حق اور انصاف

سماج کی بنیادی ضرورت

نوید ابن فیضی

اسلام دین انسانیت بھی ہے اور دین فطرت بھی۔ یہ دین انسان کو عزت، وقار، سربلندی اور مقام عطا ء کرتا ہے۔ اس کے پاس رنگ، نسل، زبان، علاہقہ، حسب نسب، اونچ نیچ، امیری غریبی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس کے نزدیک سارے انسان آدم کی اولاد ہیں اور سب برابر ہیں۔ مرتبہ اور مقام انسان کو اسکے اچھے اعمال کے بدلے ملتا۔

ولقد کرمنا بنی آدم ’’بے شک ہم نے اولاد آدم کو عزت بخشی‘‘۔

انا اکرمکم عند اللہ اتقکم’’ اللہ کے نزدیک عزت تقوی کی بنیاد پر ہے ‘‘ ۔

نسل انسانی جوں جوں بڑھتی گئی انسان بندوں کا غلام بنتا گیا۔ اللہ نے اول روز سے انسان کو یہ بتادیا تھا کہ بندگی صرف اللہ کا حق ہے اس حق میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ کیونکہ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور وہی اس کی تمام ضرورتوں کو پورا بھی کررہا ہے۔

يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝۲۱ۙ الَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَاۗءَ بِنَاۗءً۝۰۠ وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ۝۰ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلہِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝۲۲  (البقرہ ۲۱۔۲۲)

’’ اے انسانوں۔ اپنے رب کی بندگی کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا امید ہے کہ اس طرح تم دنیا و آخرت کی نا کامیوں سے بچ سکو گے جس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بنایا اور آسمان کی چھت، اور آسمان سے پانی اتارا، تو اس سے تمہارے لئے پھلوں کا رزق پیدا کیا، تو تم اللہ کی بندگی میں اس کے شریک نہ ٹھراؤ۔ تم تو جانتے ہی ہو‘‘۔

انسان کی فطرت ہے کہ وہ تنہا زندگی نہیں گزار سکتا۔ اس کی ضرورتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئیں ہیں اسکا خاندان، اس کے رشتہ دار، اس کے پڑوسی، اس کے محلے والے، اس کے ملک و قوم کے لوگ،ایک پوری نوع انسانی کے درمیان وہ جیتا ہے۔ کا ئنات پر نظر دوڑایے وہ بھی ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ زمین میں ایک بیج کے پھینکتے ہی ہوا، پانی، سورج کی گرمی سب ا س کی مدد میں جٹ جاتے ہیں تب کہیں جاکر وہ تناور درخت بنتا ہے۔ جب انسان سماجی زندگی گزارتا ہے تو ا س کا سابقہ دوسرے انسانوں سے پڑتا ہے، سماجی ماحول کو پاک و صاف۔ خوشگوار، اور اعتدال پر قا یم رکھنے کے لئے کچھ اصولوں کی ضرورت پڑتی ہے ، ورنہ سماج بد امنی اور فساد کا شکار ہوجا ئے گا۔ اسلام بڑی وضاحت اور تاکید کے ساتھ ان اصولوں کی تعلیم دیتا ہے۔

اسلام کی سماجی تعلیم میں ’’حق ‘‘اور ’’انصاف ‘‘دو کلیدی عناصر ہیں۔

حق ’حق‘ لغوی اعتبار سے اپنے اندر وسیع معنی رکھتا ہے۔ لغت میں، سچ،واجب،درست، ٹھیک، فرض۔ ذمہ داری، انصاف، منصب و اختیار، ’حق ‘ کے معنی ہیںاور اسلام میں ’حق‘ ان تمام ہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اسلام میں دو طرح کے حقوق بیان ہوئے ہیں۔ایک ’حق اللہ ‘اور دوسرے ’ حق العباد ‘۔

اللہ اور بندو ںکے حقوق اصل میں دین کا نچوڑ ہیں۔ اگر دین کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ، حقوق ہی کا دوسرا نام،احکامات، شریعت، اور فرایض ہیں۔ اللہ تعالی نے اپنا حق بھی بتا یا ہے اور بندوں کا حق بھی سمجھایا ہے اورانہیں ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

’حق اللہ ‘۔ انسان پر سب سے پہلے اپنے پیدا کرنے والے خالق مالک پروردگار کا حق ہے اور یہی انصاف کا تقاضہ بھی ہے۔ وہ اللہ جس نے انسان کو بہتریں ساخت میں پیدا فرمایا، اس کی مادی اور روحانی ضرورتوں کو پورا کیا۔ اس کی پرورش و نگہبانی کرتا ہے، موت و حیات اس کے اختیار میں ہے۔ انسانوں پر اس کی اتنی نعمتیں ہیں کہ انسان اسکا شمار کرنے سے بھی قاصر ہے۔

اللہ کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ انسان اسی کو اپنا تنہا رب، معبود، الہ ، حاجت روا، حاکم ، اطاعت و بندگی اور پرستش و عبادت کے لائق سمجھے۔ اسی کا حکم مانے اسی کے آگے دست سوال دراز کرے، اسی کے سامنے عجز و نیاز پیش کرے، اسی سے ڈرے، اسی سے امیدیں وابستہ رکھے، اسکی ذات و صفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہر ائے۔  انسان کا شرف اسی میں ہے کہ وہ اللہ کی بندگی اختیار کرے، اور آخری سانس تک کرے۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ  (آل عمران: ۱۰۲)

’’اے ایمان لانے والو۔ اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو‘‘۔

ہُوَالَّذِيْ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ      (المومنون: ۸۰)

’’وہی زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے‘‘۔

اَللہُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ۝۰ۚ وَسَخَّــرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِاَمْرِہٖ۝۰ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْہٰرَ۝۳۲ۢ وَسَخَّــرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَاۗىِٕـبَيْنِ۝۰ۚ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّہَارَ۝۳۳ۚ وَاٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْہُ۝۰ۭ وَاِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللہِ لَا تُحْصُوْہَا۝۰ۭ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۝۳۴  (ابراھیم: ۳۲۔ ۳۴)

’’اللہ وہی تو ہے جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لئے طرح طرح کے پھل پیدا کیے، جس نے کشتی کو تمہارے لئےمسخر کیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے اور دریاؤں کو تمہارے لئے مسخر کیا۔ جس نے سورج اور چاند کو تمہارے لئے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جارہے ہیں اور رات و دن کو تمہارے لیے مسخر کیا۔ جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو کر نہیں سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور نا شکرا ہے۔

اللہ کے حق کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اسی کی طرف یکسو ہوکر اس کی بندگی بجا لا ئیں اور اس کے حکموں کی اطاعت کریں۔

فَاَقِـمْ وَجْہَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا۝۰ۭ فِطْرَتَ اللہِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْہَا   (الروم:۔۳۰)

’’  پس اے نبی یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی سمت میں جمادو قائم ہو جاؤ اس فطرت پر جس پر اللہ تعالی نے انسانوں کو پیدا کیا ہے‘‘۔

حق العباد

دوسرا حق جو اسلام ہمیں بتاتا ہے وہ بندوں کے حقوق ہیں۔

اسلام نے انسانی حقوق کی حفاظت اور ادا ئیگی کو، دین اور عین عبادت قرار دیا۔ اور اس میں کوتاہی کو گناہ بتا یا گیا ہے۔ یہ انسان کی ہر ہر قدم پر اس کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔ بچہ پیدا ہوتے ہی اس کے رضاعت کا حق متعین کرتا ہے، بڑے ہوتے ہی ان کے بود و باش، تعلیم و تربیت، شادی بیاہ تک کی ذمہ داری والدین پر ڈالتا ہے اور خصوصا لڑکیوں کی پرورش جو ایام جاہلیت میں اور جدید جاہلیت میں ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے ترغیب دلائی گئی کہ یہ اولاد کا حق ہےاور اللہ کی رضا و جنت کے حصول کا ذریعہ ہے۔

’’ اپنی اولاد کو فقروفاقہ کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی، یقیناً ان کا قتل بہت بڑا گناہ ہے‘‘۔

’’قرآن کےمطابق ماں اپنے بچے کو دو سال دودھ پلا ئے گی۔ یہ اس بچے کا حق ہےاور ماں اور بچے کی کفالت کی ذمہ داری بچہ کے باپ پر ہے۔ خصوصاً لڑکیوں کی پرورش کی تاکید اور ترغیب دیتا ہے۔ مسلم کی روایت ہے۔

’’جس شخص نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں، میں اور وہ قیامت کے روز قریب ہوں گے، اور آپ نے انگلیوں کو ملا کر دیکھایا کہ اتنے قریب ‘‘ ۔ ( مسلم)

والد ین جب بوڑھے ہوجا ئیں، تو بچوں کو تاکید کرتا ہے کہ ان کے ساتھ رحم و شفقت کا برتاو کرے۔ ان کے سامنے اُف تک نہ کہے اور ان کے حق میں دُعا کرتے رہے۔ یہ حسن سلوک والدین کا حق ہے اور اس کی بڑی تاکید آئی ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازا اس سے ہوتا ہے کہ اللہ کے حق کے فورا بعد والدین کا حق بیان کیا گیا۔

وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاہُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا۝۰ۭ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْ كِلٰـہُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا۝۲۳ وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا كَـمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا۝۲  (بنی اسرایل :۳۲۔۲۴)

’’اور تمہارے رب نے فیصلہ فرمادیا کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں اف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو۔ رحمت و شفقت سے ان کے لے عاجزی کے بازو جھکادو اور کہو۔ اے میرے رب،ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں پالا تھا ‘‘ ۔

بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ: ’’ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پو چھا :اے اللہ کے رسول میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟فرمایا :تمہاری ماں، پوچھا پھر کون؟ فرمایا تمہاری ماں، پوچھا پھر کون؟ فرمایا تمہاری ماں، پوچھا پھر کون ؟ فرمایا :تمہارا باپ۔ ایک روایت میں ہے پھر جو رشتہ دار زیادہ قریب ہو اور جو زیادہ قریب ہوں‘‘ ۔

پھر رشتہ داروں اور قرابت داروں کا حق ہے کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ زکوہ اور صدقہ وغیرہ میں اپنے غریب رشتہ داروں کو دینا دوہرا ثواب بتایا گیا۔

وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّہٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ۝۰ۙ وَالسَّاۗىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ

’’نیکی یہ ہے کہ مال کی محبت کے باوجود خرچ کرے عزیزوں، یتیموں، غریبوں، مسافروں اور سایلوں پر اور غلاموں کو آزاد کرانے کے لئے‘‘۔ (البقراء :۱۷۷ (

پھر پڑوسیوں کا حق متعین کیا گیا اور اس میں مذہب و ملت کی قید نہیں رکھی گئی اور ان کی اتنی تاکید کی گئی کہ حضور نے فرمایا کہ گمان ہونے لگا کہ پڑوسی کو بھی وراثت میں شریک ٹھہرا یا جا ئے گا۔

وَاعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْۢبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ۝۰ۙ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرَۨا۝۳۶ۙ            (النساء:۳۶ )

’’اور تم سب اللہ کی بندگی کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو قرابت داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ اور پڑوس، رشتہ داروں سے، اجنبی ہمسایہ سے پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے ‘‘۔

’’رشتوں کو توڑنے والا جنت میں نہیں جائےگا‘‘۔ (بخاری مسلم)

پھر سماج کے ان غریب غرباء کو اپنے مال میں سے صدقہ خیرات اور زکوۃ کی مد سے مدد کرنے کا حکم دیااور کہا کہ ان کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کیا جائے۔ یہ سماج کہ غراباء کا حق ہے۔  حاکم کو رعایا کا خادم بتایا گیا اور تاکید کی کہ ملک کے ہر شہری کی عزت و احترام  و حفاظت، معاشی و اقتصادی، امن و سلامتی،فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھا ئی چارہ، عورتوں، بوڑھوں اور یتیموں کی خبر گیری اور سماج کے کمزور طبقوں کی حفاظت کو یقینی بنا یا جائے اور معاشرے میں عدل و قسط قائم کیا جائے۔ اس سے بڑھ کر یہ بات ذ ہن نشین کرائے گئی ہے کہ کل قیامت  میں ان حقوق کی باز پرس ہوگی۔ بخاری کی روایت ہے۔

حضور نے فرمایا: ’’جس کسی نے اپنے بھائی پر اس کی آبرو کے سلسلے میں کوئی ظلم کیا ہو یا اس کی کوئی اور شے اس کے پاس ہو تو اسے چاہئے کہ اس سے معافی مانگ کر اسے اپنے لیے حلال کرلے، اس دن کے آنے سے پہلے جب کہ نہ دینار ہوگا اور نہ درہم، اگر ظالم کے پاس نیکیاں ہوں تو حق تلفی کے بقدر اس سے لے کر مظلوم کو دے دی جا ئیںگی اور نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کی بُرا یاں اس پر ڈال دی جا ئیں گی ‘‘۔

 ’انصاف‘

دوسری بنیادی جیز انصاف ہے۔ معاشرے کے ہر فرد کا یہ حق ہے کہ اس کے ساتھ انصاف ہو۔ اس پر کوئی ظلم نہ کرنے پائے۔ اس کی جان، اس کا مال، ا س کی عزت و آبرو، اس کا خون، سب محترم ہے، سماج میں انسان کو عقیدہ اور عبادت کی آزادی ہو، مذہبی امور کی آزادی ہو، اس کے اپنے پرسنل لاء پر عمل کی آزادی ہو، عورت کی آبرو اور اس کی عزت کا تحفظ ہو، سماج میں عورت بھی مرد کی طرح عزت سے جینے کا حق رکھتی ہو، دونوں میں مساوات ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلا م عورت کے مقام کو نہ صرف اونچا کرتا ہے بلکہ معاشرے میں اس کی عزت، عفت، حق و انصاف کی ضمانت بھی دیتا ہے۔ زندگی میں عورت و مرد کا فطری ساخت کے اعتبار سے دائرہ کار کو متعین کرتا ہے۔ مگر اجر و ثواب میں دونوں کو برابر گردانتا ہے۔

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَہُوَمُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّہٗ حَيٰوۃً طَيِّبَۃً۝۰ۚ وَلَـنَجْزِيَنَّہُمْ اَجْرَہُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ    (النحل: ۹۷)

’’جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت لیکن ہو مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور آخرت میں ایسے لوگوں کو ان کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے‘‘۔

اسلام کی نظر میں سماج کی تعمیر کی بنیاد عدل و انصاف پر ہے۔

اِنَّ اللہَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى وَيَنْہٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ۝۰ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ             (النحل۔ ۹۰)

ـ ’’بلا شبہ اللہ تعالی انصا ف کا ، احسان کا ، عزیزوں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی ،برائی اور ظلم و زیادتی سے روکتا ہے وہ خود تمہیں نصیحتیں کر رہا ہے کہ تم نصیحت حاصل کرو ، عدل و انصاف کا تقاضہ اس وقت تک پورا نہیں ہوسکتا ،جب تک کہ آدمی اپنے نفس کی خواہشات سے آزاد نہ ہو ، کسی تعصب کا شکار نہ ہو ، مفادپرست اور لالچی نہ ہو ، ورنہ وہ عدل و قسط قائم نہیں کرسکتا ، چنانچہ قرآن صاف صاف ہدایت کرتا ہے کہ :

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاۗءَ لِلہِ وَلَوْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ۝۰ۚ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللہُ اَوْلٰى بِہِمَا۝۰ۣ فَلَا تَتَّبِعُوا الْہَوٰٓى اَنْ تَعْدِلُوْا  (النساء ۔ ۱۳۵ )

’’ اے ایمان لانے والو، انصاف کے قائم کرنے والے اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے بنو ، خواہ گواہی خود تمہارے یا تمہارے  والدین یا اعزا کے خلاف ہی کیوں نہ ہو ،جس کے خلاف گواہی دی جارہی ہے اگر وہ مالدار یا غریب ہے تو اللہ اس کا زیادہ خیر خواہ ہے تو تم خواہشوںکی پیروی میں انصاف سے نہ ہٹو ۔ پھر یہ بھی کہ عام حالات ہی میں نہیں بلکہ عین جنگ کی حالت میں بھی عدل و انصاف کا دامن تمہارے ہاتھ سے نہ چھوٹے ‘‘۔

وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۝۰ۭ اِعْدِلُوْا۝۰ۣ ہُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى           (المائدہ ۔ ۸ )

’’اور کسی گروہ کی عداوت تمہیں اس بات پر ہرگز آمادہ نہ کردے کہ انصاف نہ کرو ، انصاف کرو یہی بات خدا ترسی سے قریب ہے ‘‘ ۔

مندرجہ بالا سطور قرآنی سماج کا ایک منظر نامہ پیش کرتاہے جو حق و انصاف کا ، عدل و قسط کا، عزت و احترام کا، مساوات کا ، آزادی کا ، خیرخواہی کا ، امن و شانتی کا ، پر امن و بے خوفی کا سماج ہے اور دوسری طرف یہ موجودہ سماج جس میں ہم جی رہے ہیں ، جہاں ظلم و زیادتی ، لوٹ کھسوٹ ، گروہی مفادات ، لونی ، لسانی ، زمینی ، اختلافات، تشدد، خون خرابہ ، لالچ و بے ایمانی ، مفاد پرستی، فرقہ بندی ، بد امنی ، بے انصافی اور حق تلفی ہے قانون صرف کتابوں کی زینت بنی ہوئی ہے ، کرپشن عام ہے بے حیائی ، شراب خوری ، سٹہ بازاری فیشن بن گیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی قانون و نظام نہ کبھی سماج کو سدھار سکا ہے اور نہ ہی سماج میں عدل و انصاف قائم کرسکا ہے ۔ سماج کو سدھار نے ، بنانے ، سنوارنے کے لئے انسانوں کے پیدا کرنے والےخالق و مالک ہی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا ، وہی انسان کی فطرت سے واقف ہے اور وہی جانتا ہے کہ انسان کے لئے کیا اچھا ہے اور کیا برا ۔ دنیا کو اس نظام رحمت سے واقف کرانا میری اور آپ کی ذمہ داری ہے۔

مئی 2018

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau