زخموں کو بھرنے کی کوشش کریں

ہر قوم کو اندرونی تصادم اور بیرونی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں گہرے زخم بھی لاحق ہوتے ہیں۔ ان زخموں کے سلسلے میں دو رویے ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ انھیں بھرنے اور مندمل کرنے کی کوشش کی جائے اور دوسرے یہ کہ انھیں بڑھاوا دیا جائے اور ان پر سیاست کی جائے۔ دونوں رویوں کی مثالیں ہمیں تاریخ اور عصر حاضر سے ملتی ہیں۔

مسلم امت کے لیے اتحاد و اتفاق ایک اختیاری راستہ نہیں بلکہ دینی فریضہ ہے اور اسی لیے اس کے حق میں صحت بخش رویہ یہی ہے کہ اندرونی زخموں کی پرورش کرنے کے بجائے انھیں مندمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ اسی میں پوری امت کی بھلائی ہے۔تفرقہ و انتشار محض رسوائی کا راستہ ہے۔

اسلامی تاریخ کی یہ تلخ حقیقت ہے کہ اس میں لگنے والے پہلے اندرونی زخم کو مندمل کرنے کے بجائے اس کی پرورش کی گئی اور پھر وہ ایسا ناسور بن گیا، جس کا علاج ممکن نہیں ہوپارہا ہے۔ اگر صفین کے زخم بھر گئے ہوتے تو آج امت شیعہ سنی میں منقسم نظر نہیں آتی۔ بلاشبہ اکابر صحابہ کرام نے اس زخم کو مندمل کرنے کی قابل قدر کوششیں کیں۔ حضرت حسنؓ نے امت کی وحدت کی خاطر منصب خلافت سے دست بردار ہوکر ایک عظیم الشان مثال قائم کی۔ لیکن زخم پر زخم لگتے رہے اور وہ زخم اموی دور سے لےکر عباسی دور تک بار بار ہرے ہوتے رہے۔غلو پسند ناصبیت اور انتہا پسند رافضیت کے زہریلے نیزوں نے ان زخموں کو بہت گہرا کر دیا۔

جنگ صفین مسلمانوں کے درمیان ہونے والی پہلی جنگ تھی۔ امام ذہبی نے حضرت ابن سیرینؒ کے حوالے سے نقل کیا ہےکہ اس جنگ میں ستر ہزار لوگ کام آگئے تھے۔ بے شک یہ تعداد بہت بڑی ہے۔اس دور کے مسلمانوں کے لیے سخت ترین معرکہ قادسیہ کا تھاجس میں سب سے زیادہ یعنی قریب ساڑھے آٹھ ہزار مسلمان شہید ہوئے تھے۔دیکھا جائے تو عہد رسالت اور عہد خلافت راشدہ میں ہونے والی تمام جنگوں میں کام آنے والے مسلمانوں سے زیادہ تعداد صرف صفین میں قتل ہونے والے مسلمانوں کی تھی۔ ممکن ہے یہ تعداد مبالغہ آمیز ہو، تاہم مؤرخین کا مشترک خیال ہے کہ تعداد بہت زیادہ تھی۔

یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان خوں ریزی کے نتائج نہایت تلخ ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایسا ہوسکتا ہے کہ بیرونی دشمن کے ساتھ جنگ میں کم جانی نقصان ہو اور باہمی معرکہ آرائی کے نتیجے میں بہت زیادہ جانی نقصان ہوجائے،لیکن اس سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی ہے کہ بیرونی دشمن بہرحال اندرونی فریقوں سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اندرونی فریقوں کے محدود اہداف ہوتے ہیں لیکن بیرونی دشمن تو پورے وجود کو مٹانے کے درپے ہوتے ہیں۔ اس لیے باہمی عداوتوں کو ختم کرنے کی تمام تر کوششیں ہونی چاہئیں اور بیرونی دشمن کو یہ موقع ہرگز نہیں دینا چاہیے کہ وہ کسی قسم کی باہمی عداوتوں سے فائدہ اٹھالے۔

گذشتہ نصف صدی کے اندر مسلم امت کو باہمی خانہ جنگیوں کے نتیجے میں کچھ بہت گہرے زخم لگے ہیں۔ ان میں ایک زخم کچھ پرانا ہوچلا ہے اور وہ ہے ایران عراق کی جنگ کا زخم۔ 1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی طویل آٹھ سالہ جنگ میں ایک اندازے کے مطابق دونوں طرف سے دس سے پندرہ لاکھ افراد مارے گئے اور لگ بھگ بیس لاکھ زخمی اور معذور ہوئے۔

ابھی وہ زخم مندمل نہیں ہوا تھا کہ زخموں کی نئی سوغات آگئی اور 2003 کے بعد سے کئی سال تک عراق داخلی خانہ جنگیوں کے خون میں نہاتا رہا۔ لاکھوں انسان ان کا نوالہ بنے۔

نوّے کی دہائی میں سوویت یونین کے انخلا کے بعد افغانستان کے اندر خانہ جنگی شروع ہوئی اور کئی سال تک چلتی رہی۔وہ ملک جو سوویت یونین کے قبضے سے نڈھال تھا باہمی خانہ جنگیوں سے لہولہان ہو گیا۔

ایک اور گہرا زخم جو ابھی تازہ ہے، وہ ہے ملک شام کا زخم۔ شام کی خانہ جنگی میں قریب پانچ لاکھ افراد کا قتل ہوا۔ دسیوں لاکھ بے گھر ہوئے۔

اس کے علاوہ الجیریا میں خانہ جنگی ہوئی۔ یہ 1992 سے 2002 تک، دس سال جاری رہی۔ اس میں لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ افراد مارے گئے۔

2014 سے یمن میں خانہ جنگی شروع ہوئی جس میں قریب ڈھائی لاکھ افراد مارے گئے۔

حالیہ برسوں میں سوڈان کی خانہ جنگی میں بھی قریب ڈھائی لاکھ افراد لقمہ اجل بنے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح کئی دیگر ملکوں اور خطوں میں مسلمانوں کا خون مسلمانوں کے ہاتھوں بہتا رہا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے بیچ کی سرحدوں پر مسلسل خون بہہ رہا ہے۔

یہ بھی عجیب بات ہے کہ بیرونی حملوں سے لگنے والے زخم جلد مندمل ہوجاتے ہیں۔ دور دراز سے حملہ آور ہونے والے دشمنوں کو شکست دے کر مار بھگانے سے ہی زخموں کے مندمل ہونے کا احساس ہونے لگتا ہے، تاہم جو زخم باہمی خوں ریزی میں لگتے ہیں وہ زیادہ عرصے تک رستے اور تکلیف دیتے ہیں۔

یہ زخم اس لیے بہت زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیوں کہ یہ زخم دینے والے زخم کھانے والوں کے دائمی ہم سائے ہوتے ہیں۔ ہمیشہ ساتھ رہنے والے ہم سایوں کے درمیان لگنے والے زخم جلدی بھرتے نہیں ہیں اور ذرا ذرا سی بات پر یہ زخم ہرے ہوجاتے ہیں۔

لیکن ظاہر ہےاس سے کسے اختلاف ہوگا کہ ہم سایوں کے درمیان ہمیشہ دائمی جنگ کا رشتہ نہیں رہنا چاہیے۔ مسلسل جنگ انھیں ترقی نہیں کرنے دیتی ہے۔ آپس کی خانہ جنگیاں قوموں کو کھوکھلا کرکے رکھ دیتی ہیں۔ ان کے حق میں بہتر یہی ہوتا ہے کہ ان کے تمام زخم جلد مندمل ہوجائیں۔ خاص طور سے وہ زخم جو اپنوں کے دیے ہوں۔

استعماری سازشوں سے خبردار !

استعماری قوتوں کے لیے سب سے آسان اور کام یاب نسخہ یہ ہوتا ہے کہ جس خطے پر قبضہ کرنے کا ارادہ ہو، وہاں وہ دبی ہوئی فرقہ بندیوں کو بڑھاوا دیں۔ قدیم زخموں کو تازہ کرکے فرقہ وارانہ تصادم کرادیں اور خود جنگ میں ملوث ہوئے بغیر ہی جنگ کے مقاصد حاصل کرلیں۔

مغرب کی استعماری قوتوں نے یہ نسخہ سب سے زیادہ مسلم دنیا میں آزمایا۔ عربوں اور ترکوں کے درمیان منافرت پیدا کرنے میں مغرب کی استعماری قوتوں کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے۔ عربوں کے اندر  قوم پرستی کے جذبات بھڑکانے اور عثمانی سلطنت کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرنے والے لارنس آف عربیہ کا کردار سب کو یاد ہے۔

مسلم دنیا میں شیعہ سنی اختلافات تو بہت زمانے سے تھے لیکن باہم دشمنی اور منافرت نہیں تھی۔ یہ دشمنی اور منافرت حقیقت میں مغربی استعمار کی بھڑکائی ہوئی ہے۔ یہ بات ریکارڈ میں موجود ہے کہ عراق میں امریکی افواج نے بڑے پیمانے پر شیعہ سنی فسادات کروائے۔

استعماری قوتوں کو یا تو اپنی مرضی کا ڈکٹیٹر بھاتا ہے یا انارکی راس آتی ہے۔

روانڈا سے سبق سیکھنا چاہیے

1994 میں روانڈا میں جدید انسانی تاریخ کا ایک بدترین اور نہایت ہول ناک قتل عام ہوا۔ اس میں صرف سو دن کے اندر قریب دس لاکھ افراد قتل کیے گئے۔ یہ قتل عام روانڈا کے ایک قبیلے ہوتو (hutu)نے دوسرے قبیلے توتسی(tutsi) کے خلاف کیا تھا۔اس کے نتیجے میں تین چوتھائی توتسی مار دیے گئے۔ فرانس نے اس قتل عام کے لیے بڑی مقدار میں بھاری اسلحہ فراہم کیا۔ اس قتل عام کے بعد توتسیوں نے ایک قومی محاذ بناکر حکومت تک پہنچنے میں کام یابی حاصل کی۔ توتسیوں کے انتقام کے خوف سے بیس لاکھ سے زیادہ ہوتوسرحد پار کرکے پڑوسی ملک کونگو کی طرف بھاگ نکلے۔ یہ ایک طویل اور نہایت الم ناک داستان ہے۔ لیکن اس داستان میں جو سیکھنے کی بہت امید افزا بات ہے وہ یہ کہ اس واقعہ پر بیس سال نہیں گزرے کہ روانڈا کے لوگوں نے پرانے سارے زخم بھلادیے، ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم ہوئی اور سب مل کر ملک کو ترقی دینے کے عمل میں شامل ہوگئے۔ اس وقت ترقی اور خوش حالی کے لحاظ سے روانڈا تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھنے والوں ملکوں میں گنا جاتا ہے۔

اندرونی زخموں کو مندمل کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ زخم قوموں کو اندر سے مضمحل کردیتے ہیں۔

زخموں کو بھرنے کی کچھ تدبیریں

زخموں کے خود بھرجانے کا انتظار کرنا کسی سمجھ دار گروہ کا شیوہ نہیں ہوتا ہے۔ یہ زخم محض تمناؤں سے نہیں بھرتے۔ ان کے لیے منصوبہ بند سوچی سمجھی کوششیں کرنا ضروری ہے۔ یہ موضوع بہت زیادہ غور و فکر کا طالب ہے۔ بطور مثال کچھ تدبیروں کا ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

تفریق بڑھانے والے ناموں کے بجائے وحدت بتانے والے ناموں کو اختیار کریں

اس کا کام یاب تجربہ روانڈا میں کیا گیا۔ وہاں ہوتو اور توتسی کے درمیان منافرت کو ختم کرنے کے لیے ان دونوں ناموں کو غیر قانونی اور کسی بھی نسلی بیانیے کو جرم قرار دے دیا گیا۔عالم اسلام میں بھی اگر شیعہ سنی کی اصطلاحوں کے بجائے مسلمانوں کی اصطلاح سے لوگوں کو پہچانا جائے تو وحدت کی راہیں ہم وار ہوسکتی ہیں۔ یہی بات دیوبندی، بریلوی، وہابی اور سلفی وغیرہ نسبتوں کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔

یہ کوئی ناقابلِ عمل بات نہیں ہے۔ امت میں بہت سی نسبتیں ہیں جن کا نام لے کر اظہار نہیں کیا جاتا ہے۔ امت کا بہت بڑا حصہ کلامی تقسیم کے لحاظ سے اشعری اور ماتریدی ہے، لیکن اس نسبت کا عام طور سے اظہار نہیں کیا جاتا ہے۔

سیاسی کش مکش کو مذہبی جنگ کا رنگ نہ دیا جائے

سیاسی کش مکش وقتی ہوتی ہے اور سیاسی موقف کے بدلتے ہی ختم ہوجاتی ہے، جب کہ مذہبی جنگ دائمی ہوجاتی ہے۔ عالم اسلام میں ایسا بہت ہوا کہ خالص سیاسی جنگوں کو خالص مذہبی جنگ کے روپ میں پیش کیا گیا۔عراق ایران جنگ خالص سیاسی جنگ تھی۔ عراق کے صدام حسین نے ایران پر حملہ تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے لیے کیا تھا۔ بالکل ویسے ہی جیسے عراق نے کویت پر حملہ تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے لیے کیا تھا۔ لیکن آٹھ سال کی اس جنگ کے دوران شیعہ سنی منافرت کو بڑھانے کا کام بہت زیادہ ہوا۔

 فرقوں کے تعلق سے غلو آمیز حساسیت سے اجتناب کریں

کبھی کبھی کسی خاص گروہ کے تعلق سے ہماری حساسیت حد اعتدال کو تجاوز کرجاتی ہے۔ اس کی مثال ایک کالم نگار نے اس سے دی کہ جب مصر میں ایرانی سیاحوں کو آنے کی اجازت دی گئی تو مصر کے بعض مذہبی حلقوں کی طرف سے اس کی سخت مخالفت ہوئی اور یہ کہا گیا کہ ایرانی سیاح یہاں آکر اپنا نفوذ بڑھائیں گے، جب کہ مصر میں صہیونی یہودیوں کی سیاحت معمول کی بات سمجھی گئی۔

ہندو پاک کے بہت سےعلاقوں میں بریلوی اور وہابی کے عنوان سے شدید قسم کی حساسیت پائی جاتی ہے، جس کا اظہار خاص طور سے مسجدوں میں ہوتا ہے اور بسا اوقات رشتے ناتے بھی اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسی ہر حساسیت سے نجات پانا ضروری ہے جس کی پشت پر کوئی بہت مضبوط بنیاد نہ ہو۔

مشترکہ عظیم اہداف طے کریں اور ان کے حصول لیے سنجیدہ کوششیں کریں

افغانستان میں جب تک سوویت یونین سے ملک کو آزاد کرانے کا مشن تھا، مختلف طرح کی نسبتیں رکھنے والے مجاہدین کے درمیان اتحاد و اتفاق تھا، لیکن جیسے ہی ملک آزاد ہوا، لوگوں کے درمیان کے اختلافات حد سے زیادہ ابھر گئے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ فلسطین کے مزاحمتی گروپوں اور ایران کے درمیان تعلقات میں وہ حساسیت نہیں پائی جاتی جو دوسرے سنیوں کے یہاں پائی جاتی ہے؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ فلسطین کے مزاحمتی گروپوں کا ایران کے ساتھ ایک بڑے مقصد کی خاطر سمجھوتا ہے اور وہ ہے فلسطین اور مسجد اقصی کی آزادی۔ اس عظیم مقصد کی خاطر باہمی تعاون پرانے اختلافات کو نظر انداز کرنے میں بہت مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

وسعت ظرفی کا ثبوت دیں اور مثبت طرزِ عمل اختیار کریں

مصالحت کی کوششیں اسی وقت کام یاب ہوسکتی ہیں، جب ایک دوسرے کے موقف کو انصاف اور گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ سامنے والے کو اس کے موقف کے ساتھ قبول کرنے کا ظرف پیدا کیا جائے۔ مصالحت کے جذبے پر اپنے موقف کے غلبے کی خواہش کو ترجیح نہ دی جائے۔سلطان صلاح الدین ایوبی نے شیعہ سنی اختلافات کے ساتھ جس طرح تعامل کیا، وہ ایک اچھی مثال ہے۔ اس زمانے میں مصر پر فاطمیوں کی حکومت تھی، جو شدت پسند شیعہ تھے۔ آخری فاطمی فرماںروا عاضد نے صلیبی حملوں کو روکنے کے لیے ملک شام کے سلطان نور الدین زنگی سے مدد طلب کی تو انھوں نے صلاح الدین ایوبی کو بھیجا۔ صلاح الدین ایوبی نے عاضد کے وزیر کی حیثیت سے ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی۔ عاضد کی وفات کے بعد مصر کی حکومت صلاح الدین ایوبی کے ہاتھ میں آگئی۔انھوں نے مصر میں شیعہ سنی مکالمے کا ماحول قائم کیا اور کسی قسم کا تصادم نہیں ہونے دیا۔مؤرخین بتاتے ہیں کہ صلاح الدین ایوبی نے عاضد کی وفات کے بعد ان کے اہل خانہ کا پورا خیال رکھا۔یہی نہیں بلکہ عاضد کی وفات پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور تعزیت کی مجلس میں بنفس نفیس شریک رہے۔

نفرت بڑھانے والے بیانیوں اور تعبیرات سے مکمل اجتناب کریں

صحابہ کرام کے سلسلے میں شیعہ حضرات کو اپنے موقف پر نظر ثانی کرتے رہنا چاہیے۔ اور اپنے موقف سے قطع نظر انھیں یہ تو طے کرہی لینا چاہیے کہ وہ صحابہ کرام کے متعلق ایسی باتیں نہ کہیں جن سے غیرشیعہ مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہو۔

اس سلسلے میں ایک نہایت قابل ستائش اقدام ایران کے سابق مرشد اعلی شہید علی خامنہ ای کی طرف سے ہوا تھا۔ سات اکتوبر سنہ 2010 ء میں انھوں نے ایک فتوی جاری کیا جس میں کہا:

یحرم النیل من رموز إخواننا السنة فضلاً عن اتهام زوج النبی  بما یخل بشرفها بل هذا الأمر ممتنع على نساء الأنبیاء وخصوصاً سیدهم الرسول الأعظم

ہمارے سنی بھائیوں کی تمام محترم شخصیات کے بارے میں بدگوئی حرام ہے،         چہ جائے کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج کی عزت و آبروکے بارے میں کوئی تہمت لگائی جائے۔ بلکہ ایسی کوئی بات تو نبیوں کی بیویوں اور خاص طور سے نبیوں کے سرداررسول اعظمﷺ کی بیویوں کے لیے ناممکن ہے۔

یہ ایک تاریخی فتوی تھا اور دنیا بھر کے مسلمانوں اور اسلامی تحریکات نے اس فتوے کی ستائش کی۔

اسی طرح سنی حضرات بھی شیعہ حضرات کے بارے میں دل آزاری والی باتیں نہ کہیں۔ انھیں برے القاب سے یاد نہ کریں۔ اگر فقہی لحاظ سے متعہ ان کے یہاں جائز ہے اور ہمارے یہاں جائز نہیں ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انھیں متعہ کی گالی دی جائے۔

ضروری ہے کہ باہمی اعتماد کی فضا کو فروغ دیا جائے اور مثبت باتوں کی قدر افزائی کی جائے۔ جب اعتماد کا فقدان ہوتا ہے تو ہر کسی کو دوسرے کی اچھی اور مثبت باتوں میں تقیہ کا شبہ ہوتا ہے۔

غلو پسندوں کے اثراتِ بد کو محدود رکھیں

بعض لوگ اختلافات کو لے کر بہت زیادہ غلو پسند ہوتے ہیں۔ ان کی تقریر و تحریر غلو سے بھری ہوتی ہے۔ ان کی غلو پسندی اس وقت بھی ظاہر ہوتی ہے جب وہ کسی فرقے پر تنقید کرتے ہیں۔  اس وقت وہ اختلافی امور کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں۔ ان کی غلو پسندی اس وقت بھی ظاہر ہوتی ہے جب وہ اپنے مسلک کی تشریح کرتے ہیں اور اس میں غلو سے کام لیتے ہیں۔ غرض یہ غلوپسند مصنف و مقرر زخموں پر نمک چھڑکنے اور اختلافات کی آگ کو ہوا دینے کا کام کرتے ہیں۔ امت کے اندرونی زخموں کی فکر کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کے غلو آمیز بیانات کو اپنی راہ کی رکاوٹ نہ بننے دیں۔ غلو پسندوں کی باتیں پورے مسلک کا موقف نہیں ہوا کرتی ہیں، وہ صرف ان کا اور ان کے غلو میں شریک لوگوں کا موقف بیان کرتی ہیں۔ ایسے غلو پسند ہر اجتماعیت میں ہوتے ہیں۔ وہ تعداد میں کم ہوتے ہیں مگر شور شرابے کی وجہ سے زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔ غلو پسندی کی ایک مثال یہ ہے کہ تیرہویں صدی ہجری کے ایک غالی شیعہ عالم مرزا حسین نوری طبرسی نے ایک کتاب لکھی فصل الخطاب فی تحریف رب الارباب۔جس میں دعوی کیا کہ موجودہ قرآن تحریف زدہ ہے۔ قابل  ذکر بات یہ ہے کہ طبرسی کے زمانے کے شیعہ علما کی بھاری اکثریت نے اس کتاب کو مسترد کردیا اور اس کے خلاف بہت سی کتابیں لکھیں۔غلو پسندی کی دوسری مثال یہ ہے کہ آج کے بعض سنی حضرات اس کتاب کو تمام شیعوں کا موقف قرار دے کر پوری شیعہ برادری کو مطعون کرتے ہیں۔

غلطیوں کا اعتراف کریں

مصالحت کی راہ میں بہت سی غلطیوں کو نظر انداز کرنا ممکن ہوتا ہے، لیکن بعض بڑی غلطیوں کا اعتراف بھی ضروری ہوتا ہے۔ اس اعتراف سے مصالحت کا سفر آسان اور مختصر ہوجاتا ہے۔ ملک شام میں ایران اور حزب اللہ کا وہاں کی جابر و ظالم حکومت کی خونی کارروائیوں کو سپورٹ کرنا بلاشبہ ایک بہت بڑی غلطی تھی۔ اس سے عالم اسلام میں ایران کی شبیہ بہت زیادہ خراب ہوئی تھی۔ بہت ممکن ہے کہ اس کی ان کے پاس کوئی توجیہ بھی ہو، لیکن نتائج کے لحاظ سے اس نے شام کے عوام میں ایران اور حزب اللہ کے سلسلے میں شدید نفرت پیدا کردی۔ اس طرح کی غلطیوں کا اعتراف بڑی جرأت چاہتا ہے، لیکن بہت دور رس اثرات رکھتا ہے۔

بڑے چیلنج پر نگاہ رکھیں

صہیونی طاقتوں نے پروپیگنڈے کی سطح پر ایک بڑی کام یابی یہ حاصل کی کہ انھوں نے بڑی عیاری کے ساتھ امت کے بہت سے معصوم دماغوں میں یہ بات بٹھادی کہ اسرائیل کے مقابلے میں ایران زیادہ بڑا اور خطرناک دشمن ہے۔ اس دعوے کی تائید نہ تو تاریخ سے ہوتی ہے، نہ جغرافیہ سے اور نہ ہی دینی تعلیمات سے۔ اس کے باوجود اس جھوٹے اور بے بنیاد دعوے کو بڑا نریٹیو بنادیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ امت کو آپسی رنجشوں میں الجھاکر اصل دشمن سے غافل کردیا جائے۔

امت اگر سمجھ داری سے کام لے اور اپنے وجود کو درپیش حقیقی چیلنجوں پر فوکس کرے تو یہی اس کے حق میں بہتر ہوگا۔اس حوالے سے اسلامی تحریکات بہتر نمونہ پیش کرتی ہیں۔ وہ ہمیشہ امت کو حقیقی اور بڑے خطرات سے ہوشیار کرتی ہیں اور داخلی اختلافات کو امت کے عظیم مصالح کی خاطر فراموش کرنے کی تلقین کرتی ہیں۔ دنیا کی تمام اسلامی تحریکات میں یہ خوبی کسی نہ کسی درجے میں پائی جاتی ہے۔

زخم بھرنے میں دیر نہ کریں

یزید بن اصم سے روایت ہے کہ جب جنگ صفین کے بعد حضرت علی اور حضرت معاویہ کے درمیان صلح ہوگئی، تو حضرت علی روانہ ہوئے، پہلے اپنی فوج کے مقتولین کے پاس سے گزرے اور کہا یہ جنت میں ہیں، پھر معاویہ کی فوج کے مقتولین کے پاس سے گزرے اور کہا یہ بھی جنت میں ہیں۔(تاریخ دمشق)

جنت کا مستحق کون ہے اور کون نہیں ہے، اس کا فیصلہ تو بہرحال اللہ کے دربار سے ہوگا۔ تاہم یہ واقعہ اعلی ظرفی کی نہایت اعلی مثال ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اگر خدا نخواستہ امت کے اندر تصادم اور خوں ریزی ہوجائے، تو اس کے بعد اس سے لاحق ہونے والے زخموں کو بھرنے کے لیے دیر نہیں کرنی چاہیے، فوری آگے بڑھ کر اقدام کرنا چاہیے۔

امت کے حقیقی محسنین وہ ہیں جو امت کی بیماریوں کا علاج اور زخموں کا مداوا کرنے کے لیے سرگرداں رہتے ہیں۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

زخموں کو بھرنے کی کوشش کریں

حالیہ شمارے

جولائی 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223