ہے کہ آپ کے پیرو تو اس سے مستفیض ہوتے ر ہے اور آج بھی ہور ہے ہیں لیکن آپؐ کے مخالفین بھی محروم نہیں رہے۔ آپؐ نے اپنی پوری زندگی نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد سے لے کر وفات تک کسی کو اپنا دشمن نہیں بنایا۔ آپؐ کی رحمت کا حال یہ ہے کہ ہر انسان، ہر مخلوق اور ہرجان دار سے محبت وشفقت، نرمی، رحم وکرم، عفو ودرگزر اور لطف وعنایت کا سلوک کیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ سختی، غصہ، سنگ دلی، انتقام اور بدلہ وغیرہ کو جانتے ہی نہیں تھے۔ آپؐ نے پوری زندگی کبھی کسی انسان سے نفرت، بے زاری اور دشمنی کا رویہ اختیار نہیں فرمایا۔ آپؐ کی زندگی میں سیکڑوں واقعات پیش آئے ہیں جہاں آپ کی جگہ کوئی دوسرا ہوتا تو اپنے مخالفین اور دشمنوں سے انتقام لیے بغیر نہیں رہتا۔ آپؐ نے ہمیشہ اپنے مخالفین اور دشمنوں کو معاف کیا۔ ان کے لیے دعائیں کیں۔ خیروبھلائی کے کلمات سے ان کو نوازا۔ ان کی ناروا حرکتوں، ظلم وستم اور قتل وغارت گری جیسے بڑے جرائم سے درگزر کیا۔ حتیٰ کہ اپنی عزیز بیٹی کے قاتل کو، بجائے قتل کاحکم دینےکے ،آپؐ نے معاف فرمادیا۔ اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا۔ مکہ کے تیرہ سال کے قیام میں آپ کی شدید مخالفت کی گئی۔ ہر طرح کا ظلم وستم آپؐ اور آپؐ کے ساتھیوں پرڈھایا گیا لیکن آپؐ کے رویے میں کوئی فرق نہیں آیا۔ اس کے بعد مکہ سے ہجرت کرکے آپؐ مدینہ تشریف لائے۔ مدینہ میں دس سال قیام رہا۔ وہاں ظلم وستم اور تشدد جنگوں کی صورت میں منتقل ہوا۔ مکہ میں آپ کے مخالفین نے مدینہ پر حملے کیے۔ جنگوں کو مسلط کیا۔ دیگر قبائل اور مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ مل کر مدینہ کو تباہ وبرباد کرنے کے منصوبے بنائے اور اس پرعمل کیا۔ لیکن آپؐ کا رویہ مخالفین اور دشمنوں کے ساتھ شفقت ومحبت، نرمی اور لطف وکرم اور احسان کا ہی رہا۔ کیا تاریخ میں ایسی کوئی شخصیت ہے؟ حضرت محمدؐ کی زندگی کے چند منتخب واقعات سےآپ کو ہماری باتوں کی صداقت کا ثبوت مل جائے گا۔

سوشل بائیکاٹ کا واقعہ

مکہ میں حضرت محمدؐ کے مخالفین نے دعوت اسلام کو نہ صرف جھٹلا یا بلکہ شدید مخالفت، ظلم وستم اور اذیت رسانی کےتمام حربے آزماتے ر ہے۔ مخالفین کو اپنی تمام کوششوں میں کوئی خاص کام یابی حاصل نہیں ہوئی توانھوں نے ظلم وستم کے لیے ایک دوسری اسکیم سوشل بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ اس کی تفصیل مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری اس طرح بیان کرتے ہیں:

اس فیصلہ کے مطابق مشرکین وادی معب میں جمع ہوئے اور آپس میں بنی ہاشم اور بنی مطلب کے خلاف یہ عہدوپیمان کیا کہ

نہ ان سے شادی بیاہ کریں گے

نہ خریدوفروخت کریں گے

نہ ان کے ساتھ اٹھیں بیٹھیں گے

نہ ان سے میل جول رکھیں گے

نہ ان کے گھروں میں جائیں گے، نہ ان سے بات چیت کریں گے

جب تک وہ رسول اللہؐ کو قتل کرنے کے لیے ان کے حوالے نہ کردیں۔

مشرکین نے اس بائیکاٹ کی دستاویز کے طورپر ایک صحیفہ لکھا، جس میں اس بات کا عہدوپیمان کیاگیاتھا کہ وہ بنی ہاشم کی طرف سے کبھی بھی کسی صلح کی پیش کش قبول نہ کریں گے، نہ ان کے ساتھ کسی طرح کی مروت برتیں گے، جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لیے مشرکین کے حوالے نہ کردیں۔

بہر حال یہ عہدوپیمان طے پاگیا اور صحیفہ خانہ کعبہ کے اندر لٹکا دیاگیا۔ ان حالات پر پورے تین سال گزرگئے۔ اس کے بعد بعض ہمدردوں کی مدد سے صحیفہ چاک کردیا گیا اور ظالمانہ عہدوپیمان ختم کیے جانے کا واقعہ پیش آیا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے : الرحیق ا لمختوم، ص۱۷۱۔ ۱۷۳)

ان تین برسوں میں حضرت محمدؐ اور ان کے پیروجن میں مردوں کے ساتھ خواتین، بوڑھوں، ضعیفوں اور بچوں کی بھی خاصی تعداد تھی گھاٹی میں بند ہوکررہ گئے۔ بھوک مٹانے کے لیے درختوں کے پتے اور سوکھے چمڑے دھوکر استعمال کرنے کی کوشش کرتے۔ بچے بھوک کی شدت اور دودھ نہ ملنے کی وجہ سے بلک بلک کر روتے لیکن دشمنوں کو رحم نہیں آتا۔ اس زمانے میں کوئی قافلہ سامان تجارت لے کر مکہ آتا اور کوئی مسلمان اپنے گھروالوں کے لیے کھانے کی کوئی چیز خریدنے کے لیے بازار پہنچتا تو ابولہب ان تاجروں سے کہتا اے تاجرو! محمدؐ کے ساتھیوں کے لیے نرخ بڑھا دو چناں چہ وہ قیمتیں بڑھادیتے اور نتیجے میں وہ مسلمان کوئی چیز خرید نہیں پاتا اور اس حال میں بچوں کے پاس واپس لوٹتا کہ وہ بھوک سے بلبلار ہے ہوتے۔ (سیرت رسولؐ دروس اور نصائح ص ۱۶۳) بالآخر تین سال کے بعد اس ظلم وستم کا خاتمہ ہوتا ہے۔ حضرت محمدؐ، آپؐ کا خاندان اور آپؐ کے پیروکارگھاٹی کی قید سے باہر نکل کر اپنے گھروں کو پہنچتے ہیں۔

حضرت محمدؐ کی دشمنوں کے لیے شفقت، نرمی اور رحمت کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ تین برس تک گھاٹی میں سوشل بائیکاٹ کرنے والوں کے خلاف کوئی بددعا اور لعنت ملامت نہیں کی۔ جب آپؐ نے مکہ میں غلبہ حاصل کرلیا تو ان دشمنوں سے کوئی بدلہ نہیں لیا بلکہ سب کو معاف کردیا۔

تین سال بعد گھاٹی کی قید سے باہر ہوئے تو مکہ میں قحط پڑا۔ بھوک اور پیاس سے لوگ بلبلااٹھے۔ ابوسفیان ایک بڑے سردار تھے انھوں نے حضرت محمدؐ سے ملاقات کرکے قحط سے نجات کے لیے دعا کرنے کی درخواست کی۔ حضرت محمدؐ نے اپنے ایک بہت بڑے دشمن کی درخواست قبول فرمائی۔ آپؐ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، بارش ہوئی اور قحط کی پریشانیاں دور ہوگئیں۔ (داعی اعظمؐ صفحہ ۶۳)

سوشل بائیکاٹ کاواقعہ سن ۶۱۸-۶۲۰ء میں پیش آیا۔ سوشل بائیکاٹ کے ختم ہونے کے چند ماہ بعد آپ کے چچا ابوطالب کی وفات ہوئی اور اس کے چند روز بعد آپ کی اہلیہ حضرت خدیجہؓ کی وفات ہوئی۔

طائف کا واقعہ

جون ۶۲۱ء میں حضرت محمدؐ اسلام کے پیغام کو پہنچانے کے لیے مکہ سے تقریباً ۶۰میل دور طائف شہر تشریف لے گئے۔ مکہ میں دعوت دیتے ہوئے تقریباً دس برس ہوگئے تھے۔ بہت سے افراد اور بعض خاندان ایمان لائے تھے لیکن آپؐ کی مخالفت بہت زیادہ ہورہی تھی۔ ظلم وستم اور اذیت رسانی بڑھتی جارہی تھی۔ آپؐ نے ارادہ کیا کہ طائف ایک خوش حال بستی ہے وہاں جاکر لوگوں کو اسلام سمجھانا چاہیے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ لوگ ایمان لائیں اور آپ کی اس کام میں مدد کریں۔ آپؐ کے ساتھ آپ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ ؓ ہم سفر تھے۔ راستے میں جتنے قبیلے ملے ان کے سرداروں کو آپؐ نے دعوت دی۔ لیکن کسی نے بھی آپؐ کی دعوت قبول نہیں کی۔ طائف میں مشہور قبیلہ ثقیف تھا۔ اس قبیلے کے تین بڑے سرداروں سے ملاقات کی اور ان کو اسلام کی دعوت پیش کی۔ لیکن انھوں نے دعوت کو نہ صرف جھٹلایا بلکہ حضرت محمدؐ کے ساتھ نہایت براسلوک کیا۔ مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری لکھتے ہیں:

“رسول اللہؐ نے طائف میں دس دن قیام فرمایا۔ اس دوران آپؐ ان کے ایک ایک سردار کے پاس تشریف لے گئے اور ہرایک سے گفتگو کی۔ لیکن سب کا ایک ہی جواب تھا کہ تم ہمارے شہر سے نکل جاؤ۔ بلکہ انھوں نے اپنے اوباشوں کو شہ دے دی۔ چناں چہ جب آپؐ نے واپسی کا قصد فرمایا تو یہ اوباش گالیاں دیتے، تالیاں پیٹتے اور شور مچاتے آپؐ کے پیچھے لگ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اتنی بھیڑ جمع ہوگئی کہ آپؐ کے راستے کے دونوں جانب لائن لگ گئی۔ پھر گالیوں اور بدزبانیوں کے ساتھ ساتھ پتھر بھی چلنے لگے۔ جس سے آپؐ کی ایڑیوں پراتنے زخم آئے کہ دونوں جوتے خون میں تربتر ہوگئے۔ ادھر حضرت زید بن حارثہؓ ڈھال بن کر چلتے ہوئے پتھروں کو روک ر ہے تھے جس سے ان کے سر میں کئی جگہ چوٹ آئی۔ طائف سے تین میل کے فاصلے پرآپؐ نے ایک باغ میں پناہ لی تو بھیڑ واپس چلی گئی۔ آپؐ ایک دیوار سے ٹیک لگاکر انگور کی بیل کے سائے میں بیٹھ گئے۔ ” (تفصیل کے لیے دیکھیے: الرحیق المختوم، ص ۱۹۹۔ ۲۰۰)

بدترین سلوک کرنے والوں کو آپؐ نے معاف کردیا۔ ان کی جانب سے تکلیفوں اور ظلم وتشدد کو برداشت کیا۔ آپؐ چاہتے تو ان کی ہلاکت کے لیے بددعا فرماسکتے تھے۔ لیکن آپ نے ایسا نہ کرکے ایک ایسی بات فرمائی جو صرف پیغمبر ہی کہہ سکتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی پشت سے ایسی نسل پیدا کرے گا، جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائے گی۔ (سیرت رسولؐ دروس اور نصائح، ص ۱۹۱)

فتح مکہ

۶۳۲ء، ماہ رمضان میں حضرت محمدﷺنے دس ہزار صحابہؓ کی فوج لے کر مکہ پر چڑھائی کی۔ آپؐ نے ایسی منصوبہ بندی کی تھی کہ جس میں انسانی جان کی ہلاکت نہ ہواور بغیر خون بہائے مکہ فتح ہوجائے۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا۔ آپؐ کا سفر اس طرح ہوا کہ قریش اور مکہ والوں کو خبر نہیں ہوئی۔ ان کے سرپردس ہزار افراد کا لشکر آگیا۔ آپؐ کے دوسرے اعلانات اور اقدامات کی وجہ سے بھی مکہ میں صرف چند افراد کی جان گئی۔ حضرت محمدؐ نے اپنے لشکر کو مختلف راستوں سے مکہ شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ اس موقع پر جو احکام دیے گئے اس کی تفصیل قاضی محمد سلیمان منصورپوری نے اس طرح بیان کی ہے:

جو شخص ہتھیار پھینک دے اسے قتل نہ کیاجائے۔

جو کوئی شخص خانہ کعبہ کے اندر پہنچ جائے اسے قتل نہ کیا جائے۔

جو کوئی شخص اپنے گھر کے اندر بیٹھ ر ہے اسے قتل نہ کیا جائے۔

جو کوئی شخص ابوسفیان کے گھر جار ہے اسے قتل نہ کیا جائے۔

جو کوئی شخص حکیم بن حزام کے گھر جار ہے اسے قتل نہ کیا جائے۔

بھاگ جانےو الے کا تعاقب نہ کیاجائے۔

زخمی کو قتل نہ کیا جائے۔

اسیر کو قتل نہ کیاجائے۔

فتح مکہ کی اس کارروائی میں صرف دو مسلمان اور ۲۸ مخالفین کی جان گئی۔ حضرت محمدؐ جس وقت مکہ میں داخل ہوئے، آپ سرجھکائے قرآن مجید کی تلاوت کرر ہے تھے۔ اونٹ کی سواری پر اللہ کے گھر جار ہے تھے۔ اونٹ پر اپنے آزاد کردہ غلام زید کے فرزند اسامہؓ کو سوار کر رکھا تھا۔ وہاں پہنچ کر آپ نے بیت اللہ میں رکھے ہوئے تین سو ساٹھ بتوں سے اللہ کے گھر کو پاک کیا۔ (رحمة للعالمینؐ، ص ۱۱۳، ۱۱۴)

حضرت محمدؐ کے سامنے مکہ کے وہ بڑے بڑے سردار تھے جنھوں نےآپ ؐ کے قتل کی سازش کی تھی، جس کی وجہ سے آپؐ کو مکہ سے مدینہ ہجرت کرنا پڑاتھا۔

آپؐ اور آپؐ کے ساتھیوں کے گھر بار پر ان لوگوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

یہ وہ لوگ تھے کہ مدینہ میں حضرت محمدؐ اور ان کے ساتھیوں کو چین سے رہنے نہیں دیا۔ ایک خدا کی بندگی اختیار کرنے کے لیے عقیدہ کی آزادی سے محروم کرنے کی کوشش کی۔

مدینہ کی دس سال کی زندگی میں حضرت محمدؐ کو نہ چاہتے ہوئے بھی ۸۳ جنگوں کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے کئی مسلمانوں کی ناحق جان لے لی تھی۔ ان کے مال و اسباب کو لوٹا تھا۔

یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے کافی تعداد میں مسلمانوں کو اذیت دے کر ان کے گھروں سے نکالا تھا۔

یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے دیگر قبائل کے ساتھ مل کر مدینہ کو تباہ کرنے اور حضرت محمدؐ کو قتل کرنے کے منصوبے بنائے تھے۔

اب یہ تمام لوگ شرمندگی کے ساتھ سرجھکائے کھڑے تھے۔ دنیا کے کسی قانون، اخلاق کے کسی اصول اور عام رواج کے مطابق ان کا انجام کیا ہونا تھا؟ ظاہر ہے کہ ان سب کو قتل کرنے کا حکم ہوتا تو کوئی غلط بات نہیں تھی۔ لیکن ان سب کے سامنے وہ ہستی تھی جو رحمة للعالمین ؐتھی۔ حضرت محمدؐ نے ان سب کو مخاطب کرکے فرمایا: جاؤ آج تم سب آزاد ہو۔ آج تم پر کوئی گرفت نہیں جہاں چاہو چلے جاؤ۔

حضرت محمد ﷺ پر تشدد پسندی اور فسادو بدامنی کا الزام لگانے والو! ذرا غور کرو، بدترین دشمنوں اور خون کے پیاسے انسانوں سے بدلہ لینے اور انتقام کی پیاس بجھانے کا یہ بہترین موقع تھا۔ ایسے نازک موقع پر جب کہ ان مجرمین کا کوئی حمایتی اور مدد کرنے والا نہیں۔ حضرت محمدﷺ نے سب کو عام معافی دے دی سوائے چند مجرمین کے جن کے انسانی جرائم اتنے بڑے اور خوف ناک تھے کہ ان کو سزا دینا ضروری تھا۔

جولائی 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau