Opens in a new tab

ملت کو درپیش دو مہلک بیماریاں

بے بسی کا احساس اور بے حسی کی کیفیت

فرقہ پرست (سرکاری و غیر سرکاری) عناصر کی اشتعال انگیز کارروائیوں ، فیصلوں اور اقدامات کے مقابلے میں جب مسلمانوں کی طرف سے مکمل سکوت اور عدم ردّعمل کا مظاہرہ ہوتا ہے، تو اس کے دو ممکنہ نتیجے ہوتے ہیں۔

قریبی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اشتعال انگیزی کا وہ مقصد ناکام ہوجاتا ہے جو اس طرح کی شر انگیزیوں کے پیش نظر ہوتا ہے۔ اسے ایک مثبت پہلو کہا جاسکتا ہے۔فرقہ پرست عناصر وقفے وقفے سے مختلف ایشو اٹھاتے رہتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے شدید ردّعمل سامنے آئے اور وہ شدید ردّعمل ملک میں ایسے حالات پیدا کردے جن سے فرقہ پرست عناصر کو بڑا سیاسی فائدہ پہنچے۔ کبھی کسی قابل احترام شخصیت کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا، کبھی شریعت میں مداخلت کرنے والے اور شریعت پر عمل کرنے سے روکنے والے قوانین بنانا، کبھی مقدس مقامات پر قبضے یا ان کے انہدام کی کارروائی کرنا۔ اس طرح کے اقدامات سے فرقہ پرست عناصر مسلمانوں کو مشتعل کرنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کی خاموشی ان کو اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہونے سے روکتی ہے۔

لیکن اس مکمل سکوت اور عدم ردّعمل کا طویل مدتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اوران کے لیے اپنے طویل المدت ایجنڈے پر عمل درآمد کرنے کا راستہ ہموارہوتا جاتا ہے۔ یہ سمجھنا کہ فرقہ پرستوں کے تمام اقدامات کا مقصد محض اشتعال انگیزی ہوتا ہے اور وہ محض وقتی سیاسی فائدے کے لیے ہوتے ہیں ، سطحی تجزیہ ہوگا۔ اس ملک میں فرقہ پرست قوتوں کے تہذیبی جارحیت کے طویل منصوبے ہیں۔ وہ جب اسلامی شریعت میں مداخلت کرتے ہیں، مقدس مقامات کو نشانہ بناتے ہیں، مسلمانوں پر ان کے عقائد کے خلاف تہذیبی شعائر مسلط کرتے ہیں، مسلمانوں کی مذہبی تعلیم اور اس کے اداروں کے خلاف قوانین بناتے ہیں، مسلمانوں کے اوقاف اور اقلیتی اداروں میں رخنہ اندازی کرتے ہیں تو یہ سب کچھ ایک طویل مدتی منصوبے کا حصہ ہوتا ہے۔

غرض یہ کہ اس طرح کی زیادتیوں کے مواقع پر مسلمانوں کی طرف سے مکمل سکوت اور عدم ردّعمل کی روش اگرچہ فرقہ وارانہ تناؤیا حکومت سے تصادم کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے تاہم نتائج کے وسیع تر منظرنامے میں مسلمانوں کے حق میں بہتر نہیں قرار دی جاسکتی ہے۔اس کے بجائے کوئی حکیمانہ لائحہ عمل اختیار کرنا ضروری ہے، جو کسی صورت میں خاموش ردّ عمل کی گنجائش تو رکھتا ہو لیکن ردّعمل کے متبادل مؤثر پروگراموں کو لازم بھی قرار دیتا ہو۔

فرقہ پرستوں کی اشتعال انگیزی کارگر نہ ہو اس کے لیے فوری غیر حکیمانہ ردّعمل سے پرہیز کرنا بہت مناسب عمل ہے، لیکن ساتھ ہی فرقہ پرستی اور تہذیبی جارحیت کا طویل مدتی ایجنڈا کامیاب نہ ہو، اس کے لیے مسلمانوں کے پاس اپنا طویل مدتی لائحہ عمل ہونا چاہیے۔

یہ بات تو ممکنہ نتائج کے حوالے سے ہے۔ البتہ جس طرح کسی عمل کے ممکنہ نتائج پر نگاہ رکھنا ضروری ہے اسی طرح اس عمل کی پشت پر موجود وجوہات کی بھی اہمیت ہے۔

کسی گروہ کی زیادتی اور اشتعال انگیزی کے مقابلے میں متاثر گروہ کے مکمل سکوت اور عدم ردّعمل کی ایک وجہ اس کی حکمت و دانائی بھی ہوسکتی ہے اور اس کی دوسری وجہ اسے لاحق بے بسی کا احساس اور بے حسی کی کیفیت بھی ہوسکتی ہے۔

پہلی وجہ قابل تحسین ہے۔ کسی قوم اور گروہ کا ہر موقف حکمت و دانائی پر مبنی ہونا چاہیے۔ خاموشی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا جائے یا کسی طرح کے اقدام کا، بہر صورت ہر فیصلہ سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے مطابق ہونا چاہیے۔ جذباتی کیفیات کے زیر اثر ردّ عمل افراد کے حق میں بھی بہتر نہیں ہوتا ہے، گروہوں اور قوموں کے حق میں تو نہایت نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ کسی زیادتی کے موقع پر مکمل سکوت اور عدم ردّ عمل کا شعوری فیصلہ بلاشبہ کسی بھی اقدامی کارروائی کے مقابلے میں بہت زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ وہی گروہ اور قومیں لے سکتی ہیں جن کا اسٹریٹیجک ارادہ بہت مضبوط ہوتا ہے۔

اس کی ایک نمایاں مثال صلح حدیبیہ ہے۔ اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بظاہر یک طرفہ اور سخت شرائط کو قبول کیا، مگر اسی حکمتِ عملی نے بعد میں اسلام کے پھیلاؤ کے دروازے کھول دیے۔ اسی طرح برصغیر میں بعض مسلم اہلِ علم اور مصلحین نے سیاسی تصادم کے بجائے تعلیمی و سماجی تعمیر کو ترجیح دی، جیسے سر سید احمد خان کی تعلیمی تحریک، جس نے ایک نئی فکری اور عملی راہ متعین کی۔

جب کسی دریا کا راستہ روک دیا جاتا ہے تو وہ رک نہیں جاتا، بلکہ اپنا راستہ بدل لیتا ہے۔ کبھی زمین کے اندر سے بہنے لگتا ہے، کبھی کناروں کو کاٹ کر نیا راستہ بنا لیتا ہے۔ اسی طرح ایک بیج جب سخت مٹی یا پتھریلی زمین میں دب جاتا ہے تو وہ سیدھا اوپر آنے کے بجائے ٹیڑھا میڑھا راستہ اختیار کرتا ہے، مگر بالآخر زمین کی ظلمت سے باہر نکلنے کی راہ پالیتا ہے۔ اسی طرح درختوں کی جڑیں بھی چٹانوں کو چیر کر اپنا راستہ بناتی ہیں تاکہ پانی اور غذا حاصل کرسکیں۔

البتہ دوسری وجہ قابلِ تشویش ہے۔ اگر کسی قوم کے اندر بے بسی کا احساس اور بے حسی کی کیفیت اس قدر بڑھ جائے کہ بڑے سے بڑا حادثہ اسے جھنجھوڑ نہ سکے، مسجدیں شہید کردی جائیں، پرسنل لا منسوخ کردیا جائے، یونیفارم سول کوڈلاگو کردیا جائے، اسلامی عقائد کی منافی سرگرمیوں کو سب کے لیے لازم قرار دیا جائے، اسلامی شعائر کی عمل آوری کو ممنوع قرار دیا جائے، لیکن کہیں کسی طرح کی بے چینی نظر نہ آئے، تواس طرح کی بے حسی بہت زیادہ قابل تشویش ہونی چاہیے۔

بے بسی کا احساس پیدا ہوتا ہے شدید ترین قسم کے خوف اور بدترین نوعیت کی مایوسی سے۔ خوف اور مایوسی دونوں کا مجموعہ کسی قوم کو لاحق ہونے والی نہایت مہلک مرکب بیماری ہے۔ یہ بیماری ایسے لوگوں کو بھی لاحق ہوسکتی ہے جو دین و ملت سے گہرا جذباتی تعلق رکھتے ہوں۔ کیوں کہ اس بیماری کا سبب دین داری کی کمی نہیں بلکہ خوف اور مایوسی کا غلبہ ہوتا ہے۔ اس کی ایک مشہور مثال اندلس کے آخری دور میں ملتی ہے۔ جب داخلی کمزوری، باہمی اختلافات اور خوف و مایوسی نے ایسی فضا پیدا کردی تھی کہ اجتماعی ردّعمل کی قوت مفقود ہوگئی، جس کا نتیجہ بالآخر زوال کی صورت میں نکلا۔ اسی طرح نوآبادیاتی دور میں بعض معاشروں میں طویل غلامی نے ایسی ذہنی کیفیت پیدا کردی تھی کہ لوگ ظلم کو معمول سمجھنے لگے اور مزاحمت کی صلاحیت کمزور پڑگئی۔

بے حسی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے دین و ملت سے لاتعلقی اور اپنی ذات اور اپنے ذاتی مفادات کے خول میں بند ہوجانے کی وجہ سے۔ یہ بھی بہت سنگین قسم کی بیماری ہے۔

ملک کے ماحول میں نفرت کا زہر گھولا جارہا ہو، خوف وہراس کی فضا بنائی جارہی ہو، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف رائے عامہ بنائی جارہی ہو، ایسے میں کوئی شخص کسی مسلم محلے میں منتقل ہوجانے کو کافی سمجھ لے اور ملک کی فضا اور رائے عامہ کو تبدیل کرنے کی فکر نہ کرے، تو یہ بھی بے حسی کی کیفیت کا ایک مظہر ہے۔

ملت کا درد رکھنے والوں اور اس کی ترقی و تمکین کی فکر کرنے والوں کی اولین ترجیحات میں یہ بات ضرور شامل ہونی چاہیے کہ اسےلاحق ان دونوں ہی بیماریوں کی گہری تشخیص کی جائے اور ان کے علاج کی بہتر سے بہتر کوشش کی جائے۔

ان دونوں بیماریوں کی سنگینی کو سمجھنا اچھی طرح ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی مسلم ملت کو فرقہ پرست قوتوں کی طرف سے جو زیادتیاں درپیش ہیں ان کی سنگینی بہت زیادہ ہے ، لیکن ان دونوں بیماریوں کی سنگینی ان زیادتیوں سے کہیں زیادہ ہے۔

بے حسی کی کیفیت میں راستے کی ضرورت کا احساس ہی نہیں رہتا ہے، جب کہ بے بسی کا احساس تمام راستے بند دکھاتا ہے۔ دونوں طرح کے لوگ قوت فکر و عمل سے محروم ہوتے ہیں، گو کہ بے حس لوگ ذلت کی زندگی مستی کی کیفیت میں گزارتے ہیں اور بے بس لوگ کرب و اذیت کی کیفیت سے دوچار رہتے ہیں۔

جب کسی قوم پر بے بسی کا احساس سوار ہوجاتا ہے تو اسے حالات سے نپٹنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا ہے۔ راستے ہوتے ہوئے بھی اسے نظر نہیں آتے ہیں۔ لیکن جو قوم بے بسی کے احساس سے آزاد ہوتی ہے اسے مشکل سے مشکل حالات میں بھی بہت سے راستے نظر آتے ہیں۔

زیادتیوں کے خلاف عوامی احتجاج ایک راستہ ہے۔ عوامی احتجاج کے بھی متعدد طریقے ہوسکتے ہیں۔ اگر کوئی ایک طریقہ حکمت کے خلاف محسوس ہو یا ممانعت کی زد میں ہو تو دیگر متعدد طریقے اختیار کرنے کی گنجائش بہرحال ہوتی ہے۔

عوامی احتجاج کے علاوہ قانونی چارہ جوئی کا راستہ بھی عام طور سے کھلا ہوتا ہے، جس سے مایوس ہونے کا کوئی جواز نہیں ہے، خواہ کتنی ہی بار حصولِ انصاف میں نامرادی ہاتھ آئے۔

میڈیا کے ذرائع کا استعمال بھی ایک بڑا میدان ہے۔ یہاں بھی اگر کچھ راستے مسدود نظر آئیں تو بہت سے راستے کھلے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا میدان تو بہت بڑا اور ہر کسی کے لیے میسر ہے، تاہم بڑی حکمت واحتیاط کا متقاضی ہے۔

جمہوری ملک میں سول سوسائٹی کی غیر معمولی اہمیت ہوتی ہے۔ سول سوسائٹی کے درمیان اپنے مسئلے کی وضاحت اور عدل وانصاف کے تعلق سے ان کی ذمہ داریوں کی یاددہانی اصلاحِ حال میں بہت مفید ہوسکتی ہے۔

آج کے دور میں جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ ذہنوں میں بھی لڑی جاتی ہے۔ اگر ملت اپنا مثبت، متوازن اور حقیقت پر مبنی بیانیہ پیش نہیں کرے گی تو خدا نخواستہ دوسروں کے بیانیے غالب آجائیں گے اور یہ بہت بڑا خسارہ ہوگا۔ اس کے لیے سوشل میڈیا، صحافت، اور علمی تحریروں میں فعال اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

اسے ایک عملی مثال سے اس طرح سمجھتے ہیں کہ ایک جگہ غیر قانونی طریقے سے مسجد شہید کردی جاتی ہے۔ایک رویہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس پر مکمل خاموشی اختیار کرلی جائے جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ دوسرا رویہ یہ ہے کہ پریس میں ایک بیان جاری کرکے مطمئن ہوجائیں کہ حق ادا ہوگیا۔ تیسرا رویہ یہ ہے کہ میڈیا کی قوت اور سول سوسائٹی کو ساتھ لیتے ہوئے عدالت میں مقدمہ دائر کریں اور اس کی آخر تک پیروی کریں۔ چوتھا رویہ یہ ہے کہ میڈیا ایڈوکیسی اور قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ اس ذہنیت کے علاج کی ٹھوس تدبیریں سوچیں اور اختیار کریں جو مسجد کی شہادت کا محرک بنی تھی۔ اس طرح آپ دیکھیں گے کہ بے حسی کے خول اور بے بسی کی زنجیروں سے آزاد ہوجانے والوں کے لیے میدانِ عمل میں سرگرمی کے بے شمار مواقع ہوتے ہیں۔

ہندوستان بہرحال ایک جمہوری ملک ہے، جہاں اگر ایک طرف خطرات کی یلغار ہے تو وہیں اپنے تحفظ کے لیے امکانات کی وسیع دینا بھی موجود ہے۔ جن ممالک میں شدید قسم کی ڈکٹیٹر شپ نافذ ہے وہاں بھی اصلاحِ حال کے لیے راستوں کی موجودگی بہرحال رہتی ہے۔

ہندوستان میں ۱۸۵۷ء کی شکست و ریخت کے بعد دیوبند اور علی گڑھ تحریک نے مسلمانوں کو مذہبی اور جدید تعلیم کے ذریعے تعلیم کی جہت سے خود کو مضبوط بنانے کی راہ پر گامزن کیا۔ جب مسلمانوں نے تعلیم کو اپنی ترجیح بنایا تو انہوں نے نہ صرف اپنی شناخت کو محفوظ رکھا بلکہ نئے مواقع بھی پیدا کیے۔ آج کے دور میں نہ صرف روایتی تعلیم بلکہ جدید علوم، قانون ، میڈیا، اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ ایک باخبر اور تعلیم یافتہ معاشرہ ہی اپنے حقوق کو بہتر طریقے سے سمجھ سکتا ہے اور محفوظ کرسکتا ہے۔

اس سلسلے میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ ہر زیادتی کے مقابلے میں ہمارا مقصود صرف ردّعمل کا اظہار نہیں ہواور ہمارے جذبات کی تسکین ردّ عمل کی شدت سے وابستہ ہوکر نہ رہ جائے۔ بلکہ ہر زیادتی ہمارے اندر اصلاحِ حال کی ضرورت کا احساس بڑھائے۔ اس میں کیا شبہ ہوسکتا ہے کہ ہمارے مسائل کا واقعی حل ہمارے ردّعمل میں نہیں بلکہ اصلاحِ حال کی کوششوں میں پنہاں ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ اصلاحِ حال کے بغیر مسائل کے کسی پائیدار حل تک رسائی نہیں ہوسکتی ہے۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایسا کتنی بار ہوا ہے کہ مسلمانوں کے احتجاج کے نتیجے میں کسی قانون پر خاموشی اختیار کرلی گئی لیکن عمل ہوتا رہا، کبھی قانون واپس لے لیا گیا لیکن منسوخ قانون پر عمل کے راستے نکال لیے گئے، کبھی تحفظ فراہم کرنے والے قانون بنائے گئے لیکن ان سے استثنا کی صورتیں نکال لی گئیں، کبھی حکومت کی طرف سی یقین دہانی کرائی گئی اور وہ محض ایک فریب ثابت ہوئی۔ غرض یہ کہ اصلاحِ حال کے بغیر مسائل کو حل کرنے کی کوششیں بظاہر بار آور نظر آتی ہوں ، تو بھی وہ مستقل اطمینان کا سامان نہیں کرپاتی ہیں۔

جب یہ بات ہمارے سامنے واضح رہے گی تو پھر ہم ایک طویل المدت لائحہ عمل تک پہنچ سکیں گے ورنہ زیادتیوں کے لامتناہی سلسلے کے مقابلے میں یا تو بے بسی کے احساس سے دوچار رہیں گے یا ردّعمل کے لا متناہی سلسلے میں گرفتار رہیں گے۔

ضروری ہے کہ ملت کے اندر سے احساس بے بسی کو بھی دور کیا جائے اور بے حسی کا بھی علاج کیا جائے اور یہ ذہن نشین کرایا جائے کہ تمام حالات پر منفی قوتوں کی عمل داری نہیں ہوتی ہے بلکہ ان کی کوششوں کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کی پشت پناہی کے لیے اللہ کی مشیت بھی کام کرتی ہے جس نے ہر تنگی کے ساتھ بے شمار کشادگیاں بھی رکھی ہیں۔

تو پھر ایمان والے اللہ پر توکل کیوں نہ کریں اور اللہ کی کتاب سے اپنی نجات و کامیابی کے راستے کیوں نہ دریافت کریں؟

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

ملت کو درپیش دو مہلک بیماریاں

حالیہ شمارے

ستمبر 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223